Thursday, November 16, 2023

سنگباری کے اسباب معقول ہیں

 

سنگباری کے اسباب معقول ہیں

غزہ پر اسرائیلی حملے بلکہ وحشت کے 40 دن مکمل ہوگئے اور CNNکے مطابق اب تک اسرائیلی فوج صرف چند کلومیٹر تک ہی پیشقدمی کرسکی ہے۔ ہم نے  سی این این کا حوالہ اسلئے دیا کہ  صحافیوں کو غزہ جانے کی اجازت نہیں اور سی این این سمیت چند ہی امریکی ٹیلی ویژن اور خبر رساں ایجنسیوں کو 'میدان جنگ' تک رسائی دی گئی ہے اور وہ بھی اس شان سے کہ  ٹینک اور بکتر بند گاڑی میں اسرائیلی فوجیوں کے پہلو  میں فولادی ٹوپی و صدری (واسکٹ) زیب تن کئے یہ حضرات جنگ کی روداد سناتے ہیں۔ امریکی ٹیلی ویژن ABC کے سینئر صحافی این پینل (Ian Pannel)  نے خود کہا کہ اجرا سے پہلے رپورٹ کے مسودہ اور بصری تراشے کی اسرائیلی فوج سے توثیق ضروری ہے۔ غزہ میں جو صحافی موجود تھے ان میں  سے40اسرائیلی بمباری سے ہلاک ہوگئے۔ باقی اب بھی سرگرم ہیں ۔ القدس ٹیلی ویژن کے  نمائندے نے  بتایا کہ ایک حماس کمانڈر نے ہنستے ہوئے ہم سے کہا کہ' جو چاہے لکھو، سناو اور  دکھاؤ ، ہاں اسرائیلی بمباری سے بچنا تمہارا اپنا کام'

وحشت کی اس مہم کا خرچ نوے کرورڑ ڈالر فی ہفتہ ہے۔خرچ اور بے گناہ شہریوں کے قتل پر وزراعظم نتھن یاہو کو کوئی پریشانی نہیں کہ امریکہ بہادر نے اپنے خزانے کے منہہ کھولدئے ہیں جبکہ مغربی میڈیا اپنے ناظرین و قارئین کو یہی باور کرارہا ہے کہ حماس دہشت گرد معصوم شہریوں کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں  جسکی وجہ سے بے گناہ مارے جارہے ہیں۔ یہ بات تسلسل سے کہی جارہی ہے کہ ان دہشت گردوں نے اسپتالوں، مساجد اور اسکولوں میں مورچے لگارکھے ہیں۔ دوسری جانب غزہ میں اندھیرے اور انٹرنیٹ معطل ہوجانے کی بناپر اسرائیلی دعووں کی تردید ناممکن حد تک مشکل ہوگئی ہے

تاہم ہسپتالوں کو مورچے اور اسلحے کے گودام بنانے کی بہت واضح تردید  10 نومبر کی  صبح سامنے آئی جب الشفا ہسپتال سے ناروے کے مشہور ڈاکٹر میڈس گلبرٹ (Dr Mads Gilbert) نے سیٹیلائٹ فون پر امریکہ اور مغربی دنیا کے رینماوں کو اسسوقت براہ راست  خطاب کیا جب توپوں کے گولے ہسپتال کے مرکزی دروازے کو نشانہ بناریے تھے۔ زخمی بچوں کی چیخوں سے قیامت بپا تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے جذباتی انداز میں کہا

'صدر بائیڈن، وزیرخارجہ انٹونی بلینکن، یورپی ممالک کے وزرائے اعظم اور صدور کیا آپ مجھے سن رہے ہیں؟، کیا آپ کو شفا ہسپتال سے یہ چیخیں سنائی دے رہی ہیں؟کیا آپکو اسرائیلی فوج کی گولیوں اور گولوں کی آواز سنائی نہیں دے رہی؟ ۔ہسپتال و شفاخانے عبادت گاہوں کی طرح محترم ہیں۔ اسے آپ کب روکیں گے؟ آپ سب اس (جرم) میں شریک ہیں'

گولیوں کی تڑتڑاہٹ، بموں کے دھماکے اور بچوں کی دہشت زدہ چیخ و پکار کیساتھ ڈاکٹر گلبرٹ کی دوٹوک و بے لاگ گفتگو ساری دنیا نے سنی۔ اسرائیلی ترغیب کار اداروں (lobby) سے مرعوب امریکی و یورپی قائدین کیلئے غزہ قتل عام کی مذمت تو ممکن نہ تھی لیکن ضمیر کی خلش دور کرنے کیلئے  فرانسیسی صدر ایمیونل میکراں، امریکی وزیرخارجہ اور کینیٖڈا کے وزیراعظم ٹروڈو انتہائی محتاط بیانات جاری کردیے ۔ ان بیانات میں بھی شہریوں کے قتل عام کا ذمہ دار حماس کو قراردیا گیا جنھوں نے ہسپتالوں کو اڈا بنارکھا ہے

بدھ 15 نومبر کو اسرائیلی فوج الشفا ہسپتال میں داخل ہوگئیں۔  عین اسوقت صدر بائیٖڈن ایشیا بحرالکاہل اقتصادی تعاون تنظیم APECسربراہ اجلاس میں شرکت کیلئے کیلی فورنیا جارہے تھے۔ صدارتی طیارے میں سوارامریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے انکشاف کیا کہ فلسطینی جنگجو ہسپتال کو فوجی ہیڈکوارٹر بناکر جنگی قوانین کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ دوسری طرف 20 گھنٹے تک اسرائیلی فوجیوں نے نرسوں سمیت طبی حملے کو برہنہ کرکے تلاشی لی۔ مریضوں کو نیچے گراکر بستروں کو کھنگالا ۔ وہاں موجودپناہ لینے والوں کو باہر دھکیل دیا کیام جنھیں نیچی پرواز کرنے والے نشانچی ڈرونوں نے نشانہ بنایا۔  سرنگوں کی تلاش میں ہسپتال کا فرش ادھیڑ دیا گیا۔ لیکن اسلحہ تو کیا ایک پھل تراش تک نہ ملا۔ لگتا ہے کہ دہشت گردوں نے Stealthاسلحہ یہاں ذخیرہ کیاہے جو کسی کونطر نہیں آیا؟

اسی کیساتھ عوامی سطح پر کچھ ردعمل سامنے آنا شروع ہوگیا ہے۔گزشتہ ہفتے امریکی ریاست واشنگٹن کی ٹکوما (Tacoma)بندرگاہ کے سامنے غزہ قتل عام کے خلاف مظاہرہ  ہوا۔ مظاہرین نے “اسرائیل کی مدد بندکرو”، “اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی نامنظور” کے نعرے لگاتے ہوئے بندرگاہ کی عسکری گودی کا علامتی گھیراو کیا۔ لوگوں کا خیال ہے کہ اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی کیلئے ٹکوما بندرگاہ استعمال ہوتی ہے۔

