Thursday, September 10, 2026

 

غزہ سے ’’ہجرت‘‘ یا جبری بے دخلی؟

مقبوضہ فلسطین میں قبضہ گردوں کا تشدد  اور اسرائیل کی بدلتی سیاست

لبنان، غربِ اردن اور غزہ اس ہفتے بھی بمباری، میزائل حملوں، فائرنگ، قبضہ گردی اور فوجی کاروائیوں کی لپیٹ میں رہے۔ جنوبی لبنان کے قصبے مفدون پر حملے میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔ اتوار 6 ستمبر کو کفر ریمن پر شدید بمباری کی گئی جس میں بچوں سمیت 11 افراد مارے گئے۔جسکے بعد اسرائیلی ڈرون نے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے والی ایمبیولینس کو نشانہ بنایا اور طبی عملے کے دوافراد اپنی جان سے گئے۔ اسی روز نبطیہ کا جدید غندور ہسپتال اسرائیلی بمباری سے تباہ ہوگیا۔

 فلسطینی علاقوں میں گھروں، کھیتوں، مویشیوں اور زیتون کی فصلوں پر حملے معمول بنتے جارہے ہیں۔ یہ واقعات کسی ایک دن یا ایک محاذ کی کہانی نہیں، بلکہ ایک پوری قوم کے خلاف جاری مسلسل تشدد کا نقشہ ہے، جسے دنیا دیکھ تو رہی ہے مگر روک نہیں پا رہی۔

غزہ کی ’’رضاکارانہ ہجرت‘‘ — ایک نیا بیانیہ

غزہ سے فلسطینیوں کا انخلا اب اسرائیل کا قومی بیانیہ بنتا جارہا ہے۔ قومی سلامتی کے وزیر اتامر بن گوئر نے غزہ کی تقریباً پوری آبادی کو 'رضاکارانہ ہجرت ' کے ذریعے سات برس کے اندر بیرونِ ملک منتقل کرنے کا منصوبہ پیش کردیا۔ منصوبے میں سفر، رہائش، پیشہ ورانہ تربیت اور 24 ماہ تک مالی معاونت شامل ہے۔ فلسطینیوں کو آباد کرنے والے ممالک کو بھی فی فرد ادائیگی کی تجویز ہے۔ اس منصوبے کے لئے ابتدائی طور پر 3 ارب ڈالر اور بعد میں 15.2 ارب ڈالر تک ’’مطابقتی اعانت‘‘ (Matching Fund)کی پیشکش کی گئی ہے۔

جبری بے دخلی کو ہجرت نہیں کہا جاسکتا

وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز بھی کہہ چکے ہیں کہ غزہ کا ’’حقیقی حل‘‘ فلسطینیوں کی ہجرت کے بغیر ممکن نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جس سرزمین پر بمباری، محاصرہ، تباہی اور مسلسل بے گھری کے ذریعے زندگی ناقابلِ برداشت بنا دی جائے، وہاں سے جانے کو ’’رضاکارانہ‘‘ کیسے کہا جاسکتا ہے؟ کسی قوم کو اس کی سرزمین سے اجتماعی طور پر بے دخل کرنا بین الاقوامی قانون کے تحت سنگین جرم ہے۔ اگر یہ عمل نسلی شناخت کی بنیاد پر ہو تو اسے ’’نسلی تطہیر‘‘ کے سوا کوئی اورنام نہیں دیا جاسکتا۔ اہم سوال یہ نہیں کہ فلسطینی کہاں جائیں گے، بلکہ یہ ہے کہ کیا دنیا کسی قوم کو اس کی اپنی سرزمین سے نکالنے کے منصوبے کو محض ’’ہجرت‘‘ کے خوبصورت نام پر قبول کرلے گی؟ غزہ خالی کرانا ’’ہجرت‘‘ نہیں، فلسطینیوں کے حقِ وطن کا خاتمہ ہوگا۔

