Thursday, March 13, 2025

 

غزہ کی مکمل ناکہ بندی ،پانی ختم ،بجلی  بند

مزاحمت کار ہتھیار ڈالنے اور غزہ کے سیاسی مستقبل سے دستبرداری پر راضی ہو جائیں گے؟؟

اگر قیدی رہا نہ ہوئے تو یہ اہل غزہ کیلئے پیغام موت ہے۔ صدر ٹرمپ کی دھمکی

رہائی کا بہترین راستہ امن معاہدے پر عملدرآمد ہے۔ بانکوں کا جواب

غزہ سے نقل مکانی کی نگرانی کے لیے 'مائیگریشن ایڈمنسٹریشن' کا قیام

صدر ٹرمپ نے جامعہ کولمبیا کی وفاقی گرانٹ معطل کردی

غزہ نسل کشی کے خلاف طلبہ تحریک کے قائد محمود خلیل گرفتار

غزہ کو بدترین ناکہ بندی کا سامنا ہے ۔عالمی ادارے World Food Program (WFP)کے مطابق اگر امدادی سامان پر پابندی برقرار رہی تو غزہ میں خوراک کا ذخیرہ دوہفتے میں یعنی 19 مارچ تک  ختم ہوجائیگا۔بجلی منقطع ہوجانے سے سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے Desalination Plantsٹھپ ہوگئے۔ اس پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 7مارچ کو یمن کے حوثیوں نے اعلان کیا کہ اگر اگلے چاردنوں کے اندر غزہ کی انسانی امداد بحال نہ کی گئی تو بحیرہ احمر اور خیلج عُمان سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جائیگا۔

بدترین انسانی المئے سے قطع نظر، صدر ٹرمپ ، سفاکانہ بیانات اور متضاد روئے کا مظاہرہ جاری رکھے ہوئےہیں۔ ایک طرف وہ غزہ پر جہنم کے دروازے کھولدینے کی دھمکی دہرا رہے ہیں  تو  دوسری جانب انکے خصوصی ایلچی آدم بوہلر (Adam Boehler) کی قطر میں اہل غزہ سے براہ راست ملاقات  جاری ہے۔بات چیت کے دوران مزاحمت کاروں نے بوہلر صاحب کو صاف صاف کہدیا کہ مصری سرحد پر فلاڈیلفی راہداری سمیت سارے غزہ سے اسرائیل کے مکمل انخلا کے بعد ہی قیدی رہا ہونگے۔جناب بوہلر چاہتے ہیں کہ دہری شہریت کے حامل امریکی قیدی عیدن الیگزنڈر کو رہا اور چار امریکی اسرائیلیوں کی لاشیں حوالے کرکے اہل غزہ اعتماد سازی کا آغاز کریں۔نو مارچ کو آدم بوہلر نے CNN کے جیک ٹریپر سے باتیں کرتے ہوئے تصدیق کی کہ مزاحمت کاروں سے بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے اور امید ہے کہ ایک ہفتے تک ہم کسی نتیجے تک پہنچ چائینگے۔اس سے پہلے انھوں نے غزہ نسل کشی کی تعریف کرتے ہوئے کہا 'اسرائیل نے شاندارفوجی آپریشن کرکے مزاحمت کاروں کی عسکری قوت کو صفر کردیا، ساتھ ہی لبنانی 'دہشت گردوں' کا بھی صفایا کردیا گیا'۔یعنی غزہ قتل عام انکے خیال میں ایک عام فوجی کاروائی ہے۔ تھوڑی ہی دیر بعد بوہلر صاحب اسرائیل کے عبرانی چینل 12 پر نمودار ہوئے اور جب ان سے پوچھا گیا کہ 'کیا آپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ مزاحمت کار ہتھیار ڈالنے اور غزہ کے سیاسی مستقبل کا حصہ نہ بننے پر راضی ہو جائیں گے تو جناب بوہلر بلا توقف بولے ہاں ایساہی ہوگا'۔ فلسطینی اسے نفسیاتی حربہ قرار دے رہے ہیں۔

اس سے پہلے پانچ مارچ کو صبح سویرے صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کے اپنے نجی پلیٹ فارم پر اہل غزہ کو خط لکھا جسکا اردو ترجمہ کچھ اسطرح ہے

شالوم !! آپ اسے ہیلو اور الوداع جو چاہے سمجھ لیں

تمام یرغمالیوں کو بلا تاخیر رہا کردیں ، اوران لوگوں کی تمام لاشیں واپس کریں جن کو آپ نے قتل کیا ہے۔ صرف بیمار ذہنیت کے لوگ لاشیں رکھتے ہیں، اور آپ تو ہیں ہی بیمار ذہنیت کے۔میں اسرائیل کو وہ سب کچھ بھیج رہا ہوں جو اسے اپنا کام مکمل کرنے کے لیے درکار ہے۔ اگر آپ میری مرضی کے مطابق کام نہیں کریں گے تو آپ کا ایک بھی رکن محفوظ نہیں رہے گا۔ میں نے ابھی آپ کے سابق یرغمالیوں سے ملاقات کی ہے جن کی زندگیاں آپ نے تباہ کردی ہیں۔ یہ آپ کیلئے آخری تنبیہ ہے۔مزاحمت کاروں کے لئے اب غزہ چھوڑنے کا وقت ہے اور ایک خوبصورت مستقبل غزہ کے لوگوں کامنتظر ہے، لیکن اگر آپ یرغمالی رہا نہیں کرتے، تو سمجھیں کہ آپ مر چکے ہیں! درست فیصلہ کریں. یرغمالیوں کو فوراً رہا کردیں ورنہ بعد میں اس کی قیمت چکانی پڑے گی'۔

اسکا مزاحمت کاروں کی طرف سے  مختصر، جامع اور دوٹوک لیکن بردباری سے لبریز جواب آیا کہ 'امریکی صدر کی دھمکی، امن معاہدے سے فرار کیلئے نیتن یاہو کی حوصلہ افزائی کی ایک کوشش ہے۔ تمام قیدیوں کی رہائی کا بہترین راستہ دوسرے مرحلے کے مذاکرات ہیں'

اس دھمکی پر شمالی غزہ کے ایک 59 سالہ تاجر یاسر الشرافہ نے الجزیرہ کے نمائندے سے جوکہا وہ  سننے اور دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔سڑک کے کنارے چھابڑی لگائے ان صاحب سے جب امریکی صدر کے خط پر تبصرہ کرنے کیلئے کہا گیا تو یاسر نے کہا 'میں کپڑوں کا ایک مشہور تاجر تھا۔ غزہ شہر کے تل الحوا میں میری ایک بڑی دکان، ایک چھ منزلہ عمارت، ایک کار اور گودام تھے۔ میری  سالوں کی محنت غائب ہو گئی، سب مٹ گیا، برباد ہوگیا۔اب ہمارے پاس ہے کیا کہ جسکے ضایع ہونے کی ہم فکر کریں؟ ٹرمپ ہو یا کوئی اور، جو چاہے  بولے اور کرے، ہمارے لئے اب کوئی فرق نہیں پڑتا'

صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز خط کے فوراً بعد مصرعہ طرح پر غزل سرائی شروع ہوئی اوروزیرخارجہ مارکو روبیو نے اہل غزہ کو انجام بد سے ڈرایا۔ حتیٰ کہ امریکی صدر کے خصوصی نمائندے  اسٹیو وٹکاف بھی اپنی زبان پر قابو نہ رکھ سکے اور شعلہ افشانی فرمائی کہ 'بہت ہوگیا، تمام قیدیوں کو رہا کرکے مزاحمت کار غزہ خالی کردیں'۔اس اندازِ گفتگو کی موصوٖف سے توقع نہ تھی کہ ارب پتی وٹکاف کی شناخت ہی انکا ٹھنڈا بلکہ برفیلا لہجہ ہے۔ شہہ پاکر اسرائیلی وزیردفاع بھی غرائے  'اگر اسرائیلی قیدی جلد رہا نہ کئے گئے تو غزہ پر جہنم کے دروازے کھول دئے جائینگے'۔ دھمکی میں زور پیدا کرنے کیلئے اسرائیلی فضائیہ نے غزہ پر ایف 35 اور B-52بمباروں کی نچلی پروازیں کیں۔ فلسطینیوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ قیدیوں کے تبادلے میں رہا ہونے والی 41 سالہ اسرا کو الخلیل (Hebron)میں انکے گھر سے  دوبارہ گرفتار کرلیاگیا۔

