Thursday, February 13, 2025

 

اسرائیل فوج غزہ کو تقسیم کرنے والی نظارم راہدری سے پسپا

اسرائیل کے مختصر رقبے پر امریکی صدر کو تشویش

پیجر بربریت کا جشن، امریکی صدر کو طلائی پیجر کا تحفہ

اسرائیلی رکن پارلیمان کی جانب سے جلاوطنی منصوبے کی سخت مزاحمت کا اعلان

سابق اسرائیلی وزیردفاع کی آمد پر شکاگو میں مظاہرہ

اہل غزہ کے مثالی صبر و ضبط کا اعتراف

اسرائیلی و فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ جاری ہے۔آٹھ فروری کو قیدیوں کے پانچویں تبادلے کے بعد آزادی پانے والے اسرائیلی قیدیوں کی تعداد 16 ہوچکی ہے اور اگر اس میں تھائی لینڈ کے پانچ باشندوں کو شامل کرلیا جائے تو تادم تحریر،  مزاحمت کار  21 قیدی رہا کرچکے ہیں جسکے جواب میں چھوٹے  بچوں ، کمسن بچیوں اور عورتوں سمیت 766 فلسطینی نجات پاگئے۔عقوبت کدوں میں بند ان لوگوں کو رہائی سے پہلے غزہ کی تباہی پر مشتمل ڈھائی منٹ کا ایک بصری تراشہ دکھایاگیا۔ یہ خوفناک فلم ان قیدیوں کو دہشت زدہ کرنے کیلئے ہے کہ 7 اکتوبر کو طوفان اقصٰی اٹھانے کی اہل غزہ کو کتنی بھاری قیمت اداکرنی پڑی ہے۔

اس ہفتے غزہ کو تقسیم کرنے والی نظارم راہداری (Netzarim Corridor)سے اسرائیلی فوج کا انخلا مکمل ہوگیا۔غزہ پر جزوی قبضے کے بعد اسرائیل نے سمندر تک ساڑھے ڈیڑھ کلومیٹر چوڑی پکی سڑک تعمیر کرکے پٹی کو دوحصوں میں تقسیم کردیا تھا۔ کہنے کو تو یہ سڑک ہے لیکن ساڑھے چھ کلومیٹر لمبی اس شاہراہ پر ٹینکوں کی قطار کھڑی کرکے اسرائیل نے اسے آہنی دیوار بنا دیا تھا۔ اہل غزہ کا اصرار تھا کہ امن معاہدے کے دوسرے مرحلے پر مذاکرات سے پہلے نظارم راہداری خالی کی جائے۔

اس ہفتے اسرائیلی وزیراعظم کا دورہ واشنگٹن اور امریکی صدر کا غزہ پر قبضہ جمانے کا ارادہ بلکہ خبط ذرایع ابلاغ پر چھایا رہا۔جناب نیتن یاہو المعروف بی بی  کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ سلطانی ٹرمپ کے دورِثانی میں امریکہ آنے والے پہلے غیر ملکی سربراہ ہیں۔ تین فروری کو روانگی سے پہلے تل ابیب کے بن گوریان ائرپورٹ پر صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے معنی خیز انداز میں کہا کہ  ٹرمپ انتظامیہ مشرق وسطیٰ کو ازسرنو ترتیب دے سکتی ہے اور ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں جناب ٹرمپ نے غزہ پر امریکی قبضے کی خواہش ظاہر کرکے نئے نقشے کی رونمائی کردی۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے فرمایا کہ 'دنیا اگر میری میز ہے تو اس میں اسرائیل کا رقبہ میرے صدارتی قلم کی نب سے بھی کم ہے'

ٹرمپ اقتدار کے موجودہ دور کی خصوصیت انکی توسیع پسندانہ خواہش کا برملا اصرار اور تکرار ہے۔ وہ کئی بار کینیڈا کو امریکہ کی اکیانویں ریاست بنانے کی آرزو بیان کرچکے ہیں۔امریکی صدر ڈنمارک سے گرین لینڈ خریدنا اور وہ نہرپانامہ پر امریکی پرچم لہرانے کا عزم رکھتے ہیں۔حلف اٹھاتے ہی انھوں نے خلیج میکسیکو کا نام خلیج امریکہ رکھدیا۔تاہم غزہ پر قبضے کے بارے میں امریکی صدر بے سنجیدہ لگ رہے ہیں۔

بی بی سے  ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا

  • غزہ کے لوگ جہنم میں جی رہے ہیں، یہ رہنے کی جگہ نہیں رہی۔انہیں کسی اور جگہ جانے کی ضرورت ہے۔ غزہ کی سرنگوں اور دیگر جگہوں پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک انتشار ہے۔ غزہ میں ہے کیا موت اور تباہی کے سوا؟۔ ہم چاہتے ہیں کہ غزہ کے لوگوں کو مستقل طور پر اچھے گھروں میں آباد کیا جائے، جہاں انہیں غزہ کی طرح گولیوں یا قتل کا سامنا نہ ہو۔
  • مصر اور اردن نے مطلع کیا ہے کہ وہ غزہ کے باشندوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، لیکن کچھ دوسرے ممالک نے ان کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔
  • ہم امن چاہتے ہیں اور قتل و غارت روکنے کے خواہاں ہیں اور یہی نتن یاہو بھی چاہتے ہیں۔نتن یاہو نے (غزہ میں) اچھا کام کیا ہے ، ہماری دوستی پرانی ہے۔آخر میں ڈھٹائی کیساتھ یہ بھی کہدیا کہ 'میں نوبل امن انعام کا حق دار ہوں، لیکن شرمناک بات کہ مجھے یہ انعام کبھی نہیں ملے گا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ غزہ پر قبضے کیلئے امریکی فوج بھیجیں گے؟ توانھوں نے سپاٹ لہجے میں کہا کہ 'ہم وہ کریں گے جو ضروری ہوگا.ہم اس ٹکڑے کو سنبھالنے جا رہے ہیں جسے ہم ترقی دیکر صحت افزا Rivieraبنائینگے۔ امریکہ غزہ کو اپنے ہاتھ میں لے کر اسکی تعمیر نو کرنا چاہتا ہے، جسکے بعد سے ایک کھلا عالمی علاقہ بنا دیا جائے گا اورتعمیر نو کے بعد فلسطیینی سمیت دنیا بھر کے لوگ وہاں رہ سکیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ غرب اردن کے اسرائیل سے الحاق کی حمایت کرینگے؟ تو صدرٹرمپ نے کہا کہ وہ اس سوال کا جواب تین چار ہفتوں کے بعد دینگے۔اگراس معاملے کو اسرائیلی رقبے  کے حوالے سے انکے شکوے کے تناظر میں دیکھا جائے تو جواب کیلئے تین ہفتہ انتظار کی زخمت فضول لگ رہی ہے۔

اس دورے کا سب سے شرمناک مرحلہ تحائف کا تبادلہ تھا۔نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو ایک طلائی پیجر Pagerبطور تحفہ پیش کیا۔ گزشتہ برس ستمبر میں اسرائیل نے بارود بھرےہزاروں پیجر لبنان بھیجے تھے۔ان پیجروں کے پھٹنے سے سینکڑوں مزاحمت کار اور عام شہری جاں بحق ہوئے تھے۔ صدر ٹرمپ نے یہ تحفہ شکرئیے کے ساتھ وصول کرتے ہوئے اس بربریت کو “شاندار آپریشن “ قراردیا۔جواب میں صدر ٹرمپ نے دورے کی ایک تصویر مہمان  کو پیش کی جس پر انھوں نے اپنے ہاتھ سے لکھا  'بی بی عظیم لیڈر'

غزہ پر قبضے کے عزم کی ساری دنیا نے ایک آواز ہوکر مخالفت بلکہ مذمت کی ہے۔امریکی ڈیموکریٹک کے سینیر رہنما سیننٹر رچرڈ بلیو منتھال نے اسے احمقانہ اور انتہائی خطرناک تجویز قراردیا، واضح رہے کہ بلیو منتھال صاحب ایک راسخ العقیدہ یہودی ہیں۔سینیٹر کرس وین ہولن نے سوال کیا کہ معاشرتی تطہیر کو امن منصوبہ کیسے کہا جاسکتا ہے؟جبکہ سینیٹر کرس مرفی کے خیال میں غزہ پر امریکی حملہ قتل عام کا سبب بنے گا۔مقبوضہ فلسطین کے بارے میں اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے کہا ہے کہ ٹرمپ کا منصوبہ غیر قانونی، غیر اخلاقی، مکمل طور پر غیر ذمہ دارانہ اور 'بین الاقوامی جرم" کے ارتکاب کی ایک مکروہ شکل ے

