Thursday, February 16, 2023

ترک خواتین یہ ایک صدی کا قصہ ہے دوچار برس کی بات نہیں

 

ترک خواتین

یہ  ایک صدی کا قصہ ہے دوچار برس کی بات نہیں

ترکیہ اور شام میں آنے والے زلزلے سے ساری انسانیت اشک بار ہے۔ منہدم  عمارات اور کچلے معصوم لاشوں کو دیکھ کر دل ڈوبتا محسوس ہوتا ہے۔ تاہم اسی دوران ترک خواتین کی پون صدی پر مشتمل جدوجہد رنگ لاتی نظر آرہی ہے۔ یہ اعصاب شکن و جاں گسل جدوجہد دوگز کپڑے کیلئے ہے جو حوا کی بیٹیاں اپنےسروں پر رکھنا چاہتی ہیں۔ معلوم نہیں اس چار گرہ کے ڈوپٹے اور آنچل میں کیا تباہ کاری چھپی ہے کہ  مغرب کو اس سے اپنی پوری تہذیب زمیں بوس   ہوتی نظر آرہی  ہے۔ بقول امام خمینی، یورپ ہمارے تباہ کن ہتھیاروں سے  اتنا خوفزدہ نہیں جتناڈر اسے ہماری بچیوں کے آنچل سے ہے

'حقِ اظہارِ حیا' کے حصول کیلئے ترکوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ ترک تاریخ کے مقبول ترین وزیراعظم عدنان منیدریس اپنے وزرائے خارجہ وخزانہ کے ہمراہ پھانسی چڑھے۔ شہید عدنان میندریس مسلسل تین بار وزیر اعظم منتخب ہوئے ،1954 کے انتخابات میں انکی پارٹی نے 541کےایوان میں 502نشستیں جیتیں۔ جناب میندریس پر جو فرد جرم عائد ہوئی اسکے مطابق  دینی مدارس کی بحالی، بہت سی بند مساجد کا اجرا ، عربی میں اذان اور خاتون پولیس افسران کو سر ڈھانکنے کی اجازت، ریاست کے خلاف گھناونا جرم اور سیکیولر ازم سے صریح  انحراف قرار پائی۔ 'استغاثہ' نے ثبوت کے طور پر پارلیمان میں  قائد حزب اختلاف عصمت انونو اور وزیراعظم کے درمیان مکالمہ پیش کیا۔ ملکی حالات پر گفتگو کرتے ہوئے جناب  عدنان میندریس نے ایک معصوم سا سوال کیا کہ اگر خواتین بلا کسی جبر،  اپنی مرضی و رضا سے سر ڈھانک کر گھر سے باہر آئیں تو اس سے سیکیولراقدار کیسے  متاثر ہونگی۔ اس پر حزب اختلاف کے کسی رکن نے کہا کہ حجاب ایک مذہبی علامت ہے جسکی عوامی مقامات پر نمائش و اظہار قانون کے منافی ہے۔  وزیر اعظم نے  کہا 'پھر تو  پارلیمان کو خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے قانون سازی کرنی چاہئے' اس پر قائد حزب اختلاف نے  پوچھا کہ  کیا آپ پارلیمان کے ذریعے شریعت لانا چاہتے ہیں؟ تو جناب میندریس نے کہا 'یہی جمہوریت یے  اور اگر پارلیمان چاہے تو ملک میں شریعت نافذ ہوسکتی ہے" اس بات پر وزیرخارجہ فطین رستم نے پر امید انداز میں کہا کہ انشاء اللہ وہ دن ضرور آئے گا جبکہ وزیر خزانہ حسن ارسلان بےاختیار اللہ اکبر کہہ اٹھے۔

یہ مقدمہ کتنا شفاف تھا اسکا اندازہ چیف پراسیکیوٹر محمد فیاض کے بیان سے ہوتا ہے جو انھوں نے پریس کو جاری کیا۔ محمد فیاض کے مطابق  صدر جمال گرسل نے جناب میندریس اور انکے ساتھیوں کے  پروانہ موت (ڈیتھ وارنٹ) پر دستخط کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا تھا کہ مقدمے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں ھوئے۔

اس عبرتناک انجام سے بھی اسلام پسندوں نے کوئی سبق نہ سیکھا اور 'حق اظہارِ حیا' کی جدوجہد جاری رہی۔ جون 1996 میں پروفیسر نجم الدین اربکان المعروف 'خواجہ صاحب' سیکیولر جماعت راہِ مستقیم پارٹی (DYP)سے شراکتِ اقتدار کا معاہدہ کرکے وزیراعظم بنے تو انھوں نے سرکاری دفاتر میں حجاب پر پابندی ہٹانے کی کوششیں شروع کردیں۔ قارئین کی دلچسپی کیلئے عرض ہے کہ پروفیسر صاحب سابق امیرِ جماعت اسلامی پاکستان، قاضی حسین احمد کے گہرے دوست تھے۔ حجاب پر پابندی کے خاتمے کی راہ مستقیم کی سربراہ اور نائب وزیراعظم محترمہ تانسو چلر بھی حامی تھیں۔ لیکن اس سے پہلے کہ پارلیمان میں کوئی قراراداد آتی، ترک فوج نے خواجہ صاحب کے دینی رجحان  پر تشویش  کا اظہار شروع کردیا اور صرف ایک سال بعد نہ صرف انکی حکومت برطرف کردی گئی بلکہ انکی جماعت پر بھی پابندی لگادی گئی۔

پھانسی برداشت کرنے والوں کیلئے اقتدار سے معزولی اور جماعت پر پابندی کیا چیز تھی۔ رفاح پارٹی پر پابندی لگتے ہی اسلام پسند پروفیسر صاحب  کی قیادت میں فضیلت پارٹی (FP)کے نام سے منظم ہوگئے اور 1999 کے انتخابات میں فضیلت پارٹی تیسری بڑی جماعت بن کر ابھری۔ مزید یہ کہ  فضیلت کے ٹکٹ پر محترمہ مروہ صفا قاوفجی Merve Safa Kavakcıرکن پارلیمان منتخب ہوگئیں۔ جب مروہ حلف اٹھانے پہنچیں تو وہ اسکارف اوڑھے ہوئے تھیں چنانچہ انھیں دروازے پر روک لیا گیا۔ ڈاکٹر مردہ کو  ایک ماہ کی مہلت دی گئی کہ وہ حجاب اتار کر آئیں اور حلف اٹھالیں۔ مروہ نے اسکارف اتارنے سے انکار کردیا جس پر پارلیمان سے انکی رکنیت ختم کرنے کیساتھ  وزارت انصاف نے  فضیلت پارٹی  کو بھی  کالعدم کردیا۔

مروہ قرآن کی حافظہ ہونے کیساتھ امریکہ کی موقر جامعہ ہارورڈ سے پی ایچ ڈی ہیں۔ رکنیت کی منسوخی پر وہ امریکہ چلی گئیں جہاں  انھوں نے جامعہ Howard اور جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں درس وتدریس کا سلسلہ شروع کردیا۔ امریکی ٹیلی ویژن کو ایک انٹرویو میں مروہ نے بہت ہی مغموم لہجے میں کہا کہ انکے حجاب سے امریکی ثقافت کو کوئی خطرہ نہیں اور وہ اسکارف کے ساتھ سارا کام کرتی ہیں لیکن میرے ملک کے امن کو دو میٹر کے اس کپٖڑے سے سخت خطرہ لاحق ہے۔ ہائے اس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالب

