Thursday, March 18, 2021

افغان امن !! منزل ہے کہاں تیری؟

افغان امن !! منزل ہے کہاں تیری؟

دوحہ (قطر) میں 29 فروری 2020 کو امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے سے افغانستان میں امن کی جو امید پیدا ہوئی تھی اسکے بارے میں شکوک و شبہات گہرے ہوتے جارہے ہیں۔اس معاہدے سے پہلے تقریباً دوسال تک اعصاب شکن مذاکرات ہوئے۔ اس دوران کئی بار ایسا لگا کہ دونوں فریق دیوار سے باتیں کررہے ہیں۔ ستمبر 2019 میں امریکی فوج پر حملے کے بعد صدر ٹرمپ نے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات معطل کردئے تھے لیکن چند ماہ بعد بات دوبارہ شروع ہوئی اور آخر کار معاہدے پر دستخط ہوگئے۔ جیسا کہ ایک نشست میں ہم اس سے پہلے عرض کرچکے ہیں یہ معاہدہِ امن نہیں بلکہ عزمِ امن کا معاہدہ   (Agreement for Bringing Peace in Afghanistan)ہے۔سمجھوتے کے اہم نکات میں:

·         جنگی قیدیوں کی رہائی

·         بین الافغان مذاکرات

·         تشدد میں کمی

·         مئی 2021 تک غیر ملکی افواج کا انخلا اور

·         افغان سر زمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی  شامل تھی۔

طالبان کے اصرار پر کابل انتظامیہ کو بات چیت سے علیحدہ رکھا گیا اسلئے ڈاکٹر اشرف غنی کو اس پورے معاملے پر شدید تحفظات تھے اور انھوں نے اپنی ناراضگی کا کھل کر اظہار بھی کیا۔ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ طالبان نے اپنے قیدیوں کی جو فہرست دی ہے ان میں بہت سے لوگ اخلاقی جرائم میں ملوث ہیں جس پر انھیں افغان عدالتیں قید بلکہ کچھ کو سزائے موت سناچکی ہیں۔ ان لوگوں کو جنگی قیدی قرارنہیں دیا جاسکتا۔ امریکی حکومت کے دباو پر قیدیوں کا تبادلہ مکمل ہوگیا۔ تاخیر کی بنا پر ستمبر سے بین الافغان بات چیت کا آغاز ہوا۔

چھ ماہ گزرجانے کے باوجود اب تک مذاکرات کے ایجنڈے پر بھی اتفاق نہیں ہوسکاہے۔ اس حوالے سے بنیادی اختلاف دونوں فریقوں کی حیثیت پر ہے۔ کابل انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وہ افغان عوام کے منتخب نمائندے ہیں جنکے خلاف طالبان نے ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں۔ حکومتی وفد چاہتا ہے کہ اپنے مطالبات پیش کرنے سےپہلے طالبان ہتھیار رکھدیں۔کابل انتطامیہ نے اپنے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ملاوں کا موقف  کھلے دل سے  سنے گی اور ایک باوقار معاہدے کیلئے ہر ممکن کوشش کی جائیگی۔

دوسری طرف طالبان کا کہنا ہے کہ 2001میں جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا اسوقت امارات اسلامی افغانستان پر طالبان کی حکو مت تھی۔ امارات نے غیر ملکی جارحیت کیخلاف مادر وطن کا کامیابی سے دفاع کیا جبکہ کابل انتظامیہ وہ کٹھ پتلی ہے جسے حملہ آوروں نے غداری کے انعام میں کابل کا تخت عطا کیا۔طالبان اس غداری کو دل سے معاف کرنے کو تیار ہیں اور انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ غیر ملکی فوج کی واپسی کے بعد نئی انتطامیہ تشکیل دیتے وقت افغان حکومت سمیت ملک کی تمام سیاسی، لسانی اور مذہبی اکائیوں کو مناسب نمائندگی دی جائیگی۔ایک اورنکتہ افغانستان کا آئین ہے۔ افغان حکومت کا اصرار ہے کہ بات چیت اسلامی جمہوریہ افغانستان کے آئین کے مطابق ہوگی اور نئے بندوبست میں آئین کے تحفظ کو یقینی بنایاجائے۔ طالبان  موجودہ دستور منسوخ کرکے  قرآن و سنت کی روشنی میں ایک نیا آئین ترتیب دیناچاہتے ہیں۔

