Friday, May 20, 2022

ڈرتے ہیں بندوقوں والےایک نہتی لڑکی سے

ڈرتے ہیں  بندوقوں والےایک نہتی لڑکی سے

صحافت انتہائی اہم اور دیانت دارانہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے۔ صحافی انسانی معاشرے کی آنکھ اور کان ہے۔  سماعت و مشاہدے کو  زاویہ نگاری اور ذاتی پسند و ناپسند سے آلودہ کئے بغیر  قارئین اور ناظرین تک من و عن پہنچادینا ایک ذمہ دار صحافی کا فرضِ منصبی ہے۔ آج ہم  ایسی ہی ایک دیانت دار صحافی خاتون کا ذکر کرینگے جسے اسرائیلی فوج نے انتہائی بے دردی سے سرِعام قتل کردیا۔

شیریں ابوعاقلہ نے بیت المقدس کے قریب بیت اللحم میں آباد ایک راسخ العقیدہ مسیحی گھرانے میں جنم لیا۔ یہاں ایک چھوٹی سی وضاحت قارئین کی دلچسپی کا باعث ہوگی۔ شہرکے انگریزی ہجے یعنی Bethlehemکی وجہ سے اسے بیت اللحم کہا جاتا ہے یعنی گوشت کا مکان یا دوکان اور کچھ لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ یہاں زمانہ قبل مسیح ایک بڑا مذبح خانہ ہواکرتا تھا۔ اسکا عبرانی تلفظ بیت لییم ہے یعنی روٹی کی دوکان یا تندور۔ اس علاقے کو اللہ نے بر کتیں عطا کی تھیں اور انجیل مقدس کے مطابق حضرت عیسیؑ اور حضرت یحییٰؑ المعروف  John the Baptistکی ولادت با سعادت اسی علاقے میں ہوئی اسلئے یہ شہر  رزق یا برکت کاگھر (عبرانی بیت لییم) مشہور ہوگیا۔ کنعان کے مشرکین نے اس مقام کو افزائش نسل کے دیوتا لحمو کے نام سے موسوم کیاتھا۔حضرت عیسیٰؑ کے مقامِ پیدائش پر وہ تاریخی کلیسائے میلاد یا Church of Nativity بھی ہے جہاں ہرسال لاکھوں مسیحی زائرین حضرت عیسیٰؑ اور انکی پاکباز والدہ،  سیدہ مریم کو خراج عقیدت پیش  کرنے آتے ہیں۔

شیریں بہت کم عمری میں والدین کی شفقت سے محروم ہوگٗئیں اور ابتدا میں خالہ نے انکی پرورش کی جو امریکہ میں رہتی تھیں۔ اسی بنا پر شیریں کو امریکی شہریت مل گئی۔کچھ عرصے بعد وہ بیت المقدس واپس آگئیں۔ مشرقی بیت المقدس کے ثانوی اسکول سے میٹرک کرنے کے بعد انھوں نے اردن کی جامعہ علوم و ٹیکنولوجی (JUST)کے کلیہ مہندسین (انجنئرنگٌ) میں داخلہ لیا، لیکن صرف ایک سال بعد وہ جامعہ یرموک (اردن) کے  شعبہ صحافت میں آگئیں۔ انکا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کی آواز بننے کیلئے انھوں نے قلم سنبھالا ہے۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ ریڈیو فلسطین سے وابستہ ہوگئیں۔ ساتھ ہی انھوں نے فرانسیسی ریڈیو مانٹی کارلو پر بھی سیاسی تجزئے پیش کئے۔ شیریں کو عربی اور انگریزی کے علاوہ فرانسیسی زبان پر بھی عبور تھا۔ اس دوران انھوں نے اقوام متحدہ کی مختلف ایجنسیوں اور انسانی و جمہوری حقوق کی تنظیموں کیلئے بھی کام کیا۔جب 1996 میں الجزیرہ نے نشریات کا آغاز کیا تو  شیریں نے سمعی (ریڈیو) صحافت کے ساتھ  دوردرشن (ٹیلی ویژن ) کا محاذ بھی سنبھال لیا۔

شیریں ابوعاقلہ کو دفتر میں بیٹھ کر کالم لکھنے اور تجزئے بگھارنے کے بجائے میدان سے رپورٹنگ کا جنون کی حد تک شوق تھا، چنانچہ وہ فلسطینیوں کے ہر مظاہرے کا انکھوں دیکھا حال براہ راست سناتیں۔ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مارے جانیوالے فلسطینٰیوں کے گھر جاکر سوگوار خاندان سے براہِ راست گفتگو کرتے ہوئے انکے جذبات کا بامحاورہ انگریزی اور فرانسیسی میں ترجمہ کرتیں۔ شیریں کا یہ انداز انکے ناظرین کو بہت پسند آیا۔ کچھ عرصہ قبل انھوں نے جامعہ یروشلم کے شعبہ عبرانیات میں داخلہ لیا تھا۔ انکا خیال  تھا نشرواشاعت کے اسرائیلی ادارے عبرانی بولنے والے قار ئین اور ناظرین کو فلسطینیوں کی  حالتِ زار سے آگاہ نہیں کرتے اسلئے فوجی مظالم کے بارے میں انھیں کچھ خبر نہیں اور اسرائیلیوں کی اکثریت فلسطینیوں کو دہشت گرد سمجھتی ہے۔

شیریں عملی صحافت کیساتھ میدان صحافت میں قدم رکھنے والے نئے ساتھیوں کی تربیت اور حوصلہ افزائی بھی بہت خوشدلی سے کرتی تھیں اور وہ عملاً اپنے جونئر ساتھیوں کی مشفق 'باجی جان' تھیں۔ْ

اسوقت جبکہ امریکہ و مغرب اور عالمی میڈیا کی  توجہ روس یوکرین جنگ کی طرف ہے، تل ابیب نے  مقبوضہ عرب علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کے قیام کا کام تیز کردیا ہے۔ جیسا کہ ہم نے گزشتہ نشست میں عرض کیا تھا کہ اگلے دوسال کے دوران 4000 نئے مکانات کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ ملکیت کی شرائط میں وضاحت سے درج ہے کہ ان گھروں میں صرف یہودی مذہب کے ماننے والے رہ سکیں گے اور  کسی غیر یہودی کو کرائے دار رکھنا بھی غیر قانونی ہوگا۔ اس مقصد کیلئے دریائے اردن  کے مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس  میں فلسطینیوں کے مکانات مسمار کئے جارہے ہیں۔ ٰیہاں آباد لوگوں کو شدید ترین گرمی میں انکے گھرو ں سے نکال کر اردن کی سرحد پر خیمہ بستیوں کی طرف ہانکا جارہا ہے۔