اللہ کا کرنا کہ فضیلت پارٹی کے کالعدم ہونے کے دو سال بعدطیب رجب  ایردوان کی قیادت میں اسلام پسند پھر  برسراقتدار آگئے۔ فٹبال کا یہ کھلاڑی  اسوقت 48 سال کا جوانِ رعنا تھا۔ جس زمانے میں ایردوان استنبول کے رئیس شہر (Mayor)تھے، انھیں  ایک  رزمیہ  نظم پڑھنے کا 'الزام' میں سزا بھی ہوچکی ہے۔ دلچسپ بات کہ جس روز نظم پڑھنے کے جرم میں ایردوان جیل بھیجے جارہے تھے اسی دن انھوں نے 'نغمات یوں نہیں مرتے ' کے عنوان سے اپنی آواز میں 4معروف شعرا کے  8 انقلابی گیتوں پر مشتمل ایک پورا  البم جاری کردیا۔ صرف ایک ہفتے میں اس البم کی دس لاکھ کاپیاں فروخت ہوئیں،  جناب ایردوان نے ساری کی ساری آمدنی ترک شہدا کی پسماندگان کیلئے وقف کردی۔

جناب ایردوان کے بطور وزیراعظم حلف اٹھانے کے بعد سرکاری تقریبات میں خاتونِ اول اور وزرا کی بیگمات کی عدم شرکت پر اعتراض ہوا لیکن  وزیراعظم کی اہلیہ محترمہ  امینہ ایردوان نے صاف صاف کہدیاکہ  میں حجاب کے بغیر گھر سے نکلنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔

جولائی 2016 میں مصر،  متحدہ عرب امارات اور امریکہ کی مدد سے ترک افواج کے سیکیولر عناصر نے ایردوان حکومت کے خلاف بغاوت کی۔  بمباری اور فائرنگ کے باوجود ترک عوام نے  مسلح باغی فوجیوں کی مشکیں کس دیں اور یہ نام نہاد انقلاب سختی سے کچل دیا گیا۔ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ بغاوت کو عدلیہ اور سول افسران کے ایک حصے کی حمائت بھی حاصل تھی۔ غیر آئینی سرگرمیوں کے ذمہ داروں کو سزائیں دینے کیساتھ ملازمتوں سے برطرف کردیا گیا اور انتظامیہ سیکیولر انتہا پسندوں سے بڑی حد تک پاک ہوگئی۔ اسی دوران  حکومت نے بیرون ملک تعینات سفارتی عملے کیلئے حجاب کی پابندی ختم کردی اور 2017 میں مروہ صفا قاوفجی پورے وقار کیساتھ ملائیشیا میں ترکیہ کی سفیر مقرر کردی گئیں۔

گزشتہ سال کے وسط سے حجاب پر پابندی کے خاتمے کیلئے ٹھوس و پائیدار اقدامات پر غور شروع ہوا۔ شروع میں خیال تھا کہ اس کیلئے ایک صدارتی حکمنامہ (آرڈیننس) کافی ہوگا لیکن آئینی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر مستقبل میں انتہا پسند انتخاب جیت گئے تو پوری بساط لپیٹی جاسکتی ہے۔ چنانچہ طئے پایا کہ آئینی ترمیم کے ذریعے حجاب کو  تحفظ فراہم کردیا جائے۔

ترکیہ میں آئینی ترمیم کیلئے  مسودہ سب سے پہلے پارلیمان کی مجلس قائمہ برائے دستور میں پیش کیا جاتا ہے۔  مجلس قائمہ میں پیشی کیلئے ترمیم کی حمائت  میں پارلیمان کے نصف سے زیادہ ارکان کے دستخط ضروری ہیں۔ ترک پارلیمان 600 ارکان پر مشتمل ہے۔ مجلس قائمہ سے منظوری کے بعد پارلیمان میں رائے شماری کے دوران ترمیم کے حق میں کم ازکم 3/5یا 360 ووٹ نہ آ نے پر مسودہ  ردی کی ٹوکری میں ڈالدیا جاتا ہے۔ اگر 360 سے زیادہ لیکن 400 سے کم ارکان نے ترمیم کے حق میں ہاتھ اٹھائے تو معاملہ صدر کے سامنے پیش ہوگا۔ ایوانِ صدر ترمیم پر مزید مباحثے اور دوبارہ رائے شماری کیلئے  اسے پارلیمان کو واپس بھیج سکتا ہے اور صدر کو یہ  اختیار بھی ہے کہ وہ ترمیم پر عوام کی رائے معلوم کرنے کیلئے اسے ریفرنڈم کیلئے پیش کردے۔ اگرریفرنڈم میں نصف سے زیادہ ووٹروں نے ترمیم کی توثیق کردی تو یہ آئین کا حصہ بن  جائیگی۔دو سری طرف اگر رائے شماری کے دوران 400 سے زیادہ ارکانِ پارلیمان  نے ترمیم کی حمائت کردی توپھر ریفرنڈم کی ضرورت نہیں۔

 دوہفتہ قبل  پارلیمان کے اسپیکر مصطفےٰ سینتوپ  Mustafa Şentop  نے کہا تھا کہ اسکارف پر پابندی ختم کرنے کیلئے مجوزہ آئینی ترمیم پرتمام جماعتیں متفق ہیں اور  366 ارکان نے ترمیمی بل پر دستخط کردئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ترک پارلیمان  کی مجلسِ قائمہ برائے آئینی امور نے دستور میں ترمیم کی توثیق کردی جسکے تحت حجاب پر پابندی غیر قانونی ہوگی۔ اسپیکر کا کہنا ہے کہ  366 ارکان کے دستخطوں سے یہ ترمیمی بل پیش کیا گیاہے۔

مجوزہ ترمیم میں کہا گیا ہے کہ کسی خاتون کو کسی بھی صورت، تعلیم، کام، ووٹ ڈالنے اور منتخب ہونے کے حق، سیاسی سرگرمیوں، سول سروس یا مذہبی وجوہات کی بنا ء پر حجاب پہننے یا لباس کے حصے کے طور پر سرکاری اور نجی اداروں کی جائیداد اور خدمات کو استعمال کرنے سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ حجاب کی مذمت اور اس حوالے سےالزام، طنز، اسستہزا اور کسی بھی قسم کا امتیازی سلوک غیر قانونی ہوگا۔اداروں کے یونیفارم میں بھی ریاست اس بات کو یقینی بنائیگی کہ کسی خاتون کو مذہبی وجوہات کی بنا پر حجاب اور اپنی پسند کالباس پہننے سے نہ روکا جائے۔اب یہ ترمیم بحث اور رائے شماری کیلئے پارلیمان میں پیش کی جائیگی۔

اسوقت ترک پارلیمان میں برسرٓ اقتدار اتحاد کے پاس 335 نشستیں ہیں۔ سیکیولر خیالات کی حامل ریپیلکن پیپلز پارٹی (CHP)کے ارکان 135 نشستوں پر براجمان ہیں۔ ماضی میں حجاب کی شدید مخالفت کرنے والی  ریپبلکن پیپلزپارٹی نے بھی آئینی کمیٹی کے اجلاس میٓں ترمیم کی مخالفت نہیں کی ۔

ترک سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ ریپبلکن پارٹی ترمیم کے حق میں ووٹ دیکر معاملے کو 14 مئی کے انتخابات سے پہلے حل کرلینا چاہتی ہے تاکہ ریفرنڈم کی نوبت نہ  آئے۔ سیکیولر عناصر کو ڈر ہے کہ  عام انتخابات کے دوران اسکارف پر ریفرنڈم ہونے کی صورت میں حجاب کی حمائت کرنے  والوں کی اکثریت صدرایردوان کے نام پر بھی ٹھپہ لگادیگی۔

