Tuesday, May 3, 2022

چہرے کی تبدیلی

چہرے کی تبدیلی

مشیرِ اقتصادیات مفتاح اسماعیل کے مطابق  اسٹیٹ بینک کے گورنر ڈاکٹر رضاباقر کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں کی جائیگی۔ اس اعلان پر مسلم لیگی احباب کی جانب سے مبارک سلامت کا شورِ قیامت بپا ہے۔ بعض حضرات اِسے  امریکہ اور آئی ایم ایف  کی غلامی سے آزادی کا  اعلان قراردے رہے ہیں

درحقیقت ایسا کچھ بھی نہیں۔  یہ بس گارڈ کی تبدیلی ہے

خبروں کے مطابق اسٹیٹ بینک کے نائب گورنر ڈاکٹر  مرتضیٰ سید کو قائم مقام گورنر بنایا جارہا ہے۔ اس عارضی نامزدگی کی منظوری آئی ایم ایف سے لی گئی ہے اور اگلے دوچار ہفتوں میں عالمی مالیاتی ادارہ اسٹیٹ بینک کیلئے مستقل گورنر کا تقرر کریگا

رضا باقر کی طرح  ڈاکٹر مرتضیٰ سید بھی آئی ایم ایف کی  فہرستِ ادائیگی (pay roll) پر ہیں لیکن  جنوری 2020 سے انکی  بھاری تنخواہ اور مراعات کابوجھ پاکستان کے مفلوک الحال ٹیکس دہندگان برداشت  کررہے ہیں

ڈاکٹر سید گزشتہ 16 سال سے آئی ایم ایف کے ملازم ہیں اور دنیا کے بہت سے ملکوں میں  جبراً نافذ کی جانیوالی 'اصلاحات' کی نگرانی کررہے ہیں۔موصوف کچھ عرصہ پہلے کولمبیا اور قبرص کے امو ر دیکھ رہے تھے۔  

معاشیاتِ کلاں (Macroeconomics)کے ماہرڈاکٹر مرتضٰی نے اپنے علم و فضل سے قبرص کو کیا فیض پہنچایا ہے اسکا تو ہمیں علم نہیں  لیکن  کولمبیا میں آئی ایم ایف کی اصلاحات کا جو نتیجہ نکلا ہے اُس کا اندازہ  امریکی ریاست ٹیکسس (Texas) اور میکسیکو کی سرحدپر ڈیرہ ڈالے کولمبیا کے لوگوں کو دیکھ کر کیا جاسکتا ہے۔ مہنگائی، بھوک،  بیروگاری  اور اسکے نتیجے میں  ڈکیتی، اغوابرائے تاوان اور قحبہ گردی کے مارے یہ بے گناہ  3 ہزار کلو میٹر سفر کرکے امریکہ آنے کے خواہشمند ہیں۔شیرخوار بچوں کو گود میں لئے لاکھوں خواتین نے سفر کا بڑا حصہ پیدل طئے کیا ہے اور درجنوں راستے کی خاک بن گئے۔ ہرماہ اوسطاً 15000 کولمبیائی باشندے  امریکہ میں پناہ کیلئے میکسیکو کی سرحد پر پہنچ رہےہیں۔

کچھ ایسے ہی گُل جناب رضا باقر نے مصر میں کھلائے تھے۔ باقر صاحب  کو بینکنگ قونین کے ذریعے تعلیم اور سماجی بہبود کے  اخوانی اداروں کو ختم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔اس امتحان  میں  رضا باقر صاحب نے امتیازی نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔

پاکستانی اقتصادیات اور مالیاتی نظام پر آئی ایم ایف کی گرفت منظور کرنے کے کام میں جناب مرتضٰی صاحب   سوا دوسال سے رضا باقر کے شانہ بشانہ کام کررہے ہیں۔پارلیمانی امورسے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی پارلیمان نے تحریک انصاف حکومت کا جو مسودہ قانون منظور کیا ہے وہ  ڈاکٹرمرتضیٰ کا تصنیف کردہ ہے۔ اس بل کوتحریک انصاف، مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی تینوں کی کوششوں سے منظور کیا گیا۔ اسی لئے تو ہم کہتے ہیں سارا جھگڑا اقتدار کاہے ورنہ  کھلاڑی، زرداری اور شرفا نظریاتی اعتبار سے بالکل ایک ہیں۔

تو عزیزو!! اکچھ بھی  نہیں بدلا بس  آئی ایم ایف اپنا گارڈ تبدیل  کررہی ہے اور ہم بے وقوف اسی پر شاداں و فرحاں ہیں۔


 

Sunday, May 1, 2022

 

