Thursday, April 14, 2022

امریکہ کی سفارتی تنہائی ۔۔۔ نیا عالمی نظام؟؟؟

امریکہ کی سفارتی تنہائی ۔۔۔ نیا عالمی نظام؟؟؟

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں امریکہ کو اس وقت شدید سفارتی تنہائی کا سامناکرنا پڑ جب انسانی حقوق کونسل UNHRCسے روس کو نکالے جانیکی قرارداد پر ایشیا، لاطینی امریکہ اور افریقہ کے زیادہ تر ملک یا تو غیرجانبدار رہے یا امریکی موقف کے خلاف ہاتھ اٹھادئے۔ یوکرین اور واشنگٹن کے اتحادیوں کا کہنا تھا کہ روسی فوج یوکرین میں سنگین جنگی جرائم کی مرتکب ہورہی ہے۔

انسانی حقوق کی کونسل 2006میں قائم کی گئی تھی  جسکا مقصد دنیا بھر میں انسانی حقوق کو یقینی بنانا ہے۔ جنیوا اس ادارے کا صدر مقام ہے اور اسکے 47ارکان  افریقہ، ایشیا وبحرالکاہل، مشرقی یورپ، لاطینی امریکہ  و غرب الہند (Caribbean),مغربی یورپ و شمال امریکہ  کیلئے مختص نشستوں پر  منتخب ہوتے ہیں جنکی مدت تین سال ہے۔ ایشیا و بحرالکاہل کیلئے مختص 13 نشتوں میں سے چار پر 2023تک چین، نیپال، پاکستان اور ازبکستان براجمان ہیں جبکہ ہندوستان کی مدت 2024 میں ختم ہورہی ہے۔

بد قسمتی سے اقوام متحدہ کے دوسرے اداروں کے طرح انسانی حقوق کونسل بھی بس “گپ شپ” کی ایک آرام دہ جگہ ہے۔ کشمیر اورفلسطین میں انسانی حقوق  کی پامالی، امریکہ میں سیاہ فاموں سے امتیازی سلوک، مغرب کے منظور نظر آمروں کی جانب سے اپنے مخالفین پر بدترین تشدد، برمی اور ویغوروں کی نسل کشی جیسے معاملات پر UNHRCبیانات اور 'تشویش' سے آگے نہیں بڑھی۔ روسی  تاتاروں اور اہل شیشان پر ہونے والے مظالم کا  UNHRCنے کبھی کوئی ذکر تک نہیں کیا۔

تکنیکی اعتبار سے تو یہ قراداد دو تہائی اکثریت سے منظور ہوگئی کہ 24  مقابلے  میں93 ممالک نے اسکے حق میں رائے دی اور ادارے سے  روسی رکنیت کی معطلی اب دنوں کی بات ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے اسے ایک  بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے روس کو مشورہ دیا ہے کہ وہ زبانِ خلق کو نقارہ خدا سمجھے۔ لیکن  بین الاقوامی سیاست کے علما ایک دوسری تصویر پیش کررہے ہیں۔

یہ درست کہ رائے شماری میں حصہ لینے والے دوتہائی ممالک نے قرارداد کی حمائت کی اور اس پر واشنگٹن کو مبارک سلامت کے ڈونگرے برسانے کا حق حاصل ہے۔لیکن اگر اسے مجلس کے کل 193ارکان کے تناسب سے دیکھا جائے تو جنرل اسمبلی کے نصف سے بھی کم ارکان نے قرارداد کی حمائت میں ہاتھ بلند کئے۔اٹھارہ ممالک اجلاس سے غیر حاضر رہے اور وہاں موجود 58 ارکان رائے شماری کے دوران غیر جانبدار رہے۔

مسلم دنیا یعنی OICکے 57ملکوں میں سے صرف ترکی،چاڈ، لیبیا اور البانیہ نے حمائت کی۔الجزائر، ایران  اور شام سمیت 10مسلم ممالک نے مخالفت میں ووٹ ڈالےاور باقی تمام مسلم اکثریتی ممالک غیر حاضر یا غیر جانبدار رہے

سارے براعظم افریقہ سے صرف چاڈ اور لیبیا نے حمائت کی، چھ ممالک مخالفت میں کھڑے ہوئے اور باقیوں نے غیر جانبداری کا علم بلند کیا۔حال ہی میں اسرائیل کو تسلیم کرنے والا مراکش، اجلاس میں سرے سے شریک ہی نہیں ہوا۔ اسرائیل کا دوسرا نیا افریقی دوست سوڈان غیر جانبدار رہا اور مغرب کی کوششوں سے سوڈان کو دوٹکڑے کرکے جنوبی سوڈان کے نام سے جو ملک تراشہ گیا ہے اس نے بھی امریکہ کی حمائت کے بجائے غیر جانبدار رہنے کو ترجیح دی۔

ہندوستان اور سعودی عرب سمیت امریکہ کے غیر یورپی اتحادیوں میں سےکسی ایک نے بھی قرارداد کی حمائت نہیں  کی اورسب کے سب خود کو غیر  جانبداری کے گھونگھٹ میں چھپائے رہے