اگرری پبلکن ڈیموکریٹک ہارٹی کے ارکان  انفرادی آزادی، صنفی مساوات ، عمدہ طرز حکمرانی اور برداشت کے کلچر کیلئے اپنے عزم پر قائم رہے تو امید ہے کہ یہ ترمیم مارچ تک منظو ہوجائیگی، ورنہ صدر ایردوان نے اس پر ریفرنڈم کرانےکا عندیہ دیا ہے۔ رائے عامہ کے جائزروں کے مطابق ترک خواتین کی تین چوتھائی اکثریت حجاب پر پابندی ختم کرنے کے حق میں ہے۔ دلچسپ بات کہ اسکارف نہ اوڑھنے والی خواتین بھی پابندی کی مخالف ہیں ۔ انکا کہنا ہے کہ اپنے لئے لباس کا انتخاب ہر فرد کا حق ہے اور حکومت کو اس میں مداخلت کا کوئی حق نہیں۔ ترک ٹیلی ویژن پر مباحثے میں یورپی اسکرٹ پہنے  ایک خاتون نے کہا  'میرے لئے  یہ بات قابل قبول  نہیں  کہ کوئی شخص مجھے برقعہ پہنے کو کہے تو پھر میں دوسرے کے برقعوں پر اعتراض کرنے والی کون؟ کاش یہ سادہ سی مبنی برانصاف اور منطقی دلیل  ترک اور یورپی  روشن خٰیالوں کو سمجھ آجائے

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل  کراچی، 17 فروعری 2023

ہفت روزہ دعوت دہلی ، 17 فروری 2023

روزنامہ امت کراچی ، 17 فروری 2023

ہفت  روزہ رہبر سرینگر 19 فروری 2023

روزنامہ  قومی   صحافت لکھنو


Thursday, February 9, 2023

جاسوسی غبارہ یا مواصلاتی سیارہ؟؟

 

جاسوسی غبارہ یا مواصلاتی سیارہ؟؟

چار فروری کو امریکہ کے ایف 22 طیارے نے 'گرم دمِ جستجو' یعنی heat seeking میزائل داغ کر مشتبہ چینی غبارہ مار گرایا۔ چین نے امریکی فضائیہ کی اس کاروائی کو طاقت کے غیر ضروری  استعمال اور بین الاقوامی روایات کی سنگین خلاف ورزی قراردیا ہے۔بیجنگ کا کہنا ہے کہ چین کے ایک نجی ادارے نے یہ غبارہ  (air ship)موسمیاتی تحقیق کیلئے بھیجا تھا۔  تجارتی ہوائی ٹریفک سے بہت زیادہ اونچائی پر اڑنے والے غبارے سے  زمین پر موجود افراداو اسباب  کو کوئی خطرہ نہ تھا اور سائنسی اہمیت کے اس آلے کو  میزائیل مار کر تباہ کردینا  قابل مذمت ہے۔ چینی وزارت قومی دفاع کے ترجمان کرنل تن کیفائی (Tan Kefei)  نے کہا کہ  بیجنگ مستقبل میں اس قسم کی صورتحال پر  جوابی  ردِ عمل  کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

فروری کے آغاز پر یہاں اسوقت سنسنی پھیل گئی جب دفاعی نامہ نگاروں  نے انکشاف کیا کہ امریکہ کی فضائی حدود میں ایک نامعلوم غبارہ پروار کررہاہے۔ اس انکشاف کا ماخذ وہ معلومات تھیں جو امریکی فضائیہ کے کچھ افسران  نے نام نہ بتانے کی  شرط پر امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹیڈ پریس (AP)کو فراہم کی تھیں۔ اے پی کے مطابق ان  اہلکاروں نے بتایا کہ  ایک مشتبہ چینی 'جاسوس غبارہ' امریکی فضائی حدود میں کچھ دنوں سے پرواز کررہا ہے۔ مذکورہ سینئر دفاعی اہلکار نے امریکی وزارت دفاع المعروف  پینٹاگون کے نامہ نگاروں کو آگاہ کیاکہ بلندی پر اڑنے والے اس غبارے کا حجم تین ٹرکوں کے برابر ہے اور اس پر  معلومات اکھٹا کرنے کیلئے حساس کیمرے اور جاسوسی کے آلات نصب ہیں۔

یہ غبارہ مبینہ طور پر 28 جنوری کو بحرالکاہل میں امریکی کالونی گوام پر سے پرواز کرتا ہوا ریاست الاسکا (Alaska)کی فضائی حدود میں داخل ہوا اور کینیڈا کے صوبوں البرٹا، برٹش کولمبیا اور سیسکیچون (Saskatchewan)کے اوپر سے ہوکر یکم فروری کو ریاست مونٹانا (Montana)میں داخل ہوا۔ چینی غبارہ  تین فروری کو ریاست مزوری Missouri آیا اور جنوبی کیرولینا (South Caroline) کے راستے بحراوقیانوس کی طرف نکل گیا جہاں اپنی فضائی حدود میں امریکہ نے اسے مارگرایا۔

 غبارہ اتنا بڑا تھا کہ 60 ہزار فٹ کی بلندی پر اڑنے کے باوجود  کمرشل پائلٹ اسے دیکھ سکتے تھے تاہم حفظِ ماتقدم کے طور پر یکم فروری کو مونٹانا کے بلنگز-لوگن  (Billings Logan)بین الاقوامی ہوائی اڈے  پر دوپہر ڈیڑھ بجے سے ساڑھے تین بجے تک تمام پروازیں معطل کردی گئیں۔

جمعرات دو فروری کو  پینٹاگون کے پریس سیکریٹری بریگیڈیئر جنرل پیٹرک رائڈر نے ایک سرکاری بیان میں  کہا کہ غبارہ امریکی فضائیہ  کی نظر میں ہے  اور  بہت زیادہ اونچائی پر پرواز کی وجہ سے یہ  کمرشل ہوائی جہازوں،  شہریوں یا فوجی تنصیبات کیلئے کسی خطرے کا باعث نہیں۔ جنرل صاحب نے امریکیوں کو یقین دلایا کہ  غبارے کی حساس معلومات تک رسائی روکنے کے اقدامات کرلئے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ  چینی حکام کو معاملے کی سنگینی سے آگاہ  کردیا گیا ہے۔جنرل رائیڈر نے مزید کہا کہ امریکی فضائیہ کیلئے اس غبارے کو مارگرانا کچھ مشکل نہیں لیکن چونکہ اس  کے گرنے والے ملبے سے زمین پر موجود لوگوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اسلئے فوج کے کماندارِ اعلی یعنی صدر بائیڈن نے اسکی اجازت نہییں دی۔

دوسرے دن  چینی وزارت خارجہ کی ترجمان محترمہ ماو ننگ (Nao Ning)نے اس بات کی تصدیق کردی کہ چین کا ایک  غبارہ جسے ترجمان نے Air Ship  کہا،  امریکہ کی فضائی حداود میں داخل ہوگیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ  ایک نجی چینی ادارے کا یہ غبارہ  موسمیاتی تحقیق کیلئے فضا میں بھیجا گیا ہے جو سمت اندازی کی محدود صلاحیت  (Limited Self Steering)کی بناپر اپنے طے شدہ راستے سے بہت دور ہٹ گیا۔ننگ صاحبہ کا کہنا تھا کہ یہ  جاسوس غبارہ نہیں  بلکہ ایک معمولی سا موسمیاتی طیارہ ہے جو امریکہ کے برفانی طوفان کا مشاہدہ کرتے ہوئے مونٹانا چلا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ چین کو امریکی فضائی حدود میں غیر ارادی داخلے پر افسوس ہے، چینی حکام اپنے  امریکی ہم منصبوں سے رابطے میں ہیں اور ہم اس ماورائے تدبیر (Force Majeure)صورتحال کا خوشگوار اختتام چاہتے ہیں۔

