Thursday, April 4, 2019

ترکی کے بلدیاتی انتخابات


ترکی کے بلدیاتی انتخابات
ترکی میں 31 مارچ کو بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے۔ یہاں آئین کے تحت ہر پانچ سال بعد مارچ کے آخری اتوار کو بلدیاتی انتخابات ہوتے ہیں۔ یعنی ہر بار نئی تاریخ کا اعلان نہیں ہوتا۔ اتوار کوہونے والے انتخابات میں 81 صوبوں پر مشتمل اس ملک کے 30 میٹرروپولیٹن روؤسائے شہر (Mayors) ،1351 مونسپل میئر اور 22ہزار کونسلرز کا چناو کیا گیا۔ان انتخابات میں حکمراں جماعت انصاف و ترقی پارٹی یاAKPسمیت تمام سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا۔ توقع کے مطابق اصل مقابلہ طیب اردوان کی قیادت میں بننے والے عوامی اتحاداور قومی اتحاد کے درمیان رہا جسکے قائدکمال کوچدارولو Kemal Kılıçdaroğluہیں۔
عوامی اتحاد میں حکمران AKPاور قوم پرست مادروطن پارٹی یا MHPکے علاوہ 3 چھوٹی جماعتیں شامل ہیں جبکہ قومی اتحاد اتاترک کی پیپلز ریپبلکن پارٹی (CHP)،حزب خیر یا IYIپارٹی، سعادت پارٹی اور 12 چھوٹی جماعتوں پر مشتمل ہے۔اسی کے ساتھ کرد قوم پرست عوامی جمہوری پارٹی (HDP) اورامن و جمہوریت پارٹی (DBP) مخصوص علاقوں میں قسمت آزمائی کررہی تھیں۔
بلدیات رجب طیب اردوان کی اصل قوت اور انکی جماعت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ترک صدر نے بلدیاتی سیاست ہی سے تبدیلی کا آغاز کیا تھا۔ مصر  و یمن کی اخوان، تیونس کی النہضہ، الجزائر کے اسلامک فرنٹ اور دنیا بھر کی اسلامی جماعتوں کی طرح اردوان اور پروفیسر نجم الدین اربکان (ر) نے بلدیات کو اپنی پارلیمانی سیاست کی بنیادبنایا۔ انکا خیال ہے کہ خدمتِ عوام دعوت اور اجتماعی خیر کا  سب سے موثرذریعہ ہے۔گلی محلوں  کے حقیقی مسائل  پر توجہ دیکر  قومی ایجنڈے  کو آگے بڑھانے کیئے رائے عامہ کواپنے حق میں  ہموارکیا جاسکتا ہے۔
 اب اسلامی قوتوں کے ساتھ ترکی کے سیکیولر رہنما بھی  یہ جان چکے ہیں کہ قومی اقتدار کا راستہ بلدیاتی ایوانوں سے ہوکر گزرتا ہے۔ اسی بنا حزب اختلاف نے ان انتخابات کو بے انتہا اہمیت دی اور سارے ملک میں بھرپور مہم چلائی اسی جوش و خروش کا نتیجہ تھا کہ بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے تناسب85 فیصد کے قریب رہا، بلکہ استنبول میں 92 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔
 گزشتہ کچھ عرصے سے ترکی کی معیشت شدید دباو میں ہے۔ بیرونی قرض بڑھنے اور ترک لیرا کے زوال کی بنا پر ملک کو افراطِ زراور مہنگائی کا سامنا ہے۔روزگار کی صورتحال بھی کچھ اچھی نہیں ۔ نوجوان ترک ایردوان کا دست بازو ہیں اور یہی طبقہ  بیروزگاری سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔کمال کوچدارولو  نے ترک معیشت کو انتخابی مہم کی بنیاد بنایا ۔ ترک تاریخ کی یہ پہلی  مہم تھی  جس میں CHP  کے جلسوں میں  'حمدِ اتاترک 'اور  سیکیولر ازم کے فیوض و برکات کا کوئی ذکر نہیں سنا گیا اور نہ ہی اردوان کی ملائیت  ہدف  تنقید بنی بلکہ حزب اختلاف کا سارا زور معیشت پر تھا ۔ کمال کوچدارولو اور انکے اتحادی حزب  خیر کی محترمہ  مرال کثر  Meral Akşener اپنی  تقریروں  میں اردوان کو ناکام ارسطو قراردیتے رہے جنھوں نے اپنے داماد کے ساتھ مل کر  ترک معیشت کابیڑا غرق کررکھاہے۔ صدر ایردوان کے داماد بیرات  البیراک Berat Albayrak ترکی کے وزیرخزانہ ہیں۔رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق مقابلہ خاصہ سخت تھا اور انتخابات سے ایک دن پہلے شائع ہونے والے جائزوں کے مطابق حزب اختلاف کے قومی اتحاد کو ہلکی سی برتری حاصل ہوگئی تھی۔
نتائج کے مطابق  صدر طیب رجب اردوان  نے اپنی برتری  تو قائم رکھی لیکن  انقرہ، اناطالیہ، ادانہ میں شکست سے  رنگ میں کچھ بھنگ سا پڑگیا ہے۔AKPکیلئے حقیقی دھچکا استنبول کے انتخابات ہیں جہاں حزب اختلاف کو معمولی سی برتری حاصل ہے بلکہ غیر جانبدار حلقوں کے خیال میں میئر کیلئے صدر اردوان کے دست راست بن علی یلدرم شکست کھاچکے ہیں۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق پورے ملک میں حکمران   AKPنے  44.42فیصد ووٹ حاصل کئے جو گزشتہ انتخابات سے 1.45فیصد زیادہ ہیں۔انکے قریب  ترین  حریف  CHPنے30.07 فیصد ووٹ لئے۔گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں انکی ووٹوں میں 3.76فیصد کااضافہ ہوا ہے۔اگر اتحادیوں کے ووٹ جوڑ لئے جائیں  تو 51.67فیصد ترکوں نے حکمراں  عوامی اتحاد کے حق میں رائے دی اور 37.53فیصد  ووٹروں نے حزب اختلاف کے جمہوری اتحاد پر اعتماد کا اظہار کیا۔
 نتائج کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ پہلو بھی ذہن میں رہنا چاہئے کہ بلدیاتی انتخابات میں عوام کی ترجیح قومی انتخابات سے ذرا مختلف ہوتی ہے اور لوگ   بلدیاتی پرچہِ انتخاب )بیلٹ پیپر)پر ٹھپہ لگاتے  وقت  نظریات، قانون سازی اور پالیسی کی تشکیل سے زیادہ گلی محلوں کے مسائل  کو ذہن میں رکھتے ہیں۔
حزب اختلاف  نے ملک کے 6 بڑے شہروں یعنی دارالحکومت  انقرہ،  استنبول، ازمیر، برسا،اناطالیہ  اور ادانہ کو ہدف بنایا۔ حکومت مخالف جمہوری اتحاد نے انقرہ سے  ایردوان کی 25 سالہ برتری کا خاتمہ کردیا ساتھ ہی  اناطالیہ اور ادانا بھی لے اڑے۔ ادانہ میں CHPکی کامیابی کواس اعتبار سے ایردوان کی شکست نہیں کہا جاسکتا کہ ادانہ سمیت بحرروم کا پورا ساحل سیکیولرا ور قوم پرستوں کا گڑھ ہے۔ ادانہ کے میئر کا تعلق APکی اتحادی قوم پرست MHPسے تھا جہاں اس بار CHPنے کامیابی حاصل کرلی۔اسی کے ساتھ  CHPنےازمیر پر اپنی روائتی  برتری قائم  رکھی۔
 استنبول میں گھمسان کا رن پڑا جسکے انتخابی نتائج کا اعلان  اب تک نہیں ہوسکا ہے۔استنبول  صدر ایردوان  کا  آبائی  علاقہ ہے۔ ترک صدر نے یہیں تعلیم حاصل کی، استنبول کی فٹبال  ٹیم کے  ہونہار کھلاڑی کی حیثیت سے شہرت حاصل کی اور پھر  مارچ 1994 میں  استنبول  کے  میئر منتخب  ہوئے۔ 1998 میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ پر ایک نظم پڑھنے  کے جرم میں انھیں سیاست سے نااہل قراردیکر جیل بھیج دیا گیا لیکن 4 سال کے دوران شہر کے نظم و نسق  خاص طور  سے  ذرایع  آبنوشی کی ترقی، ماحولیاتی آلودگی پر قابو اور پولیس اصلاحات وغیرہ جیسے  زبردست اقدامات کی بناپر وہ آج  بھی استنبول کے ہیرو تسلیم کئے جاتے ہیں۔
