Thursday, July 22, 2021

ڈاکٹر اشرف غنی، قطر مذاکرات ناکام بنانے کیلئے پرعزم

طویل   تعطل کے بعد قطر امن مذاکرات  دوبارہ شروع ہوگئے۔ فروری 2000میں ہونے والے طالبان امریکہ عزمِ امن معاہدے یا  Agreement for Bringing Peace in Afghanistanمیں یہ طئے  کیا گیا تھا کہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ مختلف دھڑوں کے درمیان  وسیع البنیاد بات چیت سے کیا جائیگا۔

اس سلسلے میں افغان حکومت  نے ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی قیادت میں ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد تشکیل دیا۔دوسری جانب  طالبان  کے نائب امیر ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں ملاوں کا وفد سامنے آیا۔طالبان کے وفد میں ملا عبدالسلام ضعیف بھی شامل ہیں جو سقوطِ کابل کے وقت پاکستان میں افغانستا ن کے سفیر تھے۔ ملا ضعیف اورملا برادر کو پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے  مختلف  اوقات میں گرفتار کیا تھا۔ بدترین تشدد کے بعد ملاضعیف پشاور میں امریکہ کے حوالے کئے گئے جسکے بعد انھیں مزید تشدد کیلئے گونتانامو کے عقوبت کدے بھیجدیا گیا جبکہ ملا برادر کو سی آئی اے اور پاکستانی خفیہ ایجنسی کی مشترکہ ٹیم نے کئی سال بدترین تشددکا نشانہ بنایا۔

قطر مذاکرات کا آغاز گزشتہ سال  12 ستمبر کو ہوا لیکن چھ ماہ گزرنے کے باوجود اب تک مذاکرات کے ایجنڈے پر بھی اتفاق نہیں ہوسکاہے۔  بنیادی اختلاف دونوں فریقوں کی حیثیت پر ہے۔

  • کابل انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وہ افغان عوام کے منتخب نمائندے ہیں جنکے خلاف طالبان نے ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں۔ حکومتی وفد چاہتا ہے کہ اپنے مطالبات پیش کرنے سےپہلے طالبان ہتھیار رکھدیں۔کابل انتطامیہ نے اپنے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ملاوں کا موقف  کھلے دل سے  سنے گی اور ایک باوقار معاہدے کیلئے ہر ممکن کوشش کی جائیگی۔
  • دوسری طرف طالبان کا کہنا ہے کہ 2001میں جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا اسوقت امارات اسلامی افغانستان پر طالبان کی حکو مت تھی۔ امارات نے غیر ملکی جارحیت کیخلاف مادر وطن کا کامیابی سے دفاع کیا جبکہ کابل انتظامیہ وہ کٹھ پتلی ہے جسے حملہ آوروں نے غداری کے انعام میں کابل کا تخت عطا کیا۔طالبان اس غداری کو دل سے معاف کرنے کو تیار ہیں اور انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ غیر ملکی فوج کی واپسی کے بعد نئی انتطامیہ تشکیل دیتے وقت افغان حکومت سمیت ملک کی تمام سیاسی، لسانی اور مذہبی اکائیوں کو مناسب نمائندگی دی جائیگی۔
  • ایک اورنکتہ افغانستان کا آئین ہے۔ افغان حکومت کا اصرار ہے کہ بات چیت اسلامی جمہوریہ افغانستان کے آئین کے مطابق ہوگی اور نئے بندوبست میں آئین کے تحفظ کو یقینی بنایاجائے۔ طالبان  موجودہ دستور منسوخ کرکے  قرآن و سنت کی روشنی میں ایک نیا آئین ترتیب دیناچاہتے ہیں۔

مذاکرات کے حوالے سے طالبان کو ایک بڑی شکائت کابل وفد کی ہئیت پر تھی جسکی قیادت اس سے پہلے  افغان خفیہ ادارے 'خاد' کے  سابق سربراہ  معصوم  تناکزئی کررہے  تھے جو  ملاوں کے خیال میں بااختیار نہیں۔ اسی بنا پر پئے درپئے نشستوں کا کوئی فائدہ نہ ہوا، تاہم مثبت بات یہ ہے کہ دونوں فریق گزشتہ آٹھ مہینوں سے بات چیت جاری رکھنے پر متفق ہیں۔ اس دوران اسلام آباد، ماسکو، تہران اور بیجنگ میں بھی بات چیت ہوئی

گزشتہ ہفتے افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے طالبان سے مذاکرات کیلئے ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی قیادت میں ایک   اعلیٰ سطحی وفد تشکیل  دیا جس  میں حزب اسلامی کے امیر گلبدین حکمتیار، حزب  کے دوسرے دھڑے کے سربراہ استاد عطامحمد نور، ماہر امور شرعیہ مولوی عنائت اللہ بالغ، شیعہ حزب وحدت کے سربراہ  یونس  قانونی،  شیعہ رہنما استاد محقق،  جنرل عبدالرشید دوستم، وزیرمملکت سلام رحیمی، وزیر مملکت سید سعادت منصورنادری، محترمہ فاطمہ گیلانی اور سابق نائب  صدر کریم خلیلی شامل تھے۔جمعہ 16جولائی کوحامد کرزئی نے جس وفد کو کابل سے قطر کیلئے رخصت کیا اس میں گلبدین حکمتیار شامل نہیں تھے جبکہ علالت کی وجہ سے رشید دوستم ترکی میں زیرعلاج ہیں۔

اعلی سطحی اجلاس سے ایک دن پہلے کابل میں اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے  افغان حکومت کے ترجمان نادرنادری نے  کہا کہ  طالبان نے عیدالاضحٰی سے تین ماہ کیلئے جنگ بندی کی پیشکش کی ہے۔ تاہم ملاوں نے اسکے لئے اپنے 7000 قیدیوں کی رہائی اور طالبان قائدین کے نام اقوام متحدہ کی دہشت گرد فہرست سے نکالنے کی شرط عائد کی ہے۔

ہفتے کو قطر میں مذاکرات کا پہلا دور شروع ہوا جس میں کابل سے آنے والے وفد کے علاوہ قطر میں پہلے سے موجود  معصوم تناکزئی شریک ہوئے اور عبدالرشید دوستم  کی  نمائندگی انکے صاحبزادے   باتور دوستم نے کی۔

ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے بات چیت کے آغاز میں کہا کہ  ملک  کے طول و عرض میں چھڑی جنگ کا ایندھن معصوم  افغان عوام بن رہے ہیں۔ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ  جنگ سے آج تک کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا اور افغان تنازعے کا بھی کوئی عسکری حل نہیں۔ انھوں نے کہا کہ  مذاکرات کو کامیاب بنانے کیلئے فوری جنگ بندی اور دونوں جانب سے لچک اور نرمی ضروری ہے۔  

 جواب میں ملا عبدالغنی برادر نے کہا کہ مذاکرات میں پیشرفت نہ ہونے کے باوجود بات چیت پر دونوں فریق کا غیر متزلزل عزم بےحد خوش  آئند ہے۔ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں اور قومی وحدت  کیلئے جدوجہد جاری رہنی چاہئے۔ افغانستان کی خوشحالی اور استحکام کیلئے اسلامی نظام  ضروری ہے جسکا قیام اسی صورت ممکن ہے جب ہم سب اپنے ذاتی منفعت و مفادات کو پس پشت ڈالدیں۔ابتدائی گفتگو کے بعد افتتاحی اجلاس ختم ہوگیا

