غزہ جو ایک شہر تھا
تباہ شدہ پٹی اور ’’امن‘‘ کے نام پر جاری سفارتی نشست و برخاست
ملبے سے اٹھتے سوالات
سات اکتوبر کو غزہ پر ڈھائی جانیوالی وحشت کے تین سال مکمل
ہوگئے۔ یہ کوئی مختصر مدت نہیں ہوتی۔اس عرصے میں پیداہونے والا بچہ اسکول جانے کے
قابل ہوجاتا ہے، شہر میں نئی سڑکیں بنتی ہیں، اجڑے گھر آباد ہوجاتے ہیں اور جنگوں
کے زخم بھی آہستہ آہستہ مندمل ہونے لگتے ہیں۔ لیکن تین سال گزرجانے کے بعد بھی
انسانیت کے ماتھے پر لگے اس زخم سے ملبے، خیموں، قبروں اور گمشدہ انسانوں کی صورت متعفن
مواد ٹپک رہا ہے۔
یہ تین
سال صرف کیلنڈر کے تین سال نہیں بلکہ ایک پوری آبادی کی زندگی کے تین سال ہیں۔ ان
میں ہزاروں خاندان اجڑ گئے، لاکھوں لوگ بار بار بے گھر ہوئے اور ایک ایسا علاقہ
جسے پہلے ہی طویل محاصرے اور پابندیوں نے کمزور کردیا تھا، تباہ شدہ شہروں اور
ناکارہ بنیادی ڈھانچے کے ایک وسیع منظرنامے میں تبدیل ہوگیا۔
اعداد جو انسانوں کی کہانی ہیں
یکم
اکتوبر تک غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں کم از کم 74040
فلسطینی
جاں بحق اور 175168 زخمی ہوچکے تھے۔ ان اعداد میں وہ ہزاروں لوگ شامل نہیں جو ملبے
تلے لاپتا ہیں یا جن کی لاشیں ابھی تک نکالی نہیں جاسکیں۔ انھیں محض اعداد سمجھنا
کٹھوردلی ہوگا۔ یہ 74 ہزار خاندانوں، گھروں، والدین، بچوں، بہن بھائیوں اور دوستوں
کے درمیان پیدا ہونے والے خلا کا نام ہے۔زخمیوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہولناک
ہے۔ ایک لاکھ 75 ہزار سے زیادہ زخمیوں میں ہزاروں ایسے ہیں جو زندگی بھر کے لیے
معذوری، اعضا سے محرومی یا شدید جسمانی صدمے کے ساتھ زندہ رہیں گے۔ اقوام متحدہ کے
مطابق 2026 کے آغاز تک ہی 43 ہزار سے زیادہ فلسطینی ایسی زندگی بدل دینے والی
چوٹوں کا شکار ہوچکے تھے جنہیں طویل مدتی بحالی کی ضرورت تھی، جبکہ غزہ میں صحت کا پورا نظام اسرائیلی فوج تباہ
کرچکی ہے۔
ملبے میں دبا ہوا غزہ
غزہ کی
تباہی صرف گھروں کی تباہی نہیں۔ اپریل 2026 میں اقوام متحدہ، عالمی بینک اور یورپی
یونین کے مشترکہ جائزے میں بتایا گیا کہ 371888 رہائشی یونٹس تباہ
یا متاثر ہوچکے ہیں۔ نصف سے زیادہ ہسپتال غیر فعال ہیں اور تقریباً تمام اسکول کسی
نہ کسی درجے میں تباہ یا متاثر ہوئے ہیں۔ غزہ کی معیشت 84 فیصد سکڑ چکی ہے اور
انسانی ترقی کو اندازاً 77 سال پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔شہری ڈھانچے کو پہنچنے والے
نقصان کا تخمینہ 35 ارب ارب
ڈالر لگایا گیا ہے، جبکہ تعمیرِ نو اور بحالی کی مجموعی ضرورت 71 ارب ڈالر سے
زیادہ ہے۔ یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ غزہ
کے لوگوں کے گھر دوبارہ بنائے جائیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ ایک پوری زندگی کو دوبارہ
تعمیر کرنا ہوگا۔
