Thursday, November 21, 2019

غزہ ایک بار پھر درندگی کا شکار


غزہ ایک بار پھر درندگی کا شکار
دنیا میں کھلی چھت کا سب سے بڑا جیل خانہ غزہ ایک بار پھر آتش و آہن کی بارش سہہ رہا ہے۔حالیہ قیامت کا آغاز اسوقت ہوا جب 12 نومبر کو صبح سویرے غزہ کے شجیعہ محلے میں اسرائیلی فضائیہ نے حرکت جہادِ اسلامی فلسطین کے مرکزی رہنما 40 سالہ بہاابو العطا اور انکی اہلیہ اسماکو قتل کردیا۔ خونی ڈرون کے حملے میں ابوالعطا کی شیر خوار بچی لیان، فاطمہ، بیٹے سلیم اور محمد شدید زخمی ہوگئے۔ ہمسائے کا گھر حملے کی زد میں آنے سے انکی ایک پڑوسن حنان بھی زخمی ہوئی۔اس واقعے کےکچھ دیر بعد دمشق کے مضافاتی علاقے المزہ میں الجہاد کے ایک اور رہنما اکرم العجوری کے گھر کو نشانہ بنایا گیا۔اسوقت عجوری گھر پر نہیں تھے۔حملے میں انکی کم سن بیٹی، اور بیٹا جاں بحق ہوگئے جبکہ 6 پڑوسی شدید زخمی ہوئے۔
عورتو ں اور بچوں پر بہیمانہ حملے سے مشتعل ہوکر فلسطینیوں نےاسرائیل کی طرف100 راکٹ داغ دئے جس کی بڑی تعداد کو امریکہ کے جدید ترین میزائیل شکن نظام آہنی گنبد یا Iron Domeنے غیر موثر کردیا۔اسرائیلی اخبارات کے مطابق اشدود شہر میں ایک 8 سالہ اسرائیلی بچی زخمی ہوگئی۔الجہاد کے رہنماوں پر حملے اورا سکے مبینہ ردعمل سےنمٹنے کیلئے اسرائیلی فوج کافی دنوں سے مشق کررہی تھی۔ ڈرون حملے کے ساتھ ہی غزہ کے قریب واقع اسرائیلی بستیوں میں سائرن بجنے شروع ہوگئےاور اسرائیلی فضائیہ قوت قاہرہ کے ساتھ غزہ پرٹوٹ پڑی۔
امریکی ساختہ بمبار طیاروں نے نہتے شہریوں کو نشانے پر رکھ لیا۔ چند گھنٹوں کے دوران 30 سے زیادہ فضائی حملوں میں 48 فلسطینی مارے گئے جنکی اکثریت ان عورتوں اور بچوں کی ہے جو اپنے گھر کے ملبے تلے دب گئے۔ان حملوں میں 100 سے زیادہ فلسطینی زخمی بھی ہوئے۔ امریکی وزارت خارجہ نے تشددا ور انسانی جانوں کے زیاں پر افسوس کا اظہار تو کیا لیکن ترجمان کا کہناتھا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ امریکی صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی ٹکٹ کے خواہشمندوں میں صرف برنی سینڈرز نے اسرائیلی بربریت کی مذمت میں بیان جاری کیا۔ باقی تمام امیدوار خاموشی ہیں۔ یورپی یونین نے فلسطینیوں کی جانب سے راکٹ باری کو مہذب دنیا کیلئےناقابل قبول قدم قراردیا اور شہری آبادی پر اسرائیلی بمباری کی مذمت کے بجائے دونوں فریق کو تحمل و برداشت کی تلقین کی گئی۔ اسلامی دنیا سے صرف ترکی نے غزہ پر اسرائیلی حملوں کی کھل کر مذمت کی اور اسے بے گناہوں کا قتل عام قرارادیا۔
بمباری کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رہااور اس بار وسط شہر کے ساتھ زرعی زمینوں اور غلے کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی کے ساتھ غرورسے چور لہجے میں وزیراعظم نیتھن یاہو المعروف بی بی نے کہا کہ اسرائیل کیلئے بمباری کے سلسلے کو طول دینا کچھ مشکل نہیں فیصلہ فلسطینیوں نے کرنا ہے کہ وہ ان حملوں کو کب تک برداشت کرسکتے ہیں۔ جنگی ہیجان پیدا کرنے کیلئے لام بندی کے اعلان کے ساتھ ریزرو Reserveدستوں کو بھی طلب کرلیا گیا