اتوار کی شام جب دوبارہ نشست جمی تو طالبان نے ایک دن پہلے کابل سے جاری ہونے والے اشتعال انگیز بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ اپنے بیان میں افغان صدر کے ترجمان محمد امیری نے کہا تھا' ہمیں امید ہے کہ بات چیت کے نتیجے میں طالبان افغان عوام کا قتل عام روک کر امن کی راہ اختیار کرینگے'۔ ملاوں کا موقف تھا کہ اس قسم کی زبان اور  الزام تراشی سے اعتماد کی بحالی متاثر ہوگی۔ طالبان وفد کے قائد نے یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ افغان ملت اپنے لہو سے غسل کررہی ہے اور یہ وقت باہمی شکوے شکائت کا نہیں۔

دوسرے اجلاس میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور ملا عبدالغنی برادر کے زیرقیادت دونوں جانب سے سات سات افراد کے ساتھ قطری حکومت کے تین مبصرین و شاہدین بھی نشست میں موجود تھے۔افتتاحی کلمات کے بعد طالبان نے اپنے سات ہزار جنگی قیدیوں کی رہائی اور طالبان قائدین کے نام اقوام متحدہ کی دہشت گرد فہرست سے نکالنے کے نکات رکھے جبکہ کابل سرکار کا اصرار فوری جنگ بندی پر تھا۔ اجلاس کے اختتام پر سرکاری وفد کے ترجمان فریدون خورزمی نے کہا کہ بات چیت خوش گوار ماحول میں ہوئی اور امن کی کوشش تیز کرنے پر دونوں فریق میں مکمل اتفاق پایا گیا۔ اجلاس میں طالبان کے امیر ملا ہبت اللہ کے عید پیغام کا خیر مقدم کیا گیا جس میں ملا صاحب نے افغانستان کو بحران سے نکالنے کیلئے سیاسی تصفیہ ضروری قرار دیاہے۔  

اتوار کے اجلاس میں طالبان نے قیدیوں کی رہائی اوردہشت گرد فہرست سے نام نکالنے کی بات اٹھاکر افغان حکومت کے ترجمان نادر نادری کے اس انکشاف کی تصدیق کردی کہ بات چیت کو معنی خیز بنانے کیلئے افغان مُلّا تین ماہ کی عبوری جنگ کیلئے تیار ہیں۔اس پیشکش سے غنی سرکار دباو میں آگئی ہے۔ افغانستان کے سیاسی رہنما خاص طورسے سابق صدر حامد کرزئی، حزب کے سربراہ حکمتیار اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے خیال میں 90 دن کی جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی سےاعتماد کی بحالی میں مدد ملے گی اور قطر مذاکرات کا ماحول خوشگوار ہوجائیگا لیکن صدر اشرف غنی کو خوف ہے کہ رہائی سے طالبان کو مزید 7000 تجربہ جنگجو مل جائینگے جس سے میدان میں طاقت کا توازن اور خراب ہوگا۔ دہشت گردوں کی فہرست سے طالبان قیادت کا نام نکالنے کیلئے امریکہ کی حمائت درکار ہے۔سیاسی تجزیہ نگاروں کاکہنا ہے کہ برطانیہ ان شرائط کو تسلیم کرنے پر زور دے رہا ہے تاکہ امن مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا جاسکے۔زلمے خلیل زاد بھی جنگ بندی کی پیشکش سے فائدہ اٹھانے کے حق میں ہیں۔

قطر میں اعلٰی سطحی مذاکرات سے امید کا دیاروشن ہوا ہے لیکن اشتعال انگیز بیانات اور دھمکیوں کی آندھی اسے بجھانے کیلئے پرعزم نظر آرہی ہے۔افغانستان کے نائب صدر امر اللہ صالح کے ایک ٹویٹ کے مطابق پاکستانی فضائیہ نے دھمکی دی ہے کہ اسپن بولدک (صوبہ قندھار) کو طالبان کے قبضے سے چھڑانے کی کسی بھی کوشش کو پاکستانی طیاروں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑیگا۔انھوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے کئی علاقوں میں پاک فضائیہ طالبان کو فضائی کمک (air support)فراہم کررہی ہے۔اپنے ایک دوسرے ٹویٹ میں صالح صاحب نے کہا کہ افغان وزارت دفاع اس سلسلے میں ثبوت فراہم کریگی ۔انکا کہنا ہےکہ طالبان کے ٹھکانوں کی جانب محو پرواز افغان فضائیہ کے طیاروں کو پیچھے نہ ہٹنے کی صورت میں میزائیلوں سے نشانہ بنانے کی تنبیہ کی جارہی ہے۔

ادھر چند دنوں سے امریکہ میں طالبان کے خلاف فضائی کاروائی کے حق میں مہم تیز ہوگئی ہے۔پاکستانی نسل پرست، امریکہ کے جنگجو قدامت پسندوں کیساتھ مل کر تحریک چلارہے ہیں کہ ملاوں کی پیشقدمی روکنے کیلئے فضائی قوت استعمال کی جائے۔ سابق امریکی صدرجارج بش نے جرمن ذرایع ابلاغ سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے غیرملکی فوج کا انخلا غلطی ہے۔جس سے افغان خواتین کو ناقابل بیان نقصان اٹھانا پڑےگا۔انکا کہنا تھا کہ فوج واپس بلا کر افغان عوام کو ان ظالم لوگوں کے ہاتھوں مرنے کے لیے تنہا چھوڑ دیاگیاہے۔

ڈاکٹر اشرف غنی ہندوستان سے بھی عسکری مداخلت کی درخواست کررہے ہیں۔ دوروز قبل ہندوستان میں کابل سرکارکے سفیر فرید مومند زئی نے NDTVسے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر طالبان سے مذاکرات ناکام ہونے پر صورتحال قابو سے باہر ہوئی تو ہندوستان سے عسکری مدد کی درخواست کی جائیگی۔ ہندوستان کی مالی حالت کا اندازہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اخراجات کی ادائیگی کوئی مسئلہ نہیں کہ امریکہ نے 2030 تک کابل سرکار کی مدد کیلئے ساڑھے چار ارب ڈالر سالانہ مختص کردئے ہیں۔فاضل سفیر کاکہنا تھا کہ نائن الیون کے بعد ہندوستان نے بہت ہی فراخدلی سے افغانستان کی مدد کی ہے جسکی وجہ سے دہشت گرد ہندوستان کے بھی دشمن ہیں۔ جناب مومندزئی نے پرعزم لہجے میں کہا کہ بہادر افغان افواج اپنے ملک کا کامیابی سے دفاع کررہی ہیں لیکن اگر ضرورت پڑی تو یقین ہے کہ دِلّی ہمیں مایوس نہیں کریگا۔

جناب مومندزئی کے انٹرویو پر ہندوستانی حکومت کا کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا لیکن اقوام متحدہ میں ہند کے سابق سفیر سید اکبرالدین نے اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کو اپنی سرحدوں پر کشیدگی کا سامنا ہے چنانچہ فوجی دستے افغانستان بھیجنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسی نشست میں ہندوستان کے ممتاز دفاعی تجزیہ نگار راہول بیدی  بھی موجود تھے جنھوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں غیر ملکی فوجوں کی کارکردگی کبھی بھی اچھی نہیں رہی اور بھاری جانی و مالی نقصان اٹھاکر وہاں سے پسپائی اختیار کرنی پڑی ہے اسلئے 'دِلی خواہش' کے باوجود وزیراعظم مودی یہ خطرہ مول لینے کو تیار نہیں۔