اس ظالمانہ فیصلے کے خلاف مقبوضہ عرب علاقوں میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔ شمال مغربی کنارے  کے چالیس ہزار آبادی والے شہر، جنین سے خیمہ بستی کی طرف دھکیلے بلکہ  ٹھونسے جانیوالوں کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ مظاہرہ  کرنے والے نہتے شہریوں کو  کچلنے کیلئے بھاری فوجی نفری تعینات کی گئی ہے۔ فوج کی فائرنگ سے درجنوں فلسطینی نوجوان جاں بحق ہوچکے ہیں۔

بدھ (11 مئی) کو علی الصبح جب بلڈوزر جنین پہنچے تو وہاں کے رہائشیوں نے زبردست مزاحمت کی اور  نعرہ زن ہجوم نے  فوج کی طرف پتھر پھینکے۔ پتھراو کے جواب میں اسرائیلی  فوج ربر کی گولیاں استعمال کررہی تھی اور وقتاًفوقتاً اصلی گولیاں بھی برسائی جارہی تھیں۔ اس دوران شیریں ابو عاقلہ وہاں پہنچ گئیں۔ روزنامہ القدس کے علی السمودی کے ساتھ جنین کی رہائشی، مقامی خاتون صحافی شازیہ ہنیشا پہلے سے وہاں موجو تھیں۔ شازیہ کا کہنا ہے کہ 'ہم تینوں ذرا بلندی پر کھڑے تھے۔ فلسطینی مظاہرین ہماری پشت پر اور اسرائیلی فوج ہمارے سامنے تھی۔ شیریں، علی اور میں نے شناخت کیلئے PRESSکی واسکٹ (vest)پہن رکھی تھی۔ فوج کے سپاہی ہمارے اتنا قریب تھے کہ انکے سینوں پر آویزاں بیج سے ہم انکے نام پڑھ سکتے تھے' ۔ شازیہ کے مطابق  فوج نے شست باندھ کر ہم تینوں کو نشانہ بنایا۔

ایک گولی شیریں کی پیشانی پر لگی اور انکی فولادی ٹوپی (ہیلمٹ) کو چیرتی ہوئی 51 سالہ  خاتون صحافی کے کاسہ سر کو پاش پاش کرگئی۔ ایک گولی نے علی السمودی کے پیٹ کو نشانہ بنایا جبکہ شازیہ ہنیشا کی طرف آنے والی گولی انکے بازو کو چھوتی ہوئی چلی گئی۔ شیریں تو موقع پر ہی جاں بحق ہوگئیں، علی شدید زخمی ہیں۔ خوش قسمتی سے جوانسال شازیہ کو مرہم پٹی کے بعد ہسپتال سے فارغ کردیا گیا۔

چند گھنٹے بعد اسرائیلی کنیسہ (پارلیمان) میں رعم پارٹی کی طرف سے اٹھائے گئے نکتہ اعتراض پر وضاحتی بیان دیتے ہوئے وزیر دفاع بینی گینٹز (Benny Gants) نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق اسرائیلی فوج نے براہ راست شیریں کو نشانہ نہیں بنایا۔جائے واردات کے بصری تراشوں (Footage)میں فلسطینی دہشت گردوں کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ دیکھی جاسکتی ہے۔ ہمارا خیال ہے  کہ خاتون صحافی کسی دہشت گرد کی گولی کا نشانہ بنی ہے اور ایک قیمتی انسانی جان کے نقصان پر ہمیں افسوس ہے۔ بحث سمیٹتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نیفتالی بینیٹ نے وزیردفاع کے تجزئے سے اتفاق کیا اور اسرائیلی فوج کو مکمل حمائت کا یقین دلایا۔ یعنی مزید تحقیقات کا دروازہ طاقت و تکبر کی کیل سےبندکردیا گیا۔ڈھٹائی ملاحظہ فرمائیں کہ یہ واقعہ صبح پانچ بجے پیش آیا اور فاضل وزیر دفاع نے کنیسہ میں وضاحتی بیان صبح ساڑھے آٹھ بجے جاری کیا۔ صرف ساڑھے تین گھنٹے یعنی لاش کے تشریح الجثہ (پوسٹ مارٹم) سے بھی پہلے تحقیقات مکمل کرلی گئیں۔

مقتدرہ فلسطین (PA)کی وزارت صحت نے اسرائیلی حکومت کی وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے اسے خاتون صحافی کا بہیمانہ قتل قراردیا ہے۔ فلسطینی ذرایع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کے روئیے سے خوفزدہ ہوکر  عالمی نشریاتی اداروں نے اپنے عملے کو فلسطینی علاقوں سے ہٹالیا ہے اور صرف الجزیرہ کے چند صحافی ٰیہاں موجود ہیں۔ سینئر صحافیوں شیریں ابو عاقلہ اور علی السمودی کو نشانہ بنانے کا مقصد یہاں مو جود رہ جانے والے سخت جان صحافیوں کو خوفزدہ کرنا ہے۔

 اسرائیلی فوج کی جانب سےصحافیوں کے خلاف دانستہ کاروائی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ گزشتہ سال اسرائیلی فوج غزہ میں الجزیرہ اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے دفاتر پر بمباری  کرچکی ہے۔ اس موقع پر الجزیرہ نے ان 45صحافیوں کی فہرست شائع کی ہے جو 2000سے اب تک اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔فلسطینی انجمن صحافیان کے مطابق یہ تعداد 55ہے۔

شیریں کے قتل کے بارے میں اسرائیلی وزیردفاع کی وضاحت کو امریکہ سمیت ساری دنیا نے مسترد کر دیا ہے۔ صحافیوں کی عالمی انجمن IFJاور فلسطینی صحافیوں کی تنظیم PSJنے شیریں کے قتل کو آزادی صجافت پر براہ راست حملہ قراردیا ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر محترمہ لنڈا ٹامس گرین فیلڈ نے کہا کہ امریکہ کو اپنی ایک شہری اور معروف صحافی کی موت پر شدید تشویش ہے اور اس واقعے کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔ امریکی وزیرخارجہ ٹونی بلینکن نے بھی اس قتل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ مقتدرہ فلسطین کے صدر محمود عباس نے کہا کہ مقتدرہ،  شیریں کے قتل کا مقدمہ جرائم کی عالمی عدالت ICCمیں درج کرارہی ہے۔ فلسطینی رہنما کا یہ عزم ایک بیان سے زیادہ کچھ نہیں۔ اسلئے کہ اسرائیل ICCکو تسلیم ہی نہیں کرتا۔  

