Sunday, February 9, 2020

فلسطنیوں کا معاشی قتل عام


فلسطینیوں کا معاشی قتل عام
دنیا میں آزاد چھت کے سب سے بڑے جیل خانے  غزہ میں محصور  لوگوں   کوبموں  اور گولیوں کا نشانہ بنانے کے بعد ایک منظم منصوبے کے ذریعے انکے منہہ سے غذا کا ایک ایک نوالہ چھینا جارہا ہے۔ گزشتہ برس موسم گرما کے دوران قطر نے غزہ کے کسانوں کو کھاد، بیج اور زرعی آلات کیلئے لاکھوں ڈالر کی امداد دی تھی۔اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فلسطینی  دہقانوں  نے بڑے رقبے پر سنگترے، کھجور، زیتون کاشت کی۔ وقت پر بارش اورموسم موافق ہونے کی بنا پر فصلیں بہت شاندار ہوئیں اور خیال تھا کہ کھجور و زیتون مقامی ضرورت سے تین گنا  زیادہ  ہوگی جسے لبنان اور اردن برآمد کردیا جائیگا۔
اسرائیل و مصر کی ناکہ بندی سے بلبلائے فلسطینی پر مسرت و پرامید نظروں سے  لہلہاتی فصلوں کو دیکھ رہے تھے کہ گزشتہ ہفتے اسرائیل نے بارش کا پانی ذخیرہ کرنے والے ڈیم  سے غزہ کی طرف جانے والی نہروں کے بند توڑدئے اور کھڑی فصلیں  پانی میں ڈوب گئیں۔ کسانوں نے مہینوں کی محنت زیرآب آتےے دیکھ کر کچے پکے پھل توڑ نے شروع کردئے تو ایک نیا حربہ استعمال ہوا۔ جدید ترین فوجی ہیلی کاپٹروں نے نباتات کش ادویات یا Herbicides  کا چھڑکاو شروع کردیا ۔ اسرائیلی حکومت کا موقف ہے کہ یہ چھڑکاوغزہ کے گرد  لگائی گئی باڑھ کے قریب اگ آنے  والی گھانس کو تلف کرنے کیلئے کیا جارہا ہے تاکہ اسرائیلی فوج غزہ پر نظر رکھ سکے لیکن عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ چھڑکاوباڑھ سے کافی اندر کھیتوں پر کیا گیا۔ اس کام کیلئے جو نباتات کش مواد استعمال ہوا وہ اتنا زہریلا تھا  کہ ڈوبتی فصل کاٹنے والے کسان بیہوش ہوگئے۔  انکی آنکھوں کے سامنے سات ماہ کی محنت اور جمع پونچی ڈوب گئی  جبکہ  بچ رہنے والے پودوں کو نباتات کش ادویات نے بھسم کردیا۔

Saturday, February 8, 2020

افغان سپاہی کی امریکی فوج پر فائرنگ


افغان سپاہی کی امریکی فوج پر فائرنگ
افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں طالبان کے خلاف  آپریشن کے دوران  ایک افغان  فوجی نے امریکی سپاہیوں پر فائرنگ کردی جس سے دو امریکی سپاہی ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے۔ امریکی فوج کے ترجمان  کرنل سومی لیگیٹ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ننگرہار کے علاقے  شرزاد میں ایک مشترکہ آپریشن کے دوران افغان فوجی کی وردی میں ملبوس ایک سپاہی نے امریکی فوجیوں پرگولی چلادی ۔ واقعہ کی تحقیق کی جاری ہے۔
 یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ  گولی چلانے والا  افغان فوجی تھا یا کوئی طالبان  افغان فوج کی جعلی وردی پہن  کر وہاں آگیا ۔ماضی میں ایسا  بھی ہوا ہے کہ طالبان سے نظریاتی ہمدردی رکھنے والے کسی افغان فوجی نے موقع ملنے پر ہاتھ دکھادیا۔اس علاقے میں داعش بھی سرگرم ہے لہذا اس واقعے میں داعش کے ملوث ہونے کو بھی خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا


Thursday, February 6, 2020

کرونا وائرس! بیرحمی حیوانات کا نتیجہ


کرونا وائرس! بیرحمی حیوانات کا نتیجہ  