گزشتہ جمعہ سان ڈیگو (San Diego)، کیلی فورنیا میں B21بمبار بنانے والے ادارے Northrop Grummanکے صدر دروازے پر خون کے علامتی نشان بناکر  اسکے بورڈ پر 'بچوں کا قاتل' لکھدیا گیا۔ اسی طرح برطانیہ میں اسلحہ ساز ادارے BAE Systemsکے باہر مظاہرین نے دھرنادیا

ہسپانیہ کی وزیر سماجی حقوق محترمہ این بیلارہ(Ione Bellara)  کا لہجہ بہت سخت تھا۔ الجزیرہ ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا 'غزہ میں فلسطینیوں کی منصوبے کے تحت نسل کشی کی جارہی ہے، اسرائیل پر پابندیاں عائد کی جائیں، یوکرین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت لیکن اسرائیلی بمباری پر "گہری خاموشی" کو دہرے معیار کے علاوہ اور کیا کہا جائے؟ہم دوسرے تنازعات پر انسانی حقوق کا درس دیتے ہیں اور یہاں لب سلے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر گلبرٹ کا نام لئے بغیر انھوں نے کہا'مرنے والے بچوں کی مائیں چیخ رہی ہیں لیکن ہمیں کچھ سنائی نہیں دے رہا'یورپی کمیشن منافقت کا جو مظاہرہ کر رہا ہے وہ ناقابل قبول ہے۔ ٓ

قوت قاہرہ کے وحشیانہ استعمال اور معصوم فلسطینیوں کی نسل کشی کے باوجود عسکری محاذ پر ہزیمتوں کیساتھ عوامی  بےچینی سے وزیراعظم نیتھن یاہو، المعروف بی بی جھلائے نظر آرہے ہیں۔ اسرائیل کے سابق وزیراعظم   یہود المرٹ (Ehud Olmert) کا خیال ہےکہ بی بی کے اوسان خطا ہوگئے ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے POLITICOسے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے nervous breakdownکا لفظ استعمال کیا۔ سابق اسرائیلی وزیراعظم نے کہا بات چیت اور دوریاستی حل کے بجائے غزہ پر حملہ بی بی کی بدحواسی کا شاخسانہ ہے۔ دوسری طرف یرغمالیوں کے لواحقین کا پیمانہ صبر لبریز ہورہاہے۔ تل ابیب میں فوجی ہیڈ کوارٹر پر خیمہ زن یہ لوگ اپنے پیاروں کی جلدازجلد واپسی چاہتے ہیں، ہروقت انھیں یہ دھڑکہ بھی لگاہے کہ  فلسطینی شہریوں کی طرح کہیں یرغمالی  بھی اسرئیلی بمباری کا نشانہ نہ بن جائیں۔

اخراجات کے ساتھ صحافتی محاذ پر بھی اسرائیل کو کوئی پریشانی نہیں کہ مغرب کا میڈیا انکا نظریاتی حلیف بلکہ شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ہے، غزہ  سے خبر کی اشاعت مشکل ہے چنانچہ دنیا وہی دیکھ رہی ہے جو بی بی دکھانا چاہتے ہیں لیکن  سخت  سینسر کے باوجود وقتاً فوقتاً کچھ حساس بصری تراشے 'لیک' ہوہی جاتے ہیں اورغزہ میں موجود کچھ صحافی اپنے سیٹیلائٹ فون سے اسرائیل کیلئے 'ناخوشگوار' خبریں جاری کردیتے ہیں۔

بدھ 8 نومبر کو  اسرائیل کی صحافتی تنظیم Honest Reportersنے  ایک رپورٹ شایع کی جس میں  انکشاف کیا گیا کہ 7 اکتوبر کو حماس کے انتہائی خفیہ اور اچانک حملے کی تصاویر ذرایع ابلاغ کے امریکی اداروں،  ایسوسی ایٹیڈ پریس (AP)، رائٹرز، نیویارک ٹائمز اور سی این این نے بھی جاری کیں۔ رپورٹ میں سوال کیا گیا کہ اتنے خفیہ حملے کی کہ جس سے امریکی سی آئی اے اور موساد بھی بے خبر تھی ان اداروں کے کیسے بھنک مل گئی کہ انکے رپورٹر وہاں پہنچ گئے۔

آنیسٹ رپورٹرز کا کہنا ہےکہ حماس جنگجووں کے ساتھ رپوررٹنگ کیلئے حسن اصلیح، یوسف مسعود، علی محمود اور حاتم علی بھی گئے تھے۔ حسن اصلیح  نے  سی این این اور یوسف مسعود نے نیویارک ٹائمز کو تصاویر فراہم کیں جبکہ محمد فائق ابو مصطفےٰ اور یاسر قودیع کی تصاویر رائٹرز نے شائع کیں۔ آنیسٹ رپورٹر کا کہنا ہے کہ طوفان اقصیٰ کیساتھ جانیوالے یہ کیمرا بردار صحافی نہیں بلکہ دہشت گرد جنگجو تھے۔

رپورٹ کی اشاعت کے دوسرے روز اسرائیلی حکومت نے ابلاغ عامہ کے ان چاروں اداروں سے وضاحت طلب کرتے ہوئے شک ظاہر کیا کہ انھیں اس حملے کی پیشگی خبر تھی اور اگر یہ بات درست ثابت ہوئی تو اسرائیل انھیں اس دہشت گردوں کا سہولت کار قراردینے میں حق بجانب ہوگا۔  اسرائیلی وزیراعظم کےدفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمارے لئے بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ کام کرنے والے صحافیوں کا  وحشیانہ قتل عام کی کوریج کے لیے [حملہ آوروں کے ساتھ] شامل ہونے کا رجحان انتہائی سنگین معاملہ ہے جسکی ان اداروں کو وضاحت کرنی ہوگی۔اپنے ایک ٹویٹ میں اسرائیلی وزیراعظم نے  کہا یہ صحافی انسانیت کے خلاف جرائم میں شریک اور اداروں کے یہ اقدامات پیشہ ورانہ اخلاقیات کے منافی تھے۔

اسرائیلی قائد حزب اختلاف یار لیپڈ  (Yair Lapid)بھی اس انکشاف پر سخت مشتعل ہیں۔ ٹویٹر پر انھوں نے پیغام نصب کیا کہ 'جیسے بین الاقوامی میڈیا ہم سے جواب طلب کرتا ہے،اسی طرح  اب ہم ان سے جواب کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ  وہ صحافی کون ہیں؟کیا وہ اس حملے میں ملوث تھے؟ ،کیا انہیں حملے کے بارے میں پہلے سے معلوم تھا؟  اور کیا (ان دہشت گردوں)  آپ  برطرف کر رہے ہیں؟