تازہ ترین خبر یہ ہے کہ دہلی نے طالبان  سے بات چیت میں دلچسپی ظاہرکی ہے اور رابطہ استوار کرنے کی ذمہ داری سید اکبرالدین کو سونپی گئی ہے۔ اکبرالدین صاحب کو اردو اور عربی کے ساتھ فارسی پر مکمل عبور ہے اور وہ اس سے پہلے بھی طالبان سے علیک سلیک کرچکے ہیں۔

امن بات چیت کی متوازی بلکہ مخالف سرگرمیوں کی بناپر ماہرین قطر مذاکرات کے بارے میں بہت زیادہ امید نہیں۔ امن کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں بھی شروع ہوچکی ہیں۔اسلام آباد سے افغان سفیر کی صاحبزادی سلسلہ علی خیل کے مبینہ اغوا نے خاصی بدمزگی پیدا کردی ہے۔اس واردات سے جہاں کابل انتظامیہ اور پاکستان کے کشیدہ تعلقات مزید تلخ ہوگئے وہیں اسکی بازگشت قطر میں بھی سنائی دے رہی ہے۔

حسب توقع سلسلہ علی خیل  کے مبینہ اغوا کے خلاف کابل میں اتوارکو پاکستانی سفارتخانے کے باہر مظاہرہ کیا گیا۔ ابلاغ عامہ کے غیر جانبدار ذرایع کے مطابق مظاہرے میں صرف چند درجن افراد موجود تھے جنکی اکثریت خواتین حقوق کی کارکنوں اور سرکاری اہلکاروں پر مشتمل تھی۔ مظاہرے میں افغان فوج کے ترجمان جنرل عمر شنواری اور رکن پارلیمان شنکو کاروخیل بھی شریک ہوئے۔ مظاہرے کے دوران خواتین حقوق کیساتھ طالبان کے خلاف  بھی نعرے لگائے گئے۔

افغان امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ڈاکٹر اشرف غنی کا رویہ ہے۔ طالبان سے امریکہ نے براہ مذکرات کئے اور امریکیوں نے معاہدےتک ڈاکٹرصاحب کو اعتماد میں نہیں لیا۔ امن مذاکرات کیلئے امریکہ کی نگرانی میں جو اعلیٰ اختیاراتی قومی مفاہمتی کمیشن یاNational Reconciliation High Commission تشکیل پایا، اسکی سربراہی ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو سونپ دی گئی ہے۔ اس کمیشن کو مالی وسائل فراہم کرکے خودمختار و بااختیار بنادیا گیا ہے چنانچہ امن مذاکرات میں صدر اشرف غنی کا کردار علامتی رہ گیا ہے۔

اب جو اعلی سطحی وفد طالبان سے مذاکرات میں مصروف ہے اس میں بھی کابل سرکار کاکوئی اہم اہلکار شامل نہیں اور ڈاکٹر غنی سیاسی محاذ پر خود کو تنہا اور دیوار سے لگا محسوس کررہے ہیں۔سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ افغان نائب صدر کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات اور علاقی ممالک کو اس تنازعے میں ملوث کرنے کی مہم  امن مشن کو ناکام بنانے کی ایک کوشش ہے۔ افغان وفد کی قطر روانگی کے وقت اشرف غنی نے دھمکی دی تھی کہ طالبان کو تین ماہ کے اندر کچل کر رکھ دیا جائیگا۔

ادھر افغان وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ طالبان نے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں ریڈیو اسٹیشنوں کا انتطام سنبھال لیاہے اور  اب یہ ریڈیو طالبان کے پروپیگنڈے کیلئے استعمال ہورہے ہیں۔ سرکاری ترجمان کے مطابق، ہیرات کا ریڈیو شین ڈنڈ ریڈیو شریعہ بن گیا ہے۔ بغلان کا ریڈیو پیمان، ریڈیو سمنگان، ریڈیونوبہار بلخ اور ریڈیو قندوز نے اب ریڈیو اماراتِ اسلامی کے نام سے نشریات شروع کردی ہیں۔ افغان حکومت کا کہنا ہے کہ ریڈیو اسٹیشنوں پر قبضے سے آزادی صحافت کو سخت خطرہ لاحق ہوگیا ہے جسکا صحافیوں کی عالمی انجمن کو نوٹس لینا چاہئے۔ جبکہ طالبان کا اصرار ہے شرعی اصولوں کے تحت  اماراتِ اسلامی  آزادیِ اظہارِ رائے کے تحفظ کی پابند ہے۔ طالبان اور کابل وفد کی جانب سے مکالمہ جاری رکھنے کاعزم حوصلہ افزا تو ہے لیکن دھمکی، الزام تراشی اور اشتعال انگیز بیانات کے تناظر میں امن کوششوں کا مستقبل مشکوک و مخدوش نظر آرہا ہے۔

 ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 23 جولائی 2021

ہفت روزہ دعوت دہلی 23 جولائی 2021

روزنامہ امت کراچی 24 جولائی 2021

ہفت روزہ رہبر سرینگر 25 جولائی


2021

 

 

Thursday, July 15, 2021

تیل کی دھار اور دودھاری تلوار

تیل کی دھار اور دودھاری تلوار

اللہ کی بیش بہا نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت پیٹرولیم ہے۔ زمین سے نکالا جانیوالا یہ سیال سونا کارخانوں کے پہییے کو رواں رکھے ہوئے ہے۔ زمین پر دوڑنے والی گاڑیاں ہوں یا آسمان پر اڑتے طیارے اور سمندر کے سینے پر مونگ دلتے دیو ہیکل جہاز ، ساری حرکت برکت  تیل کی مرہون منت ہے۔ یہی رحمت  سخت سردیوں میں خواب گاہوں کو گرم اور یخ پانی کے درجہ حرارت کو آرام دہ حد پر رکھ کر خلقِ خدا کو راحت فراہم کررہی ہے۔کروڑوں لوگوں کیلئے تیل روزگار اور خوشی و خوشحالی کی ضمانت ہے۔

لیکن انسان کی خودغرضی سے یہ  عظیم الشان نعمت دنیا بھر میں کشیدگی اور قتل وغارت کاباعث بھی ہے۔ تیل پر قبضے کی شیطانی خواہش نے مشرق وسطیٰ کو یرغمال بنا رکھا ہے جسکی وجہ سے کروڑوں افراد ملوکیت و آمریت کا عذاب سہہ رہے ہیں۔ اسی  نامراد نے پوری روہنگیا قوم پر انکی اپنی زمین تنگ کردی کہ اراکان سے متصل سمندر کی تہوں میں تیل و گیس کے چشموں پر چین کی نظر ہے تو دوسری طرف برما کے ساحل سے وسطی چین تک بچھائی جانیوالی تیل پائپ لائن کے قرب وجوار میں مسلمان آبادی 'تحفظ' کے حوالے سے اندیشہ ہائے دور دراز کا سبب تھی۔ تیل ہی نے کریمیا(Crimea)کے تاتاروں کو جلاوطنی کے عذاب میں مبتلا کیا کہ روس بحراسود سے تیل و گیس کشید کرنا چاہتا ہے۔