جنگی جنون  پر اہل غزہ کے ترجمان نے کہا کہ اسرائیل اور اسکے سرپرستوں کی دھمکیوں اور جارحانہ طرز عمل سے قیدیوں کی رہائی میں تاخیر ہورہی ہے۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ بمباری کرکے اپنے قیدی چھڑا لے گا تو وہ اپنی غلط فہمی دور کرلے۔حملے کی تجدید اہل غزہ کےساتھ قیدیوں کی زندگی بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

امریکی صدر کے قریبی حلقوں کا خیال ہے کہ 5 مارچ کو جب رہا ہونے والے قیدی ان سے ملنے قصرِ مرمریں آئے یا لائے گئے تو ان لوگوں کی 'حالت زار' دیکھ صدر ٹرمپ مشتعل ہوگئے اور یہ اشتعال اہل غزہ کے نام کھلے خط کا محرک ہے۔ ملاقات کے بعد امریکی صدر نے کہا کہ ان معصوموں کی زندگی 'دہشت گردوں' نے تباہ کردی، انھیں بھوکا رکھا اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ ہم نے وہ سارا منظر ٹیلی ویژن پر براہِ راست دیکھا اور ان سابق قیدیوں کے چہرے کی شادابی بتارہی تھی کہ یہ لوگ بہت آرام بلکہ ناز و نِعَم سے رکھے گئے تھے۔امریکی صدر اسرائیلی عقوبت کدوں سے رہا ہونے والی خواتین اور بچوں کو بھی دیکھ لیتے تو پتہ چلتا کہ تشدد اور بدسلوکی کسے کہتے ہیں۔

اسرائیل میں قیدیوں اور انکے لواحقین کا رد عمل بالکل مختلف ہے۔ گزشتہ ہفتہ غزہ میں اسرائیل بمباری سے اپنے دو معصوم بچوں کیساتھ ہلاک ہونے والی ایک خاتون، شری بیباس کی نند آفری بیباس نے نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھاکہ وہ 'خاموش رہیں' کیونکہ وہ بار بار میری بھابھی اور بھتیجوں کی ہلاکت کے بارے میں خاندان کی مرضی کے خلاف بیان دے رہے پیں۔اس ہفتے غزہ میں اسرائیلی بمباری کا نشانہ بننے والے اسحاق القرات کے سوگوار بھائی دانی القرات نے تدفین کے موقع پر کہا کہ 'میرے بھائی کی موت اسرائیلی وزیراعظم کی ضد کا نتیجہ ہے'۔ اسحاق کی موت کے ذمہ دار وہ نہیں جنھوں نے اسے گرفتار کیا بلکہ وہ ہیں جنھوں نے اسے دشمن میں تحویل میں رہنے دیااور بمباری کرکے اسے مارڈالا'۔ دانی فطرت کی درخواست پر نیتن یاہونے اسحاق کی تدفین میں شرکت نہیں کی۔

غزہ پر جہنم کے دروازے کھولدینے کا عزم رکھنے والے وزیردفاع کو ایک دوسری پریشانی کا سامنا ہے۔ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق لازمی فوجی تربیت کیلئے حریدی فرقے کے نوجوانوں کو جو دس ہزار سمن بھیجے گئے اسکے جواب میں صرف 177 افراد حاضر ہوئے۔حریدی فرقہ خود کو پاسبانِ توریت کہتا ہے اور حریدیوں کا موقف ہے کہ فوجی تربیت کی وجہ سے انکی توریت کی تعلیم متاثر ہوگی۔دوسرے فرقے سے تعلق رکھنے والے یہ کہہ کر بھرتی سے پیچھا چھڑا رہے ہیں کہ حریدیوں کی طرح وہ بھی بھرتی سے استثنیٰ کے مستحق ہیں۔فوجی جرنیلوں کے استعفوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے ڈائریکٹر آپریشنز میجر جنرل عدد بشیوک (Oded Basiuk) نے استعفی دیدیا۔موصوف 33 سال سے وردی میں تھے۔ استعفیٰ میں تو کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی لیکن ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اپنے قریبی احباب کو جنرل صاحب نے بتایا کہ 7 اکتوبر 2023 کو اہل غزہ کے حملے کے وقت سے انکی کارکردگی سخت تنقید کا نشانہ بنی ہوئی ہے جسکی وجہ سے وہ سخت ذہنی دباو میں ہیں۔اسی بنا پر فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل حرزی حلوی اور اور جنوبی کمان کے سربرہ میجر جنرل ہارون فنکلمین پہلے ہی مستعفی ہوچکے ہیں۔

عرب لیگ نے غزہ کی تعمیر نو کیلئے 53 ارب ڈالر کا ٹرسٹ فنڈ  منظور کرلیاہے۔ چار  مارچ کو قاہرہ سربراہ اجلاس  نے غزہ سے فلسطینیوں کی جبری اور رضاکارانہ جلاوطنی کو سختی سے مسترد کردیا۔اہم بات کہ غزہ سے مزاحمت کاروں کی حکمرانی ختم کرنے کا قاہرہ اعلامیہ میں کوئی ذکر نہیں۔فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ نے عرب لیگ منصوبے کی حمائت کا اعلان کیا ہے۔ آٹھ فروری کو ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ عرب لیگ کا غزہ تعمیرِ نو منصوبہ حقیقت پسندانہ ہے اور اس پر عملدرآمد سے غزہ کے تباہ حال فلسطینیوں کی زندگیوں  میں تیزی سے پائیدار بہتری آئے گی۔ تاہم یورپی ممالک نے غزہ پر 'دہشت گردٹولے' کی حکمرانی کی مخالفت کی ہے۔

اسرائیل نے قاہرہ منصوبہ یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کو دہشت گردی و عسکریت سے پاک اور پٹی سے دہشت گرد حکومت کے خاتمے سے کم کوئی تجویز اسرائیل کیلئے قابل قبول نہیں۔وزارت خارجہ کے اعلان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل ، اہل غزہ کی وہاں سے منتقلی کے ٹرمپ پلان کو اس مسئلے کا فطری و حقیقی حل سمجھتا ہے۔نو مارچ کو کینسہ (اسرائیلی پارلیمان) میں اتحادی جماعت کے اجلاس کے بعد وزیرخزانہ بیزلیل اسموترچ کے نے بتایا کہ غزہ کے باشندوں کی نقل مکانی کی نگرانی کے لیے 'مائیگریشن ایڈمنسٹریشن' قائم کر دی گئی ہے۔ اسکا مطلب ہوا کہ اہل غزہ کی جلاوطنی اب اسرائیل کی سرکاری پالیسی کا درجہ اختیار کرچکی ہے۔

ماہ رمضان میں مساجد کی بے حرمتی اور نمازیوں کا تنگ کرنے کا سلسلہ جاری ہے، نابلوس میں غربِ اردن کی قدیم جامع مسجد النصر کو اسرائیلی فوج نے آگ لگادی۔ مسجد اقصیٰ میں 55 سال سے کم عمر مردوں اور 50 سال سے کم کی خواتین کا داخلہ بند کردیا گیا ہے۔ بارہ برس سے زیادہ عمر کے بچے بھی مسجد نہیں جاسکتے۔ مسجد کا مرکزی دروازہ 'بابِ دمشق' مقفل کردیا گیا۔

امریکہ میں غزہ نسل کشی کیخلاف آواز اٹھانے والوں کو انتقامی کاروائی کا سامنا ہے۔ آن لائن خبر رساں ایجنسی Axiosکے مطابق امریکی وزارت خارجہ نے مصنوعی ذہانت (AI)کے ذریعے طلبہ کے میلان کی تحقیق کرکے اسرائیل مخالف غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کرنے کا منصوبہ بنایاہے۔ وزارت خارجہ، وزارت انصاف اور وزارت اندرونی سلامتی کا مشرکہ Catch and Revokeآپریشن جلد شروع ہوگا۔

