Friday, December 17, 2021

عالمی سربراہی کانفرنس برائے جمہوریت

عالمی سربراہی کانفرنس برائے جمہوریت

امریکی صدر جوبائیڈن کی طلب کردہ دو روزہ “Summit for Democracy” یا سربراہی کانفرنس برائے جمہوریت، 10 دسمبر کو ختم ہوگئی۔کرونا وبا کی بناپر یہ بیٹھک سمعی و بصری رابطے یعنی مجازی یا virtualہوئی، چنانچہ اسے 'ورچُول سمٹ' کہا جارہا ہے۔

اس اجلاس کیلئے 110 سے زیادہ ملکوں کو دعوت دی گئی تھی۔ منتظمین کے مطابق کانفرنس کا مقصد چونکہ  جمہوریت کے استحکام اور اسے مزید فروغ دینے کیلئے سوچ بچار کرنا  تھا اسلئے صرف انھیں ممالک کو مدعو کیا گیا جنکا جمہوریت کیلئے عزم شک و شبہات سے بالاتر ہے۔ اس بنا پر چین، روس، بنگلہ دیش، سنگاپور، سری لنکا، ویتنام، تھائی لینڈ اور برونائی کو دعوت نامے نہیں بھیجے گئے۔امریکہ کے روایتی مخالف، ایران ، شمالی کوریا، کیوبا اور وینزوییلا کے ساتھ نیٹو (NATO) اتحادی ترکی اور ہنگری بھی مدوعین کی فہرست میں شامل نہیں تھے۔ مشرق وسطیٰ سے صرف اسرائیل اور عراق کو دعوت د گئی جبکہ امریکہ کے قریب ترین اتحادی سعودی عرب، بحرین، کوئت، قطر اور متحدہ عرب امارات کو اجلاس سے دور رکھا گیا۔ وسط ایشیا کے کسی ملک کو مدعو نہیں کیا گیا۔ امریکہ کے قریب ترین دوست جنرل السیسی بھی دعوت نامے سے محروم رہے اور ایسا ہی حال امریکہ کے نئے دوستوں یعنی مراکش کے شاہ محمد پنجم اور تیونس کے جناب قیس سعید کا ہوا۔ الجزائر اور لیبیا بھی نہیں بلائے گئے، گویا سارا شمالی افریقہ اجلاس سے باہر تھا۔ جنوبی ایشیا سے  بھارت، پاکستان، مالدیپ اور نیپال کو دعوت نامے ارسال کئے گئے۔

امریکی وزارت خارجہ نے 'عزمِ جمہوریت' کے عنوان سے شرکت کی جو کسوٹی وضع کی تھی اسکی وضاحت نہیں کی گئی لیکن  مدعو نہ کئے جانیوالے بعض ممالک کے بارے میں  جو وجوہات سامنے آئی ہیں، وہ کچھ اسطرح ہیں:

روس اور چین کا سیاسی نظام مغرب کے مروجہ جمہوری طرزِ حکومت نظام سے مطابقت نہیں رکھتا اسلئے ان دو نوں کیساتھ کمیونسٹ فلسفے پر یقین رکھنے والے کیوبا اور بلارُس کو بھی نہیں بلایا گیا۔ تائیوان کو دعوت دی گئی لیکن دعوت نامے پر اسکے سرکاری نام یعنی ریپبلک آف چائینا کے بجائے تائیوان لکھا گیا۔ یہ بیجنگ کی چینِ واحد (One China)پالیسی کے احترام کی ایک کوشش تھی۔ ' انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو'۔

ترکی کو صدر ایردوان کے 'آمرانہ روئیے' کی بنا پر دعوت نامے سے محروم رکھا گیا۔ ترک صدر سے انکے فرانسیسی ہم منصب، سابق اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اور جو بائیڈن کی نفرت انگیز مخاصمت خاصی پرانی ہے۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران امریکی صدر صاف صاف کہہ چکے ہیں کہ ترکی میں تبدیلیِ قیادت (Regime Change)انکی دیرینہ خواہش ہے۔ اس پر واشنگٹن کے ایک ترک سفارتکار نے غیر سرکاری گفتگو کے دوران بڑا عمدہ تبصرہ کیا۔ انکا کہنا تھا کہ جمہوریت کیلئے ترکی کے عزم پر وہ لوگ شک کا اظہار کررہے ہیں جہاں 2020 کےانتخابات میں ووٹ ڈالنے کا تناسب 66 فیصد تھا،جبکہ 2018 کے عام انتخابات میں  86.2ترکوں نے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