ایک بڑا مسئلہ باہمی اعتماد کا ہے۔ معاہدے کی صورت میں طالبان کو افغانستان کے طول عرض میں پھیلے اپنے اڈوں، اسلحے کے ذخائر، اسحلہ سازی کی تنصیبات، لیبارٹریز اور تربیتی مراکز ختم کرنے ہونگے۔ چھاپہ مار افغان فوج میں ضم کردئے جائینگے۔ ملاوں کو ڈر ہے کہ اس مرحلے پر اگر امریکہ نے چالاکی دکھائی تو کیا ہوگا۔ اسی طرح کابل انتظامیہ خوفزدہ ہے کہ نیٹو فوج کی واپسی کے بعد اگر طالبان معاہدے سے مکر گئے تو  ملاوں کے غیض و غضب سے انھیں کون بچائیگا۔

قطر معاہدے کے بارے میں طالبان اور امریکہ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ اپنی رپورٹ میں امریکی وزارت دفاع (پینٹاگون) اور امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے سابق امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ کو بتایا تھا کہ طالبان کےالقاعدہ، داعش یا کسی اور دہشت گرد گروپ سے تعلقات کا کوئی کا ثبوت نہیں ملا، یعنی افغان سر زمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینےکی یقین دہانی پر شک کی کوئی وجہ نہیں۔ تاہم امریکی کانگریس کے قدامت پسند و جنگجو عناصر کو ملاوں کے وعدوں پر اعتماد نہیں۔کانگریس کی افغان امور سے متعلقہ کمیٹی نے فروری میں ایک رپورٹ  پیش کی جس میں کہاگیا ہے کہ امریکہ کو افغان امن عمل کو ترک نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن اس کے لیے عجلت میں فوج کے انخلا سے خانہ جنگی کا خدشہ ہے، جس سے نہ صرف خطے کا استحکام متاثر ہوگا بلکہ القاعدہ کے دوبارہ منظم ہونے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ اس موقع پر سابق جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل (ر) جوزف ڈنفورڈ  نے کہا 'امریکہ کو افغان جنگ میں کامیابی طالبان کے ہاتھ میں نہیں دینی چاہیے'

قطر معاہدے کے تحت افغانستان سے تمام غیر ملکی افواج کو اس سال مئی تک واپس ہوناہے۔ لیکن صدر بائیڈن نے اقتدار سنبھالتے ہی نظر ثانی تک امریکی فوجیوں کے  انخلا سمیت معاہدے پر عملدرآمد روکدیا تھا۔ امریکہ کے نیٹو اتحادیوں نے بھی عندیہ دیاہے کہ اگر افغانستان میں حالات ایسے ہی کشیدہ رہے اور طالبان و افغان حکومت کے درمیان ایک قابل قبول امن معاہدہ نہ ہوا تو غیر ملکی فوجیں مقررہ مدت کے بعد بھی افغانستان میں رہ سکتی ہیں۔ دوسری طرف ملاوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ نے قطر معاہدے کی پاسداری نہ کی تو وہ بھی اپنے فیصلوں کیلئے آزاد ہونگے۔ ایک اعلامئے میں طالبان نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر مقررہ وقت تک غیر ملکی فوج کا انخلا مکمل نہ ہواتو افغانستان میں نیٹو افواج کو نشانہ بنایا جائیگا۔

طالبان کا یہ سپاٹ لہجہ انکی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ امریکہ کے عسکری تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ طالبان اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکی فوج کی قوت اسکی فضائیہ ہے تاہم  ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ بمباری سے علاقے میں تباہی و دہشت تو پھیلتی ہے لیکن طالبان چھاپہ مار اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے اُدھر ڈوبے اِ دھر نکلے کے مصداق غچہ دے کر نکل جاتے ہیں۔ منشیات کے لت میں مبتلا افغان فوج کیلئے بھی طالبان کا مقابلہ ممکن نہیں۔ ادھر کچھ عرصے سے ملاوں نے ڈرون ٹیکنالوجی تک بھی رسائی حاصل کرلی ہے۔ اب تک انکے ڈرون پٹاخوں سے ذرا بڑے بم لیکر پرواز کرسکتے ہیں لیکن امریکیوں کا خیال ہے کہ طالبان بہت جلد اپنے ڈرونز کی استعدادکو بڑھالینگے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران ملاوں نے ڈرون کی مدد سے سرکاری فوج پر مہلک حملے کئے ہیں۔اس وقت  2500امریکی سپاہ کے ساتھ نیٹو کے 7000 فوجی بھی افغانستان میں موجود ہیں۔ جب ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ نیٹو افواج طالبان کو کچل نہ سکیں تو ساڑھے نو ہزار سپاہی کیسے مقابلہ کرسکیں گے جبکہ طالبان نے ڈرون سمیت اپنی حربی استعدادمیں خاصہ اضافہ کرلیا ہے۔