اسرائیل مخالف سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کیلئے صدر ٹرمپ جامعات پر بھرپور دباو ڈال رہے ہیں۔ ایک حکم کے ذریعےجامعہ کولمبیا کی وفاقی گرانٹ میں 40 کروڑ ڈالر کی کٹوتی کردی۔ یہ جامعہ غزہ نسل کشی کے خلاف طلبہ تحریک کا مرکز ہے۔لیکن نوجوان کہاں باز آنے والے ہیں۔ ملک بدری، جرمانوں اور گرفتاریوں کی دھمکی کے باوجود چار مارچ کو سابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینٹ (Naftali Bennett)کی جامعہ کولمبیا آمد پر زبردست مظاہرہ کیا گیا۔جس میں سلیم الفطرت یہودی بھی شریک ہوئے۔

آٹھ مارچ کو صبح سویرے غزہ نسل کشی کے خلاف طلبہ تحریک کی قیادت کرنے والے طالبعلم،  محمود خلیل کو جامعہ کولمبیا کے رہائشی علاقے سے گرفتار کرلیاگیا۔ وزارت اندرونی سلامتی (DHS)کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی صدر ٹرمپ کے احکامات کی روشنی میں وزارت خارجہ کے تعاون سے کی گئی ہے۔ اہلکاروں نے گرفتاری کے وقت کہا کہ وزارت خارجہ نے اسکا تاشیرہِ علم (Student Visa)منسوخ کردیا ہے۔ جب محمود خلیل کی وکیل ایمی گریئر (Amy Greer)نے افسران کو مطلع کیا کہ محمود Permanent Resident(گرین کارڈ ہولڈر) ہے تو فوراً کہا گیا کہ اسکا گرین کاڑد منسوخ کیا جارہا ہے۔اسی کیساتھ محمود خلیل کو نیوجرسی کی حوالات سے لوزیانہ کی دور دراز جیل منتقل کردیا گیا۔ پیر (10 مارچ) کوامیگریشن حکام، انھیں الزامات پر ایک طالبہ کو گرفتار کرنے  جامعہ پہنچے لیکن طلبہ نے مظاہرہ کرکے ICE ایجنٹوں کو واپس جانے پر مجبور کردیا۔ محمود خلیل کی گرفتاری کے خلاف نیویارک میں امیگریشن دفتر کے سامنے زبردست مظاہرہ ہوا۔نیویارک کے وفاقی جج نے محمود خلیل کی جلاوطنی کے خلاف حکم امتناعی جاری کردیا۔مزید سماعت12 مارچ کو ہوگی۔

اس پر تبصرہ  کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ 'یہ (گرفتاری) تو بس آغاز ہے'

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 14 مارچ 2025

ہفت روزہ دعوت دہلی 14 مارچ 2025

روزنامہ امت کراچی 14 مارچ 2025

ہفت روزہ رہبر سرینگر 16 مارچ 2025


Tuesday, March 11, 2025

 

یوکرینی معدنیات۔  ہنگامہ ائے خدا کیا ہے؟؟؟

گزشتہ دنوں قصرِ مرمریں کے بیضوی دفتر میں یوکرینی اور امریکی صدور کے درمیان جھڑپ کے مناظر ساری دنیا نے دیکھے۔ اس 'جھگڑے' کی ایک وجہ یوکرین کی 'نایاب' معدنیات ہیں۔یہ معدنیات کیا ہیں؟ اور امریکہ اسے کیوں حاصل کرنا چاہتا ہے؟

نایاب زیرزمین معدنیات جنھیں Rare Earth Elementsیا REEs کہا جاتا ہے، 17 ملتی جلتی کیمیائی خصوصیات والی معدنیات ہیں جو سمارٹ فون، کمپیوٹر، طبی سامان اور کئی دیگر اشیا کی تیاری میں استعمال ہوتی ہیں۔ان میں سکینڈیئم، یٹریئم، لانتھانم، سیریئم، پراسیوڈائمیئم، نیوڈیئم، پرومیتھیئم، سماریئم، یوروپیئم، گاڈولینیئم، ٹیربیئم، ڈسپروسیئم، ہولمیئم، اربیئم، تھولیئم، یٹیربیئم اور لٹیٹیئم نامی معدنیات شامل ہیں۔علم کیمیا کے ماہرین نے عناصر کے اس گروپ کو Lanthanides کانام دیا ہے جسکا یونانی زبان میں مطلب ہے 'ڈھکا ہوا' یعنی خالص حالت میں یہ عناصر بہت کم جگہ دستیاب ہیں۔عام طور سے ان قیمتی معدنیات میں تھوریم اور یورینیم جیسے تابکاری عناصر کی آمیزش ہوتی ہے۔ اِن ناپسندیدہ کثافتوں سے جان چھڑاناممکن تو ہے لیکن اس مشکل عمل پربھاری سرمایہ خرچ ہوتا ہے۔

تاہم دنیا میں کئی مقامات پر یہ عناصر خالص حالت میں پائے جاتے ہیں۔ان میں چین سرِ فہرست ہے جہاں REEsذخائر کا مجموعی حجم چار کروڑ چالیس لاکھ ٹن ہے جو آکسفورڈ انسٹیٹیوٹ اور انرجی اسٹڈیز کے مطابق دنیا بھر میں پائے جانے والے نایاب معدنیات کا 90 فیصد ہے۔ ہندوستان دوسرے پر نمبر ہے جہاں 69 لاکھ ٹن REEsموجود ہیں، ارٹیس لاکھ (38)ٹن کیساتھ روس کا تیسرا نمبر ہے اور چوتھے نمبر پر ویتنام جہاں نایاب معدنیات کا مجموعی حجم 25 لاکھ ٹن ہے۔ گرین لینڈ پر بھی صدر ٹرمپ کی نظریں ہیں جہاں ان قیمتی عناصر کا تخمینہ 15لاکھ ٹن ہے،امریکہ میں REEs کا مجموعی حجم 19 لاکھ ٹن ہے۔ نایاب معدنیات کے اعتبار سے یوکرین دنیا کے 10 بڑے ممالک میں نہیں آتا، تاہم امریکی ماہرین کا خیال ہے کہ دنیا میں REEsکے پانچ فیصد ذخائر اسی ملک میں ہیں۔دلچسپ بات کہ معدنیات پر نظر رکھنے والے موقر برطانوی ادارے بینچ مارک منرل انٹیلیجنس‘ المعروف Benchmarkکے مطابق،یوکرین میں REEsکے حوالے سے اب تک جو تخمینے لگائے گئے ہیں وہ قیاس آرائی سے زیادہ کچھ نہیں۔یوکرینی ماہرین ارضیات دارالحکومت کیف، شمال وسطی یوکرین میں Vinnytsiaاور چند دوسرے مقامات پر بھی ان معدنیات کی موجودگی کا دعویٰ کررہے ہیں لیکن اب تک ان علاقوں میں مساحت ارضی کا کوئی ٹھوس کام نہیں کیا گیا۔یوکرین میں ان معدنیات کے دریافت شدہ ذخائر مشرقی یوکرین میں لوہانسک (Luhansk)اور ڈونیتسک (Donetsk)صوبوں پر مشتمل علاقے دنباس (Donbas)، اسکے مغرب میں زیپوریزا (Zaporizhia)، دریائے دنائپر (Dnieper) کے کنارے، تاتاروں کے جزیرہ نما کریمیا اور اسکے شمال میں بحیرہ آزوو (Azov) کے ساحل پر ہیں۔ یہ تمام کا تمام علاقہ روس کے قبضے میں ہے۔ یوکرین مساحت ارضی کے مطابق ملک میں بیٹری بنانے کے کام آنے والے قیمتی عنصر لیتھیم (Lithium)کے دریافت شدہ ذخائر کاتخمینہ ساڑھے چار لاکھ ٹن ہے لیکن اسکے بڑے حصے پر بھی روسی قابض ہیں۔