وسط ایشیا سے قرارداد کو ایک بھی ووٹ نہ ملا، قازقستان، کر غستان، تاجکستان اور ازبکستان نے مخالفت کی جبکہ آذربائیجان  اور ترکمانستان ممالک اجلاس سے غیر حاضر رہے۔ افغانستان کی رکنیت عملاً معطل ہے

برصغیر کے تینوں ممالک یعنی پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش رائے شماری کے دوران غیر جانبدار رہے۔ ایشیا میں ترکی، فلپائن، جنوبی کوریا، جاپان اور برما کے سوا تمام ایشیائی ممالک مخالف یا غیر جانبدار رہے۔

مشرق وسطی میں صرف اسرائیل نے دوستی کا حق ادا کیا۔ واشنگٹن کے تمام خلیجی اتحادی اور مصر غیر جانبدار ہے۔

اس سے پہلے 26 فروری کو سلامتی کونسل میں رائے شماری کے دوران بھی ہندوستان اور متحدہ عرب امارات غیر جابندار رہے تھے۔ یوکرین میں فوری جنگ بندی کی اس قرارداد کو روس نے ویٹو کرکے  غیر موثر کردیا تھا۔اس موقع پر چین نے مخالفت کے بجائے غیر جانبدار رہنے کو ترجیح دی تھی جسے واشنگٹن میں ایک بڑی سفارتی کامیابی قراردیا گیا۔

میدانِ سفارت کے ساتھ امریکہ کو مالیاتی محاذ پر بھی شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ واشنگٹن نے روس پر جو اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں ان میں سب سے اہم امریکہ، جاپان، برطانیہ اور یورپی یونین کے بینک ہائے دولت (State Banks)کی وہ ہدائت ہے جسکے تحت امریکی ڈالر، برطانوی پونڈ، یورو اور جاپانی ین میں کوئی رقم روسی بینکوں کو منتقل نہیں کی جاسکتی۔  عالمی نیٹ ورک سے تعلق مسدود کرنے کیلئے رابطے کا محفوظ نظام SWFITیا BIC Codeسے روس کا رابطہ ختم کردیا گیا ہے۔ جسکے نتیجے میں روسی بینکوں کیلئے نہ صرف غیر ملکی مالیاتی اداروں سے لین دین مشکل ہوگیا ہے بلکہ اب روسی صافین اپنے ملک میں اعتباری (Credit)کارڈ بھی استعمال نہیں کرسکتے۔

ان پابندیوں کی وجہ سے یورپ کو فروخت کی جانے والی گیس کی ادائیگی معطل ہے یعنی  صارفین روسی توانائی سے تو مستفید ہورہے ہیں لیکن روس کو قیمت کی ادائیگی نہیں ہورہی۔لطف یہ کہ گیس فراہم کرنے والےروسی ادارےGazprom  اور یورپی تقسیم کنندگان کے درمیان جو معاہدے ہیں انکی رو سے 'عدم ادائیگی' کا اطلاق بھی قانونی طور پر ممکن نہیں  کہ ادائیگی کیلئے خریداروں کی صلاحیت اور نیت دونوں بہت واضح ہیں۔ ان اداروں کا کہنا ہے کہ ہم نے بِل کی رقم آپکے کھاتے میں جمع کرادی ہے۔ رقم کی منتقلی کیلئےآپ کے دئے ہوئے SWIFTکوڈ کی ہمارا بینک تصدیق نہیں کرپارہا جسکی وجہ سے رقم کی منتقلی میں خلل پڑرہا ہے۔

امریکی حالیہ پابندیوں کا ہدف روس ہے لیکن وینیزویلا، ایران اور شمالی کوریا ان پابندیوں کو کافی پہلے سے بھگت رہے ہیں۔ چین بھی امریکہ کے اس ہتھیار یعنی ڈالر کی اجارہ داری سے خوفزدہ ہے۔ اسی بناپر بیجنگ درآمد و برآمد کیلئے ڈالر کے بجائے اپنی کرنسی، یووان (Yuan)میں لین دین کرنا چاہتا ہے اور چین اپنی ان کوششوں میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوتا نظر رہاہے۔  روس اور چین باہمی تجارت  روسی روبل (ruble)اور چینی یووان میں کرنے پر رضامند ہوگئے ہیں۔  شنید ہے کہ سعودی عرب، چین سے اپنے تیل کی قیمت یووان میں وصول کرنے پر آمادہ ہے۔ کچھ ایسی ہی خبریں متحدہ عرب امارات اور قطر سے بھی آرہی ہیں۔ روبل، یووان اور مقامی کرنسیوں میں لین دین سے جہاں ایشیائی ممالک کا ٖڈالر پر انحصار کم ہوگا وہیں روس پر لگائی جانے والی پابندیاں بھی قدرے غیر موثر ہوجائیں گی۔

