جنگ بندی کے بعد نئی کشمکش
یادداشتِ
اسلام آباد، سوئٹزرلینڈ مذاکرات اور اب خلیج میں نئی کشیدگی
سوئٹزرلینڈ
میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کو دونوں فریقوں نے
حوصلہ افزا قرار دیا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے کہا کہ تنازع کے پرامن اور
باوقار حل کی بنیاد رکھ دی گئی ہے، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے
مطابق مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے اور اب تکنیکی ٹیمیں مجوزہ معاہدے پر عمل
درآمد کی تفصیلات طے کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو ایران، امریکی
وفد سے مزید ملاقاتوں کے لیے بھی تیار ہے۔
مذاکرات
کے بعد ابتدائی طور پر حالات میں بہتری کے آثار دکھائی دئے۔ امریکہ نے ایران کے
خلاف بعض پابندیوں اور بحری ناکہ بندی میں نرمی کے اقدامات کئے، جبکہ بعض غیر
مصدقہ اطلاعات میں ایران کے منجمد اثاثوں کے جزوی اجرا کا بھی دعویٰ کیا گیا۔دوسری
طرف ایران نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت بحال کردی، جس کا عالمی
سطح پر خیر مقدم ہوا اور تیل کی قیمتوں میں کمی سے درآمد کنندہ ممالک نے بھی
اطمینان کا سانس لیا۔
جنگ بندی پر پہلا دھچکا
یہ خوش
آئند فضا زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ ایرانی حکام کے مطابق 25 جون کو چار تجارتی
ٹینکر آبنائے ہرمز میں مقررہ بحری راستوں سے ہٹ کر سفر کر رہے تھے۔ پاسدارانِ
انقلاب نے انہیں روکنے کے لئے تنبیہی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں سنگاپور کے پرچم
بردار ایک جہاز کو نقصان پہنچا۔ایرانی فوج کا موقف تھا کہ تمام جہاز راں اداروں کو
تحریری طور پر آگاہ کیا جا چکا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہاز نہادِ
مدیریتِ آبراہِ خلیج فارس (PGSA) کی جانب سے مقرر
کردہ بحری راستوں کی پابندی کریں۔ لیکن متعلقہ جہازوں نے ان ہدایات کو نظر انداز
کیا، جس کے بعد انہیں واپس مڑنے پر مجبور کیا گیا۔ ساتھ ہی تہران نے یہ بھی اعلان
کیا کہ جو جہاز PGSA کی ہدایات پر عمل کریں گے، انہیں یادداشتِ
اسلام آباد کی شق 5 کے مطابق مکمل تحفظ
فراہم کیا جائے گا۔
واشنگٹن
نے ایرانی وضاحت مسترد کرتے ہوئے محدود فضائی کارروائیاں کیں، جس کے جواب میں
پاسدارانِ انقلاب نے بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے صدر مقام سمیت خطے میں
متعدد امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے دھمکی میں گندھی
مفاہمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تشدد کا جواب تشدد سے ملے گا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ MOUکی تشریح میں کسی ابہام پر لبلبی دبانے کے
بجائے فون کرلیا جائے۔ صدر ٹرمپ نے بھی جہازوں پر ایرانی فائرنگ کو جنگ بندی کی
"احمقانہ خلاف ورزی" قرار دیا، لیکن ان کے ابتدائی بیانات سے یہ تاثر
نہیں ملا کہ امریکہ کسی وسیع عسکری کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔
کشیدگی کا دوسرا مرحلہ ۔۔ صدر ٹرمپ کی آتش فشانی
دوسرے دن کشیدگی اسوقت شدت اختیار کر گئی جب امریکی
طیاروں نے ایران کے ساحلی علاقوں، سیریک، بندر لنگہ اور جزیرہ قشم میں اہداف کو
نشانہ بنایا۔ اس کے جواب میں ایران نے بحرین میں امریکی بحری اڈے، کویت کے علی
السالم فضائی اڈے اور خطے میں دیگر امریکی تنصیبات پر میزائل حملے کئے۔ صدر ٹرمپ
