Thursday, October 21, 2021

اور زنجیر ٹوٹ گئی ۔۔۔۔

اور زنجیر ٹوٹ گئی ۔۔۔۔

سرنامہِ کلام سے قارئین یہ  توقع نہ فرمائیں کہ کالم کسی وحشی کے چھوٹنے یا کسی جبار کے زمیں بوس ہونے کی روداد ہے۔آج ہم اس بحران کا ذکر کرینگے کہ جسکی وجہ سے ساری دنیا میں خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور اشیائے ضرورت کی قلت ہوگئی ہے۔ میلادِ حضرت مسیح یا ایامِ کرسمس کی آمد آمد نے مغرب میں اس معاملے کو اور بھی گھمبیر کردیا ہے۔ اکتوبر کے اختتام سے کرسمس کیلئے تحائف کی خریداری کا آغاز ہوتا ہے اور بازار آباد ہوجاتے ہیں کہ  دن گنے جاتے تھے اس دن کیلئے
تاہم خدشہ ہے کہ اس بار دوکانیں ویران رہیں گی۔ اسلئے نہیں کہ صارفین کے شوق یا  قوت خرید میں کوئی کمی آگئی ہے بلکہ ویرانی کا سبب گرانی سے زیادہ اشیا کی عدم دستیابی ہے۔ اسوقت بھی بقعہ نور بنے بازاروں میں جگمگ  کرتی دوکانوں کے شیلف نصف خالی ہیں کہ فراہم کنندگان کی جانب  سے مال کی رسد میں خلل آگیاہے۔ 
امریکہ میں معاملہ سب سے زیادہ خراب ہے کہ جہاں غسال وکفن بھی چین اور جاپان  سے آتے ہیں۔ مال کے کال کی کیا وجہ ہے؟ یہ بنیادی طور پر نامراد کرونا وائرس عذاب کا تسسل ہے۔ گزشتہ برس اس ستم پیشہ نے انسانی حیات کو ڈسا اور اس خون آشام بلا سے  بچ جانے والی دنیا کو اب اسبابِ حیات کی قلت کا سامنا ہے۔
جس زنجیر کا ذکر اس مضمون کا عنوان ہے وہ دراصل Supply Chain  ہے۔ صنعتی اداروں میں افرادی قوت، سرگرمیوں ، معلومات اور وسائل کے جامع نظام کے ذریعے مصنوعات کی صارف تک رسائی کو فراہمی کی زنجیر کہا جاتا ہے۔ یعنی جیسے چین Chain کی منظم و مربوط حرکت سائیکل کو آگے بڑھنے پر آمادہ کرتی ہے ویسے ہی فراہمی کی زنجیر قدرتی و انسانی وسائل، خام مال اور اجزاء کو  تیار شدہ مصنوعات میں تبدیل کرکے گاہک تک پہنچانے کیلئے لازمی ہے۔ اس زنجیر کا اگر ایک حلقہ بھی  درست انداز اور سمت میں کام نہ کرے تو صارف تک  مطلوبہ مصنوعات کی فراہمی رک جاتی ہے۔ نقل و حمل اس زنجیر کا ایک کلیدی حلقہ ہے جو کرونا سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔
حفاظتی ٹیکوں کی تیاری سے پہلے احتیاط ہی اس مہلک مرض سے بچاو کا واحد ذریعہ تھا۔ ماہرین کی سفارشات پر دنیا بھر میں حکومتوں نے لوگوں کے بلاضرورت گھر سے نکلنے پر پابندی لگادی۔ جہاںLock Down کو ضروری نہ سمجھا گیاان معاشروں میں بھی کروڑوں افراد نے احتیاطاً خود کو گھروں تک محدود کرلیا۔امریکہ، کینیڈا اور یورپی ممالک نے  اس دوران روٹی و روزی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اپنے شہریوں کی فراخدلی سے مدد کی جسکی بناپر محنت کشوں نے کام پر جلد از جلد واپس کیلئے اصرار نہیں کیا۔ لاک ڈاون کے دوران لازمی خدمات کے جن اداروں کام جاری رہا وہاں بھی احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں جن میں سب سے اہم 'تن دوری' یا Social Distancingکا اطلاق تھا۔ 
بندرگاہوں پر چونکہ مزدوروں کا ہجوم ہوتا ہے اسلئے وہاں محنت کشوں کی تعداد کو محدود کردیا گیا اور زیادہ سے زیادہ افراد کو دہاڑی کا موقع دینے کیلئے اوقات کار کم کردئے گئے۔ امریکہ کی سب سے بڑی بندرگاہ لاس انیجلس پر چارچار گھنٹے کام کاعبوری نظام قائم ہوا اور ہر نئی شفٹ کے آنے سے پہلے، دفاتر، کرینوں ، لفٹر اور دوسری مشینوں اور آلات کی خصوصی صفائی کا اہتمام کیا گیا۔ 
عام حالات میں یہاں پیر سے جمعہ روزانہ 16 گھنٹے کام ہوتا تھا۔ کرونا کے دوران چار چار گھنٹوں کے شفٹ عملاًتین  گھنٹےرہ گئی کہ ہر چار گھنٹے بعد صفائی اور جراثیم کش اسپرے میں ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ صرف ہورہا تھا۔کام کے دوران احتیاطی اقدامات کی وجہ سے جہازوں سے سامان کے اتار چڑھاو کے کام میں مزید سستی آئی، مثال کے طور پر کنٹینراٹھانے کیلئے مزدور کرین کے کانٹے کو  جب کنٹینر کے حلقوں میں پُروتے  ہیں تو اسکے درست اور ٹھیک ہونے کو یقینی بنانا سپروائزر کی ذمہ داری ہے۔ عام حالات میں یہ کام ساتھ ساتھ  ہورہا ہوتا ہے لیکن تن دوری کے اطلاق کیلئے  کانٹوں کو حلقوں میں پرونے کے بعد جب مزدور دور ہٹ جاتے ہیں تب معائنہ کار وہاں آکر اسکا مشاہدہ کرتے ہیں جسکے بعد کرین آپریٹر کو سامان اٹھانے کا اشارہ کیا جاتا ہے۔ان احتیاطی اقدامات کی وجہ سے بندرگاہوں کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی۔ 
یہی حال امریکہ کی دوسری بندرگاہوں کے ساتھ یورپ کی مصروف ترین بندرگاہ روٹرڈیم Rotterdamاور چینی بندرگاہوں کا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 100 سے زیادہ جہاز  لاس اینجلس کے قریب گہرے پانیوں میں چکر لگاتے ہوئے ایندھن پھونک رہے ہیں۔ اسلئے کہ بندرگاہ کے قریب ایک بھی لنگر خالی نہیں جہاں وہ پڑاو ڈال سکیں۔ روٹرڈیم میں 20 اور چینی بندرگاہوں کے گرد منڈلاتے کنٹینر بردارجہازوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔کھلونوں، الیکڑانکس، فیشن ایبل ملبوسات، بھاری مشنریوں اور دوسرے مصنوعات سے لدے جہاذوں کے ساتھ بہت سے تیل بردار ٹینکر بھی ان بندرگاہوں پر پھنسے ہوئے  ہیں۔
بعد ازخرابی بسیار جو مال جہاز سے اتار لیا جائے اسکی منزل مقصود پر فوری روانگی بھی آسان نہیں کہ ٹرک ڈرائیوروں کی شدید کمی ہے۔ کرونا کے دوران نقل وحمل کاشعبہ  بری طرح متاثر تھا جسکی وجہ سے ہزاروں ڈرائیور گھر بیٹھ رہے۔ اس دوران  بہت سے ڈرائیوروں نے تنگ آکر ریٹائرمنٹ لے لی اور کچھ Amazon، ڈی ایچ ایل اور فیڈیکس Fedex جیسےاداروں سے وابستہ ہوگئے۔ یہ کام بین الصوبائی ٹرک ڈرائیوری کے مقابلے میں آسان ہے۔ نہ ہفتوں گھر سے دور رہنے کی آزمائش اور  نہ دن رات بھاری ٹرک چلانے کی مشقت۔ صبح سے شام دیہاڑی لگائی اور رات کو گھر واپسی۔ ایمیزون اور فیڈیکس کی تنخواہیں اور مراعات بھی بہتر ہیں۔
اس غیر معمولی 'بحری ٹریفک جام' سے امریکہ اور یورپ کو جن مشکلات کا سامنا ہے وہ اپنی جگہ لیکن اس کے نتیجے میں ساری دنیا متاثر ہورہی ہے۔ اسوقت دنیا کی مختلف بندرگاہوں پر پھنسے جہازوں میں1000 سے زیادہ کنٹینر لدے ہوئے ہیں جسکی وجہ سے ہرجگہ کنٹینر کی شدید قلت ہے۔ کارخانوں میں تیارمال کا ڈھیر لگا ہے لیکن انکو اٹھانے کیلئے کنٹینر دستیاب نہیں۔ چالیس فٹ کے کنٹینر جو کبھی ڈھائی ہزار ڈالر میں مل جاتے تھے اب  دس ہزار میں بھی دستیاب نہیں۔ نقل و حمل کے اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔

تیل ٹینکروں اور پیٹرولیم مصنوعات سے لدے جہازوں کے پھنس جانے سے دنیا بھر میں تیل اور پیٹرول کی نقل و حمل بری طرح متاثر ہے۔ ایک ماہ کے دوران تیل کی قیمت 72 سے 83 ڈالر فی بیرل ہوگئی جبکہ LNG  کی قیمت 10 ڈالر فی mBtuسے بڑھ کر 100ڈالر mBtuہوچکی ہے۔ حالانکہ تیل کی مجموعی طلب یعنی 9کرؤر 49 لاکھ بیرل یومیہ کے مقابلے میں پیداوار 9 کروڑ 30 لاکھ بیرل کے قریب ہے اور اوپیک ممالک  اپنی یومیہ پیداوار میں ہر ماہ چار لاکھ بیرل کا اضافہ کررہے ہیں۔ یعنی قیمتیں بڑھنے کا سبب طلب میں اضافہ نہیں بلکہ فراہمی کی زنجیر ٹوٹ جانے کے سبب رسد میں خلل واقع ہوگیاہے۔

گیس کا حال اس سے بھی براہے۔ گزشتہ دنوں جب پاکستان ایل این جی لمیٹیڈ نے LNG کیلئے ٹینڈر جاری کئے تو ایک بھی پیشکش موصول نہیں ہوئی۔صاف ستھرے ایندھن کے طور پر آجکل LNGبہت مقبول ہے چنانچہ قارئین کی دلچسپی کیلئے اسکی ہئیت کے بارے میں چند سطور