ہندوستان نے سرکاری طور پر اب تک روبل میں لین دین کا اعلان نہیں کیا لیکن خبر گرم کے کہ بھارت کی قومی توانائی کمپنی ONGCکا ذیلی دارہ او این جی سی ودیش لمیٹیڈ(OVL)اپنی بیرونِ ہند شاخوں کے ذریعے روسی تیل روبل میں خرید کر ہندوستان بھیجنے پر غور کررہا ہے۔ او وی یل کے اثاثے برازیل، قازقستاں، ویت نام، شام، بنگلہ دیش، لیبیا اور عراق سمیت دنیا بھر کے 37 سے زیادہ ممالک میں ہیں۔ روس میں سائیبریا کے علاوہ  جزیرہ سخالن (Sakhalin)پر او وی ایل کئی  پیداواری اثاثوں کا مالک ہے جن میں سخالن ایک (Sakhalin-1)میدان میں اووی ایل کا حصہ  20 فیصد ہے۔ اس میدان سے تیل کی پیدوار کا تخمینہ سوادولاکھ بیرل یومیہ سے زیادہ ہے۔ تیل کے علاوہ یہاں سے گزشتہ سال 12 ارب مکعب میٹر گیس بھی حاصل کی گئی۔ اس مشارکے میں امریکی تیل کمپنی ایکسون Exxonکا حصہ 30 فیصد ہے۔ پابندیوں کی بنا پر ایکسون یہاں سے نکلنا چاہتی ہے اور بہت ممکن ہے کہ  مشارکے میں ایکسون کے حصص اووی ایل خرید لے۔

بھارت معاہدہ اربعہ (QUAD)کا سرگرم رکن ہے۔ بحرالکاہل سے بحر ہند کو نکلنے والے راستوں کی نگرانی کیلئے یہ اتحاد، ہندوستان، جاپان، آسٹریلیا اور امریکہ پر مشتمل ہے۔ امریکہ کے دفاعی ماہرین کواڈ کو بحرہند کا نیٹو کہتے ہیں۔ دوسری طرف بھارت روسی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہے اور اسکے ماسکو سے مراسم خاصے گہرے ہیں، چنانچہ  یوکرین کے معاملے پر دہلی کی غیرجانبداری بلکہ کسی حد تک روس کی طرف جھکاو واشنگٹن کیلئے  حیرت کا باعث نہیں۔

مارچ کے آخر میں کریملن نے جوصدارتی فرمان جاری کیا ہے اسکے بارے میں ہم گزشتہ نشست میں تفصیل سے بتا چکے ہیں۔ اس حکم میں بہت صراحت سے کہا گیا ہے کہ یکم اپریل سے یورپ کو فراہم کی جانے والی گیس کی قیمت روبل میں وصول کی جائے گی۔صدارتی فرمان کے بعد Gazpromقانونی طور پر قیمتیں روبل میں لینے کی پابند ہوگئی ہے۔ حسب توقع  مغربی حکومتوں نے اس مطالبے کو یہ کہہ کر ترنت مسترد کردیا کہ خرید و فروخت کے معاہدوں میں ان کرنسیوں کا تعین کیا جاچکا ہے جس میں یکطرفہ تبدیلی معاہدے کی خلاف وزری ہوگی۔

لیکن 5 اپریل کو آسڑیا کی توانائی کمپنی OMVنے روسی ادارےGazprom سے ایک معاہدے پر رضامندی ظاہر کردی جسکے تحت او ایم وی روسی گیس کی قیمت روبل (ruble)میں ادا کریگی۔ دوسرے دن دارالحکومت بڈاپیسٹ (Budapest) میں اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربن نے بھی روسی گیس کی قیمت روبل میں اداکرنےکا عندیہ دیدیا۔ جب ایک صحافی نے ان سے یورپی یونین کی جانب سے روس کے معاشی بائیکاٹ کا ذکر کیا تو جناب اوربن نے کہا یہ روس اور ہنگری کا باہمی معاہدہ ہے جسکا یونین یا نیٹو سے کوئی تعلق نہیں

کچھ ایسی ہی خبریں سلاواکیہ Slovakiaسے بھی آرہی ہیں۔ سلاوک وزیر اقتصادیات رچرڈ سولک نے سرکاری ٹیلیویژن کو بتایا کہ سلاواکیہ روسی تیل اور گیس کی قیمت روبل میں ادا کرنے کو تیار ہے۔تاہم پولینڈ کی سرکاری تیل کمپنی PGNiG کے سربراہ پال میجیسکی نے کہا کہ انکا ادارہ معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے یورو میں ادائیگی جاری رکھے گا۔

غیر یورپی اتحادیوں کی سردمہری اور لین دین کیلئے روبل پر رضامندی سے امریکہ بہادر  سخت تشویش میں مبتلا ہیں۔امریکی مرکز ہائے دانش (Think Tanks)میں اس معاملے پر تفصیلی بحث و مباحثہ ہورہا ہے۔ دوسری طرف امریکی جرنیلوں کا خیال ہے کہ یوکرین کی جنگ جلد ختم ہونے والی نہیں۔ گزشتہ دنوں ایوان نمائندگان(قومی اسمبلی) کی مجلس قائمہ برائے دفاع  کے سامنے بیان دیتے ہوئے امریکی فوج کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل مارک ملی نےکہا کہ اثرورسوخ بڑھانے کیلئے عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی اور اسلحے کی دوڑ میں تیزی آرہی ہے اور اس خطرے کے سدباب کیلئے مالیاتی، عسکری اور سفارتی ہرسطح پر مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔

روس نے نیٹو کی متوقع رکنیت کو یوکرین پر حملے کا جواز بنایا ہے۔اسکے  باوجود نیٹو میں توسیع کی مہم جاری ہے۔ گزشتہ دنوں نیٹو کے سکریٹری جنرل  جینس اسٹولٹن برگ نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ اگر فن لینڈ اور سویڈن نیٹو کی رکنیت اختیار کرنا چاہیں تو انھیں خوش آمدید کہا جائیگا۔ فن لینڈ کی 1340کلو میٹر طویل سرحد روس سے ملی ہوئی ہے۔ نیٹو کی اس پیشکش پر تبصرہ کرتے ہوئے فن لینڈ کی وزیراعظم محترمہ ثنا میرن نے فرمایا کہ نیٹو کی چھتری کے نیچے آنے میں فائدے کیساتھ  نقصان اور خطرات بھی ہیں۔ انکی حکومت متوقع امکانات، مواقع اور مضمرات کا جائزہ لے رہی ہے۔

امریکی اثرورسوخ میں کمی سے جہاں امریکی وزارت دفاع اور وزارت خارجہ کے بابووں کو شدید تشویش ہے وہیں صدر بائیڈن اپنی صدارت کے بارے میں بھی اندیشہ ہائے دور دراز میں مبتلا ہیں۔ اس سال نومبر میں یہاں پارلیمانی انتخابات ہونے ہیں جب ایوان نمائندگان (قومی اسمبلی)کی تمام کی تمام 435 اور سینیٹ کی 100میں سے 34 نشتوں پر چناو ہوگا۔ سینیٹ میں صدر بائیڈن اور حزب اختلاف کی ریبپلکن پارٹی 50:50سے برابر ہیں جبکہ مہنگائی کی وجہ سے رائے عامہ کے جائزے برسراقتدار جماعت کیلئے بہت زیادہ حوصلہ افزانہیں۔ دورسرے معاملات کے علاوہ امریکہ کے قدامت پسندوں نے عالمی مالیاتی نظام میں ڈالر کی کمزور ہوتی گرفت کا الزام صدر بائیڈن پر لگانا شروع کردیا ہے۔انکاکہنا ہے کہ ڈیموکریٹ صدر قائدانہ صلاحیت سے محروم ہیں جسکی وجہ سے عالمی اسٹیج پر امریکہ اپنے اتحادی اور اثرورسوخ کھورہا ہے۔ ڈر ہے کہ کہیں خود کو دبنگ ثابت کرنے کے ہونکے میں امریکی صدر کوئی ایسا قدم نہ اٹھالیں جس سے عالمی امن خطرہ میں پڑ جائے ۔   

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل 15 اپریل 2022

ہفت روزہ دعوت 15 اپریل 2022

روزنامہ امت کراچی 15 اپریل 2022

ہفت روزہ رہبر سرینگر 17 اپریل 2022

روزنامہ قومی صحافت لکھنو


 

Tuesday, April 12, 2022

روسی تیل اور امریکہ ہند رازونیاز

 

روسی تیل اور امریکہ ہند رازونیاز

امریکہ اور ہندوستان کےبعد درمیان 11 اپریل کو ہونے والی  مجازی (virtual)چوٹی ملاقات  امریکی دفتر خارجہ کے مطابق بہت خوشگورار رہی۔ اسی کیساتھ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع کی سالانہ کانفرنس  بھی واشنگٹن میں ہوئی۔  جسکے لئے ہندوستان کے وزیرخارجہ ایس جے شنکر اور وزیردفاع رج ناتھ سنگھ  ایک دن پہلے  یہاں پہنچے تھے۔ سالانہ کانفرنس کا سلسلہ 2018 سے شروع ہوا ہے جسے 2+2کا نام دیا گیا۔دو جمع دو سالانہ بیٹھک کا مقصد ہند امریکہ   تعاون کو  نتیجہ خیز بنانا ہے۔

چوٹی کانفرنس میں معاہدہ اربع (QUAD)سمیت تمام امور پر گفتگو ہوئی لیکن قصرِ مرمریں  نے ایک دن پہلے جاری ہونے والے  اعلامئے میں بڑی صراحت سے کہا تھا کہ ملاقات کے دوران یوکرین کے خلاف روسی جارحیت سے پیداہونے والا عدم استحکام ایجنڈے کا ایک اہم نکتہ ہوگا۔امریکہ کو شکائت ہے کہ  یوکرین کے معاملے میں دلی، واشنگٹن کا اس گرمجوشی سے ساتھ نہیں دے رہا جسکی ایک مخلص اتحادی سے توقع ہے۔ بھارت نے روسی حملے کی مذمت تو کی لیکن سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی دونوں جگہ روسی کے خلاف قرارداد پر امریکہ کا ساتھ دینے کے بجائے مودی انتظامیہ غیر جانبدار رہی۔

صدر بائیڈن روسی معیشت کو ضرب لگانے کیلئے اسکی تیل اور گیس برآمدات کا گلا گھونٹ دینا چاہتے ہیں۔ بھارت اپنی ضرورت کیلئے ہر روز 45 لاکھ بیرل تیل درآمد کرتا ہے۔اس حجم کا بڑا حصہ   سعودی عرب اور خلیجی ممالک سے  حاصل کیا جاتس ہے لیکن اب روس نے ہندوستان کو رعائتی قیمتوں پر تیل فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ حال ہی میں دہلی نے روس سے 30 لاکھ بیرل تیل  انتہائی سستے داموں خریدا ہے ۔