چینی غبارہ  امریکہ میں اسکی شمالی سرحد سے داخل ہوا اور ترچھا (diagonal) سفر کرتا مشرق میں بحراوقیانوس کو نکل گیا۔ اس دوران دواہم مقامات پر اسکی پرواز امریکیوں کو مشکوک بلکہ خطرناک محسوس ہوئی۔

1.              ریاست  مونٹانا میں امریکہ کا مالمسٹروم ایئر فورس بیس (Malmstrom Air Force Base)   ہے، جو  دوسری جنگ عظیم کے دوران گریٹ فالس  (Great Falls)شہر کے قریب 1942 میں تعمیر ہوا۔ تزویرائی اہمیت  کی تین جوہری تنصیبات میں سے ایک یہاں واقع ہے۔مالمسٹروم امریکہ کے بین البراعظمی منجنیقی (Intercontinental Ballistic)میزائیلوں کا اڈا  بھی ہے۔

2.              ریاست مزوری کا وہائٹ مین فضائی اڈہ Whiteman Airforce Baseبھی 1942 میں تعمیر ہوا۔ یہ  غیر مرئی (B2 Stealth)بمباروں کا ہیڈکوارٹر ہے۔

امریکی فضائی حدود میں  چینی غبارے کی پرواز کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب  وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن اپنے پہلے دورہ بیجنگ کی تیاریوں میں مصروف تھے اور حسب توقع  امریکی وزیرخارجہ کی روانگی غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔ دو فروری کی شام صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے  ٹونی بلینکن  نے چین کی اس ”غیر ذمہ دارانہ” حرکت کو دوسرے ملک کی فضائی حدود میں دراندازی اور ایک آزاد مملکت کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی قرار دیا جو “مہذب” دنیا کو کسی صورت  قبول نہیں۔ کاش  فاضل وزیرخارجہ سے کوئی پوچھتا کہ امریکہ کے ڈرون شمالی وزیرستان، عراق، شام،  یمن اور لیبیا میں جو پھول برساتے رہے ہیں اسے کیانام دیا جائے۔ اب سے چند ہی ماہ پہلےکابل میں امریکی ڈرون نے اپنے ایک مبینہ دشمن کو قتل کیا ہے۔ کیا امریکہ کی جانب سے افغان فضائی حدود کی پامالی اور اسکی خودمختاری پر حملہ چینی غبارے کی 'گستاخی' سے کسی طرح کم ہے۔ چینی غبارہ تو 60 ہزار فٹ کی بلندی پر سے پرامن انداز میں پرواز کرتا گزر گیاجبکہ امریکی ڈرون نے وزیرستان میں وسیع و عریض قبرستان آباد کئے ہیں۔سچ ہے کہ  آدمی اگر بے حیا ہوجائے تو اسے کچھ بھی کہتے شرم نہیں آتی ۔

دونوں جانب سے بیانات کی گھن گرج میں امریکی بحریہ جنوبی کیرولینا کے ساحل  Myrtle Beachکو تباہ ہونے والے غبارے کے ملبے کیلئے کھنگھال رہی ہے جو  7 میل کے علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔ پینٹاگون کے ذرایع نے سطح سمندر سے کچھ حصوں کے ملنے کی تصدیق کی ہے جنھیں تجزئے کیلئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (FBI) کی تجربہ گاہ بھیج دیا گیا ہے۔ بحریہ کے تجربہ کار غوطہ خوروں  اور خودکار زیرِ آب گاڑیوں (Unmanned Underwater Vehicles) یا UUV کی مدد سے غبارے کی باقیات تلاش کی جارہی  ہیں۔ اس مقام پر پانی کی گہرائی صرف  47 فٹ ہے، اسلئے امریکی ماہرین پرامید ہیں  کہ ملبے کی تلاش زیاد مشکل نہیں۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی Xinhuaنے اطلاع دی ہے کہ چینی محکمہ موسمیا ت کے سربراہ Zhuang Guotaiکو برطرف کردیا گیا۔ مبصرین کے خیال میں یہ چین کے اس موقف کو تقویت دینے کی کوشش ہے کہ امریکہ نے جس غبارے کو گرایا ہے وہ موسمیاتی تحقیقات کے مشن پر تھا جو راستہ “بھٹک” کر چچا سام کے دیس جا پہنچا اور چین اس غلطی کی تحقیق کیساتھ اسکے ذمہ داروں کاامواخذہ بھی کررہا ہے۔

امریکہ کے  سنجیدہ عناصر  غبارے پر امریکہ کے غیر ضروری ردعمل کو صدر بائیڈن کی بوکھلاہٹ قرار دے رہے ہیں۔  امریکی وزارت دفاع  کے مطابق،  اہم فوجی اور جوہری تنصیبات سمیت امریکی سرزمین کا ایک ایک انچ رقبہ ، خلا میں تیرتے چین کے 500 سے زیادہ مصنوعی سیارچوں یا سیٹیلائٹس کی نظروں میں ہے۔ اگر پینٹاگون کا یہ تجزیہ درست ہے تو جدید ترین سیارچوں کی موجودگی میں چین کو جاسوسی کیلئے غبارہ بھیجنے کی کیا  ضرورت تھی۔ دفاعی مبصرین کا خیال ہے کہ ٖ 28 جنوری کو گوام پر سے گزرتے ہی امریکہ کے دفاعی نظام نے  اس اڑن طشتری کو شناخت کرنے کے بعد نہ صرف  اسکی نگرانی شروع کردی تھی بلکہ چینی حکام سے  رابطے کا آغاز ہوچکا تھا۔ غیر مرئی یا Stealthصلاحیتوں سے محروم یہ غبارہ  اپنے حجم کے اعتبار سے اتنا بڑا تھا کہ  ریڈار کی نظروں سے  اسکا چھپنا ممکن ہی نہ  تھا۔  چین جیسے ملک کی جانب سے اس قسم کے  آلے کو امریکہ کی جاسوسی کیلئے  استعمال کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔

لیکن جمعرات کو معاملہ میڈیا پر آتے ہی صدر کے  قدامت پسند مخالفین نے آسمان سر پر اٹھالیا۔ سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے  سراغرسانی کے نائب سربراہ اور اگلے سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں  ریپبلکن پارٹی کی ٹکٹ کے متوقع خواہشمند سینیٹڑ مارکو روبیو نے چین کی اس جسارت کو امریکہ کی بھیانک تزویراتی کمزوری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ چین کی جانب سے امریکی دفاعی نظام کا مضحکہ اڑانے کا اظہار ہے۔  مونٹانا سے ریپبلکن پارٹی کے رکن کانگریس رائن زنکے Ryan Zinkeنے دہائی دی کہ انکی ریاست پر دشمن کا 'طیارہ' منڈلا رہا ہے اورصدر بائیڈن کو کوئی پرواہ نہیں۔نیوہیمپشائر کے گورنر  کرس  سنونو نے  اے بی سی ٹیلی ویژن سے باتیں  کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے قلب میں جاسوس غبارہ بھیج کر چین نے امریکی صدر کے اعصاب کو آزما یا جس میں جو بائیڈن بری طرح ناکام رہے۔

غالباً اسی دباو کا اثر تھا کہ  صدر بائیڈن نے غبارے کو گرانے کا حکم دیدیا۔ تاہم امریکی وزیر دفاع جنرل (ر)   آسٹن کا کہنا ہے کہ صدر بائیڈن نے یکم فروری ہی کو اسے مارگرانے کا حکم دیدیا تھا۔ لیکن  صدر کی ہدائت تھی  کہ غبارہ تباہ کرتے ہوئے امریکیوں کی جان و مال اور دفاعی اثاثو ں کو کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہئے اسی لئے Air Ship کو کھلے سمندر پر نشانہ بنایا گیا۔