استنبول میں میئر کی نشست پر ایک ایک بیلٹ پیپر کا خورد بین سے جائزہ لیا جارہا ہے۔پولنگ مکمل ہونے پر 31 مارچ کی شام کو  ایردوان کے  امیدوار بن علی  یلدرم  4773ووٹوں کے ساتھ آگے تھے لیکن  کچھ بیلٹ  بکسوں کی دوبارہ گنتی کے بعد  الیکشن کمیشن  نے اعلان کیا کہ 99 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے بعد CHPکے امیدوار اکرم امام اوغلو کو  27889ووٹوں کی  برتری حاصل ہوگئی ہے۔ تادم تحریر31136میں سے 64 بیلٹ  بکس ابھی تک نہیں  کھولے گئے ۔ بن علی یلدرم نے اپنے مخالف امیدوار کی برتری کا اعتراف  توکیا ہے لیکن انکا کہنا ہےکہ وہ صرف 20 ہزار  ووٹوں سے پیچھے ہیں  اور ابھی جن  علاقوں  کے بیلٹ بکسوں کی گنتی باقی ہے  وہاں  انکی پوزیشن خاصی مضبوط ہے۔  خیال رہے کہ میئر کے انتخاب میں 83 لاکھ سے زیادہ ووٹ  ڈالے گئے ہیں۔
 دونوں جماعتوں نے  بہت سے بیلٹ بکسوں کی دوبارہ  گنتی کا مطالبہ کیا ہے ۔ الیکشن کمیشن ان درخواستوں پر منگل کی دوپہر کو اپنا فیصلہ سنائیگا۔ جسکے بعد کورٹ کچہری کا راستہ بھی خارج ازامکا ن نہیں  لہٰذا   آوے آوے اور جاوے جاوے کا شور ابھی کچھ عرصہ  جاری رہنے کی توقع ہے۔
بحیثیت مجموعی کرد علاقوں،  ترکی کے جنوبی حصے،  بحرروم کے  ساحل اور  خلیج یونان  سے متصل علاقوں میں جو سیکیولر اور قوم پرستوں کا گڑھ ہے، جناب ایردوان کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان انتخابات کا   خوش آئند پہلو یہ ہے کہ  کرد علاقوں میں  علیحدگی پسندوں کی جانب سے  بائیکاٹ  اور دہشت گرد وں کی دھمکیوں کے باوجود جوش وخروش کے ساتھ انتہائی پرامن  انتخابات ہوئے اور کردوں کی   پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی HDPنے برتری حاصل کی۔
انتخابی نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ترک عوام نے انکی پارٹی پر اپنے اعتماد کی تجدید کے ساتھ معاشی معاملات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جوآنے والے دنوں میں انکی اولین ترجیح  ہوگی۔ انھوں نے فراخدلی سے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ترکوں نے جن کمزوریوں کی نشاندہی کی ہے انھیں دورکرنا ہمارا فرض ہے۔
مغربی میڈیا کی طرح رائے عامہ کے پاکستانی ذرایع ان انتخابی نتائج کو ایردوان کی شکست ور ان پر عدم اعتماد کا اظہار قراردے رہے ہیں۔ یہ درست کہ ترکی کے 6 بڑے اور اہم شہروں میں سے AKPنے صرف شمالی اناطولیہ کے شہر برصا میں کامیابی حاصل کی ہے جو ملک کو چوتھا بڑا شہر ہے لیکن بڑے شہروں میں کامیابی کے باوجود حزب اختلاف کیلئے نتائج انکی توقعات  کے مطابق نہیں۔ رائے عامہ کے تمام جائزے جمہوری اتحاد کو حکمران عوامی اتحاد سے ایک آدھ  پوائنٹ آگے بتارہے تھے لیکن  حزب اختلاف کےمجموعی ووٹ 38 فیصد بھی کم رہے۔