بنگلہ دیش کو مدعو نہ کئے جانے کی وجہ غالباً یہ تھی کہ 2018 میں انتخابات کے مشاہدے کیلئے جانیوالے مغربی دنیا کے تقریباً تمام مبصرین (poll watchers)نے نتائج پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا اور سوائےبرطانوی مانیٹروں کے سب نے بدترین دھاندلی کی شکائت کی تھی۔ مبصرین کا کہنا تھا کہ حسینہ واجد کی عوامی لیگ اور انکی اتحادی جاتیو پارٹی کے علاوہ کسی بھی جماعت اور آزاد امیدواروں کو انتخابی مہم  چلانے کی آزادی نہیں تھی۔ جماعت اسلامی خلاف قانون قراردیدی گئی اور حزب اختلاف کی رہنما خالدہ ضیا جیل میں تھیں۔ووٹنگ  والے دن  پولنگ اسٹیشنوں سے حزب اختلاف کے ایجنٹوں کو نکال دیا گیا۔

سری لنکا پر مسلم، مسیحی اور دوسری اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کا الزام ہے۔کرونا کے مرض میں جاں بحق ہونے والے  مسلمانوں کی لاشوں کو مذہبی روائت کے مطابق تدفین کے بجائے نذرِ آتش کیا گیا۔ حکومت کا موقف تھا کہ یہ قدم وبائی مرض کے پھیلاو کو روکنے کیلئے کیاجارہا ہے حالانکہ عالمی ادارہ صحت (WHO)نے بہت صراحت کے ساتھ کہا تھا کہ لاشوں سے اس مرض کے پھیلنے کا کوئی خطرہ نہیں اور ہندوستان و یورپ سمیت ساری دنیا میں کرونا سے وفات پانے والے افراد کی تدفیں انکی مذہبی روایات کے مطابق ہورہی ہے۔تیونس، پارلیمان معطل کرنے کی وجہ سے معتوب ٹہرا۔ سنگاپور، ویتنام، تھائی لینڈ اور شمالی افریقہ کے ممالک شہری آزادیوں پر پابندی کے باعث دعوت ناموں سے محروم رہے۔ چچا سام کے عرب اتحادیوں نے ملوکیت اور مطلق العنانیت کی قیمت ادا کی۔

حیرت انگیز بات کہ عالمی اہمیت کی اس تقریب کو امریکی ذرائع ابلاغ نے بہت زیادہ اہمیت نہیں دی، حتیٰ کی صدر کے خطاب کو بھی کئی ٹیلی ویژن اسٹیشنوں نے براہ راست نہیں دکھایا۔ اجلاس کےآخری دن امریکی ریاست کنٹکی (Kentucky)بدترین طوفانی بگولوں کا نشانہ بنی جس میں سو کے قریب افراد ہلاک ہوئے اور 200 میل کا علاقہ ملبے کا ڈھیر بن گیا، چنانچہ اختتامی اجلاس کو پریس کوریج ہی نہ مل سکی کہ ہر جگہ کنٹکی اور اس سے متصل ریاستوں کی تباہی کا ذکر تھا۔

کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے اس بات کا اعتراف کیا کہ جمہوری حکومتوں پر سے عوام کا اعتماد اٹھ رہا ہے اور جمہوریت کے لبادے میں اشرافیہ، ووٹ کے ذریعے حاصل ہونے والے اختیارات اور اثر ورسوخ کو ذاتی و خاندانی مفادات کیلئے استعمال کررہی ہے۔صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی جگہ آمریت کے حامی عوام کو یہ سمجھانے میں کامیاب ہوتے نظر آرہے ہیں کہ جابرانہ طرز حکومت اور سخت اقدامات سے ہی آج کے مسائل حل کئے جاسکتے ہیں۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جمہوریت کو درپیش آزمائشوں کے مقابلے کیلئے حوصلہ مند میرانِ میداں یا چیمپینز کی ضرورت ہے۔ صدر بائیڈن کے نزدیک درست جمہوری نظام وہی ہے جسکا تصور ابراہام لنکن  نے 1861 میں اپنی دوسری مدتِ صدارت کا حلف اٹھاتے وقت دیا تھا  'عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے'۔ امریکی صدر نے کہا کہ  اس نعرے کو اسکی روح کیساتھ زندہ و تابندہ کرنا چاہیے۔

صدر بائیڈن نے جذباتی انداز میں کہا کہ جمہوریت ساکت و جامد نظام نہیں بلکہ یہ ہر دم رواں، پیہم دواں جدوجہد ہے۔ امریکہ کے پاس ’اعلان آزادی‘ اور دوسری مقدس دستاویزات موجود ہیں جن کو پڑھ کر بانیانِ ریاست کے تصورات، ایک جامع طرزِ حیات کی شکل میں ہمارے سامنے آجاتے ہیں جنھیں دونکات میں سمویا جاسکتا ہے:

  • بلا امتیاز رنگ و نسل، قومیت و شہریت،  مذہب اور جنس سب انسان برابر ہیں
  • زندگی، آزادی اور خوشی کی تلاش سب کا حق ہے۔