ابھی امریکہ در آئے  چینی غبارے سے اٹھنے والی دھول بیٹھی بھی نہیں کہ لاطینی (جنوبی) امریکہ سے ایسی ہی اطلاعات آرہی ہیں۔ دفاعی ذرایع  کے مطابق ایک غبارہ کولمبیا سے بحر کریبین کے ساحل کو چھوتا کوسٹا ریکا کی طرف پرواز کررہا ہے۔ چینی غبارہ مارگرانے پر تائیوان نے 'اطمینان' کا اظہار کیا ہے۔ تائیوانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چین کی جانب سے تائیوان کی فضائی حدود کی خلاف وزری روزمرہ کا ایک معمول  ہے اور جنگی طیاروں کے ساتھ چینی ڈرون  تائیوان کی فضا میں  کھلے عام دنداتے پھر رہے ہیں۔

غبارہ گرانے پر چینی وزارت قومی دفاع کے اس ردعمل  یعنی  ' ہم مستقبل میں ایسی صورتحال پر اپنے ردعمل کا حق محفوظ رکھتے ہیں ' کی بعض سیاسی ماہرین تشریح اسطرح کررہے ہیں کہ چین تائیوان کی طرف پروازکرنے والے امریکی طیاروں پر قدغنیں عائد کرسکتا ہے۔ بیجنگ کیلئے تائیوان اسکا اٹوٹ انگ ہے اور امریکہ سمیت دنیا کے اکثر ممالک اس حقیقت کو عملاً تسلیم کرتے ہیں۔ لاطینی امریکہ کے چھوٹے ملکوں اور ویٹیکن سمیت دنیا کے صرف  14ممالک تائیوان کو سرکاری طور پر  آزادو خودمختار ملک مانتے ہیں۔ہمارے خیال میں  چین امریکہ عسکری کشیدگی بڑھنے کا امکان بہت زیادہ نہیں کہ بیجنگ کی ترجیحِ اول معیشت و تجارت ہے جسکے لئے  تصادم کے بجائے تعاون کی حکمت عملی چینی سفارتکاری کی بنیاد ہے

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 10 فروری 2023

ہفت روزہ دعوت دہلی 10 فروری 2023

روزنامہ امت کراچی 10 فروری 2023

ہفت روزہ رہبر سرینگر 12 فروری 2023

روزنامہ قومی صحافت لکھنو


Sunday, February 5, 2023

 

خان عبدالغفار  المعروف باچا خان

آج   6 فروری بزرگ رہنما خان عبدالغفارخان المعروف باچا خان کی133واں یوم پیدائش   ہے۔ عبدالغفار خان 6 فروری 1890 کو چارسدہ کے قریب ہشت نگرمیں پیدا ہوئے۔باچا خان تحریک آزادی ہند کے سرگرم رہنما تھے جنھوں نے خدائی خدمت گار کے پلیٹ فارم پر پشتونوں کو منظم کرکے انگریز سے آزادی کیلئے بھرپور مہم چلائی۔ انتہائی پرامن رہنے کے باوجود انگریز انتظامیہ نے باچا خان اور خدائی خدمتگار تنظیم کے کارکنوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا لیکن اس بہیمانہ ظلم کے جواب میں نہ تو باچا خان نے اپنے معتقدوں کو تشدد پر اکسایا اور نہ جدوجہدِ آزادی کو ترک کیا۔ باچا خان انڈین کانگریس کے سرگرم رہنما تھے اور اسی بنا پر انھیں سرحدی گاندھی بھی کہا جاتا ہے۔

 تقسیم ہندوستان (قیام پاکستانٌ) سے چند ہفتہ قبل خدائی خدمت گار نے بنوں کے مقام پر لویہ جرگا کا اہتمام کیا جہاں 'اعلانِ بنوں' کے نام سے وہ مشہور قراراداد منظور ہوئی جس میں انگریزوں سےمطالبہ کیا گیا کہ پشتون علاقوں پر مشتمل پشتونستان کے نام سے ایک آزاد و خودمختار ریاست قائم کی جائے لیکن انگریز سرکار نے انکے مطالبے کو ماننے سے انکار کردیا اور پھر ریفرنڈم میں بھی پشتونوں کی اکثریت نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا۔

پاکستان بننے کے بعد باچا خان نے پاکستان سے وفاداری کا اعلان کیا لیکن وہ مسلسل قیدو بند کی آزمائش سے گزرتے رہے حتیٰ کہ انکی موت بھی اس حالت میں ہوئی کہ باچا خان اپنے گھر میں نظر بند تھے۔ انکی خواہش پر خان عبدالغفار خان کی میت تدفین کیلئے جلال آباد لے جائی گئی۔ اسوقت وہاں روسی فوج اور جلال الدین حقانی کے چھاپہ ماروں کے درمیان شدید جنگ ہورہی تھی لیکن باچا خان کے احترام میں  عارضی فائر بندی کی گئی تاکہ باچا خان کی میت کو دفنایا جاسکے۔ انتقال کے وقت خان عبدالغفار خان کی عمر 97 بر س تھی۔

باچا خان ایک راسخ العقیدہ مسلمان تھے اور یہ بات شائد بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ اپنے آبائی قصبے اتمان زئی کی پہلی مسجد انھوں اپنے خرچ سے بنوائی تھی جسکے ساتھ ایک مدرسہ بھی تھا۔1927 میں باچا خان اپنے گاوں کے درجنوں افراد کو حج کیلئےاپنے ساتھ لے کر گئے۔ خان عبدالغفار خان کے تین بیٹے عبدالغنی خان، عبدالولی خان اور عبدالعلی خان تھے۔ ان سب کو شہرت اور نیک نامی نصیب ہوئی۔ اتفاق سے اسوقت ان میں سے کوئی بھی حیات نہیں۔ انکی صاحبزادیوں  کےنام سرداراں اور مہر تاج ہیں جنکے بارے میں ہمیں نام سے زیادہ کچھ معلوم نہیں۔ خان عبدالغنی ایک دانشور، شاعر اور ماہر لسانیات تھے۔ انکی وجہ شہرت تو پشتو شاعری کی ہے لیکن انھوں نے اردو کلام بھی تخلیق کیا جو  شائدکلیاتِ غنی میں موجود ہے۔ عبدالولی خان پائے کے سیاستدان تھے جبکہ ڈاکٹرعبدالعلی خان ایک دانشور اور ماہر تعلیم تھے جو جامعہ پشاور کے شیخ الجامعہ بھی رہ چکے ہیں۔


Thursday, February 2, 2023

اندرونی سیاست کا شاخسانہ فلسطینیوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی

 

اندرونی سیاست کا شاخسانہ

فلسطینیوں کے  خلاف ریاستی  دہشت گردی

ارضِ فلسطین گزشتہ سات دہائیوں سے  لہو لہان ہے، لیکن 1996 میں انتہا پسند بن یامین نیتھن یاہو  المعروف بی بی کے وزیراعظم بننے کے بعد سے خونریزی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ گزشتہ سال دسمبر کی 29 تاریخ کو  بی بی نے چھٹی بار اسرائیلی وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا۔ اُس دن سے 29 جنوری تک 32 فلسطینیی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں جاں بحق ہوئے۔ یعنی ہر روز ایک فلسطینی اپنی جان سے گیا۔ گزشتہ برس 300 فلسطینی مارے گئے تھے۔ان بے گناہوں  کی واضح اکثریت 13 سے 25 سال کے نوخٰیز نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

