بے حسی، سنگدلی یا لاعلمی و بے خبری؟ اسرائیلی صحافی کا نقطہ نظر
غزہ میں برپا ظلم ساری
دنیا کے لیے سوہانِ روح بنا ہوا ہے۔ خون جما دینے والی سردی میں کھلے آسمان تلے
ماں کے سینے سے چمٹے بچوں کے پھول جیسے جسم منجمد ہوتے دیکھ کر جلاد صفت لوگ بھی
لرز اٹھتے ہیں۔ ایمبولینسوں پر بمباری سے مریضوں کا زندہ جل جانا، خیموں پر ڈرون
حملوں کے بعد شیر خوار بچوں کے راکھ بنے ننھے لاشے ایسے مناظر دیکھ کر تو پتھر دل
کی آنکھ بھی بھر آئے۔
لیکن حیرت
انگیز طور پر اسرائیلی معاشرے پر وحشت کی ان وارداتوں کا کوئی قابلِ ذکر اثر
دکھائی نہیں دیتا، حالانکہ چھ سات دہائیاں قبل یہی قوم ہولوکاسٹ جیسے ایک ہولناک
اور قابلِ مذمت انسانی سانحے سے گزر چکی ہے۔
اس حوالے سے معروف
اسرائیلی صحافی اور سماجی کارکن گرشون باسکن (Gershon Baskin) کے کئی چشم کشا تبصرے اور تجزیے
اسرائیلی اور فلسطینی ذرائع ابلاغ، خصوصاً الجزیرہ پر شائع ہو چکے ہیں۔ باسکن کے
مطابق، انتہا پسند اسرائیلی حکومت اور اس کے سفاک اتحادیوں نے نہایت مہارت سے
فلسطینیوں کو invisible یعنی غیر مرئی انسان بنا دیا ہے۔
یوں یہ تصور اسرائیلی معاشرتی لاشعور میں راسخ کر دیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے
سامنے کھڑے لوگ اگرچہ انسان نما ہیں، مگر انسان نہیں۔
جب ایک معاشرہ یہ ماننے
سے ہی انکار کر دے کہ سامنے والا بھی انسان ہے، یا یہ تسلیم کرنے سے گریز کرے کہ
کسی سرحد نام کی شے کا وجود ہے، تو وہاں اخلاقی احتساب خود بخود معطل ہو جاتا ہے۔
باسکن کے بقول، اسرائیلی معاشرے کی اکثریت نہ یہ جانتی ہے کہ سرحد کے اُس پار کیا
ہو رہا ہے، نہ جاننے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ سرحد ان کے نزدیک سرحد نہیں، بلکہ “بس
ہماری زمین” ہے۔ چنانچہ لاشیں گنتی میں نہیں آتیں، کیونکہ مرنے والے پہلے ہی ذہنی
طور پر “غائب” کر دیے گئے ہوتے ہیں۔
باسکن کا کہنا ہے کہ یہ
لاعلمی کسی اتفاق یا محض قوم پرستی کا شاخسانہ نہیں، بلکہ ایک منظم میڈیائی نظم و ضبط
کے ذریعے پیدا کی گئی ہے۔ اسرائیلی ناظرین کو غزہ کی تباہی براہِ راست دکھائی ہی
نہیں جاتی۔ ٹی وی اسکرینوں پر پرانے، گھسے پٹے سمعی و بصری تراشے مسلسل دہرائے
جاتے ہیں، جبکہ اصل اور تازہ مناظر سوشل میڈیا میں دفن رہتے ہیں، جہاں تک صرف وہی
پہنچتا ہے جو جان بوجھ کر سچ دیکھنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ اور جب ایک معاشرہ اجتماعی
طور پر “نہ دیکھنے” کا فیصلہ کر لے، تو اخلاقی احتساب لازماً معطل ہو جاتا ہے۔
میڈیائی نظم و ضبط کے
ساتھ “موقع” کا بروقت استعمال بھی اسرائیل کی ایک انتہائی کامیاب تزویراتی حکمتِ
عملی ہے۔ جس وقت دنیا کی نظریں غزہ کی تباہی پر مرکوز تھیں، عین اسی دوران غربِ
اردن کے بڑے حصے خاموشی سے کھنڈر بنا دیے گئے۔ بستیاں اجاڑی گئیں، گھروں کو مسمار
کیا گیا، سڑکیں اور کھیت برباد ہوئے، اور آبادیوں کو اجتماعی سزا کا نشانہ بنایا
گیا۔ مگر چونکہ کیمرے غزہ پر تھے، اس لیے یہ سب کچھ عالمی ضمیر کی اسکرین سے باہر
ہی رہا۔ یعنی 'جہاں توجہ ہو، وہاں شور؛ جہاں توجہ نہ ہو، وہاں تباہی۔ غربِ
اردن میں ہونے والی کارروائیاں اسی اصول کے تحت کی گئیں۔ نہ کسی بڑے اعلان کے
ساتھ، نہ کسی اخلاقی جواز کی حاجت محسوس کیے بغیر۔
اظہارِ رائے کی آزادی پر فخر کرنے والے مغرب کا غالب بیانیہ بھی اسی خودساختہ اندھے پن کا شاہکار ہے۔ فلسطینی مزاحمت کو “تشدد” اور “دہشت گردی” کا لیبل دے کر اس عدمِ انصاف کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جس نے نسل در نسل ایک پوری آبادی کو عملاً غیر موجود بنا دیا ہے۔ جب انسان دکھائی ہی نہ دے، تو اس کی چیخ بھی شور نہیں بنتی—اور پھر یہی چیخ جب کسی دھماکے میں ڈھل جائے، تو دنیا یکایک “دہشت گردی کے خاتمے” کے لیے پرعزم ہو جاتی ہے، مگر اس ناانصافی پر بات کرنے سے پھر کتراتی ہے جس نے اس ردِعمل کو جنم دیا۔
No comments:
Post a Comment