اسرائیلی فوج کے کلیجے شیریں ابو عاقلہ کے قتل کے بعد بھی ٹھنڈے نہ ہوئےاور  اس مظلوم کے جلوسِ جنازہ کو  تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جنین کے مقامی گرجا گھر سے شیریں کا جنازہ اٹھتے ہی اسرائیلی فوج نے کئی جگہ اسکے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ انکا جنازہ جب نابلوس اور رام اللہ سے ہوتا ہوا مشرقی بیت المقدس میں  بیت اللحم کے قریب جبل صیہون Mount Zionکے مسیحی قبرستان پہنچا تو پولیس نے سوگواران پر لاٹھی چارج کیا۔ تابوت کو کاندھا دینے والوں  کی  گھونسوں اور لاتوں سے تواضع کی گئی اور کئی بار تابوت گرتے گرتے بچا۔جنازے کی ایسی بیحرمتی کی تو شائد پتھر کے دور میں بھی کوئی مثال نہ ملے۔ آفرین ہے حریت پسند دلاوروں پر جنھوں نے لاٹھی اور لاتوں کی چوٹ صبر اور عزم کیساتھ برداشت کرکے تابوت کو نیچے نہ گرنے دیا اور بنتِ فلسطین  کو پورے احترام کیساتھ انکے والدین کے پہلو میں سپرد خاک کردیاگیا۔ غیر شادی شدہ شیریں نے ایک بھائی ٹونی ابو عاقلہ سوگوار چھوڑا ہے۔ہونٹوں پر بکھری مسکراہٹ انکا تعارف تھا۔ اسی  بناپر ساتھیوں میں وہ شیریں تبسم (مسکراہٹ)کہلاتی تھیں۔ درندوں نے اس لازوال مسکراہٹ کو ہمیشہ کیلئے خاموش کردیا یا یوں کہئے کہ  خبر کی تلاش میں  نکلنے والی شیریں خود ہی خبر بن گئی۔

مکہ کے جنت المعلاۃ اور مدینہ کے البقیع کی طرح جبلِ صیہون کا قبرستان مسیحیوں کیلئے تقدیس و حرمت کا حامل ہے کہ عبرانی روایات کے مطابق یہاں بنی اسرائیل کے کئی انبیا اور حضرت مسیحؑ کے پاکبازو متقی حواریوں (اصحابِ مسیحؑ) کی قبریں ہیں۔ مسجد اقصیٰ اور القدس شریف کی بیحرمتی تو روزمرہ کا معمول ہے، شیریں اور الجزیرہ  سے  نفرت میں اسرائیلی فوج نے جبل صیہون کا تقدس بھی پامال کردیا۔ شیریں کے جنازے پر اسرائیلی فوج کی درندگی کے مناظر دیکھتے ہوئے  حضرت نعیم صدیقی کا یہ کلام بے اختیار ہمارے لبوں پر آگیا۔

ہماری ہستی ہی کیا ہے آخر

بس ایک آوازہِ صداقت

بس ایک شمعِ فضائے ہستی

دبا سکو تو صدا دبادو

بجھا سکو تو دیا بجھا دو

صدا دبے گی تو حشر ہوگا

دیا بجھے گا تو صبح ہوگی

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کرچی 20 مئی 2022

ہفت روزہ دعوت دہلی 20 مئی 2022

روزنامہ امت کرچی 20 مئی 2022

ہفت روزہ رہبر سرینگر 22 مئی


2022


 

Thursday, May 12, 2022

فلسطینیوں کے اجڑتے مکانات ۔۔۔ کرینگے اہلِ ستم تازہ بستیاں آباد

فلسطینیوں کے اجڑتے مکانات  ۔۔۔ کرینگے اہلِ ستم تازہ بستیاں آباد

اسرائیلی حکومت نے دریائے اردن کے مغربی کنارے پر فلسطینی بستیاں مسمار کرکے 4000 کے قریب نئے گھر تعمیر کرنے کی منظوری دیدی۔ ان مکانات کی ملکیت کیلئے یہودی ہونا شرط ہے۔ پہلے مرحلے میں 2536 اور اسکے ایک سال بعد مزید 1452 مکانات تعمیر کئے جائینگے۔  یہاں  آباد ہزاروں فلسطینیوں کو خیموں میں منتقل کرنے کا انتظام کیا جارہا ہے۔

صدیوں سے آباد فلسطینیوں کو گھروں سے نکال کر انکی زمینوں پر اسرائیلی بستیوں کی  تعمیر کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ سلسلہ 1967 سے جاری ہے جب 'چھ روزہ جنگ' کے نام سے مشہور عسکری تصادم میں اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس سمیت دریائے اردن کے مغربی کنارے پر قبضہ کرلیا تھا۔ اسی جنگ میں شام سے سطح مرتفع گولان اور مصر سے صحرائے سینا کے ساتھ بحر روم پر واقع زرخیر پٹی غزہ ہتھیالی گئی۔

تحفظِ انسانی حقوق کیلئے سرگرم عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ 'عرب علاقوں کا مدنی اور شہری تشخص تبدیل کرکے مردم نگاری (demography) کو یہودی اکثریت میں تبدیل کرنے کیلئے جبری نقل مکانی اور بیدخلی کا سلسلہ اسرائیلی ریاست کے قیام یعنی 1948 سے جاری ہے۔ اسرائیلی حکومت عرب اکثریتی علاقوں میں زمین سمیت تمام وسائل وہاں کے مکینوں سے چھین کر غاصب  یہودی آبادکاروں کے حوالے کررہی ہے (حوالہ: الجزیرہ آن لائن ، 6 مئی 2022، نامہ نگار فرح نجار) 

'چھ روزہ جنگ' میں قبضہ کرتے ہی مشرقی یروشلم کو فوری طور پر اسرائیلی ریاست کا حصہ بنالیا گیاتھا جسے اسرائیل اپنا دارالحکومت کہتا ہے۔ یہودیوں کا مقدس مقام یعنی دیوارِ گریہ، مسیح علیہ السلام کی جائے پیدائش بیت اللحم، پہاڑ پر تعمیر کیا گیا منبر جہاں سے حضرتؑ وعظ دیا کرتے تھے اور مسلمانوں کا قبلہ اول مشرقی بیت المقدس میں واقع ہے۔ اسرائیلی حکومت اور مقامی بلدیہ نے علاقے کا تقدس تبدیل کرنے کیلئے اسے مشرقی یروشلم کا نام دیا ہے تاہم فلسطینوں کیلئے یہ اب بھی 'القُدس شریف' ہے۔ دورِ فاروقی میں آزادی کے وقت سے اسے القُدس شریف کہا جاتا ہے۔