کرونا کی وجہ سے امریکہ اور اسکے نیٹو اتحادیوں کی معیشت دباو کا شکار ہے۔ ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں فوجی پڑاو کا خرچ 70 ارب ڈالر سالانہ سے زیادہ ہے۔ ٹرمپ اور بائیڈن انتطامیہ نے لاک ڈاون اور بندشوں کے نتیجے میں پھیلنے والی معاشی بدحالی سے نمٹنے کیلئے گزشتہ چھ ماہ کے دوران عام لوگوں اور چھوٹے تاجروں کوپانچ ہزارارب ڈالر کی نقد مدد فراہم کی ہے جسکی وجہ سے قرض کا بوجھ بہت بڑھ گیا ہے۔ اس اقتصادی تناظر میں ایک بے مقصد و بے نتیجہ جنگ کیلئے خطیر رقم کی فراہمی آسان نہیں۔امریکہ کے قانون سازوں کو امدادی رقم کے استعمال پر بھی گہرے تحفظات ہیں۔ افغان دفاع پر نظر رکھنے والے امریکہ کے سینئر انسپیکٹر جنرل برائے افغان تعمیر نو المعروف سگار SIGARکا خیال ہے کہ امریکی امداد کا ستر فیصد حصہ بدعنوانی اور کرپشن کی نذر ہوجاتا ہے۔

شروع میں صدر بائیڈن اورانکے وزیرخارجہ کا لہجہ خاصہ جارحانہ تھا۔ بلکہ یہ خبر بھی گردش کر رہی تھی کہ صدر بائیڈن نے امریکی وزیردفاع جنرل آسٹن سے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں اضافی فوج بھیجنے کی تیاری کریں لیکن پینٹاگون کی جانب سے زمینی صورتحال کی جو تصویر کشی کی گئی اسے دیکھ کر امریکی صدر  وہاں تعینات اپنی فوج کے بارے میں کچھ فکر مند ہو گئے ہیں۔ اسی بناپر جناب زلمے خلیل زاد کی مدتِ ملازمت میں توسیع کردی گئی ہے۔نئی امریکی قیادت اب  معقولیت کی طرف مائل نظر آرہی ہے۔ نقطہ نظر میں اس تبدیلی کا سبب  زلمے خلیل زاد کی مشاورت ہے۔

افغان نژاد خلیل زاد نظریاتی اعتبار سے دائیں بازو کے قدامت پسند ریپبلکن اور ڈانلڈ ٹرمپ کے پرجوش حامی ہیں۔ قطر معاہدے میں زلمے خلیل زاد نے کلیدی کردار اداکیا ہے۔ افغانستان پر امریکہ کے قبضے کے بعد وہ کابل میں  امریکہ کے سفیرتعینات ہوئے اور اس دوران انکا انداز اور دبدبہ وائسرائے والا تھا۔ زلمے طالبان کے سخت خلاف اور انھیں 'فنا' کردینے کیلئے پرعزم تھے۔ لیکن 2019 میں جب صدر ٹرمپ نے انھیں افغان مفاہمت کیلئے خصوصی نمائندہ مقررکیا تو طالبان رہنماوں سے قریبی رابطے کے بعد ملاوں کے بارے میں انکی رائے تبدیل ہوگئی۔ زلمے صاحب دو دہائیوں سے کابل انتظامیہ کی بدعنوانیاں دیکھ رہے ہیں۔اسکے مقابلے میں چالاک لیکن سادہ مزاج و درویش صفت طالبان رہنما انھیں بہت مختلف محسوس ہوئے۔ جناب خلیل زاد کہتے ہیں کہ میٹھے پشتو لہجے میں نرم مزاج مولویوں کی شستہ انگریزی کانوں کو  بھلی لگتی ہے۔ ستم ظریفی کہ طالبان سے شدید نفرت کرنے والے سیکیولر مزاج زلمے کو یہ مُلّا اچھے لگنے لگے  ہیں لیکن صدر اشرف غنی اور کابل انتظامیہ کے اہلکار اب زلمے کو پسند نہیں کرتے۔ انکا خیال ہے کہ اصحاب جبہ و دستار نے زلمے کو شیشے میں اتارلیا ہے اور وہ افغان حکومت کیلئے قابل اعتبار نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر اشرف غنی نے امریکی وزیرخارجہ اننتھونی بلینکن سے درخواست کی تھی کہ زلمے کے بجائے کسی اور کو خصوصی نمائندہ مقرر کیا جائے لیکن صدر بائیڈن نے درخواست مسترد کردی۔