ان الزاامات کا جواب دیتے ہوئے ایسوسی ایٹیڈ پریس نے کہا کہ ان حملوں کی ہمیں پیشگی اطلاع نہیں تھی۔  ہمارے نمائندوں کا جائے وقوعہ پر سرعت سے پہنچنا اور خبروں کا بروقت اجرا  پیشہ وارانہ استعداد کا اظہار ہے۔ نیویارک ٹائمز نے یوسف مسعود کا دفاع کرتے ہوئے اپنے فری لانس فوٹوگرافر کے خلاف الزامات کو "غلط اور توہین آمیز" قرار دیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ دیانت دارانہ  رپورٹنگ پر غلط الزام لگاکر بی بی سرکار، اسرائیل اور غزہ میں ہمارے صحافیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔رائٹرز نے بھی اپنے صحافیوں کے  حماس سے تعلق اور حملے کی پیشگی معلومات کی سختی تردیدکی۔سی این این انتظامیہ نے دباو میں آکر حملے کی فلمبندی کرنے والے  فری لانس فوٹوگرافر کے ساتھ تعلقات منقطع کرلئے لیکن بہت صراحت سے کہا کہ  مذکورہ فوٹو گرافر  کے کام کی  صحافتی درستگی اور دیانت پر شک کرنے کی کوئی وجہ ہمارے سامنے نہیں آئی۔

ان وضاحتوں سے بی بی انتظامیہ مطمین نظر نہیں آتی۔ حکمراں لیکڈ پارٹی کے سینئر رہنما اور ابلاغ عامہ کیلئے وزیراعظم کے غیر سرکاری مشیر  Danny Danon نے ان صحافیوں کو قتل کی دھمکی دیتے ہوئے ٹویٹر پر پیغام داغا  "اسرائیل کی داخلی سلامتی ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ وہ 7 اکتوبر کے قتل عام کے تمام شرکاء کو ختم کر دیں گے۔ حملے کی ریکارڈنگ میں حصہ لینے والے ' صحافیوں' کو بھی اس فہرست میں شامل کیا جائے گا۔

حضرت اعجاز رحمانی نے کیا خوب فرمایاتھا

دوستو! میرے ہاتھں میں ہے آئینہ ۔۔ سنگباری کے اسباب معقول ہیں

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 17 نومبر 2023

ہفت روزہ دعوت دہلی 17 نومبر 2023

روزنامہ امت کراچی 17 نومبر 2023

ہفت روزہ رہبر سرینگر 19 نومبر 2023

روزنامہ قومی صحافت لکھنو




Thursday, November 9, 2023

بچوں کا خون اور مغرب کا سرمایہ

 

بچوں کا خون اور مغرب کا سرمایہ

غزہ پر اسرائیل کی فوج کشی کو 30 دن ہوگئے لیکن نہ تو دستِ قاتل میں تھکن کے آثار ہیں نہ ہی فاقہ زدہ خستہ و بدن دریدہ لشکر کی جانب سے سینہ و سر کی فراہمی میں کمی کا کوئی اشارہ۔ یو ں کہئے کہ ساری دنیا کا جدید ترین اسلحہ نہتے اہل غزہ کو سرنگوں کرنے میں اب تک ناکام  ہے۔ کندھے پر دھرےر اکٹ لانچر سے ایک ناقابل تسخیر مارکوا (Merkava) ٹینک کے پرخچے اڑتا دیکھ کراَللّٰہُ اَکْبَرُ وَ لِلّٰہِ الْحَمْدُ  کا ورد کرتے ہوئے غزہ کے ایک سپاہی نے کہا کہ ہم طالوت کا لشکر ، ہمارے راکٹ نیزہ داودؑ ، خندق و شعب ابی طالب ہماری درسگاہ اور بانیِ رسمِ جہاد (ص) ہمارے رہبرورہنما ہیں۔

غزہ میں بچوں کا خون اور مغرب کا سرمایہ پانی کی طرح بہہ رہا ہے۔ ممتاز عسکری تجزیہ نگار زوران کوسوویک (Zoran Kusovac) کا خیال ہے کہ 3 نومبر تک اسرائیل نے امریکی ساختہ F16 اور ٖ F15طیارو ں کی 16000پروازوں سے 12000 مقامات پر 18000ٹن بارود غزہ پر برسایا۔ اس دوران رہائشی عمارات، بیمارستان، ہسپتالوں کے آکسیجن پلانٹ، پناہ گزینوں کی خیمہ بستیاں، اسکول، تندور ، آبنوشی کے ذخائر و وسائل،ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور، برقی و شمسی توانائی کی  تنصیبات اور مساجد و مدارس کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں 4000 پھولوں سمیت 9000 ہزار افراد قتل ہوئے۔ فاضل تجزیہ نگار کا خیال ہے کہ بمباری کی اس مہم کا خرچہ 2 ارب ڈالر سے زیادہ ہے یعنی ٓ اسرائیل کو ہرفلسطینی لاش 2 لاکھ 22 ہزار ٖڈالر کی پڑی۔عالمی ادارے Save the Childrenنے غزہ کو نونہالوں  کا مذبح قراردیا ہے جہاں ہر دس منٹ پر ایک بچہ ماراجارہاہے۔ اس رفتار سے تو شائد فرعون نے بھی اسرائیلی بچوں کو قتل نہیں کیا۔ اللہ کا وہ دشمن صرف لڑکوں کو ذبح کرتا تھا جبکہ اسرائیلی اس معاملے میں کسی تفریق کے قائل نہیں۔کیا گول مٹول گڈا اور کیا ننھی گڑیا سارے مہہ پارے پارہ پارہ ہیں۔

اسرائیلی قیادت کو مالی نقصان کی کوئی فکر نہیں کہ جنگی اخراجات کی ایک ایک پائی امریکہ اور اسکے یورپی اتحادی ادا کررہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے امریکی ایوان نمائندگان (قومی اسمبلی) نے اسرائیل کیلئے 14 ارب تیس کروڑ ڈالر فوری امداد کا ریپبلکن بل 196 کے مقابلے میں 226 ووٹوں سے منظورکرلیا۔ ایک درجن ڈیموکریٹک ارکان نے جماعتی ہدائت نظرانداز کرتے ہوئے قرارداد کے حق میں ووٹ دئے۔ امریکہ دنیا کا امیر ترین ملک ہے لہذا یہ سوال غیر ضروری ہے کہ یہ خطیر رقم کہاں سے آئیگی لیکن اگر ہمارے قارئیں کے ذہنوں میں یہ سوال آہی گیا ہے تو اسکا جواب بھی سن لیجئے۔