غربِ اردن — عبادت گاہیں، گھر اور کھیت سب نشانہ

اس ہفتے نابلوس قبضہ گروں کا خاص ہدف رہا۔ مداما میں تاریخی جامع مسجد نورالدین زنگی کو آگ لگا دی گئی۔ آگ بجھانے کی کوشش کرنے والے فلسطینیوں کو پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ مسجد میں محصور نمازی آنسو گیس کے شیلوں سے زخمی ہوئے۔ بزاریا کی مسجد بھی نذرِ آتش کردی گئی اور جاتے جاتے دیواروں پر عبرانی میں ’’انتقام‘‘ لکھ دیا گیا۔معلوم نہتے فلسطینیوں پر حملہ کرکے مسلح آبادکار کس سے اور کس بات کا انتقام لے رہے ہیں؟

پتھروں سے ڈرون کا مقابلہ

غرب اردن کے بچے غلیلوں سے اسرائیلی بندوقوں کا مقابلہ کئی دہائی سےکررہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے قلقیلیہ کے گاوں ججاج شرقی میں 'لڑکوں' نے پتھراو کرکے قبضہ گردوں کا ایک ڈرون گرالیا۔ یہ ایک ویڈیو بنانے والا ڈرون تھا۔کچھ دیر بعد مسلح قبضہ گرد گاوں پہنچے اور ڈرون کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ ان دہشت گردوں کی مدد کیلئے اسرائیلی فوج آگئی۔ سپاہیوں کی فائرنگ سے 20 سالہ عمر محمد طوباسی جاں بحق اور کئی بچے زخمی ہوگئے

 

دیہات اور کھیت — زندگی کی کمائی خاکستر

جنوبی نابلوس کے گاؤں اوصرین میں کئی مکانات جلا دئے گئے۔ عسکر میں فوجی کارروائی کے دوران متعدد نوجوان گرفتار ہوئے۔ قصٰری میں ایک فلسطینی خاندان کے گھر پر قبضہ کرکے آبادکاروں نے بالکونی میں خود گرفتہ تصویر (selfie)بنائی اور اسے فخریہ انداز میں سوشل میڈیا پر نشر کیا۔ایک اور گاؤں میں کاشتکاروں کو گھروں سے نکال کر عارضی حراست کدےمیں بند کیا گیا، جس کے بعد ان کی زیتون کی کھڑی فصلوں پر بلڈوزر پھیر دئے گئے اور جالیوں کے پیچھے کھڑے یہ کسان اپنی زندگی بھر کی کمائی کو مٹی ہوتا دیکھتے رہے۔

رام اللہ — سڑکوں پر حملے، ایک  نوجوان کو چلتی  گاڑی سے باہر پھینک دیا گیا

رام اللہ کے علاقوں المغیر اور ابوالفلاح میں کاروں پر حملوں میں تین سگے بھائیوں سمیت متعدد فلسطینی زخمی ہوئے۔ اسی علاقے میں ایک گرفتار نوجوان کو چلتی فوجی گاڑی سے باہر پھینک دیا گیا۔ اس درندگی کا بصری تراشہ ٹائمز آف اسرائیل نے جاری کیا۔

امریکی تشویش — مگر عملی اقدام؟

اسرائیل میں امریکی سفیر مائک ہکابی نے رام اللہ میں قبضہ گروں کے ہاتھوں تباہ شدہ گھروں اور باغات کا جائزہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہونی چاہیے‘‘۔یادش بغیر تحریک پاکستان کے دوران مسلم کش فسادات کے بعد گاندھی جی بھی متاثرہ علاقے کا دورہ کرتے ہوئے مسلمانوں سے تعزیت کے ساتھ اسی طرح تشویش کا اظہار فرماتے تھے۔

اسرائیل میں داخلی بحران — فوجی بھرتی سے استثنیٰ کا مطالبہ

فلسطینیوں کے خلاف امتیازی روئے کے ساتھ اسرائیل میں ایک اور تنازع شدت اختیار کر رہا ہے اور وہ ہے حفظِ توریت مدارس (یشیوا) کے طلبہ کو لازمی فوجی بھرتی سے استثنیٰ۔ تل ابیب میں فوجی بھرتی مرکز کے باہر حریدی طلبہ اور ربائیوں نے مظاہرہ کیا۔ ان کے پلے کارڈ پر لکھا تھا: ’’فوج میں بھرتی سے بہتر تھا ہم ہولوکاسٹ میں یہودی کی حیثیت سے مر جاتے۔‘‘اسی ہفتے حریدی علما کا ایک وفد واشنگٹن میں صدر ٹرمپ سے ملا اور اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی درخواست کی تاکہ استثنیٰ برقرار رکھا جائے۔