میئر کی نشستوں پر شکست کے باوجود ان 6 بڑےشہروں کے 728 میں سے  AKPکے منتخب ہونے والے کونسلروں کی تعداد 538 سے زیادہ ہے۔ AKPکی اصل قوت ترکی کے دیہی علاقے ہیں جہاں ایردوان کی گرفت برقرار رہی تاہم استنبول، اناطالیہ اور ادانہ میں CHP  کی شاندار کارکردگی نے صدر ایردوان کو اندیشہ ہائے دوردراز میں مبتلا کردیا ہے۔ اقتصادیات کو بہتر بنانے کیلئے صدر ایردوان سیاحت کے فروغ کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس سال کے پہلے دومہینوں کے دوران ترکی آنے والے سیاحوں کی تعداد میں 7 فیصد اضافہ ہواہے۔ترکی آنے والے 75 فیصد سیاح استنبول ائرپورٹ کے راستے ملک میں داخل ہوئے۔استنبول کی شہر ی انتظامیہ سیاحوں کے استقبال اور انھیں بہتر سہولت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔ استنبول ترکی کا دروازہ اور عثمانی ثقافت کا  امین ہے۔  شہر سے اسلام پسندوں کے انتٓظامی کنٹرول کا خاتمہ شہر کے نظریاتی تشخص کو گہنا سکتا ہے۔
صدر اردون  دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کیلئے  امید اور امت کیلئے یکجہتی کا استعارہ ہیں یہی وجہ کہ اتوار کوترکی کے انتخابات کا جہاں تل ابیب اور واشنگٹن نے بہت باریکی سے جائزہ لیا تو وہیں غزہ اور دریائے اردن کے مغربی کنارے پر بھی لوگ ساری رات ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھے رہے۔ بنگلہ دیش کے روہنگیا کیمپوں میں بھی خاصہ جوش و خروش پایا گیا۔ مستضعفین کا ساتھ دینے کی بنا پرصدرایردوان دنیا بھر کے متکبرین کا نشانہ ہیں اور  ترکی اسوقت مشکل ترین حالات سے گزررہا ہے۔ شام میں خانہ جنگی کی بنا پراسکی مشرقی و جنوبی سرحدیں غیر مستحکم ہیں۔ بحر روم میں اپنے معدنی حقوق کیلئے صدر اردوان کا سینہ تان کر کھڑا ہونا یورپی یونین کو پسند نہیں۔ جنوب مشرق میں عراق سے متصل سرحد پر کرد دہشت گرد سرگرم ہیں۔ شمال مشرق میں آرمینیا اور ترکوں کی کشیدگی صدیوں پرانی ہے۔ فلسطینیوں کی پرجوش حمائت کی بنا پر اسرائیل اور صر ٹرمپ صدرایردوان کی جان کے دشمن ہیں۔ 3 سال پہلے انکے خلاف فوجی بغاوت بھی کیا جاچکی ہے۔بھاری فوجی اخراجات کے ساتھ امریکہ و یورپی یونین کی جانب سے پابندیوں نے  ترک معیشت کو  شدیدمشکلات میں مبتلا کردیا ہے۔
اب جبکہ بڑے شہرحزب اختلاف کے کنٹرول میں آگئے ہیں CHP اور سیکیولر عناصرمعاشی بہتری کیلئے ایردوان کے اقدامات کو سبوتاژ کرسکتے ہیں۔ انکی جماعت کے کچھ اکابرین جناب طیب اردوان کو عملی سیاست سے علیحدگی کا مشورہ دے رہے ہیں۔ موصوف استنبول کے میئر، وزیراعظم اور صدر کی حیثیت سے گزشتہ 26سالوں سے اقتدار میں ہیں۔ْ  اس عرصے میں انھوں نے ملک کے تعمیرنو اور نظریاتی تشخص کیلئے بلاشبہ بہت عمدہ کام کیا ہے۔ انکی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اب CHPنے بھی سیکیولرازم کے نعرے کو عملاً ترک کردیا ہے۔انکے بعض مخلص دوستوں کے خیال میں وقت آچکا ہے کہ جناب اردوان قیادت  سے باوقار انداز میں سبکدوش ہوکرنوجوان سیاستدانوں کی تربیت پر توجہ دیں۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 5 اپریل 2019