 سرکاری طور پر ہندوستان نے روس سے روبل میں اب تک کوئی خریدرای نہیں لیکن  خبر گرم کے کہ بھارت کی قومی توانائی کمپنی ONGCکا ذیلی دارہ او این جی سی ودیش لمیٹیڈ(OVL)اپنی بیرونِ ہند شاخوں کے ذریعے روسی تیل روبل میں خرید کر ہندوستان بھیجنے پر غور کررہا ہے۔ او وی یل کے اثاثے برازیل، قازقستاں، ویت نام، شام، بنگلہ دیش، لیبیا اور عراق سمیت دنیا بھر کے 37 سے زیادہ ممالک میں ہیں۔ روس میں سائیبریا کے علاوہ  جزیرہ سخالن (Sakhalin)پر او وی ایل کئی  پیداواری اثاثوں کا مالک ہے جن میں سخالن ایک (Sakhalin-1)میدان میں اووی ایل کا حصہ  20 فیصد ہے۔ اس میدان سے تیل کی پیدوار کا تخمینہ سوادولاکھ بیرل یومیہ سے زیادہ ہے۔ تیل کے علاوہ یہاں سے گزشتہ سال 12 ارب مکعب میٹر گیس بھی حاصل کی گئی۔ اس مشارکے میں امریکی تیل کمپنی ایکسون Exxonکا حصہ 30 فیصد ہے۔ پابندیوں کی بنا پر ایکسون یہاں سے نکلنا چاہتی ہے اور بہت ممکن ہے کہ  مشارکے میں ایکسون کے حصص اووی ایل خرید لے۔

بھارت معاہدہ اربعہ (QUAD)کا سرگرم رکن ہے۔ بحرالکاہل سے بحر ہند کو نکلنے والے راستوں کی نگرانی کیلئے یہ اتحاد، ہندوستان، جاپان، آسٹریلیا اور امریکہ پر مشتمل ہے۔ امریکہ کے دفاعی ماہرین کواڈ کو بحرہند کا نیٹو کہتے ہیں۔ دوسری طرف بھارت روسی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہے اور اسکے ماسکو سے مراسم خاصے گہرے ہیں، چنانچہ  یوکرین کے معاملے پر دہلی کی غیرجانبداری بلکہ کسی حد تک روس کی طرف جھکاو واشنگٹن کیلئے  حیرت کا باعث نہیں۔

ملاقات کے بعد  صدارتی ترجمان محترمہ جین ساکی نے  بات چیت کی تفصیلات  بتانے سے سے گریز کرتے ہوئے  بس اتناکہا کہ   امریکہ تیل کیلئے ہندوستان کی ضروریات کو اچھی طرح سمجھتا ہے لیکن صدر بائیڈن نے وزیراعظم نریندرا مودی کو باور کروادیا کہ روس سے   تیل خریدنا ہندوستان کے مفاد میں نہیں۔

اسی ضمن میں ایک تازہ خبر یہ ہے کہ  گروپ سیون (G-7)چوٹی اجلاس میں ہندوستان کی شرکت پر جرمنی اور فرانس نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ جرمنی اس کانفرنس کا میزبان ہے جو  26 سے 28 جون تک  جنوب مشرقی جرمنی کے علاقے  بئین (Bavaria)  میں منعقد ہوگی۔ تنظیم کے سات ارکان کے علاوہ سینیگال، جنوبی افریقہ اور انڈونیشیا کو بطورِ خصوصی  مہمان  مدعو کیا گیا ہے۔  صدر بائیڈن کی خواہش ہے کہ مہمانوں کی فہرست میں ہندوستان کا بھی شامل کیا جائے۔ جرمن  قیادت کا خیال ہےکہ یوکرین کی جنگ میں ہندوستان کا رویہ  جمہوری دنیا کی توقعات کے مطابق نہیں۔



 

Thursday, April 7, 2022

یوکرین اور ڈالر کی اجارہ داری

 یوکرین اور ڈالر کی  اجارہ داری

یوکرین کی جنگ دوسرے مہینے میں داخل ہوچکی ہے۔ کشور کُشائی کے شیطانی شوق نے ساڑھے چار کروڑ یوکرینیوں کی زندگی جہنم بنادی ہے۔ پینتالیس (45) لاکھ سے زیادہ افراد ملک چھوڑ کر پولینڈ، رومانیہ، سلاوک ریپبلک اور مالدووا ہجرت کرچکے ہیں۔ بیس لاکھ کے قریب یوکرینی قیامت خیز بمباری سے بچاو کے لیے ملک کے اندر ہی ایک شہر سے دوسرے شہر مارے مارے پھررہے ہیں۔ اس قسم کے لوگوں کو اقوام متحدہ اندرونی بے گھر افراد یا IDPs کہتی ہے۔ افغانستان پر دسمبر 1979کے روسی حملے اور دس سالہ قبضے کے دوران 50 لاکھ افغان پناہ کے لیے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے جس میں 40 لاکھ پاکستان، آٹھ لاکھ ایران اور باقی امریکہ سمیت دنیا کے مختلف علاقوں میں نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ اس دوران 20لاکھ افراد IDPs بن گئے۔