چین میں پھوٹنے والی سانس کی  مہلک بیماری تادم تحریر قابومیں آتی نظر نہیں آرہی ۔ ملکی معیشت کو مکمل تباہی سے بچانے کیلئے چینی حکومت نے 3 فروری سے متاثرہ ووہّان  (ہ پر تشدید)  اور اس سے متصل دوسرے شہروں میں کاروبارِ زندگی کو معمول پر لانے کا اعلان کیا ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ ہنوز دلی دوراست یعنی اس وبا پر قابو میں ابھی وقت لگے گا۔ 3 فروری کو صرف ایک دن میں 56 افراد ہلاک ہوئے جسکے ساتھ اب تک مرنے والوں کی تعداد 305 ہوگئی ہے جن میں فلپائن میں مرنے والا ایک چینی شہری بھی شامل ہے۔ ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ یہ 44 سالہ  چینی سیاح  ووہّان سے یہ مرض لیکر  فلپائن آیا تھا۔
یہ بیماری کیا ہے اور یہ کس طرح اچانک پھوٹ پڑی اسکے پس نظر پر چند سطور:
گزشتہ سال کے اختتام پر وسطی چین کے صوبے خوبے (Hubei)کے دارالحکومت ووہّان میں کئی لوگوں کو گلے میں شدید تکلیف کے ساتھ تیز بخار کی شکائت ہوئی۔ مقامی ڈاکٹروں نے اسے نزلہ زکام سمجھ کر نظر اندار کردیا۔ 31سمبر کو اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت (WHO)نے شہر کے 41 افراد کے اس زکام کو ایک خاص طریقے کا نمونیا قراردیکر علاج شروع کیا لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔طبیعت میں بہتری تو دور کی بات  بہت سے مریض  بستر مرگ پر پہنچ گئے۔متاثرین کے لعاب، دہن ، بلغم اور خون کے تفصیلی تجزئے پر ان مریضوں کے خون میں ایک مخصوص جرثومے کی علامات پائی گئیں جسے2019-nCoVیا نویل کرونا واائرس کہتے ہیں۔ لفطِ کرونا کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ خوردبینی تجزئے کے دوران اس جرثومے کے جزئیات تاج (کراون) کی شکل میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس  مرض کے علاج کے لیے فی الحال کوئی دوا موجود نہیں۔ اگرچہ کہ آسٹریلیا اور تھائی لینڈ کے کچھ ماہرین نے کرونا وائرس شکن جرثومے یا ویکسین دریافت کرنے کا دعویٰ کیا لیکن WHOنے اس دعوے کو قبل ازوقت قراردیاہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ جرثومہ  فروری کے وسط تک اپنے طبعی جوبن پر پہنچے گا جسکے بعد ہی کوئی موثر ویکسین کی تیاری ممکن ہوگی۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق کرونا وائرس نزلہ، زکام،کھانسی اور سانس کی بیماریوں کا موجب بننے والے جرثوموں کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ جس میں سوائن فلو اور سارس جیسے جرثومے  بھی شامل ہیں۔ تاہم یہ جرثومہ اس سے پہلے انسانوں میں نہیں پایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسکے ساتھ  نویل یا نیا کا سابقہ استعمال کیا جارہا ہے۔  ایک امریکی  ڈاکٹر نے آسان الفاظ میں اس بیماری کو  بے قابو  ولاعلاج نمونیہ قراردیا جو موت کا سب بن سکتا ہے۔ سرکاری طور پر نویل کرونا وائرس کی تشخیص 7 جنوری کو ہوئی ہے یعنی  دشمن جان و ایمان جرثومے کی عمر اب ایک ماہ ہوچلی  ہے جبکہ  اسکی 'بلوغت' 15 فروری تک متوقع ہے۔
سوال یہ ہے کہ جانوروں خاص طور سے بلی چمگاڈر اور چوہوں کے خون میں  پائے جانے والے یہ جرثومے حضرت انسان کے جسم میں کیسے پہنچے؟ اسکے لئے ووہّان شہر کا ایک مختصر تعارف