نومبر 2022 کے انتخابی نتایج دیکھ کر مشرق وسطیٰ پر نظر رکھنے والے سیاسیات کے  علما نے خدشہ ظاہر کردیا تھا کہ مجرمانہ ماضی کے حامل انتہاپسند جتھوں پر مشتمل بی بی کی نئی حکومت فلسطینیوں کیلئے عذاب  ثابت ہوگی۔ سچ تو یہ ہے کہ نیتھن یاہو کے لیکڈ اتحاد  اور انکے قدامت پسند رفقا نے بھی اپنے فلسطین کش عزم کی اظہار میں مداہنت سے کام نہیں لیا۔ ان انتخابات میں بی بی کے لیکڈ اتحاد نے 32، دینِ صیہون (Religious Zionism)نے 14،  شاس (پاسبانِ توریت) نے 11 اور توریت پارٹی نے 7 نشستیں جیت کر مخلوط حکومت بنانے کا فیصلہ کیا۔ ایک سو بیس رکنی اسرائیلی کنیسہ (پارلیمان) میں حکومت سازی کیلئے 61 ووٹ درکار ہیں۔ لیکڈ اور انکے تیں اتحادیو ں کی مجموعی نشستیں 64 ہیں  لہٰذا بی بی نے اس بار قوم پرست اور دائیں بازو کی سیکیولر جماعتوں کو حکومتی اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت نہیں دی۔ قوم پرست سیکیولر عناصر اور مذہبی جماعتوں کے مابین سماجی معاملات پر خاصے اختلافات ہیں اور انکی باہمی چپقلش کے نتیجے میں بی بی حکومت کو 1999 میں استعفی دینا پڑا تھا۔ اس بار برسرِ اقتدار اتحاد،  نظریاتی اعتبار سے  ہم آہنگ  اور فلسطین کشی کے ایک نکاتی ایجنڈے پر یکسو ہے۔

اتحادی جماعتوں میں سب سے مضبوط دینِ صیہون جماعت، پارلیمان کی تیسری بڑی قوت ہے۔ یہ جماعت خود ہی کیا کم تھی کہ عزمِ یہود (Otzma Yehudit)اور خوشنودیِ رب پارٹی (Noam) بھی اپنی انفرادیت برقرار رکھتے ہوئے دینِ صیہون کا حصہ ہیں۔ گویا نفرت کا یہ دوآتشہ، نیم چڑھے کریلے کی بدترین مثال ہے

اسے دلچسپ کہیں یا افسوسناک کہ مذہبی رہنماوں کیلئے فلسطینیوں کی نسل کشی  انکے نظریاتی ایجنڈے  بلکہ عقیدے پر بھی غالب آچکی ہے۔ حکومت سنبھالتے ہی بی بی نے اسپیکر یاریو لیون (Yariv Levin)کو وزارتِ انصاف کا قلمدان پیش  کیا ، چنانچہ لیون صاحب اسپیکر کے منصب سے مستعفی ہوگئے۔ یاریو کی جگہ لیکڈ پارٹی نے  46 سالہ عامر اوہانہ (Amir Ohana)کو اسپیکر کا امیدوارنامزد کیا۔ خیالات کے اعتبار سے انتہائی قدامت پسند، مراکش نژاد  عامر اعلانیہ ہم جنس پرست  ہیں جنھوں نے ایک مرد سے شادی کررکھی ہے۔ یہ دونوں  Surrogate Motherکے ذریعے ایک بیٹے اور  ایک بیٹی کے والدین بھی ہیں۔اسپیکر صاحب خود کو اپنے بچوں کی ما ں کہتے ہیں۔انتخابی مہم کے دوران مذہبی رہنماوں نے  وعدہ کیا تھا کہ برسراقتدار آکر ہم جنس پرستی کی ہرسطح پر مخالفت کی جائیگی۔ خوشنودیِ رب پارٹی کے سربراہ اوی معوذ صاحب تو یہاں تک کہہ گئے کہ تھا کہ 2023 کی LGBTپریڈ انکی لاش پر ہوگی۔انتخابی مہم کے دوران وہ حضرت لوطؑ کی قوم پر آنے والے عذاب سے اسرائیلیوں کو ڈراتے رہے۔ یہی حال شاس کے سربراہ اور تلمود کے عالم أریہ مخلوف درعي  کا تھا۔ لیکن  ہم جنسی کے خلاف گز گز بھر لمبی زبان نکال کر تقریر کرنے والے سارے ”مولویوں” نے عامر اوہانہ کو ووٹ دئے۔بی بی نے ڈرایا تھا کہ اگر ہمارا اسپیکر ہار گیا تو کوئی بھی ہدف حاصل نہ ہوسکے گا چنانچہ خُدّامانِ توریت نے بڑے مقصد کے حصول کیلئے چھوٹی برائی قبول کرلی۔

بی بی نے کابینہ کیلئے جن انتہا پسندوں کا انتخاب کیا وہ سب فلسطین دشمن تو ہیں ہی، ان میں سے کئی خود اسرائیلی عدالتوں سے سزایافتہ تھے۔ کسی اور کا کیا  ذکر خود  بی بی صاحب  پر بدعنوانی اور مالی بے ضابطگی کا مقدمہ چل رہا ہے۔ وزارت عظمیٰ کے دوران انھوں نے استثنیٰ کے سہارے پیشیوں سے جان چھڑائی اور جب حکومت ختم ہوگئی تو کرونا کے نام پر عدالت کا سامنا کرتے سے کتراتے رہے۔

نئی حکومت کے وزیرصحت اور نائب وزیر اعظم اٰریہ مخلوف درعی کو بے ایمانی، رشوت ستانی، ٹیکس فراڈ اور منتخب نمائندے کی حیثیت سے عوام کا اعتماد پامال کرنے کے الزام میں تین سال قید کی سزا ہوچکی ہے۔ یہ جرم 1999 میں ثابت ہوا لیکن پارلیمانی استثنیٰ کی بناپر یہ جیل سے باہر ہیں۔ اس بار بھی جب یہ سوال اٹھا کہ ایک 'مجرم' وزیر کیسے بن سکتا ہے تو اٹارنی جنرل صاحب نے فرمایا 'جب عوام نے منتخب کرلیا تو وزیربننے میں کیا قباحت ہے'؟ اشتراکِ اقتدار معاہدے کے تحت کنیسہ کے پہلے اجلاس میں ایک قانونی ترمیم کے ذریعے جناب درعی کے استثنیٰ کو قانونی تحفظ فراہم کردیاگیا۔

بی بی کو احساس تھا کہ ان تقرریوں کے  خلاف حزب اختلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتی ہے چنانچہ حلف اٹھاتے ہی  وزیرانصاف نے ایک مسودہِ قانون نیسہ (پارلیمان) میں پیش کردیا۔ نئے قانون کے تحت کنیسہ واضح اکثریت یعنی 61 ووٹوں سے سپریم کورٹ کے کسی بھی فیصلے کو غیر موثر کرسکتی ہے۔ اسی طرح ججوں کی تقرری کیلئے جوڈیشل کونسل کا فیصلہ محض سفارش ہوگا جسکی  حتمی منظوری وزارت انصاف دیگی۔

اس قانون پر وکلا اور انسانی حقوق کے کارکن سخت مشتعل ہوگئے اور بار کونسل نے ملک گیر ہڑتال کی۔ جب رم اللہ  کے فلسطینی وکلا  سے رائے لی گئی تو انھوں نے کہا  ان تبدیلیوں سےہمیں  کوئی پریشانی نہیں۔ فلسطینیوں کیلئے اگر حکومت قصاب ہے تو عدلیہ قصائی کے وہ 'چھوٹے' جو ذبیحے سے پہلے بسمل کے پیر باندھتے ہیں۔

