Friday, June 19, 2026

 

لبنان ، غزہ، غرب اردن اور سسکتی انسانیت

یادداشتِ اسلام آباد کے بعد بھی امن سے بہت دور

یادداشتِ اسلام آباد (Islamabad MOU) پر مفاہمت کے بعد خلیج فارس میں توپیں بظاہر خاموش ہو گئی ہیں۔ ایران کی بحری ناکہ بندی میں نرمی کے بعد ایرانی عوام نے بھی کسی حد تک سکھ کا سانس لیا ہے اور خطے میں ایک وسیع جنگ کے خطرات وقتی طور پر کم ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق لبنان بھی اس مفاہمت کا حصہ ہے اور 14 جون کو صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو لبنان پر مزید حملوں سے باز رہنے کی کھلی ہدایت دی۔ تاہم یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ اسرائیل اس یادداشت اور امریکی ہدایات پر کس حد تک عمل کرتا ہے، کیونکہ زمینی حقائق اب بھی کئی سوالات کو جنم دے رہے ہیں۔

جنگ بندی اور لبنان کی تلخ حقیقت

لبنان میں 16 اپریل سے عملاً جنگ بندی نافذ ہے، لیکن لبنانی وزیراعظم  نواف سلام کے مطابق امن معاہدے کے بعد سے اسرائیل نے لبنان پر 3500 حملے کئے ہیں۔بمباری کے علاوہ 400 سے زیادہ شہری و دیہی آبادی پر بلڈوزر پھیردئے گئے۔یہی وجہ ہے کہ لبنان میں جنگ بندی کا تصور کاغذی دستاویزات سے آگے بڑھ کر عوامی زندگی میں  منتقل نہیں ہو سکا۔

اسرائیل اب حزب اللہ کے نام پر لبنانی افواج کو بھی نشانہ بنارہا ہے جسکی وجہ سے 13 جون کو جنوبی لبنان کے شہر نبطیحہ سے لبنانی فوج پسپا ہوگئی۔واپسی سے پہلے مقامی جرنیل نے کہا کہ ہم اسرائیلی فوج سے تصادم نہیں چاہتے۔اسرائیل کی شدید بمباری اور ٹینک حملوں کے سامنے اپنے شہریوں کو چھوڑ کر فوج کا فرارناقابل فہم ہے۔

بیروت سے دریائے لیطانی تک

بیروت، صور (Tyre) اور دریائے لیطانی کے اطراف بمباری، ڈرون حملوں اور گولہ باری کی اطلاعات مسلسل موصول ہو رہی ہیں۔ بعض شہریوں نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیل  شہری آبادی پر Fuel Bombگرارہا ہے اور سوشل میڈیا پر شایع ہونے والی کچھ تصویروں میں نہتے شہری سڑک پر جابجا بھڑکتی آگ سے بچنے کیلئے بھاگتے نظر  آرہے ہیں۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ حالیہ حملوں کا مقصد صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ خطے میں جاری سفارتی عمل کو متاثر کرنا ہے۔ ان کے مطابق لبنان میں کشیدگی بڑھنے سے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مفاہمت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

غزہ: جنگ ختم نہیں ہوئی

خلیج میں کشیدگی کم ہونے کے باوجود غزہ میں انسانی بحران بدستور جاری ہے۔ اسرائیلی کارروائیوں، ناکہ بندی اور امدادی راستوں کی بندش نے مشکلات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ کریم سلام (Kerem Shalom) پھاٹک کی بندش کے بعد خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی شدید متاثر ہوئی، جبکہ مقامی اور بین الاقوامی ادارے انسانی بحران میں اضافے کی تنبیہ کر رہے ہیں۔

خان یونس اور جبالیہ میں بمباری کے نتیجے میں مزید جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئیں ہیں۔ زخمیوں کے علاج کے لیے درکار سہولیات پہلے ہی ناکافی ہیں اور ہسپتال شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ غزہ کی تباہ حال گلیوں سے سامنے آنے والی تصاویر اس انسانی المیے کی شدت کو واضح کرتی ہیں۔ ایک تصویر میں ایک کم سن لڑکا اپنے بیمار بھائی کو زنگ آلود ٹھیلے میں لے جاتا دکھائی دیا۔ یہ منظر محض ایک خاندان کی کہانی نہیں بلکہ پورے غزہ کی اجتماعی حالت کا استعارہ بن چکا ہے، جہاں بہت سے خاندانوں کے لیے ایک ٹھیلا ہی ایمبولینس، ٹیکسی اور زندگی کی آخری امید ہے۔

سمندر بھی بند، زمین بھی تنگ

اسرائیلی پیش قدمی کے نتیجے میں غزہ کی آبادی ساحلی پٹی تک سمٹ آنی ہے اور ماہی گیری بہت سے خاندانوں کے لیے خوراک کا واحد ذریعہ بن چکی ہے۔ گزشتہ ہفتے بھوک سے مجبور ہوکر محمد ابوجیاب مچھلی پکڑنے ساحل پر آیا لیکن اسرائیلی بحریہ کی گولی نے اس مچھیرے کا کام تمام کردیا۔