آسٹریلیا کے وزیراعظم انتونی البانیز ، کینڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، ناروے، چین اور روس کی وزارت خارجہ نے صاف صاف کہاکہ آزاد فلسطینی ریاست ہی مسئلے کا منطقی حل ہے، غزہ سے فلسطینیوں کی بیدخلی قابل قبول نہیں۔مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات،اردن ، قطر اور مقتدرہ فلسطین(PA) کے وزرائے خارجہ نے اپنے امریکی ہم منصب مارکو روبیو کے نام مشترکہ خط میں غزہ سے فلسطینیوں کی بیدخلی کے خیال ہی کو شرمناک قراردیا۔ ہسپانوی وزیرخارجہ ہوزے البارز نے کہا کہ غزہ، اہل غزہ کا اور فلسطینی ریاست کا حصہ ہے۔ انکی ملک بدری عالمی برادری کیلئے ناقابل قبول ہے۔ا س بیان پر جناب البارز کے اسرائیلی ہم منصب نے برہم ہوکر فرمایا'اسپین کو بہت ہمدردی ہے تواہل غزہ کو اپنے ملک میں جگہ دیدے'

اور تو اور اسرائیلی عسکری انٹیلیجبس کے سربراہ میجر جنرل سلام بائنڈر نے کہا کہ اس سے غزہ کیساتھ مغربی کنارے سمیت تمام عرب علاقوں میں پُر تشدد سرگرمیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اسرائیلی چینل 13 کے مطابق جنرل صاحب کی اس بات پر وزیردفاع اسرائیل کاٹز سخت برہم ہیں اور انھوں نے فوج کے سربراہ سے جنرل بائنڈر کی گوشمالی کرنے کو کہا ہے۔

اس معاملے پر عالمی صف بندی بڑی واضح ہے۔ ہالینڈ کے متعصب رہنما گیرت وائلڈرز نے اپنے ٹویٹ پیغام میں کہا ''بالکل درست جناب ڈانلڈ ٹرمپ۔ میں ہمیشہ سے کہتا آیا ہوں کہ،اردن فلسطین ہے، فلسطینیوں کو اردن جانے دیں، غزہ کا مسئلہ حل ہوجائیگا'۔ہنگری کے انتہاپسند وزیراعظم وکٹر اوربن نے بھی غزہ سے فلسطیینیوں کے جبری انخلاکی حمائت کی ہے تاہم اوربن صاحب نے اسکے حق میں کوئی دلیل پیش کرنے کے بجائے اپنے یورپی اتحادیوں کو یہ کہہ کر ڈرایا کہ Trump Tornadoیا ٹرمپ طوفان کا مقابلہ آسان نہیں۔

صدر ٹرمپ تو غزہ پر قبضے کی 'خواہش' سے دستبردار ہوتے نظر نہیں آتے لیکن انکے مشیروں نے وضاحتوں کی شکل میں حفاظتی دیوار کھڑی کرنی شروع کردی ہے۔قصر ابیض کی ترجمان کیرولین لیوٹ (Karoline Leavitt)نے کہا کہ 'امریکی صدر کہہ چکے ہیں کہ  تعمیر نو کے دوران وہاں کے باشندوں کو عارضی طور پر غزہ سے باہر منتقل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس وقت یہ جگہ کسی بھی انسان کے رہنے کے قابل نہیں'۔ دوسرے دن وضاحتوں کے غبارے کو سوئی چبھوتے ہوئے صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کے اپنے چبوترے Truth پر لکھا کہ جنگ کے اختتام پر، اسرائیل غزہ کی پٹی امریکہ کے حوالے کر دےگا۔ امریکہ، دنیا بھر کی عظیم ترقیاتی ٹیموں کے ساتھ آہستہ آہستہ اور احتیاط سے اس کی تعمیر کا آغاز کرے گا جو زمین پر اپنی نوعیت کا سب سے بڑا اور سب سے شاندار رہائشی اور تفریحی مقام ہوگا۔ اس کام کیلئے امریکہ کے کسی فوجی کی ضرورت نہیں ہوگی اور اس سے خطے میں استحکام آئے گا!!۔ ایک دن بعد فرمایا کہ غزہ کو عظیم تفریح گاہ اور پُر تعیش رہائشی علاقے میں تبدیل کرنے کی انھیں کوئی جلدی نہیں۔

غزہ کیساتھ غرب اردن کی حالت بھی بہت خراب ہے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت کے سابق مشیر نمرود نووک (Nimrod Novik) نے کہا کہ ہم جنین اور غرب اردن میں جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ مغربی کنارے کو غزہ بنانے کی ایک منظم مہم ہے۔

بہت ہی کم تعداد میں لیکن کچھ اسرائیلی بھی نسل کشی کی کھل کر مذمت کررہے ہیں۔ یہودی رکن کینیسہ (پارلیمان)،جناب عوفر کسیف نے ایوان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ 'عربوں کی جلاوطنی ناقابل قبول ہے،ہم اس کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ چاہے اسکے لئے ہمیں ٹرکوں کے نیچے لیٹنا یا پلوں کو اڑانا پڑے۔ اس جرات رندانہ پر کنیسہ کی مجلسِ قائمہ برائے اخلاقیات نے عوفر کی رکنیت معطل کردی۔ جس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے عوفر کسیف نے ٹویٹر پر لکھا'یہ گھناؤنا فیصلہ میری زبان پر تالہ نہیں لگا سکتا۔ میں غزہ میں جنگی جرائم، قحط اور قتل عام پر کبھی خاموش نہیں رہوں گا'

اسرائیل کے خلاف مظاہروں پر انجام بد کی صدارتی دھمکیوں کے باوجود امریکہ میں بھی نسل کشی کے مجرموں کا تعاقب جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے سابق اسرائیلی وزیردفاع یوف گیلنٹ کی شکاگو آمد پر لوگوں نے جنگی جرائم کے مرتکب کو گرفتار کرو کے نعرے لگائے۔ انصاف پسند یہودی بھی انشے ایمت معبد (Synagogue) کے سامنے مظاہرے میں شریک ہوئے۔

گفتگو کے اختتام پر اہل غزہ کے بلند اخلاقی پہلو کا ذکر، جسکا اعتراف عالمی امدادی اداروں نے کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق خوراک اور امدادی سامان لیکر روزانہ 600 ٹرک غزہ آرہے ہیں لیکن 19 جنوری سے آج تک ایک بھی ٹرک لوٹا نہیں گیا۔ یہ ٹرک اقوام متحدہ کےگوداموں میں مال اتارتے ہیں جہاں سے راشن کارڈ پر سامان تقسیم ہوتا ہے۔ نظام کے تباہ و برباد ہوجانے کے باوجود مزاحمت کاروں نے لوگوں کو راشن کارڈ بناکر دیے ہیں جن پر درج تفصیل کے مطابق خاندانوں کو سامان دیا جاتا ہے۔ سترہ سو جوانوں پر مشتمل پولیس سرگرم ہے جنکے کیلئے گزشتہ دوہفتوں میں اٹھارہ تھانے بنائے گئے ہیں۔ گویا فاقہ کش اہل غزہ صرف برستی آگ کے سامنے ہی ثابت قدم نہیں رہے بلکہ پیٹ کی آگ بھی انھیں آپے سے باہر نہیں کررہی۔ دوسری طرف لاس اینجلس میں آتشزدگی کے دوران لوٹ مار، چوری اور اب انشورنس کے جعلی دعووں کی کہانیاں عام ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 14 فروری 2025

ہفت روزہ دعوت دہلی 14 فروری 2025

روزنامہ امت کراچی 14 فروری 2025

ہفت روزہ رہبر سرینگر 16 فروری 2025


 

Thursday, February 6, 2025

 

غزہ عارضی جنگ بندی پر عملدرآمد جاری

مزاحمت کاروں نے قیدیوں کی رہائی کو اسرائیل کیلئے ذلت آمیز تماشہ بنادیا

نیتن یاہو نے حکومت برقرار رکھنے کیلئے حزب اختلاف سے مدد مانگ لی

اہل غزہ نے اہم کمانڈروں اور قائدین کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی

صدر ٹرمپ اہل غزہ کو وطن بدر کرنے کے لئے پرعزم

جامعہ نیویارک کے اساتذہ نے اسرائیل کے بائیکاٹ کی قرارداد منظور کرلی

گرفتاری کے خوف سے اسرائیلی وزیر کا دورہ بیلجیم منسوخ

جامعہ مشیگن نے فلسطینیوں کی حمائت کرنے والی طلبہ تنظیم کو دوسال کیلئے معطل کردیا

غزہ میں عارضی فائربندی پر عملدرآمد جاری ہے۔یکم فروری کو مزید تین اسرائیلی رہا کردئے گئے۔اب تک تھائی لینڈ کے پانچ باشندوں سمیت 18 قیدی رہا کئے جاچکے ہیں۔ دومارچ کو 6 ہفتوں پر مشتمل پہلا مرحلہ مکمل ہونے تک   1904 فلسطینی قیدیوں کے عوض 33 اسرائیلی رہا کئے جانے ہیں۔