اسکول، ہسپتال اور پانی بھی ملبے میں
جنگ
میں فوجی اہداف اور شہری تنصیبات کے درمیان فرق بین الاقوامی انسانی قانون کا
بنیادی اصول ہے۔ ہسپتال، اسکول، رہائشی عمارتیں، آبنوشی کی تنصیبات اور امدادی
مراکز اپنی شہری حیثیت کی وجہ سے خصوصی تحفظ رکھتے ہیں۔ کسی شہری عمارت کو صرف اس
دعوے کی بنیاد پر فوجی ہدف نہیں بنایا جاسکتا کہ وہاں کوئی جنگجو موجود ہوسکتا ہے۔
فوجی کارروائی میں امتیاز، تناسب اور احتیاط کے اصول بہرحال لاگو رہتے ہیں۔غزہ میں
مسئلہ اس لئے بھی سنگین ہے کہ پانی اور صفائی کا بنیادی ڈھانچہ بھی تباہی کا شکار
ہے۔ ستمبر کی ایک رپورٹ میں اقوام متحدہ نے بتایا کہ غزہ کی 94 فیصد آبادی کو فوری
پناہ اور بنیادی گھریلو امداد کی ضرورت ہے جبکہ 65 فیصد گھرانے اب بھی خیموں یا
عارضی پناہ گاہوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔
کیا یہ صرف جنگ ہے؟
یہ
سوال اب محض سیاسی بحث نہیں رہا کہ غزہ میں جو کچھ ہوا اسے کس قانونی اصطلاح میں
بیان کیا جائے۔ جنگی جرائم، جرائمِ انسانیت، نسل کشی اور نسلی تطہیر الگ الگ
قانونی تصورات ہیں اور ہر ایک کے اپنے عناصر ہیں۔کسی شہری آبادی کو جان بوجھ کر
نشانہ بنانا، بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا، جبری منتقلی یا شہری
آبادی کے خلاف وسیع پیمانے پر حملے بین الاقوامی قانون کے تحت سنگین جرائم ہیں۔
کسی نسلی یا مذہبی اکائی کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کا مخصوص ارادہ منشورِ
روم (Rome Statute)کے تحت
’’نسلی تطہیر‘‘ ہے۔ گویا جذباتی اندازِ گفتگو کے ساتھ قانونی زبان میں بھی اسرائیل
انسانیت سوز جرائم کا مرتکب ہورہا ہے۔
عدالت کا وارنٹ، مگر جنگ جاری
بین
الاقوامی فوجداری عدالت (ICC)نے 21 نومبر 2024
کو اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اور اس وقت کے وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے
خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے۔ عدالت نے ان کے خلاف مبینہ جنگی جرائم اور جرائمِ
انسانیت سے متعلق الزامات بیان کئے، جن میں شہری آبادی کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے
اور بھوک کو جنگی طریقے کے طور پر استعمال کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔ لیکن اس
قانونی پیش رفت کے باوجود غزہ کی تباہی رک نہیں سکی اور رکتی بھی کیسے کہ وارنٹ کی تعمیل کے بجائے امریکہ نے فیصلہ سنانے والے ججوں
پر ہی تادیبی پابندیاں عائد کردیں اور اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس میں صدر ٹرمپ نے
بہت ہی جارحانہ انداز میں ICC کی مذمت کی۔اسی پشت پناہی کا نتیجہ ہے کہ اکتوبر
2025 میں جنگ بندی کے بعد بھی ہلاکتیں اور حملے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ اس سال