سوا کروڑ آبادی والا ووہّان چاول و مچھلی کی سرزمین کہلاتا ہے۔ اسکا بڑا حصہ دیہی نوعیت کا ہے جہاں کپاس، چاول اور چائےکی کاشت ہوتی ہے۔ ووہّان میں نمک (راک سالٹ)، فاسفورس اور دوسری قیمتی معدنیات کی کانیں بھی ہیں جبکہ کوئلے کی سالانہ پیداوار 55 کروڑ ٹن کے قریب ہے۔ ووہّان کی شناخت عظیم الشان سہ گھاٹی ڈیم (Three Gorges Dam)ہے جس سے پھوٹنے والی نہروں نے سارے صوبے کو گل و گلزار بنا رکھا ہے۔ دنیا کے اس سب سے ڈیم سے 87 ارب کلوواٹ بجلی پیداہوتی ہے۔ ووہّان  سارے ملک کو جانے والی ریل گاڑیوں کا جنکشن ہے۔ اسی بنا پر اسے چین کا شکاگو کہا جاتا ہے کہ شکاگو امریکہ کے وسط مغرب کا مواصلاتی مرکز ہے۔زراعت و معدنیات کے علاوہ ووہّان صنعت اور ٹیکنالوجی کا مرکز بھی ہے۔ دنیا کی 200 سے زیادہ بڑی کمپینیوں نے یہاں اپنے کارخانے اور دفاتر قائم کررکھے ہیں جن میں ایپل، ایمزون، آئی بی ایم، جی ای اور دوسرے ادارے شامل ہیں۔ شہر کی مقامی معیشت کا حجم 224 ارب ڈالر سالانہ ہے۔
ووہّان کے جیانگٹن ضلع میٰں واقع ہونان مچھلی مارکیٹ سارے چین میں مشہور ہے۔۔50ہزار مربع میٹر پر مشتمل اس بازار میں مچھلیوں کے علاوہ دنیا کے ہر جانور کا گوشت فروخت ہوتا ہے جن میں عام چڑیا، چمگادڑ، کبوتر،مور، شتر مرغ، فیل مرغ، عقاب، گدھ سمیت دنیا بھر کے پرندے، افریقہ کا مشک بلاو (Civet)، بجو، نیولا، اودبلاو، بلی، کتے، مگرمچھ،بندر، گدھے، زیبرا، لومڑی، جنگلی سور، خرگوش، چوہے، شیر اور بھیڑئے کے چھوٹے بچے، ہرن  اور سانپ شامل ہیں۔ اسکے علاوہ یہاں زندہ  چوہے، بچھو، لال بیگ، چھپکلیاں سمیت دوسرے حشرات الارض بھی فروخت ہوتے ہیں۔
مارکیٹ میں کچھ ریستوران بھی ہیں جہاں زندہ جانوروں کو صارفین کے سامنے تکہ بوٹی کرکے ہانڈی پر چڑھایا جاتا ہے۔ ہم نے جان کر تکہ بوٹی کہا کہ یہاں ذبح کرنے کا تصور نہیں۔ مثلاً سرکو  ہتھوڑوں سے توڑ کر گدھے کوہلاک کیا جاتا ہے۔ کھولتے پانی میں غوطہ دیکر بلی کی کھال اتارنے کے بعد سیخ چڑھاکر اسے بھونا جاتا ہے۔کتوں کو بورے میں بند کرکے ڈنڈوں کی ضرب سے ہلاک اوربندر کا سر توڑ کر براہ راست کاسہ سر سے اسکے دماغ کا سوپ پیا جاتا ہے جبکہ زنجیر سے بندھے زندہ بھیڑیے کو ویلڈنگ ٹارچ سے جلاکر اسےبار بی کیو کیا جاتاہے۔ اس انسانیت سوز طباخی کے پیچھے یہ فلسفہ کارفرما ہے کہ خوف و دہشت کی وجہ سے جانور کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ خون رگوں میں اتر آنے کی وجہ سے گوشت نرم اور لذیز ہوجاتا ہے۔
اس بازار کے بارے میں دنیا بھر کے ماہرین صحت ایک عرصے سےتحٖفظات کا اظہار کرتے آئے ہیں۔ یہاں قصائیوں کے تھڑے ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔ زندہ و مردہ جانور ساتھ ساتھ ہیں بلکہ زندہ جانور ذبح کئے جانیوالے جانوروں کا خون چاٹتے بھی نظر آتے ہیں۔ مردہ جانروں کی اؒلائیشیں بکھری ہونے کی بنا پر مارکٰیٹ سے اٹھنے والا تعفن میلوں دور سے محسوس ہوتا ہے۔