اہل غزہ کی طرف سے معاہدے پر اسکی روح کے مطابق عمل ہورہا ہے۔ معاہدے کے تحت اسی ہفتے دوسرے مرحلے کیلئے مذاکرات شروع ہوجانے چاہئیں جس پر مشورے اور ہدایات کیلئے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو المعروف بی بی امریکہ میں ہیں۔یکم فروری کو واشنگٹن روانگی سے قبل تل ابیب کے بن گوریان ایرپورٹ پر اسرائیلی ٹیلی ویژن Kanسے گفتگو کرتے ہوئے بی بی نے کہا 'امریکی دارالحکومت میں ملاقاتوں کا مقصد اسرائیل اور خطے کو درپیش اہم مسائل پر تبادلہ خیال، حماس پر فتح، تمام یرغمالیوں کی رہائی اور ایران کے دہشت گرد محور اور اس کے تمام اجزاء سے نمٹنا شامل ہے، ایک ایسا محور جو اسرائیل، مشرق وسطیٰ اور پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہے'۔ یعنی واشنگٹن میں غزہ سے جبری انخلا اور ایرانی جوہری اثاثوں کے خاتمے کی تزویراتی حکمت عملی طئے کی جائیگی۔اسرائیلی وزیراعظم کی امریکہ آمد سے دودن پہلے صدر ٹرمپ نے فون پر مصر کے آمرِمطلق جنرل السیسی سے تفصیلی گفتگو کی۔اردن کے بادشاہ سلامت کو بھی واشنگٹن یاترا کی دعوت دیدی گئی ہےاور شاہ عبداللہ دوم 11 فروری کو امریکی صدر  سے ملاقات کرینگے

بی بی کو سیاسی محاذ پر سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ انکے انتہا پسند اتحادیوں کے خیال میں امن معاہدہ دراصل ہتھیار ڈالنے کی دستاویز ہے اور اسی بناپر عظمتِ یہود جماعت (Otzma Yehudit)حکمراں اتحاد سے الگ ہوچکی ہے جسکی وجہ سے 120 رکنی کنیسہ (پارلیمان) میں بی بی کے حامیوں کی تعداد صرف 61 رہ گئی ہے یعنی کوئی ایک رکن ادھر سے ادھر ہوا اور حکومت گئی۔ وزیرخزانہ  بیزلیل اسموترچ بھی آنکھیں دکھا رہے ہیں۔ اگر انکی دین صیہون جماعت (Religious Zionism)حکومتی اتحاد سے الگ ہوگئی تو نیتن یاہو سرکار تحلیل ہوجائیگی۔ حکومت بچانے کیلئے بی بی آجکل حزب اختلاف کے پیر پکڑے ہوئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے انھوں نے قائد حزب اختلاف یار لیپڈ اور نیشنل یونٹی پارٹی کے سربراہ بینی گینٹر کو پیشکش کی کہ اگر وہ دین صیہون کی علیحدگی کی صورت میں انکی حکومت کو گرنے سے بچالیں تو بی بی مئی 2026 میں نئے انتخابات کرانے کو تیار ہیں۔

سیاسی بحران کیساتھ بی بی غزہ اور غربِ اردن کے مزاحمت کاروں کی جانب سے شدید دباو میں ہیں۔بھاری جانی نقصان اور زخموں سے چور، تھکی ہاری اسرائیلی فوج جنگ بند کرنے پر اصرار کررہی ہے۔ ناکامی کا اعتراف کرکے فوج کے سربراہ مستعفی ہوچکے ہیں۔اہل غزہ پر رعب جھاڑنے کرنے کیلئے نیتن یاہو جو بھی قدم اٹھاتے ہیں، وہ خود امریکہ بہادر انھیں واپس لینے پر مجبور کردیتے ہیں۔ اٹھائیس جنوری کو وزیراعظم نے الزام لگایا کہ امدادی سامان اقوام متحدہ کے بجائے مزاحمت کار تقسیم کررہے ہیں اور انھوں نے امدادی ٹرکوں کے قافلے روک دئے۔ اہل غزہ نے ترنت تڑی لگائی کہ اگر امدادی سامان کی راہ میں کوئی رکاوٹ کھڑی کی گئی تو قیدیوں کا تبادلہ معطل کردیا جائیگا۔ صدر ٹرمپ کے ایلچی Steve Witkoff فوراً ایوان وزیراعظم پہنچے اور بی بی  نے اپنی فوج کو امدادی قافلے کے سامنے سے تمام رکاوٹیں ہٹالینے کا حکم دے دیا۔

مزاحمت کاروں کے ہاتھوں انھیں ابلاغ عامہ کے محاذ پر بھی حزیمت کا سامنا ہے۔ بی بی  اور انکے انتہا پسند رفقا کو اس بات پر سخت تشویش ہے کہ اہل غزہ اسرائیلی جنگی قیدی، مجمع عام میں ریڈکراس کے حوالے کیوں کررہے ہیں۔ غزہ چوک پر ہزاروں نعرہ زن افراد کے سامنے ان قیدیوں کی ریڈکراس منتقلی نیتن یاہو کو اسرائیل کی تضحیک نظر آتی ہے۔جمعرت 30 جنوری کو اپنے قیدیوں کی رہائی سے پہلے انھوں نے ریڈ کراس سے مداخلت کی درخواست کی لیکن مزاحمت کاروں سے 'خوفزدہ' ICRC نے ہاتھ کھڑے کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپکا اور اہل غزہ کا معاملہ ہے۔ ہم تو بس غزہ سے ملنے والی ہدائت پر قیدی لادنے کیلئے اپنی گاڑیاں بھیج دیتے ہیں۔ ہمارا مزاحمت کاروں پر کوئی دباو یا اثرورسوخ نہپیں۔ ظاہر ہے کہ جو بانکے امریکہ اور اسرائیل کی نہیں سنتے وہ سرخ ٹوپی والوں کو کب خاطر میں لائیں گے۔

جھلا کر وزیراعظم  نے کہا کہ قیدیوں کی رہائی کے مناظر شدت پسندی کا مظہر اور مزاحمت کاروں کی کٹھور دلی اور بربریت کا اضافی ثبوت ہے۔ قیدیوں کی رہائی کے وقت غزہ میں فلمبندی پر پابندی لگائی جائے۔ یہ انتہائی گھناونا طریقہ ہے۔ اس سے ہماری فوج کا حوصلہ پست ہورہا ہے۔موصوف یہ مناظر دیکھ کر اتنے مشتعل ہوئے کہ انھوں نے اسرائیلی قیدیوں کے عوض فلسطینیوں کی رہائی سے انکار کردیا اور جیل کے دروازے پر کھڑی ریڈ کراس کی گاڑیاں واپس بھیج دی گئیں۔ اتفاق نے صدر ٹرمپ کے ایلچی Steve Witkoff ابھی یروشلم ہی میں تھے۔ انھوں نے بی بی کو سمجھایا کہ معاہدے کی پاسداری سب سے زیادہ انھیں کے مفاد میں ہے۔ اگر مزاحمت کاروں نے معاہدہ منسوخ کردیا تو کچھ اور ہو نہ ہو قید میں رہ جانے والے اسرائیلی قیدیوں کے لواحقین بی بی کا باجہ بجادینگے، چنانچہ اسی شام کو تیس چھوٹے بچوں سمیت 110 فلسطینی قیدی رہا کردئے گئے۔ جب بی بی سے کچھ بھی نہ بن پڑا تو انھوں نے آزاد ہونے والے فلسطینیوں کے استقبال روکنے کیلئے غربِ اردن اور مشرقی بیت المقدس میں کرفیو لگادیا۔ اسکے باوجود لوگ اپنے پیاروں کے استقبال کو نکل آئے اور نابلوس میں استقبالی ہجوم پر فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔

اسرائیلی وزیراعظم کی تشویش غلط بھی نہیں۔ اکتیس جنوری کو وال اسٹریٹ جنرل نے سرخی جمائی کہ 'مزاحمت کاروں نے قیدیوں کی رہائی کو اسرائیل کیلئے ذلت آمیز تماشہ بنادیاہے'۔اپنی عسکری برتری ثابت کرنے کیلئے قیدیوں کو مقام حوالگی تک لانے والے مزاحمت کار اسرائیلی فوج سے چھینے  اسلحے سے لیس نظر آتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے انھوں نے مال غنیمت میں پکڑے جانے والے امریکی ساختہ Dodge RAM پک اپ ٹرکوں کی نمائش بھی کی۔ یہ دیکھ کر عظمت یہود جماعت کے سربراہ اتامر بن گوئر روتے ہوئے بولے کہ 'غزہ کی تصاویر سے اسرائیل کی شکست ظاہر ہورہی ہے'

مناظر براہ راست دکھا کر اہلِ غزہ نے دوران حراست قیدیوں سے بدسلوکی کے الزام کو بھی غلط ثابت کردیا۔ مزاحمت کاروں کے انداز و اطوار میں کوئی کرختگی نظر آتی ہے نہ قیدیوں کے چہرے پر دہشت و خوف کی کوئی علامت،حالیہ تبادلے کے دوران اسی سالہ بزرگ ملبے پر بغیر کسی سہارے چل رہے تھے۔ خواتین قیدیوں کے گلنار چہرے اور فلسطینی جوانانِ رعنا کو دیکھ کر ان مہہ رخوں کے لبوں پر پھوٹتی بے ساختہ مسکراہٹ سے پتہ چل رہا تھا کہ لڑکیاں خوش و خرم ہیں۔

اسی ہفتےمزاحمت کاروں نے اپنے چند کلیدی جرنیلوں اور قائدین کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی جن میں محمد ضیف ابوخالد، مروان عیسیٰ، غازی ابوطماعہ، رائدثابت، رافع سلامہ، احمد الغندور اور ایمن نوفل شامل ہیں۔بلاشبہ یہ مزاحمت کاروں کا بھاری نقصان ہے۔