صدر بائیڈن نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ہر معاشرہ جمہوریت کی تعریف اپنے انداز میں کرتا ہے اور ہمیں یہ حق تسلیم کرنا ہوگا۔ساری انسانیت کا ایک نکتے پر اتفاق ممکن نہیں اور آزادانہ مشاورت ہی جمہوریت کی روح ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ سانجھی جمہوری اقدار ہماری قوت کا راز اور اتحاد کی بنیاد ہے اور ان مقدس اقدار کے تحٖفظ اور بالادستی کیلئے ہمیں مل کر جدوجہد کرنی ہوگی جن میں انصاف کی ضمانت، قانون کی حکمرانی، آزادیِ اظہارِ رائے، مذہب و عقیدے کی آزادی اور ہر فرد کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ شامل ہے۔

اس موقع پر امریکی صدر نے بدعنوانی کی موثر بیخ کنی کا عزم بھی ظاہر کیا۔ انکا کہنا تھا کہ جہاں قومی خزانے میں نقب زنی کے مرتکب افراد کو بے نقاب کرنے والے صحافیوں، دانشوروں، اساتذہ اور مشتبہ سرگرمیوں پر خطرے کی گھنٹی  بجانے والے Whistle Blowers کو تحفظ دینےکی ضرورت ہے، وہیں چوری کئے گئے کالے دھن کو اجلا کرنے والی  محفوظ پناہ گاہیں بھی ختم ہونی چاہئیں۔

یہ تو تھی اس کانفرنس کی روداد۔ سوال یہ ہے کہ اس بیٹھک سے جمہوریت کے استحکام اور انسانی حقوق کے فروغ میں کیا مدد ملے گی؟ اسکا آسان اور مختصر جوب یہ ہے کہ 'ورچول سمٹ' نشستند، گفتند اور برخواستند سے زیادہ کچھ نہ تھی۔

کانفرنس میں صدر بائیڈن اور انکے یورپی حلیفوں نے تعصب اور نسلی امتیاز کے خلاف بہت رقت آمیز تقریریں کیں۔ یادش بخیر گزشتہ برس دسمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک قرارداد A/75/237پیش کی گئی، جسکا متن کچھ اسطرح تھا:

اقوامِ عالم، نسل پرستی، نسلی امتیاز، غیرملکیوں سےخوف (Xenophobia)اور عدم رواداری کےخاتمے کیلئے ٹھوس کارروائی اور اقدامات کے جامع نفاذ کا مطالبہ کرتی ہیں۔

یہ قرارداد 14 کے مقابلے میں 106 ووٹوں سے منظور ہوئی،44 ارکان رائے شماری کے دوران غیر جانبدار رہے۔ امریکہ ، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، اسرائیل، فرانس، جرمنی اور نیدرلینڈ (ہالینڈ) نے اس قرارداد کیخلاف ووٹ دیا۔ باقی یورپی ممالک غیر جانبدار رہے۔ جب عمل کا یہ عالم ہو تو لچھےدار تقریر کس کام کی؟

 جمہوریت پر امریکہ بہادر کے شبخون کے تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔

  • ایران کے پہلے منتخب وزیراعظم محمد مُصدِّق کا 1953میں سی آئی اے اور برطانوی محمکہ سراغرسانی کی مدد سے تختہ اُلٹا گیا
  • سی آئی اے کے تعاون سے 1973میں چلی کے منتخب  صدر سلواڈور آئندے کی منتخب حکومت ختم کی گئی۔ فوجی کاروائی کے دوران صدر آئیندے ہلاک کردئے گئے
  • الجزائر میں 1990کے انتخابی نتائج کو  منسوخ کر کے فوجی جنتا نے مارشل لا لگادیا۔ ان انتخابات میں اسلامی سالویشن فرنٹ نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔  غیر جانبدار حلقوں کا دعویٰ ہے کہ الجزائری جرنیلوں نے یہ کاروائی امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی ایما پر کی۔ اسکے نتیجے میں جنم لینے والی خانہ جنگی میں ایک لاکھ شہری مارے گئے
  • 2013 میں مصری تاریخ کے واحد منتخب صدر محمد مورسی کا تختہ الٹا گیا۔ اس کارِ خیر ،میں جنرل السیسی کو امریکہ اور اسرائیل کی حمایت حاصل تھی
  • پانچ برس پہلے جولائی 2016 میں ترکی کی منتخب حکومت کے خلاف فوجی بغاوت برپا کی گئی۔ تر ک محکمہ سراغرسانی کا کہنا ہے کہ سازش کا جال سی ائی اے نے بُنااوراستنبول کے شہری علاقوں پر بمباری کرنے والے باغی طیاروں نے انسرلیک (Incirlik)نیٹو اڈے سے اڑان بھری تھی
  • اور ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے تیونس میں منتخب پارلیمان کو معطل کردیا گیا۔ اس کاروائی کے پیچھے بھی انھیں پردہ نشینوں کے نام ہیں۔

صدر بائیڈن نے بہت فخر سے فرمایا کہ وہ شفاف حکمرانی، ذرایع ابلاغ کی آزادی، جمہوری اقدار کے فروغ، انتخابی اصلاحات اور ووٹنگ کیلئے جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال پر ایک عالمگیر مہم چلانےکا ارداہ رکھتے ہیں جسکے لئے وہ امریکی کانگریس (پارلیمان) سے 22 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی درخواست کرینگے۔

