خاموش رات، خالی ہوتے ترکش اور سفارت کاری؟
ایران۔امریکہ جنگ میں
وقفہ: مذاکرات، عسکری دباؤ اور بدلتی ترجیحات
تیرہ
راتوں تک مسلسل بمباری، میزائل حملوں اور دھماکوں کی گونج کے بعد 25 جولائی کی شب
ایران اور خلیج فارس نے ایک غیر معمولی خاموشی دیکھی۔ نہ امریکی فضائیہ نے حملے کئے،
نہ ہی کویت، بحرین اور اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں کے اطراف ایرانی میزائلوں
کی بازگشت سنائی دی۔ جنگوں میں ایک رات کی خاموشی بھی معمولی واقعہ نہیں کہ یہی
وقفے سفارت کاری کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ یہ خاموشی مذاکرات کی شروعات ہے یا اہداف کے
حصول میں ناکامی پرامریکہ، اپنی عسکری حکمتِ عملی ازسرِنو ترتیب دینے پر مجبور ہو
گیا ہے؟
کیا جنگی ذخائر بھی فیصلہ سازی پر اثرانداز
ہوئے؟
اسی
دوران امریکی ذرائع ابلاغ میں ایک اور پہلو بھی زیرِ بحث آیا۔رائٹرز اور وال اسٹریٹ جرنل سمیت
متعدد معتبر اداروں کے مطابق قصر مرمریں کی قومی سلامتی ٹیم کے حالیہ اجلاسوں میں
امریکی فضائی دفاعی میزائلوں، خصوصاً Patriot
interceptors اور
دیگر حساس گولہ بارود کے تیزی سے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ عسکری قیادت
نے نشاندہی کی ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو خطے میں موجود امریکی اڈوں اور
اتحادی ممالک کے دفاعی ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم امریکی ایوان صدر نے اس
تاثر کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکی افواج کے پاس مہم جاری رکھنے کے لیے
وافر اسلحہ موجود ہے اور حملوں میں عارضی وقفہ سفارت کاری کو ایک اور موقع دینے کی
حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ حقیقت ان دونوں مؤقف کے درمیان کہیں
موجود ہے۔ اسلحے کے ذخائر شاید واحد وجہ نہ ہوں، لیکن بڑھتی ہوئی جنگی لاگت، فضائی
دفاعی میزائلوں کے تیز رفتار استعمال، خلیجی اتحادیوں کے تحفظات، عالمی تیل منڈی
کے دباؤ اور مذاکرات کے لئے گنجائش پیدا کرنے کی خواہش—یہ سب عوامل مل کر واشنگٹن
کی حالیہ حکمتِ عملی پر اثرانداز ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
جنگی تیاری و سفارت کاری ساتھ ساتھ؟
امریکی
خبر رساں ادارے Axios
کے
مطابق صدر ٹرمپ نے امریکی مرکزی کمان کو بڑے حملوں کی تیاری برقرار رکھنے کی ہدایت
دیتے ہوئے شبانہ فضائی کارروائیاں عارضی طور پر روکنے کا حکم دیا ہے۔ دوسری جانب
اسرائیلی چینل 12 کا دعویٰ ہے کہ بڑے
آپریشن کی تیاری جاری ہے اور امریکہ کے تقریباً 90 ایندھن بردار طیارے (Refueling Aircraft) اسرائیلی اڈوں پر موجود ہیں۔ امریکی ذرایع ابلاغ کے مطابق 23 جولائی کو امریکہ نے ایران کے خلاف جاری کارروائیوں میں
پہلی مرتبہ B-1 Lancer بمبار استعمال کئے۔ یہ دیوپیکر طیارے 2000 پاونڈ کے 24 بم اور درجنوں
کروز میزائیل اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔عسکری ماہرین نے B-1 کی شمولیت کو زمینی کارروائی (Ground Operation) کی
تمہید قراردیا۔ ٹائمز آف اسرائیل کا کہنا ہے
کہ تباہ کن B52بمبار بھی خلیج بھیج دئے گئے
ہیں اور خدشہ ہے کہ اب کوه کلنگگزلا (Pickaxe Mountain)کے
دامن میں مبینہ طورپر قائم جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جائیگا۔ان متضاد اطلاعات سے یہی تاثر ابھرتا ہے کہ