اہل غزہ کو  مصر اور اردن دھکیلنے پر صدر ٹرمپ کا اصرار تشویشناک حد تک بڑھ گیا ہے۔جناب ٹرمپ کا یہ خاص انداز ہے کہ وہ چشم کشا نکات پر گفتگو کا آغاز لطیف بلکہ لطیفے کے انداز میں کرتے ہیں لیکن آہستہ آہستہ انکے لہجے میں سختی آجاتی ہے۔ فلسطینیوں کو ارضِ فلسطین سے جلاوطن کرنے کی بات کوئی نئی نہیں۔ امریکی قومی سلامتی کے سابق مشیر اور سفارتکار جان بولٹن کئی سال پہلے یہ تجویز پیش کرچکے ہیں۔ اسرائیل کیلئے امریکہ کے نامزد سفیر مائک ہکابی کے خیال میں مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا سب سے منظقی اور حقیقت پسندانہ حل یہی ہے کہ غزہ، غربِ اردن ور مشرقی بیت المقدس سے فلسطینیوں کو اردن، شام، مصر اور لبنان منتقل کردیا جائے۔تیس جنوری کو  قصر ابیض میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے اپنے روائتی متکبرانہ لیکن پرعزم لہجے میں کہا 'وہ (یعنی اردن و مصر) مان جائینگے، یقینا مان جائینگے، سب ٹھیک ہوجائیگا، ہم نے بھی انکے لئے بہت کچھ کیا ہے، وہ بھی ہماری مانیں گے۔ لیکن اسکے دوسرے ہی دن مصر، اردن، سعودی عرب، مقتدرہ فلسطین (PA) اور قطر کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ تحریری بیان میں صاف صاف کہدیا کہ 'اہل غزہ کی ملک بدری کسی قیمت اور کسی حال قابل قبول نہیں'۔ مزاحمت کار منتقلی کی تجویز کو پہلے ہی مسترد کرچکے ہیں۔ تاہم صدر ٹرمپ اپنی تجویز پر علمدرآمد کیلئے بہت ہی مستقل مزاجی سے کام کررہے ہیں۔ جنرل السیسی سے فون پر تفصیلی گفتگو اور شاہِ اردن کی امریکہ طلبی اسی سلسلے کی کڑی ہے

صدر ٹرمپ کی جانب سے جاری ہونے والے اس صدارتی حکم کے بعد کہ جس میں اسرائیل کے خلاف مظاہرہ کرنے والے غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کردینے کی دھمکی دی گئی ہے، فلسطین کے حامیوں کے خلاف انتقامی کاروائیاں خاصی بڑھ گئی ہیں۔ گزشتہ ہفتے جامعہ مشیکن نے'طلبہ اتحاد برائے آزدای و مساوات' یا SAFE پر دوسال کیلئے پابندی لگادی۔جامعہ کا کہنا ہے کہ سیف نے گزشتہ موسم بہار میں ایک ریجنٹ کے گھر کے باہر احتجاج کیا اور انتظامیہ اجازت کے بغیر مظاہرے کرکے یونیورسٹی ضابطوں کی خلاف ورزی کی تھی۔

دوسری طرف انصاف پسند اساتذہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ تیس جنوری کو سٹی یونیورسٹی آف نیویارک (CUNY)کے اساتذہ کی انجمن Professional Staff Congress (PSC) نے اسرائیل کے تعلیمی بائیکاٹ کی قرارداد 70 کے مقابلے میں 73 ووٹوں سے منظور کرلی۔پی ایس سی 30 ہزار اساتذہ کی نمائندہ تنظیم ہے۔قرارداد پر نیویارک کی گورنر صاحبہ سخت برہم ہیں۔ اپنے ردعمل میں انھوں نے کہا کہ 'اس قسم کی سرگرمیوں سے جامعات کے یہودی طلبہ اور اساتذہ کیخلاف امتیازی اقدامات کی حوصلہ افزائی ہوگی'

معاملہ صرف تعلیمی اداروں تک محدود نہیں۔ نسل کشی کے ذمہ داروں اور سہولت کارہر جگہ دباو میں ہیں۔ گرفتاری کے خوف سے اسرائیلی وزیر برائےامورِ تارکین وطن (Diaspora Affairs) اماخائے شخلی (Amichai Chikli) نے بیلجیم کا دورہ منسوخ کردیا۔وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "ٹھوس انتباہوں اور سیکیورٹی حکام کی ہدایات کے مطابق فاضل وزیر کا دورہ منسوخ کیا جارہا ہے" لیکن کان ٹیلی ویژن کو سراغرساں ادارے شاباک (Shin Bet) کے ذرایع نے بتایا کہ شخلی کو ایسی کوئی ٹھوس دھمکی نہیں ملی۔اسرائیلی وزیر کیخلاف متوقع مقدمے کی خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے برسلز میں حکام نے کہا تھا کہ قیام بیلجیم کے دوران قانونی کاروائی کی صورت میں جناب شخلی کو کسی قسم کا سفارتی تحفظ یا استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 7 فروری 2025

ہفت روزہ دعوت دہلی 7 فروری 2025

روزنامہ امت کراچی 7فروری 2025

ہفت روزہ رہبر سرینگر 9 فروری 2025


Thursday, January 30, 2025

 

غزہ امن معاہدے کا پہلا ہفتہ مکمل

اسرائیل کیلئے 2000 پاونڈ کے بموں سمیت مہلک ہتھیاروں کی فراہمی بحال

اہل غزہ کو وطن بدر کرنے کا منصوبہ

قیدیوں کا سراغ لگانے کیلئے غزہ پر امریکی اور برطانوی ڈرونوں کی 60 ہزار پروازیں

بے گھر اہل غزہ اور جنوبی لبنان کے لوگوں کے اپنے گھروں کی طرف جلوس

پولینڈ میں اسرائیلی وزیرتعلیم پر نسل کشی کے الزام میں مقدمہ

ایک تہائی سے زیادہ امریکی نوجوان غزہ مزاحمت کاروں کے حامی

غزہ امن معاہدے کے پہلے مرحلے کا ایک ہفتہ مکمل ہونے پر  25 جنوری کو اسرائیل کی چار خاتون فوجی رہا کردی گئیں۔معاہدے کے تحت ہر زندہ خاتون فوجی کے عوض 50 فلسطینی رہا ہونے ہیں،  چنانچہ اس ہفتے رہا کی جانیوالی خواتین فوجیوں کے بدلے 200 فلسطینیوں کو آزادی مل گئی۔ 'سنگین جرائم' میں ملوث سزایافتہ افراد کو اسرائیل بدر کردیا گیا۔ باقی 130 افراد غرب اردن، غزہ اور مشرقی بیت المقدس میں اپنے گھروں کو پہنچ گئے۔ توقع ہے کہ اگلے ہفتے مزید قیدیوں کا تبادلہ ہوگا

ابتدا میں معاہدہ امن کے ضامن کے حیثیت سے امریکہ مخلص نظر آرہا تھا۔ حلف اٹھانے کے بعد  اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے زور دیا کہ پہلے مرحلے کے ختم ہونے سے پہلے ہی پائیدار امن کیلئے کوششیں تیز کردی جائیں۔لیکن اب واشنگٹن کی نیت مشکوک لگ رہی ہے۔جمعرات 23 جنوری کو امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے فون پر اسرائیلی وزیراعظم سے گفتگو کی۔ جس میں انھوں نے نیتھن یاہو کو یقین دلایا کہ اسرائیل کی مستقل حمائت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اولین ترجیح ہے۔امریکی وزارت خارجہ کے مطابق جناب روبیو نے حماس اور حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی کامیابیوں پر نیتن یاہو کو مبارکباد دی اور غزہ میں قید باقی تمام یرغمالیوں کی رہائی کے لیے انتھک محنت کرنے کا عہد کیا۔اسی کیساتھ صدر ٹرمپ نے اسرائیل کیلئے 2000 پاونڈ کے بموں پر سے پابندی ہٹالی۔ غزہ میں شہری نقصانات کے پیش نظر سابق صدر بائیڈن نے اسرائیل کیلئے ان ہلاکت خیز بموں پر پابندی عائد کردی تھی۔امریکہ کی آن لائن خبر رساں ایجنسی Axios کے مطابق لاک ہیڈ مارٹن کے تیار کردہ 1800 کے قریب MK-84بم اگلے چندروز میں اسرائیل روانہ کردئے جاینگے۔

دوسری جانب غزہ کے مستقبل کے بارے میں سفارتی و سیاسی سطح پر جس قسم کی گفتگوہورہی ہے اس سے فلسطینی اندیشہ ہائے دور دراز میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ بائیس جنوری کو نشریاتی ادارے NBCنے خبر دی کہ امریکہ اہلِ غزہ کی ایک بڑی تعداد کو انڈونیشیا منتقل کرنے پر غور کررہا ہے۔ وجہ یہ بیان کی گئی کہ تباہ حال غزہ کی تعمیر نو کے دوران انتقال آبادی ضروری ہے اور تعمیر مکمل ہونے پر ان لوگوں کو غزہ واپس بلالیا جائیگا۔ لیکن معاملہ اتنا سادہ نہیں. اس حکمت عملی کے اصل محرکات غزہ کے ساحل کو دنیا کا سب سے بڑا Beachfrontاور مشرقی حصے میں میکانیکی زراعت کے ذریعے زیتون و کھجور کا مرکز بنانے کے منصوبے ہیں۔عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ غزہ خالی ہوجانے کے بعد اس پٹی پر قبضہ بستیاں تعمیر کرکے اسرائیل کا قبضہ مکمل کرلیاجائیگا۔