نے دھمکی آمیز ٹویٹ میں کہا کہ اگر خلاف ورزیاں جاری رہیں تو امریکہ اپنے فروری
میں شروع کئے گئے مشن کو "منطقی انجام" تک پہنچائے گا، اور اگر ایسا ہوا
تو "اسلامی جمہوریہ کا نام و نشان مٹ جائے گا"۔اس دھمکی پر شدید ردعمل
کا اظہار کرتے ہوئے ایران نے امریکہ سے امن معاہدے کیلئے
تیکینکل کمیٹی کی گفتگو یہ کہہ کر معطل کردی واشنگٹن کو بات
چیت اور بارود میں سے ایک کا اتخاب کرنا ہوگا۔
ثالثوں کی کامیاب سفارتی
مداخلت
اس مرحلے پر ایسا لگا کہ
بھرپور جنگ اب کسی بھی لمحے دوبارہ شروع ہوبے کو ہے۔ لیکن فیلڈ مارشل عاصم منیر
اور قطر کے وزیراعظم نے امریکی نائب صدر جے ڈی وانس سے کانفرنس کال پر بات کی اور
آن لائن خبر رساں ایجنسی Axiosکے مطابق امریکہ کشیدگی کم کرنے پر آمادہ ہوگیا، دوسری طرف
ایران نے بھی تحمل کا مطاہرہ کیا۔ دوسرے دن صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پر لکھا
کہ 'ایران کی درخواست پر امریکہ نے گفتگو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور 30
جون کو قطر میں ملاقات سے اس نئے سلسلے کا آغاز ہوگا۔ لیکن
ایران کے نائب وزیرخارجہ کاظم غریب آبادی نے اسکی تردید کرتے ہوئے کہاکہ ایرانی
وفد کے قطر جانے کا فی الحال کوئی پروگرام نہیں۔اسی دوان 28 جون کو مسقط میں
ایرانی و عُمانی حکام کی ملاقات ہوئی جس میں طئے کیا گیا کہ آبنائے ہرمز کا انتظام ایران اور عُمان مل کر سنبھالیں
گے۔شائد، ایران، آبنائے ہرمز پر عمان سے بات چیت کے بعد امریکی وفد سے ملنا چاہتا تھا
اسی لئے قطر ملاقات ملتوی کی گئی ہے۔ توقع
کی جارہی ہے اسی ہفتے امریکہ ایران تیکنیکی کمیٹی، MOUکی تشریح و عمدرآمد اور
جامع امن معاہدے پر کام دوبارشروع کردیگی
کیا یہ اسرائیل
کی جنگ ہے؟ امریکہ میں ایک نئی بحث کا آغاز
امریکہ میں صدر ٹرمپ کے مخالفین مسلسل الزام لگاریے ہیں کہ ایران
کے خلاف جنگ میں اسرائیل نے امریکہ کو گھسیٹا ہے۔ جبکہ صدر ٹرمپ کا اصرار ہے کہ
امریکی کارروائیاں امریکی قومی مفادات اور عسکری منصوبہ بندی کے تحت کی گئیں۔
اس
بحث کو اس وقت نئی تقویت ملی جب گزشتہ ہفتے وزیراعظم نیتن
یاہو نے تل ابیب میں بلدیاتی نمائش MUNI Expoکی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 13 جون 2025 کو ایران
کے خلاف عسکری کارروائی کا فیصلہ اسرائیل نے
خود کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کارروائی کے لئے صدر ٹرمپ سے اجازت نہیں
لی گئی،بس انہیں پیشگی اطلاع دے دی گئی تھی اور خوشی کی بات یہ ہے کہ چند دن بعد
امریکہ بھی اس مہم میں ہمارے ساتھ شامل ہوگیا۔ نیتن یاہو نے اپنے دفاع میں یہودی
فقہ اور مذہبی تشریحات کے بنیادی ماخذ، تلمود کا حوالہ پیش کیا جسکے مطابق اگرکوئی
تمہیں قتل کرنے کے لئے آرہا ہو تو بہتر ہے کہ آگے بڑھ کر تم خود اسے قتل کردو۔ اس بیان نے واشنگٹن میں جاری بحث کو نئی
جہت دے دی ہے کہ آیا امریکہ نے اپنے تزویراتی مفادات کے
تحت جنگ میں شمولیت اختیار کی، یا وہ اپنے قریبی اتحادی کی ابتدائی کارروائی کے
نتیجے میں اس تنازعے کا حصہ بن گیا؟
بڑے بے آبرو ہوکر ترے کوچے
سے ہم نکلے
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق،
ایرانی میزائل حملوں سے پہنچنے والے نقصانات کے بعد امریکی وزارت جنگ، خلیج میں
قائم اپنے بعض فوجی اڈوں کو مزید مغرب کی جانب منتقل کرنے کے مختلف امکانات پر غور
کر رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حملوں میں امریکی عسکری تنصیبات کو
