Friday, October 15, 2021

پاناما کا ہنگامہ، ذکرِ بہشت اور اب پنڈورہ کا ڈھنڈورا

پاناما کا ہنگامہ، ذکرِ بہشت  اور اب پنڈورہ کا ڈھنڈورا

اپریل 2016 میں پانامہ کی لیگل فرم موسیک فونیسکا (Mossack Fonesca) میں الیکٹرانک نقب زنی Hackingکے ذریعہ ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات کاپلندہ اڑاکر جرمنی کے دو تفتیشی صحافیوں بیسشین اوبرمیئر اور فریڈرک اوبرمائر کے حوالے کیا گیا۔ یہ روداد پراسرار لیکن دلچسپ ہے۔ بیسشین کا کہنا ہے کہ ایک رات انھیں نامعلوم شخص کا فون آیا جس نے اپنا نام جان ڈو بتایا۔ جان ڈو کا کہنا تھا کہ میرے پاس ایسی معلومات ہیں کہ جسکا افشا تمہیں دنیائے صحافت کا روشن ستارہ بنادیگا۔ جان ڈو نے اسی رات فریڈرک کو بھی فون کیا جسکے بعد ان صحافیوں کے برقی پتے پر فائلوں کا تانتا بندھ گیا۔ خیال ہے کہ جان ڈو (فرضی نام) موسیک فونسیکا کا کوئی ناراض ملازم تھا جس نے سنسنی خیز معلومات کا خزانہ ان دونوں صحافیوں کے حوالے کردیا۔

 اس افشا سے ساری دنیامیں ہلچل مچ گئی۔پانامہ ہنگامے کا پہلا شکار آئس لینڈ‌ کے وزیراعظم سگمند گنلوگسن (Sigmundur Gunnlaugsson)بنے جنھوں نے پاناما لیکس کے کچھ ہی دن بعد استعفیٰ دے دیا۔ پاناما لیکس سے معلوم ہوا تھاکہ سگمندر گنلوگسن اور ان کی اہلیہ ایک ماورائے ساحل یا آف شور کمپنی کے مالک ہیں جن کے بارے میں انھوں نے اپنے محکمہ ٹیکس کو معلومات فراہم نہیں کی تھیں۔کچھ ایسا ہی معاملہ مالٹا کے وزیراعظم جوزف مسقط کے ساتھ پیش آیا جنکا اپنا دامن تو صاف تھا لیکن پانامہ دستاویزات سے انکشاف ہوا کہ انکی کابینہ کے  وزیر سیاحت کونریڈ مزی، وزیراعظم کے مشیر کیتھ شیمبری کے علاوہ خاتونِ اول   مشل ٹینٹی نے ماورائے ساحل کمپنیاں قائم کررکھی ہیں۔

وزیراعظم مسقط نے اس خبر کے شایع ہوتے ہی یہ کہہ کر استعفٰی دیدیا کہ سرپر دھرےالزام کے اس بھاری بوجھ کے ساتھ وہ اپنی قوم کی قیادت نہیں کرسکتے۔ عوام نے اپنے قائد کے اخلاص کی قدر کرتے ہوئے صرف 60 دن بعد ہونے والے انتخابات میں مسٹر مسکٹ کی جھولی ووٹوں سے بھردی اور وہ پہلے سے بھی بڑی اکثریت اور حد درجہ احترام کے ساتھ اقتدار میں واپس آگئے۔ اس ضمن میں دوسرے رہنماوں کے ساتھ روسی صدر ولادیمر پوتن اور پاکستانی وزیراعظم نواز شریف اور انکے برطانوی ہم منصب  ڈیوڈ کیمرون کو سیاسی خفت کا سامنا کرنا پڑا۔

اس فہرست میں پاکستان کے 446 افراد کے نام شامل تھے جنکی تحقیقات کیلئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی لیکن صرف نواز شریف کے خلاف تحقیقات کا آغاز ہوا اور پاکستان کے سابق وزیراعظم بھی پانامہ کے بجائے اقامہ کی بناپر نااہل قراد دئے گئے۔ باقی کسی فرد یا ادارے کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔ آگے بڑھنے سے پہلے چند سطور' آفشور کمپنی' کی ہئیت، تصور اور فوائد پر۔

ساری دنیا میں تجارتی ادارہ قائم کرنے کیلئے متعلقہ مقتدرہ سے اجازت لی جاتی ہے۔ رجسٹریشن کے وقت ابتدائی سرمائے یا راس المال (Capital)کی تفصیلات کیساتھ یہ بتانا ضروری ہے کہ سرمایہ کن ذرایع سے حاصل کیا گیا ہے۔ رجسٹریشن کے بعد جب کاروبار شروع ہوجائے تو مالی سال کے اختتام پر ٹیکس کا گوشوارہ جمع کرنا بھی لازمی ہے۔بینکوں میں کھاتہ (Account)کھولتے وقت بھی آمدنی کے ذرایع بتانا ایک قانونی شرط ہے۔

دنیا کے بعض چھوٹے چھوٹے جزائر پر نیم خودمختار ریاستیں قائم ہیں جہاں تجارت کے آغاز پر حصولِ سرمایہ کے ذرایع سے متعلق معلومات جمع کرانا ضروری نہیں اور نہ ان ملکوں میں منافع پر ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔اسی طرح بینکوں میں کھاتہ کھولنے کیلئے بھی سرمائے سے متعلق معلومات پر اصرار نہیں ہوتا بلکہ بعض ممالک میں بے نامی اکاونٹ رکھنے کی بھی اجازت ہے جنکی شناخت صرف اکاونٹ نمبر ہے۔