اس جنگ سے پہلے دریائے اردن کا مغربی کنارہ اسرائیل کے قبضے میں تھا جہاں یہودیوں کی اکثریت ہے جبکہ مشرقی علاقہ اردن کی ہاشمی سلطنت کا حصہ تھا۔ جنگ کے فوراً بعد اسرائیل نے مشرقی کنارے کو اپنے مغربی کنارے میں ضم کرلیا۔ دلچسپ بات کہ انضمام کے بعد اس پورے علاقے میں عربوں کی اکثریت ہے۔ انتہائی مغربی جانب اور شمال میں کچھ بستیوں کے علاوہ سارے علاقے میں عرب آباد ہیں۔ یروشلم بھی یہیں واقع ہے جسے دارالحکومت بنانے کا قصہ ہم اوپر بیان کرچکے ہیں۔اقوام متحدہ نے اس انضمام کو مسترد کرتے ہوئے یہ علاقہ اردن کو واپس کرنے کی قرارداد منظور کرلی تھی لیکن امریکہ اور برطانیہ نے سلامتی کونسل میں اس قرارداد کو ویٹو کردیا۔ اسرائیل کے جارحانہ اقدامات کے خلاف اقوام متحدہ درجنوں قراراداد منظور کرچکی ہے۔صرف 1967 میں جولائی سے دسمبر تک 7 قراردادیں منظور کی گئیں جس میں اسرائیلی سے 1967 سرحدوں پر واپس جانے کیساتھ مشرقی بیت المقدس سمیت تمام مقبوضہ عرب علاقوں کی حیثیت تبدیل کرنے کی شدید مذمت کی گئی۔

ابتدا میں فوجی چھاونیاں اور دفاعی مورچے تعمیر کرنے کیلئے فلسطینیوں کو انکے مکانوں سے نکال کر اردنی سرحد کی طرف دھکیل دیا گیا۔ ان سخت جانوں کی اکثریت نے اردن جاکر آرام دہ زندگی گزارنے کے بجائے امیدِ بہار پر شجرِ فلسطین سے پیوستہ رہنے کو ترجیح دی اور وہیں خیمے گاڑ لئے۔وقت کے ساتھ فوجی مورچے، نشانہ بازی کے میدان اور عسکری تنصیبات کی 'ضرورت' بڑھتی رہی، یا یوں کہیے کہ  فلسطینیوں کے مکانات اجڑتے اور خیمے آباد ہوتے رہے ۔ امریکہ نے بکمالِ مہربانی ان خیموں کیلئے خطیر رقم عطافرمائی۔  

جنگِ رمضان (1973) میں شکست کے بعد عرب اور مسلمان دنیا مایوسی کے گرداب میں ڈوب گئی اور تصادم  کے بجائے تعاون وپرامن بقائے باہمی کا بیانیہ تصنیف ہوا۔مصر کے سابق صدر انوارالسادات اور اردن کے فرمانروا شاہ حسین اس بیانیے کے مصنفین شمار ہوتے ہیں۔تحریک آزادی فلسطین کے سربراہ جناب یاسر عرفات ابتدا میں اس حکمت عملی کے خلاف تھے لیکن جلد ہی انھیں بھی زمینی حقائق کا 'ادراک' ہوگیا۔ اسرائیلی سمجھ گئے کہ امن کی خواہش عربوں کا اعترافِ شکست اور شاخِ زیتون درحقیقت دستبرداری اور سپردگی کا علَم ہے۔

گزشتہ صدی کے اختتام پرانتہا پسند اسرائیلی سیاست پر غالب آگئے، دوسری جانب نائن الیون (9/11)نے  ساری دنیا کے مسلمانوں کو دیوار سے لگادیا۔ مشرق وسطٰی سے مشرقِ بعید تک مسلم اکثریت کے چھوٹے بڑے تمام ملکوں کی خودمختاری عملاً تحلیل ہوگئی اور چند ایک کے سوا سب ہی 'دہشت گردی کے خلاف جنگ' کا ہراول دستہ بن گئے۔ فلسطین کی تحریک آزادی سمیت اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والے مسلمان 'مہذب' دنیا کے نظر میں مشکوک قرار پائے۔

اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل نے مقبوضہ عرب علاقوں کی ہئیت تبدیل کرکے اس  ریاست اسرائیل کا حصہ بنانا شروع کردیا۔ وادیِ اردن قدیم عبرانی نام یہود ویشمرون یا یہود والسامرہ سے موسوم کردی گئی۔ اسکا عبرانی مخفف یوش ہے۔ اسرائیلی مورخین کے مطابق سامریہ حضرت سلیمانؑ کی شمالی اور یہودا حضرت کی جنوبی سلطنت کا حصہ تھا۔ اسرائیلیوں کا یہ دعوی اس اعتبار سے غلط ہے کہ لفظ 'یہودی' بعثتِ حضرت عیسیؑ کے بعد ایجاد ہوا ہے۔ اس سے پہلے یہودی مذہب کے ماننے والے خود کو بنی اسرائیل (حضرت یعقوبؑ کی اولاد)کہتے تھے۔ حضرت عیسیؑ کی نبوت کا انکار کرنے والوں نے اپنے کو یہودی کہنا شروع کیا۔

انتہاپسند بن یامین نیتھن یاہو نے وزیراعظم بنتے ہی 2009 میں علاقے کو یوش کہنا شروع کیا۔ پینسٹھ سال سے یہاں مارشل لا نافذ ہے۔ یہ علاقہ قانونی طور پر اسرائیل کا حصہ نہیں اور ریاست کے سرکاری نقشوں میں بھی یہودا اور سامریہ کو مقبوضہ علاقہ دکھایا جاتا ہے۔ عرب باشندے دریائے اردن کے دونوں کناروں کو فلسطینی ریاست کا حصہ سمجھتے ہیں۔ خوداسرائیلی عدالت نے مشرقی یروشلم کے علاوہ پوری وادی کو مقبوضہ علاقہ قرار دیا ہے۔ امریکہ، عالمی عدالتِ انصاف اور ایمنسٹی انٹرنیشنل  بھی دریائے اردن کے دونوں کناروں کو فلسطینی ریاست کا حصہ گردانتے ہیں۔ دوسری مدت کا انتخاب جیتنے کے بعد 2013 میں امریکی صدر اوباما نے واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل و فلسطین دو آزاد و خودمختار ریاستوں کے حامی ہیں اور انکے خیال میں مشرقی یروشلم فلسطین کا دارالحکومت ہوگا۔