چینی باورچی پاکستانیوں کے طرح ہانڈیوں کو بہت زیادہ پکانے کے قائل نہیں بلکہ گرم توے پر بوٹیوں کو الٹ پلٹ کر اتارلیا جاتا ہے۔چمگاڈر کے سوپ کے ساتھ لوگ چھوٹے چھوٹے چوہے کانٹے گھونپ کر زندہ منہہ میں ڈال لیتے ہیں۔طبی ماہرین کاخیال ہے کہ اس ظالمانہ شوقِ کام و دہن میں چمگاڈر کے سوپ، ابلی بلی  یا زندہ چوہوں سے کرونا وائرس کسی انسان کو منتقل ہوا جس نے اسے باقی لوگوں تک پہنچادیا۔ چینی وزارت صحت نے مفروضے کو یکسر مسترد کردیا ہے لیکن گزشتہ ہفتے اس بازار کو مقفل کرکے وہاں موجود تمام جانور اور حیاتیاتی مواد تلف کرنے کے بعد جراثیم کش دواوں کا چھڑکاو کیا گیا۔ آٹھ برس پہلے مشرقِ وسطی میں بھی کرونا وائرس کی ایک قسم نے وبائی شکل اختیار کر لی تھی۔ جس سے 858 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ماہرین کا خیال ہے کہ وہاں اونٹ سے یہ جرثومہ انسان میں منتقل ہوا تھا۔
چینی حکومت نے  وائرس سے متاثرہن کے علاج معالجے کیلئے انتہائی موثر اقدامات کئے ہیں۔ 1000 بستروں کے دواسپتال صرف 10 دن میں  تعمیر کرلئے گئے جہاں چینی فوج کے میٖڈیکل کور کو تعینات کیا گیا ہے۔ دوسری طرف مرض کا پھیلاو روکنے کیلئے ووہّان شہر بالکل بند ہے۔ نہ تو دوسرے شہر سے کسی شخص کو ووہّان آنے کی اجازت ہے اور نہ  یہاں سے کوئی فردباہر جاسکتا ہے۔ ووہّان میں پھنسے غیر ملکی بھی وزارت صحت کے خصوصی حکمنامے پر ہی باہر جاسکتے ہیں۔ یہاں 500 کے قریب پاکستانی طلبہ زیر تعلیم ہیں اور اخباری اطلاعات کے مطابق 4 پاکستانی نوجوان مبینہ طور پر اس مرض میں مبتلا ہیں۔
صدائے امریکہ (VOA)کے مطابق ووہّان ایک آسیب زدہ شہر بناہوا ہے جہاں کاروباری مراکز، دفاتر، ریل ، بس، ٹیکسی سروس اور نجی گاڑیوں کو سڑکوں پر آنے کی اجازت نہیں اور فوجیوں کے علاوہ بہت کم لوگ باہر  نظر آتے ہیں۔ لوگ صرف  میڈیکل اسٹور جانے یا اشیائے خوردونوش خریدنے کیلئے گھر سے نکلتے ہیں۔  ساری تگ و دونزلہ، زکام کھانسی کی دوا، چہرے کے ماسک اور جراثیم کش ادویات کی تلاش میٓں ہے جسکی شہر شدید قلت ہوگئی ہے۔ لوگوں نے گوشت کے ساتھ کچی سبزیوں  سے بھی  مکمل پرہیز کرلیا ہے اور اب گززاہ چاول و نوڈلز پر ہورہا ہے۔
اس بحران سے چین کی معیشت متاثر ہوگی جسکے اثرات بازارِحصص میں مندی سے ظاہر ہورہے ہیں۔ چینی بازار حصص میں 3 فروری تک سرمایہ کاروں کے 390 ارب ڈالر ڈوب چکے ہیں۔ اتفاق سے یہ چین میں نئے قمری سال کا آغاز بھی ہے جب تقریبات میں شرکت کیلئے ساری دنیا سے سیاح چین آتے ہیں۔  لیکن اس بار سیاحوں کی آمد 29 فیصد کم رہی۔ معاملہ صرف غیر ملکی سیاحوں تک محدود نہیں بلکہ چینیوں نے خود بھی اپنی نقل و حرکت ضروری کاموں تک محدود کردی ہے۔ ایک جائزے کے مطابق ریل کے سفر میں 42 فیصد اور سڑک پر ٹریفک 25 فیصد کم ہوگیا ہے۔
لوگ ماسک اور جراثیم کش ادویات خرید رہے ہیں۔ بے تحاشہ خریداری کی بنا پر چین میں دواوں اور طبی سامان کی قلت ہوتی نظر آرہی ہے۔ ضروری طبی سامان کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کیلئے حکومت نے رزتلافی (subsidy)کی مد میں اب تک ڈیڑھ ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کئے ہیں اور خیال ہے کہ اس باب  میں سرکار کا خرچہ 4 ارب ڈالر سے تجاوز کرجائیگا۔ امریکہ سے تجارتی جنگ کی وجہ سے چینی معیشت پہلے ہی شدید دباو میں تھی اور اس ناگہانی آفت نے معاملے کو مزید سنگین کردیا ہے۔اقتصادیات کے علما کا خیال تھا کہ 2020 میں چینی معیشت کی شرح نمو 5.9 فیصد رہیگی لیکن اب سیانوں کا خیال ہے کہ اقتصادی حجم میں بڑھوتری 5.8 فیصدیا اس سے کم ہوگی۔