دنیا بھر سے چوری کی ہوئی دولت ان ملکوں میں لائی جاتی ہے۔ یہ بے ایمان یہاں کے بینکوں میں اکانٹ کھول کر کالا دھن بینکوں میں جمع کرادیتے ہیں۔ کمپنیاں قایم کرکے ان رقومات کو کاروباری منافع ظاہر کیاجاتا ہے اور پھر یہ لوٹا ہوا سرمایہ  مختلف ملکوں کو بینکوں کے ذریعے منتقل کردیا جاتا ہے۔ ان ملکوں میں اسکی وصولی جائز آمدنی کے طور پر ہوتی ہے۔ شناخت کو گنجلک و مبہم رکھنے کیلئے تہہ بہ تہہ یا Layering Companies بناکر ایک ادارے کے حصص دوسری کمپنیوں کو بیچ دئے جاتے ہیں اور  یہ خرید وفروخت اس کثرت سے ہوتی ہے کہ اصل مالکان کا سراغ لگانا ناممکن ہوجاتا ہے۔

ستم ظریفی کہ کالے اور ناجائز دھن کو اجلا ومُصٖفّا کرنے کے اکثر کارخانے مہذب دنیا کی نوآبادیات ہیں جنھیں ٹیکس چوروں کی جنت یا Tax Heavenکہا جاتاہے۔ ان میں سے چند یہ ہیں:

پانامہ (Panama): وسطی و جنوبی امریکہ کے ساحل پر واقع پانامہ  اسپین کی کالونی ہواکرتاتھا جسے 1903 میں آزادی دیدی گئی۔

برمودا (Bermuda): شمالی بحر اوقیانوس میں 64ہزار نفوس پر مشتمل یہ ملک برطانیہ کی نیم خودمختار کالونی ہے۔ اسکے ساحلوں پر چمکدار گلابی ریت سیاحوں کو مسحور کردیتی ہے

جرسی (Jersey): شمال مغربی فرانس کے ساحل پر واقع یہ ملک تاجِ برطانیہ کی ملکیت ہے۔ جرسی کی آبادی ایک لاکھ سے کچھ زائد ہے

برٹش ورجن آئی لینڈ (BVI): جیسا کہ نام سے ظاہر ہے غرب الہند (Caribbean)میں واقع بی وی آئی بھی برطانیہ کی ایک کالونی ہے۔ اس ملک کی آبادی تیس ہزار کے قریب ہے

لکژمبرگ :(Luxembourg) سوالاکھ نفوس پر مشتمل مغربی یورپ کا یہ ملک برسلز، فرینکفرٹ  اور اسٹراسبرگ کی طرح یورپی یونین کے چار دارالحکومتوں میں سے ایک ہے

باہاماس (Bahamas) : بحر اوقیانوس میں ویسٹ انڈیز کے قریب واقع اس مجمع الجزائر کی آبادی پونے چارلاکھ سے کچھ زائد ہے

سوئٹزرلینڈ اس اعتبار سے ٹیکس چوروں کی جنت ہے کہ وہاں کے بہت سے بینکوں میں اب بھی بے نامی اکاونٹ کھولنے کی اجازت ہے اگرچہ کہ ادھرکچھ عرصے سے حکومت اسکی حوصلہ شکنی کررہی ہے۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ 'آفشور کمپنی' قائم کرنا ؓبذات خود کوئی غیر قانونی، غیر اخلاقی یا غلط کام نہیں کہ ٹیکس میں دی گئی چھوٹ سے فائدہ اٹھانے کی  قانون اجازت دیتا ہے۔ امریکہ کے بہت سے  تجارتی اداروں نے جو دنیا کے مختلف ملکوں میں سرگرمِ عمل ہیں بیرونِ امریکہ کاروبار کیلئے ان 'جنتوں'میں ذیلی کمپنیاں قائم کررکھی ہیں جسکی بنا پر انھیں دوسرے  ملکوں سےحاصل ہونے والے منافع  پر ٹیکس نہیں ادا کرنا پڑتا۔ واشنگٹن کو یہ 'روش' پسند نہیں لیکن اسے قانونی تحفظ حاصل ہے چنانچہ امریکہ کی درجنوں ملٹی نیشنل کمپنیاں اس سہولت سے فائدہ اٹھارہی ہیں۔ 

اگر چہ کہ ماورائے ساحل تجارتی ادارے قایم کرنے کا بنیادی محرک ٹیکس میں بچت ہے لیکن تیسری دنیا کے کاروباری اپنے سرمائے کے تحفظ کیلئے بھی یہ راستہ اختیار کرتے ہیں۔ کچھ لوگ  دبئی اور خلیج کے دوسرے علاقوں میں کمپنیاں قائم کرتے ہیں جسکی وجہ انھیں ان ملکوں کے اقامتی ویزے مل جاتےہیں۔

اس وضاحت کے بعد ہم اصل موضوع کی طرف واپس آتے ہیں۔

پانامہ لیکس کے ایک سال بعد انھیں دونوں جرمن صحافیوں یعنی بیسشین اوبرمیئر اور فریڈرک اوبرمائر نے میونخ سے شایع ہونے والے اخبار میں آفشور کمپنیوں کے حوالے سے ایک اور انکشاف کیا۔ اس بار یہ دستاویزات ایک لیگل فرم Appleby سے افشا ہوئیں۔ ایپل بی برمودا کی ایک آفشور کمپنی ہے اور جو اس قسم کا کاروبار کرنے والوں کو قانونی مشاورت فراہم کرتی ہے اخبار نے ایک کروڑ 34لاکھ دستاویزات تفتیشی صحافیوں کی عالمی انجمن ICIJکو پیش کردیں۔انجمن سے وابستہ 380 صحافیوں نے دستاویزات کی تفصیلی چھان پھٹک کے بعد انھیں درست قرار دے دیا اور  20اکتوبر 2017 کو یہ دھماکہ خیز رپورٹ شائع کردی گئی۔چونکہ یہ انکشاف Tax Heavenکے بارے میں تھی اسلئے اسےParadise Papers کا نام دیا گیا۔ یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ اللہ نے جنت، دیانت داروں، صدیقین و متقین کیلئے تیار کی ہے اور یہاں بے ایمانوں، ٹیکس چوروں اور حرام کمائی کے ٹھکانوں کو  جنت کا نام دیا جارہا ہے۔ پیراڈائز پیپرز میں ملکہ معظمہ سمیت برطانیہ کے شاہی خاندان کے کرتوت افشا کئے گئے تھے۔ اسکے علاوہ یہ رپورٹ امریکہ کے سابق وزیرخزانہ اور صدر ٹرمپ کے دست راست ولبر راس کے بارے میں سنسنی خیز انکشافات سے مزین تھی۔ ملکہ برطانیہ سے متعلق مواد کو 'گستاخی' سے تعبیر کیا گیا اور کئی صحافیوں کے خلاف مقدمات درج ہوئے۔ شائد یہی وجہ تھی کہ اس رپورٹ کا ویسا چرچا نہ ہوا جو پانامہ لیکس کے موقع پر نظر آیا تھا۔