یوکریینیوں کے ساتھ اس جنگ کا عذاب غریب ممالک بھی بھگت رہے ہیں جہاں پیٹرول اور گیس کے ساتھ خوردنی تیل اور گندم کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ مصر، شام، لبنان اور یمن سب سے زیادہ متاثر ہیں جہاں استعمال ہونے والے گندم کی 70 فیصد مقدار یوکرین سے آتی ہے۔ تیل کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں نے بھی عام آدمی کی زندگیوں میں زہر گھول دیا ہے۔جنگ کے آغاز سے پہلے ہی کہا جارہا تھا کہ یوکرین پر حملے کی صورت میں امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادی بارودی گولیوں کے بجائے سونے کی گولیوں سے روس کی معیشت کو نشانہ بنائیں گے اور توقع کے عین مطابق بے پناہ روسی بمباری کے مقابلے کے لیے رقت آمیز یوکرینی دراخواستوں کے باوجود امریکہ اور اس کے اتحادی اپنے جنگی طیارے یوکرین بھیجنے پر تیار نہیں اور وہ اقتصادی پابندیوں کے خنجر سے روسی معیشت کا پیٹ چاک کرنا چاہتے ہیں۔

روسی برآمدات کا نصف تیل اور گیس پر مشتمل ہے جس کی بندش امریکیوں کا ہدف ہے لیکن یہ اتنا آسان نہیں۔ یورپ میں گیس کی ضرورت کا تخمینہ 512ارب مکعب میٹر (BCM)سالانہ اور یورپی ممالک کی اپنی سالانہ پیداوار 190 ارب مکعب میٹر ہے۔ گزشتہ برس روس نے پائپ لائن کے ذریعے 168 ارب مکعب میٹرگیس کے ساتھ 17 ارب مکعب میٹر مائع گیس یاLNG فراہم کی۔ مشرقی یورپ کے ممالک رومانیہ، پولینڈ، سلاواکیہ ، چیک ریپبلک، فن لینڈ ،بلغاریہ اور مالدوواکو فراہم کی جانے والی روسی گیس کا حجم اسکے علاوہ ہے۔امریکہ ،قطر، الجزائر،آذربائیجان اور دوسرے ملکوں سے مجموعی طور پر 130ارب مکعب میٹر گیس خریدی گئی۔

گزشتہ ہفتے جب نیٹو کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کے لیے صدر بائیڈن برسلز پہنچے تو تقریباً ہر مجلس میں انہیں گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا شکوہ سننا پڑا اور موصوف ہرجگہ ’آپ نے گھبرانا نہیں ہے‘ کا دلاسہ دیتے نظر آئے۔ یورپین کمیشن کی صدر محترمہ ارسلا وانڈرلین سے ملاقات کے دوران امریکی صدر نے 15 ارب مکعب میٹراضافی گیس فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔اس وقت یورپ کے لیے LNGکی شکل میں یورپ آنے والی امریکی گیس کا حجم 22 ارب مکعب میٹر ہے۔ اس سال کے آخر تک امریکہ یورپ کو50 ارب مکعب میٹر گیس سالانہ فروخت کرے گا۔ یہ بھاری اضافہ بھی روسی گیس کے مجموعی حجم کا صرف 24 فیصد ہے۔ اضافے کی اس یقین دہانی کو بہت سے ماہرین وعدہِ فردا قراردے رہے ہیں، اس لیے کہ LNGکی فراہمی کو آٹھ ماہ کے دوران دگنا کردینا اتنا آسان نہیں۔یورپی عوام امریکی گیس کی قیمت کے بارے میں بھی فکر مند ہیں۔ نوّے فیصد روسی گیس پائپ لائن کے ذریعے آتی ہےجبکہ امریکی LNGخصوصی ٹینکروں پر یورپ لائی جائے گی چنانچہ ٹینکروں اور مختلف بندگاہوں پر LNGپلانٹ کے کرائے کی شکل میں یورپی صارفین کو اضافی لاگت بھگتنا پڑے گی۔

ہمارے خیال میں یورپ کو روسی تیل اور گیس کی خرید صفر کردینے کی امریکی خواہش غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ دنیا کا یہ ترقی یافتہ خطہ اپنی توانائی کی چالیس فیصد ضروریات روسی گیس سے پوری کرتاہے۔ نیٹو ممالک نے روسی توانائی پر انحصار ختم کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں لیکن عزم و دعووں کے باوجود روسی توانائی پر انحصار ایک دم ختم کرنا ’اقتصادی‘ اعتبار سے ممکن نہیں۔ ہم نے جان کر ’اقتصادی‘ کی شرط لگائی ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں یہ ناممکن تو نہیں لیکن روسی تیل اور گیس سے فوری طور پر چھٹکارے کی یورپ کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

