غزہ و غرب اردن ۔۔ جنگ بندی یا سکستی
زندگی؟؟
غزہ کی تباہ حال سرزمین
پر اگرچہ جنگ کی آوازیں کچھ مدھم ہو گئی ہیں، مگر زندگی اب بھی معمول سے بہت دور
ہے۔ ملبے کے ڈھیر، بکھرے وجود اور اجڑی بستیاں اس "خاموش جنگ" کی گواہی
دے رہی ہیں جو وقفے وقفے سے نہیں بلکہ ہر لمحہ جاری ہے۔ ایک طرف جنگ بندی اور امن
کے نعرے ہیں، دوسری طرف ماؤں کی گود، بچوں کے چہرے، زیتون کے باغات اور شہروں کی
شناخت مٹائی جا رہی ہے۔ بڑے عالمی ادارے بھی اب اعتراف کر رہے ہیں کہ یہ کسی معمول
کی واپسی نہیں، بلکہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں موت کی رفتار کم ضرور ہوئی ہے، ختم
نہیں۔
غزہ میں لہو کی گنتی:
اعداد نہیں، اجسام اور کہانیاں
غزہ کی وزارتِ صحت کے
مطابق جاں بحق افراد کی تعداد 71 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ ایک لاکھ 72 ہزار
کے قریب شہری زخمی ہیں، جن میں عورتوں اور بچوں کا تناسب ساٹھ فیصد ہے۔ اس میں دو
معصوم بھائی، گیارہ سالہ سلالہ جمعہ اور آٹھ سالہ فادی بھی شامل ہیں، جنہیں اسرائیلی
فوج نے "جنگ بندی کی پیلی لائن عبور کرنے والے دہشت گرد" قرار دے کر
نشانہ بنایا۔ غزہ میں جاری درندگی بچوں کی ہنسی کو بھی اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔
جنگ بندی: کیا واقعی سب
کچھ ٹھیک ہوگیا؟
ایمنسٹی
انٹرنیشنل کی سربراہ ایگنیس کالامارڈ (Agnes Callamard) نے خبردار کیا ہے کہ
غزہ میں جنگ بندی کو ’’معمول کی واپسی‘‘ نہ سمجھا جائے۔ان کے مطابق حملوں میں کمی
ضرور آئی ہے اور کچھ امداد بھی پہنچ رہی ہے، لیکن عوام کی زندگی اب بھی غیر محفوظ،
غیر یقینی اور شدید انسانی بحران کے سائے میں ہے۔یہاں جنگ ختم نہیں ہوئی بلکہ صرف
انداز بدلا ہے۔ فوری موت کے بجائے ایک سسکتی زندگی، جس میں ہر لمحہ ایک نئی اذیت چھپی ہے۔
جہالت
نواز غارتگرد
چنگیز اور ہلاکو نے
مفتوحہ علاقوں کے مدارس اور کتب خانے جلائے تھے۔آج غزہ میں یہی تاریخ دہرائی جارہی
ہے۔جامعہ الاقصیٰ کا صرف مرکزی دروازہ باقی ہے؛ باقی علم کا پورا شہر راکھ بن چکا۔
غربِ اردن میں نئی لہر:
جنگی جرائم، اجتماعی سزا اور دنیا کا ہومیو پیتھک ررعمل
غربِ اردن میں بھی
درندگی کی نئی لہر ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم HRW کے مطابق اسرائیلی فوج نے وہاں
وحشت، اجتماعی سزا اور نسلی تطہیر (Ethnic Cleansing) کے اقدامات کیے ہیں جن پر مقدمہ چلایا جانا
چاہیے۔
گرفتاری surrender کے باوجود قتل اور قاتلوں کو
معقولیت کی تلقین
غربِ اردن
کے محصور شہر جنین
میں دو نہتے شہریوں نے گرفتاری کے وقت ہاتھ بلند کئے، لیکن چند فٹ کے فاصلے سے
گولی مار کر ان کے چیتھڑے اڑا دیے گئے۔جرمنی، اٹلی،
فرانس اور برطانیہ نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ایک مشترکہ بیان میں اسرائیل کو
عالمی قوانین پر عملدرآمد کی 'تلقین' کی ہے۔ شکستہ بے حسی کی ایک مکروہ مثال۔
اسکول تباہ، اساتذہ و
غیر تدریسی عملہ قتل
اسی علاقے میں دورانِ
کلاس طلبہ کو باہر نکال کر کر انکے سامنے اسکول مسمار اور بچوں کا تعلیمی مستقبل
راکھ کر دیا گیا۔مزاحمت پر اسکول کے چوکیدار کو گولی ماردی گئی۔
خلائل اللّوز—باداموں کا
شہر جلادیا گیا
بیت اللحم کے گاوں خلائل
اللّوز میں باغات جلائے گئے، گاڑیاں نذرِ آتش ہوئیں اور قبضہ گردوں نے فوج کی
نگرانی و سرپرستی میں دس سے زائد افراد کو