اب تین اکتوبر کوپاکستانی معیاری وقت کے مطابق رات ساڑھے نو  بجے ICIJنے اپنی ویب سائٹ پر 'پنڈوراپیپرز' کے عنوان سے سنسنی خیز تفصیلات جاری کیں یا یوں کہیے کہ پنڈورا بکس پر سے ڈھکن اٹھادیا۔ یونانی زبان میں پنڈورا کا مطلب نادر و پراسرار تحائف ہیں۔ یونانی علم الاصنام یا اساطیریات (mythology)کے مطابق جب لوہاروں، بڑھیوں، نقاش، شعرا، فنکاروں، مستریوں اور مصوروں کے دیوتاوں نے پہلی عورت تخلیق کی تو ہر دیوتا نے اس خاتون کو 'صالح زندگی' گزارنے کے طریقے سکھائے اور دنیا میں بھیجنے سے پہلے بدی کی ہرقسم کی تفصیل صحیفوں کی شکل میں اسے دیدی تاکہ وہ آنے والی نسل کو اسکے بارے میں بتاسکے۔ بڑھئی دیوتا نے ان 'تحائف' یا پنڈوروں کو رکھنے کیلئے لکڑی کا ایک صندوق بنادیا جو پنڈورہ بکس کہلایا۔ جب اس عورت نے زمین پرآکر پنڈورہ بکس کھولا تو  اندر سے نکلنے والے صحیفے اپنی مثال آپ تھے۔ ہر دیوتا  کی ہدائت و تذکیر نہ صرف مختلف تھی بلکہ باہم متصادم بھی۔ کچھ دیوتاوں نے دوسروں کے بارے میں انتہائی شرمناک انکشاف کررکھےتھے اور پھرسب سے بڑی قباحت یہ تھی کہ ڈھکنا کھل جانے کے بعد پنڈورا بکس کو بند کرنا ممکن نہ تھا اور اس میں سے صحیفے خود ہی باہر نکل رہے تھے۔ پنڈورا بکس برسوں بلکہ شائد صدیوں صحیفے اگلتا رہا اور اتفاق سے ایک دستاویز پر پنڈورا بکس کو بند کرنے کا منتر تحریر تھا۔ خاتون نے وہ منتر پڑھا اور خودبخود چارسُو پھیلے صحیفے ایک ایک کرکے پنڈورہ بکس میں واپس چلے گئے اور اسکا ڈھکن بند ہوگیا۔ اسکے بعد سے جب بھی کوئی خاتون  اس عورت سے بدی یا برائی کے بارے میں دریافت کرتی کہ اس بابت دیوتا جی نے کیا فرمایا  ہے تو وہ صندوق کے ڈھکن کو مضبوطی سے تھام کر کہتی 'بی بی پنڈورا بکس نہ کھولو کہ میں اسے بند کرنے کا منتر بھول چکی ہوں'۔ اسی حوالے سے 'پینڈورا بکس کھولنا' تقریباً تمام زبانوں میں ضرب المثل بن گیا۔

پنڈورا پیپرز ایک کروڑ بیس لاکھ دستاویزات و مشمولات کا پلندہ ہے جو 117 ممالک میں 600 سے زیادہ صحافیوں کو 14 مختلف سرکاری و غیر سرکاری ذرایع سے ہاتھ لگے ہیں۔ تفتیشی صحافت سے وابستہ ان  600 صحافیوں میں پاکستان کے عمر چیمہ اور فخر درانی بھی شامل ہیں۔معلومات کا یہ خزانہ 64 لاکھ دستاویز، 29 لاکھ تصاویر، 12 لاکھ برقی خطوط (email)، پونے پانچ لاکھ spreadsheetsاور نو لاکھ متفرق کاغذات  پر مشتمل ہے جنھیں کھنگھالنے میں دوسال لگے۔ ان دستاویزات سے  چھپی ہوئی دولت، ٹیکس چوری اور دنیا کے  امیر و مقتدر افراد کی جانب سے کالے دھن کو اجلاکرنے کی کوششوں کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ عوامی دولت پر ڈاکے کی زیادہ تر وارداتیں 1996 سے 2020 کے عرصے میں ہوئی ہیں تاہم کچھ دستاویزات 1970 کی بھی ہیں۔

ان پردہ نشینوں میں اُردن کے فرمانروا عبداللہ دوم،چیکوسلاواکیہ کے وزیرِ اعظم آندرے بابس، کینیا کے صدر اہورو کنیاتا، روسی مردِ آہن  ولادیمر پیوٹن، یوکرین کے صدر ولادیمر زیلنسکی، ایکواڈور کے صدر گیلرمو لاسو، صدرِ آذربائیجان الہام علیوف،خاتون، اول اور انکے 11 سالہ صاحبزادے حیدرعلیوف، اردن کے  دو سابق وزرائےاعظم، سابق برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر، انکی اہلیہ چیری بلیئر، ،قطر کے سابق امیر شیخ صباح الاحمد الصباح، قطر کے سابق وزیرِ اعظم حماد بن جاسم الثانی، بحرین، موزمبیق اور لبنان کے سابق وزرائے اعظم شامل ہیں۔

سیاستدانوں کے ساتھ امریکہ کے سیاہ فام ارب پتی رابرٹ اسمتھ، مشہور بھارتی کرکٹر سچن ٹنڈولکر، ہندوستانی سرمایہ کار انیل انبانی، عالمی شہرت یافتہ گلوگارہ شکیرہ  اور بعض دوسرے فنکاروں کے نام بھی اس فہرست میں موجودہں۔