ہندامریکہ سربراہی ملاقات۔ صدر بائیڈن، مودی جی کو قائل نہ کرسکے 

گزشتہ ہفتے 11 اپریل کو  بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی اور امریکی صدر جو بائیڈن نے سمعی و بصری رابطے پر تفصیلی ملاقات کی۔ ابلاغ عامہ کے علما اس قسم کی بالواسطہ ملاقاتوں کو Virtualیا مجازی کہتے ہیں۔

ہندامریکہ تعلقات 1947 میں بھارت کے قیام کے وقت سے ہیں اور دنیا بھر کے دوطرفہ تعلقات کی طرح اس میں اتار چڑھاوآتا رہا ہے۔ دہلی کے اپنے دوپڑوسیوں یعنی پاکستان اور چین سے تعلقات، ہند امریکہ دوستی میں عارضی سرد مہری اور گرمجوشی کا سبب بنتے چلے آئے ہیں۔ پاکستان اپنے قیام کے فوراً بعد امریکی کیمپ کی طرف مائل ہوا اور 1954 میں معاہدہِ جنوب ایشیا یا SEATO کی رکنیت اختیار کرلی۔ کہنے کو تو یہ جنوب ایشیائی ممالک کا اتحاد تھا لیکن اس آٹھ رکنی تنظیم کے صرف تین ممالک فلپائن، تھائی لینڈ اور پاکستان کا تعلق ایشیا سے تھا۔ فرانس برطانیہ،امریکہ، آسٹریلیا اور نیوزی لیند بھی اسکے رکن تھے۔ سیٹو کے صرف ایک سال بعد پاکستان معاہدہِ بغداد المعروف سینٹو (CENTO)کا رکن بن گیا۔ سینٹو دراصل مشرق وسطیٰ کے امریکی حلیفوں کی نشست تھی جہاں چچا سام کی سرپرستی میں ایران، عراق،ترکی اور پاکستان یکجا ہوئے۔سیٹو اور سینٹو کے ساتھ مشرقی یورپ کے سوویت نواز ممالک معاہدہِ وارسا اور بحریہ اوقیانوس کے گرد امریکہ کے حامی نیٹو کی شکل میں متحد ہوگئے۔

جنگ عظیم کے بعد دنیا نے جنگِ کوریا کی ہلاکت خیزی کا مظاہرہ دیکھا جب امریکہ نے روس اور چین سے تین سال تک خوفناک جنگ لڑی۔ اسی دوران غیر وابستگی کا شور اٹھا۔ بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو، انڈونیشیا کے صدر احمد سوئیکارنو اور مصر کے جمال عبدالناصر اس تحریک کے روحِ رواں تھے جلد ہی  120 ممالک Non-Aligned Movement یاNAM کے نام سے منظم ہوگئے۔

نام سے وابستگی کے متوازی ہندوستان نے سوویت یونین (روس) سے تعلقات استوار کرلئے۔ ہندوستان کو پاکستان کی سیٹو اورسینٹو میں شمولیت پر تشویش  تھی تو روس ان دونو ں امریکہ نواز اتحادوں کو اپنے خلاف سمجھتا تھا۔ دشمن کا دشمن دوست کے اصول پر روس اور ہندوستان بہت قریب آگئے۔ اسی دوران ستمبر 1965 میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان خونریز جنگ ہوئی جس میں  سیٹو اور سینٹو بڑی حد تک غیر جانبدار رہے۔ آزمائش کی گھڑی میں اپنے اتحادیوں سے  توقعات کے مطابق مدد نہ ملنے پر جہاں پاکستان مایوس ہوا وہیں ہندوستان میں امریکہ مخالف جذبات سرد پڑگئے۔ چھ سال بعد 1971 کی پاک ہند جنگ میں امریکی صدر نکسن نے پاکستان کی زبانی حمائت کی اور یہ خبر عام ہوئی کہ مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) میں محصور پاکستانی فوج کی مددکیلئے امریکہ کا چھٹا بحری بیڑا خلیج بنگال روانہ کیاجارہا ہے لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔

اسی دوران چین کی ابھرتی ہوئی طاقت کے مقابلے کیلئے امریکہ کو علاقے میں ایک مضبوط اتحادی کی ضرورت تھی چنانچہ دلی اور واشنگٹن ایک دوسرے کے مزید قریب آگئے۔ افغان جنگ کے نتیجے میں سوویت یونین کی تحلیل کے بعد امریکہ کا ہم پلہ مخالف صرف چین رہ گیا جس سے ہندوستان بھی خائف ہے اور مشترکہ خطرے کے پیش نظر امریکہ اور بھارت کی قربت نے تزویراتی شکل اختیار کرلی۔