لاٹھیوں اور سریوں کے وار سے لہو لہان کردیا۔جیسا کہ نام سےظاہر ہے یہ گاوں
'باغاتِ بادام' کہلاتاہے۔
طوباس پر بلڈوزر پھیردئے گئے
مقبوضہ وادی اردن کے شہر طوباس میں اسرائیلی فوج نے بہت سے
مکانات مسمار کردئے ۔ گھر گھر چھاپوں کے دوران 100 افراد گرفتار۔ جب صورتحال کا
جائزہ لینے صحافی وہاں پہنچے تو مسلح سپاہیوں نے راستہ روک کر انکی مشکیں کس دیں۔
گھروں سے
بیدخلی ۔۔ گھر کی گواہی
اسرائیلی تنظیم B'Tselem (عبرانی בְּצֶלֶם) نے HRWکی اُس رپورٹ کی تصدیق کی ہے جسکے مطابق
اس سال جنین، نورشمس اور طولکرم کے 32ہزار فلسطینیوں کو انکے گھروں سے بیدخل کرکے
اردنی سرحد کی طرف دھکیل دیا گیااورمشرقی یروشلم میں فلسطینیوں کے 500 گھر مسمار ہوئے
۔(حوالہ: ٹائمز آف اسرائیل)
اسرائیلی بیانیہ ۔۔۔ ظلم کی نئی توجیہات، مذہبی
موشگافیاں
غرب
اردن میں نسلی تطہیر کی عالمی و اسرائیلی تنظیموں سے تصدیق کے باوجود اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاتس (Israel Katz)نے کنیسہ (پارلیمان) کی ایک
بند کمرہ بریفنگ میں کہا کہ قبضہ گردوں کے فلسطینیوں پر حملے “دہشت گردی نہیں بلکہ
صرف عوامی نظم میں خلل ہیں“۔یہ جملہ ظلم کو معمول کا رنگ دئے جانے والے
تاریخ کے سیاہ ترین بیانات میں شامل ہوچکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ طوفان الاقصیٰ کے بعد سے اب تک
غربِ اردن میں ایک ہزار سے زائد شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔ان میں اکثریت عام شہریوں
کی ہے، وہ لوگ جو نہ کسی فوج کا حصہ تھے
اور نہ اسلحہ لئےکسی جنگی محاذ پر کھڑے۔
جب اسرائیلی وزیرخارجہ کنیسہ
میں مظلوموں کے زخموں پر نمک چھڑک رہے تھے اسوقت عمارت کے باہر 'غربِ اردن ہمارا ہے کہ نعرہ لگاتے ہجوم کی قیادت کرنے والے انتہا پسند ربائیوں (مذہبی پیشوا) نے موقف اختیار
کیا کہ عبرانی انجیل (عہد نامہ قدیم یا Old Testament)کے مطابق یہودا السامریہ (غرب اردن کا قدیم نام) یہودیوں کا ہے۔جن
یورپی ممالک نے حال ہی میں فلسطین کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا ہے، وہ اس
جارحانہ اور اشتعال انگیز بیان پر خاموش ہیں۔اگر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا
واقعی اصولی مؤقف تھا، تو پھر اس مؤقف کی عملی گونج کہاں ہے؟کیا ہزار جانوں کا
خراج بھی “نظم و ضبط کا مسئلہ” ہے؟
سعودی ولی عہد کا ٹرمپ کو دوٹوک جواب: عرب عوام کے
بدلتے مزاج کی گواہی
ڈونلڈ
ٹرمپ نے واشنگٹن میں سعودی ولی عہد سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کا مطالبہ
کیا، مگر جواب ان کی توقع کے خلاف تھا۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے دوٹوک کہدیا کہ
غزہ میں جاری خونریزی نے عرب عوام کے دلوں میں شدید غصہ بھڑکا دیا ہے، اور ایسے
ماحول میں کوئی پیش رفت ممکن نہیں۔یہ سفارتی مکالمہ پورے خطے کے عوامی مزاج کا
اعلان ہے۔ وہ مزاج جس نے مطلق العنان حکمرانوں کو بھی محتاط کر دیا ہے۔
بڑے بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے
غزہ میں امریکی امدادی ادارے Global Hunger Foundationیا GHF نے پٹی سے اپنا آپریش ختم کردیا۔ بظاہر
اتنا خوبصورت نام لیکن غیر جانبدارا مبصرین کے خیال میں GHFکرائے کے قاتلوں کو ٹولہ تھا جس نے ”سیاسی کنٹرول“
کے ذریعے غزہ میں خوراک کی قلت پیدا کی، اور بعض علاقوں کو جان بوجھ کر امداد سے