یمن میں خانہ جنگی بند کرو!! امریکی کانگریس کی قرارداد


یمن میں خانہ جنگی بند کرو!! امریکی کانگریس کی قرارداد
آج امریکہ کے ایوانِ نمائندگان  نے 175 کے مقابلے میں 247 ووٹوں سے ایک مسودہ قانون (بل)  کی منظوری دیدی جس میں  امریکی صدر پر زور دیا گیا ہے کہ وہ امریکہ کو یمن جنگ  سے علیحدہ کرلیں۔ اس قرارداد  کو امریکی سینیٹ 46 کے مقابلے میں 54 ووٹوں سے پہلے ہی منظور کرچکی ہے جہاں  صدرٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی سے وابستہ 7 سینیٹرز نے جماعتی وابستگی سے بالاتر ہوکر بل کے حق میں ووٹ دیا۔  
امریکہ  کے خلیجی اتحادیوں   سعودی  عرب اور متحدہ عرب امارات  نے  یمن   میں  حوثی  باغیوں  کے خلاف   گزشتہ تین سال  سے  فوجی کاروائی  جاری  رکھی   ہوئی ہے۔ مصر بھی اس  جنگ میں  خلیجیوں کے شانہ بشانہ ہے۔ سعودی عرب اور UAEکاکہنا ہے کہ  ایران  یمن پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور حوثی دراصل ایران کے پاسدارانِ  انقلاب  ہی ایک شکل ہے۔ امریکہ اس جنگ میں براہ راست شریک  نہیں  لیکن اسکے ٹینکر بردار ہوائی جہاز یمن پر حملے کے لیےجاینوالے سعودی ، مصری اور متحدہ عرب امارات کے جنگی طیاروں کو فضا میں  ایندھن فراہم کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ  امریکہ اپنے خلیجی اتحادیوں  کو حوثیوں کے بارے میں خفیہ معلومات بھی دیتا  ہے۔
 بل میں  جنگ سے متعلق امریکی صدر کے اختیار (War Power Act)کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کو باور کرایاگیا ہےکہ  کانگریس نے امریکی صدر کو جنگی کاروائی میں  حصہ لینے کا اختیار نہیں دیا۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ جنگ میں مصروف سعودی اور متحدہ عرب امارات کی فوج سے امریکی تعاون ختم کردیا جائے۔
بحث کے دوران اس جنگ  کے چند افسوناک  پہلووں کی نشاندہی کی گئی:
·        سعودی فضائیہ یمن میں آبنوشی کے ذخائر کو نشانہ بنارہی ہے  اور صاف پانی  کی نایابی کی بنا پر وہاں ہیضے کی وبا پھوٹ پڑی ہے۔
·        ایک جائزے کے مطابق 60 ہزار شہری خلیجی طیارو ں کی بمباری سے ہلاک ہوئے ہیں
·        شدید غذائی قلت کی بنا پر لاکھوں یمنی بچے ذہنی اور جسمانی طور پر معذور ہوگئے ہیں۔
ضابطے کے تحت کانگریس کی  اسپیکر محترمہ نینسی پلوسی آج ہی  اس بل کو منظوری کیلئے صدر ٹرمپ کو بھیج دینگی۔ تاہم وہائٹ ہاوس  کے ذرائع کا کہناہے کہ امریکی صدر اس بل کو ویٹو یا نامنظور کردینگے۔ امریکی کانگریس  صدر کے ویٹو کو دوتہائی اکثریت سے غیر موثر کرستی ہے لیکن  قرارداد کی حمائت میں اتنے ووٹوں کی توقع نہیں۔ یعنی یہ مسودہ قانون ردی کی ٹوکری میں جاتا نظر آرہا ہے۔ تاہم  کانگریس امریکی عوام کی امنگوں کی ترجمان ہے لہذا ویٹو کے باوجود یہ قرارداد ایسی بے وقعت بھی نہیں۔  