چین کے زیرانتظام خود مختار ریاست مکاو Macau بھی ویران ہے۔ مکاو کی وجہ شہرت اسکے میکدے، عریاں رقص گاہیں اور جواخانے ہیں۔کمیونسٹ ریاست میں جوا اور قحبہ گردی سنگین جرم ہے جسکے سزا موت ہے۔چنانچہ چین میں ان افعال قبیح کی سختی سے ممانعت ہے لیکن بیجنگ کے حکمرانوں نے ریاست کی  اضافی آمدنی اور شوقین چینیوں کی تفریح کیلئے مکاو میں ان قباحتوں کا اہتمام کردیا ہے یعنی رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی۔ ۔یہاں آنے والے 90 فیصد سے زیادہ سیاح چینی  ہیں۔ کرونا وائرس کی آفت نازل ہونے کے بعد مکاو آنے والےسیاحوں کی تعداد 69 فیصد رہ گئی ہے۔
اس نامراد وائرس سے چیینوں پر جو قیامت گزر رہی ہے وہ  اپنی جگہ لیکن اسکے ساری دنیا خاص طور سے پاکستان اور ایشیائی ممالک پربھی  منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ کارخانوں کی بندش اور نقل و حمل محدود ہونے کی بنا پر چین میں تیل کی درآمد 5 لاکھ بیرل یومیہ کم ہوگئی ہے جس سے سعودی عرب بری طرح متاثر  ہے کہ چین سعودی تیل کا سب بڑا خریدار ہے۔ قیمتوں  میں استحکام کیلئے خلیجی ممالک نے پیدوار میں 8 لاکھ بیرل روزانہ کٹوتی کا اعلان کیا ہے لیکن قیمتوں کا زوال جاری رہا اور 3 فروری کو تیل 50 ڈالر بیرل سے بھی سستا ہو گیا۔
ایپل (Apple) نے چین میں اپنی تمام دکانیں بند کردی ہیں۔ چین میں انتہائی مقبول اسٹاربکس کافی، مک ڈٖانلڈ، برگر کنگ اور پیزاہٹ کے ریستورانوں پر بھی تالے پڑے ہیں۔امریکہ و یورپ کے فیشن ایبل ڈپارٹمنٹل اسٹور ہوں یا کراچی و لاہور کے اتوار و جمعہ بازار ہر جگہ چینی مصنوعات کی مانگ ہے جنکی ترسیل پر چینی حکومت نے  پابندی لگادی ہے۔ اگر یہ سلسلہ دیر تک جاری رہا تو یہ سارے بازار بھی ویران ہوجائینگے۔ بدقسمتی سے چین سے آنے والے ارزاں جوتوں، کپڑوں، کھلونوں اور عام استعمال کی اشیاکا کوئی متبادل نہیں۔ جائےنماز، ٹوپی، تسبیح، ثوب و عرب چغے بھی چین سے ہی آتے ہیں گویاچینی معیشت غیر مستحکم ہونے سے کراچی کی زیب النسا اسٹریٹ سے وال اسٹریٹ (نیویارک کا بازارحصص) تک ہر منڈی متاثر ہوگی۔
ماہرین اس مہلک وائرس کے پھوٹ پڑنے کی جو وجہ بیان کرتے ہیں اسکی تفصیل اوپر موجود ہے لیکن نظریہ سازش پر یقین رکھنے والے کہہ رہے کہ یہ آفت آئی نہیں بلکہ لائی گئی ہے۔ یعنی فش مارکیٹ میں پھیلے خون، گندگی اور مضرصحت ماحول کی وجہ سے بیماری کے جراثیم پہلے سے  موجود تھے جسے غیر مرئی حیاتیاتی ہتھکنڈوں سے انسانوں تک سرائت کرنا آسان کردیا گیا۔ یہ شرارت ناممکن تو نہیں لیکن بلاثبوت و شواہد کچھ کہنا اخلاقی اعتبار سے انتہائی غلط اور صحافتی معیار سے قبل از وقت ہے۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل 7 فروری

2020

Saturday, February 1, 2020

امریکی سیاہ فاموں کی روشن تاریخ


امریکی سیاہ فاموں کی روشن تاریخ
فروری کا مہینہ امریکہ اور یورپ کے کئی ممالک میں Black History Monthکے طور پر منایا جاتا ہے۔ امریکی مسلمانوں کیلئے سیاہ فام امریکیوں کی تاریخ دراصل شمالی امریکہ کی اسلامی تاریخ ہے۔ امریکہ میں افریقیوں کی آمد کا آغاز1619 میں ہوا جب افریقہ کے ساحلوں سے لاکھوں کی تعداد میں افریقیوں کو پکڑ کر یہاں لایا گیا۔ بعض مورخین کا کہنا ہے کہ سیاہ فام غلاموں کی امریکہ آمد کا سلسلہ 1555میں شروع ہوا جب سیرالیون سے پکڑے ہوئے غلام امریکہ میں فروخت کئے گئے۔ افریقہ کے ساحلوں سے پکڑے ہوئے غلام 'گلوں' کی صورت میں پہلے ہالینڈ کی بندرگاہوں پر پہنچائے جاتے جہاں سے بحر اوقیانوس کے راستے انھیں امریکہ لایا جاتا تھا۔ اسی بنا پریہ گھناونا کاروبار Atlantic Slave Tradeکہلاتا تھا۔ افریقہ سے براہ راست امریکہ آنے والا غلاموں سے لدا پہلا جہاز 1619 میں ورجنیا میں لنگر انداز ہوا۔ اسکے بعد سے 'افریقیوں کا شکار' ایک قومی کھیل بن گیا۔ غلاموں کی تجارت اور ہلاکوو تیمور جیسے غارتگروں کے ہاتھوں مفتوحہ آبادیوں کو غلام بنانے کی مثالیں موجود ہیں مگر یہاں طریقہ وارادت بالکل ہی انوکھی تھی کہ جہاز ساحل پر لنگرانداز ہوتے اور نہتی بستیوں کو منہہ اندھیرے گھیرکر عورتوں بچوں سمیت سارےلوگ ہانک کر جہاز پر لاد دئے جاتے۔ دوران سفر مردوں اور عورتوں کو علیحدہ کرکے یہ  قزاق کمسن بچیاں آپس میں تقسیم کرلیتے اور پھر انکے  درمیان'کثرت اولاد' کا مقابلہ ہوتا تاکہ غلاموں کی نئی کھیپ حاصل کی جائے۔  
1898 تک ایک کروڑ افریقی غلام بناکر امر یکہ لائے گئے۔ سفر کے دوران تشدد، بیماری اور دم گھٹنے سے 20لاکھ سے زیادہ غلام ہلاک ہوگئے جبکہ 'گڑبڑ' کرنے والے بہت سے سرکش غلاموں کو انکے پیروں میں وزن باندھ کر سمندر میں پھینک دیا گیا۔ زیادہ تر غلام بحر احمر اور افریقہ کے مغربی اور وسطی ساحلوں سے پکڑے گئے۔ ان غلاموں کی نصف تعداد نائیجیریا کے علاقے بیافرا، گبون اور سیرالیون کے باشندوں پر مشتمل تھی۔اسکے علاوہ سینیگال، لائیبیریا، کانگو اور گھانا کے لوگ بھی پکڑے گئے۔ بحراحمر سے آنے والے قزاقوں نے سوڈانیوں اور حبشیوں کا شکار کیا۔ عمدہ خدوخال کی بنا پر حبشی بچیاں ان اوباشوں کو بہت محبوب تھیں۔
پکڑے جانے والے افریقی غلاموں کی ایک تہائی تعداد مسلمانوں پر مشتمل تھی تاہم شمالی امریکہ میں اسلام کولمبس کے آنے سے پہلے ہی پہنچ چکا تھا اور قدیم انڈین قبائل میں بھی مسلمان موجود تھے۔
ان غلاموں کی فروخت کیلئے ورجنیا، شمالی کیرولینا۔ جنوبی کیرولینا اور جارجیا میں غلاموں کی منڈیاں قائم کی گئیں۔ اسوقت امریکہ بحراوقیانوس کے ساحل پر واقع ان 13 کالونیوں پر مشتمل تھا جنھوں نےبرطانیہ سے آزادی کا اعلان کردیا تھا۔ 1776 میں انھیں 13 کالونیوں نے ریاستوں کی شکل اختیار کرکے ریاست ہائے متحدہ امریکہ یا USAکی شکل اختیار کرلی ۔امریکہ کے پرچم پر  13 سرخ و سفید پٹیاں انھیں ابتدائی ریاستوں کو ظاہر کرتی ہیں۔1625 میں ان کالونیوں کی مجموعی آبادی 1980 نفوس پر مشتمل تھی جبکہ 1660 تک غلاموں کی تعداد 2000 سے زیادہ ہوگئی یعنی عددی اعتبار سے غلام مالکوں سے زیادہ تھے جنھیں قابو میں رکھنے کیلئے بدترین ہتھکنڈے اور ظلم کے ضابطے وضع کئے گئے۔ سرکشی کی فوری سزا پھانسی تھی اور یہ سزا اس شدت و کثرت سے دی جاتی تھی کہ پھندے کی تیاری کیلئے رسی کی فروخت ایک نفع بخش کاروبار بن گیا۔ جلادی کا کام 'مجرم' کے خونی رشتے دار سے لیا جاتا تھا یعنی بھائی اپنے بھائی کو یا باپ اپنے بیٹے کو پھندہ لگاتا۔ اس دور میں get the ropeیعنی (پھانسی کیلئے) رسی لاو دھمکی کا استعارہ تھا جو اب بھی یہاں ضرب المثل ہے۔ پھانسی کے علاوہ بورے میں بند کرکے ڈنڈوں کی ضربات سے  مارڈالنا، خنجر بھونک کر ہلاک کرنا،  زندہ جلانا، غلامو ں کوتیزاب کے ڈرم میں ڈال دینا اور پیروں میں وزن باندھ کر دریابرد کردینا بھی اس دور کی عام سزا تھی۔ بس یوں سمجھئے کہ افریقہ سے پکڑکر امریکہ لائے جانیوالے غلاموں پر جو مظالم توڑے گئے اسکا ذکر کرتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