یعنی یوکرین میں نایاب معدنیات کے ذخائر تو ہیں لیکن روسی قبضے کی وجہ سے ان تک پہنچنافی الحال ممکن نہیں، شائد اسی لئے یوکرینی حکومت نے صدر ٹرمپ کے عتاب سے بچنے کیلئے اپنے معدنی وسائل تک امریکی رسائی کی کڑوی گولی یہ سوچ کر نگل لی کہ جب دادا مریں گے تب بیل بٹیں گے۔ ماہرین کے مطابق امریکہ میں نایاب معدنیات کے دریافت شدہ ذخائرکی مقداریوکرین سے زیادہ ہے لیکن صدر ٹرمپ خود کو دبنگ ثابت کرنے کیلئے یوکرینی معدنی وسائل تک رسائی کا معاہدہ چاہتے ہیں تاکہ وہ سینہ پھلاکر امریکی عوام کو بتاسکیں کہ انکی انتظامیہ یوکرین کو مدد میں دی گئی ایک ایک پائی سود کے ساتھ واپس لے رہی ہے۔

جیسا کہ پہلے عرض کی گیا، ان معدنیات کے عالمی ذخائر کا 90 فیصد چین کے پاس ہے۔ خام ذخائر کے علاوہ چین نے نایاب معدنیات کی کانکنی اور نتھارنے (Processing)کے باب میں زبردست مہارت حاصل کرلی ہے۔امریکی مساحت ارضی کےمطابق امریکہ درآمد کئے والے REEsمیں چین کا حصہ 72 فیصد ہے۔ امریکہ کیلئے مزید پریشان کن بات کہ افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ میں موجود ان نایاب معدنیات کی بہت سی بڑی کانوں کے مالک چینی ادارے ہیں۔حالیہ تجارتی جنگ میں چین نے جن جوابی اقدمات کا عندیہ دیا ہے ان میں امریکہ کو REEsبرآمد پر پابندی بھی شامل ہے۔

جدید الیکٹرانکس،ڈرونز، غیر مرئی ہتھیار سازی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا مراکز کیلئے روائتی معدنیات یعنی تانبا، لیتھیم، سیلیکون، ورق پزیر ہیرا (Palladium)کے ساتھ REEsکی بہت بڑی مقدار درکار ہے۔ امریکہ بہادربلاشبہ ٹیکنالوجی کے مردِ میدان ہیں لیکن ارضیات، کانکنی اور خاص طور سے نایاب معدنیات کی تلاش و ترقی میں انکا چین سے کوئی مقابلہ نہیں۔ معدنیات کو سنوارنے اور نتھارنے کی ٹیکنالوجی میں تو مہارت حاصل کی جاسکتی لیکن اسکے ذخائر پر قدرت نے چین کو جو برتری عطا کردی ہے اسکا صدر ٹرمپ کے پاس کوئی توڑ نہیں۔ شائد اسی لئے انکی نظریں یوکرین اور گرین لینڈ پر ہیں۔لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اگر یوکرین اپنے معدنی وسائل تک امریکہ کہ رسائی دینے پر رضامند ہو بھی جائے توکیا روس، معدنیات سے مالامال یہ علاقے امریکی کانکنوں کیلئے خالی کردیگا؟؟ْ؟؟؟

اعتراف و تشکر: مضمون کیلئے مساحت ارضی پاکستان (GSP) کے سابق سربراہ جناب حسن گوہر اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹیڈ کے سابق سربراہ معین رضاخان سے استفادہ کیا گیا ہے۔

آپ مسعود ابدالی  کی   پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.comاور ٹویٹر Masood@MasoodAbdaliپربھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔


Friday, March 7, 2025

 

غزہ میں رمضان کا پرجوش استقبال ۔ ملبے پر تراویح

اسرائیلی جیلوں میں بند تمام فلسطینی خواتین رہا

اہل غزہ نے عارضی جنگ بندی میں توسیع کی تجویز مسترد کردی، مکمل فوجی انخلا پر اصرار

اسلحے کا انبار۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کیلئے ارب ڈالر کی عسکری امداد منظور کرلی

'ٹرمپ غزہ' کے عنوان سے امریکی صدر کا شرمناک بصری تراشہ

نیتن یاہو بیان بازی کر کے ہمارے زخموں پر نمک نہ چھڑکیں۔ لواحقین کی فریاد

غربِ اردن کی پامالی پر بنائی گئی دستاو یزی فلم  کیلئے آسکر ایوارڈ

غزہ کے تمام مردوں کو فنا کردیا جائے۔ اسرائیلی رکن پارلیمان کی تجویز

یکم مارچ کو غزہ پر رمضان اس حال میں سایہ فگن ہوا کہ ساری پٹی ملبے کا ڈھیر ہے، آبنوشی کے ذخائر تباہ اور انکے باغات و زرعی میدان غارت ہوچکے ہیں۔ اہل غزہ نے گزشتہ رمضان بموں اور میزائیلوں کی برستی بارش میں گزارہ تھا جبکہ اس بار یہاں ایک مبہم و مشکوک سا امن قائم ہے۔ استقبالِ رمضان پورے تزک و احتشام سے ہوا۔ جگہ جگہ رنگین جھنڈیاں لگی ہیں۔ٹوٹی پھوٹی دیواروں اور ملبے پر رمضان سے متعلق قرآنی آیات اور احادیث خوبصورت خط میں درج کی گئیں۔بلدیہ غزہ نے کئی جگہ سڑکوں کو پیدل چلنے والوں کیلئے قابلِ استعمال بنالیا۔مسمار مساجدکے ملبے پرتراویح کا انتظام ہے۔ سب سے اہم بات لوگوں کاپرعزم صبر۔ گھر برباد، قبرستان آباد، جسم چھلنی لیکن زبان پر الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ (ہر حال میں اللہ کا شکر) کا ورد۔

عشق میں تیرے کوہِ غم، سر پہ لیا جو ہو سو ہو۔

غزہ کیساتھ تباہ حال غرب اردن میں بھی رمضان روائتی جوش وخروش سے منایا جارہا ہے۔ راستوں کی بندش، ناکوں، ناشائستہ جامہ تلاشی اور پکڑ دھکڑ کے باجودمسجد اقصیٰ آباد ہےاور تراویح کے دوران نمازیوں کی صفیں گنبدصخراتک آجاتی ہیں۔

جنگ بندی کا معاملہ یہ ہے کہ  27 فروری کو چار اسرائیلی لاشیں مصر حوالے کردینے کے بعد اسرائیلی عقوبت کدوں سے 602 فلسطینی رہا کردئے گئے، جن میں غزہ کی خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ایک جان بلب قیدی کو مصر کے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ مزاحمت کاروں نے ایک بیان میں کہا کہ '27 فروری کا دن اس لحاظ سے تاریخی ہے کہ اسرائیلی جیلوں سے تمام فلسطینی خواتین رہاہوگئیں اور اب ان عقوبت کدوں میں ہماری ایک بھی بیٹی بند نہیں'۔ فلسطینی قیدیوں کو 22 فروری کو اسوقت رہا کیا جانا تھا جب اہل غزہ نے 6 اسرائیلی اقوام متحدہ کے حوالے لیکن غزہ میں رہائی کی 'ہتک آمیز' تقریب پر مشتعل ہوکر اسرائیل نے انھیں آزاد کرنے سے انکار کردیاتھا۔

معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیلی حکام نے دھمکی دی کہ اگر 28 فروری تک مزید قیدی رہا نہ کئے گئے تو عبوری جنگ بندی ختم کرکے غزہ پر بمباری کا سلسلہ دوباہ شروع کردیا جائیگا۔اسی کےساتھ اسرائیلی فوج نے مزید ٹینک غزہ اسرائیل سرحد پر پہنچادئے اور ایسا محسوس ہوا کہ کسی بھی وقت غزہ پر حملہ ہوسکتا ہے۔ اہل غزہ نے خوفزدہ یا مشتعل ہونے بجائے اپنے مصری مصالحت کاروں کے ذریعے اسرائیل کو پیغام بھیجا کہ مزاحمت کاروں نے عبوری معاہدے کے پہلے مرحلے پر اپنی ذمہ داریاں اخلاص سے پوری کردی ہیں اور جب تک مکمل جنگ بندی کا معاہدہ نہیں ہوجاتا، مزید کسی قیدی کی رہائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔  