جمہوریت کے حوالے سے واشنگٹن کے اخلاص کے بارے  میں جو چند مثالیں ہم نے پیش کی ہیں انھیں دیکھ کر تو ایسا لگتا ہے کہ ووٹنگ مشین اور جدید ٹیکنالوجی کیلئے مختص رقم چھوٹے  ممالک میں فدویانہ قیادت اور  انتخابات میں مطلوبہ نتائج کے حصول کیلئے استعمال ہوگی۔ 

اس نشست میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی کمی محسوس کی گئی۔ صحافتی حلقے توقع کررہے تھے کہ خانصاحب کرپشن اور ملک کی چوری کی ہوئی دولت کو برطانیہ میں تحفظ فراہم کرنے کیخلاف اپنی رائے کا اظہار کرینگے لیکن پاکستان اس کانفرنس میں شریک نہیں ہوا۔ اس سلسلے میں سرکاری موقف تو یہ ہے کہ پاکستان بڑی طاقتوں کے باہمی تناو اور کشمکش سے خود کو الگ رکھنا چاہتا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد فروغِ جمہوریت سمیت تمام معاملات پر امریکہ سے رابطے میں ہے اوراس سلسلے میں دونوں ملک  جلدہی ملاقات کرینگے۔

کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ کانفرنس سے ایک ہفتہ قبل چینی وزیرخارجہ نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے بات کی تھی۔ فون پر گفتگو کے دوران چینی حکومت نے شاہ محمود قریشی کو کانفرنس کے بارے میں بیجنگ کے تحفظات سے آگاہ کیا تھا۔ چین کا کہنا تھا کہ امریکہ دنیا کے کئی ملکوں میں جمہوری بندوبست کو غیر مستحکم کرنے میں مصروف ہے اور واشنگٹن اُس 'جمہوریت' کو فروغ دینے کی کوشش کررہا ہے جس سے اسکے مکروہ مفادات و اقدامات کو تحفظ مل سکے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق چینی وزیرخارجہ نے شاہ صاحب کو یقین دہانی کروائی تھی کہ انکا ملک خارجہ امور اور اقوام عالم سے تعلقات کے باب میں پاکستان کی آزادی وخودمختاری کا احترام کرتا ہے لہذا کانفرنس میں پاکستان کی شرکت یا عدم شرکت سے پاک چین تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑیگا۔ تاہم ورچول سمٹ سےلاتعلقی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان  نے پاکستان کو چین کا ' آہنی بھائی' قراردیا ہے۔ دوسری طرف وہائٹ ہاوس نے پاکستان کی جانب سےشرکت سے معذرت پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ہم کانفرنس میں شرکت نہ کرنے والے ملکوں سے جمہوریت کو مضبوط کرنے، انسانی حقوق کے احترام کو فروغ دینے اور بد عنوانی کے خاتمے پر بات چیت جاری رکھیں گے۔ (حوالہ: وائس آف امریکہ)

افغانستان کے مسئلے پر صدر بائیڈن نے عمران خان کو اس حد تک نظر اندازکیا کہ انھیں ایک رسمی فون کال تک نہ کی اور بہت ممکن ہے کہ امریکی صدر کی اس سرد مہری کے جواب میں  کپتان نے آن لائن نہ آنے کا فیصلہ کیا ہو۔

ہندوستان کے صحافتی ذرایع کہہ رہے ہیں کہ منگل کی  رات ایک اعلیٰ چینی سفارت کار کی ٹیلی فون کال نے پاکستان کے انکار میں کردار ادا کیا اور دوسرے دن یعنی 8 دسمبر کو اسلام آباد نے کوئی وجہ بتائے بغیر خود کو سمٹ فار ڈیموکریسی سے الگ رکھنے کااعلان کردیا۔

یہ درست کہ  عمران خان نے کانفرنس میں شرکت نہ کرکے اقوام عالم کے سامنے کرپشن کے خلاف اپنا موقف پیش کرنے کا موقع ضائع کردیا لیکن سمٹ برائے جمہوریت کا برائے نام بھی جمہوریت سے کوئی تعلق نہ تھا۔امریکہ کی  عسکری قوت، سراغرسانی کی صلاحیت  اور سیاسی و اقتصادی اثرورسوخ نے دنیا بھر میں آمریت کے فروغ اور عوامی امنگوں کو کچلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔یہ سلسلہ گزشتہ 68 سال سے جاری ہے اور اس رویئے میں تبدیلی کا بظاہر کوئی امکان بھی نظر نہیں آتا۔      

 ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 17 دسمبر 2021

ہفت روزہ دعوت دہلی 17 دسمبر 2021

روزنامہ امت کراچی 17 دسمبر 2021

ہفت روزہ رہبر سرینگر 17 دسمبر 2021

روزنامہ قومی صحافت لکھنو



 