اس 'انکشاف' کے دوسرے دن امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے اپنے انڈونیشی ہم منصب جناب سوجیونو (Sugiono)سے فون پر گفتگو کی اور انڈونیشیا کے مشرق وسطیٰ امن بات چیت کا 'حصہ' بننے پر خوشی کا اظہار کیا۔دودن بعد 'انخلا بلکہ تطہیر غزہ' منصوبے کا اظہار امریکی صدر ٹرمپ نے خود کیا جب 25جنوری کو لاس ویگاس سے میامی واپس آتے ہوئے اپنے صدارتی طیارے میں انھوں نے اس معاملے پر صحافیوں سے گفتگو کی۔ جناب ٹرمپ نے انڈونیشیا کے بجائے عرب ممالک کو اس 'کارخیر' میں حصہ لینے کی دعوت دی۔جناب ٹرمپ نے کہا 'وہ چاہتے ہیں کہ اردن، مصر اور دوسرے  عرب ممالک زیادہ سے زیادہ اہل غزہ کو اپنے یہاں محفوظ و آرام دہ جگہ فراہم کریں تاکہ جنگ سے متاثرہ علاقے کو 'صاف' کیا جاسکے'، امریکی صدر کے اس بیان پر قطر سے مزاحمت کار قیادت کا شدید ردعمل سامنے آیا ۔ انکے ایک رہنما نے کہا 'فلسطینی اپنی مقدس سرزمین سے بیدخلی کی کئی سازشوں کو ماضی میں ناکام بناچکے ہیں اور نسل کشی و نسلی تطہیر کی اس مہم کو کچل دینے کیلئے بھی اہل غزہ پرعزم ہیں۔

قیدی خواتین کی رہائی کے مناظر اسرائیل میں بہت دلچسپی اور شوق سے دیکھے گئے۔ہزاروں کے مجمع میں ان جنگی قیدیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کیاگیا، جن کی بدن بولی، چہرے بشرے اور وضع قطع سے شادمانی ٹپک رہی تھیں۔ قیدیوں کی 'میزبان'خواتین نے سفر کیلئے انکے کپڑے دھوکر استری کئے اورانھیں خوشبویات فراہم کی گئیں۔خاتون سپاہیوں کو نئی فوجی وردی اور خوبصورتی سے فریم کی گئی 'سندِ حراست' عطا کی گئیں۔ہر سپاہی کو فلسطینی پرچم سے مزین ڈوری والا شناختی کارڈ پہنایا گیا۔ دوران حراست لی گئی انکی تصاویراور مقام گرفتاری کی تمام معلومات کو ایک گفٹ بیگ میں رکھ کر انھیں پیش کیاگیا۔آزادی فلسطین کی جدوجہد کے بارے میں بصری رپورٹ اور قرآن کریم کا عبرانی نسخۃ بھی تحفے کیساتھ رکھا گیاتھا۔اسکے مقابلے میں اسرائیلی جیلوں سے جو قیدی رہا ہوئے، ان میں اکثر کی حالت خراب تھی۔ انکے چہروں سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ دوران حراست انھیں مناسب غذا نہیں فراہم کی گئی۔ لباس بوسیدہ، بال بکھرے اور بہت سے قیدی نقاہت کے باعث لاٹھیوں کے سہارے یا ایکدوسرےکا ہاتھ تھام کر چل رہے  تھے۔

انتہائی پرشکوہ انداز میں جنگی قیدیوں کی حوالگی سے جہاں اہل غزہ نے اپنی اخلاقی برتری ثابت کردی وہیں پندرہ ماہ تک ان قیدیوں کا سراغ لگانے میں ناکامی پر اسرائیل، امریکہ اور برطانیہ کے خفیہ ادارے خود اپنے حلقوں میں تنقید کا شانہ بنے ہوئے ہیں۔ سراغ رساں اداروں کے مطابق غزہ کے چپے چپے پروحشیانہ اسرائیلی بمباری کیساتھ  برطانوی اور امریکی فضائیہ کے جدید ترین ڈرون اور دوسرے  حساس ترین جاسوس طیاروں نے اوسطاً ہر روز ڈیڑھ سو سے زیادہ فضائی مشن داغے۔ امریکی وزارت دفاع المعروف PENTGONکے ترجمان بریگیڈئر جنرل پیٹرک رائیڈر نے نومبر 2023 میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ جدید ترین M-9 Reaperڈرون سارے غزہ میں قیدیوں کا سراغ لگانے کیلئے مسلسل پرواز کررہے ہیں۔ خفیہ سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے سراٖغرساں صحافتی ادراے Declassified UKکا کہنا ہے کہ اس مقصد کیلئے قبرص کے برطانوی اڈے اکروتیری (Akrotiri)پر ایک خصوصی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم قائم کیا گیاتھا۔اعدادوشمار کے مطابق برطانوی اور امریکی ڈرونوں نے مجموعی طور پر بالترتیب 16000اور 40000 پروزوں کے ذریعےغزہ کا ایک ایک مربع گز چھانا، کھنگالا بلکہ سونگھا۔اس مقصد کیلئے طلائی گولیاں بھی بہت مہارت سے استعمال کی گئیں۔ ایک ایک قیدی کی نشاندی کیلئے کروڑوں ڈالر 'انعام' تجویز ہوا لیکن فضائی ٹیکنالوجی، جاسوسی کتے، تشدد کے کوڑے ، اشرفیوں کے توڑے ،مصنوعی ذہانت اور شیطانی فطانت سب ہی ناکام رہے۔

وزیراعظم نیتھن یاہو اور انکے انتہا پسند ساتھی ابھی تک 'فلسطینیوں کو کچل دو 'کے نعرے الاپ رہے ہیں لیکن عسکری سطح پر بے چینی بہت واضح ہے۔ ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے گزشتہ ہفتے اسرائیلی فوج کے سربراہ جنرل ہرزی حیلوی نے استعفے دیدیااور دوسرے روز جنوبی کمان کے سربراہ جنرل ہارون فننکلمین ( Yaron Finkelman) بھی مستعفی ہوگئے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوے حزب اختلاف نے سوال اٹھا دیا کہ وزیراعظم کب استعفی دینگے؟

دوسری جانب اہل غزہ ، غرب اردن اور جنوبی لبنان کے لوگوں کے حوصلے بلند ہیں۔ شدید بمباری سے بیدخل ہونے والے شمالی غزہ کے لوگوں نے اپنے گھروں کو واپسی کا سفر شروع کردیا۔ہزاروں لوگوں کا یہ قافلہ ساحلی شاہراہ پر شمال کی جانب رواں دواں ہے ۔ گود میں بچے اٹھائے خواتین اس مارچ کی قیادت کررہی ہیں۔ جب کسی صحافی نے نعرہ زن ایک خاتون نے پوچھا 'بی بی تمہارے گھر تو مٹی کے ڈھیر ہوگئے واپس کہاں جارہی ہو؟ تو اس نے بےدھڑک کہا ہمیں اپنے گھروں کے ملبے پر ہی رہنا ہے۔ اتوار 26 جنوری کو جنوبی لبنان میں اپنے گھروں کو لوٹنے والے بےگھر لوگوں پر اسرائیلی فوج نے فائرنگ کردی جس سے 15 افراد جاں بحق اور  سینکڑوں زخمی ہوگئے لیکن قافلہ واپس جانے کو تیار نہیں۔ غرب اردن میں جنین ایک ماہ سے اسرائیلی فوج کے نرغے میں ہے۔ جمعہ کو فائرنگ سے سے ایک دوسالہ بچی لیلیٰ الخطیب اسرائیلی فوجی میں جان بحق ہوگئی۔ قریبی فاصلے سے لیلیٰ کے سرکو نشانہ بنایا گیا۔ ان وحشیانہ کاروائیوں کی نہتے مزاحمت بھی کررہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے جنصافوط اور الفندق کے مکین مقابلے پر کھڑے ہوگئے اور غلیل کے ڈھیلوں سے کئی سورما زخمی  ہوئے۔ طمون کے قریب اسرائیلی فوج کی ایک بکتر بند گاڑی اڑادی گئی جس میں 31 سالہ سپاہی ایویاتر بن یہوداہ ہلاک دو فوجی جھلس کرشدید زخمی ہوگئے۔

نسل کشی کے ذمہ داروں کا تعاقب بھی جاری ہے۔ پولینڈ کے فلسطینیوں نے ملک کے دورے پر آئے اسرائیل کے وزیر تعلیم یعقوب کِش Yoav Kisch کی گرفتاری کیلئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹادیا۔ درخواست میں کہاگیا ہے کہ جناب کِش اسرائیلی reserveفوجی دستے کے رکن اور غزہ میں جنگی جرائم کے شرکت داروسہولت کار ہیں۔