جب 2009 میں صدر بارک حسین اوباما نے اقتدار سنبھالا تو یہ تعلقات مزید مستحکم ہوئے یا یوں کہئے کہ ہندامریکہ تزویراتی تعلقات کے معمار صدر اوباما ہیں۔مئی 2014 میں نریندرامودی  کے وزیراعظم بننے کے بعد جنوری 2015 میں  صدراوباما اور انکی اہلیہ نے ہندوستان کا تفصیلی دورہ کیا۔ ملاقاتوں کے دوران جہاں سفارت، سیاست، خارجہ امور، دفاع، علاقائی سیاست خاص طور سے چین کے گھیراو پر گفتگو ہوئی وہیں بھارتی قیادت نے اپنے ثقافتی ورثے اور تہذیبی پہلو کو بھی اجاگر کیا۔امریکی خاتون اول مشل اوباما نے تاریخی نوعیت کے مندِروں کی بہت عقیدت و حترام سے زیارت کی۔ موصوفہ رقص و موسیقی کی بہت شوقین ہیں چنانچہ انھوں نے روائتی یا کلاسیکل   رقص کی ایک کلاس میں شرکت کی اور اختتام پر رقص کا شاندار مظاہرہ کیا جو بہت پسند کیا گیا۔

اس دوران علاقائی تعلقات کی ضمن میں Quadrilateral Security Dialogueالمعروف معاہدہ اربع (QUAD) کو مزید موثر بنانے پرگفتگو ہوئی۔ہندوستان ،امریکہ، آسٹریلیا اور جاپانی بحریہ کے مابین اس 'بات چیت' کا آغاز 2007میں ہوا تھا جسکا  بنیادی مقصد بحرالکاہل سے بذریعہ آبنائے ملاکا بحر ہند کی طرف نکلنے والے راستے کی نگرانی ہے تاکہ چین کی آبی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاسکے۔ امریکہ کے عسکری ماہرین کواڈ کو بحر ہند کا نیٹو کہتے ہیں۔اس دورے  بعد جو مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا اسکا  عنوان  ہندی میں 'چلیں ساتھ ساتھ تھا'۔

صدرٹرمپ کے دور میں تعلقات مزید مضبوط ہوئے کہ دونوں رہنما  اسلامک ٹیررازم  کے عالمی  بیانئے پر متفق و یکسو تھے۔ہند امریکہ دوستی کو مزید مستحکم کرنے کی غرض سے 2018 میں یہ طئے پایا کہ باہمی تعلقات کو  تجارت، دفاع ، سفارت  و ثقافت سمیت ہمہ جہت بنانے کیلئے ہرسال وزرائے خارجہ و زرائے دفاع کے اجلاس منعقد کئے جائیں۔ ان نشستوں کو  ٹو پلس ٹو (2 plus 2)کا نام دیا گیا۔ ان بیٹھکوں میں باہمی مراسم  کو  نفع بخش  ونتیجہ خیز  بنانے اور گرمجوشی کی  حوصلہ افزائی کیلئے سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ  اہداف طئے کئے جاتے ہیں اور گزشتہ سال طئے کئے جانیوالے کے حوالے سے کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

ہندوستانی وزارت خارجہ کا یہ کمال ہے کہ انھوں نے  ثقافتی پہلو کو باہمی تعلقات کا جزو بنادیا ہے۔ دوہفتہ پہلے گیلپ کے ایک جائزے میں کہا گیا ہے کہ کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جاپان اور جرمنی کے بعد ہندوستان امریکیوں کا سب سے محبوب ملک ہے جبکہ اسرائیل کا ساتواں نمبر ہے۔

ستمبر 2019 میں مودی جی نے دورہ امریکہ کا آغاز ریاست ٹیکسس (Texas)کے شہر ہیوسٹن سے کیا۔ ہیوسٹن توانائی کاعالمی مرکز ہے اور یہاں آکر ہندوستانی وزیراعظم نے اعلان کیا کہ توانائی کے شعبے میں ہندوستان اور ٹیکسس تعاون کے نئے دور کا آغاز کررہے ہیں۔ اس موقع پر انکے اعزاز میں ہیوسٹن کی ہندوستانی کمیونٹی نے ایک زبردست عوامی استقبالئے کا اہتمام کیا۔ اس دورے کو Howdy Moodiکا نام دیا دیا۔ یہ دراصل ٹیکساس  کے انداز میں ' کیسے ہیں مودی جی' یا 'ہلو مودی جی' تھا۔استقبالئے میں صدر ٹرمپ، ریاستی گورنر، سینیٹرز، ہیوسٹن کے مئیر اور وفاقی وریاستی وزرا نے شرکت کی۔ اپنی تقریروں   میں دونوں رہنماوں نے  ازلامک  ٹیررازم کیخلاف مل کر کام کرنے کا عہد کیا۔