Wednesday, April 3, 2019

بھارتی فوج ۔۔ مودی جی کی سینا؟؟؟


بھارتی فوج ۔۔ مودی جی کی سینا؟؟؟
بھارتی ریاست یو پی کے وزیراعلیٰ شری یوگی ادتیاناتھ بھارتیہ جنتاپارٹی کے شعلہ بیان مقرر ہیں ۔ مسلمانوں سے دشمنی میں انکا کوئی ثانی  نہیں۔ موصوف پیدا تو ایک سکھ گھرانے میں اجے موہن  سنگھ  کے نام سے  ہوئے لیکن  18 سال کی عمر میں مہنت ایویدیاناتھ کے ہتھے چڑھ گئے جنھوں نے اپنی پوری زندگی  رام  مندر کی تعمیر نو کیلئے وقف کردی تھی۔ انتہاپسندکہتے ہیں کہ   رام جی کی جنم بھومی یا مقام پیدائش ایودھیا   میں کہ  جسکا اصل نام  رامایانا  ہے ایک عظیم الشان مندر تھا جسے مغلوں نے مسمار کرکے بابری مسجد تعمیر کردی ۔ اسی بناپر1992میں بابری مسجد کو منہدم کردیاگیا۔ اس مقام پر رام جی کا مندر تو اب تک تعمیر نہیں ہوا لیکن اسے بہانہ بناکر ہزاروںمسلمان  تہہ تیغ کردئے گئے۔
مہنت ایودیاناتھ نے اپنے شاگردِ رشید اجے موہن کا نام  یوگی ادتیا ناتھ رکھدیا اور ستمبر 2014 میں اپنے گرو کی موت پر موصوف  نے انکی جگہ سنبھال لی۔یوگی یا بھکشو  عام طور سےخلق خدا کی خدمت میں ہمہ وقت مصروف   تارک الدنیا لوگ  ہوتے ہیں۔ انسانوں  پر ہاتھ اٹھانا تو دور کی بات یہ بیچارے  جانوروں کا گوشت بھی نہیں کھاتے کہ انکے مذہب میں ہتھیا (قتل) سب سے بڑا پاپ ہے اور یہ لوگ جانوروں کے ذبیحے کو بھی ہتھیا سمجھتے ہیں بلکہ ان میں سے اکثر انڈے بھی نہیں کھاتے کہ یہ ابتدائے حیات کی علامت ہے۔ ادیاناتھ جی  گوشت تو نہیں کھاتے لیکن  اشنان مسلمانوں کے خون سے کرتے ہیں۔ یہ محض ذہنی اعتبار سے ہی  تنگ نظر نہیں بلکہ انکا اپنا ہاتھ بھی مسلمانوں کے لہو   سے سرخ ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی شکل میں انھیں خونریزی کیلئے ایک سیاسی پلیٹ فارم بھی میسر آگیا اور موصوف 1998 میں گورکھپور کی نشست سے بھارتی لوک سبھا(قومی اسمبلی) کے رکن منتخب ہوگئے۔ اسوقت انکی عمر صرف 26 سال تھی اور اس اعتبار سے یوگی  جی کو ہندوستان کی تاریخ کا سب سے کمسن  رکنِ لوک سبھا ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ستم ظریفی کہ اعلیٰ ظرفی  ، مذہبی آہنگی اور برداشت کی علامت  حضرت فراق گورکھپوری کے حوالے سے مشہور اس شہر کی شناخت اب یہ وحشی ہے۔
موصوف کے تعارف کے بعد اب آتے ہیں اصل کتھا کہانی کی طرف۔ جیسا کہ ہم نے عرض کیا ادتیاناتھ ایک شعلہ بیان مقرر اور بی جےپی کے انتخابی جلسوں کی جان ہیں۔ انکی تقریر مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف نفرت کے گرد گھومتی ہے اور بے حد پسند کی جاتی ہے۔31مارچ کو  غازی پور میں ایک بہت بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'کانگریس والے آتنگ وادیوں (دہشت گردوں) کو بریانی پیش کرتے ہیں جبکہ مودی جی کے پاس دہشت گردوں  کیلئے گولی اور گولوں کے سوا اور کچھ نہیں' یہ دراصل پاکستان اور ہندوستان کے درمیان امن مذاکرات کیلئے کانگریس کی تجویز کا جواب تھا۔ اسی کیساتھ اپنے آتشیں لہجے میں انھوں نے کہا کہ'  کانگریس کے لوگ دہشت گرد کو عزت سے مسعوداظہر جی کہتے رہے اور اسی دوران    مودی جی   کی سینا (فوج) نے  دشمن کے گھر میں گھس کر دہشت گردوں کے ٹھکانے  جلا ڈالے'۔