آئی سی آئی جے کی طرف سے جاری ہونے والی فہرست میں 700 پاکستان بھی شامل ہیں جنھوں نے  ماورائے ساحل تجارتی ادارے قائم کررکھے ہیں۔ان  میں وزیرِ خزانہ شوکت ترین، وفاقی وزرا فیصل واوڈا، مونس الہیٰ، خسرو بختیار،  پنجاب کے سینئر وزیر علیم خان،  پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل میمن، راجہ نادر پرویز،  اسحاق ڈار کے صاحبزادے علی ڈار اور نواز شریف کے نواسے جنید صفدر شامل ہیں۔ افشا ہونے والی دستاویزات میں کچھ پر لاہور کے  زمان پارک کا پتہ لکھا ہوا ہے جو وزیراعظم عمران خان کی آبائی رہائش گاہ ہے۔ تاہم یہ پتہ دوبار درج ہے جس سے معاملہ ذرا مشکوک لگ رہا ہے کہ  ایک گھر کا پتہ دوبار کیوں ثبت ہوا ؟

اسی کیساتھ ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی، بول ٹی وی کے مالک شعیب شیخ، نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ (NIT)کے منیجنگ ڈائریکٹر عدنان آفریدی، نیشنل بینک کے صدر عارف عثمانی  کے اسمائے گرامی بھی اس فہرست کا حصہ ہٰیں۔ جماعت اسلامی، جمیعت علمائے اسلام اور کسی دینی جماعت سے وابستہ کوئی شخص اس فہرست میں شامل نہیں۔ پاک فضائیہ کے سابق سربراہ عباس خٹک سمیت ایک درجن کے قریب سینئر افسران نے بھی مبینہ طور پر ماورائے ساحل تجارتی ادارے قائم کر رکھے ہیں۔ 

ہمیں پوری فہرست دیکھنے کا موقع نہیں  ملا لیکن ا ب تک جو نام سامنے آئے ہیں ان میں ہندوستان کے کسی معروف سیاسی رہنما یا فوجی افسر کا ذکر نہیں دیکھا

یہ تو تھا پنڈورہ باکس سے افشا ہونے والی فہرست کا ایک اجمالی جائزہ۔ سوال پیداہوتا ہے کہ اب کیا ہوگا؟

کیا منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں تک مالی وسائل کی  رسائی روکنے  کیلئے FATFاور اس جیسے دوسرے قوانین کے نام پر  ایران، شمالی کوریا اور پاکستان جیسے ممالک کا ناطقہ بند کرنے والا 'مہذب مغرب'  ٹیکس چوری، مالی بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے اِن سوتوں کو بند کرنے کیلئے کوئی عملی قدم آٹھائیگا؟ پاناما پیپرز سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی تھی کہ آف شور کمپنیاں دہشت گردی کی مالی امداد کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہیں۔ لیکن معاملہ یہ ہے کہ بے ایمانوں کی بعض جنتیں فرانس اور برطانیہ کی ذیلی ریاستیں اور یورپی یونین کے اہم ممالک ہیں۔ پناما لیکس کے بعد جرمنی نے 'پاناما قانون' متعارف کروایا۔  کچھ یورپی ممالک میں ایسے مسودہ قوانین پر کام ہورہا ہے جن کے تحت  آفشور کمپنیوں کے حسابات ٹیکس گوشواروں کے ساتھ  ضمیمے کی شکل میں جمع کرانا لازمی قراردیا جائے گا

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فہرست میں شامل تمام کے تمام 700 لوگوں سے پوچھ گچھ کی جائیگی لیکن پانامہ لیکس کے 446 افراد کے خلاف چار سال گزرجانے کے بعد بھی کاروائی نہیں ہوئی تو اب کسی کاروائی کی توقع کیسے کیا جائے؟

برطانیہ نے منی لانڈرنک روکنے کیلئے بینکنک کے قوانین کو سخت کرنے کا عندیہ دیاہے۔ یہ عزم خوش آئند لیکن برمودا، جرسی اور برٹش ورجن آئی لینڈ جیسی ذیلی ریاستوں پر برطانوی قانون لاگو کردینے میں کیا امر مانع ہے؟ انکی طرف سے آنکھیں بند کیوں رکھی گئی ہیں۔  ظاہر ہے کہ جن جنتوں سے خو د ملکہ معظمہ مستفید ہورہی ہوں ان پر قفل لگانا اتنا آسان نہیں۔ٹیکس ماہرین کا خیال ہے کہ ٹیکس چوروں کی مضبوط لابی کو منشیات فروشوں، اسمگلروں اور سب سے بڑھ کر دہشت گردی کے سہولت کاروں کی پشت پناہی حاصل ہے جسکی وجہ آف شور لعنت کا خاتمہ آسان نظر نہیں آتا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 15 اکتوبر 2021

ہفت روزہ دعوت دہلی 15 اکتوبر 2021

روزنامہ امت کراچی 15 اکتوبر 2021

ہفت روزہ رہبر سرینگر  17 اکتوبر 2021

روزنامہ قومی صحافت  لکھنو


 

Tuesday, October 12, 2021

جی 20 کی خصوصی سربراہ کانفرنس برائے افغانستان

جی  20 کی خصوصی سربراہ کانفرنس برائے افغانستان

گروپ 20 دنیا کی 20 بڑی معیشتوں کی انجمن ہے جسکا مقصد باہمی تعاون کے ذریعے عالمی معیشت کو نشو ونما دیناہے۔دنیا کی مجموعی عالمی پیداوار یا GWPکا 90 فیصد ،  دوتہائی آبادی اور 75 سے 80 فیصد عالمی تجارت   ان 20 ممالک   سے وابستہ ہے۔ سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ارکان کے علاوہ ہمارا پڑوسی ہندوستان بھی G-20کا حصہ ہے۔ مسلم ممالک میں انڈونیشیا، سعودی عرب اور ترکی  G-20 کے رکن ہیں۔