فروری 2020 کو جب صدرٹرمپ ہندوستان کے دورے پر آئے تو اسے Howdy Moodi  کے جواب میں نمستے ٹرمپ کا نام دیاگیا۔ اس دوران صدر ٹرمپ کیلئے احمدآباد (گجرات) میں بڑے عوامی استقبالیہ کا اہتمام ہوا۔سابق امریکی صدر  ہوٹل اور گالف کورس کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور انھوں نے بھارت کو سرمایہ کاری کیلئے محفوظ ومنافع بخش ملک قراردیتے ہوئے قہاں کئی ٹرمپ ٹاور تعمیر کرنے کا عندیہ دیا۔

صدر اوباما کے عہدِ اقتدار میں جو بائیڈن امریکہ کے نائب صدر تھے اور انکی موجودہ انتظامیہ کے اہم ارکان یعنی  وزیرخارجہ  انٹونی بلیکنکن،  سی ائی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنس اور قومی سلامتی کے مشیر جیک سولیون اوباما کی کلیدی ٹیم کاحصہ تھے۔ چنانچہ ہندوستان کیلئے بائیڈن انتطامیہ بھی گرمجوشی کے جذبے سے سرشار ہے۔

ہندامریکہ تعلقات کے اس مختصر تعارف کے بعد اب  آتے ہیں دونوں ملکوں کی اہم سربراہ  ملاقات کی طرف۔ انھیں دنوں ٹو پلس ٹو اجلاس  10 سے 12 اپریل تک واشنگٹن میں ہوا جس میں ہندوستان کے وزیرخارجہ ایس جے شنکر اور وزیردفاع راج ناتھ سنگھ   نے شرکت کی۔ ان دونوں حضرات نے بطور مبصر مودی بائیڈن ویڈیو ملاقات کا بھی مشاہدہ کیا۔

قصرِ مرمریں  نے ایک دن پہلے جاری ہونے والے  اعلامئے میں بڑی صراحت سے کہا تھا کہ ملاقات کے دوران یوکرین کے خلاف روسی جارحیت سے پیداہونے والا عدم استحکام ایجنڈے کا ایک اہم نکتہ ہوگا۔ امریکہ کو شکائت ہے کہ  یوکرین کے معاملے میں دلی، واشنگٹن کا اُس گرمجوشی سے ساتھ نہیں دے رہا جسکی ایک مخلص اتحادی سے توقع ہے۔ بھارت نے روسی حملے کی مذمت تو کی لیکن سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی دونوں جگہ روسی کے خلاف قرارداد پر امریکہ کا ساتھ دینے کے بجائے مودی انتظامیہ غیر جانبدار رہی۔ امریکہ کیلئے سفارتی حمائت سے زیادہ اہم روس کیخلاف اقتصادی پابندیوں کی مہم میں عالمی تعاون ہے۔صدر بائیڈن روسی معیشت کو ضرب لگانے کیلئے اسکی تیل اور گیس برآمدات کا گلا گھونٹ دینا چاہتے ہیں۔ ہندوستان، چین کے بعد دنیا میں  تیل کادوسرا بڑا درآمد کنندہ ہے جسکا درآمدی جم 45 لاکھ بیرل روزانہ ہے۔

روس پابندیوں کا دباو کم کرنے کیلئے برآمدات کی رقم  روبل (roble)میں وصول کرنے پر اصرار کررہاہے۔ امریکہ کے مالیاتی اداروں کا خیال ہے کہ دہلی تیل کے نرخ میں غیر معمولی رعائت کے عوض روبل میں ادائیگی پر آمادہ ہوگیا ہے۔ اس حوالے سے ایک گزشتہ نشست میں ہم تفصیلات پیش کرچکے ہیں۔

ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مختصر سے اعلامئے  میں اس ملاقات کو خوشگوار اورروائتی گرمجوشی سے معمور قراردیا گیا۔ امریکی دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں QUADسمیت تمام امور پر گفتگو ہوئی۔خیال ہے کہ روسی کے خلاف اقتصادی پابندیوں  کو موثربنانے کیلئے ہندوستان کا تعاون  ملاقات کا مرکزی ایجنڈا تھا۔امریکہ کی خواہشات اپنی جگہ لیکن بھارت روسی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہے اور اسکے ماسکو سے مراسم خاصے گہرے ہیں، چنانچہ  یوکرین کے معاملے پر دہلی کی غیرجانبداری بلکہ کسی حد تک روس کی طرف جھکاو واشنگٹن کیلئے  حیرت کا باعث نہیں۔