غربِ اردن: مسلسل بحران

جہاں عالمی توجہ غزہ اور لبنان پر مرکوز ہے، وہیں غربِ اردن میں بھی کشیدگی کم نہیں ہوئی۔ فلسطینی دیہات، زرعی زمینیں، دکانیں اور رہائشی مکانات مسلسل دباؤ کا شکار ہیں۔ رام اللہ، قلقیلیہ، جنین اور دیگر علاقوں میں جائیدادوں کو نقصان پہنچانے، فصلیں جلانے اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

رام اللہ کے قصبہ بُرقہ میں مسجد النور کو آگ لگانے کی کوشش نے مقامی آبادی میں شدید تشویش پیدا کی۔ خوش قسمتی سے مقامی خواتین نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا اور بڑا نقصان ہونے سے بچ گیا۔ ایسے واقعات صرف املاک کا نقصان نہیں بلکہ مذہبی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔

اسرائیل کا داخلی بحران

اس دوران اسرائیل کے اندر لازمی فوجی خدمت کے مسئلے پر بحث ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ کنیسہ (پارلیمان) میں ایسے قانونی اقدامات زیر غور ہیں جن کے نتیجے میں مذہبی مدارس (Yeshiva) کے طلبہ کو فوجی خدمت سے استثنیٰ حاصل کرنے کے لیے مضبوط قانونی بنیاد مل سکتی ہے۔یہ بحث ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اسرائیلی فوج طویل جنگ، مسلسل تعیناتیوں اور افرادی قوت کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ ناقدین کا سوال ہے کہ اگر آبادی کے ایک بڑے حصے کو فوجی خدمت سے استثنیٰ دیا جاتا ہے تو دفاعی ذمہ داری کا بوجھ کس طبقے پر پڑے گا؟ اسی کے ساتھ فوج میں خواتین کے کردار اور مخلوط یونٹوں کے بارے میں مذہبی حلقوں کے تحفظات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔

قیدیوں سے سلوک اور انسانی حقوق کے سوالات

گزشتہ ہفتے الجزیرہ نے فلسطینی قیدیوں پر اسرائیلی حراستی مراکز میں جسمانی، نفسیاتی اور جنسی نوعیت کی سنگین بدسلوکی کی ایک روح فرسا رپورٹ شایع کی ہے۔ سابق قیدیوں کے انٹرویو پر مشتمل اس رپورٹ میں نصب بصرئ تراشے اتنے بھیانک ہیں کہ انھیں دیکھنا بھی ممکن نہیں۔رپورٹ میں اقوامِ متحدہ کے بعض ماہرین، انسانی حقوق کے اداروں اور سابق قیدیوں کے بیانات کا حوالہ دیا گیا ہے، جن کے مطابق یہ واقعات محض انفرادی زیادتیوں کے بجائے ایک وسیع تر مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔حسب توقع اسرائیلی حکام نے ان الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قراردیا لیکن انصاف کا تقاضہ ہے کہ ان واقعاات کی آزاد، شفاف اور غیر جانبدار بین الاقوامی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ متاثرین کو انصاف ملے۔

تحقیق تو دور کی بات یہاں یہ عالم کہ اسرائیل کے وزیر اندرونی سلامتی اتامر بن گوئر نے تجویز دی ہے کہ لبنان کے مقبوضہ علاقےسے حزب اللہ کی خواتین اور بچوں کو گرفتارکرلیا جائے۔ جنگی کابینہ کے اجلاس میں انھوں نے کہا کہ بمباری اورجنگجووں کے قتل کے ساتھ انکی عورتوں اور بچوں کو حراست میں لیاجائے۔یہ انکے لئے موت سے زیادہ تکلیف دہ ہوگا۔ دوسرے الفاظ بمباری اور قتل کافی نہیں بلکہ مزاحمت کاروں کی آبرو پر ضرب لگانے کی ضرورت ہے

فرانسیسی صحافی ایلس فروسرڈ (Alice Frousard) کو اسرائیل چھوڑنے کے حکم نے اظہارِ رائے اور صحافتی آزادی کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان پر مزاحمت کاروں کی پشت پناہی کا الزام ہے۔ محترمہ ایلس گزشتہ چھ سال سے یروشلم میں تعینات تھیں اور موقر اداروں ریڈیو فرانس، Le FigaroاورTV5Monde Mediapartkکی نمائندگی کررہی تھیں۔ فرانسیسی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے اس فیصلے سے متفق تو نہیں لیکن اسکا احترام کرتے ہیں

ہفت روزہ دعوت دہلی 19 جون 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 21 جون 2026


No comments:

Post a Comment