جی 20 کے موجودہ سرابرہ اور اٹلی کے وزیراعظم ماریو دریگی (Mario Draghi)نے افغانستان کے مسئلے پر  انجمن کا خصوصی سربراہی اجلاس   طلب کیا۔  ہندوستان  اور فرانس نے  اجلاس کی مخالفت کی تھی۔ ان دونوں ممالک کاخیال  ہے کہ ملاوں سے مذاکرات نہیں بلکہ انکی مرمت کی ضرورت ہے۔  تاہم  ماریو دریگی  اور ترک صدر  کے اصرارپر ا صدر بائیڈن  نے اجلاس بلانے کی حمائت  کردی اور جب چچا سام ہاں کہدیں تو پھر مودی ہو ں یا ایمیونل میخواں ، کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ

چوہتر سا لہ ماریو دریگی  عالمی شہرت یافتہ ماہر معاشیات، اقتصادیات کے استاد اور تجربہ کار بینکار  ہیں۔اٹلی کی وزارت عظمیٰ سبنھالنے سے پہلےوہ  8 سال تک  یورپین سینٹرل (اسٹیٹ) بینک کے گورنر رہ چکے ہیں اور اس دوران انکی امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ سے خوب نونک جھونک رہی۔ ماریو افغانستان میں فوجی مداخلت  کے ہمیشہ سے  خلاف تھے۔ جب جارج بش نے افغانستان  پر حملہ کیا اسوقت موصوف جامعہ ہارورڈ کے  اسکول برائے نظمِ حکومت  سے وابستہ تھے۔ اس دوران اپنے مقالوں اور خطابات میں ماریو دریگی نے طاقت کے استعمال کو سب کیلئے خطرناک قراردیا۔

جب سے  طلبہ نے افغانستان کا انتظام سنبھالا ہے ماریو صاحب، ملاوں سے   رابطے پر زور دے رہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ سفارتی تعلقات قائم کرنا یا نہ کرنا اتنااہم نہیں لیکن 'نئی حقیقت ' سے منہہ چرانا اور کابل کے حکمرانوں کو دیوار سے لگانا عالمی امن کیلئے سخت خطرہ بن سکتا ہے،  خاص طور سے جب مالِ غنیمت  میں ملنے والے  جدیداسلحے کے بعد اسٹوڈنٹس دنیا کی  ایک قابل ذکر فوجی طاقت بن چکے ہیں۔

منگل کو مجازی یا Virtual سربراہی اجلاس  منعقد ہوا جس میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بھی شریک ہوئے جبکہ قطر کے حکمراں کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا۔ روس اور چین  کے سرابراہان نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔  چین کا اصرار تھا کہ  اگر امریکہ اورانکے اتحادی افغان عوام سے واقعی مخلص ہیں تو  زبان چلانے سے پہلے افغانستان پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم کریں اور افغان اسٹیٹ بینک کے جواربوں  ڈالرمنجمد کئے گئے ہیں وہ افغان عوام کو واپس کئے جائیں۔

اجلاس میں کلیدی خطاب  ماریو دریگی کا تھا جنھوں نے کہا  کہ  طالبان ایک حقیقت ہیں،سارے ملک پر انکی گرفت مضبوط ہے اور تمام ریاستی اداروں نے ملاوں سے وفاداری کااعلان کردیا ہے لہذا  اصلاح احوال کیلئے طلبہ سے رابطہ ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ سفارتی تعلقات  قائم کرنے کا فیصلہ تمام ملک اپنی ترجیحات کے مطابق کرینگے لیکن  20 سالہ جنگ سے تباہ حال افغانستان  کی تعمیرنو عالمی برادری کی ذمہ داری ہے اور اس کام کیلئے طالبان سے براہ راست  رابطے کے سواکوئی چارہ نہیں۔

فرانسیسی صدر نے خواتین کے حقوق کا راگ الاپا جسکے جواب میں جناب  دریگی نے افغان حکومت کے ترجمان کا یہ بیان نقل کیا جسمں کہا گیا ہے کہ   خواتین کے تعلیمی اداروں کی بحالی کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ بہت سے صوبوں میں سیکنڈری اسکول تک تعلیم شروع ہوچکی ہے ۔ نجی کالجوں اور جامعات کی طالبات بھی تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ عنقریب سرکاری جامعات اور کالج بھی کھل جائینگے۔  ترک  صدر اور قطر کے فرمانروا نے بھی  اسٹوڈنٹس سے رابطے اور ملکی کی تعمیر نو میں افغانستان کی مدد پر زور دیا۔ جناب اردوان کا کہنا تھا کہ افغانوں کی اپنی تہذیب اور معاشرتی اقدار ہیں اور اس ضمن میں یورپ کو اپنے معیار پر اصرار سے گریز کرنا چاہئے۔

 امریکی صدر نے ماریودریگی  کے موقف کی حمائت کی اور انکا لہجہ بڑا نرم تھا۔دودن پہلے ملاوں نے  مالی امداد کے عوض داعش کے خلاف مشترکہ کاروائی کی پیشکش کو جس حقارت سے مسترد کیا ہے اس پربائیڈن انتظامیہ سبکی محسوس کررہی ہے۔


 

Thursday, October 7, 2021

امریکی سینیٹ میں افغان مخالف بل ۔۔۔ سارے علاقے کو غیر مستحکم کرنے کی ایک کوشس

امریکی سینیٹ میں افغان مخالف بل

سارے علاقے کو غیر مستحکم کرنے کی ایک کوشس

امریکی سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے خارجہ تعلقات کے نائب سربراہ (Ranking Member)سینیٹر جم رِش نے انسداد دہشت گردی، نگرانی اور احتساب برائے (سقوطِ) افغانستان یا Afghanistan Counterterrorism, Oversight and Accountabilityکے عنوان سے ایک مسودہ قانون یا بِل پیش کیا ہے۔ پیر 27 ستمبر کو جمع کرائے جانے والے اس بل پر محرک سمیت 22 سینیٹروں نے دستخط کئے ہیں۔ بلا استثنا تمام کے تمام دستخط کنندگان کا تعلق ریپبلکن پارٹی کے قدامت پسند، مسلم مخالف دھڑے سے ہے۔ مسودے کے مندرجات پر گفتگو سے پہلے بِل پیش کرنے والے بعض فاضل ارکانِ سینیٹ کے بارے میں چند سطور تاکہ قارئیں اس مسودہِ قانون کے اصل محرکات کا اندازہ کرسکیں۔