ملاقات کے بعد  صدارتی ترجمان محترمہ جین ساکی نے  بات چیت کی تفصیلات  بتانے سے گریز کرتے ہوئے  بس اتناکہا کہ   امریکہ تیل کیلئے ہندوستان کی ضروریات کو اچھی طرح سمجھتا ہے لیکن صدر بائیڈن نے وزیراعظم نریندرا مودی کو باور کروادیا کہ 'بھاری' مقدار میں روس سے   تیل خریدنا ہندوستان کے مفاد میں نہیں۔ امریکی ترجمان  نے 'بھاری' کی وضاحت نہیں فرمائی۔ ساکی صاحبہ کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ ملاقات کے دوران ہندوستانی وزیراعظم  نے قومی مفادات کے حوالے سے اس جنگ میں بھارت کے غیرجابندرارہنے کی اہمیت صدر بائیڈن کو گوش گزار کردی۔

اسی ضمن میں ایک تازہ خبر یہ ہے کہ  گروپ سیون (G-7)سربراہی اجلاس میں ہندوستان کی شرکت پر جرمنی اور فرانس نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ جرمنی اس کانفرنس کا میزبان ہے جو  26 سے 28 جون تک  جنوب مشرقی جرمنی کے علاقے  بئین (Bavaria)  میں منعقد ہوگی۔ تنظیم کے سات ارکان کے علاوہ سینیگال، جنوبی افریقہ اور انڈونیشیا کو بطورِ خصوصی  مہمان  مدعو کیا گیا ہے۔  صدر بائیڈن کی خواہش ہے کہ مہمانوں کی فہرست میں ہندوستان کا بھی شامل کیا جائے۔ جرمن  قیادت کا خیال ہےکہ یوکرین کی جنگ میں ہندوستان کا رویہ  G-7 برادری کی توقعات کے مطابق نہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 22 اپریل 2022

ہفت روزہ  دعوت  دہلی 22 اپریل 2022

روزنامہ امت کراچی 22 اپریل 2022

ہفت روزہ رہبر سرینگر 22 اپریل 2022

روزنامہ قومی صحافت لکھنو

رمضان المبارک میں اسلاموفوبیا کی نئی لہر

رمضان المبارک میں اسلاموفوبیا کی نئی لہر

ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی رمضان المبارک دنیا بھر کی مسلم اقلیتوں کیلئے آزمائشوں کا پیغام لایا ہے۔گزشتہ کئی ہفتوں سے القدس شریف میں اسرائیلی سپاہی دندناتے پھر رہے ہیں۔ آفرین ہے فلسطینیوں پر جنھوں نے بدترین تشدد اور پکڑ دھکڑ کے باوجود قبلہ اول کو پوری آب و تاب کیساتھ شادو آباد رکھا ہوا ہے، پانچوں وقت نماز کے ساتھ تراویح کی مجالس بھی جاری ہیں۔ گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور گولوں کے دھماکوں میں خوش الحان قاری اللہ کا کلام سنارہے ہیں۔ بیت المقدس میں درندگی کیساتھ اہل غزہ پر آتش و آہن کی برسات بھی جاری ہے۔ 

ادھر بھارتی مسلمان بھی نئی آزمائش سے دوچار ہیں جہاں ہندو دیوتا ہنومان جی کے یوم ولادت یعنی ہنومان جیناتی سے دلی کے مضافاتی علاقے جہانگیر پوری  میں شروع ہونے والے مسلم مخالف فسادات تو بظاہر ختم ہو گئے لیکن کشیدگی برقرار ہے۔

اسی کیساتھ سوئیڈن میں  قرآن پاک کی بیحرمتی کا سلسلہ جاری ہے۔ رقبے کے اعتبار سے شمالی یورپ کے اس سب سے بڑے ملک میں مسلمانوں کا تناسب 6 فیصدہے۔ ان اعدادو شمار کو حقیر نہ سمجھیں کہ دوتہائی سے زیادہ آبادی خود کو ملحد یا کسی بھی مذہب سے وابستہ نہیں سمجھتی اور 25 فیصد مسیحیوں کے مقابلے میں 6 فیصد بہت چھوٹی تعداد نہیں۔سوئیڈش معاشرہ پرامن بقائے باہمی اور برداشت کی ایک عمدہ مثال ہے۔ دوسال پہلے جب جنوبی سوئیڈن کے اسکولوں میں بچیوں کے اسکارف اوڑھ کر کلاس میں آنے پر پابندی لگائی گئی تو مقامی عدالت نے از خود نوٹس لے کر پابندی کو غیر آئینی قراردیدیا۔

