Wednesday, December 3, 2025

 

امریکی دارالحکومت میں فائرنگ  ۔۔ نسل پرست سیاست اور امیگریشن

شکرگزاری (Thanksgiving) کے تہوار سے ایک دن پہلے امریکی دارالحکومت میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے نے امریکی سیاست میں غیر معمولی ہلچل پیدا کردی ہے۔ صدر ٹرمپ کا ردِعمل اتنا شدید تھاکہ انہوں نے چند گھنٹوں کے اندر تیسری دنیا کے شہریوں کے امریکہ آنے پر نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا۔

یہ واقعہ 26 نومبر کو دوپہر کے سوادو بجے قصرِ ابیض سے ڈیڑھ کلومیٹر دور فریگٹ چوک (Farragut Square) پر پیش آیا، جب ایک شخص نے وہاں تعینات ورجینیا نیشنل گارڈ کے سپاہیوں پر فائرنگ کر دی۔ اس واقعے میں دو سپاہی شدید زخمی ہوئے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے کی جوابی کارروائی میں مبینہ حملہ آور زمین پر گر پڑا اور فوراً گرفتار کر لیا گیا۔ زخمی ہونے والی 20 سالہ سارہ بیک اسٹروم (Sarah Backstrom) زخموں کی تاب نہ لا کر اگلے دن دم توڑ گئی۔ تحقیقات جاری ہیں، مگر اب تک حملے کے محرکات کے بارے میں کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔ گرفتار شخص کی شناخت 29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کے طور پر ہوئی ہے، جو 2021 میں امریکی Resettlement Program کے تحت امریکہ منتقل ہوا تھا۔

فائرنگ کے فوراً بعد، حتیٰ کہ ملزم کی شناخت سے پہلے ہی، صدر ٹرمپ نے کہا “یقین ہے کہ زیرِ حراست شخص افغانستان سے آیا جو عملاً  ‘جہنمِ ارضی’ ہے۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ شخص صدر بائیڈن کے دور میں امریکہ لایا گیا اور اس کے ویزے میں توسیع بھی بائیڈن انتظامیہ نے کی۔ صدر کے موقف کی تائید کرتے ہوئے وزیراندرونی سلامتی (HSS)محترمہ کرسٹی نوم نے کہا کہ رحمان اللہ ان افغانوں میں شامل تھا جو جانچ پڑتال کے بغیر Operations Allies Welcomeپروگرام کے تحت لائے گئے۔

تاہم حقائق اس کے برعکس ہیں۔ امریکی ٹیلیویژن CBS کے مطابق رحمان اللہ افغانستان میں نہ صرف امریکی فوج سے وابستہ تھا بلکہ اس نے امریکی و برطانوی خصوصی چھاپہ مار دستے کی قیادت بھی کی تھی۔ فوجی ذرائع کے مطابق رحمان اللہ  2011 سے امریکی فوج کے ساتھ کام کر رہا تھا، جب اس کی عمر صرف 16 سال تھی۔ بعد میں وہ CIA سے منسلک ہوا اور 2021 تک اس سے وابستہ رہا۔ سی آئی اے میں بھرتی کے لیے سخت سیکیورٹی جانچ ہوتی ہے، جس کے تمام مراحل وہ مکمل کر چکا تھا۔

افغانستان سے امریکی انخلا کے وقت بہترین کارکردگی کے باعث وہ اُن افراد میں شامل تھا جنہیں “وفادار افغان” قرار دے کر ترجیحی بنیادوں پر نکالا گیااور قطرمیں اٖضافی جانچ پڑتال  کے بعد اسے امریکہ داخلے کی اجازت دی گئی۔صدر ٹرمپ بضد ہیں کہ یہ شخص بائیڈن کے دور میں داخل ہوا، مگر حقیقت یہ ہے کہ لکنوال کو مستقل پناہ گزینی کی سند (Permanent Asylum Status) خود ٹرمپ انتظامیہ نے اس سال اپریل میں جاری کی۔

واقعے کے بعد صدر ٹرمپ نے افغان ری سیٹلمنٹ پروگرام کے تمام درخواست گزاروں کے مستقل ویزے روک دیے۔ اگلے دن انہوں نے امریکی شعبۂ شہریت و امیگریشن (USCIS) کو ہدایت دی کہ بائیڈن دور میں گرین کارڈ حاصل کرنے والے 19 ممالک کے شہریوں کی ازسرِنو جانچ پڑتال کی جائے۔ ان ممالک میں افغانستان، ایران، صومالیہ، سوڈان اور یمن شامل ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth پر اعلان کیا کہ وہ تیسری دنیا کے ممالک سے امریکہ امیگریشن کو مستقل طور پر روک دیں گے۔

امریکہ میں بلااشتعال فائرنگ کوئی انوکھی بات نہیں۔ مذہبی مقامات، بازار، چوراہے حتیٰ کہ پرائمری اسکول بھی اس سے محفوظ نہیں۔ انتخابی مہم کے دوران خود صدر ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔ دو ماہ پہلے ان کے پرجوش حامی اور MAGA تحریک کے رہنما چارلی کرک ایک جلسے میں ہلاک کر دیے گئے، لیکن ان واقعات میں صدر نے حملہ آوروں کی قومیت پر سوال نہیں اٹھایا۔

موجودہ واقعے پر ان کے غیر معمولی ردِعمل کو نظریاتی و سیاسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔غیر ملکی تارکینِ وطن، خصوصاً مسلمان ممالک سے آنے والوں کے بارے میں صدر ٹرمپ کا موقف بہت سخت رہا ہے۔پہلی مدت کا حلف اٹھاتے ہی انہوں نے متعدد ممالک کے شہریوں کی امریکہ آمد پر پابندی لگادی تھی، اور اب یہ رویہ پہلے سے زیادہ شدت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

فائرنگ کا یہ سانحہ یقیناً ایک مجرمانہ عمل ہے جس کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ مگر اس ایک واقعے کی آڑ میں پوری دنیا کے شہریوں پر نئی قدغنیں لگانا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ اسے امریکی سیاست میں بڑھتی ہوئی تقسیم اور انتخابی بیانئے کا حصہ بھی سمجھا جا رہا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ اس دردناک واقعے کو اپنے سخت گیر امیگریشن ایجنڈے کو مزید آگے بڑھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ایک ایسا ایجنڈا جو امریکہ کی اصل روح، کثرتیت (Pluralism)، تنوع (Diversity) اور انصاف کے اصولوں کے بالکل برعکس ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 5 دسمبر 2025


No comments:

Post a Comment