غزہ سے آنے والے اس سخت بیان پر اسرائیلی قیدیوں کے لواحقین میں  تشویش پھیلی اور سارے اسرائیل میں مظاہرے شروع ہوگئے۔ دباو میں آکر اسرائیلی وزیراعظم دوسرے مرحلے کے مذکرات پر آمادہ ہوگئے اور پائیدار جنگ بندی کیلئے قاہرہ میں اسرائیل اور اہل غزہ کے درمیان براہ راست بات چیت کا آغاز ہوا جس میں قطر، مصر اور امریکی حکام بھی موجود تھے۔ واشنگٹن میں برطانوی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا 'غزہ کے حوالے سے قاہرہ میں "اچھی بات چیت" جاری ہے۔ دلچسپ بات کہ اسرائیلی اعلامیوں میں اس ملاقات کو Indirectکہا گیاکہ 'دہشت گردوں' کیساتھ بیٹھنے کا اعتراف کرنے سے انا کا بت مسمار ہونے کا خطرہ ہے۔ مذاکرات شروع ہوتے ہی اسوقت تعطل پیدا ہوگیا جب اسرائیل نے غزہ مصری سرحد پر واقع فلاڈلفی راہداری خالی کرنےسے انکار کردیا۔ سو میٹر چوڑی یہ راہداری جنوب میں کریم سلام پھاٹک سے شمال میں بحیرہ روم تک جاتی ہے۔ امریکہ، قطر اور مصر کی ضمانت پر ہونے والے معاہدے میں طئے پایا تھا کہ دوسرے مرحلے کے مذاکرات سے پہلے اسرائیلی فوج فلاڈلفی راہداری خالی کردیگی۔ساتھ ہی اسرائیل نے مکمل جنگ بندی کیلئے اہل غزہ کو غیر مسلح کرنے کی شرط عائد کردی۔فلاڈلفی پر قبضہ ہی مزاحمت کاروں کیلئے ناقابل قبول تھا۔ ہتھیار ڈالنے کی شرط سنتے ہی انکا وفد اٹھ کر چلاگیا اور مذااکرات معطل ہوگئے۔

ادھر امریکہ کا دورہ کرنے والے اسرائیل کے قائدِ حزب اختلاف یار لیپڈ نے  کشیدگی ختم کرنے کیلئے  غزہ کو 8 سال کیلئے مصر کی سرپرستی میں دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ اسرائیلی قائدحزب اختلاف کا کہنا تھا کہ اسکے عوض عالمی برادری کو مصر پر لدے قرضوں کا بوجھ اتارنا ہوگا۔ تاہم اس تجویز کو خود مصر نے مسترد کردیا۔ مصری وزارت خارجہ کے ترجمان ثمیم خلف نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ کے بارے میں مصری اور عرب موقف کو نظر انداز کرکے وضع کیا جانیوالا کوئی بھی تصور یا تجویز ہمارے لئے ناقابل قبول ہے۔

مذاکرات میں تعطل پر اسرائیل اور امریکہ دونوں جانب سے دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ اگر تمام قیدی جلد رہا نہ کئے گئے تو امن معاہدہ ختم کردیا جائیگا۔ چھبیس فروری کو سماجی رابطے کیلئے امریکی صدر کے نجی پلیٹ فارم TRUTHپر مصنوعی ذہانت (AI)کی مدد سے تیار کیا گیا TRUMP GAZAکے عنوان سے ایک سمعی بصری پیغام سامنے آیا جس میں پہلے غزہ کی تباہی کے مناظر ہیں جسکے بعد ٹرمپ کے سنہری مجسمے، نیم عریاں فنکاروں کے ساتھ محو رقص امریکی صدر، غزہ کے ساحل پر نیتن یاہو کے پہلو میں مشروبات سے لطف اندوز ہوتے  دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ دراصل غزہ پر امریکی قبضے کے ارادے کی تجدید ہے۔ اس اشتعال انگیزی کا بھی اہل غزہ نے شائستہ مگر دوٹوک جواب دیا۔ انکے بیان میں کہا گیا کہ 'غزہ کے عوام اس دن کے منتظر ہیں جب وہ اپنے وطن، معاشی بحالی اور اپنے بچوں کے لیے ایک بہتر مستقبل کی تعمیر دیکھیں گے، لیکن یہ بڑی جیل کے اندر ممکن نہیں۔ ہماری جدجہد جیل کے حالات کو بہتر بنانے کے لئے نہیں، بلکہ یہ قربانیاں جیل اور جیلر سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے دی جارہی ہیں'۔ ساتھ ہی امریکی صدر کو یہ بھی گوش گزار کردیا گیا کہ بصری تراشہ جاری کرنے والوں کو اہل غزہ کے عقیدے، ثقافت اور ترجیحات کا ادراک ہی نہیں۔

دوسری جانب اپنے انتہا پسند اتحادیوں کے دباو پر نیتن یاہو اہل غزہ سے ہتھیار رکھنے پر اصرار کرتے رہے۔ یکم مارچ کو  مصر سے تجویز آئی کہ مزاحمت کاراپنے راکٹوں اور میزائیلوں کا ذخیرہ یورپی یونین اور اقوام متحدہ امن فوج کی نگرانی میں دے دیں۔ جس پر تبصرہ کرتے ہوئے مزاحمت کاروں نے کہا کہ وہ اس تجویز کا جواب دینا بھی مناسب نہیں سمجھتے، ساتھ ہی انھوں نے مصالحت کاروں کو یاددلادیا کہ پہلے مرحلے کی 42 روزہ جنگ بندی آج رات بارہ ختم ہورہی ہے۔ پیغام ملتے ہی تل ابیب نے مصری مصالحت کاروں کے ذریعے اہلِ غزہ سے عارضی جنگ بندی میں چھ ہفتہ توسیع کی درخواست کردی۔ جسکے جواب میں بانکوں نے کہا کہ عارضی فائر بندی میں توسیع سے بہتر ہے کہ غزہ سے مکمل و غیر مشروط فوجی انخلا اور دونوں طرف سے قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کرلو۔

اہل غزہ کی طرف سے عارضی جنگ بندی میں توسیع کی اسرائیلی درخواست مسترد کردئے جانے کے بعد وزیراعظم نیتن یاہو نے رمضان اور یہودی تہوار ، عبور عظیم (Passover) کے اختتام تک جنگ بندی میں یکطرفہ توسیع کا اعلان کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مشیر اسٹیو وٹکاف پرامید ہیں کہ اس عرصے میں امن اور قیدیوں کے رہائی کا مسئلہ حل کرلیا جائیگا۔ عبور عظیم کا آٹھ روزہ تہوار 20 اپریل کو غروب آفتاب پر ختم ہورہا ہے۔ اس پیشکش کو اہل غزہ نے مسترد تو نہیں کیا تاہم یہ کہہ دیا گیا ہے کہ اس عرصے میں قیدیوں کا تبادلہ نہیں ہوگا۔ مزاحمت کاروں پر دباو ٖڈالنے کیلے اسرائیلی وزیراعظم نے غزہ کیلئے امدادی سامان روکنےکا حکم دیدیاہے۔ دو مارچ کو وزیراعظم کے دفتر (PMO)سے جاری ہونے والے بیان میں نے کہا گیا ہے کہ اہل غزہ نے رمضان اور یہودی تہوار عبورِعظیم تک عارضی جنگ بندی میں توسیع کی وہ تجویز مسترد کردی ہے جسکی درخواست امریکی صدر کے مشیر اسٹیو وٹکاف (Steve Wikoff) نے کی تھی لہذا ب مزید کوئی امدادی ٹرک غزہ نہیں جانے دیا جائیگا۔