یکم اکتوبر تک جنگ بندی کے بعد 1439 فلسطینی جاں بحق اور 5052 زخمی رپورٹ کئے
جاچکے ہیں۔شرمناک بات کہ امریکی صدر نے اقوام متحدہ میں اس 'جنگ بندی' کو اپنی
کامیاب سفارتکاری کے ثبوت کے طور پر پیش کیا۔
کاغذی امن
امریکہ
کی سرپرستی میں قائم بورڈ آف پیس سے امید تھی کہ وہ غزہ کے لئے جنگ کے بعد کا
سیاسی اور انتظامی راستہ ہموار کرے گا۔ جنوری 2026 میں اس کا باقاعدہ ڈھانچہ تشکیل
پایا، نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ بنائی گئی اور بین الاقوامی استحکام
فوج کے لئے بھی منصوبہ بندی شروع ہوئی۔ لیکن ایک سال گزرجانے کے بعد بھی زمینی
حقیقت یہ ہے کہ فلسطینی انتظامی کمیٹی غزہ میں اپنی حکومتی ذمہ داریاں سنبھالنے کے
قابل ہوئی اور نہ بین الاقوامی استحکام فورس کے اہلکار زمین پر تعینات ہوئے۔ستمبر
میں بورڈ نے 66 منصوبوں پر مشتمل ڈھائی ارب ڈالر کا ابتدائی تعمیرِ نو پروگرام بھی
پیش کیا۔ یہ منصوبے کاغذ پر ضرور اہم ہیں، لیکن اہلِ غزہ کے لئے اصل سوال یہ ہے کہ
خیمہ کب گھر بنے گا، بچہ کب اسکول جائے گا، مریض کو دوا کب ملے گی اور ملبے کے
نیچے اپنے پیاروں کو تلاش کرنے والا خاندان کب اپنے مردے دفن کرسکے گا؟
غزہ کے
معاملے میں دنیا نے قراردادیں منظور کیں، کانفرنسیں کیں، بیانات جاری کئے، وفود
بھیجے، اجلاس بلائے اور نئے ادارے قائم کئے۔ لیکن 1096 دن بعد بھی ایک عام فلسطینی
کے لئے امن کا مطلب شاید اتنا ہی ہے کہ اگلی رات اس کا خیمہ میزائل کا نشانہ نہ
بنے۔یہ سوال ان تمام طاقتوں سے ہے جو جنگ روکنے، انسانی امداد پہنچانے اور غزہ کی
تعمیرِ نو کا اختیار اور اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔ اگر ہزاروں بچوں کی موت، لاکھوں
زخمیوں، بے شمار بے گھر انسانوں، تباہ ہسپتالوں، اسکولوں، پانی کے نظام اور ملبے
کے پہاڑوں کے بعد بھی غزہ والے ’’اگلے اجلاس‘‘ کا انتظار کرینگے تو پھر سفارت کاری
اور بے بسی میں فرق کیا رہ جاتا ہے؟ اس جنگ کی تیسری برسی پر شاید سب سے زیادہ
تکلیف دہ تصویر کوئی بمباری یا ملبے کا منظر نہیں بلکہ ایک ایسا بچہ ہے جو تین سال
بعد بھی نہیں جانتا کہ اس کا گھر کہاں تھا۔تین سال پہلے غزہ میں گھر تھے، اسکول
تھے، ہسپتال تھے، مسجدیں اور گرجا گھر تھے، بازار تھے، سڑکیں تھیں اور ان سب کے
درمیان معمول کی زندگی تھی۔ آج سب کچھ ملبے میں تبدیل ہوچکا ہے۔ غزہ کی تیسری برسی
کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا دنیا ان انسانوں کو صرف اعداد کی صورت میں یاد رکھے
گی، یا کبھی ایسا دن بھی آئے گا جب انصاف، سفارتی نشست و برخاست سے نکل کر زمین پر
اترے گا؟
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 11 اکتوبر
2026
ہفت روزہ دعوت دہلی 11 اکتوبر 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 13 اکتوبر 2026

No comments:
Post a Comment