48 گھنٹے کی تباہ کن بمباری کے بعد مشرق وسطیٰ کیلئے اقوام متحدہ کے خصوصی نمایندے نکولے لاڈینووMladenov) (Nickolayقاہرہ پہنچے اور جنرل السیسی سے مل کر مصالحت کی کوششیں شروع ہوئیں۔ اسوقت تک اسرائیل اپنے تمام اہداف کو تباہ کرچکا تھا چنانچہ فضائی حملوں کا سلسلہ رک گیا۔ ساتھ ہی اسرائیلی فوج کے سربراہ جنرل اویو کوشاوی نے دھمکی دی کہ اسرائیل ایک بھی دہشتگرد کو زندہ نہیں چھوڑیگا۔
غزہ پر بمباری اور فائرنگ روز کا معمول ہے لیکن عسکری تجزیہ نگارحالیہ وحشت کا سبب اسرائیل کے سیاسی بحران بتا رہے ہیں۔اسرائیلی کنیسہ یا پارلیمنٹ کے  انتخابات  9 اپریل کو ہوئے تھے جس میں کوئی بھی جماعت واضح اکثریت حاصل نہ کرسکی۔لیکڈ پارٹی کے قائد نیتھن یاہو نے  قدامت پسند ،  متعصب اور جنگجو جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی سرٹوڑ کوشش کی  لیکن ایسا نہ ہوسکااور صدر نے کنیسہ کو تحلیل کرکے  17 ستمبر کو نئے انتخابات کا اعلان کردیا۔
اس سال کے دوسرے انتخابات بھی فیصلہ کن  ثابت نہ ہوسکے  اور 120 رکنی پارلیمنٹ میں 33 نشستوں کے ساتھ نیلا و سفید (B&W)اتحاد پہلے اور نیتھن یاہو کا لیکڈ بلاک 32 کے ساتھ دوسرے نمبر پر آیا۔ مذہبی جماعتوں نے لیکڈ کی حمائت کا اعلان کیا چنانچہ اسرائیلی صدر نے بی بی کو ایک بار پھر حکومت سازی کی دعوت دی۔بی بی نے حسب عادت فلسطینیوں کا  خوف دلا کر قدامت پسند جماعتوں کو ساتھ ملانے  کی کوشش کی۔ اسی قسم کے جوڑ توڑ کے ساتھ یہ حضرت 2009 سے اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ لیکن  اس  بار ' یہودی مولویوں' اور انکے ایک اہم اتحادی اسرائیل مادر وطن پارٹی Yisrael Beitein کے درمیان اتفاق رائے نہ ہوسکا اور سانجھے کی یہ ہنڈیا چولہے پر چڑھنے سے پہلے ہی پھوٹ گئی۔ مولویوں اور قوم پرستوں کے درمیان تنازعہ لازمی فوجی تربیت کے معاملے پر ہے۔
 اسرائیل میں لازمی فوجی خدمت  کا قانون نافذ ہے یعنی ہر اسرائیلی لڑکے کو 2 سال  آٹھ ماہ  اور لڑکی کو دو سال فوجی خدمات سرانجام دینی ہوتی ہیں۔تربیتی مدت ختم ہونے کے بعد بھی لام بندی قانون کے تحت  ریاست جب چاہے کسی بھی  شہری کو فوجی خدمت کیلئے واپس بلاسکتی ہے۔
لازمی فوجی خدمت کے قانون سے حریدی (Heridi) فرقے کے  یہودی مستثنیٰ ہیں۔ حریدی کا عرب و عبرانی تلفظ  شریدی ہے جسے انگریزی میں Ultra-Orthodox Jewsکہا جاتا ہے۔ حریدی خود کو   توریت اور احکامات ربانی  یا تلمود (Talmud)کا وارث سمجھتے ہیں اور انکے یہاں ہر مرد کیلئے توریت و تلمود کی   تعلیم فرض سمجھی جاتی ہے۔ درس و تدریس کیلئے مخصوص مدارس ہیں جہاں طلبہ ٹاٹ پر بیٹھ کر توریت حفظ کرتے  ہیں۔ ان مدارس کو  Yeshivaکہا جاتا ہے۔ Yeshiva کے معنی ہی ہیں  زمین پر بیٹھنا۔ اسرائیل کی یہودی آبادی میں حریدیوں کا تناسب 10 فیصد کے قریب ہے۔
حریدی اسرائیلی سیاست میں بھی بے حد سرگرم ہیں۔ دونوں حریدی جماعتیں یعنی شاس پارٹی (Shas Party) اور متحدہ توریت پارٹی (UTJ) نیتھن یاہو کی نظریاتی حلیف ہیں۔ کنیسہ میں ان دونوں جماعتو ں کا مجموعی پارلیمانی حجم 16 ہے۔ بی بی نے مولویوں، مادروطن اور دائیں بازو کی یمین پارٹی سے مل کر حکو مت بنانے کی کوشش کی۔ اس صورت میں لیکڈ پارتی اور انکے اتحادیوں کا پارلیمانی حجم 63 ہوسکتا تھا جو حکومت سازی کیلئے کافی ہے۔ لیکن مادروطن پارٹی مدارس کے طلبہ کیلئے لازمی فوجی تربیت سے حریدیوں کا استثنیٰ ختم کردینا چاہتی ہے اور پارٹی کے سربراہ  لائیبر مین نے بہت واضح انداز میں کہا ہے کہ جوپارٹی استثنیٰ ختم کرنے حامی نہیں اسکے ساتھ اتحاد نہیں ہوسکتا۔ دوسری طرف حریدیوں کیلئے لازمی فوجی تربیت کسی صورت قبول نہیں کہ انکے خیال میں مدارس  سے پونے تین سال کی غیر حاضری درس و تدریس کے نظام کو درہم برہم کردیگی۔ اس اختلاف کی بنا پر بی بی حکومت نہ بناسکے اور اسرائیلی صدر ریون ریولن Reuven Rivlinنے انکے حریف اور B&Wکےقائد جنرل بینی گینٹزBenny Gantz  کوحکومت سازی کی دعوت دیدی۔ مسٹرگینٹز کو بھی ایسی ہی مشکلات درپیش ہیں اور اگر وہ بھی حکومت سازی میں ناکام رہے تو تیسرے انتخاب کی نوبت آسکتی ہے۔
اقتدار بی بی کیلئے بہت ضروری ہے کہ موصوف پرکرپشن کے سنگین الزامات ہیں۔ بطور وزیراعظم استثنیٰ کی بناپر وہ گرفتاری سے اب تک محفوظ ہیں اور  ڈر ہے کہ جیسے ہی انکی حکومت ختم ہوئی بی بی کو جیل کی ہوا کھانی پڑیگی۔چنانچہ وہ ہر قیمت پر وزارت عظمیٰ کا عہدہ اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں۔ بینی گینٹز نے لیکڈ سےمل کر ایک قومی حکومت بنانے کی خواہش ظاہر کی تھی لیکن بی بی کا اصرار ہے کہ مخلوط حکومت میں وہی وزیراعظم ہونگے جبکہ گینٹز اقتدار کا تاج اپنے سر سجانا چاہتے ہیں۔ کنیسہ میں عرب ارکان کی تعداد 13 ہے اور جنرل گینٹز عربوں کو ساتھ ملا کر مولویوں اور قدامت پسندعناصر کے بغیر بھی حکومت بناسکتے ہیں۔ لیکن حالیہ کشیدگی کے بعد عربوں سے نفرت کی خلیج اتنی گہری ہوچکی ہے کہ عربوں سے ہاتھ ملانا بھی جنرل گینٹز کیلئے سیاسی خودکشی ہوگی۔
کنیسہ کے نومنتخب عرب ارکان کا خیال ہے کہ وزیراعظم کشیدگی بڑھا کر حکومت سازی کی کوششوں کا ناکام بنانا چاہتے ہیں تاکہ ایک اور انتخاب کی نوبت آجائے۔ اسطرح نگراں  وزیراعظم کی حیثیت سے انھیں چار چھ ماہ کی مزید مہلت مل جائیگی۔عرب سیاسی رہنما ایمن عودہ نے کہا ہے کہ بی بی جنگی ہیجان کو ہوادیکر اگلے انتخابات میں لیکڈ کے ساتھ اپنے جنگجو اتحادیوں کے ووٹ بینک میں اضافہ کرناچاہتے ہیں۔ یعنی اپنی گردن بچانے کیلئے نیتھن یاہو بے گناہ فلسطینیوں کا خون بہارہے ہیں۔مغربی جمہوریت کا مکروہ چہرہ اب کھل کر سامنے آگیا ہے۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 22 نومبر
2019

Monday, November 18, 2019

ثنا خوانِ تقدیسِ مشرق کہا ں ہیں؟؟؟


ثنا خوانِ تقدیسِ مشرق کہا ں ہیں؟؟؟
آج مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف علاج کیلئے لندن رونہ ہورہے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی ٰ انھیں شفائے کاملہ و عاجلہ عطافرمائے۔
میاں صاحب کی بیماری پر ملک کے مقتدر حلقے نے جس بیچینی و بیقراری کا اظہار کیا وہ قابل رشک ہے۔ عدالت عالیہ نے صرف ایک ہی سماعت کے بعد  علاج کی غرض ان پر عائد تمام پابندیان بیک جنبش قلم ساقط کردیں اور آج انکے لئے ایک جدید ترین ایمبولینس کا اہمتام کیا جارہا ہے۔
عجیب اتفاق کے جس موذی مرض  میں میا  ں صاحب مبتلا ہیں  و ہی بیماری قاہرہ کی بدنام زمانہ الثورہ المعروف بچھو جیل میں قید تنہائی کا عذاب کاٹتی محترمہ عائشہ شاطر کو لاحق ہے۔ 38 سالہ عائشہ کا قصور یہ ہے کہ بیچاری اخوان المسلمون کے رہنما خاطر الشاطر کی صاحبزادی ہیں جنھیں ایک غیر قانونی تنظیم (اخوان المسلمون) سے تعلق کی بناپر گرفتار کیاگیا۔ اسی الزام میں انکے شوہر محمد ابوہریرہ بھی گرفتار ہیں۔