اٰریہ مخلوف درعی کے حلف اٹھاتے  ہی اسرائیلی عدالت عالیہ کے دس میں سے نو قاضیوں نے اخلاقی جرم میں سزا یافتہ ہونے کی بناپر موصوف  کے تقرر کو 'انتہائی غیر معقول' قراردیتے ہوئے انھیں کابینہ سے ہٹانے کی سفارش کی ہے۔ جناب د رعی نے اپنے خلاف عدالتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ۔'اگر تم ہم پر دروازے بند کروگے تو ہم کھڑکیوں سے کود کر (ایوانِ اقتدار) داخل ہونگے اور اگر کھڑکیاں مقفل کی گئیں تو اللہ کی مدد سے ہم چھت توڑ کر آجائینگے'۔ نو جج، 4لاکھ افراد کے فیصلے پر خطِ تنسیخ نہیں پھیر سکتے۔ بی بی،  جناب درعی سے اظہار یکجہتی کرنے انکے گھر گئے اور وہاں انتہاپسندوں کے جلسے میں شرکت کی۔ اس دوران اسرائیلی عدلیہ کے خلاف توہین آمیز نعرے لگائے گئے لیکن اٹارنی جنرل کی سفارش پر وزیراعظم نے درعی صاحب سے وزارت صحت کا قلمدان واپس لے لیا اور وہ 'متبادل و متوقع  وزیراعظم یا PM in Waitingبنادئے گئے۔

اسرائیلی بار ایسوسی ایشن، انسانی حقوق کی تنظیموں اور حزب اختلاف نے حکومت کے ان ہتھکنڈوں کو آئین سے کھلواڑ قرار دیتے ہوئے بی بی سرکار کے  خلاف مظاہرے شروع کردئے جسے 'کرائم منسٹر کے خلاف ملک گیر احتجاج' کا نام دیا گیا۔ یہ مظاہرے ہر ہفتے کی شام ،  سارے ملک میں ہورہے ہیں۔ ان جلوسوں کی اہم بات یہ ہے کہ وزیراعظم کے خلاف  نعروں پر مشتمل بینروں اور کتبوں کیساتھ فلسطینی پرچم بھی لہرائے جارہے ہیں۔ یروشلم کی جامعہ عبرانیات Hebrew University میں فلسطینی جھنڈے اٹھائے اسرائیلی طلبہ نے عدلیہ پر قدغن نامنظور، کرائم منسٹر مردہ باد کیساتھ، فلسطینیوں پر تشدد بند کرو، فلسطینی زمینوں پر قبضہ فسطائیت ہے اور 'نہر الی البحر فلسطین (دریائے اردن سے بحر روم تک فلسطین) کے نعرے لگائے۔

نئی اسرائیلی حکومت کی انتہا پسند ہئیت امریکہ بہادر کو بھی پسند نہیں۔ گزشتہ دنوں ڈیموکریٹک پارٹی کی سینیٹر جیکی روزن اور ریپبلکن پارٹی کے سینیٹر جیمز لینک فورڈ کی قیادت میں امریکی سینیٹروں کا سات رکنی وفد اسرائیل، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش کے مابین ہونے والے معاہدہ ابراہیم ؑ پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کیلئے علاقے کے دورے پر آیا۔سفر کے آغاز پر ہی سینیٹر جیکی روزن نے کہا کہ اسرائیل میں قیام کے دوران انکا وفد انتہاپسند وزیر دفاع و خزانہ بیزلیل اسموترخ اور وزیر اندرونی سلامتی بن کوئیرسے ملاقات نہیں کریگا۔ قارئین کی دلچسپی کیلئے عرض ہے کہ سینیٹر روزن صاحبہ خود یہودی اور انکا پورا وفد اسرائیل کا پرجوش حامی ہے۔

سیاسی مشکلات سے نکلنے  کیلئے بی بی نے حسب معمول مذہبی کارڈ کھیلنے کا فیصلہ کیا اور تین جنوری کو اتامار بین گوئر دندناتے ہوئے مشرقی بیت المقدس المعروف القدس شریف (Temple mount)چلے گئے۔یہ مسلمانوں کا قبلہ اول اور کعبہ ومدینہ کے بعد امت مسلمہ کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ بیت المقدس پر 1967 میں قبضے کے بعد اسرائیلی حکومت نے اس کے احترام کی تحریری ضمانت القدس شریف اوقاف اور اقوام متحدہ کو تحریری شکل میں جمع کرائی ہے جسکے مطابق، بیت المقدس کا دیوار گریہ والا مغربی حصہ یہودیوں کیلئے مخصوص ہے جبکہ القدس شریف میں غیر مسلموں کا داخلہ صرف مخصوص اوقات میں ہوگا۔غیر مسلم زائرین کی تعداد دودرجن سے کم ہوگی،  یہ افراد محدود وقت تک کمپاونڈ میں رہیں گے اور غیر مسلم زائرین کو کمپاونڈ میں عبادت کی اجازت نہیں ہوگی۔  بن کوئر  زائرین کے لئے مخصوص وقت کے دوران کمپاونڈ میں آئے اور انکے ساتھ آنے والے محافظین بھی غیر مسلح تھے جسکی وجہ سے مسلمانوں نے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا لیکن واپسی میں انھوں نے ایک تکبر آمیز ٹویٹ میں  فرمایا 'ٹیمپل ماؤنٹ یعنی القدس شریف سب کے لئے کھلا ہے اور اگر حماس یہ سمجھتی ہیں کہ وہ دھمکی دیکر مجھے روک دیگی تو انھیں جان لینا چاہیئے کہ وقت بدل چکا ہے'

مسلمانوں کو اشتعال دلانے کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں  بحث کے دوران اسرائیل کے مستقل نمائندے جیلاد آرڈن نے کہا کہ 1967 میں القدس شریف کی اسلامی حیثیت تسلیم کرکے اسوقت کی اسرائیلی قیادت نے غلطی کی ہے۔ انھوں نے کہا  القدس ہمارےلئے Har haBayīt یا مقدس پہاڑی مکان  اور یہودی عقیدے کے مطابق کائنات کا مرکز ہے۔ اسرائیلی سفیر نے کہا کہ ہم القدس شریف کی حیثیت تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں نہ اسکی بے حرمتی چاہتے ہیں کہ یہ ہمارے لئے انتہائی مقدس مقام ہے لیکن یہودیوں کو اسکی زیارت سے روکا نہیں جاسکتا ۔اگرچہ کہ اس حوالے سے سلامتی کونسل نے کوئی قراداد منظور نہیں کی لیکن اپنی تقریروں میں امریکہ سمیت تمام ارکان نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ  القدس شریف کے Status Que کو بحال رکھے۔