اب یہی تیل مشرق وسطیٰ کے دوقریبی دوستوں میں دوری بلکہ شدید کشیدگی کی وجہ بن رہا ہے۔ حالانکہ سعودی عرب کے  محمد بن سلمان  اور متحدہ عرب امارات  کے محمد بن زید نظریاتی اعتبار سے انتہائی قریب اور عمر میں فرق کے باوجود یہ دونوں جگری دوست ہیں۔ انکے مناصب میں بھی گہری مماثلت ہے یعنی کہنے کو دونوں ولی عہد ہیں لیکن انکا دبدبہ و اختیار حقیقی فرمانروا جیسا ہے۔ قطر کا 'مزاج' درست کرنا ہو، اخوان المسلمون و حماس کی بیخ کنی،  یمن میں طاقت کا استعمال یا بحر روم میں ترکی کا گھیراو تمام سیاسی و نظریاتی معاملات پر MBSاور MBZکے نام سے مشہور ان دونوں شہزادوں میں یکسوئی پائی جاتی ہے۔

ان جگری دوستوں میں اختلاف تیل کی قیمتوں پر ہوا۔کرونا وبا نے دنیا بھر کی معیشتوں کو بری طرح متاثر کیا اور اقتصادی سرگرمیاں  تقریباً منجمد ہوکر رہ گئیں۔نتیجے کے طور پر تیل اور گیس کے استعمال میں کمی آئی اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ گزشتہ برس  اپریل میں امریکی تیل WTIکی قیمت منفی 37 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ گاہک نہ ملنے کی وجہ سے آڑھتیوں نے ٹینکر مالکان کو پیسے دیکر تیل اٹھوایاکہ گودام کا کرایہ ناقابل برداشت ہوگیا تھا۔

امریکہ میں تیل کی صنعت کو مکمل تباہی سے بچانے کیلئے سابق صدر ٹرمپ نے اپنے دوستوںMBS اورMBZ سے تیل کی پیدوار میں کمی کا مطالبہ کیا۔اس سےکچھ ہی عرصہ پہلے روس کو سبق سکھانے کیلئے سعودی عرب نے پیدوار میں بھاری اضافہ کیا تھا۔امریکی صدر کی درخواست پر سعودی وزیر توانائی عبدالعزیز بن سلمان پیداوارمیں کمی پر راضی تو ہوگئے لیکن  یہ شرط عائد کردی کہ اوپیک کیساتھ تیل برآمد کرنے والے غیر اوپیک ممالک خاص طور سے روس، میکسیکو، کینیڈا،  ناروے اور امریکی تیل کمپنیاں بھی کٹوتی پر راضی ہوں۔ طویل بحث مباحثے کے بعد تیل کی عالمی پیداوار میں 97 لاکھ بیرل یومیہ کمی پر اتفاق ہوگیا جو  تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔

تمام ممالک نے طئے شدہ کوٹے کی پاسداری کی اور قیمتیں 25 ڈالر فی بیرل پر مستحکم ہوگئیں۔ گزشتہ برس کے اختتام سے کرونا کی صورتحال بہتر ہونا شروع ہوگئی، امریکہ اور یورپ میں کرونا سے تحفظ کی جدرین کاری (Vaccination) کا آغاز ہوا اور اس سال فروری سے مغربی دنیا کی معیشت میں استحکام کےآثار پیداہوئے جسکے نتیجے میں ایندھن کی کھپت بڑھ گئی اور تیل کی قیمتوں نے اوپر کی جانب سفر کا آغاز کیا۔ طلب کے  بڑھتے ہی بازار پر گرفت مضبوط رکھنے کیلئے اوپیک اور روس  پیداوار میں آہستہ  آہستہ اضافے پر رضامند ہوگئے تاکہ نہ تو رسد میں بھاری کمی سے قیمتیں صارفین کی قوت خرید سے باہر ہوجائیں اور نہ موقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے  پیداوار اتنی بڑھا لی جائے کہ قیمتوں پر دباو محسوس ہو۔ قارئین کی دلچسپی کیلئے عرض ہے کہ تیل کی قیمت میں صرف ایک ڈالر فی بیرل کا اضافہ پاکستان میں زرِمبادلہ کے ذخائر کیلئے ایک  کروڑ 20 لاکھ ڈالر ماہانہ کا نسخہ ہے

اوپیک کی نظر امریکہ کی سلیٹی (Shale)چٹانوں پر بھی ہے اور سعودی، تیل کی قیمتیں اتنا زیادہ نہیں بڑھانا چاہتے جہاں سلیٹی چٹانوں سے ایندھن کی کشید منافع بخش ہوجائے۔ کھپت، رسد اور قیمتوں پر باریک بینی سے نظر رکھنے کیساتھ یکسوئی برقرار رکھنے کیلئےاوپیک پلس (اوپیک اور تیل برآمد کرنے والے غیر اوپیک ممالک)کے اجلاس بہت باقاعدگی سے ہوتے رہے اور پیداوار میں کمی بیشی پر مکمل اتفاق  رہا۔ دوسری طرف کرونا پر قابو نے دنیا بھر کی معیشتوں پر مثبت اثرات مرتب کئے اور ایندھن کی طلب قبل از کرونا کی سطح پر آگئی۔

جون کے وسط میں امریکہ کے  ماہرینِ توانائی نے خیال ظاہر کیا کہ اس سال کے آخر تک تیل کی عالمی طلب نو کروڑ 41 لاکھ بیرل یومیہ سے بڑھ کر نو کروڑ 99 لاکھ بیرل روزانہ ہوجائیگی۔ جبکہ سرمایہ کار اداروں کا کہنا ہے کہ  اگلے برس جنوری تک دنیا کوروزانہ 58 لاکھ بیرل اضافی تیل کی ضرورت ہوگی۔

یکم جولائی کو اوپیک پلس  کے اجلاس میں اس معاملے پر غور ہوا۔ بات چیت کے دوران کوئت اور متحدہ عرب امارات تیل کی بڑھتی ہوئی کھپت کے تناظر میں پیداوار میں بھاری اضافے کے حامی تھے لیکن سعودی وزیر توانائی کا خیال تھا کہ خوش کن مفروضات کی بنیاد پر پیداوار میں اندھا دھند اضافہ خطرناک ہوگا۔انکا کہنا تھا کہ امریکہ اور یورپ میں تو کرونا کی وبا پر بڑی حد تک قابو پایا جاچکا ہے لیکن دنیا کے دوسرے حصوں میں صورتحال ابھی تک معمول پر نہیں آئی۔ یہ نامراد وائرس شکلیں بدل بدل کر جوابی حملے کررہا ہے اور کسی کو نہیں معلوم کہ Delta Variantکیا آفت ڈھائیگا۔ سعودی وزیر تیل کا کہنا تھا کہ سابق صدر ٹرمپ نے ایران پر جو تجارتی پابندیاں عائد کی تھیں انکے خاتمے کی بات چل رہی ہے اور اگر ایرانی تیل پر سے پابندی اٹھالی لی گئی تو 40 لاکھ بیرل اضافی تیل بازار میں آجائیگا۔شہزادہ عبدالعزیز نے خدشہ ظاہر کیا کہ طلب میں اضافے کے حالیہ اشارے سراب  ثابت ہوسکتے ہیں اسلئے ہمیں پیدوار بڑھاتے ہوئے احتیاط کرنی چاہیے۔