پکڑے جانیوالے مسلمانوں نے امریکہ اترتے ہی دعوت و تبلیغ کا آغازکردیا۔ ان غلاموں کی اکثریت نسبتاً تعلیمیافتہ تھی چنانچہ 1898 میں 'کوکب امریکہ' کے نام سے ایک عربی اخبار کا اجرا ہوا۔ کوکب کو امریکہ کا ایک قدیم اخبار ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہاں کاقدیم ترین اخبار غالباً نیویارک ٹائمز ہے جسکی اشاعت کا آغاز 1851 میں ہوا۔ 1907میں پولینڈ، روس اور مشرقی یورپ سے تاتاروں کی آمد شروع ہوئی جنکے آنے سے سیاہ فام لوگوں کو تقویت ملی اور امریکن محمڈن سوسائیٹی کا قیام عمل میں آیاجو امریکی مسلمانوں کی پہلی انجمن تھی۔
امریکہ کی سیاہ فام آبادی نے بلاامتیاز مذہب نئے آنے والوں کا کھلی بانہوں سے استقبال کیا۔ تارکین وطن کی اکثریت انجنیروں اور کاریگروں پر مشتمل تھی چنانچہ مقامی مسلمانوں کے مشورے پر ان لوگوں کی بڑی تعداد نے مشیگن کے شہر ڈیٹرائٹ کا رخ کیا جہاں اسوقت کار کی صنعت اپنے عروج پر تھی۔ ڈیٹرائٹ کی آبادکاری میں مسلم تارکین وطن کا بہت بڑا حصہ ہے۔1934 میں ایک عرب نژاد سیاہ فام مسلمان والس فرد محمد نے Lost-Found  Nation of Islamکی بنیاد رکھی جو بعد میں نیشن آف اسلام بن گئی۔ جنگ عظیم دوم کے آغاز پر لازمی لام بندی کا حکم جاری ہوا جسکی نیشن آف اسلام نے مخالفت کی۔ انکا موقف تھا کہ اسلام نسل، قومیت اور رنگ کی بنیاد پر جنگ کو فساد قراردیتا ہے لہٰذا مسلمان اس جنگ کا حصہ نہیں بن سکتے۔ اس فیصلے سے کشیدگی کا آغاز ہوا اور نیشن آف اسلام کے سربراہ عالیجاہ محمد ساتھیوں سمیت گرفتار کرلئے گئے۔
 1950 میں مالکم ایکس  (الحاج ملک الشہباز) کی نیشن آف اسلام میں شمولیت اور اسکے ساتھ شہری آزادیوں کی ملک گیر تحریک امریکی تاریخ کا ایک انقلابی موڑ ثابت ہوئی۔ نیشن آف اسلام اور ساوتھ کرسچین لیڈر شپ کانفرنس SCLCکے مشترکہ محاذ نے سارے امریکہ کے جمہویت پسندوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کردیا۔ مالکم ایکس اور ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ شہری آزادیوں، برابری کے حقوق، انصاف اور آزادی کی علامت  بن گئے اور جلد ہی سیاہ فام، خواتین اور دوسری لسانی و ثقافتی اقلیتوں کو ووٹ کا حق مل گیا۔ اسکولوں، کالجوں، پارکوں اور تفریح گاہوں کی سیاہ و سفید بنیادوں پر تقسیم ختم ہوگئی اور امریکہ حقیقی معنوں میں ONE NATION UNDER GODقرار پایا۔ سیاہ فام امریکیوں کی جدوجہد سے 1965 میں امیگریشن اور قومیت ایکٹ یا Immigration and Nationality Actمنظور ہوا جس کے تحت یوروپی ممالک کے ساتھ ساری دنیا کے لوگوں کیلئے امریکہ کے دروازے کھولدئے گئے۔اس سے پہلے امیگریشن (گرین کارڈ) کیلئے یورپی باشندوں کو ترجیح دی جاتی تھی۔ 