Thursday, December 9, 2021

پہلے 100 دن

پہلے 100 دن

نو دسمبر کو افغان حکومت کے 100 دن مکمل ہوگئے۔نئی حکومت کی کارکردگی جانچنے کی اس کسوٹی کے موجد FDRکے نام سے مشہور، امریکی صدر فرینکلن ڈی ررزویلٹ ہیں جنھوں نے بدترین کساد بازاری یا گریٹ ڈیپریشن کے بعد 4 مارچ 1933 کواقتدار سنبھالا تھا۔ بیروزگاری عروج پر اور بازار حصص میں شدیدترین مندی تھی۔بینکوں کے دیوالیہ ہونے سے لاکھوں خاندانوں کی عمر بھر کی جمع پونجی لٹ چکی تھی۔ آٹھ نومبر 1932کو ہونے والے ان انتخابات میں FDRنے ریپبلکن صدر ہربرٹ ہوورز) (Herbert Hoover کو بری طرح سے شکست دے دی۔ بیروزگاری کاخاتمہ، امریکیوں کی بچت کا تحفظ اور خوشی و خوشحالی انکے منشور کے بنیادی نکات تھے۔اس  وقت انتخابات سے انتقالِ اقتدار کا عبوری دور تقریباً چار مہینے کا تھا۔ اس عرصے میں  صدر ہووور نے معیشت کی بہتری کیلئےکئی صدراتی آڈینینس جاری کئے۔سبکدوش ہونے والے صدرکی خواہش تھی کہ صدارتی احکامات کی شکل میں انھوں نے جو پالیسی وضع کی ہےاسکاتسلسل برقرار رکھا جائے اور FDRاپنے منشور پر عملدرآمد معطل کردیں۔

صدر روزویلٹ نے اپنے پیشرو کی یہ تجویز مسترد کردی۔ انکاکہناتھا کہ امریکی عوام نے انھیں ڈیموکریٹک پارٹی کے انقلابی منشور پر  ووٹ دئے ہیں اور وہ عوام سے کئے گئے وعدوں سے روگردانی نہیں کرسکتے۔ منشور پر عملدرآمد کے لئے تیز رفتار قانون سازی کی ضرورت تھی چنانچہ  انھوں نے اقتدار سنبھالتے ہی کانگریس (پارلیمان) کا خصوصی اجلاس طلب کیا جو تین مہینے سے کچھ زیادہ یعنی 100 دن جاری رہا جسکے بعد FDRنے 'خوف نہیں امید' یا Hope over fearکے عنوان سے ایک جذباتی خطاب کیا جس میں انھوں نے اپنے اقتدار کے پہلے 100 دن کی قانون سازی اور اسکے معیشت پر متوقع اثرات کا جائزہ پیش کیا اور وہیں سے پہلے سودن کی اصطلاح وضع ہوئی۔

افغان حکومت کی کارکردگی جانچنے کیلئے 100 دن کا سنگ میل کسی بھی اعتبار سے مناسب نہیں کہ نئی حکومت عبوری ہے اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ بندوبست کتنا عرصہ جاری رہیگا۔ لیکن بین الاقوامی سیاست کے علما اور صحافتی حلقے 'ملاوں کے سو دنوں' کا تنقیدی جائزہ لے رہے ہیں، چنانچہ ہم بھی آج گزشتہ تین مہینوں کے دوران مولویوں کے 'لچھن' کی روشنی میں انکے عزم و ارادے  اور ترجیحات پر نظر ڈالیں گے۔

اس ضمن میں نئی افغان حکومت کا ایک اہم  قدم خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک  تفصیلی ہدائت نامہ ہے۔ وزارت اطلاعات نے  اس دستاویز کو 'حقوقِ نسواں کا چارٹر' قرار دیاہے۔ اس انقلابی حکم نامے کے چند اہم نکات کچھ اسطرح ہیں:

  • نکاح کیلئے لڑکی کی رضامندی لازمی ہے۔ اس معاملے میں جبر، خوف، ادلہ بدلہ، جائیداد کی تقسیم اور کسی بھی قسم کی مالی پیشکش  و ترغیب یا زبردستی، سنگین جرم قرارپائیگی
  • خاتون جائیداد یا پراپرٹی نہیں کہ اسے کسی سودے کا حصہ بنالیا جائے۔ عورت معاشرے میں برابر  کی حصہ دار  ہے، جسکی آزادی پر کوئی سودے بازی نہیں ہوسکتی
  • شوہر کی موت پر عدت گزارنے کے بعد عورت اپنے مستقبل کافیصلہ خود کریگی
  • بیوہ کو نکاح ثانی کی صورت میں مہر طئے کرنے کا مکمل اختیار ہوگا
  • بیوہ عورت کو ترکے میں اسکا جائز حق ہر قیمت پر دلایا جائیگا
  • ایک سے زیادہ اہلیہ رکھنے والا مرد تمام بیویوں سے انصاف کا پابند ہوگا
  • مقامی عدالتیں خواتین کو انکے والدین، شوہر، بھائی اور بہن کے ترکے سے شریعت کے مطابق حق دلوانے کی پابند ہیں۔ حق تلفی کی صورت میں عورت قاضی القضاۃ کو درخواست دے سکتی ہے جسکی سماعت 48 گھنٹے کے اندر اندر ہوگی