عائشہ Bone Marrow کی بیماری میں مبتلا ہیں اور انکے پلیٹ لیٹس اتنے کم ہیں کے انکے دانتوں، کان اورناک سے وقتاً فوقتاً خون ٹپکتا ہے۔ کبھی کبھی آنکھیں بھی خون سے بھر جاتی ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق انکے جسم کی قوت مدافعت (immunity)نہ ہونے کے برابر ہے۔ لیکن اب تک انھیں کسی قسم کی دوا نہیں دی گئی۔وہ دوبار طبی معائنے کیلئے جیل کے ہسپتال منتقل کی گئیں لیکن   چند  ہی دن بعد  انھیں واپس سیل منتقل کردیا گیا
عائشہ شاطر اخوان کے ان 60 ہزار کارکنوں میں شامل ہیں جنھیں مصری تاریخ کے پہلے منتخب  محمد مورسی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد گرفتار کیا گیا۔ بدترین تشدد و بد سلوکی کی بناپر صدر مورسی دوران حراست انتقال کرچکے ہیں۔
معلوم نہیں انسانی حقوق کے علمبردار اور خواتین کی عظمت کے گن گانے والے کہاں منہہ چھپائے بیٹھے ہیں


Tuesday, November 12, 2019

مائع قدرتی گیس کی تجارت میں چچا سام کی جارحانہ پیشقدمی


مائع قدرتی گیس یا LNGکی تجارت میں چچا سام کی جارحانہ پیشقدمی
امریکہ ایک عرصے تک کروڑوں بیرل تیل یومیہ درآمد کرتا رہا ہے۔ یہ اسوقت کی بات ہے جب ہندوپاک کے  خلیل خان فاختے اڑاتے ور ہمارے عرب شہزادے اونٹ چراتےتھے۔ لیکن اب جبکہ عرب دنیا کی شناخت  کیمل نہیں بلکہ  کیمری ہے ایسے ہی امریکیوں نے بھی فارسی پڑھے بغیر تیل بیچنا شروع کردیا ہے۔
اس چشم کشا تبدیلی کی بڑی وجہ سلیٹی چٹانوں (Shale)سے گیس کی کشید ہے۔ ٹیکسس Texasکے عالی ہمت تیلیوں نے پے در پے  ہزیمت پر  سینہ کوبی  اور الزام تراشی کے بجائے ہر غلطی سے سبق سیکھا یا یوں  کہئے کہ اپنی ناکامیوں کو کامیابی کا زینہ بنالیا جسکا نتیجہ ہے کہ آج دنیا میں گیس کی پیداوار کا ایک چوتھائی سے زیادہ امریکہ سے حاصل ہوتا ہے۔
امریکہ میں گیس   کی پیداوار اسکی ضرورت سے بہت زیادہ ہے چنانچہ گیس کو LNG بناکردنیا بھر میں برآمد کیا جاریا ہےاور LNGبرآمد کے میں بھی امریکیوں کی پیش قدمی قابل رشک ہے۔
 عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق LNGبرآمد کنندگان میں  امریکہ اب تیسرے نمبر پر ہے۔ اس سال کے اختتام پر آسٹریلیا 10.8ارب مکعب فٹ (bcf)یومیہ کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔ قطر کی یومیہ برآمد 9.9bcfہے جبکہ امریکی LNGکا برآمدی حجم 8.9ارب مکعب فٹ ہوگیا ہے یعنی امریکہ بہادر اب اس میدان میں تیسرے نمبر ہیں۔
احباب کو 10.8bcf کا عدد شائد زیادہ  پرکشش نظر نہ آرہا ہو کہ پاکستان میں گیس کی پیداوار کا مجموعی حجم 4 ارب مکعب فٹ کے قریب ہے۔ تاہم خیال رہے کہ LNGکا حجم  گیس سے 600 گنا کم ہوجاتا ہے یعنی یہ مقدار 6ہزار ارب مکعب فٹ گیس سے زیادہ ہے۔
اس مرحلے پر LNGکی ہئیت کے بارے  چند سطور :
LNG  یا Liquefied Natural Gas  کشید کرنے کیلئے قدرتی گیس سے پانی، ہائیڈروکاربن کے بو جھل و کثیف ذرات(heavy Hydrocarbons)، ہائیڈروجن سلفائیڈ اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو نکال لیا جاتا ہے اور پھر دباو  ڈال کو اسے رقیق حالت میں تبدیل کردیا جاتاہے۔اس عمل کا بنیادی مقصد نقل و حمل میں آسانی پیدا کرنا ہے کہ جہاں پائپ لائن بچھانا ممکن نہ ہو تو LNGکو ٹینکروں اور بحری جہازوں کے ذریعے پیداواری مقام سے دوردراز علاقوں یا بیرونی ممالک  کو بھیجا جاسکے۔ LNG بنانے کے عمل میں قدرتی گیس کا حجم 600 واں حصہ رہ جاتا ہے۔