ستمبر 2014 میں اسرائیلی کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے آئین و قانون نے  یہودا اور السامریہ کی وادیوں کو اسرائیلی ریاست کا حصہ بنادینے کی قرارداد منظور کی۔ اجلاس کے صدر نیتن یاہو کی منت سماجت کے باوجود اجلاس میں موجود سات میں سے تین ارکان نے اس تجویز کو اقوامِ عالم کی امنگوں کے خلاف قراردیتے ہوئے مخالفت میں ہاتھ بلند کئے۔ان 'باغیوں' کی قیادت وزیر انصاف محترمہ زپی لوینی (Tzipi Livini)کررہی تھیں۔ لوینی صاحبہ فلسطینیوں سے مذاکرات کرنے والے اسرائیلی وفد کی سربراہ تھیں۔ انھوں نے قرارداد کو غیر منصفانہ اور اسکی حمائت کرنے والے وزرا کو انتہائی غیر ذمہ دار قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ مہذب دنیا اس بِل کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور یہ طرز عمل قوموں کی برادری میں اسرائیل کو تنہا کردیگا۔اس مبنی برحق اور منصفانہ طرز فکر و عمل پر لوینی صاحبہ سیاسی اعتبار سے سنگسار کردی گئیں۔انھوں نے امن و انصاف کیلئے  'مبارک تحریک' (عبرانی نام حسنوا )کے نام سے علیحدہ سیاسی جماعت کھڑی کی لیکن 'غدار' زپی کو شدید عوامی ردعمل کا سامنا کرناپڑا حتٰی کی 2019 کے آغاز میں 63 سالہ زپی لوینی سیاست سے کنارہ کش ہوگئیں۔ آجکل موصوفہ اپنازیادہ وقت امریکہ میں گزارتی ہیں۔

قرارداد پر بحث کے دوران وزیر داخلہ گدیون سعر ((Gideon Saar نے نفرت انگیز گفتگو کرتے ہوئےکہا  کہ یہودا اور سامریہ قدیم سلطنت اسرائیل کا حصہ ہے اور موجودہ ریاست اسرائیل سےا سکا انضمام فطری ہے۔ علاقےمیں آزاد فلسطینیوں کے بارے میں مسٹر سعر نے بڑی ڈھٹائی سے کہا کہ اگر عربوں کو اسرائیلی حاکمیت  پسند نہیں تو وہ مصر، اردن، لبنان اور شام کہیں بھی جاسکتے ہیں۔کچھ عرصہ پہلے جب نیتن یاہو کا اقتدار ڈگمگایا تو سعر صاحب نے 'امیدِ نو' کے نام سے نئی جماعت بنالی جسکو گزشتہ عام انتخابات میں 6 نشستیں ملیں، موصوف آجکل وزیرانصاف ہیں۔

یہی وہ وقت تھا جب صدر محمد مورسی کی  معزولی کے بعد مصری حکومت نے غزہ کی سخت ناکہ بندی کردی تھی جسکی وجہ سے غزہ کیساتھ مشرقی کنارے پر اشیائے ضرورت اور غذائی اجناس کی قلت نے فلسطینیوں کو شدید مشکلات میں مبتلا کررکھاتھا۔ حزب اللہ شام کے اندرونی معاملات میں الجھی ہوئی تھی۔ شیعہ سنی تعصب نے فلسطینیوں کو ایران کی حمائت سے محروم کردیاتھا اورامداد کے راستے مسدود ہونے کے بعد فلسطینی خود کو بہت تنہا محسوس کر رہے تھے۔اسرائیلی کے عسکری ماہرین کا خیال تھا  کہ یہ فلسطینیوں پرفیصلہ کن ضرب لگانے کا مناسب وقت ہے کہ اُن کیلئےصیہونی فوج کی موثر  مزاحمت ممکن نہیں۔

امریکہ نے اس فیصلے کی مخالفت بلکہ شدید مذمت کی اور صدر اوباما کا 'ناراضگی سے بھرا پیغام 'لے کر امریکی وزیر خا رجہ جان کیری بنفس نفیس  تل ابیب تشریف لائے لیکن نیتھن یاہو نے صاف صاف کہدیا کہ اب یہ معاملہ پارلیمان میں ہے اور وہ مداخلت نہیں کرسکتے۔

اسوقت سے اب تک غرب اردن سے فلسطینیوں کو بیدخل کرکے تعمیر   کی جانیوالی  250 بستیوں میں  ساڑھے سات لاکھ اسرائیلیوں کو بسایا گیا ہے۔ ان کالونیوں  کو  فلسطینی آبادی سے الگ  رکھنے  کیلئے درمیان  میں کنکریٹ کی  بلندوبالا دیوار کھڑی کی گئی ہے جسے امریکہ کے سابق صدر جمی کارٹر apartheid wall  کہتے ہیں۔

مقبوضہ عرب علاقوں میں نئی بستیوں کے قیام کا حالیہ اعلان اُس 'اقلیتی' حکومت نے کیا ہے جو اسلامی خیالات کی حامل رعم پارٹی کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے۔ وزیراعظم نیفتالی بینیٹ کو 120 کے ایوان میں 60 ارکان کی حمائت حاصل ہے جن میں رعم کے چار ارکان شامل ہیں۔
سابق صدر اوباماکی طرح صدر بائیڈن کو بھی اس اعلان پر 'سخت تشویش' ہے۔   معلوم نہیں واشنگٹن لاچار  ہے جسکی وجہ سے اسرائیل انکے بیانات  کو پرِ کاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دیتا یا مکار کہ سب کچھ باہمی رضامندی سے ہورہاہے اور بیان بازی نُوراکُشتی کا حصہ ہے۔
گزشتہ سال اکتوبر میں جب   3000اسرائیلی مکانات کی تعمیر کی منظور ی دی  گئی تو  امریکی وزارت خارجہ نے اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  'فلسطینی اراضی پر اسرائیلی بستیوں کا قیام ،  کشیدگی  میں کمی  اور بحالیِ  امن کیلئے کی جاری   کوششوں سے  مطابقت نہیں رکھتا'۔ اشک شوئی کیلئے اسرائیل نے  تعمیر کا کام وقتی طور پر موخر کیا اور چند ماہ بعد منصوبہ مکمل کرلیا گیا۔

صدر بائیڈن اگلے ماہ سرکاری دورے پر اسرائیل جارہے ہیں اور قصرِ مرمریں کی  ترجمان نے کہا تھا کہ بستیوں کی تعمیر پر پابندی اسرائیل یاترا کی ایک شرط ہے۔ خیال ہے کہ نوکرشاہی کے حیلوں سے   تعمیر کا کام موخر کرکے امریکی صدر کو شرمندگی سے بچنے کا موقع فراہم کیا جائیگا۔  اسلئے  کہ'   ُسپر پاور' کے سُپر رہنما  میں دورہِ اسرائیل  منسوخ کرنے کی ہمت نہیں  چنانچہ تعمیرات  کو چند دن موخر کرکے  خیالِ خاطرِ احباب  کا اہتمام کیاجارہا ہے۔