گزشتہ برس افراطِ زر کے مارے غریب امریکیوں کی اعانت کیلئے Inflation Reduction Actیا IRAمنظور کیا گیا تھا۔ یہ عملاً 738 ارب ڈالر حجم کا ضمنی بجٹ تھا۔ رقم کے حصول کیلئے ٹیکس اصلاحات کے علاوہ کارپوریشنوں کو کم سے کم 15 فیصڈ ٹیکس ادا کرنے کا پابند بنایا گیا۔ اصلاحی اقدامات سے حاصل ہونے والی رقم اگلے دس برسوں تک ریٹائرڈ امریکیوں کو رعائتی قیمتوں پر دواوں کی فراہمی ، اسکولوں میں مستحق بچوں کے کھانے، کاربن سے پاک ماحول دوست ایندھن اور رفاہ عامہ کی دوسری مدات میں خرچ ہونی ہے۔کانگریس کے نئے اسپیکر مائیک جانسن نے بہت فخر سے کہا اسرائیل کو جو رقم دی جائیگی اسکے لئے نہ نئے ٹیکس لگیں گے اور نہ نوٹ چھاپنے کی ضرورت ہوگی بلکہ IRA فنڈ استعمال کیا جائیگا۔ یعنی ضعیفوں کی صحت داو پر لگا کر اور سیاہ فام امریکی بچوں کو بھوکا رکھ کر غزہ کے بھوکوں کو موت کے گھاٹ اتارا جائیگا۔

غزہ میں ہرروز  ظلم و بربریت کا نیا باب رقم ہورہا ہے۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی بمباروں نے مخیم جبالیہ یا جبالیاخیمہ بستی پر سفید فاسفورس میں لپٹے تباہ کن بم برسائے۔ یہاں 1.4مربع کلومیٹر رقبے پر پچاس ہزار نفوس نے پناہ لے رکھی تھی  یعنی 35ہزارافراد فی مربع کلومیٹر۔ چنانچہ یہ اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں کہ اس آتشیں  بارش سے خیمہ مکینوں پر کیا گزری ہوگی۔ لیکن ظالموں کا دل اس پر بھی ٹھنڈا نہ ہوا تو دوسرے روز اِن جلے اور اُجڑے خیمو ں پر دوبارہ آگ برسادی گئی، ساتھ ہی ایمبیولینسوں کے اس قافلے کو بھی نشانہ بنائیاگیا جو زخمیوں کے لے کر اسپتال جارہاتھا۔  اسرائیلی وزیردفاع نے ڈھٹائی سے کہا کہ جبالیہ حماس کا عسکری مرکز تھا۔ اس ظلم پر  لیبر پارٹی برطانیہ کے سابق سربراہ جریمی کوربن تڑپ  اٹھے اور  بولے' غزہ کی تباہی پر خاموش تماشائی بنے صدر بائیڈن کو شرم آنی چاہئے'۔ کوربن صاحب بھولے ہیں یا انھوں نے سیاسی تجاہل عارفانہ سے کام لیا کہ جناب بائیڈن تماشائی نہیں خون کی اس ہولی میں برابر کے شریک ہیں۔ جنگی طیارے، بحری جہاز، بم، میزائیل اور توپ کے گولے امریکی ساختہ اور امریکہ کے فراہم کردہ ہیں۔ باقی رہی شرم تو وہ آنی جانی چیز ہے، آدمی  کو بس ڈھیٹ ہونا چاہئے۔

جہاں امریکہ اور اسکے یورپی اتحادی بلاتکان و شرمندگی اسرائیل کی پیٹھ ٹھونک رہے ہیں وہیں  لاطینی امریکہ سے انسا نی ضمیر پر دستک کا آغاز ہوگیا۔ چلی اور کولمبیا نے اسرائیل سے اپنا سفارتی عملہ واپس بلالیا ہے۔ چلی کے صدر جبرائیل  بورس Gabriel Boric نے ایک بیان میں کیا کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزیاں ناقابل قبول ہیں۔ کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے اپنا سفیر واپس بلانے کا اعلان کرتے ہوئے X(ٹویٹر) پر کہا اگر اسرائیل نے فلسطینیوں کا قتل عام بند نہ کیا تو ہمارا سفیر واپس نہیں جائیگا۔ بولیویا نے سفیر واپس بلانے کے تکلف میں پڑے بغیر اسرائیل سے سفارتی تعلقات ہی منقطع کرلئے۔  وزیرِ صدارتی امور محترمہ ماریا نیلا پرادا نے عجلت میں بلائی اخباری کانفرنس میں کہا 'ہم غزہ کی پٹی پر حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں، جو ہزاروں شہریوں کے قتل کے علاوہ فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کا سبب بن رہا ہے۔بولیویا کے عوام اس ظلم عظیم پر خاموس نہیں رہ سکتے۔

برازیل میں ری ڈی جنیرو (Rio de Janeiro)کے پرتعیش  Copacabana ساحل پر غزہ قتل عام کی یاد میں  120 علامتی کفن پوش لاشے رکھدئے گئے جس میں سے بعض پر خون ظاہر کرنے کیلئے سرخ دھبے ثبت ہیں۔ چینی کمپنیوں Baiduاور علی بابا نے اپنے آن لائن نقشوں سےاسرائیل کا نام حذف کردیا

اردن اور ترکیہ نے بھی اسرائیل سے اپنے سفیر وابلالیئے ہیں جبکہ صدرایردوان کے  مبینہ  'یہود دشمن '(Anti Semitic) روئے پر اسرائیل،  انقرہ سے اپنا سفارتی عملہ پہلے ہی واپس بلاچکاہے۔ بحرین کی قومی اسمبلی نے اسرائیل سے سفیر واپس بلانے کی قرارداد منظور کرلی ہے لیکن اب تک بادشاہ سلامت نے فیصلے کی توثیق نہیں فرمائی۔

اسی کے ساتھ امریکہ میں اسلام مخالف رجحان یعنی اسلاموفوبیا کے کچھ نئے مظاہر سامنے آئے ہیں۔ شکاگو میں ایک چھ سالہ فلسطینی بچے کے قتل کا ذکر اہم گزشتہ نشست میں کرچکے ہیں جسے چھری کے 26 کچوکے لگاکر موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ گزشتہ ہفتے ہیوسٹن کے مضافاتی علاقے کانروConroeمیں چھری کے وار سے 52 سالہ پاکستانی ماہراطفال ڈاکٹر طلعت جہاں خان ڈیڑھ بجے دوپہر بچوں کے سامنے اپنے اپارٹمنٹ کے باہر قتل کردی گئیں۔ یہ ڈکیتی چوری یا پرس و موبائیل چھینننے کے واردات تھی اور نہ کمیونٹی میں بے حد مقبول ڈاکٹر صاحبہ کی کسی سے کوئی دشمنی تھی۔ تاہم پولیس اس لرزہ خیز واردات کواسلاموفوبیا یا hate crimeماننے کو تیار نہیں۔ قتل کے الزام میں 24سالہ سفید فام مائلز جوزف فریڈرک کوگرفتار کیا گیا ہے جسے اس واردات سے پہلے علاقے میں نہیں دیکھا گیا۔