ایل این جی یا Liquefied Natural Gas  کشید کرنے کیلئے قدرتی گیس سے پانی، بو جھل و کثیف ذرات(heavy Hydrocarbons)، ہائیڈروجن سلفائیڈ اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو نکال لیا جاتا ہے اور پھر دباو  ڈال کو اسے رقیق حالت میں تبدیل کردیا جاتاہے۔اس عمل کا بنیادی مقصد نقل و حمل میں آسانی پیدا کرنا ہے تاکہ LNGکو ٹینکروں اور بحری جہازوں کے ذریعے پیداواری مقام سے دوردراز علاقوں یا بیرونی ممالک  کو بھیجا جاسکے۔ LNG بنانے کے عمل میں قدرتی گیس کا حجم 600 واں حصہ رہ جاتا ہے۔مقام مقصود پر پہنچنے کے بعد اسے دوبارہ  گیس کی شکل دیدی جاتی ہے تاکہ اس سیلینڈروں یا پائپ لائن کے ذریعے آگے تقسیم کیا جاسکے۔ اس عمل سے حاصل ہونے والی گیس کو Re-Gasified Liquefied Natural Gas (RLNG) کہا جاتا ہے۔

نقل و حمل میں دِقّت دراصل زنجیرِ فراہمی کے ایک کلیدی حلقے یعنی افرادی قوت میں خلل کا نتیجہ ہے۔چین اور یورپی ممالک کے اعدادوشمار ہمارے پاس نہیں لیکن امریکہ کے مختلف نجی اداروں میں 20 لاکھ اسامیاں خالی ہیں جنکے لئے افراد میسر نہیں۔ یہاں اوسطاً 130 نوکریوں کیلیے صرف 100افراد درخواستیں دے رہے ہیں۔ قحط الرجال” کی وجہ پر بھی ماہرین کے درمیان اختلاف ہے۔قدامت پسند سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ کرونا لاک ڈاؤن کے دوران سرکار کی جانب سے دیا جانیوالابیروزگاری الاؤنس تنخواہ سے زیادہ تھا اور جب اچھی خاصی رقم گھر بیٹھے مل رہی ہو تو آدمی کاہے کو خون پسینہ بہائے، لیکن حال ہی میں جو جائزے شایع ہوئے ہیں انکے مطابق بات اتنی سادہ نہیں۔

عمرانیات کے علما کہہ رہے ہیں کہ خواتین کارکنوں کے نئے رجحان نے صورتحال کو مزید خراب کردیا ہے۔لاک ڈاؤن کے دوران ملازمت پیشہ خواتین کو اندازہ ہواکہ انکی ساری کی ساری تنخواہ، بچوں کی دیکھ بھال (Child Care)دفتر کے لباس، میک اپ، بازار کے کھانوں اور ٹیکس کی نذر ہوجاتی ہے۔اگر میاں بیوی میں سے کوئی ایک گھر بیٹھ کرامورخانہ داری سنبھال لے تو گھریلو اخراجات میں کمی کیساتھ بچے خوش اور گھر کا کم قیمت و غذائیت سے بھرپور صحت بخش کھانا ایک اضافی نعمت۔دن کو فراغت کی وجہ سے ضعیف والدین کی دیکھ بھال اور پیرخانوں (senior living) کے دورے بھی آسان ہیں۔ ایک جائزے کے مطابق پندرہ فیصد نوکری پیشہ خواتین نے ملازمتوں کو خیر باد کہہ کر گھر کا محاذ سنبھال لیا ہے جہاں محنت تو ملازمت سے کہیں زیادہ کرنی پڑتی ہے لیکن “فردوس بروئے زمیں استکا اپنا ہی لطف ہے۔ ان خواتین کی تعداد تیس لاکھ کے قریب ہے۔ خواتین میں یہ جملہ بڑا عام ہو گیا ہے کہ You earn living and  we will make your life worth living  یعنی میاں جی ! آپ جینے کا سامان فراہم کیجئے، ہم آپکو جینے کی امنگ فراہم کرینگی۔

یہ نیا اور فطری اندازِ فکر جہاں صحت مندوخوش وخرم خانگی ماحول کا نقطہ آغاز ہے وہیں افرادی قوت میں کمی نوخیز نوجوانوں کیلئے بے حد خوش آئند ہے کہ آجر عمدہ پیشکشیں لئے کھلی بانہوں سے انکے استقبال کو موجود ہیں۔ کم سے کم اجرت میں اضافہ بھی ہوگیا ہے۔ دوسری طرف مزدور یونینوں نے اپنے حقوق کی جدوجہد تیز کردی ہے۔ گزشتہ صدی کی آٹھویں دہائی میں صدر ریگن کی بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد سے مزدور تحریک کمزورہوتے ہوتے گزشتہ چند برس پہلے تک کچھ نعروں اور علامتوں تک محدود نظر آرہی تھی۔لیکن بدلتی صورتحال کا قائدہ اٹھاتے ہوئے مزدور تنظیموں نے بھی قوت کا مظاہرہ شروع کردیا ہے۔ گزشتہ ہفتے سے زرعی مشینیں، ٹریکٹر، ڈیزل انجن اور انجننرنگ کے دوسرے سامان بنانے والے ادارے جان ڈیر John Deereکے ملازمین نے تنخواہ اور مراعات میں اضافے کیلئے ہڑتال کررکھی ہے جو امریکہ میں کئی دہائیوں کے بعد پہلی کامیاب ہڑتال ہے۔ کئی دوسرے اداروں کی مزدور یونینوں نے بھی اپنی انتظامیہ کو اسی نوعیت کے انتباہی پیغامات دئے ہیں۔

