Thursday, June 25, 2026

 

جنگ سے مذاکرات تک

یادداشتِ اسلام آباد، لبنان کا محاذ اور مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کی آزمائش

یادداشتِ اسلام آباد (MOU)پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے ابتدائی دستخط،  پھر اسکی ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان ، انکے امریکی ہم منصب اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کی توثیق کے بعد خیال تھا کہ 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں اس پر دستخط کی رسمی تقریب اور امن مذاکرات کا آغاز ہوگا۔ لیکن لبنان پر اسرائیل کے حملوں سے کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی اور یہ تقریب منعقد نہ ہوسکی تاہم پاکستان اور قطر نے صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچالیا اور  21 جون کو  برجنسٹاک (سوئستان) کے لکژری ہوٹل میں مذکرات  کا آغاز ہوا۔

یادداشتِ اسلام آباد میں کیا طئے ہوا ہے؟؟

اس 14 نکاتی یادداشت کے  آغاز میں 'تمام محاذوں' پر عسکری کارروائیاں فوری طور پر بند کرنے کیساتھ دھمکیوں سے بھی گریز کا عزم کیا گیا ہے۔ ایران کی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ،آبنائے ہرمز سے جہازوں کی بلامعاوضہ آمدورفت، ایکدوسرے کی خومختاری کا احترام اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کا وعدہ اس دستاویز کا حصہ ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان عسکری چپقلش ختم کرنے کیساتھ سیاسی و اقتصادی کشیدگی کم کرنے کیلئے جواقدامات تجویز کئے گئے ہیں ان میں ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی بازیابی اور اقتصادی ترقی و  تعمیرِ نو کے لئے 300 ارب ڈالر مالیت کا منصوبہ شامل ہے۔ ایران نے بہت صراحت اور غیر مبہم انداز میں جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کے عہد کا اعادہ کیا ہے جبکہ افزودہ یورینیم کے موجودہ ذخائر کے  معاملے کو باہمی بات چیت سے طئے کیا جائیگا۔ اس MOU کے تحت تمام متنازعہ امور کے پرامن حل کیلئے 60 دن کی مدت طئے کی گئی ہے اور اس دستاویز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے ایک مشترکہ نگرانی اور نفاذی نظام (Implementation Mechanism) قائم کرنے کی تجویز بھی اس یادداشت کا حصہ ہے۔ حتمی معاہدے کی صورت میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اسکی توثیق لازمی التعمیل قرارداد یا  Binding Resolution کے ذریعے کرائی جائیگی

مذاکرات کے آغاز پر ہی بدمزگی

مذاکرات کیلئے امریکی وفد نائب صدر جے ڈی وانس، دامادِ اول جیررڈ کشنر اور صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف پر مشتمل تھا جبکہ ایران کی جانب سے پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیرخارجہ سید عباس عراقچی کے علاوہ وزارت خزانہ و توانائی کے افسران نےبات چیت میں حصہ لیا۔پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے علاوہ قطر کے وزیراعظم عبدالرحمان بن جاسم الثانی نے بھی افتتاحی اجلاس میں شرکت کی۔ امریکی ٹیلی ویژن CBSکے مطابق پہلے اجلاس میں لبنان کی صورتحال پر غور کیا گیا۔ ایرانی وفد کے ترجمان اسماعیل بقائی نے یاد دلایا کہ 14 نکاتی یادداشٹِ اسلام آباد کی پہلی شق کے مطابق لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا مکمل خاتمہ ہونا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ کو بارود اور بات چیت میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔اسکے جواب میں امریکی نائب صدر نے کہا کہ لبنان سمیت سارے خطے میں امن، امریکہ کی بھی ترجیح ہے۔

سوئٹزر لینڈ میں مذکرات کا مثبت آغاز ہوا ہی تھا کہ ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ پیغام میں دھمکی دے دی کہ ایران، لبنان میں اپنے تنخواہ دار بغل بچوں (Proxies)کو مسائل پیدا کرنے سے روکے۔ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو ہم ایران کو دوبارہ اسی طرح نشانہ بنائیں گے جیسے ہم نے گزشتہ ہفتے کیا تھا لیکن اس بار ہمارا حملہ پہلے سے سخت ہوگا۔ٹویٹ دیکھ کر ایرانی وفد کے قائد باقر قالیباف نے کہا اس ہرزہ سرائی کا فوری جواب ضروری ہے لہذا اجلاس میں وقفہ کیا جائے اور ایرانی وفد وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد جناب  قالیباف کا جوابی ٹویٹ سامنے آیا جس میں انھوں نے کہا کہ امریکی دھمکیاں بے اثر ہیں اور اگر ان میں کوئی طاقت ہوتی تو امریکہ آج اس قدر کمزور اور بے بس  نہ نظر آتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران امریکی دھمکیوں کو اہمیت نہیں دیتا اور اس کی مسلح افواج ہر طرح کے جواب کے لیے تیار ہیں۔ جناب قالیباف کا کہنا تھا کہ باتیں امریکہ کرتا ہے اور عملی اقدام ایران۔