روس نے سعودی تجزئے سے اتفاق کیا اور طئے پایا کہ اگست کے آغاز سے تیل کی پیداوار میں ہرماہ 4 لاکھ بیرل یومیہ کا اضافہ کیا جائے اور دسمبر تک مجموعی پیداوارکو 20 لاکھ بیرل یومیہ بڑھالیا جائے۔ اس دوران بازار پر کڑی نظر رکھی جائیگی تاکہ حسب ضرورت پیدوار میں کمی بیشی کرکے قیمتوں کو مستحکم رکھا جاسکے۔اس تجویز پر اصولی اتفاق رائے ہوگیااور وقفے کے دوران نام نہ بتانے کی شرط پر اوپیک کے ایک اعلیٰ افسر نے یہ خبر صحافیوں کو بھی بتادی۔

وقفے کے بعد اجلاس جب دوبارہ شروع ہوا تو متحدہ امارات کے وزیر تیل سہیل المزروعی نے پیداوار کیلئے اپنے ملک کے کوٹے میں اضافے کا مطالبہ کیا۔ انکا کہنا تھا کہ امارات کے سب سے بڑے گاہک ہندوستان میں تیل کی کھپت قبل از کرونا کی حد کو چھو  رہی ہے اور کوٹے کا موجودہ حجم ہندوستان کی طلب پوری کرنے کیلئے کافی نہیں۔ جناب مزروعی کا کہنا تھا کہ ہماری پیدواری گنجائش 43 لاکھ بیرل روزانہ ہے اورگاہک بھی موجود ہیں، لہذا 31 لاکھ 70 ہزاربیرل یومیہ کا کوٹہ امارات کیلیے قابل قبول نہیں۔ سعودی عرب نے کوٹے کی بات کو بے وقت کی راگنی قراردیا۔ روس نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس مرحلے پر جب اوپیک پلس کا بنیادی ہدف تیل کی قیمتوں میں استحکام ہے کوٹے پر گفتگو پینڈورا باکس کھولنے کے مترداف ہے۔ بحث مباحثے کے بعد اجلاس دوسرے دن تک کے ملتوی ہوگیا

جمعہ کے اجلاس میں  بھی متحدہ عرب امارات نے کوٹہ بڑھانے پر اصرار کیا اور کہا جاتا ہے کہ سعودی و اماراتی وفد کے درمیان خاصی نونک جھونک ہوئی۔ متحدہ عرب امارات کا کہنا تھا کہ سیاحت کی صنعت قبل از کرونا کی سطح پر آگئی ہے اور جہاز راں کمپنیاں اپنے بیڑے میں توسیع کیلئے اربوں ڈالر خرچ کررہی ہیں۔ اس سلسلے میں امریکہ کی یونائیٹیڈ ائر لائنز کا حوالہ دیا گیا  جو   270 نئے طیارے خرید رہی ہے اوراس سودے کی مالیت 30 ارب ڈالر ہے۔اسی کیساتھ ہزاروں نئےملازمین بھرتی کئے جارہے ہیں۔اماراتیوں کا کہنا تھا کہ خطیر سرمایہ کاری اعتماد کو ظاہر کرتی ہے اور معیشت میں بہتری کے واضح اشاروں کو سراب قراردینا مناسب نہیں۔ سعودی عرب اور روس کوٹے پر گفتگو کیلئے رضامند نہ ہوئے اور اجلاس 5 جولائی تک کیلئے ملتوی ہوگیا۔ پیر کا اجلاس بھی کوٹے کے گرد گھومتا رہا۔ اماراتی وزیر تیل نے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انکے ملک نے پیداواری گنجائش میں اضافے پر کروڑوں ڈالر خرچ کئے ہیں اور ہم اپنی سرمایہ کاری کو کیسے ضایع ہونے دیں۔ اس پر سعودیوں کی جانب سے جواب آٰیا کہ اضافی گنجائش کی شیخی نہ بگھارو، ہم اپنی پیداوار دگنی کرسکتے ہیں  لیکن پھر اگر تیل پانی  کے بھاؤ بکنے لگے تو ہم سے شکائت نہ کرنا۔ روس نے گنجائش کی بات کو غیر ضروری قراردیتے ہوئے کہا کہ قیمتوں میں استحکام کیلئے تمام ممالک گنجائش سے کم تیل اپنے کنووں سے نکال رہے ہیں۔ کسی فیصلے کے بغیر یہ اجلاس بھی ختم ہوگیا۔ جب دوسرے دن دوبارہ بیٹھنے کی بات ہوئی تو سعودی عرب اور روس نے اصولی اتفاق کے بغیر اوپیک کے اجلاس میں شرکت سے معذرت کرلی۔انکا کہنا تھا کہ اصل معاملہ تیل کی پیداوار میں اضافہ ہے۔ یہ وقت کوٹے پر بات کرنے کا نہیں۔ بعد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے اوپیک کے معتمد عام محمد برکندو نے کہا کہ کا نشست کی تاریخ کااعلان 'مناسب' وقت پر کیا جائیگا۔

اضافے پر اصرار کے باوجود متحدہ عرب امارات اب تک اپنے طئے شدہ کوٹے پر عمل کررہاہے جسکی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔ اگر اوپیک کی پیدوار میں اضافہ نہ ہوا تو اگلے چند ماہ میں قیمتوں میں اضافے کے ساتھ تیل کی قلت کا بھی خطرہ ہے اور ماہرین مندرجہ ذیل تین امکانات کی توقع کررہےہیں

  1. پیداوار کی موجودہ مجموعی حد کو برقرار رہےگی،  یعنی  کسی کیلئے کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ اس صورت میں سال کے اختتام تک تیل کی قیمتوں میں بھاری اضافے کا خدشہ ہے
  2. متحدہ عرب امارات کو بہلا پھسلا کر موجودہ کوٹے پر راضی کر لیا جائے۔ اس صورت میں دسمبر تک پیدوار 20 لاکھ بیرل یومیہ بڑھ جائیگی جس سے قیمتوں میں استحکام پیدا ہوگا
  3. یہ بھی ممکن ہے کہ متحدہ عرب امارات اوپیک کو نظرانداز کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر اپنے کنووں سے زیادہ تیل نکالنا شروع کردے ۔اس صورت میں سعودی عرب  اپنی پیداوار میں بھاری اضافہ کرکے  امارات کو “سبق” سکھانے کوشش کریگا ۔ اگر ایسا ہوا تو تیل کی قیمت 60ڈالر فی بیرل سے نیچے آسکتی  ہے۔ 

تیل کی پیداوار  پر سعودی عرب  اور متحدہ عرب امار ات کے درمیان کشیدگی  اب ایک تجارتی جنگ کی شکل اختیار کرتی نظر آرہی ہے اور اس 'جھگڑے' میں اسرائیل کے اقتصادی مفادات کو   بھی ضرب لگ سکتی ہے۔بحرین، کوئت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات  پر مشتمل خلیج تعاونی کونسل (GCC)  کے درمیان افراد اور اسباب کی  آمدورفت پر کوئی پابندی نہیں۔ ان  ممالک  نے باہمی درآمدات کیلئے صفر یا بہت ہی کم محصولات طئے کئے ہیں۔ معاہدہ ابراہیم کے تحت جب اسرائیل نے متحدہ عرب امارات اور بحرین سے سیاسی روابط قائم  کئے اسوقت دوسری باتوں کے علاوہ تل ابیب کی نظر خلیجی ممالک کی معیشت پر بھی تھی۔ اسرائیل نے سفارتی تعلقات بحال ہوتے ہی  امارات اور بحرین کے  Duty Free Zone میں سرمایہ کاری شروع کردی جہاں  بننے والی مصنوعات  پر GCC نرخ سے درآمدی محصولات لاگو ہوتے ہیں۔