گزشتہ دنوں امریکی وزیرخارجہ نے صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور امن کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو جو خط لکھاہے اس میں بڑی صراحت سے کہا گیا ہے کہ امریکہ  جو نئی حکمت عملی ترتیب دے رہا ہے اس کے مطابق مئی تک فوج کا مکمل انخلا بھی خارج ازامکان نہیں۔مکتوب میں انجام بد سے ذرا شائستہ انداز میں ڈراتے ہوئے کہا گیا ہےکہ افغانستان سے بین الاقوامی فوج کے انخلا کی صورت میں امن و امان کی صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے اور کچھ نئے علاقے طالبان کے قبضے میں جا سکتے ہیں، یعنی ہماری واپسی سے پہلے ملاوں سے مصالحت کرلو۔ 

 اس سلسلے میں انھوں نے اقوامِ متحدہ کے زیرانتظام  روس، چین، پاکستان، ایران اور بھارت کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بلانے کی بھی تجویز دی ہے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ افغانستان کے معاملے پر واشنگٹں ترکی سے بھی رابطے میں میں ہے۔ انقرہ کے جنرل رشید دوستم سمیت ازبک و تاجک دھڑوں سے اچھے مراسم ہیں۔

اس خط کیساتھ بائیڈن انتظامیہ نے آٹھ صٖفحاتی نیا امن منصوبہ بھی کابل بھیجا ہے جس میں ایک ایسی وسیع البنیاد عبوری حکومت کے خدوخال پیش کئے گئے ہیں جس میں طالبان بھی شامل ہوں۔اسلامی نظام کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے آئینی ترمیم کیلئے خواتین اور اقلیتوں سمیت تمام فریقین پر مشتمل ایک کمیشن کے قیام کی تجویز دی گئی ہے۔ عبوری حکومت کا مقصد طالبا ن کے ان تحفطات کو دورکرنا ہے جنکا ذکر ہم نے اوپرکیاہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ اعتماد کی بحالی کیلئے طالبان کو افغان فوج میں ضم کرکے کسی ملا کو فوج کا سربراہ بنادیا جائے  اور باہمی رضامندی سے افغان فوج کا کوئی سابق سربراہ  وزارت دفاع کا قلمدان سنبھال لے۔  

اسی کیساتھ زلمے خلیل زاد ایک بار پھر ملاقاتوں میں مصروف ہیں۔ گزشتہ دنوں انھوں نے کابل میں افغان حکام اور دوحہ میں طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ نئے امن منصوبے پرگفتگو کے بعد اسلام آباد میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔ اس دوران افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل اسکاٹ ملر بھی وہاں موجود تھے۔

اس حوالے سے  جنرل قمر باجوہ اور  آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے دورہ بحرین کو بہت اہمیت دی جارہی ہے۔بحرین میں پاکستان کی عسکری قیادت نے کمانڈر بحرین نیشنل گارڈ فیلڈ مارشل محمد بن عیسیٰ آل خلیفہ اور بحرینی قومی سلامتی کے مشیر میجر جنرل شیخ ناصر بن حماد آل خلیفہ سے ملاقاتیں کیں۔ گفتگو کے دوران افغان امن عمل میں پیشرفت، سرحدی تحفظ اور افغان امن عمل کو آسان بنانے کے لیے ضروری اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ادھر افغانستان کیلئے روس کے نمائندے ضمیر کابولاف نے افغان عمل کو آگے بڑھانے کیلئے ماسکو میں افغان حکومت اورطالبان کے علاوہ امریکہ، ایران،  چین اور پاکستانی سفارتکاروں کی کانفرنس بلانے کی تجویز دی۔ خیال ہے کہ یہ بیٹھک  18 مارچ کو جمے گی۔ طالبان اور افغان حکومت نے اس نشست میں شرکت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ پاکستان، امریکہ اور روس بھی شریک ہونے کو تیار ہوتے ہیں تاہم ایران کی جانب سے اب تک کوئی جواب نہیں آیا۔