اس دوران اسرائیل میں امریکی اسلحے کا انبار لگ رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے  ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کیلئے تین ارب ڈالر اسلحے کی نئی کھیپ بھیجنے کی درخواست منظوری کی غرض سے کانگریس (پارلیمان) کو بھیجدی۔ مجوزہ اسلحے میں غرب اردن کی فلسطینی بستیاں مسمار کرنے کیلئے بکتر بند بلڈوزر بھی شامل ہیں۔ یکم مارچ کو وزیرخارجہ مارکو روبیو نے اسرائیل کیلئے 4 ارب ڈالر عسکری امداد کی فراہمی میں تیزی لانے کا حکم دیدیا۔اپنے ایک بیان میں مسٹر روبیو نے کہا کہ 20 جنوری کو حکومت سنبھالنے کے بعد سے ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کی عسکری مدد کیلئے 12 ارب ڈالر منظور کئے ہیں۔ امریکی وزیرخارجہ نے عزم ظاہر کیا کہ اسرائیل کی سلامتی کے لیے امریکہ تمام دستیاب ذرائع استعمال کریگا۔

غزہ اور غربِ اردن کیساتھ ، شام کےخلاف اسرائیلی کاروائیوں میں بھی شدت آگئی ہے۔ دمشق کے مضافاتی علاقے کسوٰۃ اور اردن کی سرحد کے قریب درعا پر مسلسل فضائی حملے ہورہے ہیں۔ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز ننے ایک بیان میں کہا کہ جنوبی شام سے سرکاری فوج کی واپسی اور عسکری تنصیات تلف ہونے تک حملے جاری رہیں گے۔ انکا کہنا تھا کہ دمشق کی 'نئی انتہا پسند' حکومت سے  جنوبی شام کے دروزوں کو لاحق خطرات دور کرنے کیلئے شامی فوج کا انخلا ضروری ہے۔حکومتی سطح پر دروزوں میں اشتعال پیدا کرنے کا نتیجہ ہے کہ 3 مارچ کو حیفہ لاری اڈے پر ایک 20 سالہ اسرائیلی دروز جترو شاہیں نے چھرا گھونپ کر ستر سالہ فلسطینی حسن کریم کو قتل کردیا۔

غزہ سے آنے والی اسرائیلی لاشوں کے بارے میں نیتن یاہو جس بیباکی سے جھوٹ بول رہے ہیں اس پر لواحقین کو سخت اعتراض ہے۔اسرائیل کی بمباری سے ایک خاتون، شری بیباس اور اسکے دوکمسن بچے ہلاک ہوگئے تھے۔ اسرائیلی وزیراعظم الزام لگارہے ہیں ان تینوں کو مزاحمت کاروں نے قتل کیا۔شری بیباس کی نند آفری بیباس نے 25 فروری کو فیس بک پیغام میں نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ 'خاموش رہیں' کیونکہ وہ بار بار میری بھابھی اور بھتیجوں کی ہلاکت کے بارے میں خاندان کی مرضی کے خلاف بیان دے رہے پیں۔یہ ایک ایسے خاندان سے بدسلوکی ہے جسکی زندگی 16 ماہ سے جہنم بنی ہوئی ہے اور یہ بدترین صورت حال ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔

فن و ثقافت کے اعتبار سے اس ہفتے کی سب سے اہم خبر غربِ اردن کی پامالی پر بنائی گئی دستاویزی فلم No Other Land کیلئے اکیڈمی (آسکر) ایوارڈ ہے۔ دو یہودی اور دو فلسطینی ڈائریکٹروں کی تیار کردہ یہ فلم الخلیل (Hebron)کے گاوں مسافر یطا میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینی مکانات منہدم کرنے کے بارے میں ہے۔ ایوارڈ وصول کرتے ہوئے یہودی ڈائریکٹر جوال ابراہیم نے کہا کہ غزہ اور اس کے عوام کی وحشیانہ تباہی ختم اور 7 اکتوبر کو پکڑے جانیوالے یرغمالیوں رہا ہونا جانا چاہیے۔انہوں نے مغربی کنارے کے فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کے "غیر مساوی" سلوک کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ خطے میں امریکی پالیسی منفی کردار ادا کر رہی ہے۔جوال ابراہیم نے فلم کے فلسطینی ڈائریکٹر باسل عدرا ک طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر باسل کے لوگ آزاد اور محفوظ ہوجائیں تو میرے لوگ بھی محفوظ ہوسکتے ہیں۔اسرائیلی وزیر ثقافت مخلوف جوہر نے فلم کیلئے ایوارڈ اور تعریف وتحسین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے اسرائیل کو سبوتاژ کرنے کی مہم کا حصہ قراردیا۔

اختتام ایک نفرت انگیز نوٹ پر۔ اسرائیلی حکمران لیکڈ پارٹی کے رکن کنیسہ (پارلیمان) نیسم وتوئیدی نے ایک بیان میں کہا' اہل غزہ منحوس ہیں، دنیا میں انھیں کوئی قبول نہیں کرنا چاہتا۔ بہتر ہوگا کہ عورتوں اور بچوں کو علیحدہ کرکے باقی کو ٹھکانے لگادیا دیاجائے' بنو قریظہ کا بدلہ؟؟؟؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 7 مارچ 20


25

ہفت روزہ دعوت دہلی 7 مارچ 2025

روزنامہ امت 7 مارچ 2025

ہفت روزہ رہبر سرینگر 9 مارچ 2025

 

Thursday, March 6, 2025


امریکی و یوکرینی صدور کی جھڑپ

قصرِ ابیض کے بیضوی دفتر (Oval Office)میں جمعہ  28 فروری کو ہونے والی جھڑپ کی بازگشت  اتوار کو یورپی رہنماوں کے ہنگامی اجلاس میں بھی سنائی دی۔ بدمزگی کا آغاز صدر زیلنسکی کی قصرِ مرمریں آمد سے ہی ہوگیا تھا۔ یوکرینی صدر سوٹ کے بجائے عام لباس میں تھے۔ صدر ٹرمپ نے انھیں دیکھتے ہی پھبتی کسی کہ  'نائس ڈریس'۔اسکی وضاحت کرتے ہوئے جناب زیلینسکی نے کہا کہ میرا ملک حالت جنگ میں ہے اسوقت سوٹ پہننے اور شیو کرنے کی کہاں فرصت۔ بات چیت شروع ہوتے ہی تلخی واضح تھی۔ صدر ٹرمپ حسب عادت اپنے امریکہ کے احسانات جتاکر صدر زیلنسکی کوروس سے امن معاہدے پر مائل کرنا چاہتے تھے لیکن یہ شرائط جناب زیلنسکی کیلئے قابل قبول نہ تھیں۔اسی دوران نائب صدر جے ڈی وانس نے یوکرینی صدر کو ناشکرا کہدیا۔جواب دیتے ہوئے ولادیمر زیلنسکی بولے کہ آواز بلند کرنے سے بات میں وزن پیدا نہیں ہوتا جس پر صدر ٹرمپ نےغصے سے  کہا 'اس نے آواز تو بلند نہیں کی' جب وضاحت کیلئے یوکرینی صدر نے منہہ کھولا تو ٹرمپ نے یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ 'آپ بہت بول چکے، جب آپ امن کیلئے تیار ہوجائیں تو یہاں دوبارہ تشریف لے آئیے گا'۔اسی کیساتھ قصرِ مرمریں کی پروٹوکول افسر نے یوکرینی صدر کو انکی گاڑی تک پہنچادیا۔

امریکی قیادت کے سامنے یوکرینی صدر کا یوں پھٹ پڑنا بےوجہ و بے سبب نہیں تھا۔ یوکرین سے واشنگٹن کی بیوفائی و وعدہ خلافی کا سلسلہ قیام یوکرین سے جاری ہے۔