مقام مقصود پر پہنچنے کے بعد اسے دوبارہ  گیس کی شکل دیدی جاتی ہے تاکہ اسے سیلینڈروں یا پائپ لائن کے ذریعے آگے تقسیم کیا جاسکے۔ اس عمل سے حاصل ہونے والی گیس کو Re-Gasified Liquefied Natural Gas (RLNG) کہا جاتا ہے۔
 LNGکے حوالے امریکہ کی کمال و ترقی میں فرانسیسی تیل کمپنی TOTALکا کرداربھی بہت اہم ہے۔ TOTALامریکی LNGکی ایک بڑی برآمد کنندہ ہے اور روزانہ ایک ارب مکعب فٹLNGبرآمد کرتی ہے جو مجموعی امریکی حجم کے 11 فیصد سے زیادہ ہے۔خیال ہے کہ اگلے چند برسوں میں LNGکی امریکی پیداوار میں TOTALکا حصہ 14 فیصد ہوجائیگا۔
یعنی تیل و گیس کیلئے تلاش و ترقی کادائرہ ملکی حدود کا اندر رکھنے کا دور گزر چکا ہے۔اب ستاروں پر کمند ڈالنے اور اللہ کی بنائی زمین کے ہر کونے میں قسمت آزمائی کی ضرورت ہے۔پی پی ایل کی پر امید و پرجوش قیادت عراق میں اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کررہی ہے۔
 اب جبکہ پاکستان میں غیر روائتی میدانوں، کنجوس کی جیب کی طرح تنگ چٹانوں اور Shaleکو تسخیر کرنے کے منصوبے بن رہے ہیں  ہمیں TEXANSکے تجربات سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ سلیٹی چٹانوں کے امریکی منصوبوں پر سرمایہ کاری سے جہاں اچھا منافع کمایا جاسکتا ہے وہیں اس قسم کے سانجھے سے اپنے ماہرین  کیلئے تربیت کی راہ بھی ہموار ہوگی
اب آپ ہماری  پوسٹ اور اخباری کالم www.masoodabdali.comاور ٹویٹر Masood@MasoodAbdaliپربھی ملاحظہ کرسکتے ہیں

Thursday, November 7, 2019

سعودی عرب میں تبدیلی کی لہر۔ ارامکو کی جزوی نجکاری


سعودی عرب میں تبدیلی کی لہر۔ ارامکو کی جزوی نجکاری
سعودی فرمانروا ملک سلمان بن عبدالعزیز کے جوانسال صاحبزادے شہزادہ محمد بن سلمان المعرف MBSکو مملکت کے ولی عہد کا منصب سنبھالے ابھی سوا دو سال ہی ہوئےہیں لیکن اس مختصر سے عرصے میں سعودی عرب نے تبدیلی کی بہت سی منزلیں بڑی تیزی سے عبور کرلی ہیں۔جنوری 2015میں جیسے ہی انھیں وزیردفاع کا قلمدان عطاہوا شہزادہ صاحب نے سعودی عرب کی سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی تنظیم نو کے خدوخال ترتیب دینے شروع کئے۔ 2015 میں نائب ولی عہد کا منصب سنبھالتے ہی MBSنے ماہرین کی ٹیمیں بناکر 'جدید سعودی' کی تعمیر کا آغاز کیا اوراپریل 2016 کو رویۃ السعودیہ یا Vision 2030کا اعلان کیا گیا۔
اس پیش بینی کا کلیدی نکتہ سعودی معیشت میں تنوع تھا تاکہ بقول MBS 'ملکی اقتصادیات تیل کے ہاتھوں یرغمال نہ بنی رہے'۔ اسی کے ساتھ انھوں نے نجی شعبوں کے تعاون و مشارکت سے صحت و تعلیم، بنیادی ڈھانچے (Infrastructure)، تفریح اور سیاحت کے شعبوں کو ترقی دینے کاخیال پیش کیا جس میں حکومت کا سرمایہ، حصہ اور مداخلت کم سے کم ہو۔ منصوبے کے مطابق 2030 تک سعودی عرب کو
·        عرب اور اسلامی دنیا کا قلب
·        بین الاقوامی سرمایہ کاری کا مرکز اور
·        تین براعظموں یعنی ایشیا، افریقہ اور یورپ کا طاقتور اقتصادی سنگم بننا ہے
اس سلسلے جو اہداف طئے کئے گئے وہ کچھ اسطرح ہیں:
·        سنیما و موسیقی، تفریحی مشاغل، کھیل کود کی سہولت اور سیاحت کے ذریعےبدو و قبائلی انداز فکر کو دور حاضر کے تقاضوں سے ہمکنار کیا جائیگا