مہنگائی اور قلت سے پیدا ہونے والی مشکلات کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ امریکی خواتین اور مزدوروں میں اپنے حقوق کا شعور پیدا ہورہا ہے لیکن فراہمی کی زنجیر میں خلل سے امریکہ کے ساتھ ساری دنیا ایک بحران کی طرف بڑھ رہی ہے۔امریکی قیادت کو اسکا احساس ہے۔ گزشتہ ہفتے صدر بائیڈں نے بندرگاہوں کے حکام، تاجروں، پورٹ مزدوروں کی تنظیم International Longshore and Warehouse Union(ILWU)کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جس میں اور باتوں کے علاوہ یہ بھی طئے کیا گیا کہ امریکی بندرگاہیں 24 گھنٹہ کام کرینگی۔یونین نے اس پر آمادگی تو ظاہر کی لیکن ILWUکا کہنا ہے کہ اوورٹائم کی نئے شرح کے تعین کے بغیر یہ ممکن نہیں۔

امریکی کے وزیرمواصلات پیٹ بیوٹیجیج (Pete Buttigieg) کا خیال ہے کہ بندرگاہوں کی صورتحال اگلے سال کے وسط سے پہلے معمول پر آنا مشکل ہے۔ریپبلکن پارٹی الزام لگارہی ہے کہ حکومت اپنے بنیادی ڈھانچے پیکیج کو منظور کرانے کیلئے بندرگاہوں اور بین الریاستی ٹرانسپورٹ کی صورتحال کو خراب کررہی ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نے بندرگاہوں، ہوائی اڈوں ، پلوں، ریلوے لائینوں اورشاہراہوں سمیت امریکہ کے بنیادی ڈھانچےکی مرمت وتعمیر نوِ کیلئے کانگریس سے 35 کھرب ڈالر طلب کئے ہیں۔ ریپبلکن پارٹی کا موقف ہے کہ مقروض ملک اس بھاری خرچ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ بندرگاہوں پر بحری ٹریفک جام کے نتیجے میں لوگ کرسمس خریداری کے حوالے سے پریشان ہیں۔ صدر بائیڈن حالیہ مشکلات کی وجہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار بندرگاہوں اور فرسودہ تنصیبات کو قرار دے رہے ہیں۔

مسائل و بحران کی من مانی تشریح اور مشکلات کا اپنے سیاسی عزائم کیلئے استعمال کوئی نئی بات نہیں لیکن اگر فراہمی کی یہ زنجیر جلد درست نہ ہوئی تو  ساری دنیا کو شدید مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش سمیت تیل درآمد کرنے ممالک اس سے بری طرح متاثر ہونگے

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل ، 22 اکتونر 2021

ہفت روزہ دعوت ، 22 اکتوبر 2021

روزنامہ امت کراچی 22 اکتوبر 2021

ہفت روزہ رہبر سرینگر ، 24 اکتوبر 2021

روزنامہ قومی صحافت ، لکھنو


 

Friday, October 15, 2021

پاناما کا ہنگامہ، ذکرِ بہشت اور اب پنڈورہ کا ڈھنڈورا

پاناما کا ہنگامہ، ذکرِ بہشت  اور اب پنڈورہ کا ڈھنڈورا

اپریل 2016 میں پانامہ کی لیگل فرم موسیک فونیسکا (Mossack Fonesca) میں الیکٹرانک نقب زنی Hackingکے ذریعہ ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات کاپلندہ اڑاکر جرمنی کے دو تفتیشی صحافیوں بیسشین اوبرمیئر اور فریڈرک اوبرمائر کے حوالے کیا گیا۔ یہ روداد پراسرار لیکن دلچسپ ہے۔ بیسشین کا کہنا ہے کہ ایک رات انھیں نامعلوم شخص کا فون آیا جس نے اپنا نام جان ڈو بتایا۔ جان ڈو کا کہنا تھا کہ میرے پاس ایسی معلومات ہیں کہ جسکا افشا تمہیں دنیائے صحافت کا روشن ستارہ بنادیگا۔ جان ڈو نے اسی رات فریڈرک کو بھی فون کیا جسکے بعد ان صحافیوں کے برقی پتے پر فائلوں کا تانتا بندھ گیا۔ خیال ہے کہ جان ڈو (فرضی نام) موسیک فونسیکا کا کوئی ناراض ملازم تھا جس نے سنسنی خیز معلومات کا خزانہ ان دونوں صحافیوں کے حوالے کردیا۔