واشنگٹن عسکری دباؤ برقرار رکھتے ہوئے سفارت کاری کا دروازہ بھی کھلا رکھنا چاہتاہے۔
کیا اصل مسئلہ ایران کا جوہری پروگرام ہے؟
اگر
دونوں ممالک کے سرکاری مؤقف کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے تو بنیادی اختلاف
اتنا وسیع دکھائی نہیں دیتا جتنا میدانِ جنگ سے محسوس ہوتا ہے۔امریکہ کا مطالبہ ہے
کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے، جبکہ ایران برسوں سے یہ مؤقف دہراتا آیا ہے کہ
اس کا جوہری پروگرام بجلی کی پیداوار، طب اور صنعتی تحقیق تک محدود ہے۔ یہی موقف
2015ء کے جوہری معاہدے (JCPOA) میں
بھی درج تھا اور اس سال یادداشتِ اسلام آباد میں بھی یہی عزم من و عن دہرایا گیا۔ ایران یہ اشارہ بھی دے چکا ہے کہ افزودہ یورینیم کے
ذخائر اور ان کے استعمال کے طریقۂ کار پر مذاکرات کئے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ اس کے
سلامتی کے خدشات کو بھی تسلیم کیا جائے۔اصل رکاوٹ شاید تکنیکی سے زیادہ سیاسی ہے،
جہاں اعتماد کا فقدان اور مسلسل بدلتے ہوئے بیانات ہر پیش رفت کو غیر یقینی بنا
دیتے ہیں۔
ہر بار مذاکرات، پھر جنگ
اس معاملے پر کم از کم تین بار مذاکرات کی میزیں سجیں اور
تینوں بار جب مذکرات کار معاہدے کے قریب پہنچ گئے تو صدر ٹرمپ نے بات چیت ختم کرکے
ایران پر بارود کی بارش کردی۔
اپریل۔ مئی 2025 میں مذاکرات بہت کامیابی سے جاری تھے اور
جون کے پہلے ہفتے میں امریکی وفد کے سربراہ اسٹیو وٹکاف نے خود کہا کہ بات چیت بہت
ہی مثبت رخ اختیار کرچکی ہے اور خیال ہے کہ اس ماہ کے اختتام تک ہم معاہدے کے متن پر
کام کررہے ہونگے کہ 22 جون کو امریکی فضائیہ نے 14 بنکر بسٹر بموں سے فردو، نظنز
اور اصفہان میں مبینہ جوہری اثاثوں کو بقولِ صدر ٹرمپ فنا یا Obliterate کردیا۔
اسکے بعد عمان میں مذکرات کی میز دوبارہ بچھی اور ابتدائی
دوتین نشستوں کے بعد عمان کی ثالثی میں فریقین جینوا میں سرجوڑ کر بیٹھے۔ جمعہ 27
فروری کی صبح دامادِ اول جیررڈ کشنر نے
بہت پراعتماد لہجے میں کہا کہ معاہدے کی راہ میں حائل اکثر رکاوٹیں دور کرلی گئی
ہیں اور امید ہےاگلے ہفتے معاملہ طئے پاجائیگا۔ ابھی اس خوشگوار اعلان کی
بازگشت ختم نہں بھی ہوئی تھی امریکہ اور
اسرائیل نے ایران پر حملہ کردیا۔
اس بار پاکستان نے ثالثی کا بیڑہ اٹھایا اور 8 اپریل کو
عارضی جنگ بندی ہوگئی۔ دونوں فریق اسلام آباد میں جمع ہوئے۔ اسلام آباد مذاکرات بے
نتیجہ ختم ہوگئے لیکن بندوقیں خاموش رہیں اور اخرکار ایک 14 نکاتی یادداشتِ اسلام
آباد نے تہران و امریکہ کو ایک بار پھر معاہدے کے قریب پہنچا دیا۔ لیکن
آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعے کے بعد وہ عمل بھی تعطل کا شکار ہو گیا اور
جنگ دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔یہ واقعات اس تاثر کو مضبوط کرتے ہیں کہ دونوں ممالک
کے درمیان صرف اعتماد کا بحران نہیں بلکہ ہر مرحلے پر سیاسی حساب کتاب بھی مذاکرات
پر اثر انداز ہوتا ہے۔
سخت بیانات، خفیہ رابطے
گزشتہ
ہفتے صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی
دی اور کہا کہ امریکہ ایران کو "Piece by Piece" تباہ
کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ تہران مذاکرات کے لئے بے تاب ہے، لیکن