جب 1991 میں یوکرین نے آزاد ریاست کی حیثیت سے اپنے سفر کا آغاز کیا اسوقت نہ صرف سوویت دور کی جوہری تنصیبات وہاں موجود تھیں بلکہ بھاری مقدار میں ایٹمی اسلحہ بھی یوکرینی فوج کے ہاتھ لگا۔دنیا کے پانچ بڑوں کو جوہری ہتھیاروں پر سخت تشویش تھی لہٰذا یوکرین پر زور دیا گیا کہ وہ اپنا ایٹمی پروگرام ختم کرکے جوہری ہتھیار سے دستبردار ہوجائے۔ ایسی ہی 'تلقین' قازقستان اور بلارُس کو بھی کی گئی جنکے پاس سوویت دور کے جوہری ہتھیار موجود تھے۔ تاہم تینوں ہی اپنے سلامتی کے خوف سے ایٹمی ہتھیار تلف کرنے پر تیار نہ تھے۔

ان ملکوں کے خدشات دور کرنے کیلئے دفاع اور تعاون کی یورپی تنظیم (OSCE)کے بینر تلے ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ میں ایک اجلاس ہوا۔ جہاں سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ارکان نے یقین دلایا کہ اگر یوکرین، قازقستان اور بیلارس اپنے جوہری پروگرام ختم کردیں تو برطانیہ، روس اور امریکہ انکے تحفظ اور سلامتی کے ذمہ دار ہونگے۔ طویل مذاکرات کے بعد 5 دسمبر 1994 کو ضمانتِ تحفط کی ایک یادداشت پر دستخط ہوئے جسے Budapest Memorandum on Security Assuranceکہا جاتا ہے۔ اس چھ نکاتی یادداشت میں برطانیہ، روس اور امریکہ نے بہت صراحت کیساتھ ضمانت دی کہ اگر قازقستان، یوکرین اور بیلارُس اپنا جوہری پروگرام ختم کرکے ایٹمی اسلحہ روس کے حوالے کردٰیں تو:

  • بیلارُس، قازقستان اور یوکرین کی سلامتی، خودمختاری اور سرحدوں کا مکمل احترام کیا جائیگا
  • بیلارُس، قازقستان اور یوکرین کو دھمکی یا انکے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز کیا جائیگا
  • بیلارُس، قازقستان اور یوکرین کے خلاف کسی قسم کی معاشی پابندی نہیں لگائی جائیگی
  • بیلارُس، قازقستان اور یوکرین کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے گریز کیا جائیگا
  • اگر یہ ممالک دھمکی یا طاقت کا نشانہ بنے تو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل انکے دفاع کی ذمہ دار ہوگی
  • س عہد سے متعلق شک یا ابہام پیدا ہونے کی صورت میں تینوں ضامن مشورے کے بعد ان ملکوں کو اعتماد میں لینگے

اس تحریری معاہدے کے باوجود 2014 میں روس نے کریمیا اور یوکرین کےدو مشرقی صوبوں کے بڑے علاقے پر قبضہ کرلیا یعنی ایک ضامن نے خود ہی معاہدے کو ہوا میں اڑادیا اور دوسرے ضامنوں سمیت ساری دنیا خاموش رہی۔ اسکے بعد 24 فروری 2022 کو روس ایک بار پھر یوکرین پر چڑھ دوڑا۔ اس یادادشت پر روس کے سابق صدر بورس یلسٹن، امریکی صدر بل کلنٹن، اور برطانیہ کے وزیراعظم جان میجر نے دستخط کئے تھے۔ان میں سے بورس یلسٹن آنجہانی ہوچکے لیکن جان میجر اور بل کلنٹن اب بھی حیات ہیں۔ اپنے دستخطوں سے جاری ہونے والی ضمانت کی دھجیاں بکھرتی دیکھ کر انھیں ذرا شرم نہ آئی۔

یوکرینیوں میں یہ احساس شدت اختیار کرچکا ہے کہ اگرانکے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو وہ بے بسی کے عالم میں نہ مارے جاتے۔بھولی یوکرینی قیادت نے 'بھیڑیوں' کو معصوم سمجھنے کی مجرمانہ غلطی کا ارتکاب کیا جسکی قیمت آج ساڑھے چار کروڑ یوکرینی ادا کررہے ہیں۔

جوہری ہتھیاروں سے دستبراری اور اب یوکرین کے معدنی وسائل پر صدر ٹرمپ کی للچائی نظروں نے شکوک و بدگمانی کی خلیج کو مزید گہرا کردیا۔ اسی کیساتھ ذاتی  سطح پر ان دونوں رہنماوں کے درمیان چپقلش کا سلسلہ خاصہ پرانا ہے۔حالیہ جھڑپ کو 2020 کے امریکی انتخابات کے تناظر میں دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ بے اعتمادی نئی نہیں۔

جس زمانے میں جو بائیڈن امریکی نائب صدر تھے، ان دنوں یوکرین کی تیل اور گیس کمپنی Burisma نے انکے صاحبزادے ہنٹر بائیڈن کو اپنے بورڈ آف ڈائریکٹر کا رکن بنایا، اورمشاہرے و مراعات کی مدمیں 80 ہزار ڈالر ماہانہ ادائیگی طئے پائی۔ہنٹر بائیڈن کی تقرری سے دوسال پہلے یعنی 2012 سے بورسما کے خلاف بدعنوانی و رشوت ستانی کی تحقیقات شروع ہوچکی تھیں۔ تین سال بعد وکٹر شوکن (Victor Shokin)نئے مستغیث اعلیٰ (Prosecutor General)مقرر ہوئے اور بورسما کے خلاف تحقیات میں تیزی آگئی۔

امریکی وفاقی ادارہِ تحقیق یا FBIکے ایک جاسوس نے اپنے افسران کو بتایاکہ تحقیقات سے جان چھڑانے کیلئے بورسما کے مالک نے ہنٹر بائیڈن کو 50 لاکھ ڈالر رشوت پیش کی تاکہ وہ اپنے والد کے ذریعے یوکرینی حکومت پر دباو ڈال کر مستغیث اعلیٰ کو برطرف کروادیں۔الزام کے مطابق جو بائیڈن نے یوکرینی حکومت کو دھمکی دی کہ اگر وکٹر شوکن کو برطرف نہ کیا گیا تو وہ یوکرین کیلئے منظور شدہ ایک ارب ڈلر کی امداد رکوادینگے۔یہ الزام امریکی تحقیقات کاروں نے جھوٹ قراردیا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یوکرینی پارلیمان نے مارچ 2016 میں مستغیث اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک منظور کرکے انھیں برطرف کردیا۔

مئی 2019 کو ولادیمر زیلنسکی نے یوکرین کی صدارت سنبھال لی۔اسوقت امریکہ میں صدر ٹرمپ کی حکومت تھی اور 2020 کی انتخابی مہم شروع ہوچکی تھی۔ رائے عامہ کے جائزے سے لگ رہا تھا کہ صدر ٹرمپ کے ڈیموکریٹک حریف جو بائیڈن ہونگے۔ جولائی 2019 میں صدر ٹرمپ نے مبینہ طور پر اپنے یوکرینی ہم منصب ولادیمر زیلنسکی کو فون کیا اور ان سے درخواست کی کہ بورسما کرپشن اور اس میں ہنٹر بائیڈن کے ملوث ہونے  کے بارے میں اگر کوئی ٹھوس مواد انکے پاس ہو تو وہ جناب ٹرمپ کو فراہم کریں۔ ساتھ ہی امریکی صدر نے یہ بھی باور کرادیا کہ امریکہ کا فوجی تعاون اور مالی امداد اس معاملے میں صدر زیلنسکی کے تعاون سے مشروط ہے۔ صدر ٹرمپ نے موقف اختیار کیا کہ وہ امریکی ٹیکس دہندگان کی کمائی کرپشن کی نذر نہیں ہونے دینگے۔ یوکرینی صدر نے ڈانلڈ ٹرمپ کو کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کئے لیکن امریکی و یوکرینی صدور کی گفتگو پر ڈیموکریٹک پارٹی نے ہنگامہ برپا کردیا اور بات صدر ٹرمپ کے مواخذے تک آگئی تاہم سینیٹ میں دوتہائی اکثریت نہ ملنے کے سبب مواخذے کی تحریک ناکام ہوگئی۔