پروپیگنڈے اور امریکی حکومت کی اسرائیلی کیلئے غیر مشروط حمائت کے باوجود غزہ کے مزاحمت کار امریکہ میں مقبول ہورہے ہیں۔ہارورڈ ہیرس (Harvard/Harris) کے تازہ ترین جائزے کے مطابق امریکہ کے 25 فیصد ڈیموکریٹس، 19 فیصد ریپبلکن اور 20 فیصد آزاد ووٹر مزاحمت کاروں کے حامی ہیں۔جائزے کا دلچسپ پہلو یہ ہےکہ پچیس سے 34 سال کے امریکیوں میں مزاحمت کاروں کی مقبولیت 34 فیصد جبکہ 65 سال اور اس سے معمر صرف 10 فیصد امریکی مزاحمت کاروں کے حامی ہیں۔ حوالہ: ٹائمز آف اسرائیل

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 31 جنوری 2025

ہفت روزہ دعوت دہلی 31 جنوری 2025

روزنامہ امت کراچی 31 جنوری 2025

ہفت روزہ رہبر سرینگر 2 فروری 2025


 

Thursday, January 23, 2025

غزہ میں امن معاہدے پر تین گھنٹہ تاخیر سے عملدرآمد شروع سابق اور موجودہ امریکی صدور کے درمیان 'کریڈٹ' کی جنگ دنیا کی نصف آبادی اسرائیل کے بارے میں منفی رائے رکھتی ہے اٹلی آئے اسرائیلی جنرل پر نسل کشی کے الزام میں مقدمہ سابق امریکی وزیرخارجہ جھوٹ بولتے ہیں۔ اسرائیلی تجزیہ نگار

 

غزہ میں امن معاہدے پر تین گھنٹہ تاخیر سے عملدرآمد شروع

سابق اور موجودہ امریکی صدور کے درمیان 'کریڈٹ' کی جنگ

دنیا کی نصف آبادی اسرائیل کے بارے میں منفی رائے رکھتی ہے

اٹلی آئے اسرائیلی جنرل پر نسل کشی کے الزام میں مقدمہ

سابق امریکی وزیرخارجہ جھوٹ بولتے ہیں۔ اسرائیلی تجزیہ نگار

چار سواکہتر (471) دن بعد غزہ پر برستی موسلا دھار بمباری میں وقفہ آگیا۔جنگ بندی اسرائیل  حماس معاہدہ ِامن کا پہلا مرحلہ ہے۔ طویل مذکرات کے بعد گزشتہ ہفتے یہ معاہدہ قطر میں طئے پایا۔ اس حوالے سے ہم گزشتہ نشست میں حماس کے جاری کردہ مسودے کی تفصیل دے چکے ہیں۔ بدھ 15 جنوری کو صدر بائیڈن نے نائب صدر کملا ہیرس اور اپنے وزیرخارجہ کے ہمراہ معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ غزہ میں قیام امن تین مرحلوں میں ہوگا

  • پہلا مرحلہ: چھ ہفتوں پر مشتمل پہلے مرحلے میں عارضی فائربندی ہوگی اور خواتین، بیمار و ضعیف قیدیوں کا تبادلہ کیا جائیگا۔ اس دوران غزہ کو امدادی سامان پر عائد تمام پابندیاں اٹھالی جائینگی۔
  • دوسرا مرحلہ: پہلا مرحلہ مکمل ہونے پر پائیدار امن کیلئے مذاکرات ہونگے۔ صدر بائیڈن نے یقین دلایا ہے کہ ان مذاکرات کے دوران جنگ بند رہیگی۔ تاہم ہفتے کو قوم سے خطاب میں وزیراعظم نیتھن یاہو نے غیر مبہم انداز میں کہا کہ اگر پہلا مرحلہ مکمل ہونے پر پائیدان امن پر معاہدہ نہ ہوسکا تو اسرائیل جنگ دوبارہ شروع کرسکتا ہے اور ہمارے اس موقف سے صدر بائیڈن اور نومنتخب امریکی صدر پوری طرح اتفاق کرتے ہیں۔
  • تیسرا مرحلہ: لاشوں اور باقی قیدیوں کے تبادلے کیسساتھ اسرائیلی فوج غزہ سے واپس چلی جائیگی جسکے بعد غزہ کی تعمیر نو کا کام شروع ہوگا۔

جمعہ 17 جنوری کو اسرائیلی کابینہ نے 8 کے مقابلے میں 24ووٹوں سے معاہدہ امن کی توثیق کردی۔ عظمتِ یہود (Otzma Yehudit)اور دین صیہون (Religious Zionism)کے  ساتھ وزیراعظم کی لیکڈ پارٹی کے دووزرا نے مخالفت میں ہاتھ بلند کئے اور وزیراطلاعات سلام کرہی نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ حکومت کے مذہبی اتحادیوں پاسبان توریت(Shas) اور یونائیٹیڈ توریت پارٹی نے معاہدے کی حمائت کی۔قرارداد منظور ہوتے ہی وعدے کے مطابق وزیراندرونی سلامتی اتامر بن گوئر نے استعفیٰ دیکراپنی جماعت عظمت یہود کو حکمراں اتحاد سے الگ کرلیا۔ایک سو بیس رکنی کنیسہ (پارلیمان) میں عظمت یہود کے پاس چھ نشستیں ہیں جنکی علیحدگی کے بعد بھی نیتھں یاہو کو 62 ارکان کی حمائت حاصل رہیگی۔وزیر خزانہ کی دین صیہون جماعت نے معاہدے کی شدید مخالفت کے باوجود حکومتی اتحاد نہیں چھوڑا۔جماعت کے ایک سینئر رکنِ کنیسہ وی سکّت (Zvi Sukkot)نے  جماعتی فیصلے سے بغاوت کردی۔ اپنے بیان میں سکّت صاحب نے کہا کہ نیتن یاہو کو امریکی صدر جو بائیڈن اور نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس خوفناک معاہدے پر مجبور کیا اور میں وطن فروشی کے معاہدے کا حصہ نہیں رہ سکتا۔اسرائیلی پارلیمانی ضابطے کے تحت انکی اسمبلی کی رکنیت ختم کردی گئی

معاہدے کی رو سے 19 جنوری کو مقامی وقت کے مطابق  صبح ساڑھے آٹھ بجے(پاکستان ساڑھے گیارہ اور ہندوستان 12) جنگ بندی پر عملدرآمد شروع ہونا تھا لیکن اس روز رہا ہونے والی تین خواتین کے نام نہ ملنے پر اسرائیل نے سخت ردعمل کا اظہار کیا اور وزیر اعظم نیتھن یاہو نے اسے معاہدے کی خلاف ورزی قراردیتے ہوئے اپنے فوجی سربراہ کو پیغام بھیج دیا کہ جنگ بند کرنے کی جو ہدائت دی گئی ہے اس معطل سمجھا جائے۔ ہدائت موصول ہوتے ہی  اسرائیلی فضائیہ نے سارے غزہ پر بمباری شروع کردی۔ اہل غزہ نے وضاحتی پیغام قطر بھیجا کہ فہرست کی فراہمی میں تاخیر کی وجہ مسلسل بمباری ہے۔ آتش و آہن کی بارش بند ہو تب ہی رہائی کیلئے قیدیوں کو کسی جگہ جمع کیا جاسکتا ہے۔ پونے تین گھنٹے کی تاخیر سے جنگ بندی پر عملدرآمد شروع ہوا اور تین اسرائیلی خواتین اقوام متحدہ کے حوالے کردی گئیں۔ اسی کیساتھ اسرائیلی عقوبت کدوں سے 69 خواتین، ایک بچی اور 12 کمسن لڑکوں سمیت  90 فلسطینی رپا کر دئے گئے۔ پہلے مرحلے میں اسرائیل کے 33 قیدیوں کے عوض 1094فلسطینی رہا کئے کئے جائینگے۔رہا ہونے والے متوقع فلسطینیوں میں عمر قید کے کئی“مجرم” بھی شامل ہیں۔

امن بات چیت کے دوران اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ امریکی قائدین نے بدترین تکبر کا مظاہرہ کیا۔ معاہدے کے بعد اپنے خطاب میں جو بائیڈن نے بہت ہی فخر سے کہا کہ امریکی مدد سے اسرائیل نے حماس کے ساتھ لبنانی حزب اللہ اور انکے سرپرست ایران کو کمزور کردیا ہے، انکے قائدین مارے  گئے اور اب یہ ہماری شرائط پر امن معاہدہ کررہے ہیں۔

ڈانلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی چبوترے TRUTHپر پیغام داغا کہ 'میری قومی سلامتی کی ٹیم مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی قیادت میں اسرائیل اور  اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرتی رہے گی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ غزہ دوبارہ کبھی بھی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہ بننے پائے۔انکے نامزد وزیرخارجہ مارکو روبیو نے اپنی توثیق کیلئے سینیٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران کہا کہ امریکہ میں حماس کے حامیوں کے ویزے منسوخ کردینے چاہئیں۔ جناب ٹرمپ کے نامزد کردہ مشیر سلامتی، مائک والٹز  CBSپر گفتگو کرتے ہوئے متکبر لہجے میں بولے 'مزاحمت کار غزہ پر اب کبھی حکومت نہیں کرسکتے۔ یہ ہمارے لئے کسی بھی طرح قابل قبول نہیں'