اس سلسلے میں تربیتِ عامہ کیلئے مندرجہ ذیل اقدامات  تجویزکئے  گئے ہیں

  • وزارتِ اوقاف کی نگرانی میں علما اورخطیب خواتین کے حقوق کی آگاہی مہم چلائنیگے۔کتابچوں اور تقریروں کے ذریعے عوام کو یہ بات سمجھائی جائیگی کہ اللہ کے عطا کردہ حقوق کی عدم ادائیگی سخت گناہ  ہے۔خواتین سے بدسلوکی اور حق تلفی رب کی ناراضگی کا سبب بن سکتی ہے۔
  • وزارت اطلاعات، سمعی و بصری Audio-Visualپیغامات، مکالمے اور تقریروں کے ذریعے خواتین کے شرعی حقوق سے عوام کو آگاہ کریگی
  • عدالتیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدائت جاری کرینگی کہ خواتین خاص طور سے بیواوں کے حقوق کی پامالی سنگین جرم ہے اورخواتین کی محرومیاں ختم کرنے کیلئے انکے حقوق کی ہر سطح ہر پاسداری کی جائے
  • صوبائی گورنر اور ضلعی حکام اس ضمن میں وزارت انصاف، وزارت اطلاعات ، وزارت اوقاف اور دوسرے حکام سے  مکمل تعاون کریں تاکہ خواتین کی حق تلفی کا کوئی امکان بھی باقی نہ رہے  

اس موقع پر امریکہ کے موقر تعلیمی ادارے جامعہ ہارورڈنے جنگ کے اخراجات یعنی Cost of Warکے عنوان نے بیس سالہ طویل جنگ کے  حتمی اعدادوشمار پیش کئے ہیں۔ یہ تفصیلی اور تحقیقی جائزہ جامعہ ہارورڈ اور رھوڈز آئی لینڈ(Rhodes Island) کی جامعہ براون کا مشترکہ منصوبہ ہے۔

جائزے کے مطابق اس بے مقصد خونزیری پر امریکہ بہادر نے اپنے اتحادیوں سمیت 7438فوجی اور سویلین گنوائے جبکہ آزادی کی اس جدوجہد میں 16942طالبان اپنی جان سے گئے۔ اس وحشت کا نشانہ بننے والے قلم کے مزدوروں یعنی صحافیوں کا تخمینہ 72 ہے۔ اعدادوشمار سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں شیر خوار بچوں سمیت ان افغان شہریوں کو شمار نہیں کیاگیا جو امریکی بمباری کا نشانہ بنے۔ ان بدنصیبوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔امریکی قوم کو اپنے سورماوں کا یہ شیطانی شوقِ کشور کشائی 22 کھرب 26 ارب ڈالر کا پڑا۔ ان میں سے 144 ارب ڈالر افغانستان کی 'تعمیرِ نو'پر خرچ کئے گئے جسکا بڑا حصہ سابقہ افغان حکومت کے اہلکار اور جرنیل ڈکار گئے۔

اس لوٹ مار کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹر اشرف غنی اور انکے نائب امراللہ صالح فرار ہوتے ہوئے کروڑوں ڈالر کی وہ نقدی بھی ساتھ  لے گئے جو سرکاری ملازمین کی تنخواہ کیلئے وزارت خزانہ کی تجوریوں میں رکھی تھی۔ ان سرکاری ملازمین کو مئی کے ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں۔ تعمیر نو پر ڈیڑھ سو ارب خرچ کرنے کے بعد بھی افغانستان میں اوسط آمدنی 2 ڈالر روزانہ سے کم ہے۔یہ خطیر رقم اس ملک پر 'خرچ' کی گئی ہے جسکی کُل آبادی صرف چار کروڑ ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں کو نہ صرف افغان رہنماوں نے دونوں ہاتھوں سے لوٹا بلکہ چچا سام کے اہلکاروں نے بھی بہتی گنکا میں خالی ہاتھ گیلے کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ڈبکی لگاکر تفصیلی اشنان فرمایا۔ 

خواتین حقوق کے چارٹر اور امریکی قبضے کے اجمالی عسکری و اقتصادی جائزے کے بعد اگر ملاوں کے سو دن پر نظر ڈالی جائے تو ایک بات بہت واضح ہے کہ 31 اگست کو جب اسٹوڈنٹس کابل میں داخل ہوئے تو اسوقت نہ صرف ملکی خزانہ مفلس کی جیب کی طرح بالکل خالی تھا بلکہ سرکاری ملازمین کو انکی تین مہینے کی تنخواہیں بھی واجب الادا تھیں۔ افغان سرکاری ملازمین کی تعداد دس لاکھ کے قریب ہے جنھیں تنخواہوں اور مراعات کی مد میں مجموعی طور پر35کروڑ ڈالر ادا کئے جاتے ہیں۔ اسی کے ساتھ امریکہ میں افغانستان اسٹیٹ بینک کے 9ارب ڈالر منجمد کردئے گئے۔