سیاہ فام تاریخ امریکہ کا فخروافتخار ہے یہ دراصل امریکہ کی اسلامی تاریخ ہے کہ جسکا ہر پہلو باوقار اور بے مثال جدوجہد کا مظہر ہے۔ جہموریت، غلامی کے خاتمے، آزادی، یکساں حقوق، اور سماجی انصاف کیلئے افریقی نژاد امریکیوں کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ نوبل ڈریو علی، والس فردمحمد، عالیجاہ محمد، مالکم ایکس، ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ، محمد علی کلے وغیرہ اس قافلہ سخت جان کے وہ پھول ہیں جنکی یاد سےشاہراہ آزادی  اب تک معطر  ہے۔ امریکہ کے انصاف پسند سفید فام بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ امریکہ کی ثروت و طاقت، جاہ و جلال اور ترقی و خوشحالی سب کی سب غلاموں، افریقی نژاد امریکیوں اور تارکینِ وطن کی محنت کا نتیجہ ہے۔
افریقی نژادامریکیوں کو خراج تحسین اپنی طرف لیکن امریکہ میں سیاہ فام لوگوں کے ساتھ جو سلوک ہوا اسکا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ ان مظالم کو تاریخ کے صفحات پر جگہ نہیں دی گئی اور امریکی بچوں کے نصاب میں اسکا کوئی ذکر نہیں۔1989میں  ایک امریکی رکن کانگریس جان کانیرز John Conyersنے افریقی امریکیوں کیلئے تلافی کمیشن ایکٹ یاCommission to Study Reparation Proposals for African-Americans Actکے عنوان سے ایک مسودہ قانون ایوان زیریں سے پیش کیا تھا۔ بل کے ابتدائئے میں اسکا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ 1619 سے 1865 کے دوران 13 امریکی ریاستوں (ابتدائی اکائیاں جنھوں نے USAی بنیاد رکھی) میں سیاہ فام لوگوں کو غلام بناکر رکھا گیا، ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے اور یہ پوری نسل بدترین ناانصافی کاشکار ہوئی۔ ان جرائم کی تحقیق کیلئے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیشن ترتیب دینے کی ضرورت ہے جو غلام بناکر امریکہ لائے جانیوالے افریقیوں کے نقصانات کا اندازہ لگائے۔ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ آزاد انسانوں کی نفسیات پر غلامی کی ذلت نے کیا منفی اثر ڈالا ہے؟ غلامی ختم ہونے کے بعد بھی سیاہ فام بدترین نسلی تعصب اور حقارت کا نشانہ بنائے گئے جسکے اثرات اج تک نمایاں ہیں۔ یہ کمیشن ناانصافیوں اور سیاہ فام لوگوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک کا غیرجانبدارانہ جائزہ لے اور اسکی تلاقی کیئے اقدامات تجویز کرے۔ بل میں کہا گیا ہے کہ افریقیوں کو غلام بنانے کے ذمہ دار صرف وہ قزاق نہیں جنھوں نے افریقیوں کو انکے گھروں سے پکڑا بلکہ ملک میں قائم غلام منڈیوں کو امریکی حکومت کا تحٖفظ حاصل تھا اور غلاموں کی خرید و فروخت کے بعد انکا انتقالِ ملکیت سرکاری دستاویز پر ہوتا تھا چنانچہ اس بدترین ظلم کی ذمہ داری براہ راست امریکی کانگریس اور حکومت پر  عائد ہوتی ہے۔
مسٹر کونئرز کی قرارداد کو سپیکر نے منظور کرکے اسے بل کی شکل میں HR-40کی حیثیت سے درج کرلیا۔ اسوقت سے یہ بل مجلس قائمہ برائے انصاف کی سماجی انصاف ذیلی کمیٹی کے پاس ہے لیکن  اسے سماعت کیلئے پیش نہیں کیا گیا بحث اور رائے شماری تو دور کی بات ہے۔ہر دوسال بعدبار یہ قراداد کانگریس کی مدت ختم ہوجانے پر غیر موثر ہوجاتی ہےْ تاہم جناب کانئیرز بھی بہت مستقل مزاجی کے ساتھ اسے ہر نئی کانگریس میں اسے پیش کرتے  رہے۔ ایک جنسی اسکینڈل میں ملوث ہونے کی بنا پرموصوف کو 2017 میں کانگریس سے مستعفی ہونا پڑا۔ 30 سال گزرجانے کے بعد بھی یہ ذیلی کمیٹی ہی کے پاس ہے اور اسے بحث کیلئے پیش نہیں کیا گیا۔