امریکی وزیرخارجہ کے خط اور نئے امن منصوبے کے عبوری متن کا کابل انتظامیہ نے اب تک کوئی تحریری جواب تو نہیں دیا لیکن صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے ڈاکٹر اشرف غنی نے کہا کہ ایک منتخب حکومت کی موجودگی میں عبوری حکومت کی تجویز مضحکہ خیز ہے اور میری زندگی میں ایسا نہیں ہوگا۔ افغان نائب صدر امراللہ صالح نے امریکی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے میں افغان عوام کے ووٹ کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔ جناب صالح نے عزم ظاہر کیا کہ کسی کو بھی افغان عوام کا حق حکمرانی چھیننے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔

امن کی نئی تجاویز پر کابل کا اشتعال اپنی جگہ، لیکن اشرف غنی حکومت کی اخلاقی حیثیت بذاتِ خود مشتبہ ہے۔ دو برس پہلے ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا تناسب دس فیصد سے بھی کم تھا۔ ان نتایج کو حزب اختلاف نے تسلیم نہیں کیا اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے متوازی حکومت قائم کر لی تھی۔ امریکہ کی مداخلت اورامداد معطل کرنے کی دھمکی پر دونوں فریق مصالحت پر راضی ہوئے۔اشرف غنی کو صدر تسلیم کرنے کے عوض عبداللہ عبداللہ کو امن کمیٹی کا سربراہ بنادیا گیا۔ پانچ سال پہلے ہونے والے انتخابات بھی متنازعہ تھے اور اُس بار عبداللہ عبد اللہ کیلئے چیف ایکزیکیٹو کا منصب تراشہ گیا۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ڈاکٹر اشرف غنی کیلئے عبوری حکومت کی تجویز کو مسترد کرنا اتنا آسان  نہیں لیکن وہ اس امید پر ٹال مٹول کرسکتے ہیں کہ اگر مئی تک فوجی انخلا نہ ہوا اور طالبان نے امریکی و نیٹو افواج پر حملے شروع کردئے توصورتحال یکدم تبدیل ہوجائیگی جس سے غنی اقتدار کو سہارا مل سکتا ہے۔تسلسلِ اقتدار کیلئے اپنی ہی ملک کو خون کا غسل دیناکہاں کا تدبر اور کیسی سیاست ہے؟؟؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 19 مارچ 2021

ہفت روزہ دعوت دہلی 19 مارچ 2021

روزنامہ امت کراچی 19 مارچ 2021

ہفت روزہ رہبر سرینگر 21 مارچ


20211

 

Wednesday, March 17, 2021

لیبیا میں استحکام کی امیدِ موہوم

لیبیا میں استحکام کی امیدِ موہوم

لیبیا میں متحارب گروہوں کے درمیان معاہدے کے بعد عبوری حکومت نے حلف اٹھالیا۔دسمبر 2010 میں تیونس سے اٹھنے والی  عوامی بیداری کی لہر المعروف  ربیع العربی یا عرب اسپرنگ سے  ساری عرب دنیا کی طرح لیبیا بھی متاثر ہوا اور فروری 2011سے ملک  کے طول و عرض میں مظاہرے شروع ہوگئے۔ طاقت کے غیر ضروری استعمال  نے جلتی پر تیل کا کام کیا،  جواب میں مظاہرین بھی مسلح ہوگئے  یا کردئے گئے اور 20 اکتوبر 2011 کو کرنل قذافی ایک مسلح جتھے کے ہاتھوں مارےگئے۔