اسی ہفتے ریاست انڈیانا (Indiana)میں ایک  ہندوستانی طالب علم پوچا ورون راج (Putcha Varun Raj)کو چھراماردیا گیا۔تلنگانہ سے تعلق رکھنے والا 29  سالہ  والا راج  جامعہ ولپریزو (Valparaiso) سے کمپیوٹر سائینس میں MSکررہا ہے۔ اتوار 29 اکتوبر کو صبح سویرے جب راج معمول کی ورزش کے بعد کسرت کدے (Planet Fitness Gym) سے نکلا تو اسے ایک 24 سالہ سفید فام جورڈن انڈریڈ نے بلا اشتعال سر میں چھرا گھونپ دیا۔ اس بہیمانہ کاروائی کے بعد جورڈن وہیں کھڑا رہا اور پولیس کو بتایا کہ میں اُسے یعنی راج کونہیں جانتا تھا لیکن یہ مجھے little weird (تھوڑا سا عجیب) لگا، اسلئے اسے چھرا گھونپ دیا۔نفرت و  خوف کی اس نفسیاتی کیفیت کو Xenophobiaکہتے ہیں۔ یہ واردات بھی غزہ حملے کے بعد امڈ آنے والی اسلاموفوبیا لہر کا شاخسانہ ہے۔ داڑھی کی وجہ سے جورڈن نے راج کو مسلمان سمجھ لیا۔

اسوقت ساری دنیا کی توجہ غزہ پر ہے لیکن موقع سے فائدہ اٹھاکر اسرائیلی حکومت نے غربِ اردن میں  معاشرتی و سیاسی تطہیر بلکہ نسل کشی کا کام تیز کردیا ہے۔ سات اکتوبر سے ا ب تک نابلوس، جنین، قلقیلیہ، رام اللہ، تلکرم، اریحا (Jericho)  بیت اللحم،  مشرقی بیت المقدس ,الخلیل (Hebron)اور غربِ اردن کے مختلف علاقوں سے 1800 فلسطینی نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔ فوج کی فائرنگ، ڈرون حملوں اور بمباری سے غرب اردن کے مختلف علاقوں میں 130 فلسطینی نوجوان جاں بحق ہوچکے ہیں۔

غرب اردن کے باشندوں کی زندگی مزید اجیرن بنانے کیلئے  حکمران اتحاد نے دینِ صیہون جماعت(Religious Zionist Party) کے زی سکّت (Zvi Sukkot)کو پارلیمان کی غربِ اردن کمیٹی کا سربراہ  نامزد کردیاہے۔33 سالہ سکّت اس سے پہلے انتہا پسند جماعت  عظمتِ یہود (Utzma Yehudit) کے ایکزیکٹیو ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔ سکّت صاحب دہشت گردی کے الزام میں تین بار گرفتار ہوئے اور مشکوک و مجرمانہ پس منظر کی بناپر انھیں لازمی فوجی تربیت سے استثنیٰ دیدیا گیاتھا۔ 2010 میں غرب اردن کی ایک مسجد نذرِ آتش کرنے کے الزام پر اسرائیلی خفیہ ادارے Shin bet المعروف شاباک کی تحقیق کے بعد سکّت کے خلاف پرچہ کاٹا گیا۔شاباک نے ان کے اسلحے کا لائسینس منسوخ کرنے اور نقل وحرکت پر نظر رکھنے کی سفارش کی تھی۔ایک اور شر انگیزی کہ اعلامئے میں غربِ اردن کمیٹی کے بجائے اسے مجلس قائمہ برائے یہوداوالسامرہ (Judea & Samaria) کہا گیا ہے جو سلطنت داودؑ کا حصہ تھا۔1967 میں ہتھیائے گئے اس علاقے کو اقوام متحدہ اور امریکہ و برطانیہ سمیت ساری دنیا West Bankکہتی ہے لیکن نیتھن یاہو کی حکومت نے مقبوضہ علاقے کو سلطنت داودؑ کا اٹوٹ انگ ثابت کرنے کیلئے اسے یہوداوالسامرہ کہنا شروع کردیا ہے۔

بائیٖڈن انتظامیہ اورذرایع ابلاغ کی غیر مشروط پشتیبانی کے باوجود اب امریکہ کے سلیم الفطرت لوگوں نے بھی ظلم پر آواز بلند کرنی شروع کردی ہے۔ یکم نومبر کو جب امریکی سینیٹ میں وزیرخارجہ ٹونی بلینکن غزہ کے معاملے پر حکومتی موقف پیش کرنے آئے تو وہاں موجود عام لوگوں نے “غزہ جنگ بند کرو”، “ہمارا ٹیکس بچوں کا خون بہانے کیلئے نہیں ہے” اور”اسرائیل کی مدد بند کرو'”کے نعرے لگائے۔ خواتین نے  انھیں نعروں پر مشتمل پلے کارڈ بھی اٹھائے ہوئے تھے۔ وہاں بیٹھے لوگوں نے اپنے ہاتھ اوپر اٹھائے جنھوں نے خون کی علامت  کے طور پرپر اپنی ہتھیلیاں سرخ رنگی ہوئی تھیں۔ سیکیورٹی گارڈ نے مظاہرین کو باہر نکال دیا۔

اسی اخلاقی دباو کا نتیجہ ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان نے فلسطینی نژاد رکن محترمہ رشیدہ طلیب کے خلاف ملامتی (Censure) قرارداد186 کے مقابلے میں 222 ووٹوں سے مسترد کردی۔ رائے شماری کے دوران ریپبلکن پارٹی کے 23 ارکان نے جماعتی موقف کو مسترد کرتے ہوئے رشیدہ کے حق میں ووٹ دیا۔ تجویز کنددہ محترمہ مارجری ٹیلر گرین نے رشیدہ طلیب کے یہود دشمن (anti-Semitic) روئے، دہشت گردوں سے ہمدری اور (فلسطین نواز مظاہرے) کی آڑ میں امریکی دارالحکومت کو بغاوت سے ہمکنار کرنے کی کوششوں کو اس تحریک کی بنیاد بنایا تھا۔