 اس افشا سے ساری دنیامیں ہلچل مچ گئی۔پانامہ ہنگامے کا پہلا شکار آئس لینڈ‌ کے وزیراعظم سگمند گنلوگسن (Sigmundur Gunnlaugsson)بنے جنھوں نے پاناما لیکس کے کچھ ہی دن بعد استعفیٰ دے دیا۔ پاناما لیکس سے معلوم ہوا تھاکہ سگمندر گنلوگسن اور ان کی اہلیہ ایک ماورائے ساحل یا آف شور کمپنی کے مالک ہیں جن کے بارے میں انھوں نے اپنے محکمہ ٹیکس کو معلومات فراہم نہیں کی تھیں۔کچھ ایسا ہی معاملہ مالٹا کے وزیراعظم جوزف مسقط کے ساتھ پیش آیا جنکا اپنا دامن تو صاف تھا لیکن پانامہ دستاویزات سے انکشاف ہوا کہ انکی کابینہ کے  وزیر سیاحت کونریڈ مزی، وزیراعظم کے مشیر کیتھ شیمبری کے علاوہ خاتونِ اول   مشل ٹینٹی نے ماورائے ساحل کمپنیاں قائم کررکھی ہیں۔

وزیراعظم مسقط نے اس خبر کے شایع ہوتے ہی یہ کہہ کر استعفٰی دیدیا کہ سرپر دھرےالزام کے اس بھاری بوجھ کے ساتھ وہ اپنی قوم کی قیادت نہیں کرسکتے۔ عوام نے اپنے قائد کے اخلاص کی قدر کرتے ہوئے صرف 60 دن بعد ہونے والے انتخابات میں مسٹر مسکٹ کی جھولی ووٹوں سے بھردی اور وہ پہلے سے بھی بڑی اکثریت اور حد درجہ احترام کے ساتھ اقتدار میں واپس آگئے۔ اس ضمن میں دوسرے رہنماوں کے ساتھ روسی صدر ولادیمر پوتن اور پاکستانی وزیراعظم نواز شریف اور انکے برطانوی ہم منصب  ڈیوڈ کیمرون کو سیاسی خفت کا سامنا کرنا پڑا۔

اس فہرست میں پاکستان کے 446 افراد کے نام شامل تھے جنکی تحقیقات کیلئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی لیکن صرف نواز شریف کے خلاف تحقیقات کا آغاز ہوا اور پاکستان کے سابق وزیراعظم بھی پانامہ کے بجائے اقامہ کی بناپر نااہل قراد دئے گئے۔ باقی کسی فرد یا ادارے کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔ آگے بڑھنے سے پہلے چند سطور' آفشور کمپنی' کی ہئیت، تصور اور فوائد پر۔

ساری دنیا میں تجارتی ادارہ قائم کرنے کیلئے متعلقہ مقتدرہ سے اجازت لی جاتی ہے۔ رجسٹریشن کے وقت ابتدائی سرمائے یا راس المال (Capital)کی تفصیلات کیساتھ یہ بتانا ضروری ہے کہ سرمایہ کن ذرایع سے حاصل کیا گیا ہے۔ رجسٹریشن کے بعد جب کاروبار شروع ہوجائے تو مالی سال کے اختتام پر ٹیکس کا گوشوارہ جمع کرنا بھی لازمی ہے۔بینکوں میں کھاتہ (Account)کھولتے وقت بھی آمدنی کے ذرایع بتانا ایک قانونی شرط ہے۔

دنیا کے بعض چھوٹے چھوٹے جزائر پر نیم خودمختار ریاستیں قائم ہیں جہاں تجارت کے آغاز پر حصولِ سرمایہ کے ذرایع سے متعلق معلومات جمع کرانا ضروری نہیں اور نہ ان ملکوں میں منافع پر ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔اسی طرح بینکوں میں کھاتہ کھولنے کیلئے بھی سرمائے سے متعلق معلومات پر اصرار نہیں ہوتا بلکہ بعض ممالک میں بے نامی اکاونٹ رکھنے کی بھی اجازت ہے جنکی شناخت صرف اکاونٹ نمبر ہے۔

دنیا بھر سے چوری کی ہوئی دولت ان ملکوں میں لائی جاتی ہے۔ یہ بے ایمان یہاں کے بینکوں میں اکانٹ کھول کر کالا دھن بینکوں میں جمع کرادیتے ہیں۔ کمپنیاں قایم کرکے ان رقومات کو کاروباری منافع ظاہر کیاجاتا ہے اور پھر یہ لوٹا ہوا سرمایہ  مختلف ملکوں کو بینکوں کے ذریعے منتقل کردیا جاتا ہے۔ ان ملکوں میں اسکی وصولی جائز آمدنی کے طور پر ہوتی ہے۔ شناخت کو گنجلک و مبہم رکھنے کیلئے تہہ بہ تہہ یا Layering Companies بناکر ایک ادارے کے حصص دوسری کمپنیوں کو بیچ دئے جاتے ہیں اور  یہ خرید وفروخت اس کثرت سے ہوتی ہے کہ اصل مالکان کا سراغ لگانا ناممکن ہوجاتا ہے۔

ستم ظریفی کہ کالے اور ناجائز دھن کو اجلا ومُصٖفّا کرنے کے اکثر کارخانے مہذب دنیا کی نوآبادیات ہیں جنھیں ٹیکس چوروں کی جنت یا Tax Heavenکہا جاتاہے۔ ان میں سے چند یہ ہیں:

پانامہ (Panama): وسطی و جنوبی امریکہ کے ساحل پر واقع پانامہ  اسپین کی کالونی ہواکرتاتھا جسے 1903 میں آزادی دیدی گئی۔