زرمبادلہ کے ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے افغانستان اسوقت دنیا سے تجارت تو دور کی بات، ضروری اشیائے خوردونوش بھی نہیں خرید سکتا۔ گویا چار کروڑ جیتے جاگتے خوددار انسانوں کی گزر بسر  دوسرے ممالک اور خیراتی اداروں کی مدد پر ہے۔ ایسی صورت میں گھر کا باورچی خانہ نہیں چل سکتا ملک کا کاروبار کیسے رواں دواں رکھا جائے۔

دوسری جانب افغانستان کے دوست اور دشمن سب  وسیع البنیاد یا ٰInclusiveحکومت کا راگ الاپ رہے بیں۔ جہاں تک سب کو لے کر چلنے کی بات ہے تو اس معاملے میں طالبان نے اب تک خاصی وسیع القلبی کا مظاہرہ کیاہے۔ سابق حکومتوں کے اعلٰی حکام کو عام معافی دیدی گئی جن میں فوجی افسران اور خفیہ  اداروں کے وہ اہلکار بھی شامل ہیں جو  ملاوں پر تشدد میں ملوث تھے۔ سابق صدر حامد کرزئی، چیف ایکزیکیٹو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور سابق اقتدار کے دوسرے رہنما بہت اطمینان سے افغانستان میں رہ رہے ہیں۔ ان میں سے اکثر افراد کی کرپشن زباں زدِ عام ہے لیکن نئے عبوری آئیں کے تحت  احتساب عدلیہ کے سپرد کردیاگیا ہے اور عبوری بندوبست  میں انتظامیہ کو عدلیہ کے معاملات میں دخل اندازی کا بالکل بھی اختیار نہیں۔

انکلیسیو حکومت کی تشکیل میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ اسوقت افغانستان میں گلبدین حکمتیار اور چند ایک دوسرے رہنماوں کو چھوڑ کر سیاسی قیادت دو کیمپوں میں تقسیم ہے۔ ایک طرف وہ مجاہدین ہیں جنھوں نے 20 سال کا ایک ایک لمحہ آزادی کی جنگ میں صرف کیا اور دوسری جانب وہ لوگ جو قابضین کے دست وبازو بنے ہوئے تھے۔ملاایک بات بہت صاف صاف کہہ چکے ہیں کہ قابضین،  انکے سہولت کاروں اور پشتیبانوں کو دل سے معاف کردیا گیا اور کسی کے خلاف انتقامی کاروائی نہیں ہوگی لیکن ان میں سے کسی کو حکومت میں شامل نہیں کیا جائیگا۔ اس بنا پر انکلیسو حکومت مطالبہ پورا ہوتا نظر نہیں آرہا۔

یہ درست کہ جنگجو ملاوں کو حکومت چلانے کا کوئی تجربہ نہیں۔ لیکن مساجد و مدارس کے ذریعے انکی رسائی افغانستان کے ہر گلی  کوچے تک ہے اور وہ عوامی مسائل کا پورا ادراک رکھتے ہیں۔زمینی صورتحال پر گہری نظر کا نتیجہ ہے کہ پہلے سو دنوں میں اسٹوڈنٹس امن و امان قائم کرنے میں کامیاب نظر آرہے ہیں۔اگست سے پہلے کابل شہر میں کوئی بھی شخص موبائل فون لے باہر نہیں نکل سکتا تھا۔ اسی طرح خواتین کے پرس چھیننے کے واقعات بھی عام تھے  لیکن اب تمام بڑے شہروں میںStreet crime تقریباً نہ ہونے کے برابرہیں۔ دہشت گردی کے واقعات میں بھی کمی آئی ہے۔ پاکستان کی سرحد سے متصل علاقوں میں داعش کی سرگرمیاں اب بھی جاری ہیں لیکن باقی افغانستان میں صورتحال بڑی حد تک قابو میں ہے۔ بدامنی و بےچینی کے خاتمے کی بڑی وجہ سستا اور فوی انصاف ہے۔ مختلف مساجد میں قاضی عدالتوں کے ذریعے چھوٹے موٹے تنازعے فوری طور پر نبٹادئے جاتے ہیں جسکی وجہ سے گلی محلوں میں جھگڑوں کا بڑی حد تک خاتمہ ہوگیا ہے۔اکثر علاقوں میں قاضی عدالتیں امریکی قبضے کے دوران بھی کام کررہی تھیں اور اب یہ نظام مزید مستحکم ہوگیا ہے۔