·        خواتین کو معاشی و معاشرتی طور پر بااختیار کرکے افرای قوت میں تنوع و صحت مند مسابقت کی حوصلہ افزائی  کی جائیگی
·        تیل پر ملکی معیشت کا دارومدار کم کرنے کیلئے آزاد الیکٹرانک تجارت، خودمختار بینکنک نظام، تاجر دوست پالیسیوں اور کاروبار میں حکومت کی مداخلت کم سے کم کرکے مملکت کوغیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے پرکشش بنایا جائیگا
·        حکومت کے زیرانتظام چلنے والے اداروں کو بتدریج فروخت کردیا جائیگا
وژن 2030 کے ثقافتی پہلو پر عملدرآمد کیلئے خواتین کو بااختیار بنانے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ جس میں خواتین کیلئے ڈرائیونگ پر پابندی کا خاتمہ، اسٹیڈیم میں خواتین کو جانے کی اجازت، بیرون ملک سفرکیلئے محرم کی شرط کی منسوخی۔ خواتین کیلئے باہر نکلتے وقت عبایا پہنے کی شرط قانونی طور پر تو ختم نہیں کی گئی لیکن شہروں میں مذہبی پولیس یا متوع حضرات سے عبایا نہ لینے والی خواتین کو روکنے اور پوچھ گچھ کرنے سے منع کردیاگیا ہے۔اسی طرح لڑکوں کے نیکر یا Shorts پہنے پر بھی متوعوں کو جرمانے یا زجر و تنبیہ کی اجازت نہیں۔غیر ملکی مردوخواتین کیلئے ہوٹل میں کمرہ بک کرتے وقت نکاح نامہ دکھانے کی شرط بھی ختم کردی گئی ہے۔
 سیاحت کے فروغ کیلئے تبوک کے ساحل پر 50 چھوٹے برائے جزائر اور 34 ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے پر ایک پرتعیش سیاحتی مرکز تعمیر کیاجارہا ہے۔ چارٹر کے مطابق اس سیاحتی مرکز کا طرز حکمرانی بین الاقومی معیار کا ہوگا۔ یعنی مشروبات و ملبوسات اور بے لباسی کے حوالے سے وفاقی حکومت کے قوانین یہاں نافذ العمل نہیں ہونگے۔ 500 ارب ڈالر کے اس منصوبے پر وقتی طور پر کام بند ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل کے وجہ سے مرکزی ٹھیکیدار نے اپنی دوکان بڑھادی ہے۔
جامع تبدیلی کے اس تعارف کے بعد آتے ہیں اس خبر کی جانب جس نے تیل کی دنیا میں زبردست ہلچل پیدا کردی ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030کا ایک بہت ہی اہم نکتہ سعودی ارامکو کی نجکاری ہے جس پر گزشتہ دو برس سے کام ہورہا ہے۔
تیل و گیس کے ذخائر اور اثاثہ جات کے علاوہ منافع کے اعتبارسے سعودی ارامکو کا دنیا میں کوئی مقابلہ نہیں۔ گزشتہ برس ارامکوکا خالص منافع 111ارب ڈالر تھا یعنی دنیا کی تین  سب سے بڑی  کمپنیوں ایپل (Apple)، گوگل (Google)اور ایکسون موبل (ExxonMobil)کے مجموعی منافع سے بھی زیادہ۔اس سال کی پہلی سہ ماہی میں کمپنی کا خالص منافع 47 ارب ڈالر کے قریب تھا اور ارامکو نے اگلے برس اپنے حصص یافتگان کیلئے Dividendکی مد میں 75 ارب ڈالر مختص کئے ہیں۔اس سال کے آغاز میں ارامکو نے دنیا کی سب سے بڑی پیٹروکیمیکل کمپنی سابک (SABIC)کے 70 فیصد حصص خرید کر پیٹرولیم مصنوعات کے شعبے پر بھی اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے۔
ارامکو کی نجکاری پر گفتگو سے پہلے قارئین کی دلچسپی کیلئے اسکی تاریخ پر چند سطور۔