برمودا (Bermuda): شمالی بحر اوقیانوس میں 64ہزار نفوس پر مشتمل یہ ملک برطانیہ کی نیم خودمختار کالونی ہے۔ اسکے ساحلوں پر چمکدار گلابی ریت سیاحوں کو مسحور کردیتی ہے

جرسی (Jersey): شمال مغربی فرانس کے ساحل پر واقع یہ ملک تاجِ برطانیہ کی ملکیت ہے۔ جرسی کی آبادی ایک لاکھ سے کچھ زائد ہے

برٹش ورجن آئی لینڈ (BVI): جیسا کہ نام سے ظاہر ہے غرب الہند (Caribbean)میں واقع بی وی آئی بھی برطانیہ کی ایک کالونی ہے۔ اس ملک کی آبادی تیس ہزار کے قریب ہے

لکژمبرگ :(Luxembourg) سوالاکھ نفوس پر مشتمل مغربی یورپ کا یہ ملک برسلز، فرینکفرٹ  اور اسٹراسبرگ کی طرح یورپی یونین کے چار دارالحکومتوں میں سے ایک ہے

باہاماس (Bahamas) : بحر اوقیانوس میں ویسٹ انڈیز کے قریب واقع اس مجمع الجزائر کی آبادی پونے چارلاکھ سے کچھ زائد ہے

سوئٹزرلینڈ اس اعتبار سے ٹیکس چوروں کی جنت ہے کہ وہاں کے بہت سے بینکوں میں اب بھی بے نامی اکاونٹ کھولنے کی اجازت ہے اگرچہ کہ ادھرکچھ عرصے سے حکومت اسکی حوصلہ شکنی کررہی ہے۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ 'آفشور کمپنی' قائم کرنا ؓبذات خود کوئی غیر قانونی، غیر اخلاقی یا غلط کام نہیں کہ ٹیکس میں دی گئی چھوٹ سے فائدہ اٹھانے کی  قانون اجازت دیتا ہے۔ امریکہ کے بہت سے  تجارتی اداروں نے جو دنیا کے مختلف ملکوں میں سرگرمِ عمل ہیں بیرونِ امریکہ کاروبار کیلئے ان 'جنتوں'میں ذیلی کمپنیاں قائم کررکھی ہیں جسکی بنا پر انھیں دوسرے  ملکوں سےحاصل ہونے والے منافع  پر ٹیکس نہیں ادا کرنا پڑتا۔ واشنگٹن کو یہ 'روش' پسند نہیں لیکن اسے قانونی تحفظ حاصل ہے چنانچہ امریکہ کی درجنوں ملٹی نیشنل کمپنیاں اس سہولت سے فائدہ اٹھارہی ہیں۔ 

اگر چہ کہ ماورائے ساحل تجارتی ادارے قایم کرنے کا بنیادی محرک ٹیکس میں بچت ہے لیکن تیسری دنیا کے کاروباری اپنے سرمائے کے تحفظ کیلئے بھی یہ راستہ اختیار کرتے ہیں۔ کچھ لوگ  دبئی اور خلیج کے دوسرے علاقوں میں کمپنیاں قائم کرتے ہیں جسکی وجہ انھیں ان ملکوں کے اقامتی ویزے مل جاتےہیں۔

اس وضاحت کے بعد ہم اصل موضوع کی طرف واپس آتے ہیں۔

پانامہ لیکس کے ایک سال بعد انھیں دونوں جرمن صحافیوں یعنی بیسشین اوبرمیئر اور فریڈرک اوبرمائر نے میونخ سے شایع ہونے والے اخبار میں آفشور کمپنیوں کے حوالے سے ایک اور انکشاف کیا۔ اس بار یہ دستاویزات ایک لیگل فرم Appleby سے افشا ہوئیں۔ ایپل بی برمودا کی ایک آفشور کمپنی ہے اور جو اس قسم کا کاروبار کرنے والوں کو قانونی مشاورت فراہم کرتی ہے اخبار نے ایک کروڑ 34لاکھ دستاویزات تفتیشی صحافیوں کی عالمی انجمن ICIJکو پیش کردیں۔انجمن سے وابستہ 380 صحافیوں نے دستاویزات کی تفصیلی چھان پھٹک کے بعد انھیں درست قرار دے دیا اور  20اکتوبر 2017 کو یہ دھماکہ خیز رپورٹ شائع کردی گئی۔چونکہ یہ انکشاف Tax Heavenکے بارے میں تھی اسلئے اسےParadise Papers کا نام دیا گیا۔ یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ اللہ نے جنت، دیانت داروں، صدیقین و متقین کیلئے تیار کی ہے اور یہاں بے ایمانوں، ٹیکس چوروں اور حرام کمائی کے ٹھکانوں کو  جنت کا نام دیا جارہا ہے۔ پیراڈائز پیپرز میں ملکہ معظمہ سمیت برطانیہ کے شاہی خاندان کے کرتوت افشا کئے گئے تھے۔ اسکے علاوہ یہ رپورٹ امریکہ کے سابق وزیرخزانہ اور صدر ٹرمپ کے دست راست ولبر راس کے بارے میں سنسنی خیز انکشافات سے مزین تھی۔ ملکہ برطانیہ سے متعلق مواد کو 'گستاخی' سے تعبیر کیا گیا اور کئی صحافیوں کے خلاف مقدمات درج ہوئے۔ شائد یہی وجہ تھی کہ اس رپورٹ کا ویسا چرچا نہ ہوا جو پانامہ لیکس کے موقع پر نظر آیا تھا۔