ثالثوں کی کوششوں سے ایرانی وفد دوبارہ میز پر آگیا اور بات چیت دوباہ شروع ہوئی۔ لبنان کے معاملے پر دونوں فریق نے کھل کردوٹوک  لیکن انتہائی شائستگی سے بات کی۔اس دوران لبنان میں قیام امن کیلئے تصادم سے بچاوکا نظام (de infliction mechanism) وضع کیا گیا۔امریکی نائب صدر نے اسکا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایران، قطر اور پاکستان اس میکنزم کے تحت لبنان میں امن کی نگرانی کرینگے۔ دلچسپ بات کہ اسرائیل اس میکینزم کا حصہ نہیں۔

جوہری پروگرام یا عدم اعتماد؟

اسی نشست میں ایران کے جوہری پروگرام پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور ایرانی وفد نے کہا کہ اس معاملے پر ایران کا موقف 1957 سے بالکل ایک ہے یعنی ہمارے جوہری پروگرام کا مقصد توانائی، تحقیق اور طبی استعمال ہے نہ کہ جوہری ہتھیار۔ایران نے 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) کے دوران بھی  یہی مؤقف اپنایاتھا اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) متعدد بار اس امر کی تصدیق کر چکی تھی کہ تہران معاہدے کی شرائط پر عمل کر رہا ہے۔ تاہم 2018 میں صدر ٹرمپ نے امریکہ کو یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے الگ کر لیا، جس کے بعد عدم اعتماد کی خلیج مزید گہری ہوگئی۔بات چیت کے دوران جناب عراقچی نے دلچسپ سوال کیا کہ  مسئلہ ایران کی جوہری صلاحیت ہے یا سیاسی اور تزویراتی بداعتمادی؟

افزودہ یورینیم اور اختلافات کی گرہ

توقع کے مطابق افزودہ یورینیم کا معاملہ ان مذاکرات کا سب سے حساس پہلو ثابت ہوا۔امریکی حلقے اس ذخیرے کو مستقبل کے کسی ممکنہ جوہری ہتھیار کی بنیاد سمجھتے ہیں، جبکہ ایران اسے اپنے پرامن جوہری پروگرام کا قانونی حصہ قرار دیتا ہے۔بات چیت کے دوران امریکہ کی تجویز تھی کہ ایران IAEAکے ماہرین کو ان ذخائر تک رسائی دے تاکہ اس معاملے کا دونوں کیلئے قابل قبول حل تلاش کرلیا جائے۔ گفتگو کے بعد صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے تاثر دیا کہ ایران IAEAماہرین کو ویزا دینے پر آمادہ نظر آرہا ہے لیکن ایرانی وفد کے ترجمان نے کہا کہ اس معاملے پر کوئی فیصلہ نہیں تاہم بات چیت جاری رہیگی۔ اسی دوران پاکستان کے حوالے سے ایک تجویز یہ بھی آئی کہ افزودہ یورنیم کے ذخیرے کو امریکہ کے حوالے یا تلف کرنے کے بجائے  افزودگی کو IAEAکی نگرانی میں کم کرکے اسے غیر عسکری مقصد کیلئے قابل استعمال بنالیا جائے۔