بھارتی فوج کو مودی جی کی سینا کہنے پر حزب اختلاف بھڑک اٹھی اور مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ شریمتی ممتا بنڑجی نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ بھارتی فوج  پورے دیش کی ہے اسے مودی جی کی سینا کہہ کر ادتیاناتھ نے قو م کی توہین کی ہے۔
کانگریس کی درخواست پر آج بھارت کے انتخابی کمیشن نے یوپی کے وزیراعلیٰ کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کردیا۔ غیر اطمینان بخش جواب کی صورت میں موصوف اپنے عہدے سے برطرف اور انتخابات سے نااہل ہوسکتے ہیں لیکن مودی جی بھی کچی گولیاں نہیں کھیلے،  فرمایا بطور وزیراعظم میں فوج کا کمانڈ ان چیف ہوں اور اس  اعتبار سے یہ میری ہی سینا ہے۔کیا گلط (غلط) کہا   یوگی ادتیاناتھ جی نے؟؟ ہے اس ہٹ دھرمی کا کوئی جواب ؟؟؟؟


Tuesday, April 2, 2019

وینزویلا کے Selectedصدر کے ستارے گردش میں


وینزویلا کے  Selectedصدر کے ستارے گردش میں  
 وینزویلا میں   صدر ٹرمپ  کے منظور نظر  سلیکٹڈ صدر وان گیدو Juan Guaidoاپنے ہی دام میں آگئے۔ گیڈو صاحب وینزویلا پارلیمان  کے اسپیکر تھے۔ 2018 کے صدارتی انتخابات   میں  صدر نکولس مدورو(Nicolas Maduro) 67.8فیصد ووٹوں کے ساتھ  کامیاب ہوئے  جسےحزب اختلاف نے  تسلیم نہیں کیا۔ تاہم   صدر مدورو نے  دھاندھلی کے الزامات کا مسترد کرتے ہوئے نئی مدت کیلئے حلف اٹھالیا۔ مزے کی بات کہ انھیں انتخابات میں حزب اختلاف  نے پارلیمان میں برتری حاصل کرلی اور جناب گیدو اسپیکر منتخب ہوگئے۔میٹھا میٹھا ہپ  ہپ اور کڑوا کڑوا تھو کے مصداق صدارتی انتخابات کو مسترد کرنے کے باوجود پارلیمانی انتخابات کے نتائج انھوں نے بسروچشم قبول کرلئے۔
امریکہ اور مغرب  کہ شہہ پر وان گیڈو صاحب نے جنوری میں صدارتی انتخابات کومسترد کرتے ہوئے صدرکا عہدہ سنبھال لیا اور امریکہ، اسرائیل  و یورپی یونین نے جناب گیڈو کی حکومت کو تسلیم کرلیاْ۔ دوسری طرف  ترکی، روس اور ایران  صدر مدورو کی پشت پر کھڑے ہوگئے بلکہ ایرانی بحریہ نے اپنی آبدوز اور جنگی جہاز وینزویلا کے ساحلوں پر تعینات کردئے۔
آج وینزویلا کی پارلیمان نے ایک قرارداد کے ذریعےمجرمانہ مقدمات  سے وان گیڈوکا استثنیٰ معطل کردیا یعنی اب موصوف  کوغداری  وبغاوت کے الزام میں گرفتارکرکے مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔ صدر مدورو اب بھی  اس سیاسی  تنازعے کو بات چیت  کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں لیکن اب  انکے لئے وان  گیڈو کوگرفتارکرنےکا راستہ بھی کھل گیا۔ خیال ہے کہ  وان گیڈو جلاوطنی اختیار کرکے برازیل چلے جائینگے۔دیکھنا ہے کہ صدر ٹرمپ  اپنے سیلیکٹیڈ صدر کوبچانے کیلئے کیا قدم اٹھاتے ہیں۔