سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات، مگر
لبنان، غزہ اور غربِ اردن میں خونریزی جاری
سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان
جاری مذاکرات سے خطے میں امن کی نئی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں، لیکن لبنان، غزہ اور غربِ اردن میں خونریزی کا سلسلہ
تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ یہی تضاد اس پورے سفارتی عمل کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ
ایک طرف مذاکرات کی میز سج رہی ہے اور دوسری طرف میدانِ جنگ میں بارود برس رہا ہے۔
اسی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے
ایرانی وفد کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ یادداشتِ اسلام آباد (Islamabad MOU) کی پہلی شق کے مطابق لبنان سمیت تمام
محاذوں پر جنگ کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔ ان کے بقول امریکہ کو بالآخر بارود اور
بات چیت میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنا ہوگا۔ تاہم اسرائیل کے حالیہ اقدامات
سے ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ وہ اس مطالبے کو سنجیدگی سے لینے پر آمادہ ہے۔
لبنان:
بمباری کے باوجود حوصلہ برقرار
مذاکرات کے
آغاز سے ایک دن پہلے جنوبی لبنان کے شہر
نبیطیحہ میں متعدد مقامات پر اسرائیلی طیاروں نے بمباری کی جس میں لبنانی حکومت نے
عورتوں اور بچوں سمیت 80 سے زیادہ شہریوں کے جاں بحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیاہے۔
علاقے کی بلندو بالا رہائشی عمارات بمباری کانشانہ بنیں جسکی وجہ سے ہزاروں افراد
بے گھر ہوگئے۔ تاہم یہ تباہی لبنانی شہریوں کے حوصلے پست نہ کرسکی۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی
ایک تصویر خاص طور پر توجہ کا مرکز بنی جس میں بمباری
سے تباہ ہونے والے مکان کے ملبے پر کھڑا فتح کا نشان بناتے ہوئے ایک شخص اعلان کرتا نظر آیا کہ تم بمباری سے ہمارے
گھر تباہ کرسکتے ہو لیکن وحشیانہ جبر ہمارے پُر عزم جبر کو شکست نہیں دے
سکتا۔لبنان میں جاری جنگ یکطرفہ نہیں۔اسرائیلی فوج کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے اور
اسکا جانی نقصان بھی بڑھتا جارہا ہے۔ چینل 12 کے مطابق اسرائیلی جرنیلوں نے اپنی
سایسی قیادت پرزور دیا ہے کہ امریکی ثالثی میں
لبنانی حکومت سے مذاکرات کرکے اس معاملے کا جلد از جلد پر امن حل تلاش
کرلیا جائے۔
غزہ:
جنگ بندی کے دوران بھی بچوں کی اموات
غزہ کی صورتحال وقت گزرنے کے ساتھ مزید
سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ شدید گرمی میں خیمہ بستیاں بھٹی کا منظر پیش کر رہی ہیں
جبکہ پانی، خوراک اور ادویات کی قلت نے انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔دوسری جانب اسرائیلی
بمباری، ڈرون حملے اور فوج کی فائرنگ جاری ہے۔ اقوامِ
متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران اوسطاً روزانہ ایک فلسطینی
بچہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے
بعد کم از کم 265 فلسطینی بچے جاں بحق اور 400 سے زائد شدید زخمی ہوئے۔ ان زخمی
بچوں کی بڑی تعداد ایسے ماحول میں زندگی کی جنگ لڑ رہی ہے جہاں اسپتال تباہ،
ادویات نایاب اور طبی سہولیات انتہائی محدود ہیں۔ جب