مسلمانوں کے صدمہ پہنچانے کیلئے قرآن پاک کی بیحرمتی انتہاپسندوں کا خاص ہتھیار ہے۔ توہین قرآن کو ابوغریب جیل ، گوانتا نامو بے، بگرام اور دوسری جگہ بہت ہی موثر انداز یں استعمال کیا گیاہے یعنی جب روائتی تشدد سے بات نہ بنے تو لب کشائی کیلئے  توہین قرآن کا حربہ استعمال کیا گیا۔ 'ملزم' سے کہا جاتاتھا کہ اگر اس نے صحیح بات نہ بتائی تو قرآن کے نسخے اسکے پیروں پر ڈالدئے جائینگے یا اسکے سامنے قرآن کو سور کی چربی میں لپیٹ دیا جائیگا۔ قرآن کو فلش میں ڈالنے کی دھمکی بھی دی گئی جسے سن کر وہی قیدی جو واٹر بورڈنگ، ناخن کھینچنے، کرنٹ لگانے اور تشدد کی دوسری اذیتیں خندہ پیشانی سے سہہ رہا تھا فوراًہی  اپنے تمام کردہ و ناکردہ گناہوں کا اعتراف کرلیتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ایسے ہی ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔انسانیت سے عاری اس  نوعیت کے شرمناک ہتھکنڈوں کی پتھروں کے دور میں بھی کوئی  مثال نہیں ملتی۔

مغرب  میں توہینِ قرآن کا منظم آغاز 2010میں ہوا جب امریکی ریاست فلورڈا کے شہر گینزول کے ایک متعصب پادری ٹیری جونز نے سانحہِ نیویارک المعروف نائن الیون کے متاثرین سے یکجہتی کے اظہارکیلئے گیارہ ستمبر کو قران جلانے کا دن قراردیا ۔فیس بک پر اس نے تمام "اھل ایمان" کو قرآن پاک کے نسخوں کے ساتھ اپنے چرچ آنے کی دعوت  دی جسکے پارکنگ لاٹ میں  قرآن جلانے کی تقریب منعقد ہونی تھیی لیکن شہری دفاع  کے مقامی محکمے نے پادری صاحب کو متنبہ کیا کہ عوامی مقامات پر آگ جلانے پر پابندی ہے اور اگر قرآن کو آگ لگائی گئی تو تقریب کے تمام  شرکا پر آتش زنی کے مقدمات قائم کئےجائینگے۔ چنانچہ ٹیری جونز نے قران کریم کو جلانے کی تقریب منسوخ کردی۔

چند ماہ بعد شیطان صفت انسان پر یہ خبط پھر سوار ہوا ۔اور بیس مارچ  2011کو انھوں نے اپنے چرچ میں عدالت لگائی، قرآن کے نسخےکو  ملزم کے کٹہرے میں رکھا اور خود منصف کی کرسی پر براجمان ہوگئے۔ آٹھ منٹ کی عدالتی کاروائی کے بعد ٹیری جونز نے قرآن کو انسانیت دشمن، خواتین کے حقوق کا مخالف اور دہشت گردی کی کتاب قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی اور ایک جلاد پادری نے قرآن کے نسخے پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگادی۔

شمالی یورپ کے علاقے Scandinavia میں توہین قران کی مہم 2017 سے جاری ہے۔ناورے، ڈنمارک اور سوئیڈن Scandinavianممالک کہلاتے ہیں۔ یہاں اسلاموفوبیا مہم کے سرغنہ ڈنمارک کے ایک ناکام سیاستدان راسمس پالڈن Rasmus Plaudanہیں۔ راسمس مسلمانوں کو وحشی و اجڈ اور اسلام کو پتھروں کے دور کا مذہب سمجھتے ہیں۔ انکے خیال میں مسلم دنیا کی اس وحشت کا منبع نعوذباللہ قرآن اور نبی مہربان کی تعلیمات ہیں۔ جہاد کے نام پر قرآن دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور مسلم دنیا سے یورپ آنے والے مسلمان جہاد یعنی دہشت گردی کے ذریعے ہماری تہذیب کو پتھروں کے دور میں واپس لے جانا چاہتے ہیں۔

راسمن پالڈن نے ڈنمارک میں اپنے اسلام دشمن موقف کے فروغ کیلئے 2017میں  Stram Kursکے نام سے ایک سیاسی جماعت قائم کی جسکاانگریزی نام Hard Lineپارٹی ہے۔ گزشتہ انتخابات میں ہارڈ لائن پارٹی کو 2 فیصد سے بھی کم ووٹ ملے چنانچہ انکی ڈنمارک پارلیمان  میں نمائندگی صفر ہے۔راسمس ایک شعلہ بیان مقرر ہیں اور نفرت انگیر و توہین آمیز  تقاریر کی بنا پر عدالت انھیں 5 سال زباں بندی کی سزاسناچکی ہے۔پابندی کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے انھوں نے تیبور (Vyborg)شہر میں ایک جلسے کے دوران نبی محترم ﷺ کے خلاف انتہائی گندی زبان استعمال کی جس پر مسلمانوں کے ساتھ عام ڈینش شہری بھی مشتعل ہوگئے۔ ہاتھا پائی کے دوران راسمس نے پولیس کو 'مسلمانوں کا کتا' کہا اور حملے کی کوشش کی۔ اس بات پر راسمس کو تو محض جرمانہ کیا گیا لیکن ہاتھا پائی اور دھکم پیل کے الزام پر ایک شامی نوجوان کو پہلے  دو ماہ کیلئے جیل بھیجا گیااورسزا کاٹنے کے بعد اسے ملک بدر کردیا گیا۔