امریکی ایوان نمائندگان کے بارے میں ہماری خوش گمانی صرف ایک ہفتے بعد ہی خاک میں مل گئی جب سوشل میڈیا پر شایع ہونے والے رشیدہ کے جملے' نحر  تا بحر ۔ فلسطین ' یعنی یعنی دریائے اردن سے بحر روم تک فلسطین سے ارکانِ کانگریس ایسا مشتعل ہوئے  کہ 7 نومبر کو  ان کے خلاف دوسری ملامتی قرارداد188 کے مقابلے میں 234ووٹوں سے منظور کر  لی گئی اور 22ڈیموکریٹک ارکان نے اپنی ہم جماعت کے خلاف ووٹ دیا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے اس جملے کا مطلب اسرائیل کی تحلیل ہے۔ اس دہرے معیار کو کیا کہا جائے کہ آزادی اظہار رائے اتنی محترم کہ قرآن جلانے اور خاکے اڑانے کی اجازت تو دوسری طرف  منتخب نمائندے کو سیاسی نعرہ لگانے پر مذمت کا سامنا۔

قتل و خونریزی اور نہتوں کے قتل پر شیخی بگھارنے والے نیتھن یاہو کو ملکی محاذ پر بھی مشکلات کاسامنا شروع ہوگیا ہے۔ چار نومبر کو غزہ میں قید افراد کے لواحقین تل ابیب میں اسرائیلی فوج کے GHQپر خیمہ زن ہوگئے انکا کہنا ہے کہ اپنے پیاروں کی واپسی سے پہلے وہ یہاں سے نہیں اٹھیں گے۔ جب وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی Gal Hirschان لوگوں سے بات کرنے تو لواحقین نے  انھیں بھگادیا۔یرغمالیوں کو چھڑانے میں ناکامی پرغزہ سے متصل جنوبی اسرائیل کے رئیس شہر (Mayor) تامر عیدن وزیراعظم کی لیکڈ پارٹی سے مستعفی ہوگئے۔ اسرائیلی ٹیلی ویژن کو انٹرویو میں انھوں نے کہا 7 اکتوبر کی ناکامی لیکڈ اور وزیراعظم کی غفلت کا نتیجہ ہے جسکی  ذمہ داری  بی بی کو قبول کرنی چاہئے۔

خوفناک بمباری کے باوجود بی بی اور انکے جنگجو وزیردفاع مطلوبہ عسکری ہدف حاصل کرنے میں اب تک ناکام رہے ہیں۔ لیکن امریکہ و مغرب کی غیر مشروط حمائت و اعانت میں کوئی کمی  نہیں آئی بلکہ اب امریکہ کے ڈرون بھی بے گناہوں کے ٹھکانے تلاش کرنے میں اسرائیلی فضائیہ کی مدد کررہے ہیں۔ غزہ سےا رابطہ منقطع ہونے کی بنا پر دنیا کی رسائی صرف اسرائیلی فوج کے اعلامیوں تک ہے ۔تاہم غزہ سے آنے والے تابوت اور زخمیوں کو چھپانا حکومت کیلئے مشکل ہوتا جارہا ہے۔

 دلدل میں پھنس جانے کی صورت میں اسرائیلی جنگجو بہت ہی غیر معمولی قدم اٹھاسکتے ہیں۔ اتوار 5 نومبر کی صبح عبرانی ریڈیو کول برما (Kol Brama) پر ایک انٹرویو میں اسرائیلی وزیر ورثہ امیچائی ایلیاہو (Amichai Eliyahu) نے کہا '(ہمارے پاس) ایک آپشن غزہ کی پٹی پر ایٹم بم گرانا بھی ہے'ـ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پوری غزہ پٹی پر ایٹم بم گرایا جانا چاہیے تو بولےغزہ میں نہتے شہری جیسی کوئی چیز نہیں۔ میزبان نے جب فاضل وزیرباتدبیر کو یادلایا کہ غزہ میں 240 اسرائیلی قیدی  بھی ہیں، انکا کیا ہوگا تو موصوف نے کہا "میں ان کی واپسی کے لئے دعا کرتا ہوں اور اچھی امید رکھتا ہوں، لیکن جنگ کی قیمت بھی ہے۔جناب ایلیا ہو کا تعلق عظمت یہود پارٹی سے ہے جبکہ کول براما ریڈیو، مذہبی جماعت Shasپارٹی کا ترجمان سمجھا جاتا ہے۔ شدید تنقید کے بعد بیان واپس لیتے ہوئے جناب ایلیاہو نے فرمایا 'دماغ رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ ایٹم بم کے بارے میں میرا تبصرہ علامتی تھا۔'

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 10 نومبر 2023

ہفت روزہ دعوت دہلی 10 نومبر 2023

روزنامہ امت کراچی 10 نومبر 2023

ہفت روزہ رہبر سرینگر 12 نومبر 2023

روزنامہ قومی صحافت لکھنو


Thursday, November 2, 2023

غزہ!! لرزتا دہکتا آگ کا گولا۔۔ فلسطینی 'نکبہ' دوم کا حصہ بننے کو تیار نہیں ۔۔۔ ہم اسی گلی کی ہیں خاک سے یہیں خاک اپنی ملائینگے

 

غزہ!! لرزتا دہکتا آگ کا گولا

فلسطینی 'نکبہ' دوم کا حصہ بننے کو تیار نہیں

ہم اسی گلی کی ہیں خاک سے یہیں خاک اپنی ملائینگے

جمعہ 27 اکتوبر کی شام سے اسرائیل نے غزہ پر خوفناک بری حملے کا آغاز کردیا۔ اس سے پہلے بدھ اور جمعرات کو داخلے کی محدود  کاروائی کی گئی جسے اہل غزہ نے پسپا کردیا۔ اس شب خون میں اسرائیل کے کئی ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تباہ ہوئیں اور ایک فوجی مارا گیا۔ بری حملے سے پہلے یہودی علما نے ہنگامی صورتحال کا حیلہ اختیار کرتے ہوئے سبت کی پابندیا معطل کردیں۔

حملے کا آغاز غزہ کی پوری پٹی پر فاسفورس بموں  کی بارش سے ہوا۔ سفید فاسفورس سے پھوٹنے والی چنگاریوں کی حدت 800 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب ہوتی ہے چنانچہ چند ہی گھنٹوں میں سارا غزہ دہک اٹھا۔ اقوام متحدہ نے سفید فاسفورس کو ممنوعہ ہتھیاروں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ تاہم امریکہ نے اسے افغانستان میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا

اسی کیساتھ بمباروں اور ڈرونوں نے پٹی کے ایک ایک انچ کو نشانے پر رکھ لیا۔ تینوں جانب سے توپخانے اور ٹینکوں نے مہلک ترین گولے برسائے اور بحر روم سے اسرائیلی بحریہ نے خشکی پر مار کرنے والے  میزائیل داغے۔ یہ کاروائی تادم تحریر (30 اکتوبر) جاری ہے۔ غزہ کی سرحد پر کھڑے فاکس نیوز کے ایک صحافی نے کہا  'ایسا لگ رہا ہے کہ گویا سارا غزہ شعلوں اور زمین زلزلے کی لپیٹ میں ہے'۔ غزہ میں پھٹنے والے بم و میزائیل اور بارودی گولوں  کے دھماکوں سے  شام، صحرائے سینائی اور لبنان  کے بڑے علاقے گونج رہے ہیں لیکن مسلم اکثریتی ممالک سمیت 'مہذب' دنیا کے کانوں میں خوف و مفادات کا سیسہ اسقدر گہرائی تک اترچکا ہے کہ انھیں کچھ سنائی نہیں  دے رہا بلکہ امریکی شعبہ قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے اسرائیل کی بری مہم کیلئے مکمل تعاون کا عزم اور کامیابی کیلئے نیک تمناوں کا اظہار کیا۔ اس سے پہلے واشنگٹن میں آسٹریلوی وزیراعظم کے ہمراہ صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے کہا 'غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں مجھے یقین نہیں ہے کہ فلسطینی سچ بول رہے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ (غزہ میں) بے گناہ مارے گئے ہیں اور یہ جنگ چھیڑنے کی قیمت ہے'

بری حملے کا اعلان اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتھن یاہو  المعروف بی بی نے کیا۔ قومی یکجہتی کیلئے انکی اخباری کانفرنس میں حزب اختلاف کے رہنما اور اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ بینی گینٹز (Benny Gantz)بھی موجود تھے۔اس موقع پر وزیردفاع یاوو گیلینٹ (Yoav Gallant) نے تکبر سے چور لہجے میں کہا 'ہم نے سرزمینِ غزہ پر لرزہ طاری کردیا ہے۔ صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے بی بی نے کہا کہ ہم حماس کیخلاف نہیں بلکہ وحشت و بربریت کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں جس سے جدید تہذیب کو سخت خطرہ لاحق ہے۔ انھوں نے حماس کے خلاف جنگ کو  'جنگ آزادی' سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ بری جنگ طویل، تکلیف دہ اور مشکل ہوسکتی ہے۔ یہ جنگ ہم یقیناً جیتں گے لیکن  قوم کو قربانی کیلئے تیار رہنا چاہئے۔

بری حملے کے  48گھنٹے مکمل ہونے پر معروف عسکری تجزیہ نگار زوران کوسووچ (Zoran Kosovac)  نے کہا Israel’s ground attacks yield lots of bang, little success یعنی 'اسرائیلی زمینی حملہ: دھماکہ زوردار لیکن کامیابی کا نام و نشان نہیں'  حوالہ: الجزیرہ

حملوں کے آغاز ہی سے جو حکمت عملی اختیار کی گئی ہے اسے اگر بی بی کے اعلان کردہ 'جنگ آزادی' کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ  فلسطین کے مکمل خاتمے کا منصوبہ نظر آرہا ہے۔ 1948 میں اسرائیلی  ریاست کے قیام کے بعد سے فلسطین، اقوام متحدہ کی قرادادوں اور پناہ گزیں کیمپوں تک محدود ہے لیکن  اسرائیلی قیادت اس  رسمی اور نامی حیثیت کو بھی ختم کردینے پرتُلی نظر آرہی ہے۔

7اکتوبر کو فضائی حملے کے آغاز پر شہری آبادی کی جنوبی سمت  نقل مکانی کیلئے اسرائیلی وزیردفاع نے اقوام متحدہ کو دودن کی مہلت دی تھی لیکن ہل غزہ نے یہ حکم ماننے سے صاف انکار کردیا۔ شمالی غزہ کی ایک زخمی خاتون ام  محتشم  العلامی نے امریکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز سے باتیں کرتے ہوئے کہا'  میرے پاس کھونے کیلئے اب جان کے سوا کچھ نہیں بچا۔ ہم ایک انچ اِدھر اُدھر نہیں جائینگے۔اگر ہمارے سارے مرد مارے گئے تو ہم عورتیں لڑ ینگی ۔ میں زخمی ہوں لیکن خوفزدہ نہیں۔ اگر کچھ نہ رہا تو ہم اپنے ناخن چبھوکر دشمن کو مار بھگائینگے'۔

 اسرائیل کی خواہش ہے کہ جنوب کی جانب دھکیلتے ہوئے تمام کی تمام فلسطینی آبادی کو مصر کے زیرانتظام صحرائے سینائی کی طرف ہنکا دیا جائے۔ برما میں کچھ ایسا ہی ہوا تھاکہ قتل عام کے بعد جو سخت اراکان زندہ رہ گئے انھیں رگیدکر  بنگلہ د یش پہنچادیا گیا۔

غزہ والوں  کی جنوب کی جانب منتقلی کے خلاف شدید مزاحمت کا ایک تاریخی پس منظر ہے۔ النکبہ یا قومی سانحہ نامی یہ ڈکیتئ اتنی مشہور ہے کہ اہلِ غزہ ہرسال 15 مئی کو 'ذکری النکبہ' (آفت کی یاد) مناتے ہیں۔ اس عظیم سانحے پر چند سطور سے قارئین کو یہ معاملہ سمجھنے میں مدد ملے گی۔ظلم عظیم کی داستان پرانی ہے۔ اختصار کیلئے ہم یہ ذکر ارض مقدس پر تاج برطانیہ کے دورِ نامسعود سے شروع کرتے ہیں۔ 

انتیس (29) ستمبر 1947کو اقوام متحدہ نے فلسطین پر تاجِ برطانیہ کے قبضے کو ملکیتی حقوق عطاکردئے۔ جسکے بعد برطانیہ نے دوقومی نظرئے کے مطابق فلسطین کو عرب اور یہودی علاقوں میں بانٹ دیا۔تقسیم میں ویسا ہی 'انصاف' کیا گیا جو تاجِ  برطانیہ کا طرہ امتیاز ہے۔یعنی آبادی کے لحاظ سے 32 فیصد یہودیوں کو فلسطین کا 56 فیصد علاقہ بخش دیا گیا جس پر اسرائیلی ریاست قائم ہوئی۔ فلسطینیوں کو اپنی ہی ر یاست کی  42 فیصد زمین عطا ہوئی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقام پیدائش بیت اللحم سمیت سارا بیت المقدس مشترکہ اثاثہ یا Corpus Separatumقرارپایا۔ نوزائیدہ اسرائیلی ریاست کے یہودی باشندوں کی تعداد پانچ لاکھ اور عرب آبادی 4لاکھ 38ہزار تھی، دوسری طرف فلسطین میں 10 ہزار یہودی اور 8 لاکھ 18 ہزار عرب آباد تھے۔ ایک لاکھ آبادی والے بیت المقدس میں مسلمانوں، مسیحیوں اور یہودیوں کی تعداد تقریباً برابر تھی۔