فوجی کارروائی جاری رہے گی۔دوسری طرف ایرانی قیادت نے واضح کیا کہ اگر ایران کے
معاشی اور سلامتی سے متعلق بنیادی مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو کسی عارضی جنگ بندی
کی گنجائش نہیں۔
اسی
دوران نیویارک ٹائمز نے خبر دی کہ عراقی وزیراعظم علی الزیدی امریکی تجویز لے کر
تہران پہنچے، مگر ایران نے اس بنیاد پر عبوری جنگ بندی مسترد کر دی کہ اس میں
آبنائے ہرمز، جہاز رانی اور خطے کے سلامتی کے انتظامات پر کوئی واضح ضمانت موجود
نہیں تھی۔یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ پس پردہ رابطے بند نہیں ہوئے، لیکن ایران جزوی
سمجھوتوں کے بجائے زیادہ جامع سیاسی تصفیہ چاہتاہے۔
جنگ کا پھیلتا ہوا دائرہ
اسی
دوران بحران صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہا۔یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب
کے درمیان دوبارہ کشیدگی پیدا ہوئی۔ بحیرۂ احمر میں سعودی تیل بردار جہازوں کو
نشانہ بنانے اور اس کے جواب میں سعودی فضائی کارروائیوں نے یہ خدشہ بڑھا دیا ہے کہ
اگر باب المندب بھی غیر محفوظ ہو گیا تو خلیجی توانائی کی عالمی ترسیل مزید متاثر
ہو سکتی ہے۔یوں آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں عالمی تجارت کے لیے بیک وقت خطرے
کی علامت بنتے جا رہے ہیں۔
سیاسی دباؤ بھی فیصلہ کن عنصر
تیل کی
بڑھتی ہوئی قیمتیں امریکی معیشت پر دباؤ ڈال رہی ہیں، جبکہ وسط مدتی انتخابات قریب
آ رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے اندر اسوقت دو مختلف سوچیں دکھائی دیتی ہیں۔ ایک حلقہ
سفارت کاری کے ذریعے جلد سمجھوتہ چاہتا ہے، جبکہ دوسرا طاقت کے بھرپور استعمال کے
ذریعے فیصلہ کن کامیابی حاصل کرنے کا حامی ہے تاکہ انتخابات سے پہلے صدر ٹرمپ ایک
مضبوط رہنما کے طور پر سامنے آئیں۔متوقع انتخابات کے تناظر میں اسرائیلی
قیادت بھی اسی سوچ کی حامل نظرآتی ہے کہ
سخت گیر مؤقف سیاسی فائدہ دے سکتا ہے۔
پچیس
جولائی کی خاموش رات یقیناً امید کی ایک ہلکی سی کرن ہے، مگر اسے امن کی نوید قرار دینا ابھی قبل
از وقت ہوگا۔ گزشتہ برسوں کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان
مذاکرات اور میزائل ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
اس بحران کا سب سے بڑا المیہ بھی یہی ہے کہ جب بھی سفارت کاری کامیابی کے قریب
محسوس ہوتی ہے، میدانِ جنگ دوبارہ گرم ہو جاتا ہے۔ تاہم اس مرتبہ ایک فرق ضرور
دکھائی دیتا ہے۔ جنگ صرف ایران ہی نہیں، امریکہ کے وسائل، اتحادیوں، عالمی توانائی
کی منڈی اور داخلی سیاست پر بھی بوجھ بنتی جا رہی ہے۔ اگر واقعی جنگی ذخائر، معاشی
دباؤ اور انتخابی سیاست فیصلہ سازی پر اثرانداز ہونے لگے ہیں تو شاید یہی وہ عوامل
ہوں جو دونوں فریقوں کو بالآخر مذاکرات کی میز پر واپس لے آئیں۔ کیونکہ ایران کا
جوہری تنازع نہ بمبار طیارے مستقل طور پر حل کر سکتے ہیں، نہ میزائل؛ اس کا پائیدار
حل آخرکار سفارت کاری ہی میں پوشیدہ ہے، اگرچہ اس منزل تک پہنچنے کا راستہ ابھی
بھی دھماکوں کے دھوئیں میں گم دکھائی دیتا ہے۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 31 جولائی
2026
ہفت روزہ دعوت دہلی 31 جولائی 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 2 اگست 2026
No comments:
Post a Comment