جنگ عظیم اول کے فوراً بعدخلیج عرب کے دونوں کناروں پر یعنی سعودی عرب اور بحرین میں تیل کی تلاش کا کام شروع ہوا۔ امریکہ کی اسٹینڈرد آئل آف کیلی فورنیا یا SoCalنے 1932 میں قسمت آزمائی شروع کی اور اسکے ذیلی ادارے  بحرین  پیٹرولیم کمپنی BAPCOکو ابتدائی  کامیابی نصیب ہوئی۔ 1933میں  SoCalنےCalifornia-Arabian Standard Oil Company (CASOC)کے نام سے سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں تیل کی تلاش کا کام شروع کیاتاہم  ابتدائی نتائج  حوصلہ افزا نہ تھے چنانچہ CASOCنے  اپنے مفادات  کا  نصف حصہ Texas Petroleumیا TEXACOکو بیچ دیا۔
پانچ سال کی لگاتار کوشش ومحنت کے بعد 1938 میں دمام 7 نامی کنویں سے تیل دریافت ہوا۔ بعد میں اس کنویں کو   بیئر الخیر (مبارک کنواں) کا نام دیکر اسے قومی یادگار کا درجہ دے دیا گیا۔اس کامیابی کے بعد  دریافت کا تانتا بندھ گیا۔  1944 میں CASOCکا نام   عرب امریکن آئل کمپنی یا ارامکو  رکھ دیا گیا۔
ایک کے بعد  ایک دریافت سے ارمکو انتہائی  نفع بخش ادارہ بن گئی اور اسکے ساتھ ہی سعودی حکومت اور کمپنی کے درمیان منافع کی تقسیم پر  چپقلش کا آغاز ہوا۔
سعودی فرمانزوا شاہ عبدالعزیز ( موجودہ حکمراں کے والد بزرگوار) نے 1950 میں ارامکو کو قومیانے کی دھمکی دیکر 50 فیصد منافع سعودی حکومت کے نام کروالیا۔ اسی کے ساتھ ارامکو کا ہیڈکوارٹر نیویاک سے ظہران منتقل کردیا گیا
سعودی حکومت کی تحریک پر  ریگستان کے ساتھ سمندر کی تہوں کو کھنگھالنے کا آغاز ہوا اور 1951 میں  دنیا  کا سب سے بڑا Offshoreمیدان دریافت ہوا ۔ خلیج عرب  کی گہرائیوں میں واقع یہ ذخیرہ  سفانیہ آئل فیلڈ کہلاتا ہے۔
ارامکو کی سب سے  بڑی کامیابی 1957 میں غوار میدان کی دریافت  ہے ۔دنیا میں اس حجم کا دوسرامیدان   آج تک دریافت نہیں ہوسکا۔
اسی کیساتھ ارامکو کو قومی ملکیت میں لینے کا تدریجی عمل شروع ہوا۔ 1973 میں سعودی حکومت نے ارامکو کے 25 فیصدحصص خرید لئے جسکے اگلے   برس حکومت کی ملکیت 50 فیصد ہوگئی۔ 1980 میں مزید 50 فیصد حصص خریدلئے گئے  اور ارامکو  حکومت کی ملکیت ہو گئی۔خریداری مکمل ہونے پر کمپنی کا نام سعودی ارامکو رکھدیا گیا۔
جون 2017 میں ولی عہد کا منصب سنبھالتے ہی MBSکی ہدائت پر سعودی ارامکو کی نج کاری کا عمل شروع کیا گیا جسکا مقصد ترقیاتی منصوبوں کیلئے  غیر ملکی سرمایہ حاصل کرنا ہے۔ ابتدا میں کمپنی کے 5 فیصد حصص   IPOsکی شکل میں پیش کئے جائینگے۔سعودی حکومت کے خیال میں کمپنی کی قدر 2 ہزار ارب ڈالر ہے چنانچہ5 فیصدIPOsکی  فروخت سے 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع  ہے۔
تاہم سرمایہ کاری کے عالمی اداروں اور ساہوکاروں کے خیال میں 5 فیصد حصص کیلئے 100 ارب کا ہدف  غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ حالیہ دنوں میں IPOsکی فروخت سے سب سے زیادہ رقم  الیکٹرانک تجارت  یا e-commerce کے چینی ادارے علی بابا نے حاصل کی جب 2014 میں اسکے IPOs نے  بازار حصص سے 25 ارب ڈالر کا سرمایہ سمیٹا۔ اسٹاک مارکیٹ کے پنڈت ارامکو   IPOsکیلئے 40 ارب ڈالر کا تخمینہ لگارہے ہیں۔
ارامکو  IPOsکے اجرا کیلئے 20 اکتوبرکی تاریخ  طئے کی گئی تھی لیکن 14 ستمبر کو اسکی دوبڑی تنصیبات ابقیق اور الخریص  پر تباہ کن حملے  سے  صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی۔ اسکے قلب پر کاری حملے   کے نتیجے میں کمپنی کے خزانے کو  جہاں اربو  ں ڈالر کاٹیکہ لگا ہے وہیں اسکی تنصیبات اور اثاثوں کے غیر محفوظ ہونے کے تاثر نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی متزلزل کردیا ہے۔  کچھ اداروں نے ان خطرات  کی اقتصادی تشریح 13 سے 15 فیصد کی ہے یعنی ارامکو کی مجموعی قدر کم ہوکر  1600سے 1800 ارب ڈالر رہ گئی ہے۔ اس خوف کی بنا پر کہ  کہیں ارامکو کے بارے میں اندیشہ ہائے دوردراز اور سرمایہ کاروں کے خوف اور عدم اعتماد سے IPOs کی قیمت توقع سے کم نہ ہوجائے اجرا ملتوی کردیا گیا