تقسیم کا اعلان ہوتے ہی اسرائیلیوں نے جشن آزادی کے جلوس نکالے اور ان مسلح مظاہرین نے عرب علاقوں پر حملے کئے۔ اقوام متحدہ کی قرارداد میں تقسیم پر عملدرآمد اور اسکے بعد اسرائیل و فلسطین کے درمیان امن قائم رکھنے کی ذمہ داری برطانیہ پر عائد کی گئی تھی۔  یہ ذمہ داری برطانیہ نے کچھ اسطرح اداکی کہ فلسطینی آبادیوں کے گرد فوجی چوکیاں قائم کرکے انھیں محصور کردیا جبکہ اسرائیلی دہشت گرد برطانوی چوکیوں کی آڑ لے کر بہت اطمینان سے فلسطینی بستیوں کو نشانہ بناتے رہے۔ ان حملوں میں ہرہفتے 100 کے قریب افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔ اقوام متحدہ کی قراردادکے مطابق برطانوی فوج کو مئی 1948تک علاقے کی نگرانی کرنی تھی لیکن برطانوی فوجیوں نے مارچ سے ہی اپنا بوریا بستر لپیٹنا شروع کردیا۔ عرب حلقوں کئ مطابق، جاتے ہوئے برطانوی فوج  نے اپنا اسلحہ اسرائیلیوں کے حوالے کردیاتھا۔

عربوں کے شبہے کو اس بات سے تقویت ملتی ہے کہ برطانوی فوج کی واپسی سے ایک ماہ پہلے 5 اپریل 1948 کو اسرائیلی فوج یروشلم میں داخل ہوگئی حالانکہ معاہدے کے تحت مشترکہ اثاثہ ہونے کی بنا پر بیت المقدس میں فوج تو دور کی بات کسی شخص کو چھری بھی لے کر جانے کی اجازت نہ تھی۔ فلسطینیوں نے بیت المقدس میں مسلح اسرائیلیوں کا راستہ روکنے کی کوشش کی لیکن جدید اسلحے سے لیس اسرائیلیوں نے اس مزاحمت کو کچل دیا۔ تصادم میں سینکڑوں فلسطینی مارے گئے جن میں انکے کمانڈر اور مفتی اعظم فلسطین امین الدین حسینی کے بھتیجے عبدالقادر حسینی شامل تھے۔ اقوام متحدہ کی قرارداد میں صراحت کے ساتھ لکھا تھا کہ تقسیم فلسطین عارضی ہے اور اسے ریاست کی بنیاد نہیں بنایا جائیگا لیکن برطانیہ کی واپسی کے ساتھ ہی یہودی رہنماڈیوڈ بن گوریان نے Eretz Yisrael(ارضِ اسرائیل یا ریاست اسرائیل) کے نام سے ایک ملک کے قیام کا اعلان کردیا جسے امریکہ اور روس نے فوری طور پر تسلیم کرلیا۔اسوقت ہیری ٹرومن امریکہ کے صدر اور مشہور کمیونست رہنما جوزف اسٹالن روس کے سربراہ تھے۔

ریاست کے اعلان سے فلسطینیوں میں شدید اشتعال پھیلا اور جگہ جگہ خونریز تصادم ہوئے۔ اس دوران جدید اسلحے سے لیس اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینیوں کو بھون کر رکھدیا۔مظاہروں کو کچل دینے کے بعد اسرائیلی فوج نے فلسطینی بستیوں کو گھیر لیااور 7لاکھ فلسطینیوں کو غزہ کی طرف دھکیل دیا گیااور وہ بھی اسطرح کے بحرروم کی ساحلی پٹی پر اسرائیلی فوج نے قبضہ کرکے سمندر تک رسائی کو ناممکن بنادیا۔ گویا کھلی چھت (Open Air) کے اس  عظیم الشان جیل خانے میں  12 لاکھ فلسطینی ٹھونس دیے گئے۔ اس وقت غزہ پر  مصر کی عملداری تھی۔

قبضے کی اس مہم میں فلسطینیوں  سےمجموعی طور پر 2000 ہیکٹرز Hectaresاراضی  چھینی گئی۔ ایک ہیکٹر 10000 مربع میٹر کے برابر ہے یعنی 2 کروڑ مربع میٹر۔ فلسطینیوں کا جبری اخراج 15 مئی 1948کو مکمل ہوا جسے فلسطینی یوم النکبہ یا بڑی تباہی کا دن کہتے ہیں۔فلسطینیوں کی انکے گھروں سے جبری بے دخلی کے بعد 1967 اور 1973کی عرب اسرائیل جنگوں میں اسرائیل نے  مزید عرب علاقوں پر قبضہ کرلیا۔

ارضِ فلسطیں سے عربوں کو اردن،  مصر ، شام اور لبنان کی جانب دھکیلنا ہی اسرائیلی جدوجہد آزادی کا ہدف تھا۔ اب 7 اکتوبر کو فضائی حملوں  کے آغاز پر شہری آبادی کی جنوب منتقلی پر اصرار اور غزہ میں ٹینک داخل کرتے وقت  اس وحشت کی جدوجہدِ آزادی سے تشبیہ کے بعد اہل غزہ کو یقین ہوگیا ہے کہ موجودہ جنگی کاروائی  نکبہ دوم کا نقطہ آغاز ہے۔

بلاشبہہ اسرائیل اور مغرب کی مشترکہ قوت قاہرہ کا مقابلہ  نہتے فلسطینیوں کے بس کی بات نہیں لگتی لیکن اہل غزہ کے حوصلے اب تک بلند نظر آرہے ہیں۔ ایک خاتون کا ذکر ہم نے اوپر کیا۔ ایک ہفتہ پہلے غزہ سے ایک بصری تراشہ جاری ہوا جس میں آٹھ نو سال کی بچیاں ایک دوسرے کے  ہاتھ اور پیروں پر انمٹ سیاہی سے انکے نام لکھ رہے تھیں، جب ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ ایسا کیوں کیا جارہا ہے تو ایک دس سالہ لڑکی نے مسکراتے ہوئے کہا 'تاکہ بمباری کے بعد ملبے سے بازیاب ہونے والے  ہمارے جسم کے ٹکروں کی  شناخت ہوسکے' یہ منظر دیکھ کر آنکھ بھر آنی چاہئے تھی لیکن کسی اور کا کیا ذکر ، خود ہماری آنکھ سے آنسو کا ایک قطرہ نہ ٹپکا کہ ہم بھی اسی بے حس  مسلم بے برادری کا حصہ ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 3 نومبر 2023

ہفت روزہ دعوت دہلی 3 نومبر 2023

روزنامہ امت کراچی 3 نومبر 2023

ہفت روزہ رہبر 5 نومبر 2023

روزنامہ قومی صحافت لکھنو