امریکہ کے ردعمل پر سخت اشتعال کا اظہار کرتے ہوئے حکمراں جماعت کے رکنِ پارلیمان  نیر اورباش (Nir Orbach)نے کہا کہ  جو لوگ يہودا  والسامرة کو اسرائیل کا حصہ نہیں مانتے انھیں یہاں  آنے کی ضرورت نہیں۔اسی لہجے میں بات کرتے ہوئے وزیرداخلہ محترمہ  ایلٹ شیکڈ نے کہا کہ یہودا اور سامرہ میں یہودیوں کی آبادکاری  ہماری سالمیت و خودمختاری کا استعارہ، فطری ضرورت  اور بنیادی حق ہے  جس پر بات چیت کی کوئی ضرورت نہیں۔

لاکھوں لوگوں کو انکے آبائی گھروں سے نکال کر بھیڑ  بکریوں کی طرح خیموں  کی طرف ہنکادینا  آزاد انسانوں کوغلام بنادینے کے برابر ہے۔ جس پر دنیا کی خاموشی  تو  غیر متوقع نہیں کہ مہنگائی کے اس دور میں  خون اورآبروئے  مسلم سب سے بے قدرو بے وقعت ہے لیکن حیرت ان روشن خیال مسلمانوں پر ہوتی ہے  جو سمجھتے ہیں کہ یہ سب  کچھ فلسطینیوں کی انتہاپسندی کا نتیجہ ہے۔ وسائل کی کمی کی بنا پر فلسطینی بے دخلی کی مزاحمت نہیں کرسکیں گے لیکن احساسِ محرومی اور اشتعال خودکش بمباروں کو جنم دے سکتا ہے۔ اسرائیلی قیادت کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ محض فوجی برتری اور قوت قاہرہ سرحدوں کو محفوظ نہیں رکھ سکتی۔ فلسطینیوں کو گھیر کر مارنے اور دیوار سے لگانے کے سنگین نتائج برآمد ہونگے۔ پرامن بقائے باہمی میں ہی سب کا بھلاہے۔ صدر بائیڈن کو چاہئے کہ اپنے دورے میں یہ پیٖغام اسرائیلی قیادت کو پہنچادیں کہ صاحبِ نظراں نشہِ طاقت ہے خطرناک

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 13 مئی 2022

ہفت روزہ دعوت دہلی 13 مئی 2022

روزنامہ امت کراچی 13 مئی 2022

ہفت روزہ رہبر، سرینگر 15 مئی 2022

روزنامہ قومی صحافت لکھنو


 

Thursday, May 5, 2022

کون کہتا ہے کہ ہم تُم میں جُدائی ہوگی؟ْ خلیج عرب وفارس میں پائیدار امن کی امیدِ موہوم

کون کہتا ہے کہ ہم تُم میں جُدائی ہوگی؟ْ

خلیج عرب وفارس میں پائیدار امن کی امیدِ موہوم

گزشتہ چند ماہ سے خلیجی ممالک اور ترکی کے درمیان پسِ پردہ بات چیت یا بیک ڈور ڈپلومیسی کی جو خبریں آرہی تھیں، انکی رمضان کے آخر میں تصدیق ہوگئی جب ترک صدر طیب رجب ایردوان، شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی خصوصی دعوت پر سعودی عرب پہنچے۔ اس دورے میں شاہی خاندان اور سعودی حکومت نے ترک صدر کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ دوسری جانب صدرایردوان نے بھی شاہ سلمان کیلئے حد درجہ عزت وحترام کا مظاہرہ کیا۔ سعودی بادشاہ کو ضعیف العمری کی وجہ سے چلنے میں مشکل ہوتی ہے چنانچہ شاہی محل کے لان  پر استقبالیہ تقریب کے بعد وہاں سے محل کے اندرجاتے ہوئے ترک صدر نے شاہ سلمان کی کہنی کو  آہستگی سے سہارا دیا جس سے گھر کے بزرگ کے ساتھ احتراماً سرجھکاکر چلنےکا تاثر پیدا ہوا۔ شاہی خاندان میں صدر ایردوان کی اس وضع داری کو بہت پسند کیا گیا۔ سعودیوں نے ترک صدر کیلئے خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے دروازے کھولدئے جو سعودیوں کے یہاں مہمانوں کی عزت افزائی کی علامت ہے۔ڈھائی ماہ پہلے صدر ایردوان کے دورہِ متحدہ عرب امارات میں بھی میزبانوں کی طرف اسی قسم کی گرمجوشی نظر آئی تھی۔

ترکوں اور آلِ سعود کے درمیان چپقلش کا آغاز عثمانی دور سے جاری ہے۔ اس دوران امام عبدالوہاب (ر) کی فکر سے متاثر، خاندانِ سعود اور ترکوں میں کئی خونریز تصادم ہوئے تاہم جب 1932 میں المملکۃ السعودیہ کے نام سے آزاد ریاست قائم ہوگئی تو ترکی کے صدر کمال اتاترک نے سعودی عرب کو تسلیم کرکے مکمل سفارتی تعلقات قائم کرلئے۔ ابتدا میں ان دونوں ملکوں کے تعلقات بہت عمدہ رہے اور خارجہ امور پرباہمی مشاورت کا سلسلہ بھی چلتا رہا۔ اسی صلاح و مشورے کا نتیجہ تھا کہ برطانیہ کے شدید دباو کے باوجود سعودی عرب بھی ترکوں کی طرح دوسری جنگ عظیم میں غیر جانبدار رہا۔

ان دونوں ملکوں کے تعلقات میں بال اسوقت پڑا جب شاہ سعود بن عبدالعزیزکا مشورہ رد کرتے ہوئے ترکی 1955 میں امریکہ نواز سینٹو (CENTO)المعروف معاہدہ بغداد کا اتحادی بن گیا۔ سعودی فرمانروا کا موقف تھا کہ دوسری جنگ عظیم میں غیر جانبدار رہنے کی وجہ سے ترکی اور سعودی عرب لڑائی کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہے چنانچہ ہمیں سرد جنگ  سے بھی خود کو دور رکھنا چاہئے لیکن ترک صدر جلال بایار اور وزیراعظم عدنان میندریس کا خیال تھا کہ بحر اسود میں روسی بحریہ کے بڑھتے ہوے اثرورسوخ کے مقابلہ کیلئے مضبوط ترکی کو اتحادیوں کی ضرورت ہے۔ ترکی کیساتھ عراق، ایران، پاکستان اور برطانیہ، امریکہ کی سرپرستی میں بننے والے اس عسکری اتحاد کا حصہ تھے۔ سعودی عرب کے وزیراعظم شاہ فیصل بن عبدالعزیز سینٹو میں شمولیت کے حامی تھے۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ 1962 میں شاہ سعود کی معزولی کے عوامل میں سے ایک نکتہ بغداد معاہدے سے انکار بھی تھا۔