اسی کیساتھ فلسطینی آبادیوں کو مسمار کرکے وہاں اسرائیلی بستیاں تعمیر کرنے کا کام تیز کردیا گیا۔ حکمراں لیکڈ پارٹی نے ایک پالیسی بیان جاری کیا جسکے تحت یہوداہ والسامرہ میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر نئی حکومت کی اولین ترجیح ہوگی۔انتہا پسند، دریائے اردن کے مغربی کنارے کو اسرائیل کا اٹوٹ انگ ثابت کرنے کیلئے یہوداوالسامرہ کہتے ہیں جو کئی ہزار سال پہلے حضرت سلیمان کی ریاست کا حصہ تھا۔اردن کے اس علاقے پر اسرائیل نے 1967میں قبضہ کیا تھا۔اقوام متحدہ مغربی کنارےکو مقبوضہ قراردیتی ہے۔ اسے  مذہبی رنگ دیتے ہوئے بی بی نے فرمایا کہ یہ کام روشنیو ں کے تہوار یا Hanukkahکی مبارک ساعتوں میں ہورہا ہے۔ شادمانی و شکرکا یہ تہوار یروشلم کی پہلی عبادت گاہ کو حضرت سلیمان علیہ السلام سے منسوب کرنے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ گویا وہ سلطنت داودوسلیمان کی تعمیر نو کررہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کے غیر جانبدار حلقوں کیساتھ خود اسرائیلی حزب اختلاف اور وکلا تنظیموں کا خیال ہے کہ بی بی حکومت، اپنےغیر جمہوری ہتھکنڈوں سے توجہ ہٹانے کیلئے اسرائیلیوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکارہی ہے۔ وزیراعظم کو مذہبی اتحادیوں کی جانب سے LGBT، اسکولوں میں مذہبی تعلیم ، معبدوں میں مخلوط عبادت کے خاتمے، کثرتِ اولاد کی حوصلہ افزائی، توریت و تلمود کے طلبہ کیلئے لازمی فوجی تربیت سے استثنیٰ جیسے معاملات پر بھی دباو کا سامنا ہے۔ لیکڈ کے سیکیولر عناصر کو ان مطالبات پر گہرے تحٖفظات ہیں، تاہم فلسطین کش اقدامات پر لیکڈ اور مذہبی طبقے کی نیت و عزم بالکل ایک ہے۔

فلسطیینوں کو اشتعال دلانے کیلئے  القدس شریف کی حیثیت ختم کرنے کیلئے بیان بازی میں اضافہ تیز کردیا گیا۔ قدامت پسند ارکانِ کنیسہ نے Status Queختم کرنے کیلئے قانون سازی کی باتیں شروع کردیں۔آبادکاروں کو جدید ترین اسلحے کے لائسنس جاری کرنے کیساتھ ہلاکت خیز آتشیں اسلحہ رعایتی قیمتوں پر پیش کیا گیا جسکی ادائیگی بلاسود قسطوں میں ہوگی۔ ان اقدامات کو انسانی حقوق کی تنظیموں نے فلسطینیوں کے قتل عام کی دعوت قراردیا ہے۔

نئی بستیوں کیلئے مغربی کنارے کے شہر جنین کو منتخب کیا گیا جہاں گھروں کی مسماری کا  آغاز ہوچکا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں کزرتا جب جنین میں معصوم  فلسطینی مارے نہ جاتے ہوں۔ نابلوس اور رام اللہ بھی اسرائیلی فوج کے خاص اہداف ہیں۔ وزیر اندرونی سلامتی بن گوئر نے حال  ہی میں انکشاف کیا کہ غزہ سے آنے والے  'خوفناک دہشت گردوں'  نے بلاطہ پناہ گزیں کیمپ میں اڈے قائم کرلئے ہیں۔ نابلوس کی اس گنجان خیمہ بستی میں ایک چوتھائی مربع کلومیٹر پر 30 ہزار نفوس آباد ہیں۔ دریائے اردن کے مغربی کنارے یہ خیمہ بستی ریاست اسرائیل بننے کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کیلئے 1950 میں 'آباد' کی گئی تھی یعنی دوبرس بعد اس خیمہ بستی کی ڈائمنڈ جوبلی ہوگی۔ موصوف  نے ایسے ہی شک کا اظہار بیت اللحم کے الدھیشہ پناہ گزین کیمپ کے بارے میں  بھی کیا ہے۔ چنانچہ تلاشی کے نام پر تمام پناہ گزیں کمیپوں کو کھنگھالا جارہا ہے۔ اس دوران اسرائیلی فوج کی اوباشی کی مزاحمت پر معصوم بچے بھون دئے جاتے ہیں۔

معلوم نہیں یہ اس قتل عام کا ردعمل تھا یا اسرائیلی فوج کی تزویراتی کاروائی کہ 27 جنوری کو مشرقی بیت المقدس کے  یہودی معبد (Synagogue) کے سامنے ایک  نوجوان کی اندھادھند فائرنگ  سے ایک خاتون سمیت سات افراد ہلاک  اور  دس شدید زخمی ہوگئے ۔ واقعہ جمعہ کی رات سوا آٹھ بجے پیش آیا جب لوگ سبت(ہفتے) کی عبادت کے بعد معبد سے نکل رہے تھے۔ فوج کی فائرنگ سے مبینہ حملہ آور ہلاک ہوگیا جسکی شناخت 21 سالہ ارقم خیری کے نام سے کی گئی ہے۔ دوسرے دن صبح کو البلدة القديمہ (عبرانی محلہ عتیق) میں 13 سالہ نوجوان محمد علیوات نے فائرنگ باپ بیٹے کو زخمی کردیا، جوابی فائرنگ سے علیوات زخمی ہوگیا جو پولیس حراست میں ہے۔ بلدہ القدیمہ المعروف اولڈ سٹی  900مربع میٹر پر مشتمل علاقہ ہے جہاں حرم الشریف، مسجد اقصی، دیوار گریہ اور گنبد صخری واقع ہیں۔ یہ علاقہ یہودی کوارٹرز، مسیحی کوارٹرز، مسلم کوارٹرز اور آرمینیائی کوارٹرز میں تقسیم ہے۔

ان واقعات کو  اسرائیلی ریاست پر حملہ قرار دیتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے قوم کو مشترکہ خطرے سے نبٹنے کیلئے متحد ہوئے کا پیغام دیا۔ انھوں نے حزب اختلاف سے کہا کہ اس نازک موقع پر جلسے جلوس کرکے قوم کو تقسیم نہ کریں۔ شاس رہنماوں کا خیال ہے کہ ہفتہ وار مظاہروں سے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ وزیراندرونی سلامتی نے ان مظاہروں میں فلسطینی پرچموں کی موجودگی کو متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی قرار دیتے ہوئے عوامی مقامات پر فلسطینی پرچم لہرانا جرم قرار دے دیا۔

نفرت اور جنگ کی فضا پیدا کرنے کیلئے سارے فلسطین میں خونریزی کی لہر اٹھادی گئی۔ مغربی کنارے اور  یروشلم میں فلسطینیوں پر فائرنگ کے ساتھ غزہ پر بمباری کاآغاز ہوا بلکہ دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بھی میزائیل برسائے گئے جسکی وجہ سے ائرپورٹ کا ایک حصہ تادم تحریر ناقابل استعمال ہے۔

 سیاسی مخالفین سے نبٹنے کیلئے  جس سفاکی سے فلسطینیوں کو ذبح کیا جارہا ہے اسکی سنگینی کو اقوام عالم کی خاموشی نے دوچند کردیا ہے۔ اب تک 32 فلسطینی، بی بی کی شیطانی ہوسِ اقتدار کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ یہ تو وہ ہیں جنکی لاشیں انکے پیاروں کو مل گئیں۔ درجنوں بلکہ سینکڑوں نوجوان غائب ہیں جنکے بارے میں یہ پتہ نہیں کہ انھیں اسرائیلی فوج نے دفنا دیا یا یہ بیچارے عقوبت کدوں میں بدترین تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اسکے علاوہ درجنوں مجروح ، سہولتوں سے محروم  ہسپتالوں اور شفاخانوں میں ایڑیاں رگڑ رہے ہیں۔ رام اللہ، نابلوس، جنین، غزہ، بیت اللحم، مشرقی بیت المقدس، شیخ جراح اور دوسری فلسطینی محلوں میں ماتم بپا ہے لیکن 'مہذب' دنیا کو تشویش تو دور کی بات پرواہ تک نہیں۔

ہفت روزہ  فرائیڈے اسپیشل کراچی، 3فروری 2023

 ہفت روزہ دعوت دہلی،  3 فروری 2023

روزنامہ امت کراچی 3 فروری 2023

ہفت روزہ رہبر سرینگر 5 فروری 2023

روزنامہ قومی صحافت لکھنو