راسمس، ناروے کے اسلام مخالفین کے بھی مربّی ہیں۔ انکی کوششوں سے یہاں ایک تنظیم STOP ISLAMIZATION IN NORWAYیا SIAN قائم کی گی جسکے ارکان کی تعداد 13000 سے زیادہ ہے۔ اب Stop Islamization in Europeکے نام سے اس تنظیم کا دائرہ سارے یورپ تک پھیلادیا گیا ہے۔

سیان نے  توہین قرآن کیلئے ملک گیر مہم شرو ع کی جسکا آغاز  ناروے کے ایک قدیم  شہر کرسچین سینڈ (Kristiansand)سے ہوا جہاں راسمس کے شاگرد اور سیان کے قائد آن تومر (Arne Tumyr) نے اعلان کیا کہ ہم کرسچین سینڈ شہر کے چوک میں دہشت گردی کے منشور یعنی قران کو جلائیں گے۔جلسے میں آن اور اسکے ساتھی اشتعال انگیز تقریریں کرتے رہے۔ اس دوران نبی مہربان ﷺ کے بارے میں جو زبان استعمال ہوئی اسےسوچ کر ہی ابکائی آتی ہے۔ تاہم مسلمانوں نے وعدے کے مطابق سب کچھ بہت تحمل سے برداشت کیااور نعروں اور درود کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کرتے رہے۔اس دوران آتشزدگی کیلئے قرآن کریم کا ایک نسخہ باربی کیو گرل پر رکھا تھا جسے پولیس نے اپنے قبضہ میں لے لیا۔ لیکن سیان کے دوسرے رہنما لارس تھورسن (Lars Thorsen)نے اپنی جیب سے قران کریم کے دوسرے نسخے کو نکال کر ٓآگ لگادی۔

پولیس نے لارس کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ پولیس کی بے حسی دیکھ کر ایک شامی نوجوان قرآن کو بچانے کیلئے دوڑا تووہی پولیس جو قرآن جلتا دیکھ کر خاموش تھی برقی رفتار سے  جھپٹی اور حملہ آور نوجوان کو گرفتار کرکے قرآن جلانے والے کو بچالیا۔اس شامی پناہ گزین کا نام الیاس عمر دھابہ ہے جو بطور باروچی (شیف) کام کرتا ہے۔اس واقعے کی ویڈیو سارے یورپ میں پھیلاکر شامی، عراقی اور صومالی مہاجرین کی ملک بدری کا مطالبہ کیا جارہاہے۔ انتہاپسندوں کی جانب سے واقعے کی تصویروں پر جو عنوانات ٹانکے گئے ہیں اسکا ترجمہ کچھ اسطرح ہے کہ 'خونخوار کتوں کواپنا پٰیٹ کاٹ کر کھلاو تاکہ یہ خود تمہیں ہی پھاڑ کھائیں' ۔  

اب واپس آتے ہیں سوئیڈن کی طرف۔ جیسا کہ ہم نے پہلے عرضں کیا، شمالی یورپ میں توہین قران مہم کا بیڑا ڈنمارک نژاد سوئیڈش سیاستدان راسمس پلوڈن نے اٹھایا ہے۔اس شخص کے ذاتی کردار کا یہ عالم کہ اگست 2021 میں ڈنمارک کے ایک موقر جریدے  Ekstra Bladetنے انکشاف کیا کہ موصوف سوشل میڈیا پر کمر عمر لڑکوں بلکہ بچوں سے نازیبا گفتگو کرتے ہیں۔ پلوڈن نے خبر کی وضاحت کرتے ہوئے بے شرمی سے کہا کہ ہاں میں لڑکوں سے اس قسم کی باتیں تو کرتا ہوان مگر میرا خیال تھا کہ ان میں سے کوئی بھی بچہ نہیں سب بالغ ہیں۔پلوڈن پر پولیس سے بدتمیزی پر جرمانہ بھی ہوچکا ہے۔اپنے ایک ساتھی کو ڈرانے دھمکانے کے الزام میں بھی یہ صاحب جیل کی ہوا کھاچکے ہیں۔     