ایران عراق جنگ کے دوران صدام حسین کی پشت پناہی پر دونوں ملک یکسو تھے اور اس دوران سعودی عرب نے ترکی کو نقد مالی مدد بھی فراہم کی۔ امریکہ کے 1991 میں عراق پر حملے کی بھی ان دونوں ملکو ں نے کھل کر حمائت کی اور 2003 کے امریکی حملے کی اصولی مخالفت کے باوجود دونوں نے چچا سام کا ساتھ دیا۔

دسمبر 2010میں تیونس سے طلوع ہونے والی لہرِ آزادی یعنی الربیع العربی (Arab Spring)کے آغاز پران ریاض اور انقرہ کے درمیان دوستی اور دشمنی کا ایک مہین سلسلہ شروع ہوا۔ شام میں بشار الاسد کے خلاف ہونے والی بغاوت میں ترکی اور سعودی سمیت تمام خلیجی ممالک  ہم نوالہ و ہم پیالہ تھے۔ لیبیا اور یمن کے معاملے پر بھی سعودی عرب اور ترکی میں کوئی اختلاف نہ تھا لیکن مصر میں صدر حسنی مبارک کے خلاف عوام جدوجہد سعودی عرب کو پسند نہ آئی اور پھر وہاں عوامی سطح پر اخوان المسلموں کے بڑھتے ہوئے اثر سے خلیجی ممالک میں خطرے کی گھنٹیاں گونج اٹھیں۔پارلیمانی انتخابات میں واضح کامیابی کے بعد جون 2012 میں جب ڈاکٹر محمد مورسی 51.73فیصد  ووٹ لے کر صدر منتخب ہوگئے تو خلیجی ممالک اورترکی کی راہیں جدا ہوگئیں۔

جناب ایردوان نے جو اسوقت ترکی کے وزیراعظم تھے، صدر مورسی کی پشت پر آکھڑے ہوئے۔ آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے عرب ملک میں عوامی قوت سے ایوان اقتدار میں اخوان کا پُروقار داخلہ خلیجی بادشاہتوں کیساتھ اسرائیل اور اسکے امریکی و مغربی اتحادیوں کیلئے بھی تشویش کا باعث بنا۔

اسی کیساتھ تیونس اور مراکش کے انتخابات میں بھی اخوانی فکر سے وابستہ النہضہ اور حزب العدالۃ والتنمیۃ (Justice and Development Party)کامیاب ہوگئیں۔ شمالی افریقہ کا نیا نظریاتی جغرافیہ امریکہ بہادر کیلئے ناقابل قبول تھا چانچہ مغرب کی ایما پر مصر میں سیکیولر اتحاد نے صدر مورسی کے خلاف علمِ بغاوت بلند کردیا اور اس 'کارِ ٰخیر' میں سلفی تحریک النور پیش پیش تھی۔ پارلیمانی انتخابات میں اخوان نے 235 اور النور نے 123 نشستیں حاصل کی تھیں یعنی 508 کے ایوان میں اسلامی قوتوں کا تناسب دوتہائی سے زیادہ تھا۔ لیکن النور، مخلوط حکومت سازی کیلئے اخوان کی دعوت مسترد کرکے سیکیولر قوتوں کے شانہ بشانہ سڑکوں پر آگئی۔فوج اس تحریک کی پشت پر تھی اور 3 جولائی کو جنرل السیسی نے صدر مورسی کا تختہ الٹ دیا۔ 'انتہا پسندی' کے خاتمے کیلئے مصر میں خون کی جو ہولی کھیلی گئی اسکے ذکر کا یہاں موقعہ نہیں۔

سعودی عرب اس کشمکش میں دامے درمے قدمے سخنے جنرل السیسی کی پشت پرتھا تو رجب ایر دوان اخوان کے اتحادی۔ انھوں نے جنرل السیسی کو قاتل اور غاصب کہا۔ سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کے علماکا خیال ہے کہ  اخوان کے معاملے میں ترکی کے دوٹوک روئیے نے  سعودی عرب کی ناراضگی کو صدر ایردوان سے نفرت میں تبدیل  کردیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ 2014 میں سلامتی کونسل کے غیر مستقل ارکان کی نشست کیلئے ہونے والے انتخاب میں سعودی عرب نے کھل کر ترکی کیخلاف مہم چلائی اور انقرہ  سلامتی کونسل میں جگہ نہ پاسکا۔

اخوان کی وجہ سے سعودی عرب اور قطر کے تعلقات میں کشیدگی کا آغاز ہوا  اور 2017 میں محمد بن سلمان المعروف MBSکے ولی عہد بننے کے بعد معاملہ مزید سنگین ہوگیا حتیٰ کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے  فلسطینی حماس  اور اخوان کی پشت پناہی کے الزام میں قطر سے سفارتی تعلقات توڑ کے اپنی فضائی، بری اور ابی سرحدیں قطر کیلئے بند کردیں۔ سابق امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے خلیجی ممالک کی جانب سے قطر کے بائیکاٹ کو 'منطقی' قراردیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کا دور لد گیا اور یہ بات قطر کو اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے۔

ناکہ بندی قطر کیلئے انتہائی تباہ کن ہوسکتی تھی اسلئے کہ خلیج کی یہ ننھی سی ریاست سبزی، گوشت، دودھ دہی اور غلہ سعودی عرب سے خریدتی ہے۔اس موقع پر ترکی کھل کر قطر کی مدد کوآیا اور غذائی اجناس کی فراہمی کیساتھ اس نے قطر کے دفاع کیلئے بحری جہاز اور فوجی بھی وہاں بھیج دئے۔ماہرین کا خیال ہے کہ قطر کی اس تیز رفتار کاروائی کی بناپر MBSنے قطر کیخلاف عسکری مہم جوئی کا ارادہ ترک کردیا۔

سعودی ترک تعلقات میں ایک اور فیصلہ کن موڑ 2018 میں آیا جب واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار جمال خاشقجی استنبول کے سعودی قونصل خانے میں قتل کردئے گئے۔ جمال خاشقجی شاہی خاندان پر سخت تنقید کیاکرتے تھے۔ اس معاملے پر سرکاری موقف کا اظہار کرتے ہوئےسعودی عرب کے اٹارنی جنرل شیخ سعود بن  عبداللہ نے بتایا کہ جمال خاشقجی اپنی چند دستاویزت کی توثیق کیلئے قونصل خانے آئے تھے۔ وہاں انکی کچھ لوگوں سے بحث و مباحثے کے دوران شدید تلخ کلامی ہوئی اور لڑائی کے نتیجے میں جمال خاشقجی جاں بحق ہوگئے۔سعودی اٹارنی جنرل کے مطابق ذمہ داروں کو سزائیں سنادی گئی ہیں۔ ترک حکومت کا اصرار ہے کہ جرم استنبول میں ہوا ہے اسلئے مقدمہ ترکی ہی میں چلنا چاہئے۔ 