اب تین اکتوبر کوپاکستانی معیاری وقت کے مطابق رات ساڑھے نو  بجے ICIJنے اپنی ویب سائٹ پر 'پنڈوراپیپرز' کے عنوان سے سنسنی خیز تفصیلات جاری کیں یا یوں کہیے کہ پنڈورا بکس پر سے ڈھکن اٹھادیا۔ یونانی زبان میں پنڈورا کا مطلب نادر و پراسرار تحائف ہیں۔ یونانی علم الاصنام یا اساطیریات (mythology)کے مطابق جب لوہاروں، بڑھیوں، نقاش، شعرا، فنکاروں، مستریوں اور مصوروں کے دیوتاوں نے پہلی عورت تخلیق کی تو ہر دیوتا نے اس خاتون کو 'صالح زندگی' گزارنے کے طریقے سکھائے اور دنیا میں بھیجنے سے پہلے بدی کی ہرقسم کی تفصیل صحیفوں کی شکل میں اسے دیدی تاکہ وہ آنے والی نسل کو اسکے بارے میں بتاسکے۔ بڑھئی دیوتا نے ان 'تحائف' یا پنڈوروں کو رکھنے کیلئے لکڑی کا ایک صندوق بنادیا جو پنڈورہ بکس کہلایا۔ جب اس عورت نے زمین پرآکر پنڈورہ بکس کھولا تو  اندر سے نکلنے والے صحیفے اپنی مثال آپ تھے۔ ہر دیوتا  کی ہدائت و تذکیر نہ صرف مختلف تھی بلکہ باہم متصادم بھی۔ کچھ دیوتاوں نے دوسروں کے بارے میں انتہائی شرمناک انکشاف کررکھےتھے اور پھرسب سے بڑی قباحت یہ تھی کہ ڈھکنا کھل جانے کے بعد پنڈورا بکس کو بند کرنا ممکن نہ تھا اور اس میں سے صحیفے خود ہی باہر نکل رہے تھے۔ پنڈورا بکس برسوں بلکہ شائد صدیوں صحیفے اگلتا رہا اور اتفاق سے ایک دستاویز پر پنڈورا بکس کو بند کرنے کا منتر تحریر تھا۔ خاتون نے وہ منتر پڑھا اور خودبخود چارسُو پھیلے صحیفے ایک ایک کرکے پنڈورہ بکس میں واپس چلے گئے اور اسکا ڈھکن بند ہوگیا۔ اسکے بعد سے جب بھی کوئی خاتون  اس عورت سے بدی یا برائی کے بارے میں دریافت کرتی کہ اس بابت دیوتا جی نے کیا فرمایا  ہے تو وہ صندوق کے ڈھکن کو مضبوطی سے تھام کر کہتی 'بی بی پنڈورا بکس نہ کھولو کہ میں اسے بند کرنے کا منتر بھول چکی ہوں'۔ اسی حوالے سے 'پینڈورا بکس کھولنا' تقریباً تمام زبانوں میں ضرب المثل بن گیا۔

پنڈورا پیپرز ایک کروڑ بیس لاکھ دستاویزات و مشمولات کا پلندہ ہے جو 117 ممالک میں 600 سے زیادہ صحافیوں کو 14 مختلف سرکاری و غیر سرکاری ذرایع سے ہاتھ لگے ہیں۔ تفتیشی صحافت سے وابستہ ان  600 صحافیوں میں پاکستان کے عمر چیمہ اور فخر درانی بھی شامل ہیں۔معلومات کا یہ خزانہ 64 لاکھ دستاویز، 29 لاکھ تصاویر، 12 لاکھ برقی خطوط (email)، پونے پانچ لاکھ spreadsheetsاور نو لاکھ متفرق کاغذات  پر مشتمل ہے جنھیں کھنگھالنے میں دوسال لگے۔ ان دستاویزات سے  چھپی ہوئی دولت، ٹیکس چوری اور دنیا کے  امیر و مقتدر افراد کی جانب سے کالے دھن کو اجلاکرنے کی کوششوں کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ عوامی دولت پر ڈاکے کی زیادہ تر وارداتیں 1996 سے 2020 کے عرصے میں ہوئی ہیں تاہم کچھ دستاویزات 1970 کی بھی ہیں۔

ان پردہ نشینوں میں اُردن کے فرمانروا عبداللہ دوم،چیکوسلاواکیہ کے وزیرِ اعظم آندرے بابس، کینیا کے صدر اہورو کنیاتا، روسی مردِ آہن  ولادیمر پیوٹن، یوکرین کے صدر ولادیمر زیلنسکی، ایکواڈور کے صدر گیلرمو لاسو، صدرِ آذربائیجان الہام علیوف،خاتون، اول اور انکے 11 سالہ صاحبزادے حیدرعلیوف، اردن کے  دو سابق وزرائےاعظم، سابق برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر، انکی اہلیہ چیری بلیئر، ،قطر کے سابق امیر شیخ صباح الاحمد الصباح، قطر کے سابق وزیرِ اعظم حماد بن جاسم الثانی، بحرین، موزمبیق اور لبنان کے سابق وزرائے اعظم شامل ہیں۔