ڈانلڈ ٹرمپ 2020 کا انتخاب ہارگئے۔ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ ولادیمر زیلنسکی نے دہرا کھیل کھیلا یعنی ایک طرف ٹرمپ کو ہنٹر بائیڈن کے خلاف کوئی مواد فراہم نہیں کیا تو دوسری جانب فون گفتگو کے بارے میں ٹرمپ مخالفین کو اطلاع بھی انھوں نے ہی فراہم کی۔

رائے عامہ کے جائزے دیکھ کر صدر زیلینسکی کو اندازہ ہوگیا تھا کہ 2024 میں ڈانلڈ ٹرمپ انتخاب جیت جائینگے چنانچہ گزشتہ برس ستمبر میں جب انھوں نے امریکہ کاسرکاری دورہ کیا تو وہ ڈانلڈ ٹرمپ سے ملنے نیویارک کے ٹرمپ ٹاور آئے جہاں روس یوکرین امن معاہدے پر بات ہوئی۔ تاہم صدر ٹرمپ کی بدگمانی دور نہ ہوئی۔ واشنگٹن میں گزشتہ ہفتے جو ہوا وہ اسی بدگمانی کا عملی اظہار تھا جسے جناب ٹرمپ کی متکبرانہ طبیعت نے جھڑپ میں تبدیل کردیا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 7 مارچ 2025

ہفت روزہ دعوت دہلی 7 مراچ 2025

روزنامہ امت کراچی 7 مارچ 2025

ہفت روزہ رہبر سرینگر 9 مارچ 2025


Wednesday, March 5, 2025

 

عیدِ ایسٹر اور ایامِ صوم (Lent)  

آج  (5 مارچ) سے مسیحی برادری کے  ایام  صوم یا Lent کا  آغاز ہورہاہے۔ ایام صوم کا پہلا دن یورپ و امریکہ میں Ash Wednesdayیا 'راکھ کا بدھ' کہلاتا ہے ۔اس روزاپنے ماتھوں پر راکھ سے  صلیب کا نشان بناکر  لینٹ کا استقبال کیا جاتا ہے ۔ امریکہ فرانس اور بعض دوسرے ممالک میں راکھ کے بدھ سے پہلے والے منگل کو Fat Tuesdayمنایا جاتا ہے جب لوگ روزوں کے آغاز سے پہلے خوب کھاتے پیتے اور موج مستی کرتے ہیں۔ بڑے شہروں میں مارڈی گرا Mardi Gras کے نام سے پریڈ کا اہتمام ہوتا ہے۔ تاہم Fat Tuesday اور مارڈی گرا محض سماجی تہوار ہیں اور انکی کوئی مذہبی حیثیت نہیں۔ مسیحی روزوں کے پس منظر پر ایک مختصر سے گفتگو شائد احباب کو پسند آئے۔

یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ یا John علیہ السلام کی ولادت با سعادت تقریباً ایک ہی زمانے میں ہوئی تھی جسکی تفصیل سورہ آل عمران میں دیکھی جاسکتی ہے۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام ایمان لانے والوں کو مقدس غسل دیا کرتے تھے جسے بپتسمہ کہتے ہیں اسی بنا پر عیسائی دنیا میں حضرت یحییٰ کو John the Baptist علیہ السلام کہا جاتا ہے۔

انجیل مقدس کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام بپتسمہ کیلئے دریائے اردن  (فلسطین) پر حضرت یحییٰ علیہ السلام کے پاس آئے جو اسوقت بنی اسرائیل کی طرف اللہ کے نبی تھے۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بپتسمہ دینا بے ادبی جانا۔ انکا خیال تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرتبے میں ان سے بڑے ہیں اور انھیں خود مسیح علیہ السلام سے بپتسمہ لینا چاہئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ طئے کردہ اصول ہے کہ نیا آنے والا ہر نبی اپنے پیشرو نبی کی شریعت کا پابند ہوتا ہے اور اسوقت تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبوت عطا نہیں ہوئی تھی لہذا حضرت یحییٰ علیہ السلام نے بپتسمہ کی رسم شروع کی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسمِ اطہرکو پانی میں ڈبکی دی۔ پانی سے اوپر آتے ہی آسمان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کی صدا آئی لیکن اسکے ساتھ ہی شیطان آزمائش کیلئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے ساتھ ایک ویرانے میں لے گیا اور انھیں چالیس دن تک مقید رکھا جہاں کھانا پینا بھی میسر نہ تھا۔ اس دوران شیطان انکو اپنی اطاعت کے عوض دنیا کے اقتدار، دولت اور دوسری نعمتوں کی پیشکش کرتا رہا لیکن حضرت ثابت قدم رہے۔ سب سے شدید آزمائش بھوک و پیاس کی تھی ۔ چالیسویں دن شیطان نے انکی نبوت پر شک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر نبی کو اللہ نے معجزہ دیا ہے اور اے عیسیٰ علیہ السلام اگر تم نبی ہو تو دعا کرو کہ اللہ تمہارے لئے ان پتھروں اور مٹی کو رزق بنادے تاکہ تم کم ازکم اپنی بھوک ہی مٹالو۔ جس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں صابر ماں کا بیٹا ہوں۔ میرے رب کو میری تکلیف کا خوب پتہ ہے اور وہ اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے۔حضرت کے اس جواب پر شیطان   یہ کہتا ہوا وہاں سے چلاگیا کہ اللہ نے مجھے آدم علیہ السلام کے سامنے بھی ایسے ہی رسوا کیا تھا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس بھوک و پیاس کی یاد تازہ کرنے اور شیطانی آزمائش کے مقابلے کیلئے خود کو تیار کرنے کی غرض سے روزے رکھے جاتے ہیں۔ پاکستان و ہندوستان کے مسیحی ان چالیس دنوں میں صرف رات کو ایک بار کھانا کھاتے ہیں لیکن یورپ اور امریکہ میں روزوں کے دوران کوئی ایک محبوب چیز چھوڑ دینا کافی ہے، مثلاً بلانوش حضرات اس عرصے میں شراب ترک کردیتے ہیں۔ سگریٹ نوش اس دوران سگریٹ پھونکنے سے اجتناب کرتے ہیں۔چاکلیٹ کی شوقین خواتین روزوں میں چاکلیٹ نہیں کھاتیں۔ کوک اور سوڈا کے رسیا اس دوران پانی پر گزارہ کرتے ہیں۔کچھ لوگ گوشت چھوڑدیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ روزوں کا اختتام  18 اپریل کو جمعہ مقدس یا Good Fridayپر ہوگا۔

مسیحی عقیدے کے مطابق اس روز دن کے بارہ بجے حضرت کو سولی دی گئی تھی اور مسیح علیہ السلام کا جسمِ اطہر 3 گھنٹے سولی پر ٹنگا رہا۔ اسی وجہ سے جمعہ کو 12 سے 3 بجے دوپہر تک رقتِ قلب اور گریہ و زاری سے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ انجیل مقدس کے مطابق سولی کے دودن بعد یعنی اتوار کو حضرت دنیا میں واپس آگئے تھے اور ظہور مسیح کی یاد میں  20 اپریل  کو عیدِ ایسٹر Easterمنائی جائیگی۔

   جمعہ مقدس اور ایسٹر کے تعین کیلئے مسیحی (Gregorian)کے ساتھ  رومن یا Julianکیلنڈر سے بھی مدد لی جاتی اور حساب کتاب میں اختلاف  کی بناپر  مغرب اور مشرق   میں موسم صوم  کی تاریخ مختلف ہوتی ہے۔تاہم اس بار  مشرق و مغرب میں ایک ہی دن یہ عید منائی جائیگی۔

مسیحی احباب کو Lentکی برکت و رحمت اور عیدِ ایسٹر مبارک۔

تشکر: مفید معلومات کی فراہمی پر توریت و انجیل کے عالم  میں ڈاکٹرافضال فردوس کا شکر گزار ہوں ، ہیوسٹن میں مقیم ڈاکٹر صاحب ایک عمدہ شاعر اور مسیحی خطیب ہیں۔ڈاکٹر صاحب  خاصے وسیع القلب   ہیں  اور اکنا کی سماجی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے ہیں۔

 اب آپ ہماری  فیس بک  پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.comپر بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