اس وقت دنیا میں تیل کی ایک تہائی پیداوار امریکہ، روس اور سعودی عرب سےحاصل ہوتی ہے اور ان ہر تین ملکوں کی اوسط پیداوار ایک کروڑ بیرل یومیہ ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکہ کی پیداوار ایک کروڑ تیس لاکھ بیرل ہوگئی ہے اور سعودی عرب بھی اب ایک کروڑ 5 لاکھ بیرل تیل روزانہ زمین سے نکال رہا ہے۔ گزشتہ دنوں صدر بائیڈن نے تیل کے امریکی تزویراتی ذخیرے یا Strategic Petroleum Reserve(SPR) سے دس لاکھ بیرل یومیہ جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 1973میں عرب اسرائیل جنگ کے دوران شاہ فیصل کی جانب سے امریکہ اور یورپ کے لیے تیل کی برآمدات بند کرنے پر امریکہ اور مغرب میں توانائی کا شدید بحران پیدا ہوا تھا۔ اس سے سبق سیکھتے ہوئے تیل اور گیس نچوڑ لی جانےوالی چٹانوں یا Depleted Reservoirsمیں ’’مشکل دنوں کے لیے ‘‘ 75 کروڑ بیرل سے زیادہ تیل محفوظ کیا گیا ہے۔ خیال ہے کہ یہ سلسلہ چھ ماہ جاری رہے گا، یعنی ان ذخائر سے مجموعی طور پر اٹھارہ کردڑ بیرل تیل بازار میں لایا جائے گا۔ صدر بائیڈن کے اس فیصلے سے تیل کی قیمتیں تو شاید وقتی طور پر دباو میں آجائیں لیکن اس سے امریکی صارفین کو حقیقی راحت ملنے کی امید نہیں۔ امریکہ میں ہرروز دوکروڑ بیرل تیل پھونکا جاتا ہے اور اس تناظر میں دس لاکھ بیرل اونٹ کے منہ میں زیرے سے زیادہ نہیں۔اسی بنا پر امریکہ کے یورپی اتحادیوں کا خیال ہے روسی تیل اور گیس پر انحصار وقت کے ساتھ کم تو کیا جاسکتا ہے لیکن اسے یکسر ختم کرنا ممکن نہیں۔ صدر پوتن نے اسی حوالے سے طنز کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ، روس نہیں یورپی معیشت کا قافیہ تنگ کررہا ہے۔

گزشتہ دنوں اٹلانٹک کونسل کے اجلاس میں بھی اس معاملے پر بحث مباحثہ ہوا۔ اٹلانٹک کونسل ایک امریکی مرکزِ دانش یا تھنک ٹینک ہے جو اٹلانٹک ازم (Atlanticism)کے فروغ کے لیے 1961 میں قائم ہوا تھا، یوں سمجھیے کہ یہ ادارہ نیٹو کا فکری شعبہ ہے۔کونسل کے شعبہ توانائی یا گلوبل انرجی فورم نے دبئی میں 28مارچ کو دوروزہ اجلاس منعقد کیا۔اس موقع پر اپنے کلیدی خطاب میں متحدہ عرب امارات کے وزیر توانائی سہیل بن محمدالمزروئ نے روس کے بائیکاٹ کو ناقابل عمل قراردیتے ہوئے کہا کہ سیاست کو ایک طرف کرکے کوئی بتائے کہ اگر روسی تیل پر پابندی لگادی جائے تو اس کمی کو کون پورا کرے گا؟۔ روسی تیل کا حجم ایک کروڑ بیرل یومیہ ہے، کیا دنیا میں کوئی ایسا ملک ہے جہاں سے تیل کی اتنی بڑی اضافی مقدار حاصل کی جاسکے؟ اماراتی وزیر نے کہا کہ سعودی عرب یا امریکہ کسی کے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ وہ اپنی پیداوار میں ایک کروڑ بیرل روزانہ کا اضافہ کرسکے۔ یعنی یہاں پاس کر یا برادشت والا معاملہ ہے۔ پابندیوں کے ’شور‘ سے روس کا تو زیادہ کچھ نہ بگڑا لیکن اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ہیجان نے تیل کے بھاو کو پَر لگادئے۔ماہرین کے خیال میں سیاست دانوں کو اندازہ ہی نہیں کہ تیل کی پیداوار بڑھانے کے لیے بھاری سرمایہ کاری درکار ہے اور بازار حسینوں کی طر ح تلون مزاج۔ اگر آج اربوں ڈالر خرچ کرکے پیدواری گنجائش بڑھادی جائے اور کل چچا سام ماسکو پر مہربان ہوکرپابندیاں ختم کردیں تو یہ اضافی تیل کہاں کھپے گا؟

مزے کی بات کہ جہاں امریکہ اور نیٹو روسی توانائی کی درآمد کم سے کم کرنا چاہ رہے ہیں وہیں ماسکو خود بھی اپنے مال کے لیے گاہک ڈھونڈھ رہا ہے۔ حالیہ دورہ ہندوستان میں وزیرخارجہ سرجی لاروو نے روسی اسلحہ خریدنے پر دلی کو ارزاں دام تیل فراہم کرنے کی پیشکش کی اور سودے کو مزید پرکشش بنانے کے لیے لین دین روسی روبل (ruble)اور ہندوستانی روپئے میں کرنے کی تجویز پر تبادلہ خیال کیا۔ ہندوستان چالیس لاکھ بیرل تیل یومیہ درآمد کرتا ہے۔