جنگ بندی کے ماحول میں بھی بچوں کی اموات کا یہ سلسلہ جاری رہے، امداد محدود ہو،
اور زخمی بچوں کے علاج کا کوئی مؤثر انتظام موجود نہ ہو تو اسے منظم نسل کشی کے
علاوہ کیا نام دیا جاسکتا ہے؟ اگر روزانہ ایک بچہ مر رہا ہو، تو جنگ بندی کہاں ہے؟
ایک
دن، کئی جانیں
اس کے ساتھ فضائی حملوں، ڈرون کارروائیوں
اور زمینی فائرنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس ہفتے صرف ایک دن یعنی 20 جون کو مختلف مقامات پر بمباری اور اسرائیلی
فوج کی فائرنگ سے 4 اور 14 سال کی بچیوں
اور دوخواتین سمیت 9 افراد اپنی جانوں سے گئے جس میں غزہ شہر کا ایک پورا خاندن
شامل ہے۔ بیت لاہیہ میں اسرائیلی فوج نے ایک
خاتون کو گولی ماردی۔
غزہ
ورلڈ کپ: ملبے پر زندگی کا جشن
آجکل جب کہ دنیا FIFA کے بخار میں مبتلا ہے، غزہ کے نوجوانوں نے جنگ کے ملبے پر اپنی
الگ دنیا آباد کر لی ہے۔ تباہ شدہ عمارتوں، ریت اور کھنڈرات کے درمیان ایک منفرد
فٹبال ٹورنامنٹ منعقد کیا جا رہا ہے جس میں معذور کھلاڑی بھی بھرپور حصہ لے رہے
ہیں۔ میدان میں کہیں بیساکھیوں کے سہارے دوڑتے نوجوان
نظر آتے ہیں تو کہیں وہیل چیئر پر بیٹھے کھلاڑی گیند کے تعاقب میں مصروف دکھائی
دیتے ہیں۔ جنگ نے ان کے جسموں کو زخمی کیا ہے، لیکن زندگی سے محبت اور کھیل کا
جذبہ آج بھی سلامت ہے۔ان زندہ دل نوجوانوں نے چندہ جمع کرکے ایک ٹرافی بھی تیار کی
ہے جو فاتح ٹیم کو دی جائے گی۔الجزیرہ کے مطابق مقابلوں کے انتظامات اور
ریفری کے فیصلوں میں بین الاقوامی معیار کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔شاید یہی غزہ کا
سب سے طاقتور پیغام ہے کہ جنگ جسموں کو زخمی کر سکتی ہے، لیکن زندگی کی خواہش اور
مسکراہٹ کو شکست نہیں دے سکتی۔
صحافی خاص
نشانہ
غزہ، غرب اردن اور لبنان میں
جہاں معصوم بچے اسرائیلی وحشت کا نشانہ بن رہے ہیں وہیں فلسطینی صحافی ان کا خاص
ہدف ہیں۔ بین الاقوامی
صحافتی تنظیموں کے مطابق غزہ میں صحافیوں کی ہلاکتوں کی تعداد غیر معمولی حد تک
بلند رہی ہے۔ مقامی صحافی اور فوٹوگرافر عالمی ذرائع ابلاغ کی محدود رسائی کے باعث
زمینی حقائق دنیا تک پہنچانے کا اہم ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ گزشتہ
ہفتے بریج خیمہ بستی میں ایک ڈرون نے الجزیرہ کے جوانسال کیمرہ مین احمد وشاح کو
نشانہ بناکر قتل کردیا
غربِ
اردن: خوف کی روزمرہ زندگی
غرب اردن میں فلسطینی مکانات، فصلوں ، زرعی اراضی کے ساتھ مساجد پر
حملے معمول بنے ہوئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے رام اللہ کے قصبے جلجولیہ کی مسجد کو آگ
لگانے کے بعد دہشت گرد انتہا پسند عبرانی میں “انتقام “ لکھ گئے۔ مشرقی
یروشلم کے قریب معالی ادومیم میں قبضہ گردوں نے 20 سالہ فلسطینی کو کار سے کچل کر
قتل کردیا
تشدد
کے نئے طریقے
غربِ اردن میں تشدد کے طریقے بھی مسلسل
تبدیل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق بعض علاقوں میں
فلسطینی شہریوں پر تیز مرچ والے اسپرے کی اطلاعات ہیں۔ ان واقعات میں متعدد افراد،
خصوصاً بچوں، کی آنکھوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 26 جون 2026
ہفت روزہ دعوت دہلی 26 جون 2026
ہفت رزہ رہبر سرینگر 28 جون 2026
No comments:
Post a Comment