اچھی بات یہ ہوئی کہ  لیبیا کی فوج نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بجائے سیاسی عمل کی حمائت جاری رکھی۔جولائی 2012میں پارلیمانی انتخابات ہوئے اور جرنیلوں کی عبوری کونسل نے اقتدار جنرل نیشنل کونسل(GNC) کو منتقل کردئے۔ انتخابات کے فوراً بعد ملک میں بم دھماکے اور فرقہ وارانہ فساد شروع ہوگئے اوراسی کے ساتھ سیاسی جوڑ توڑ بلکہ خریدوفروخت کا بازار بھی گرم ہوگیا۔ نامزد وزیراعظم مصطٖفے شکور اعتماد کا ووٹ لینے میں ناکام رہے۔ جسکے بعدعلی زیدان وزیراعظم نامزد ہوئے لیکن ڈیڑھ سال بعد مارچ 2014 میں تیل اسمگلنگ کے اسکینڈل نے انکی بساط لپیٹ دی اور عبداللہ الثانی وزیراعظم منتخب کرلئے گئے۔ عبداللہ الثانی نے سیاسی عدم استحکام اور بدامنی سے پریشان ہوکر جمہوری ڈرامہ  ختم کرکے سنوسی بادشاہت کے قیام کی تجویز دی لیکن انکے موقف کو پزیرائی نہ مل سکی۔

جون 2014 کو پارلیمانی انتخابات ہوئے۔ اسمبلی کے پہلے ہی اجلاس میں زبردست ہنگامہ ہوا۔ ارکان کے ایک گروپ نے اسمبلی کی عمارت پر قبضہ کرکے مخالفین کو نکال دیا۔ یہاں سے نکلے ہوئے ارکان نے مشرق میں مصر کی سرحد پر ساحلی شہر طبرق کو دارالحکومت قراردیکر پارلیمان سجالی ۔ متوازی اسمبلیوں نے قوت کے حصول کیلئے عسکریت پسندوں سےتعلقات استوار کرلئےاور یہیں سے لیبیا کی تباہی کے  نئے دور کا اغاز ہوا۔  

سیاسی خلا اور عدم استحکام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک طرف داعش نے لیبیا میں انٹری ڈالدی تو دوسری جانب ملک کی خدمت کا 'جذبہ' لئے خلیفہ حفتر امریکہ سے واپس آگئے۔ ملک واپس آتے ہی انھوں نے  مصر کی پشت پناہی میں لیبیا نیشنل آرمی (LNA) کے نام سے اپنی ملیشیا بنالی اور آناً فاناً ملیشیا کو جدید ترین اسلحے سے لیس کردیا گیا۔

مارچ 2015کو طرابلس اسمبلی، طبرق اسمبلی اور دوسری سیاسی جماعتوں کے درمیان وفاق الوطنی یا GNAکے نام سے ایک  وسیع البنیاد حکومت کا معاہدہ طئے پاگیا جسکی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ توثیق کردی۔ بحث مباحثے کے بعد وزیراعظم کیلئے فائز السراج کے نام پر اتفاق ہوگیا اورفائز انتظامیہ نے طرابلس آکر اقتدار سبنھال لیا۔

لیبیا کے  دشمنوں کیلئے امن و استحکام موت کا پیغام تھا چنانچہ حفتر ملیشیا کو GNAکے خلاف کھڑاکیا گیا۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے  ملیشیاکیلئے اپنے خزانوں کے منہ کھول دئے۔ لیبیا  میں روس کے فوجی اڈے قذافی دور سے تھے ، صدرپوٹن بھی حفتر کی حمائت میں آگئے۔ اسرائیل اور فرانس  پہلے ہی سے حفتر کے پشت پناہ تھے

 وزیراعظم السراج نے صدر ایردوان سے مدد کی درخواست کی ا ور  ترکی کے ڈرون نے پانسہ پلٹ دیا۔ حفتر کی دفاعی لائن تباہ ہو گئی  جسکے بعدLNAکیلئے پسپائی کے سوا اور کوئی  راستہ نہ تھا چنانچہ مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا۔

مراکش کی کوششوں  سے بات چیت  منطقی انجام کو پہنچی۔ معاہدے کے مطابق دسمبر میں عام انتخابات ہونگے۔ مجلس النواب (قومی اسمبلی) نے ممتاز سفارتکار محمد یونس المنفی کو  صدر اور محمد المہدی و موسیٰ الکونی کو نائب صدرومنتخب کرلیا۔ مجلس نے باسٹھ سالہ تاجر عبدالحمید الدبیبہ پر بطور وزیراعظم اعتماد کااظہار کیا  اور وزیراعظم  فائزالسراج نے کسی ٹال مٹول کے بغیر بہت ہی خندہ پیشانی سے اقتدار عبوری حکومت کے حوالے کردیا۔