ریاست آئیڈاہو (Idaho)کے سینیٹر جم رِش اسرائیل کے نہ صرف پرجوش حامی ہیں بلکہ وہ صیہونی ریاست کی حمائت کو اپنے مسیحی عقیدے کی بنیاد قراردہتے ہیں۔ پندرہ سال پہلے کچھ سلیم الفطرت امریکی اساتذہ، وکلا، سماجی کارکنوں اور طلبہ نے اسرائیل پر معقولیت اختیار کرنے کیلئے دباو کی غرض سے اسرائیل کے اقتصادی بائیکاٹ کی مہم شروع کی جسے اقتصادی بائیکاٹ، عدم سرمایہ کاری اور پابندی (Boycott, Disinvestment and Sanctions) المعروف BDSکا نام دیاگیا۔ اس مہم کو جامعات میں پزیرائی نصیب ہوئی۔ اکثر جامعات اپنی وقف دولت کو  سرمایہ کاری کیلئے استعمال کرتی ہیں تاکہ انکی دولت میں اضافہ ہو۔ بی ڈی ایس نے تحریک چلائی کہ ان رقومات سے اسرائیلی اداروں میں سرمایہ کاری نہ کی جائے۔ اس سلسلے امریکہ کی موقر ترین جامعہ کیلی فورنیا برکلے میں BDSکو زبردست کامیابی نصیب ہوئی اور طلبہ یونین نے  اسرائیلی بائیکاٹ کی قرارداد منظور کرلی۔ کچھ دن بعد جامعہ کی سینیٹ اور بورڈ آف ڈائریکٹرز نے بھی طلبہ کی تجوزیر کو سندِ توثیق بخش دی ۔

یہ خبر سامنے آتے ہی امریکی کانگریس میں اسرائیلی ترغیب کاروں (Lobbyist) نے زبردست مہم چلائی اور جان رش نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر Israeli Anti-Boycott Actمنظور کرالیا جسکے تحت BDSکی حمائت کو یہوددشمن یا Anti-Semitic  گردانتے ہوئے اسرائیل کے بائیکاٹ کو قابل سزا جرم قرار دے دیا گیا۔ اس قانون کے مطابق اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے والے تعلیمی اداروں کو وفاقی حکومت کی مدد اور گرانٹ نہیں دی جاسکتی۔

وسکونسن کے سینیٹر ران جانسن نے جارج فلائیڈ کے پولیس کے ہاتھوں بہیمانہ قتل پر ہونے والے مظاہروں کو کمیونسٹ زیرزمین دہشت گرد تنظیم Antifaکی تحریک قراردیتے ہوئے مظاہرین کے خلاف فوج کے استعمال کا مطالبہ کیا۔ موصوف نے اس سال جنوری میں صدارتی انتخاب کے بعد الیکٹرل کالج کے ووٹوں کی گنتی کے دوران کانگریس کی عمارت پر دائیں بازو کے دہشت گرد حملے کی دبے الفاظ میں حمائت کی۔

ریاست اوہایو کے راب پورٹ مین سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے اندرون سلامتی کے نائب سربراہ اور اسرائیل کے پرجوش حامی ہیں

ریاست مس سپپی(Mississippi) کی محترمہ سینڈی ہائیڈ اسمتھ نے  ووٹنگ رائٹ بل کی مخالفت کی۔ اس قانون کا مقصد سیاہ فام اور رنگدار افراد کے ووٹ ڈالنے میں رکاوٹ کو سنگین جرم قراردینا ہے۔

ریاست ٹینیسی Tennesseeکی محترمہ مارشا بلیک برن  نے صدر اوباما کے انتخابات کے بعد برتھ سرٹیفیکیٹ بل پیش کیا تھا جسکے مطابق صدارتی انتخاب لڑنے والے افراد کیلئے امریکہ میں اپنی پیدائش ثابت کرنے کیلئے صداقت نامہ جمع کرانا ضروری قراردیا گیا تھا۔ امریکہ کے نسل پرستوں کا موقف تھا کہ صدر اوباما ایک افریقی کے بیٹے ہیں جنکی ولادت کینیا میں ہوئی تھی۔

فلورڈا کے سینیٹر مارکو روبیو نے چند برس پہلے   Combating BDS ACTکے عنوان سے ایک مسودہ قانون پیش کیا جس میں اسرائیل کے بائیکاٹ پر جرمانہ دگنا کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ روبیو صاحب کے والدِ بزرگوار کیوبا سے ہجرت کرکے فلورڈا تشریف لائے تھے لیکن ایک مہاجر کے چشم و چراغ روبیو کوغیر ملکیوں کا امریکہ آنا پسند نہیں۔

اس بل کے دوسرے اہم حمائتیوں میں ریپبلکن پارٹی کے وہپ جان تو ن (John Thune)، سابق صدارتی امیدوار مٹ رامنی، محترمہ سوزن کالنز، رچرڈ بَر اور جان ارنسٹ شامل ہیں۔ یہ تمام کے تمام افراد اپنی فکر کے اعتبار سے قدامت پسند، اسرائیل کے حامی اور مسلم مخالف سمجھے جاتے ہیں۔

مجوزہ بل میں افغانستان سے امریکی انخلا کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا گیاہے۔ بل میں تجویز کیاگیاہے کہ:

  • معاملے کا جائزہ لینے کیلئے امریکی وزارت خارجہ ایک ٹاسک فورس تشکیل دے جو افغانستان میں اب بھی موجود امریکی شہریوں، حاملینِ گرین کارڈ اور امریکی فوج کے سہولت کاروں کے وہاں سے باعزت و باحفاظت انخلا کی حکمت عملی مرتب کرے۔ وہاں سے خصوصی امیگریشن ویزا(SIV)اور بطور پناہ گزین امریکہ آنے والوں کیلئے ایک جامع طریق کار متعین کیا جائے
  • افغانستان میں انسداد دہشت گردی اور بطورِ مالِ غنیمت طالبان کے ہاتھ آنے والے امریکی اسلحے کو ٹھکانے لگانے (disposition) کی حکمت عملی تیار کی جائے
  • طالبان اور دوسرے دہشت گردوں کیساتھ منشیات فروشوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پابندیاں عائد کی جائیں
  • ریاستی اور غیر ریاستی عناصر بشمول پاکستان کی طرف سے طالبان کو ملنے والی مبینہ مالی مدد، محفوظ پناہ گاہیں اور سازو سامان اور تربیت کی مبینہ فراہمی کا جائزہ لیا جائے
  • ایسے ممالک اور افراد جو 2001 سے 2021 تک طالبان کی حمایت کرتے رہے ہیں ان پر پابندیاں عائد کی جائیں
  • مسودے کے مطابق رپورٹ میں اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ گزشتہ 20 برسوں کے دوران اور 15 اگست کو کابل کا کنٹرول حاصل کرنے لیے کس نے طالبان کی مدد کی
  • مجوزہ بل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ محکمہ خارجہ، دفاع اور  سراغرساں اداروں کے حکام یہ رپورٹ بل منظور ہونے کے 180 روز کے اندر کانگریس کو جمع کرائیں

بادی النظر میں یہ بل صدر بائیڈن کے خلاف فرد جرم نظر آرہی ہے۔ سینیٹ میں سماعت کے دوران امریکی جرنیلوں سے کئے جانیوالے ریپبلکن ارکان کے تیکھے سوالات سے اندازہ ہوتا ہے امریکی حزب اختلاف افغانستان میں اپنی شکست کا ملبہ صدر بائیڈن پر ڈالنا چاہتی ہے۔

اب سے تیرہ ماہ بعد امریکہ میں وسط مدت کے انتخابات ہونے ہیں اور جائزوں کے مطابق صدر بائیڈن کی مقبولیت تیزی سے کم ہورہی ہے۔ امریکی سینیٹ میں اسوقت برسراقتدار ڈیموکریٹک پارٹی اور ریپبلکن پارٹی کی پارلیمانی قوت بالکل برابر ہے، یعنی 100 رکنی ایوان میں دونوں پچاس پچاس نشستوں پر براجمان ہیں۔ چونکہ بر بنائے عہدہ، سینیٹ کی سربراہی نائب صدر کے ہاتھ میں ہے اسلئے کملا دیوی ہیرس صاحبہ اہم رائے شماری کے دوران اپنا فیصلہ کن ووٹ ڈال کر صدر بائیڈن کی نیّا پار لگادیتی ہیں۔ ایوان زیریں میں بھی صدر بائیڈن کی جماعت کو معمولی سے برتری حاصل ہے اور 435 کے ایوان میں انکے 220 ارکان ہیں، یعنی واضح اکثریت سے صرف دو زیادہ۔ ریپبلکن پارٹی نے کانگریس سے ڈیموکریٹک پارٹی کی برتری ختم کرنے کیلئے انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ امریکی حزب اختلاف اپنا ہدف حاصل کرنے کیلئے خاصی پرامید ہے کہ اگر ایوان زیریں کی صرف تین نشستیں ڈیموکریٹک پارٹی سے  چھین لی جائیں تو بائیڈن اقتدار کا آخری دوسال امریکی صدر کیلئے عذاب بن سکتا ہے۔

اگلے سال سینیٹ کی جن 34 نشستوں پر انتخابات ہورہے ہیں ان میں قرارداد پر دستخط کرنے والے9 ارکان بھی شامل ہیں جنھیں مدت پوری ہونے پر ووٹروں کا سامنا ہے۔ اسکے علاوہ اس بل کے کئی دستخط کنندگان کی نظریں 2024 کے صدارتی انتخابات پر ہیں۔پاکستان اور ہندوستان کے تجزیہ نگار اس قرارداد کو پاکستان کے خلاف پابندیوں کے نئے سلسلے کا نقظہ آغاز دے رہے ہیں جبکہ  امریکی سیاست کے ماہرین کا خیال ہے کہ تحریک کا بنیادی محرک 2022 کے وسط مدتی پارلیمانی اور 2024 کے صدارتی انتخابات ہیں۔

ریپبلکن پارٹی افغانستان میں شکست کا ذمہ داری  صدر بائیڈن کے سرڈال رہی ہے حالانکہ اس بےمقصد خونریزی کا آغاز  اکتوبر 2001 میں ریپبلکن صدر بش نے کیا اور  جب 29 فروری 2020 کو'ہتھیار ڈالنے' کی تقریب قطر میں منعقد ہوئی تب بھی ایک  ریپبلکن صدر ٹرمپ برسر اقتدار تھے۔ قطر معاہدے میں بہت صراحت سے درج تھاکہ امریکی فوج کا انخلا یکم مئی 2021 تک مکمل کرلیا جائیگا اور کرونا کی وجہ سے عسکری نقل و حرکت پر پابندی کے باوجود افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا جاری رہا جسکے لئے فوج کے کمانڈر انچیف کی حیثیت سے صدر ٹرمپ نے استثنا جاری کیا۔ صدر بائیڈن کا موقف بھی یہی ہے کہ انھوں نے صدر ٹرمپ کے دور میں طئے پانے والے معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے طالبان کی رضامندی سے انخلا کو اگست تک موخر کیا۔ 