بلومبرگ اور رائٹرز کے مطابق اس ہفتے سعودی عرب نے اپنے کسٹم قوانین میں ایک ترمیم کا اعلان کیا ہے جسکے تحت GCC ترجیحی و رعائتی محصولات کا اطلاق  Duty Free Zone میں بننے والی ان  مصنوعات پر نہیں ہوگا جو ایسے کارخانوں میں بنتی ہیں جنکی ملکیت 25 فیصد سے  زیادہ غیر مقامی ہو یا جن مصنوعات کیلئے  40 فیصد سے زیادہ خام مال باہر سے آتا ہو۔بظاہر اس ترمیم کا مقصد خلیجی تاجروں اورمحنت کشوں کا تحفظ ہے  لیکن اسکا واضح ہدف امارات کے  جبل علی فری زون جیسے مراکز ہیں جہاں اسرائیل بھاری سرمایہ کاری کررہا ہے۔

دوسری طرف  تیل کی پیداوار بڑھانے کیلئے امریکہ کا دباو بھی بڑھتا جارہا ہے۔بدھ 7 جولائی کو امریکی صدر کے مشیر قومی سلامتی جیک سولیون اور سعودی عرب کے نائب وزیردفاع شہزادہ خالد بن سلمان  کی واشنگٹن میں ملاقات کے دوران دوسرے نکات کے ساتھ تیل کی پیداوار بڑھانے پر بھی بات ہوئی۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ صدر بائیڈن کا اصرار کتنا موثر رہے گا۔سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں MBSکے مبینہ کردار  پر آجکل یہاں بحث عروج پر ہے اور ڈیموکریٹک پارٹی کاایک طبقہ اِس پورے واقعے کی تحقیقات کیلئے صد بائیڈن پر دباو ڈال رہا ہے جسکی وجہ سے ریاض کسی حد تک دفاعی پوزیشن  میں ہے۔ اسکے علاوہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت سے امریکی اقتصادیات کی بعد ازکرونا تعمیرِ نو کاکام متاثر ہوسکتا ہے۔ ان عوامل کی بناپر سعودی عرب کیلئے امریکہ کے مطالبے کو یکسر رد کردینا ممکن نہیں ہوگا۔ جہاں تک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی باہمی چپقلش کا تعلق ہے توGCCترجیحی محصولات میں ردوبدل کرکے MBSنے اس تنازعے میں اسرائیل کی  بھی ایک فریق بنالیاہے۔محمد بن سلمان کے اماراتی ہم منصب، اسرائیل سے اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور ریاض کو توقع ہے کہ اسرائیلی رہنما اپنے اماراتی دوستوں  کو اس معاملے میں 'معقولیت' اختیار کرنے پر رضامند کر لیں گے۔

کہا جارہا ہے کہ منگل کو تل ابیب میں سفارتخانے کے افتتاح کے موقع پر اسرائیل کے صدر نے اماراتی سفیر محمد محمود الخواجہ سے اس مسئلے پر بات کی۔ رائٹرز کے مطابق پیداوار کے معاملہ طئے پاگیا ہے اوراپریل 2021 میں امارات کا کوٹہ 36 لاکھ پچاس ہزار بیرل یومیہ کردیا جائیگا۔تادم تحریر اس نئے بندوبست کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں اور 15 جولائی کو ابوظہبی میں اماراتی وزارت پیٹرولیم کے ذرایع نے بتایاکہ بات چیت آگے تو بڑھی ہے لیکن بنی نہیں اور ابھی کئی رکاوٹوں کو عبور کرنا ابھی باقی ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل 16 جولائی 2021

ہفت روزہ دعوت دہلی 16 جولائی 2021

روزنامہ امت کراچی 16 جولائی 2021

ہفت روزہ رہبر سرینگر 16 جولائی



2021

 

Thursday, July 8, 2021

فوجی انخلا عملاً مکمل ۔۔ بگرام خالی کردیا گیا

فوجی انخلا عملاً مکمل ۔۔ بگرام خالی کردیا گیا

امریکی فوج نے بگرام کا فوجی اڈہ خالی کردیا، یا یوں کہئے کہ واشنگٹن نے آشیانہ چمنِ افغاں سے اٹھالیا۔ ہم نے جان کر بلبل کے بجائے واشنگٹن لکھا ہے کہ بلبل محبت و الفت کا استعارہ ہے، اسکے پیار بھرے نغمے باغ وچمن کی رونق کو لازوال بنادیتے ہیں جبکہ بگرام کا امریکی اڈہ اہلِ افغانستان کیلئے قبضے اور دہشت کی علامت تھا۔ اسکے احاطے میں قائم عقوبت گاہ سے مظلوموں کی جو چیخیں بلند ہوتی تھیں، انسانی ضمیر اسکی گونج آج بھی محسوس کررہاہے۔ بگرام کا شمار دنیا کے قدیم ترین شہروں میں ہوتاہے۔تین سو سال قبل مسیح آباد ہونے والا یہ شہر گندھارا تہذیب کا مسکن تھا۔ دارالحکومت کابل سے 25 کلومیٹر شمال میں واقع بگرام اب صوبہ پروان کے دارالحکومت چاریکار کا مضافاتی علاقہ اور  درہِ  پنجشیر کا دہانہ ہے۔ ڈیڑھ سو کلومیٹر طویل  وادی پنجشیر جفاکش و دلاورافغان تاجکوں کا علاقہ ہے۔

پنج شیر، 42سال گزرنے جانیکے بعد بھی روسی افواج کے دل و دماغ پر ایک خوفناک خواب کی صورت سوار ہے کہ  1979کے حملے کے بعد سوویت یونین نے ایٹم بم کے سوا اپنے ترکش کا ہر تیر اور تشدد کا ہر حربہ استعمال کرلیا لیکن روسی،  پنجشیر فتح کرکے کمک کا راستہ نہ ہموار کرسکے۔ اس زمانے میں وسط ایشیا سوویت یونین کا حصہ تھا۔ماسکو شمالی افغانستان پر قبضہ کرکے سوویت یونین سے زمینی رابطہ بحال کرنا چاہتا تھا۔اسی بنا پر حملے کے بعد روس نے بگرام اڈے کو اپنا مرکز بنایا۔سوویت یونین نے 1950 میں بگرام کا ہوئی اڈہ تعمیر کیا تھا جسے 1980 میں وسعت دی گئی۔

اکتوبر 2001میں حملے کے بعد نیٹو نے اس اڈے کو اپنے ہاتھ میں لیا  اور جلد ہی اسکا شمار دنیا کے چند  بہت بڑے اڈوں میں ہونے لگا۔یہاں تعمیر کی جانیوالی بیرکوں میں 10 ہزار فوجیوں کے قیام کی گنجائش ہے۔ نو کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے خرچ سے 12ہزار فٹ طویل رن وے تعمیر کیا گیا جس پردیوہیکل مال بردارجہاز اور B52سمیت خوفناک بمبار اتر سکتے ہیں۔اس اڈے پر 110 طیارے کھڑے کئے جاسکتے ہیں جنکی حفاظت کیلئے سیسہ پلائی دیواریں کھڑی کی گئی ہیں۔