خاصہ نقصان پہنچا، 13 کے قریب فوجی جان سے گئے اور زخمیوں کی تعداد سینکڑوں میں
بیان کی جارہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بحرین میں واقع امریکی بحری اڈے NSA Bahrain کو پہنچنے والے نقصانات کا
ابتدائی تخمینہ تقریباً 40 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے۔ یہی اڈہ امریکی پانچویں بحری
بیڑے (Fifth Fleet) کا
صدر مقام ہے اور ایران سے اس کا فاصلہ تقریباً 240 کلومیٹر ہے، جس کے باعث یہ
تزویراتی اعتبار سے ہمیشہ حساس مقام رہا ہے۔اگر بحرینی اڈے کی منتقلی کا فیصلہ ہوا
تو یہ طوفانِ بلا کہاں جائیگا؟ جغرافیائی اعتبار سے اسرائیل کی بندرگاہ ایلات ایک
ممکنہ انتخاب سمجھی جا سکتی ہے، جہاں سے خلیجِ عقبہ، بحیرۂ احمر، نہرِ سویز اور
بحیرۂ روم تک نسبتاً آسان رسائی حاصل ہے۔ اسی طرح حیفہ بھی امریکی بحری موجودگی
کے لئے ایک متبادل مقام بن سکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی باضابطہ فیصلہ
سامنے نہیں آیا۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کویت اور سعودی عرب میں موجود بعض
امریکی تنصیبات کے حجم میں کمی (downsizing)اور کچھ عسکری اثاثوں کی منتقلی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔اگر یہ
اطلاعات درست ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ حالیہ جنگ نے صرف عسکری نقصان ہی نہیں
پہنچایا بلکہ امریکہ کو خلیج میں اپنی دفاعی حکمتِ عملی پر بھی نظرِثانی پر مجبور
کر دیا ہے۔ کسی فوجی اڈے کی منتقلی محض مقام کی تبدیلی نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ
اربوں ڈالر کے اخراجات، نقل و حمل کا نیا نظام ، دفاعی ڈھانچے اور سب سے بڑھ کر
علاقائی سیاسی و عسکری توازن پر نظرِ ثانی کرنی پڑتی ہے۔ اسی تناظر میں وزیرِ جنگ
پیٹ ہیگستھ کی کانگریس سے ایرانی جنگ کے اخراجات کی مد میں 80 ارب ڈالر طلب کئے
جانے کی اطلاعات بھی قابلِ فہم محسوس ہوتی ہیں، اگرچہ اس رقم کی حتمی منظوری اور
تفصیلات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔
ایران کا نیا علاقائی تصور ۔ نیا نیو ورلڈ آرڈر؟؟؟
دوسری
جانب ایران اس بحران کو اپنے علاقائی کردار کے نئے تصور کے طور پر پیش کرنے کی
کوشش کر رہا ہے۔ آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں اسلامی ممالک کی پارلیمانی
یونین (PUIC)کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی
پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ کہ خطے کی بدقسمتیوں کی جڑ صہیونی
حکومت ہے اور اب جبکہ امریکی طاقت کا بھرم ٹوٹ چکا ہے، مسلم ممالک کو اپنی
صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے ایک "مسلم علاقائی نظام" تشکیل
دینا چاہیے۔ انہوں نے ترک اور آذربائیجانی اسپیکرز سے ملاقات میں بھی مسلم اتحاد
پر زور دیا۔ اگرچہ کہ ایسے علاقائی نظام کی تشکیل آسان نہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ
ایران اب اپنے سفارتی بیانئے میں "علاقائی خود انحصاری" کو پہلے سے کہیں
زیادہ نمایاں انداز میں پیش کر رہا ہے یا یوں کہئے کہ قالیباف صاحب علامہ اقبال کی
اس نصیحت پر عمل پیرا دکھائی دیتے ہیں کہ تہران کو عالمِ مشرق کا
"جنیوا" بننا چاہئے۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 3 جولائی 2026
ہفت روزہ دعوت دہلی 3 جولائی 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 3 جولائی 2026
No comments:
Post a Comment