امریکی سیاست — اسرائیل کے بائیکاٹ پر پابندی کا بل

امریکی ایوانِ نمائندگان نے 3 ستمبر کو ایک بل منظور کیا ہے جس کے تحت اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے والی جامعات کی وفاقی اعانت بند کی جاسکے گی۔ قرارداد 169 کے مقابلے میں 237 ووٹوں سے منظور ہوئی، جن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے 33 ارکان بھی شامل تھے۔ یہ بل تعلیمی آزادی اور امریکی آئین کی پہلی ترمیم سے متصادم ہے۔ اس قانون کے بعدجامعات کےبجائے،  واشنگٹن یہ فیصلہ کرے گا کہ وقف رقوم  کی سرمایہ کاری کس ملک میں کی جائے۔  بل اب سینیٹ میں پیش ہوگا، جہاں سے اس کی منظوری یقینی دکھائی دیتی ہے۔

رعم پارٹی کا فیصلہ: سیاسی پل کی تعمیر

انتہاپسندانہ ماحول کے باوجود اخوانی فکر سے وابستہ اسرائیل کی رعم (Ra’am) پارٹی نے یہودی سیاسی رہنما اور سابق رکنِ پارلیمان یوآو سیگالووِٹز کو آئندہ انتخابات کے لیے ٹکٹ جاری کیا ہے۔ اسرائیل میں کنیسہ (پارلیمان) کے انتخابات متناسب نمائندگی (Proportional Representation) کے نظام کے تحت ہوتے ہیں۔ ووٹر کسی امیدوار کو براہِ راست منتخب کرنے کے بجائے جماعت کو ووٹ دیتے ہیں۔ یاوو سیگوکووٹز کانام رعم کی فہرست میں منصور عباس کے بعد دوسرے نمبر پر ہوگا۔ کسی جماعت کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہونا محض علامتی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ پارلیمان تک پہنچنے کا مضبوط راستہ ہے۔منصورعباس کافی عرصے سے ایسی سیاست کی بات کررہے ہیں جس میں عرب اور یہودی شہریوں کے مشترکہ مسائل، مساوی شہری حقوق اور سیاسی شراکت کو مذہبی و قومی تقسیم پر ترجیح دی جائے۔ سیگالووِٹز نے بھی عرب و یہودی شہریوں کے درمیان سیاسی پل تعمیر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ شاید یہی وہ راستہ ہے جس سے بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت اور انتہاپسندی کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ ایک طرف اسرائیل میں مذہبی، قومی و سیاسی تقسیم گہری ہوتی جارہی ہے، آبادکاروں کا تشدد بڑھ رہا ہے اور غزہ کے فلسطینیوں کو باہر منتقل کرنے کی تجاویز سامنے آرہی ہیں، دوسری طرف اسی اسرائیل میں ایک عرب جماعت، یہودی سیاست دانوں کو اپنی صفِ اول میں شامل کررہی ہے۔

فلسطین میں جاری تشدد، غزہ سے آبادی کے انخلا کی تجاویز، مسجدوں پر حملے، گھروں اور کھیتوں کی تباہی اور امریکی جامعات پر اسرائیل کے بائیکاٹ کے حوالے سے قانون سازی—یہ سب ایک ایسی سیاسی فضا کی عکاسی کرتے ہیں جس میں اختلاف بتدریج دشمنی اور دشمنی تشدد میں تبدیل ہورہی ہے۔ لیکن اسی ماحول میں منصور عباس اور یوآو سیگالووِٹز کا سیاسی اشتراک ایک مختلف امکان کا راستہ ہموار کررہا ہے۔ مذہبی شناخت کو سیاسی دیوار بنانے کے بجائے عدل، مساوات، شہری حقوق، امن اور انسانی وقار کے لئے مشترکہ میدان تلاش کرنا  سب سے مشکل کام لیکن اس خطے کی اہم ترین سیاسی ضرورت  ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 11 ستمبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 11 ستمبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 13 ستمبر 2026


No comments:

Post a Comment