یہ محض فوجی اڈہ نہیں بلکہ یہ صدیوں پرانے چاریکار شہر کے بطن میں 30 مربع میل رقبے پر محیط ایک جدید ترین شہر ہے، جہاں چند روز پہلے تک تیز رفتار انٹرنیٹ، سیٹلائٹ فون سمیت وہ سہولتیں موجود تھیں جو بہت سے متمول امریکیوں کو اپنے ملک میں حاصل نہیں ۔جدید ترین آپریشن تھیٹر سے آراستہ پچاس بستروں پرمشتمل اسپتال میں دانتوں کا شعبہ بھی تھا جہاں عام علاج کے علاوہ مصنوعی دانت لگانے کے سہولت موجود تھی۔ شطرنج اور دوسرے board gamesکیلئے خصوصی کمروں کیساتھ باسکٹ بال کورٹ اور کسرت کدہ تعمیر کیا گیا تھا۔ آرائشِ گیسو، مساج کدے،  میخانے، رقص گاہ اور سنیما گھر سمیت فوجی جوانوں کو عشرت کے تمام اسباب مہیا گئے تھے۔ امریکہ کی مشہور زمانہ Starbucksکافی کیساتھ پیزاہٹ، برگر کنگ اور لوزیانہ کی مشہور Popeyes Chickenنے بھی اپنی دوکانیں سجائی ہوئی تھیں۔

اسی کیساتھ بگرام کے ایک حصے میں وہ قید خانہ بھی ہے، جسکی سرگرمیوں کے  بارے میں جب ایک رپورٹ امریکی سینیٹ میں پیش کی گئی تو کیلی فورنیا کی سینیٹر محترمہ ڈائن فینسٹائن اجلاس سے یہ کہتے ہوئے اٹھ گئیں کہ انکے لئے اسے سننا ممکن نہیں۔ باہر آکرآنسو پونچھتے ہوئے انھوں نے حیرت سے پوچھا 'کیا یہ سب کچھ ہماری سی آئی اے کرتی تھی؟؟'۔ یہاں تشدد کیلئے مصری فوج کے جلاد بلائے گئے تھے۔

بگرام جیل، افغان شہریوں کے لئے  اب بھی خوف کی علامت ہے، ایک ضعیف افغان شہری نے امریکی صحافی کو بتایا کہ والدین اپنے روتے ہوئے بچوں کو اس جیل کا نام لے کر ڈراتے ہیں۔ امریکی حملے کے ابتدائی دس سالوں تک پاکستان اور افغانستان سے  شہریوں کا لاپتہ ہوجانا عام تھا اور انکا سراغ بگرام کی کسی کوٹھری ہی سے ملتا تھا۔ ایک سیاسی کارکن نے اس جیل میں چھ سال گزارے ہیں۔اس نے VOA سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ  بگرام کانام سنتے ہی میرے کانوں میں درد بھری چیخیں سنائی دیتی ہیں۔ امریکی سی آئی نے فلپائن، تھائی لینڈ اور مشرقی ایشیائی ممالک میں کئی جگہ عقوبت کدے بنارکھے ہیں جنھیں کوچہ سیاہ یا dark sitesکہا جاتا ہے لیکن نائن الیون کے بعد طالبان اور القاعدہ کے افراد پر تشدد کیلئے کیوبا کے جزیرے گوانتانامو بے، عراق میں ابوغریب جیل اور بگرام میں خصوصی  مرکز قائم کئے گئے۔اِسوقت بھی کئی ہزار قیدی بگرام میں بند ہیں۔

گزشتہ ماہ جب نیٹو افواج نے انخلا شروع کیا تو افغانستان بھر میں پھیلے اڈوں کو تالہ لگاکر تمام سپاہی بگرام منتقل کردئے گئے۔ ہلکے ہتھیار افغان فوج کوعطاہوئے اور بھاری سامان امریکہ و یورپ منتقلی کیلئے بگرام لایا گیا۔ امریکی فوج کی مرکزی کمان کے ایک ترجمان کے مطابق یہاں موجود اسلحہ C-17 المعروف گلوبل ماسٹر طیاروں کی 763 پروازوں کے ذریعے منتقل کیا گیا۔ ان طیاروں کی باربرداری گنجائش 77500 کلوگرام ہے۔ عینی شاہدین نے اڈے سے   دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکیوں نے حساس نوعیت کا ناقابل استعمال اسلحہ تلف کردیا۔

امریکیوں کے سوا نیٹو کے باقی سپاہی جون کے وسط تک افغانستان چھوڑ چکے تھے اور دوجولائی کو امریکی فوجیوں کا انخلا مکمل ہونے پر بگرام کااڈہ کابل سرکار کے حوالے کردیا گیا۔بگرام میں نیٹو کے 650 سپاہی اب بھی موجود ہیں جو افغانستان میں امریکہ اور یورپی ممالک کے سفارتکاروں اور سفارتی تنصیبات کو تحفظ فراہم کرینگے۔پیچھے رہ جانیوالے دستے میں ترک فوجی بھی شامل ہیں جو کابل ائرپورٹ کا حفاظتی انتظام سنبھالیں گے۔ امریکیوں کا کہنا ہے کہ سفارت کاروں کے تحفظ کیلئے نیٹو سپاہیوں کی تعیناتی قطر امن معاہدے کے مطابق ہے۔ اب تک اس بندوبست پر طالبان کی جانب سے کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا بلکہ طالبان کے ترجمان نے بگرام اڈہ خالی کردینے کی خبر پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔بتیس برس پہلے 1989 میں اسی اڈے سے روس کی حملہ آور فوجیں واپس گئی تھیں اور اب بگرام کی تنگ و تاریک گلیاں ایک اور عالمی طاقت کی پسپائی کا مشاہدہ کررہی ہیں۔تازہ ترین اطلاع کے مطابق افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل اسکاٹ ملر بھی 4 جولائی کو افغانستان سے چلے گئے۔

اس موقع پر بوجھل دل کیساتھ اس بیس سالہ بے مقصد خونریزی کے افسوسناک اعدادوشمار پیش خدمت ہیں۔ امریکہ کے موقر تعلیمی ادارے جامعہ براون کے مطابق جنگ میں  47 ہزار افغان شہری، 70 ہزار افغان سپاہی،  ڈھائی ہزار امریکی، اتحادی افواج کے ساڑھے گیارہ سو سپاہی اور چار ہزار کے قریب امریکی فوج سے وابستہ نجی ٹھیکیدار(contractors)مارے گئے۔ افغان شہریوں کی ہلاکت کے جو اعدادو شمار دئے گئے ہیں وہ امریکی فوج کے جاریکردہ اور حقیقت سے کہیں کم ہیں۔ حکمرانوں کا یہ شیطانی شوقِ کشور کشائی امریکہ کے ٹیکس دہندگان کو سوا دوہزار ارب (20 کھرب 260 ارب) ڈالر کا پڑا۔