افغانستان سے فوجی انخلا پر تو ساری امریکی قوم یکسو تھی اور طالبان کی برتری بھی امریکیوں نے تسلیم کرلی تھی۔ واشنگٹن کا خیال تھا کہ طالبان اپنے وعدے کے مطابق پسپا ہوتی انکی فوج کو تحفظ فراہم کرینگے اور امریکہ افغانستان کا انتطام اشرف غنی انتظامیہ کو منتقل کرکے باعزت انداز میں وہاں سے نکل آئینگے۔ امریکیوں کو یہ خدشہ تو تھا کہ  نیٹو انخلا کے بعد افغان فوج کیلئے طالبان کا مقابلہ آسان نہ ہوگا لیکن انھیں ملک کی قبائلی ترکیبب کی بنا پر 'امید' تھی کہ ملک خانہ جنگی کا شکار ہوجائیگا اور پھر اقوام عالم کیساتھ مل کر امریکہ افغانستان میں 'اصلاحِ احوال' کی کوشش کریگا جس سے شکست اور پسپائی کا تاثر ختم ہوجائیگا۔

لیکن تین اگست کو نمزور کے دارالحکومت میں افغان فوج نے اپنااسلحہ طالبان کے حوالے کردیا جسکے دوسرے دن ہیرات میں جنگجو رہنما اسماعیل خان نے ہتھیار ڈال دئے اور صرف چند ہی دنوں میں ایک بھی گولی چلائے بغیر طالبان نے اس شان سے افغانستان پر قبضہ کیاکہ امریکی فوج کا جدید ترین اسلحہ ملاوں کے قبضے میں آگیا۔ امریکی وزارت دفاع کےذرایع اس مالِ غنیمت کی مالیت 80 ارب ڈالر قراردے رہےہیں۔

سارے ملک پر قبضے کے باوجود طالبان نے کابل میں داخل ہونے سے گریز کیا کہ قطر میں ملا عبد الغنی برادر کو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے یقین دلایا تھا کہ اگر طالبان عام معافی کا وعدہ کریں تو افغان حکومت  'باعزت انتقالِ اقتدار' کیلئے تیار ہیں۔ طالبان کے امیر ملا ہبت اللہ اس سے پہلے ہی عام معافی کا اعلان کرچکے تھے چنانچہ ڈاکٹر صاحب کی یقین دہانی اور اسکی امریکہ کی جانب سے توثیق کے بعد طالبان نے کابل کی طررف پیشقدمی روکدی۔ لیکن اسکے دوسرے ہی دن صدر اشرف غنی فرارہوگئے اور انکے نائب امراللہ صالح نے پنجشیر میں پناہ لے لی۔ اسکے بعد جو ہوا اسکی تفصیل امریکی فوج کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل مائک ملی نے امریکی سینیٹ میں خود بیان کی ہے۔ جنرل صاحب نے سماعت کے دوران بتایا کہ  کابل کو چند درجن موٹر سائیکل سواروں نے جو اللہ اکبر کے نعرے لگارہے تھے،ایک بھی گولی چلائے بغیر فتح کرلیا۔ جنرل ملی نے افسردہ لہجے میں کہا کہ جدید ترین اسلحے سے لیس تین لاکھ سے زیادہ تربیت یافتہ فوج چند ہزار ملاوں کے سامنے گیارہ دن بھی نہ ٹھیر سکی 

افغان فوج کے دل چھوڑدینے اور اشرف غنی کے غیر متوقع فرار سے باعزت پسپائی کا امریکی منصوبہ درہم برہم ہوگیا اوراقوام عالم کے سامنے امریکہ ہزیمت اور رسوائی کا استعارہ بن گیا۔ جوکچھ وسط اگست میں ہوا اسکی بنیاد قطر معاہدہ ہے جس پر صدر ٹرمپ  کے حکم سے دستخط کئے گئے لیکن اسکے منظقی انجام کی شرمندگی بائیڈن انتظامیہ کو اٹھانی پڑی اور اب ریپبلکن پارٹی قومی شرمندگی کو  جماعتی مفاد کیلئے استعمال کررہی ہے۔

معاملہ اگر صدربائیڈن کے احتساب تک رہتا تب بھی ٹھیک تھا کہ امریکہ کی داخلی سیاست سے دنیا کو کیا سروکار لیکن اس مسودہ قانون کی منظوری افغانستان اور پورے خطے میں امریکی مداخلت کے ایک نئے سلسلے کا نقطہ آغاز ہوگی۔ طالبان کے خلاف کڑی اقتصادی پابندیوں کیساتھ نئی افغان حکومت کو تسلیم کرنے والے ممالک کو بھی چچا سام کے عتاب کا سامنا کرنا ہوگا۔ امریکی حکومت،  پاکستان، طالبان اور چین کے مقابلے میں ہندوستان کے دفاع، معیشت اور سفارتکاری کے شعبوں میں مدد کی پابند ہوگی۔ بعض سینیٹروں نے ویغور مسلمانوں کو چین کے خلاف استعمال کرنے کی حکمت عملی تجویز کی ہے جسکے لئے ترکی، ازبکستان اور تاجکستان کی مدد درکار ہوگی۔طالبان حکومت کو غیر مستحکم کرنے کیلئے تاجکستان میں پناہ گزین امراللہ صالح اور احمد شاہ مسعود کے صاحبزادے احمد مسعود کی نصرت بھی نئی امریکی حکمت عملی کا حصہ ہوگی۔ 

اس بل کے قانون بن جانے کی صورت میں وسط ایشیا کے افغانستان سے تعلقات میں تلخی کی حوصلہ افزائی کی جائیگی۔ چین اور ازبکستان و تاجکستان کے تعلقات میں کشیدگی پیدا کی جائیگی اور ہندوستان کو چین اور پاکستان کے خلاف اکسایا جائیگا۔ یہ بدنصیب علاقہ کئی دہائیوں سے تصادم اور جنگوں کا عذاب سہہ رہا ہے۔ اب صدر بائیڈن سے 2020 میں اپنی شکست کا بدلہ لینے کیلئے ان قدامت پسند و متعصب سینیٹروں نےنفرت و بداعتمادی کے بارود پر نئی چنگاری بکھیرنے کا عزم کرلیا ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل،  8 اکتوبر 2021

ہفت روزہ دعوت دہلی، 8 اکتوبر 2021

روزنامہ امت 8 اکتوبر 2021

ہفت روزہ رہبر سرینگر، 10 اکتوبر 2021

روزنامہ قومی صحافت لکھنو