محروم رکھا، جس کے نتیجے میں تین ہزار افراد بھوک سے مر گئے۔جن میں بچوں کا تناسب 80 فیصد سے زیادہ تھا۔ امید ہے کہ اب
UNRWA، WFP اور مقامی فلسطینی ادارے مل کر امداد کا منصفانہ اور
شفاف نظام قائم کر سکیں گے۔
لبنان، شام اور خطے میں بڑھتی کشیدگی
اسرائیلی
چھاپہ مار دستوں کی شامی شہر بیت جن میں کارروائیاں، جنوبی لبنان کے شہروں پر
بمباری، اور امریکی ترجمان کا اسرائیل کی حمائت میں دیا گیا بیان بتاتا ہے کہ خطہ
ایک وسیع تر محاذ کے کنارے کھڑا ہے۔ اس سب کے باوجود فلسطینی مزاحمت کمزور نہیں
پڑی۔
دنیا کے کھیل میدانوں میں مزاحمت کی گونج
اٹلی کے شہر بولونیا (Bologna)
میں باسکٹ بال میچ کے دوران ہزاروں افراد نے اسرائیلی ٹیم کے خلاف احتجاج کیا اور
شہر کے مشہور چوک Piazza
Maggiore کا نام تبدیل کر کے Piazza Gaza رکھ
دیا۔ دورِ جدید میں اسٹیڈیم، کورٹ اور ارینا صرف تفریح کی جگہ نہیں رہے
بلکہ عالمی ضمیر کے آئینہ خانے بن چکے ہیں۔ہر ٹورنامنٹ، ہر میدان، ہر ملک میں نسل
کُشوں کا پیچھا کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی سماج کے اندر خوف: غزہ کا نام بھی برداشت سے
باہر
اسرائیلی
تنظیم Standing
Together کی تقریب پر پولیس کا دھاوا اور ”غزہ سے
نکل جاؤ“ کے بینر کو زبردستی ہٹوانا، اس خوف کی علامت ہے جو غزہ میں جاری وحشت سے
خود اسرائیلی معاشرے میں پھیل چکا ہے۔ یہاں تک کہ جامعہ تل ابیب کی لیکچرر یولاندہ یاور (Yolanda Yavor)
کوصرف ایک
سوشل میڈیا پوسٹ پر گرفتار کرلیا گیا۔
غزہ کی مائیں: صبر اور عظمت کی چلتی ہوئی تاریخ
ہدیٰ
جرار جیسی مائیں وہ روشن مثالیں ہیں جن کے بیٹوں نے پُرعزم مسکراہٹ کے ساتھ موت کا
سامنا کیا۔ ہدیٰ اپنے بیٹے ابراہیم نابلسی کے جنازے میں وقار اور مضبوطی کی علامت
بن کر کھڑی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بیٹے نے آخری پیغام میں وصیت کی تھی کہ امی،
غم نہ کریں، مجھے ہمیشہ کی طرح مسکراتے ہوئے رخصت کیجئے گا۔
تیرہ سالہ لبنانی بچی
اصیل: انصاف کے حصول کیلئے پرعزم
اصیل
اپنے پورے خاندان کی تباہی کے بعد بچ جانے والی دو زندہ آوازوں میں سے ایک ہے۔ اس
نے اپنے جھلسے ہوئے چہرے کی تصویر دکھاتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ عالمی عدالت میں
مقدمہ دائر کرے گی۔یہ نسل در نسل چلنے والی مزاحمت کی وہ تازہ آواز ہے جو ظلم و
ستم کے باوجود ماند پڑتی نظر نہیں آتی۔
تباہی کے درمیان زندگی: غزہ کے ساحل پر ریت کا فن
غزہ
کے ساحل پر نوجوان فنکار یزید ابو جراد ریت پر خطاطی کرتے ہیں۔ جب وہ
"غزہ" لکھتے ہیں تو لوگوں کے کملائے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔
یہ فن محض شوق نہیں بلکہ اعلان ہے کہ بم، میزائل اور بھوک فلسطینیوں کو ہلاک نہیں
کر سکتے۔ یہاں زندگی اپنا راستہ خود بنا رہی ہے۔
غزہ
اور غربِ اردن کی یہ داستان ظلم کی روداد کیساتھ انسانی حوصلے اور ثابت قدمی کی
روشن شہادت ہے۔ فلسطین محض مقبوضہ خطہ نہیں، یہ ایک ابدی صدائے احتجاج ہے، وہ صدا
جسے صرف زندہ ضمیر ہی سن سکتے ہیں۔ بے حس دنیا نے خاموش رہنے کا فیصلہ کیا ہے،
لیکن ماؤں کی آنکھیں، بچوں کے چہرے، اور اصیل کی کانپتی آواز ایک نہ ایک دن پوری دنیا کو گواہی دینے پر
مجبور کر دے گی۔ یہی آوازیں تاریخ کا فیصلہ لکھیں گی۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 5 دسمبر 2025
ہفت روزہ دعوت دہلی 5 دسمبر 2025
ہفت روزہ رہبرسرینگر 7 دسمبر 2025

No comments:
Post a Comment