جمعہ 2 جولائی کو بگرام فوجی اڈہ خالی ہونے کیساتھ ہی واشنگٹن میں یہ افواہ گشت کرنے لگی کہ 4 جولائی کو امریکہ کےیوم آزادی پر فوجی انخلا مکمل ہونے کا سرکاری اعلان کردیا جائیگا اور ایک صحافی نے صدر بائیڈن سے سوال بھی پوچھ لیا کہ 'کیا افغانستان سے انخلا کا عمل چند دن میں مکمل ہو رہا ہے؟ اس پرامریکی صدر نےسر کے اشارے سے نہیں کہا۔ نامہ نگار  نے جب وضاحت کیلئے سوال دہرایا تو امریکی صدرکے چہرے پر ناگواری کے آثار نمایاں ہوئے اور انھوں نے نسبتاً بلند آواز میں کہا ' یقین کریں، ہم اگلے دودنوں میں انخلامکمل کرنے والے نہیں، تاہم تمام سرگرمیاں منصوبے کے عین مطابق ہیں اور امریکہ (11) ستمبر تک انخلا مکمل کر لےگا'

صدر بائیڈن کی گفتگو سے لگتا ہے کہ سرکاری اعلان گیارہ ستمبر تک ہی ہوگا لیکن افغانستان سے غیر ملکی فوج کا انخلا 2 جولائی کو مکمل ہوچکا اور اب سفارتکاروں کے تحفظ کیلئے امریکی و ترک سپاہیوں کے سوا مزید کوئی غیر ملکی فوجی موجود نہیں۔ اسی کیساتھ بھاری اسلحے کی منتقلی بھی مکمل ہوگئی ہے۔ جمعہ کو  امریکہ کے محکمہ دفاع کے عہدیداروں نے وائس آف امریکہ(VOA)کو بتایا کہ  امریکہ اور بین الاقوامی فورسز نے بگرام کا فوجی اڈہ خالی کردیاہے۔ اسی کے ساتھ کابل میں افغان  وزارت خارجہ کے ترجمان فواد امان نے اپنے ٹویٹ میں کہا’ تمام اتحادی اور امریکی افواج بگرام ایئر بیس سے گزشتہ رات یعنی  2 جولائی کو چلی گئی ہیں اور  یہ اڈہ افغان فوج کے حوالے کردیا گیا ہے'

عسکری ذرایع کاکہنا ہے کہ امریکی فضائیہ کے کچھ بمبار اور ڈرون کا بیڑہ بگرام میں موجود ہے جسکے لئے ایک علاقہ مخصوص کردیا گیا ہے۔ یہ نہیں معلوم کہ اس اثاثے کی دیکھ بھال افغان فوج کررہی ہے یا اسکے لئے امریکی ماہرین اب بھی موجود ہیں۔  اس سے پہلے کہا جارہا تھا کہ بگرام سے اڑنے والے ڈرون کو گوادر کے قریب بحر عرب میں تعینات امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز آئزن ہاور سے کنٹرول کیا جائیگا یا اس مقصد کیلئے برطانوی بحریہ کا الدّقم (عُمان) اڈہ استعمال ہوگا۔ اس ضمن میں بحرین اور مشرقی ازبکستان کے قرشی خان آباد المعروف کے ٹو اڈے کا نام بھی لیا جارہا تھا۔ کے ٹو کیلئےگزشتہ ہفتے وزیرخارجہ ٹونی بلیکن نے امریکہ کے دورے پر آئے اپنے ازبک ہم منصب سے بات بھی کی  لیکن کہا جارہا ہے کہ ازبکستان نے معذرت کرلی ہے۔

دوسری طرف افغانستان کیلئے روسی صدر کے خصوصی نمائندے ضمیر کابولوف نے علاقے میں امریکی اڈوں کے قیام کی شدید مخالفت کی ہے۔ روسی خبررساں ایجنسی RIAسے باتیں کرتے ہوئے روسی سفارتکار نے کہا کہ افغانستان سے انخلا کو امریکی اڈوں کی دوسرے ملکوں کو منتقلی میں تبدیل کردینا مناسب نہیں۔ انھوں نے افغانستاں میں وسیع البنیاد حکومت کی حمائت کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں روس علاقے کے دوسرے ملکوں کیساتھ مل کر کام کررہا ہے لیکن ایک بات بہت واضح ہے کہ بیرونی مداخلت اور طاقت کا استعمال اس مسئلے کا حل نہیں اور ساری دنیا کو افغانوں کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہئے۔

بگرام کا انتظام اب کابل سرکار کے پاس ہے۔ طالبان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکیوں کاچھوڑاہوا اسلحہ طالبان کے خلاف استعمال ہوگا چنانچہ یہ اڈہ اب طالبان کا ترجیحی ہدف ہے۔بگرام کے شمال مشرق  میں کپیسا کے دارالحکومت محمود راقی سمیت صوبے کے کئی علاقے طالبان کے دباومیں ہیں۔محمود راقی بگرام سے چند کلومیٹر کے فاصلے پرہے۔ اڈے کے جنوب مشرق میں کوہ صافی کے بڑے علاقے پر طالبان کا قبضہ ہے  تو جنوب مغرب میں کابل سے بھی شدیدلڑائی کی خبریں آرہی ہیں۔ طالبان نے سارے افغانستان میں سرکاری فوج کو الجھایا ہوا ہے،ا سلئے کابل کیلئے بگرام کی جانب کمک بھیجنا بہت مشکل ہے۔

دوسری طرف ڈاکٹر اشرف غنی کیلئے سقوطِ بگرام کسی طور قابل قبول نہیں کہ اسکے بعد کابل کا دفاع ناممکن ہوجائیگا۔ امریکہ بھی بگرام کو طالبان کے آگے سرنگوں نہیں ہونے دیگا۔ سرکاری فوج اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے بعد تو شائد واشنگٹن کوبگرام پر ملاوں کے قبضے پر اعتراض نہ ہو لیکن انخلا کے ساتھ ہی اس اہم عصبی مرکز پر طالبان کا قبضہ کابل سرکار تو ایک طرف،  امریکہ اور نیٹو کو بھی بے دست وپا کردیگا۔

واشنگٹن کو حالات کی نزاکت کا پورااحساس ہے۔ طالبان کی پیش قدمی روکنے کیلئے چچا سام کیا کرسکتے ہیں؟؟؟ اسرائیل اور امریکہ، عسکری ہدف کے حصول کیلئے فضائی قوت کے وحشیانہ و بیرحم استعمال پر یقین رکھتے ہیں۔ امریکی صدرکا کلیدی ہتھیار ڈرون ہے اور ڈر ہے کہ 'جوبائیڈرون' طالبان کی پیشقدمی روکنے کیلئے اوباما دور کی یاد تازہ کردینگے

ڈرون کے آسرے پر جہاں کابل انتظامیہ کے باز صفت اہلکار شعلے اگل رہے ہیں وہیں افغانستان کی اعلیٰ مصالحتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ امن کے بارے میں اب بھی پُرامید ہیں۔ بگرام سے نیٹو کے انخلا پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نےکہا 'یہ درست کہ لڑائی کابل شہر کے دروازوں تک پہنچ گئی ہے۔ لیکن دوحہ (قطر) میں اسوقت بھی کابل حکومت اور  طالبان کے درمیان رابطے برقرار ہیں'

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 9 جولائی 2021

ہفت روزہ دعوت دہلی 9 جولائی 2021

روزنامہ امت کراچی 9 جولائی 2021

ہفت روزہ رہبر سرینگر 11 جولائی


2021