اسکے ساتھ کامیابی کا سہرا اپنے سرباندھے کی کوشش جاری رہی۔ سابق صدر بائیڈن نے کہا کہ جو معاہدہ ہوا ہے اسکا مسودہ ہماری انتظامیہ نے گزشتی برس مئی میں ترتیب دیا تھا۔ جس پر ڈانلڈ ٹرمپ نے گرہ لگائی کہ اگر میں امریکی منتخب نہ ہوتا یہ ممکن ہی نہ تھا۔اپنی حلف برداری سے پہلے اتوار کو دارالحکومت میں بڑے جلسہِ عام سے خطاب کرتے ہوئے جناب ٹرمپ  نے یہ دعویٰ دہرایا کہ 'اگر میں انتخاب نہ جیتتا تو غزہ میں جنگ بند نہ ہوتی'

کریڈٹ کی اس امریکی جنگ میں اسرائیلی وزیراعظم دباومیں رہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان امن معاہدے پر عملدرآمد اتوار سے شروع ہونا تھا، جبکہ امریکہ میں ٹرمپ پیر کو حلف اٹھارہے تھے۔اسرائیلی ٹیلی ویژن چینل 12کے مطابق، آخری مرحلے پر نیتھن یاہو نے بہانہ کیا کہ وہ سبت کی وجہ سے جمعہ کی شب کابینہ کا اجلاس طلب نہیں کرسکتے لہذا معاہدے پر عملدرآمد کی تاریخ 20کردی جائے ۔ بائیڈن اپنی پکائی ہانڈی ٹرمپ کے پاس کیسے لے جانے دیتے؟؟فوراپاسبان توریت پارٹی کے قائد، ربائی آریہ مخلوف درعی سے فتویٰ لے لیا گیا کہ ہنگامی صورتحال میں سبت کی کچھ پابندیاں معطل کی جاسکتی ہیں۔یونائیٹیڈ توریت پارٹی کے قائد ربائی اسحاق گولڈنوف نے جناب درعی کے فتوے کی توثیق کردی اور بائیڈن کے دباؤ پر جمعہ کی شب کابینہ کا اجلاس طلب کرلیا گیا۔

امن معاہدے پر اسرائیل کے انتہا پسند سخت مشتعل ہیں۔جمعہ کو مظاہرین نے تل ابیب میں دھرنا دیا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے ایک سپاہی کے بھائی نے جذباتی انداز میں کہا  'وزیراعظم صاحب! آپ فرماتے تھے کہ یہ نور کے بیٹوں اور تاریکی کی اولاد کا مقابلہ ہے۔ کیا صورتحال اب تبدیل ہوگئی ہے کہ نور کے علمبردار تاریکی کے پچاریوں سے مذاکرات کررہے ہیں؟؟مزاحمت کاروں سے معاہدہ، ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے۔ اسرائیلی جیل سے آزاد ہونے والے دہشت گرد کل ہمارے بچوں کے گلے کاٹیں گے۔ کچھ مظاہرین نے اپنے چہرے فلسطینی کفیہ سے چھپائے ہوئے تھے یعنی معاہدے کے نتیجے میں کفیہ والے تل ابیب آرہے ہیں۔

بدترین پروپیگنڈے کے باوجود عالمی رائے عامہ اسرائیل کے بارے میں منفی ہوتی جارہی ہے۔ عالمی صیہونی تنظیم Anti-Defamation Leagueیا ADLکے ایک عالمی جائزے میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے نصف کے قریب لوگ یہودی مخالف یا Antisemiticجذبات رکھتے ہیں۔ جائزے کے دوران  103 ممالک کے 58000 افراد سے رائے لی گئی اور نتیجے کے مطابق کرہ ارض کے چھیالیس فیصد لوگ اسرائیل کے بارے میں معاندانہ رویہ رکھتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں غزہ مزاحمت کاروں کی حمائت 59 فیصد اور 75 فیصد لوگ سام مخالف ہیں جبکہ فلسطین میں یہ تناسب 97 فیصد ہے۔ ایران میں سام مخالف جذبات نسبتاً کم ہیں اور صرف 49 فیصد خود کو Antisemitic سمجھتے ہیں۔ حوالہ: ٹائمز آف اسرائیل

دنیا بھر میں نسل کشی کے ذمہ داروں کا تعاقب بھی جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے اٹلی کے دورے پر آئے اسرائیلی میجر جنرل غسان ایلین Ghassan Alianکی گرفتاری کیلئے عدالت کو درخواست دیدی گئی۔حوالہ:Ynet۔ گزشتہ ہفتے جب سابق امریکی وزیرخارجہ ٹونی بلینکن واشنگٹن کے مرکزِ دانش اٹلانٹک کونسل میں تقریر کرنے آئے تو وہاں موجود لوگوں نے غزہ نسل کشی بند کرو کے نعرے لگائے۔ پولیس نے ان لوگوں کا ہال سے باہر نکال دیا۔دوسرے دن موصوف کی الوداعی پریس کانفرنس کے دوران کئی نامہ نگاروں نے غزہ میں صحافیوں کے قتل عام پر آواز اٹھائی۔جب وزیرباتدبیر نے جان چھڑانے کیلئے کہا کہ امریکہ آزادی اظہار پر یقین رکھتا ہے اور صحافیوں سے بد سلوکی کی ہر سطح پر مذمت کی جاچکی ہے تو ایک صحافی صائم حسینی نے چیخ کر کہا 'تم جھوٹے ہو، غزہ میں صحافیوں کو قتل کرنے کیلئے ایک ایک گولی، گولہ، ڈرون، بم اور بمبار حتیٰ کہ قاتلوں کے ڈائپر بھی امریکہ نے فراہم کئے ہیں'۔اس پر سوال اٹھانے والے صحافی کو اٹھالیا گیا۔

احتجاج صرف فلسطینی صحافیوں تک محدود نہیں  بلکہ اسرائیلی قلمکار بھی جناب بلینکن کے جھوٹ کا پردہ چاک کررہے ہیں۔ ہفتہ 18 جنوری کو سابق امریکی وزیرخارجہ نے  CNN سے باتیں کرتے ہوئے کہا:'غزہ جنگ پر وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کو 70، 80 بلکہ 90 فیصد عوام کی حمائت حاصل ہے'، اسکے بعد امریکی جریدے نیویارکر کو انٹرویو دیتے ہوئے فرمایا:ہم نے 7 اکتوبر سے اسرائیل میں جو کچھ دیکھا ہے وہ وزیر اعظم یا ان کی کابینہ کے انفرادی ارکان کی عکاسی نہیں ہے بلکہ حقیقی معنوں میں اسرائیلی معاشرے کے 70، 75 فیصد اور 80 فیصد کی عکاسی کرتا ہے۔

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹائمز آف اسرائیل کے سینیر تجزیہ نگار یعقوب میگڈ (Jacob Magid)نے ایک تفصیلی کالم تحریر کیا جسکا سرنامہ کلام کچھ اسطرح ہے۔ 'غزہ جنگ پر نیتھن یاہو کو عوامی حمائت کے حوالے سے ٹونی بلینکن کا جھوٹا دعویٰ'۔ فاضل کالم نگار نے اسرائیلی ٹیلی ویژن 12 اور چینل 13 کے لئے گئے جائزہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا

چینل 13 کے مطابق صرف 22 فیصد اسرائیلیوں نے حکومت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے جبکہ چینل 12 کے ایک سروے سے پتہ چلا ہے کہ 64 فیصد عوام کو یقین نہیں ہے کہ نیتن یاہو کی حکومت ملک کو کیسے چلا رہی ہے؟

حوالہ: ٹائمز آف اسرائیل

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 24 جنوری 2025

ہفت روزہ دعوت دہلی 24 جنوری 2025

روزنامہ امت کراچی 24 جنوری 2025

ہفت روزہ رہبر سرینگر 26 جنوری 2025


Wednesday, January 22, 2025

ٹرمپ کی تقریب حلف برداری ایک قوم، ایک خدا ، دو جنس (مرد اور عورت) خلیج میکسیکو کا نام تبدیل، نہر پاناما پر قبضے کا عزم امریکہ کی جنوبی سرحد پر ہنگامی حالت کا اعلان، تارکین وطن کو روکنے کیلئے فوج تعینات

 

ٹرمپ کی تقریب حلف برداری

ایک قوم، ایک خدا ، دو جنس (مرد اور عورت)

خلیج میکسیکو کا نام تبدیل، نہر پاناما پر قبضے کا عزم

امریکہ کی جنوبی سرحد پر ہنگامی حالت کا اعلان، تارکین وطن کو روکنے کیلئے فوج تعینات

ڈانلڈ جے ٹرمپ نے امریکہ کے 47 ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھالیا۔ یہ لمحہ کئی اعتبار سے تاریخی قراردیا جاسکتا ہے