لیبیا کے معاملے پر بھی اب سعودی عرب اور ترکی کے اختلافات شدید ہوگئے ہیں۔سعودیوں کا خیال ہے کہ لیبیا کی وفاقی حکومت نظریاتی طور پر اخوان کے زیراثر ہے چنانچہ ریاض، حفتر ملیشیا کی پشت پناہی کررہا ہے۔ اس دہشت گرد ملیشیاکو امریکہ، فرانس اور اسرائیل کی حمائت حاصل ہے۔

دشمن کا دشمن دوست کے اصول پر سعودی عرب نے نگورنوکاراباخ تنازعے میں آذربائیجان کے مقابلے  آرمینیا کی حمائت کی۔ گزشتہ برس اکتوبر میں سعودی عرب، یونان، متحدہ عرب امارات، مصر اور اسرائیل نے طیب ایردوان کو بحر روم، بحراحمر اور خلیج کیلئے نیاخطرہ قراردیا۔سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ نے الزام لگایا کہ صدر ایردوان تجدیدِ خلافتِ عثمانی  کا خواب دیکھ رہے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل صدر ایردوان نے علاقائی اور پڑوسی ممالک سے تعلقات بہتر بنانے کی مہم شروع کی تھی۔ اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ کرونا کے نتیجے میں ترک معیشت شدید دباو میں ہے۔ روس سے فضائی دفاعی نظام خریدنے کی بناپر امریکہ نے انکے ملک پر پابندیاں لگادی ہیں جس سے ترک برامدات متاثر ہورہی ہیں۔

اس سال کے آغاز پر صدر ایردوان نے اپنے اسرائیلی ہم منصب کو خیرسگالی کا سندیسہ بھیجا جس میں دونوں ملکوں کے تعلقات کو بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا گیا تھا۔ اسرائیل کا جواب مثبت تھا اور ایک عرصے بعد ترکی اور اسرائیل نے ایک دوسرے ملکوں میں سفیر دوبارہ تعینات کردئے۔ گزشتہ ماہ اسرائیل کے صدر اسحق ہیزرگ نے ترکی کا دورہ کیا۔ یہ 14 سال بعد دونوں ملکوں کے پہلی اعلی سطحی ملاقات تھی۔

صدرایردوان نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی طرف بھی خیر سگالی کے پیغامات کیساتھ ایلچی بھجوائے ہیں اور قاہرہ سے آنے والے اشارے حوصلہ افزا ہیں۔ فروری میں صدر ایردوان کے دورے کے بعد سے انقرہ اور ابوظہبی کے مابین سلسلہِ پیام و کلام میں باقاعدگی آگئی ہے۔ باخبر ذرایع کے مطابق امارات نے یمنی حوثیوں سے مصالحت کیلئے ترکوں سے ثالثی کی درخواست کی ہے۔

سعودی عرب خود بھی سفارتی سطح پر مشکلات کا شکار ہے۔ امریکہ کانگریس میں جمال خاشقجی قتل کی آزادنہ تحقیقات کا مطالبہ جڑ پکڑ رہا ہے۔ یمن میں خونریزی ، شہری آبادیوں پر بمباری اور جنگ کے نتیجے میں قحط نے ایک انسانی بحران پیدا کردیا ہے اور اب درجنوں اراکینِ کانگریس سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اسلحہ کی فروخت روکنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

اس تناظر میں ریاض اب یمن کی بے نتیجہ و بے مقصد جنگ سے پیچھا چھڑانا چاہ رہا ہے۔ اسی کیساتھ ریاض سے آنے والے اشاروں سے لگتا ہے کہ MBSترکی اور ایران سے تعلقات کو معمول پر لانے یا کم از کم کشیدگی ختم کرنے کے خواہشمند ہیں۔ صدرایردوان کو رمضان کے آخری عشرے میں دورے کی دعوت اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا دونوں جانب سے گرمجوشی کااظہار بہت واضح اور غیر مبہم تھا۔ صدر ایردوان کے حالیہ دورہ سعودی عرب کا خیرمقدم کرتے ہوئے امارات کے ولی عہد محمد بن زید (MBZ)نے کہا کہ 'بھائیوں' کے درمیان بے تکلف ملاقاتوں سے علاقے میں امن و استحکام کی کوششوں کو تقویت حاصل ہوگی۔

اسی کیساتھ سعودی عرب نے یمن کے ایران نواز  حوثیوں کی طرف شاخ زیتون لہرانی شروع کردی ہے۔ جس دن صدرایردوان،  سعودی عرب آئے اسی روز سعودی نواز خلیجی اتحاد کے عسکری سربراہ  جنرل  ترکی المالکی  نے 163حوثی  جنگی قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کردیا۔ یہ قیدیوں کا تبادلہ نہیں بلکہ خیرسگالی کا یکطرفہ مظاہرہ ہے۔ حوثیوں نے اس پر کسی غیرمعمولی خوشی یا جوابی اقدام کا اعلان نہیں کیا لیکن سعودی پرامید ہیں کہ اس خونریزی کا پرامن خاتمہ بعید از قیاس نہیں۔ یہ جنگ 2015سے جاری ہے جس نے یمن کو عملاً کھنڈر بنادیا ہے۔

مشرق وسطٰی کے تنازعات، جہاں پیچ در پیچ اور حددرجہ گنجلک ہیں وہیں تقریباً ہر جگہ طاقتور غیر ملکی طاقتوں کے اثرات بھی ہیں۔ فرقہ وارانہ رنگ نے معاملے کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ مردانِ صف شکن کیساتھ کئی کلیدی و تزویراتی موڑ پر پردہ نشینوں نے دام ہمرنگ زمین بچھا رکھے ہیں یا یوں کہئے کہ  رنگیں آنچل  اور چلتے پھرتے سائے اِدھر سے اُدھر کوندتے پھررہے ہیں۔

ان تنازعات کے کچھ فریق پُرجوش، بعض تذبذب کا شکار جبکہ ایک بڑی تعداد شکوک و شبہات اورا ندیشہ ہائے دراز میں مبتلا ہے لیکن یہ تمام 'کھلاڑی' بے مقصد لڑائی سے اکتائے ہوئے لگ رہے ہیں۔یہی اس معاملے کا خوش آئند ہے تاہم موہوم اشاروں سے امیدیں وابستہ کرلینا مناسب نہیں کہ راستہ مخصوص مفادات کی بارودی سرنگوں اور مذہبی منافرت کے ٹائم بموں سے پٹا پڑا ہے۔

ہفت روزہ دعوت دہلی 6 مئی 2022

روزنامہ امت کراچی 6 مئی 2022

ہفت روزہ رہبر 8 مئی 2022

روزنامہ قومی صحافت لکھنو