ملاوں کے  مخالفین بھی انکی امانت و دیانت کے معترف ہیں جسکی وجہ سے انکا ٹیکس کا نظام بہت بہتر ہوگیا ہے۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران وزارت خزانہ نے محصولات کی مد میں 23 ارب افغانی (24 کروڑ ڈالر) اکٹھے کئے جن سے سرکاری ملازمین کی منجمد تنخواہ کا کچھ حصہ جاری کردیا گیا۔اسی کیساتھ مقامی تاجروں کی حوصلہ افزائی کے ذریعے زرمبادلہ کمانے کے غیر روائتی راستے اختیار کئے جارہے ہیں۔ حال ہی میں کئی ٹن چلغوزے چین کو برآمد کئے گئے ہیں جو چینیوں کو بہت پسند آئے اور وزارت تجارت کے مطابق اس نوعیت کے کچھ دوسرے 'چھوٹے سودوں' کیلئے بات چیت جاری  ہے

یہ اقدامات مثبت اور حوصلہ افزا تو ہیں لیکن تباہ حال معیشت کی تعمیرِ نو کیلئے کافی نہیں۔جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا، فی الحال افغانستان  کا گزارہ  پاکستان، روس، چین، ترکی، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی امداد پر ہورہا ہے۔ اب ہندوستان بھی گندم بھجوارہا ہے، لیکن  اس طرح حکومتیں نہیں چلتیں۔ خزانہ خالی ہونے کے علاوہ سفارتی تنہائی طالبان کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اب تک دنیا کے کسی ملک نے کابل سرکار کو تسلیم نہیں کیا جسکی وجہ سے افغانوں کیلئے بین الاقوامی تجارت ناممکن حد تک مشکل ہے۔ کابل میں چین، ترکی، روس، پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے سفارتخانے معمول کے مطابق کام کررہے ہیں لیکن ان ملکوں نے بھی طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔ حال ہی میں فرانس کے صدر ایمیونل میکراں نے یورپی یونین  ممالک کیساتھ مل کر کابل میں سفارتخانہ کھولنے کا عندیہ دیا ہے۔

دوسری طرف معیشت کی حالت روزبروز ابتر ہوتی جارہی ہے ۔ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP)کے مطابق افغانستان کی نصف سے زیادہ آبادی غذائی قلت کا شکار ہے۔ افغانوں، خاص طور سے  بچوں کو  خوراک، ادویات اور  لباس میسر نہیں ۔اس لئے اگر معاشی مسئلے بلکہ المیے کا حل نہ ڈھونڈا گیا تو  امن وامان برقرار رکھنا ملاوں کے لئے مشکل ہوجائے گا۔

اقوامِ متحدہ کی خصوصی ایلچی برائے افغانستان محترمہ ڈیبورا لائنز  Deborah Lyonsnکے خیال میں  افغانستان پر عائد پابندیاں خاص طور سے امریکہ کی جانب سے انکے قومی خزانے کا انجماد  افغان عوام کی مشکلات کی بنیادی وجہ ہے۔ سترہ (17) نومبر  کو ایک اخباری کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو یہ بتاچکی ہیں  کہ اگرافغانستان پر سے  مالی پابندیاں نہ ہٹائی گئیں تو وہاں جنم لینے والا انسانی المیہ ساری دنیا کیلئے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔اخباری اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے افغانستان کی امداد کیلئے اوآئی سی کا اجلاس پاکستان میں طلب کرنے کی تجویز دی ہے لیکن مفلوج و غیر موثر اوآئی سی سے طالبان سمیت کسی کو کوئی امید نہیں۔

بلا شبہ نئی افغان حکومت کے پہلے سو دن کسی بھی اعتبار سے مایوس کن نہیں اور صدر بائیڈن کی کٹھور دلی کے نتیجے میں مسلط کی جانیوالی مفلسی کے باوجود سرکاری ملازمین کو گزشتہ حکومت کے دور سے رکی تنخواہوں کی ادائیگی، امن و امان میں بہتری، شفاف نظامِ انصاف اور سب سے بڑھ کر بنیادی حقوق سے محروم خواتین کی داد رسی قابل تحسین ہے۔ ملا دوحہ امن معاہدے پر اسکی روح کے مطابق  عمل کررہے  ہیں۔افغانستان سے پسپائی کے دوران امریکیوں کی متعدد بمباری کے باوجود اسٹوڈنٹس نے امریکہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔اس کے باوجود امریکہ نے افغانستان کے اثاثے منجمند کردئے۔ اگر موجود بحران پر قابوپانے کیلئے اقوامِ عالم نے کابل سرکار کی مخلصانہ مدد نہ کی تو افغانوں کیساتھ جو ہوگا وہ تو ہوگا لیکن اسکے نتیجے میں غیر مستحکم افغانستان ساری دنیا کیلئے دردِ سر بن سکتا ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 10 دسمبر 2021

ہفت روزہ دعوت دہلی، 10 دسمبر 2021

روزنامہ امت کراچی 10 دسمبر 2021

ہفت روزہ رہبر سرینگر ، 12 دسمبر 2021

روزنامہ قومی صحافت لکھن


و