Thursday, July 2, 2026

 

لبنان کا نازک امن، غزہ کا انسانی المیہ اور غربِ اردن کی علمی مزاحمت

ایران کی جانب سے شدید دباو کے باجود امریکہ،  لبنان میں امن کیلئے اسرائیل کو معقولیت کی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہوتا نظر نہیں آرہا۔واشنگٹن میں ہونے والے اسرائیل لبنان اصولی معاہدے (Framework Agreement) کی تعبیر اور تشریح ہی غیر مبہم ہے۔ امریکی وزارتِ خارجہ نے معاہدے کے فوراً بعد دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج کی جنوبی لبنان سے واپسی شروع ہو چکی ہے۔لیکن فوجی ترجمان نے فوری طور پر اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں حکومت کی جانب سے کسی قسم کی واپسی کا حکم موصول نہیں ہوا۔ لبنانی حکومت نے بھی اسرائیلی انخلا کی خبروں کو غلط قرار دیا۔اسی دوران اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے دوٹوک انداز میں اعلان کیا کہ اسرائیلی فوج غزہ، شام اور لبنان میں غیر معینہ مدت تک موجود رہے گی اور اسرائیل کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔دوسری طرف CNN نے اطلاع دی کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو دریائے لیطانی کے اطراف سے مرحلہ وار پیچھے ہٹنے کی ہدایت دی ہے۔ساتھ ہی اسرائیلی حکام کی یہ وضاحت بھی سامنے آگئی کہ اس کا مطلب جنوبی لبنان سے انخلا نہیں بلکہ صرف محدود فوجی ردوبدل ہے اور اہم فوجی چوکیاں حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے تک برقرار رہیں گی۔لبنانی صدر جوزف عون نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ لبنان صرف مکمل فوجی انخلا کو ہی معاہدے پر عمل درآمد تصور کرے گا۔ ادھر حزب اللہ اور دیگر مزاحمتی گروہوں نے بھی اس اصولی معاہدے کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا تک مزاحمت جاری رہے گی۔ لبنانی پارلیمان کے اسپیکر نبی بیری نے اسرائیل لبنان اصولی معاہدے (Framework Agreement) کو مسلط کردہ یکطرفہ شرائط قرار دیکر مسترد کردیا۔ لبنانی روزنامہ الاخبار سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ لبنان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا لہذا 'افراد' کی بات چیت کی کوئی اہمیت نہیں۔

جنگ بندی کے دوران بھی بمباری

امن معاہدے کے باوجود جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ان حملوں کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ نبطیحہ شہر میں مرکزی امام بارگاہ کے قریب بم گرائے گئے جسکا مقصد  عاشور کی مجلس میں آنے والے مزاحمت کار رہنماوں کو نشانہ بناناتھا۔جنگ کے دوران بھی مذہبی عقائد و مقامات کا احترام لازمی ہے۔ سوگواری وعزہ داری کی مجلسوں کو جان کرنشانہ بنانا کسی بھی اصول و قانون کے تحت مناسب نہیں۔ اس تمام صورتحال کے باوجود لبنان بھر میں محرم روایتی عقیدت، وقار اور نظم و ضبط کے ساتھ منایا گیا۔ بڑے جلوس نکلے، عزاداری کی مجالس منعقد ہوئیں اور یوں لبنانی معاشرے نے یہ پیغام دیا کہ مسلسل بمباری بھی اس کی مذہبی اور سماجی زندگی کو مفلوج نہیں کر سکی۔

امریکہ اور ایران: دشمنی سے رابطے تک

سوئٹزرلینڈ میں جاری مذاکرات کے دوران ایک غیر معمولی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے انکشاف کیا کہ لبنان میں جنگ بندی کو مؤثر بنانے کے لیے تصادم سے بچاؤ کے نظام (Deconfliction Mechanism) پر کام جاری ہے۔ان کے مطابق اس طریقۂ کار کے تحت امریکی مرکزی کمان (CENTCOM) اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے درمیان عملی رابطے اور ہم آہنگی کا ایک محدود نظام وضع کیا جا رہا ہے تاکہ لبنان میں کسی غیر ارادی عسکری تصادم سے بچا جا سکے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ مستقبل میں قطر میں دونوں جانب کے نمائندوں کے درمیان غیر رسمی ملاقاتیں بھی خارج از امکان نہیں۔

