نائن
الیون کی 25ویں برسی
حملے
کے فوراً بعد جنگ— انصاف یا انتقام؟
گیارہ
ستمبر کو امریکہ پر حملہ ہوا اور صرف 26 دن بعد، 7 اکتوبر 2001 کو امریکہ نے
افغانستان پر فوجی یلغار کر دی۔طیارے اغوا کرنے والے 19 مبینہ افراد میں ایک بھی
افغان شہری شامل نہ تھا۔امریکہ کے وفاقی محکمہ سراغرسانی FBI،
کے مطابق ان میں 15 سعودی، دو اماراتی، ایک مصری اور ایک لبنانی تھا۔ امریکہ کے
خیال میں اس منصوبے کے خالق و محرک اسامہ بن لادن اور ڈاکٹر ایمن الظواہری
تھےجنھیں طالبان حکومت نے پناہ دے رکھی تھی۔جب امریکہ نے بن لادن کی حوالگی کا
مطالبہ کیا تو طالبان نے ثبوت مانگے۔ کیا ایسے سنگین الزام پر شفاف تحقیقات کا
مطالبہ غیر منطقی تھا؟ سوال یہ ہے کہ دہشت گردی کا جواب جنگ تھا یا انصاف؟
افغانستان کی تباہی اور تاریخ کا خونچکاں دائرہ
امریکہ
نے افغانستان میں تقریباً بیس سال تک جاری رہنے والی جنگ شروع کی۔ طالبان حکومت
ختم ہوئی، القاعدہ کو شدید نقصان پہنچا، اسامہ بن لادن 2011 میں مارے گئے اور بعد
میں ایمن الظواہری بھی جاں بحق ہوگئے۔ اگر اصل مقصد ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے
میں لانا تھا تو عالمی قانون اور عدالتی نظام کو مرکزی کردار کیوں نہ دیا گیا؟
لاکھوں افغان شہریوں کی ہلاکت، بے گھری، کھربوں ڈالر کے اخراجات اور پورے ملک کی
تباہی کے بعد امریکہ 2021 میں افغانستان سے نکل گیا اور طالبان دوبارہ اقتدار میں
آگئے۔ یعنی بیس سالہ جنگ کے بعد تاریخ ایک خونخوار دائرہ مکمل کرکے وہیں پہنچ گئی
جہاں سے شروع ہوئی تھی۔
خالد شیخ محمد — اعتراف موجود، مگر شہادت ناقابلِ قبول
نائن
الیون کے مبینہ مرکزی منصوبہ ساز خالد شیخ محمد کو 2003 میں
پاکستان سے گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کیا گیا۔ وہ برسوں سی آئی اے کی خفیہ
حراست میں رہے، انسانیت سوز تشدد کا سامنا کیا اور 2006 میں گوانتانامو منتقل کئے
گئے۔ ان کے خلاف مقدمہ مسلسل قانونی تنازعات میں پھنسا رہا۔ تازہ پیش رفت یہ ہے کہ
28 اگست 2026 کو فوجی جج لیفٹیننٹ کرنل مائیکل شریما نے شیخ محمد کے ایف بی آئی کے
سامنے دئے گئے اعترافات کو ناقابلِ قبول قرار دے دیا۔ عدالت کے مطابق استغاثہ یہ
ثابت نہ کرسکا کہ یہ بیانات رضاکارانہ تھے۔ سی آئی اے کی حراست میں ہونے والا
نفسیاتی و جسمانی جبر بعد کی پوچھ گچھ پر بھی اثر انداز ہوا۔یعنی اعتراف موجود ہے،
مگر شہادت ناقابلِ قبول
تاریخ پر تاریخ — مقدمہ کیوں نہیں چل سکا؟
خالد
شیخ محمد کا مقدمہ 2012 میں فوجی عدالت کے مرحلے میں پہنچا، مگر تشدد سے حاصل کئے
گئے بیانات، شواہد کی قبولیت اور دیگر قانونی مسائل نے کارروائی کو آگے بڑھنے نہ
دیا۔بارہ سال بعد 2024 میں سزائے موت کے
بجائے عمر قید کے لیے ایک معاہدے (Plea Bargain) کی کوشش ہوئی، مگر وہ بھی ناکام ہوگئی۔ اب 5
جون 2028 کی تاریخ مقرر ہے، لیکن اعترافی شواہد کے اخراج کے بعد استغاثہ اپیل پر
غور کر رہا ہے۔ یوں نائن الیون کے 27
سال بعد بھی مقدمے کا فیصلہ یقینی نہیں۔ جس واقعے میں چند گھنٹوں کے دوران دوتین
ہزار انسان مارے گئے، اس کے مبینہ منصوبہ ساز کے مقدمے کا ایک چوتھائی صدی میں بھی
فیصلہ کیوں نہ ہوسکا؟
نائن الیون کا اصل سبق — دہشت گردی کی مذمت اور انصاف
کی ناگزیر شرط
اس
سانحے کہ پچیسویں برسی پر حالات و واقعات کے عادلانہ تجزئے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دہشت گردی کی کوئی توجیہ نہیں۔ بے گناہ انسانوں
کو نشانہ بنانا جرم ہے، چاہے مجرم کا تعلق کسی بھی مذہب، قوم یا نظریے سے ہو۔ لیکن
دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی قانون سے بالاتر نہیں ہوسکتی۔ اگر امریکہ دنیا کو قانون
کی حکمرانی کا درس دیتا ہے تو نائن الیون کے معاملے میں بھی اسی اصول کو پوری قوت
سے نافذ کرنا ہوگا۔ اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری راستے سے ہٹ چکے ہیں،
افغانستان پھر طالبان کے ہاتھ میں ہے، اور گوانتانامو میں بیٹھا خالد شیخ محمد اب
بھی فیصلے کا منتظر ہے۔ سب سے بڑھ کر پتھروں کے دور میں پہنچادئے جانیوالے لاکھوں
افغانی پوچھ رہے ہیں کہ ہم کس جرم میں مارے گئے؟؟
ہفت روزہ
فرائیڈے اسپیشل کراچی 11
ستمبر 2026
ہفت روزہ دعوت دہلی 11 ستمبر 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 13 ستمبر 2026
No comments:
Post a Comment