امریکہ اور برطانیہ کی خواہش ہے کہ روس کے خلاف اقتصادی پابندیوں کو مزید سخت کرنے کی مہم میں دلی نیٹو کا ساتھ دے۔ روسی وزیرخارجہ کی آمد سے پہلے برطانیہ کی وزیرخارجہ محترمہ لز ٹرس (Liz Trus) اور قومی سلامتی کے لیے صدر بائیڈن کے نائب مشیر دلیپ سنگھ ہندوستان پہنچے۔ ان دونوں رہنماوں نے ہندوستانی وزیرخارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات میں انہیں روس سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔ دلیپ سنگھ کا کہنا تھا کہ ہندوستان معاہدہ اربعہ (Quad)کا اہم رکن ہے اور وہ توقع کرتے ہیں کہ مودی جی روسی جارحیت کے خلاف عالمی اتحاد کا حصہ بنیں گے۔ساری دنیا کو توانائی کی ضرورت ہے لہذا دیر یا سویر روس اپنے تیل کے لیے نئی منڈی تلاش کرلے گا۔ چین کے علاوہ بھارت، بنگلہ دیش، پاکستان، سنگاپور، تھائی لینڈ اور دوسرے ترقی پزیر ایشیائی ممالک میں روسی تیل کھپ سکتا ہے۔

روس کے خلاف معاشی پابندیوں میں امریکہ کا تیر بہدف اور موثر ہتھیار ڈالر ہے۔ امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین اور جاپان کے ریاستی بینکوں (اسٹیٹ بینک) نے روس سے امریکی ڈالر، یورو، برطانوی پونڈ اور جاپانی ین میں لین دین پر پابندی لگادی ہے جس کی وجہ سے یورپ کو فروخت کی جانے والی گیس کی ادائیگی معطل ہے۔ نیٹو نے روس سے آنے والی گیس پائپ لائن بند نہیں کی اور یورپی صارفین کو گیس کی فراہمی جاری ہے لیکن روس کو قیمت کی ادائیگی نہیں ہورہی۔

روس اور چین، دوسرے ’ہمخیال‘ ملکوں کے تعاون سے امریکی ڈالر کی بالادستی بلکہ اجارہ داری ختم کرنے کے لیے مقامی کرنسیوں میں لین دین کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ خبروں کے مطابق چین نے روسی تیل کی قیمت چینی وان (Yuan)میں اداکرنے کی پیشکش کی ہے جس پر ماسکو آمادہ نظرآرہا ہے لیکن روسیوں کی خواہش ہے کہ ادائیگی کے لیے وان کے ساتھ روبل بھی استعمال کیا جائے۔ ان دونوں کرنسیوں کی شرح پر بات چیت جاری ہے۔ شنید ہے کہ سعودی عرب، چین سے اپنے تیل کی قیمت وان میں وصول کرنے پر آمادہ ہے۔ روبل، یوآن اور مقامی کرنسیوں میں لین دین سے جہاں ایشیائی ممالک کا ٖڈالر پر انحصار کم ہوگا وہیں روس پر لگائی جانے والی پابندیاں بھی غیر موثر ہوجائیں گی۔
اس ضمن میں گزشتہ ہفتے صدر پوتن نے ایک سرکاری حکم جاری کیا ہے جس کے تحت یکم اپریل سے یورپ کو فراہم کی جانے والی گیس کی قیمت روبل میں وصول کی جائے گی۔ اپنی نشری تقریر میں روسی رہنما نے کہا کہ ہم یورپی درآمدات کی قیمت نقد اداکرتے ہیں چنانچہ ہماری برآمدت کو خیرات نہ سمجھا جائے۔ اگرناروا پابندیوں کی وجہ سے ڈالرمیں ادائیگی مشکل ہے تو روسی بینکوں کو روبل میں رقم منتقل کی جائے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر روبل میں ادائیگی شروع نہ ہوئی تو یورپ کو گیس کی فراہمی معطل کردی جائے گی۔ مغربی حکومتوں نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ خرید و فروخت کے معاہدوں میں ان کرنسیوں کا تعین کیا جاچکا ہے اور ادائیگی طئے شدہ کرنسی میں ہی ہوگی۔ تین دن گزرجانے کے باوجود روس نے مغربی یورپ جانے والی گیس پائپ لائن گلا نہیں گھونٹا لیکن ماسکو اس نوٹس کو بنیاد بناکر کسی بھی وقت گیس بند کرکے یورپ خاص طور سے جرمنی کو مشکل میں مبتلا کرسکتا ہے۔

روسی روبل اور چینی وان میں عالمی تجارت کا حجم ابھی بہت ہی معمولی سا ہے لیکن واشنگٹن میں بے چینی کے آثار پیدا ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ اگر متبادل کرنسیوں میں کاروبار چل نکلا تو بین الاقوامی تجارت پر امریکہ کی بالادستی اور ڈالر بادشاہ کا بلاشرکت غیرے عالمی راج متاثر ہوسکتا ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپشل کراچی 8 پریل  2022

ہفت روزہ دعوت دہلی، 8 اپریل 2022

روزنامہ مت کرچی 8 اپریل 2022

ہفت روزہ رہبر سرینگر 2022

روزنامہ قومی صحافت لکھنو