یہ پیش رفت اپنی نوعیت میں غیر معمولی ہے۔ امریکہ آج بھی پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔صدر ٹرمپ اپنے پہلے دورِ اقتدار میں بغداد میں جنرل قاسم سلیمانی کے خلاف کارروائی کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیتے رہے ہیں۔بین الاقوامی سیاست میں مستقل دوست اور مستقل دشمن نہیں ہوتے کہ اصل چیرمفادات ہیں۔ جب جنگ کے خطرات بڑھ جائیں تو کل کا ناقابلِ قبول فریق بھی آج مذاکرات اور رابطے کے لئے ناگزیر بن جاتا ہے۔

شام کا محتاط مؤقف

لبنان کے معاملے میں شام نے بھی محتاط سفارتی رویہ اختیار کیا ہے۔شامی صدر احمد الشرع نے واضح کیا ہے کہ شام لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے اور اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ اسرائیل کے بجائے شامی افواج لبنانی حزب اللہ کے خلاف کاروائی کریں جسے صدر الشرع نے مسترد کردیا

غزہ:  صرف بچے نہیں 'امید' دم توڑ رہی ہے

غزہ کی صورتحال ہر روز بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے ۔اس بحران کا سب سے دردناک پہلو بچوں اور ماؤں کی حالت ہے۔ غزہ کے محکمۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منیر البرش کے مطابق نومبر 2025 سے اپریل 2026 کے درمیان غزہ میں شرحِ پیدائش میں تقریباً 67 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ حمل ضائع ہونے کے واقعات اور حاملہ خواتین میں خون کی شدید کمی تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ ان اعداد و شمار کی عمومی تائید متعدد بین الاقوامی اور علاقائی ذرائع سے بھی ہوتی ہے۔جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تو شمار کی جا سکتی ہے، مگر کسی قوم کی آئندہ نسل کے سکڑتے ہوئے وجود کو صرف اعداد و شمار میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ جب اسپتال کھنڈر بن جائیں، ادویات ناپید ہوں، غذائی قلت معمول بن جائے اور حاملہ خواتین بنیادی طبی سہولتوں سے محروم رہ جائیں تو یہ صرف صحتِ عامہ کا بحران نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل پر براہِ راست حملہ بن جاتا ہے۔ ایک ایسی سرزمین جہاں بچوں کی پیدائش تیزی سے کم ہو رہی ہو، وہاں درحقیقت صرف آبادی نہیں بلکہ امید بھی دم توڑنے لگتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ: بچوں پر دانستہ حملوں کا الزام

اطفالِ غزہ کے بارے میں اقوام مٹحدہ کی حالیہ رپورٹ بھی انتہائی تشویشناک ہے جسکے مطابق  غزہ کی جنگ کے دوران اسرائیلی کارروائیوں میں فلسطینی بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن (Independent International Commission of Inquiry on the Occupied Palestinian Territory) کی 94 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں کو پہنچنے والا نقصان اتفاقی یا جنگ کا ضمنی نتیجہ نہیں بلکہ اس کا مقصد غزہ میں فلسطینیوں کو ایک نسل کے طور پر کمزور اور تباہ کرنا تھا۔ بچے کسی بھی قوم یا گروہ کی حیاتیاتی اور سماجی بقا کے ضامن ہوتے ہیں، اس لیے ان کے خلاف مسلسل اور منظم کارروائیاں مستقبل کی پوری نسل کو متاثر کرتی ہیں۔ کمیشن نے اسی بنیاد پر یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ بچوں کو نشانہ بنانا فلسطینی معاشرے کے مستقبل کو کمزور کرنے کی ایک دانستہ حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔اسی رپورٹ میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں فوری طور پر بند کرے۔

نسل کشی کی بحث: قانون کیا کہتا ہے؟

بین الاقوامی قانون میں نسل کشی (Genocide) کا تعین صرف ہلاکتوں کی تعداد سے نہیں کیا جاتا۔نسل کشی یا  Genocide Convention مجریہ 1948کے مطابق اگر کسی قومی، نسلی، مذہبی یا نسلی گروہ کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کی نیت سے ایسے اقدامات کئے جائیں جو اس گروہ کی جسمانی، حیاتیاتی یا سماجی بقا کو متاثر کریں، تو وہ بھی قانونی بحث کا حصہ بنتے ہیں۔ اسی لئے جدید بین الاقوامی قانون میں صرف قتلِ عام ہی نہیں بلکہ کسی گروہ کی تولیدی صلاحیت (Reproductive Capacity) کو متاثر کرنے والے عوامل بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر جنگ کے نتیجے میں بچوں کی پیدائش نمایاں حد تک کم ہو جائے، حمل ضائع ہونے کی شرح کئی گنا بڑھ جائے، حاملہ خواتین علاج سے محروم رہ جائیں اور پہلے سے پیدا ہونے والے بچے بھی مسلسل جان سے جاتے رہیں تو یہ انسانی بحران  سے کہیں زیادہ سنگین المیہ ہے۔ اس تناظر میں یہ رپورٹ اسرائیل کے خلاف نسل کشی کا قانونی ثبوت ہے۔