  • ڈانلڈ ٹرمپ 1892 کے بعد پہلی مدت کے بعد ہارکر دوبارہ جیتنے والے پہلے صدر ہیں، جناب کلیولینڈ 1884میں ڈیموکریٹک پارٹی کی ٹکٹ پر صدر منتخب ہوئے اور چار سال بعد 1888میں انھیں صدر بن یامین ہیریسن (Benjamin Harrison)نے ہرادیا۔ 1892 کے انتخابات میں وہ ایک بار پھر سامنے آئے اور صدر بن یامین ہیریسن کو ہراکر انھوں نے اپنی شکست کا بدلہ لے لیا۔
  • ڈانلڈ ٹرمپ امریکی تاریخ کے پہلے صدر ہیں جنھیں دوبار مواخذے کا سامنا کرنا پڑا اور 47 ویں امریکی صدر عدالت سے 32 الزامات میں 'مجرم' ثابت ہوچکے ہیں۔
  • ڈانلڈ ٹرمپ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے انھوں نے دو بارخواتین کو شکست دی اور مرد سے ہارگئے
  • جناب ٹرمپ امریکی صدر کا حلف اٹھانے والے معمرو امیر ترین صدر ہیں۔انکی کابینہ میں ارپ پتی وزرا کی تعداد 13 ہوگی
  • حلف اٹھانے کے فوراً انھوں نے  200 سے زیادہ صدارتی احکامات یا Executive Orders جاری کئے جو بذات خود ایک ریکارڈ ہے
  • چالیس سال بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی صدر کی تقریب حلف برداری Indoor ہوئی۔ خراب موسم کی وجہ سے 20 جنوری 1985 کو انجہانی رانلڈ ریگن نے بھی گنبدِ کانگریس (Capitol Rotunda) میں حلف اٹھایا تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ کو مقننہ اور عدلیہ دونوں کی مکمل حمائت حاصل ہے جسکی وجہ سے  انھیں قانون سازی میں کوئی مشکل پیش نہیں آئیگی، اور اگر صدارتی احکامات کے خلاف انکے مخالفین عدالت گئے تو فیصلہ ٹرمپ صاحب کے حق میں ہونے کی توقع ہے۔

موجودہ انتخابی مہم کے دوران 2016 کے مقابلے صدر ٹرمپ نے مسلمانوں کے بارے میں براہ راست کوئی منفی بات نہیں کی بلکہ کامیابی کے بعد حامیوں سے خطاب میں انھوں نے مسلمانوں کی حمائت کا فخریہ اعتراف کیا۔تاہم انھیں نے انتظامیہ کیلئے جن افراد کا انتخاب کیا ہے وہ سب کے سب مسلمانوں اور فلسطینیوں کے بارے میں نہ صرف منفی رویہ رکھتے بلکہ اسکا اظہار کرتے ہوئے انکے لہجے میں ذرابھی ہچکچاہٹ نہیں۔

 مارک روبیو انکے وزیرخارجہ، پیٹ ہیگسیتھ (Pete Hegseth)وزیردفاع، کاش پٹیل کو FBIکے سربراہ اور جان ریٹکلف (John Ratcliffe) سی آئی اے کے ڈائریکٹر ہونگے۔ محترمہ تلسی گیببورڈ کو نیشنل انٹیلیجنس کی سربراہی سونپی گئی ہے۔ اسی کیساتھ  محترمہ ایلس اسٹیفانک (Else Stefanic)کو سفیر برائے اقوام متحدہ اور مائک ہکابی کو اسرائیل میں امریکہ کا سفیر مقرر کیا ہے۔

بلا استثنیٰ یہ سب کے سب انتہائی متعصب، اسرائیل کے پرجوش حامی اور مسلم مخالف ہیں۔ مائک ہکابی صاحب نے اسرائیل پہنچتے ہی کہا کہ فلسطینی کوئی لسانی و معاشرتی اکائی نہیں۔اسرائیل چارہزار سال سے بنی اسرائیل کا وطن ہے۔ عربوں کے بہت سارے ممالک ہیں، پائیدار امن کیلئے سب سے مناسب بات یہ کہ خود کو فلسطینی کہنے والے  اردن، شام، لبنان اور مصر چلے جائیں۔کچھ ایسے ہی خیالات اسٹفانک صاحبہ کے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ امریکہ میں اسرائیل مخالف مظاہروں کی کوئی جگہ نہیں۔ جن لوگوں کو فلسطینی حقوق کا خیال ہے وہ مشرق وسطیٰ جاسکتے ہیں۔

جیسا کہ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں،صدر ٹرمپ پتے چھپانے کے قائل نہیں اور وہ ہر بات ڈنکے کی چوٹ پر کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ صدر کا حلف اٹھاتے ہی انھوں نے 200 صدارتی احکامات (ایگزیکیوٹیو آرڈر) جاری کرکے  نئے امریکہ کی نظریاتی سمت متعین کردی۔ غیر ملکی تارکین وطن کا راستہ روکنے کے اقدامات کے ساتھ انھوں نے انسداد دہشت گردی کے عنوان سے جو حکم جاری کیا اسکے مطابق اسرائیل کے خلاف مظاہرہ کرنے والے غیر ملکیوں کے امریکی ویزے منسوخ کئے جاسکیں گے۔ حکم کے تحت سفارتخانوں اور ویزہ مراکز کو اس بات کا پابند بنایا جارہاہے وہ  درخواست کنندگان کے نظریاتی تجزئے اور تفصیلی چھان بین کے بعد ویزے جاری کرینگے۔ ایک اور صدارتی حکم کے تحت صدر ٹرمپ نے غرب اردن میں فلسطینیوں پر دہشت گرد حملوں میں ملوث اسرائیلی قبضہ گردوں پر امریکی پابندی کالعدم کردی۔ یہ پابندیاں سابق صدر بائیڈن نے عائد کی تھیں۔ اس قسم کے مزید احکامات بہت جلد جاری ہونے کی توقع ہے۔

ٹرمپ کا امریکہ کیسا ہوگا، اسکے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہے، تاہم ٹرمپ سرکار مسلمانوں کیلئے اچھی نظر نہیں آرہی۔ مشرق وسطیٰ کےحوالے سے اسرائیل کو عرب و اسلامی دنیا سے تسلیم کرانا انکی ترجیح اول ہے اور وہ اس معاملے میں جبر کا ہر ہتھکنڈا استعمال کرینگے۔ حلف اٹھاتے کے بعد جب ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے مابین سفارتی تعلقات کب تک متوقع ہیں تو وہ بے دھڑک بولے 'اب یہ دن نہیں تو مہنیوں کی بات ہے، زیادہ سے زیادہ اس سال کے آخر تک۔ نامزد وزیرخارجہ مارکو روبیو نے توثیق کیلئے سینیٹ میں سماعت کے دوران کہا کہ اسرائیل سے اسلامی دنیا کے تعلقات مشرق وسطیٰ امن اور علاقے کے استحکام کیلئے ضروری ہے۔ خیال ہے کہ اس معاملے میں سعودی عرب، پاکستان اور انڈونیشیا پر شدید دباو ڈالا جائیگا۔

گفتگو کے اختتام پر حلف برداری کے بعد صدر ٹرمپ کے افتتاحی خطاب سے اہم اقتباسات، جس سے قارئیں اندازہ لگا سکیں کہ اگلے چار برس چچا سام کی ترجیحات کیا ہونگی

  • سب سے پہلے امریکہ، ہم دنیا کی حفاطت کیلئے ٹیکس دہندگان کی رقم اڑارہے ہیں جبکہ ہماری اپنی سرحدیں غیر محفوظ ہیں۔ ملک  کو کرپشن کا سامنا ہے۔ ہمارے اساتذہ بچوں کو ملک سے نفرت سکھا رہے ہیں
  • میرے حلف اٹھاتے ہی اسی امریکہ کے انحطاط کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے۔ راستہ روکنے کیلئے میری زندگی ختم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن میرے خدا نے مجھے زندہ رکھا تاکہ میں امریکہ کو عظیم تر بناوں۔ امریکی عوام کیلئے 20 جنوری 2025 اصلی یوم آزادی ہے۔ ہم جنگ لڑنے کے بجائے دنیا سے جنگ ختم کرنے کو ترجیح دینگے۔
  • جنوبی سرحد پر ہنگامی حالت کا اعلان کرتا ہوں۔ہم جنوبی سرحد پر فوج بھیجیں گے تاکہ غیر قانونی تارکین وطن کا راستہ روکا جائیگا
  • توانائی میں خود کفالت کیلئے Drill Baby Drillہماری حکمت عملی ہے۔ ہم ساری دنیا کو تیل اور گیس برآمد کرینگے
  • سینسر شپ کے مکمل خاتمے کیساتھ آزادی اظہار کو یقینی بنایا جائیگا
  • خلیج میکسیکو کا نام اب خلیج امریکہ ہوگا۔ ہم نہر پانامہ واپس لیں گے۔ مریخ پر امریکی جھنڈا لہرایا جائیگا
  • ہم اپنے خدا کو کبھی نہیں بھولیں گے،امریکی ایک خاندان، ایک قوم، ایک ملک اورایک رب کے ماننے والے ہیں۔ آج سے امریکہ میں بس دو جنس ہیں مرد اور عورت

ہفتت روزہ دعوت دہلی 22 جنوری 2025

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل 24 جنوری 2025

روزنامہ امت 24 جنوری 2025

ہفت روزہ رہبر سرینگر 26 جنوری 2025