 منگل کوعبوری  وزیراعظم نے 26 رکنی کابینہ کے ہمراہ حلف اٹھالیا۔ لیبیا میں پہلی بار پانچ خواتین کو وزارت کے قلمدان سونپے گئے ہیں۔ ڈاکٹر نجلہ المنقوش وزیرخارجہ اور محترمہ حلیمہ عبدالرحمان وزیرانصاف ہونگی۔

کیا عبوری حکومت ملک کو متحد رکھ کر منصفانہ انتخابات کرواسکے گی؟

وزیراعظم الدیبیہ نے رائے شماری کے دوران اسپیکر عقیلہ صالح عیسیٰ کو صرف پانچ ووٹوں سے شکست دی ہے۔ عقیلہ صاحب (جی ہاں یہ مرد ہیں) نے الدبیبہ کو غیر مشروط حمائت کا یقین دلایا ہے لیکن مغرب میں وزیراعظم عبدالحمید الدبیبہ کے بارے میں کچھ تحفظات ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ موصوف حسن البنا کی فکر سے متاثر ہیں اور سید قطب کی کتابیں پڑھتے ہیں۔ لیبیا میں آسٹریا کے سفیر نے سفارتی رکھ رکھاو کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صاف صاف کہا کہ الدبیبی اخوان کے حامی ہیں جسکی وجہ سے یورپی یونین کو شدید تشویش ہے۔ پریشانی کی ایک اور وجہ الدبیبہ کی  صدر ایردوان سے دوستی اور ترکی سے قریبی تعلقات ہیں

سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین نے انتخابات کے دوران الدبیبہ کے حریف عقیلہ صالح کی حمائت کی اورانکے لئے ووٹ خریدنے پر خطیر رقم خرچ کی  یعنی ووٹوں کی خرید وفروخت صرف پاکستان ہی  میں نہیں ہوتی اور امریکہ بہادر بھی ایسی سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ تاہم امریکہ نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔

اللہ کرے  حالیہ اتفاق لیبیا کے لوگوں کیلئے خیروبرکت کا سبب بنے اور 64 لاکھ نفوس پر مشتمل یہ ملک بلاتاخیر خوشی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوجائے


 

Friday, March 12, 2021

اتحاد اربع کا پہلا سربراہی اجلاس۔ چین کا گھیراو؟ گوادرپر نظر؟؟

اتحاد اربع (QUAD)کا پہلا سربراہی اجلاس۔ چین کا گھیراو؟ گوادرپر نظر؟؟

پاکستانی  وقت  کے مطابق جمعہ کی شام ساڑھے  چھ بجے  امریکہ، آسٹریلیا، جاپان  اور ہندوستان کا مجازی (Virtual)سربراہی اجلاس ہورہا ہے

ان چار ملکوں کے درمیان  بحرالکاہل  کی نگرانی کیلئے  فوجی تعاون   2007 سے جاری  ہے اور   2009 میں اقتدار سنبھالتے ہی صدر اوبامانے اس اتحاد کو مضبوط و مربوط بنانے میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ اسوقت کے نائب صدرجوبائیڈن اور موجودہ وزیرخارجہ و مشیر قومی سلامتی  سمیت  بائیڈن ٹیم کے کلیدی ارکان  اس چار طرفہ دفاعی مکالمے یا Quadrilateral Security Dialogue المعروف QUADکےمعمار سمجھے جاتے ہیں۔بظاہراس تعاون کا مقصد بحرالکاہل، خلیج بنگال اور بحر ہند میں  بلاروک ٹوک  آزادانہ تجارت کو یقینی بنانا ہے چنانچہ علاقائی اہمیت کے پیشِ نظر اسے  ہند بحرالکاہل کواڈ Indo-Pacific Quad بھی کہتے ہیں۔