پلوڈن نے تیبور Viborg واقعے کے ایک سال بعد اگست 2020 میں سوئیڈن کے جنوبی مغربی شہر مالما (Malmö)میں شیطنت کا منصوبہ بنایا لیکن حکام نے  گرفتار کرکے انھیں ملک بدر کردیا۔ اپنے رہنما کی گرفتاری پر انتہا پسند برہم ہوئے اور  قران کا ایک نسخہ  نذرِ اتش کردیا۔ جس پر وہاں فسادات پھوٹ پڑے جو کئی دن جاری رہے۔ کچھ ہی عرصے بعد پلاڈن سوئیڈن واپس آگئے۔ انکے والد سوئیڈن کے شہری تھے اور اس بنیاد پر انھیں بھی شہریت مل گئی۔

ادھر کچھ عرصے سے شیطان صفت پلوڈن ڈنمارک اور سوئیڈن کے مختلف شہروں میں ایک بار پھر قران سوزی کی واردات کرتے پھر رہے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ  مسلمانوں کے خلاف نفرت کی یہ لہر ڈنمارک کے عام انتخابات کیلئے انکی پارٹی کی انتخابی مہم کا حصہ ہے۔ پارلیمانی انتخابات ستمبر میں ہونے ہیں۔مسلمانوں کو اشتعال دلانے کیلئے پلوڈن ان شہروں میں قرآن کو نذرِ آتش کرنے کی تقریب منعقد کررہے ہیں جہاں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے۔اس مذموم مہم کیلئے جان کر رمضان کا انتخاب کیا گیا ہے جب مساجد میں روزانہ رات کو قرآن پڑھا جارہا ہے۔

جمعہ 15 اپریل کو اوریبروُ Orebroشہر کی جامع مسجد کے سامنے قرآن سوزی کی گئی۔ مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا اور پُر تشدد مظاہروں میں پولیس افسران سمیت درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔اسی دن دارالحکومت اسٹاک ہوم کے مضافاتی علاقے میں قرآن کریم کا نسخہ نذرِ آتش کیا گیا۔ یہ مذموم کاروائی ہر وز جاری ہے۔

سوئیڈن پولیس کے سربراہ آندرے تھورن برگ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی پوری  پیشہ ورانہ زندگی میں اس نوعیت کے مظاہرے اور کشیدگی نہیں دیکھی۔

مسلمانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد تارکین وطن اور پناہ گزینوں پر مشتمل ہے اور مقامی قوانین کےمطابق ہر مظاہروں میں گرفتار ہونے والے ہر غیر ملکی کو فوری طور پر ملک بدر کیا جارہاہے۔

یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ مجرمانہ پس منظر رکھنے والا شخص جسے نفرت پھیلانے کے الزام میں 14 دن جیل بھی ہوچکی ہے، کھلے عام نفرت کا بازار گرم کررہا ہے۔ ستم ظریفی کہ  انتظامیہ نے ایک طرف اس وحشی کھلی چھٹی دے رکھی ہے تو دوسری جانب پرامن مسلمان مظاہرین کو گرفتارکرکے ملک سے بیدخل کیا جارہا ہے۔

مغرب اگر پرامن بقائے باہمی اور مذہبی رواداری پر یقین رکھتا ہے تو اسے مسلم عقائد، متبرکات اور اقدار و روایات کے احترام کو  یقینی بنانا ہوگا۔ یہاں اس غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے کہ تحٖفظ اظہار رائے کا یورپی فلسفہ انسداد توہین مذہب کی راہ ٓیں رکاوٹ ہے۔ یورپ وامریکہ میں کسی بھی جگہ جرمن یہودیوں کے مبینہ قتل عام یا ہولوکاسٹ کے بارے میں منفی بات کرنا خلاف قانون ہے۔ جامعات میں ہولوکاسٹ کی صحت پر تحقیق بھی قابل سزا جرم ہے۔ خود سوئیڈن ایک آئینی بادشاہت ہے اور وہاں سلطانِ معظم کارل سولہ گستاف  (Carl XVI Gustaf پر تنقید کی اجازت نہیں۔ اسی نوعیت کی سرخ لکیر کھینچ کر انبیا اکرام، الہامی کتب اور شخصیات کی حرمت و توقیر کو یقینی کیوں نہیں بنایا جاسکتا؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 29اپریل 2022

ہفت روزہ دعوت دہلی 29 اپریل 2022

روزنامہ امت کراچی 29 اپریل 2022

ہفت روزہ رہبر سرینگر یکم مئی 2022

روزنامہ قومی صحافت لکھنو