پہلے دور کا پروقار اور خوشگوار اختتام

صدر ٹرمپ کے ٹویٹ اور اسکے سخت ایراانی جواب سے  جو کلفت و کدورت اور کشیدگی پھوٹی تھی وہ دونوں وفود کے تدبر و معاملہ فہمی اور ثالثون کی منصفانہ سفارتکاری کی وجہ سے کسی حد تک تحلیل ہوگئی۔ پہلے دور کے اختتام پر صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے پراعتماد لہجے میں کہا کہ ہم نے حتمی فیصلوں کی  بنیاد رکھدی ہے جس پر ایک متفقہ معاہدے کی عمارت تعمیر ہوگی۔ دوسری طرف تہران بھی مذاکرات کے پہلے دور سے مطمئن دکھائی دیتا ہے۔ایرانی وزیرخارجہ سید عباس عراقچی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ پاکستان اور قطر کی انتھک ثالثی کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔لبنان میں دیرپا امن کی امید، ایران کی ناکہ بندی کا خاتمہ، ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل پر پابندیوں کی تنسیخ ،منجمد ایرانی اثاثوں کی جزوی  بازیابی اور ترقیاتی منصوبوں پر کام کے آغاز سے مذکرات نے مثبت رخ اختیار کرلیا ہے۔تاہم لبنان کے معاملے میں  انھوں نے محتاط انداز میں کہا کہ de infliction mechanismاصل آزمائش ہے۔ پہلے مرحلے کی دونشستوں کے بعد امریکی و ایرانی وفود اپنے اپنے ملک روانہ ہوگئے۔ اب ان اجلاسوں میں کئے جانے فیصلوں کے عملی نفاذ کی تفصیل طئے کرنے کا نازک مرحلہ درپیش ہے جس پر تیکنیکل کمیٹیوں نے کام شروع کردیا۔ امریکی نائب صدر اور ایرانی وفد کے سربراہ باقر قالیباف، دونوں نے دوباہ ملنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

اسرائیل کی تشویش اور سفارتی مزاحمت

خلیج فارس سے بحیرہ روم، بحیرہ احمر اور خلیج عقبہ تک اصل مسئلہ اسرائیل کی توسیع پسندی ہے۔ تل ابیب کی نظر میں ایران صرف ایک علاقائی حریف نہیں بلکہ ایک تزویراتی چیلنج ہے۔ جوہری پروگرام بہانہ جبکہ ایران کی نظریاتی شناخت و قومی وحدت اصل نشانہ ہے۔ مشرق وسطیٰ میں تیل کے ذخائر او وسائل پر قبضہ اسرائیل کا دوسرا ہدف ہے۔ تل ابیب یہ اہداف خود حاصل نہیں کرسکتا، اسکے لئےاسے امریکہ کی مکمل حمائت درکار ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے نیتن یاہو بول اٹھے تھے کہ یہ  انکی چالیس سالہ پرانی آرزو تھی۔ سابق امریکی صدر اوباما نے خود کہا کہ ان سے ملاقاتوں میں نیتن یاہو ایرانی جوہری پروگرام کو بزورطاقت ختم کرنے کی تجویز دیا کرتے تھے۔ ایسی ہی گفتگو سابق وزیرخارجہ محترمہ ہلیری کلنٹن بھی کر چکی ہیں۔

اسرائیل نے 2015 کے جوہری معاہدے کی بھی مخالفت کی تھی اور اب بھی ایسے کسی انتظام کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے جس کے نتیجے میں ایران پر اقتصادی دباؤ کم ہو یا تہران کو سفارتی قبولیت حاصل ہو۔ امریکہ کے اندر بھی اسرائیل نواز سیاسی حلقے اور ترغیب کار ادارے (Lobbyists) موجودہ مفاہمت پر تحفظات ظاہر کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ مذاکرات کے آغاز سے پہلے ہی ایران کو اقتصادی اور سفارتی فوائد دیے جا رہے ہیں جبکہ اس کے بدلے میں حاصل ہونے والی ضمانتیں ابھی تک واضح نہیں۔

امن کی کھڑکی ابھی کھلی ہے

صدر ٹرمپ اعتراف کر چکے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں طویل جنگ "عالمی معاشی تباہی" (Economic Catastrophe) کا باعث بن سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز، عالمی توانائی کی رسد اور بین الاقوامی تجارت کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے یہ خدشہ غیر حقیقی نہیں۔

اسی تناظر میں یادداشتِ اسلام آباد پر اتفاق اور براہ راست  مذاکرات کی ابتدائی نشست انتہائی حوصلہ افزا تو ہے لیکن یہ  امن کی جانب پہلے قدم سے زیادہ کچھ نہیں۔اصل امتحان آئندہ ساٹھ دنوں میں ہوگا، جب فریقین کو بیانات، دھمکیوں اور باہمی بداعتمادی سے آگے بڑھ کر عملی لچک اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اگر ایسا ہو گیا تو مشرقِ وسطیٰ ایک نئے سفارتی باب میں داخل ہو سکتا ہے؛ بصورتِ دیگر جنگ کے بادل ایک بار پھر پورے خطے پر منڈلانے لگیں گے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 26 جون 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 26 جون 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 28 جون 2026


No comments:

Post a Comment