لیکن ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ، یعنی  کواڈ  کا  تزویراتی  (Strategic)ہدف  بحرالکاہل خاص طور سے بحر جنوبی چین میں چینی بحریہ کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو غیر موثر کرنا ہے۔ اسی  بناپر سیاسیات کے علما کواڈ کو ایشیائی نیٹو (Asian NATO)کہتے ہیں۔عسکری صلاحیتوں کی جانچ پڑتال  کیلئے کواڈ ممالک وقتاً فوقتاً  بحری مشقیں  کرتے ہیں۔ اس نوعیت   کی  پہلی مشق 1992میں ہندوستان کے جنوب مشرقی ساحل پر کی گئی جس میں بھارت اور امریکہ کی بحریہ نے حصہ لیا۔ اس مناسبت  سے اسے  مالابار بحری مشق  پکارا گیا۔  بعد میں اس سرگرمی کا نام ہی مالابار مشق پڑگیا۔اب تک اس نوعیت کی 24 مشقیں ہوچکی ہیں۔ اس سلسلے کی سب سے بڑا مظاہرہ  2020 میں ہوا جب تین سے چھ نومبر کو خلیج بنگال اور  17 سے 20 نومبر تک بحرعرب میں دوستانہ میچ  ہوا۔ ان مشقوں  میں  امریکہ کےتباہ کن جہاز یوایس ایس مک کین، ہندوستان کے جہازو ں شکتی، رنجیو  اور شوالہ، آسٹریلیا کےبلیرٹ اور جاپانی تباہ کن  جہازاونامی  کے علاوہ جدید ترین آبدوزوں نے حصہ لیا۔

گزشتہ دس بارہ سالوں میں چین نے بحر جنوبی  اور مشرقی چین میں مصنوعی جزیرے بنا کراس پر اڈے قائم کردئے ہیں۔ عسکری ماہرین  نے شک ظاہر کیا ہے کہ کچھ تنصیبات جوہری نوعیت کی بھی ہیں۔امریکہ اور اسکے اتحادیوں کا خیال ہے کہ ان دونوں سمندروں میں چین سے ٹکر لیناآاسان نہیں  لہٰذا کواڈ کی توجہ بحرالکاہل سے باہر نکلنے کے راستوں پر ہے جن میں سب  سے اہم آبنائے ملاکا ہے۔

ملائیشیا اور انڈونیشی جزیرے سماٹرا کے درمیان سے گزرنے والی اس 580 میل لمبی  آبی شاہراہ کی کم سے کم چوڑائی 2 میل سے بھی کم ہے۔ آبنائے ملاکا بحرالکاہل کو بحر ہند سے ملاتی ہے۔ کواڈ بندوبست  کے تحت اس آبنائے کے شمالی دہانے کی نگرانی ہندوستان کو  سونپی گئی ہے جبکہ بحرالکاہل  کے جنوب مشرقی حصے کی نگرانی آسٹریلوی بحریہ کی ذمہ داری ہے۔ بحر انڈمان سے خلیج بنگال تک   بھارتی بحریہ کے جہاز گشت کررہے ہیں۔  جزائر انڈمان پر امریکی و بھارتی بحریہ کی تنصیبات بھی ہیں۔

گزشتہ برس مالابار مشق سے پہلے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں امریکہ کے سابق وزیرخارجہ مائک پومپیو کو لہجہ خاصہ جارحانہ تھا۔ اپنی گفتگو میں امریکی وزیرخارجہ نے صاف صاف کہا کہ کواڈ کا مقصد اپنے عوام اور اتحادیوں کو چینی کمیونسٹ پارٹی کے استحصال، بدعنوانی اور سکھاشاہی (coercion)سے محفوظ رکھناہے۔مائک پومپیو کے اس بیان پر

  بیجنگ کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ انکے سرکاری اخبار نے کہا کہ امریکہ کی  استعماری و توسیع پسندانہ فطرت  نے اب جنوبی ایشیا کا رخ کرلیا ہے اور واشنگٹن   ایشیائی نیٹو بناکر پرامن خطے کو تشدد و بد امنی کامرکز بنانا چاہتا ہے۔

صدر بائیڈن اور امریکی انتظامیہ نے کواڈ چوٹی  کانفرنس کے حوالے سے چین کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ایجنڈے کی تفصیلات بیا ن کرتے  ہوئے ہندوستانی وزارت خارجہ نے کہا کہ ملاقات کا مقصد بحر ہند و بحرالکاہل اور اس سے متصل آبی شاہراہوں کی حفاظت اور تمام ممالک کیلئے اسکی رسائی کو یقینی بنانا ہے۔

اس بیانئے میں بحر عرب کاکہیں  ذکر نہیں  لہذا پاکستان ان سرگرمیوں سے بے فکرنظر آرہا ہے لیکن امریکہ اور کواڈ اتحادی گوادر کو چینی مفادات کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔گزشتہ سال ہونے والی مالابار مشقیں بحر عرب میں بھی کی گئی تھیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تحفظات نہ ہو تب بھی کواڈ اتحادیوں کو گوادر سے دلچسپی تو ضرور ہے