سعودی وزیرتوانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کو یقین ہے کہ متاثرہ تنصیبات کی بروقت مرمت اور  بین الاقومی معیار کے حفاظتی اقدامات سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوچکا ہے چنانچہ انھوں نے اعلا نِ التوا کے دوسرے ہی دن نجکاری کے عمل کو جاری رکھنے کا حکم دیدیا ور اتوار 2 نومبر کو مملکت کی مقتدرہ برائے سرمایہ کاری یا  CMA نے حصص کی فروخت کیلئے  IPOجاری کرنے کی قرارداد منظور کرلی۔
جسکے دوسرے دن ظہران میں نجکاری کے منصوبے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے ارامکوکے چیرمین جناب یاسر الرمیان اور منیجنگ ڈائریکٹر جناب امین ناصر نے بتایا کہ  ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے انقلابی وژن کے مطابق  ترقیاتی منصوبوں کیلئے  غیر ملکی سرمایہ حاصل کرنے کی غرض سے ارامکو کی جزوی نجکاری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ اس مقصد کیلئے کمپنی کے 5 فیصد حصص   IPOsکی شکل میں پیش کئے جائینگے۔سیانوں اور ساہوکاروں کے خدشات کے باوجود ارامکو کی قیادت پر امید ہے کہ کمپنی کی قدر 2 ہزار ارب ڈالر ہے۔ اس سال کے دوران کمپنی کی مجموعی قدر کے  ایک فیصد پر مشتمل IPOs فروخت عام کیلئے پیش کئے جائینگے جبکہ مزید ایک فیصد IPOsکی فروخت اگلے برس ہوگی۔ ابتدائی دو فیصد کی فروخت سعودی بازار حصص تداول پر ہوگی۔جسکے بعد مزید 3 فیصد حصص تداول کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی بازار حصص میں بھی پیش کئے جائینگے۔ حصص کی قیمتوں کا ابتدائی تخمینہ 17 نومبر کو جاری کیا جائیگا۔ بازارکاردعمل دیکھنے کے بعد قیمتوں کا حتمی اعلان 4 دسمبر کو ہوگااور کمپنی  کا تجارتی نشان 11 دسمبر سے تداول  کی فہرست پر درج  کردیا جائیگا۔
خیال ہے کہ امریکی بازار ہائے حصص میں ارمکو کے IPOsکی خرید وفروخت نہیں ہوگی جسکی وجہ 9/11کے متاثرین کی جانب سے نقصان کے تاوان کیلئے سعودی اثاثہ جات پر متوقع دعویٰ ہے۔
امریکی سی آئی اے اور وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے مطابق ان حملوں کے ذمہ دار 19 افراد میں سے 15 سعودی عرب کے شہری تھے۔ 2016 میں امریکی کانگریس نے ایک قانون کی منظوری دی ہے جسکے مطابق 9/11کے متاثرین ہرجانے کیلئے سعودی عرب کے خلاف مقدمہ دائر کرسکتے ہیں اور ایسے کئی دعوے امریکی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ اگر فیصلہ ان متاثرین میں حق میں ہوا تو عدالت ہرجانے کی ادائیگی کیلئےامریکہ میں سعودی اثاثوں کو ضبط کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔ گویا امریکہ کے سرمایہ کار اس نفع بخش تجارت میں شائد براہ راست حصہ نہ لے سکیں اورارامکو کےIPOsخریدنے کیلئے انھٰیں ریاض کے تداول یا یورپ و ایشیا کے بازاروں کا رخ کرنا ہوگا۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 8 نومبر
2019