سیاستدانوں کے ساتھ امریکہ کے سیاہ فام ارب پتی رابرٹ اسمتھ، مشہور بھارتی کرکٹر سچن ٹنڈولکر، ہندوستانی سرمایہ کار انیل انبانی، عالمی شہرت یافتہ گلوگارہ شکیرہ  اور بعض دوسرے فنکاروں کے نام بھی اس فہرست میں موجودہں۔

آئی سی آئی جے کی طرف سے جاری ہونے والی فہرست میں 700 پاکستان بھی شامل ہیں جنھوں نے  ماورائے ساحل تجارتی ادارے قائم کررکھے ہیں۔ان  میں وزیرِ خزانہ شوکت ترین، وفاقی وزرا فیصل واوڈا، مونس الہیٰ، خسرو بختیار،  پنجاب کے سینئر وزیر علیم خان،  پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل میمن، راجہ نادر پرویز،  اسحاق ڈار کے صاحبزادے علی ڈار اور نواز شریف کے نواسے جنید صفدر شامل ہیں۔ افشا ہونے والی دستاویزات میں کچھ پر لاہور کے  زمان پارک کا پتہ لکھا ہوا ہے جو وزیراعظم عمران خان کی آبائی رہائش گاہ ہے۔ تاہم یہ پتہ دوبار درج ہے جس سے معاملہ ذرا مشکوک لگ رہا ہے کہ  ایک گھر کا پتہ دوبار کیوں ثبت ہوا ؟

اسی کیساتھ ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی، بول ٹی وی کے مالک شعیب شیخ، نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ (NIT)کے منیجنگ ڈائریکٹر عدنان آفریدی، نیشنل بینک کے صدر عارف عثمانی  کے اسمائے گرامی بھی اس فہرست کا حصہ ہٰیں۔ جماعت اسلامی، جمیعت علمائے اسلام اور کسی دینی جماعت سے وابستہ کوئی شخص اس فہرست میں شامل نہیں۔ پاک فضائیہ کے سابق سربراہ عباس خٹک سمیت ایک درجن کے قریب سینئر افسران نے بھی مبینہ طور پر ماورائے ساحل تجارتی ادارے قائم کر رکھے ہیں۔ 

ہمیں پوری فہرست دیکھنے کا موقع نہیں  ملا لیکن ا ب تک جو نام سامنے آئے ہیں ان میں ہندوستان کے کسی معروف سیاسی رہنما یا فوجی افسر کا ذکر نہیں دیکھا

یہ تو تھا پنڈورہ باکس سے افشا ہونے والی فہرست کا ایک اجمالی جائزہ۔ سوال پیداہوتا ہے کہ اب کیا ہوگا؟

کیا منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں تک مالی وسائل کی  رسائی روکنے  کیلئے FATFاور اس جیسے دوسرے قوانین کے نام پر  ایران، شمالی کوریا اور پاکستان جیسے ممالک کا ناطقہ بند کرنے والا 'مہذب مغرب'  ٹیکس چوری، مالی بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے اِن سوتوں کو بند کرنے کیلئے کوئی عملی قدم آٹھائیگا؟ پاناما پیپرز سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی تھی کہ آف شور کمپنیاں دہشت گردی کی مالی امداد کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہیں۔ لیکن معاملہ یہ ہے کہ بے ایمانوں کی بعض جنتیں فرانس اور برطانیہ کی ذیلی ریاستیں اور یورپی یونین کے اہم ممالک ہیں۔ پناما لیکس کے بعد جرمنی نے 'پاناما قانون' متعارف کروایا۔  کچھ یورپی ممالک میں ایسے مسودہ قوانین پر کام ہورہا ہے جن کے تحت  آفشور کمپنیوں کے حسابات ٹیکس گوشواروں کے ساتھ  ضمیمے کی شکل میں جمع کرانا لازمی قراردیا جائے گا

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فہرست میں شامل تمام کے تمام 700 لوگوں سے پوچھ گچھ کی جائیگی لیکن پانامہ لیکس کے 446 افراد کے خلاف چار سال گزرجانے کے بعد بھی کاروائی نہیں ہوئی تو اب کسی کاروائی کی توقع کیسے کیا جائے؟

برطانیہ نے منی لانڈرنک روکنے کیلئے بینکنک کے قوانین کو سخت کرنے کا عندیہ دیاہے۔ یہ عزم خوش آئند لیکن برمودا، جرسی اور برٹش ورجن آئی لینڈ جیسی ذیلی ریاستوں پر برطانوی قانون لاگو کردینے میں کیا امر مانع ہے؟ انکی طرف سے آنکھیں بند کیوں رکھی گئی ہیں۔  ظاہر ہے کہ جن جنتوں سے خو د ملکہ معظمہ مستفید ہورہی ہوں ان پر قفل لگانا اتنا آسان نہیں۔ٹیکس ماہرین کا خیال ہے کہ ٹیکس چوروں کی مضبوط لابی کو منشیات فروشوں، اسمگلروں اور سب سے بڑھ کر دہشت گردی کے سہولت کاروں کی پشت پناہی حاصل ہے جسکی وجہ آف شور لعنت کا خاتمہ آسان نظر نہیں آتا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 15 اکتوبر 2021

ہفت روزہ دعوت دہلی 15 اکتوبر 2021

روزنامہ امت کراچی 15 اکتوبر 2021

ہفت روزہ رہبر سرینگر  17 اکتوبر 2021

روزنامہ قومی صحافت  لکھنو