غربِ اردن: بڑھتا ہوا تشدد اور نئی حکمتِ عملی

غرب اردن میں فائرنگ، چھاپوں اور قبضہ گردی کیساتھ فلسطینیوں کی آنکھوں میں مرچیں جھونکنے کی کاروائیاں عروج پر ہیں، جسکے نتیجے کئی کم عمر بچوں کی بینائی متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ ستم ظریفی کہ ان وارداتوں کو معمولی جھگڑا اور شرارت کہہ کر نظر انداز کیا جارہا ہے۔

دوریاستی حل نامنظور

وزیراعظم نیتن یاہو نے آزاد فلسطین یا دو ریاست فارمولے کو سختی ے مسترد کردیا ہے۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اسرائیل، اسرائیل (حضرت یعقوبؑ) کے وقت سے ایک ہے اور ہمیشہ ایک رہیگا، یہاں دوریاست کی کوئی جگہ نہیں۔ فلسطینی ریاست کسی صورت نہیں بنے گی۔اس معاملے پر اسرائیل میں مکمل اتفاق رائے ہے۔انھوں نے اس بیانئے کو قومی عزم قرارد ینے کیلئے وسیع البنیاد قومی حکومت قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔  

سرنگ کا دعویٰ اور بڑے آپریشن کے خدشات

اسرائیلی فوج نے غربِ اردن سے یروشلم تک ایک سرنگ کا 'انکشاف' کیا ہے۔ سطح زمین سے 25 میٹر نیچے کھودی گئی اس سرنگ کا مقصد مشرقی یروشلم کی فلسطینی آبادی کو اسلحہ پہنچانا تھا۔غزب اردن کے ہر چوک اور چوارہے پر فوجی چوکیاں ہیں۔ جب پانی کا ایک قطرہ اور غذا کاایک دانہ بھی اسرائیلی فوج کی اجازت کے بغیر یہاں نہیں پینچ سکتا تو سخت پتھریلی زمین میں سرنگ کھودنے اور اسے کنکریٹ سے مضبوط کرنے کیلئے بھاری مشنری، سریا، سمینٹ اور بجری کیسے یہاں لائی گئی؟۔ فلسطینیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ انکشاف غرب اردن میں ایک بڑے آپریشن کی پیش بندی ہے۔

جامعہ القدس: جنگ کے سائے میں علم کی فتح

غربِ اردن کے نہایت دشوار حالات اور مسلسل کشیدگی کے باوجود جامعہ القدس (Al-Quds University) نے دنیا کی ممتاز 1000 جامعات میں اپنی جگہ بنا لی۔ یہ درجہ بندی برطانوی ادارہ Quacquarelli Symonds (QS) ہر سال جاری کرتا ہے، جسے دنیا بھر میں QS World University Rankings کے نام سے جانا جاتا ہے۔اسرائیلی جریدے الارض (Haaretz) کے مطابق، جامعہ القدس نے طب (Medicine) ، دندان سازی (Dentistry) فارمیسی اور قانون کے شعبے میں تدریس، تحقیق اور اخلاقی معیارات کے حوالے سے نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ اب اسکے لبرل آرٹس اور کلیاتِ سائنس کا معیار بھی قابل رشک ہوگیا ہے۔جامعہ القدس 1970ء میں قائم ہوئی۔ اس کا مرکزی کیمپس تقریباً 47 ایکڑ پر محیط ہے، جہاں لگ بھگ 15 ہزار طلبہ زیرِ تعلیم ہیں اور انہیں ایک ہزار اساتذہ تعلیم و تحقیق کی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔تعلیم کا چراغ اگر روشن رہے تو جنگ، محاصرہ اور سیاسی بے یقینی بھی کسی قوم کی علمی پیش قدمی کو مکمل طور پر نہیں روک سکتے۔ جامعہ القدس کی یہ کامیابی اسی حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ قوموں کی اصل طاقت ہتھیار نہیں، علم اور تحقیق ہوتے ہیں۔اعلیٰ ترین علمی معیار کیساتھ جامعہ کا نظریاتی تشخص بہت واضح ہے اور اسکی دیواروں پر کندہ عزم و حوصلے کے نعرے پاکستانی جامعات کی یاد دلاتے ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 3 جولائی 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 3جولائی 2026

ہفت روزہ رہبر سری نگر 5جولائی 2026


No comments:

Post a Comment