Friday, November 4, 2022

یہ ہنگامہ ائے خدا کیا ہے؟؟؟؟

 

یہ ہنگامہ ائے خدا کیا ہے؟؟؟؟

لانگ مارچ اور عمران خان پر حملے کے بعد سے  سیاسی و صحافتی دانشور صورتحال کا اپنے انداز میں تجزیہ کررہے ہیں، اس   حوالے سے چند سطور:

عزیزو! اب  تک   ہمارے سیاسی نیتاوں کو  وردی والوں  سے اپنے  معاملات میں مدا خلت کی شکائت  تھی۔ کہا جاتا تھا کہ سجیلے  جوان    دوڑ میں   آگے نکل  جانیوالے   'سرکش' گھوڑے کو نا اہلی  کا چابک    لگاکر میدان سے  نکال باہر کرتے  ہیں ۔  پھر نئے شہسوار کو  'پاکستان کو ایشیا کا ٹائیگر بنادیا جائیگا'، ' پاکستان ایک مثالی لبرل و معاشرہ  بنے گا' ، دو نہیں ایک پاکستان' 'مدنی  ریاست'   'صاف چلی ،  شفاف چلی ' جیسے پرکشش نعروں اور وعدوں کیساتھ ایوان میں لایا جاتا ہے۔  کچھ عرصے  بعد   جب راندہ ِ  درگاہ گھوڑے  کے سر سے مقبولیت کا بھوت   اترجاتا ہے تو اسکے  سافٹ وئر میں مناسب تبدیلی کرکے اس new and improved  جانور کو دوبارہ مقابلے کے نشان پر کھڑا کردیا جاتا ہے کہ 'چل مرے گھوڑے بسم اللہ'

لگتا ہے کہ اس بار  ہمارے    سیاستدان   وردی والوں  سے ملنے والی کڑوری  دوا انھیں کو پلانے میں کامیاب ہوگئے۔

فوج  میں قیادت کی تبدیلی    بہت اہم سنگ میل ہے  کہ اوپر آنے  والی تبدیلی،  دوسرے اعلیٰ افسران کیلئے  ترقی ، من پسند تبادلے اور پرکشش مواقع کا پیغام لاتی ہے۔ فوج بہت منظم ادارہ ہے لیکن وہ سب  ہیں پاکستانی اور انسان، چنانچہ انکے یہاں بھی غیر مرئی  اور مہذب قسم کی  محکمہ جاتی سیاست، روابط، فون  وملاقات  اور ترغیب کاری   (lobbying)کی 'واردات' ہوتی ہے۔

آجکل فوج کے کماندارِ اعلی  جناب قمر باجوہ صاحب کی سبکدوشی کا مرحلہ درپیش  ہے۔  باجوہ صاحب کی چھڑی کے خواہشمندوں  میں جنرل  فیض حمید،  جنرل عاصم منیر احمد شاہ اور جنرل ساحر شمشاد مرزا سرِ فہرست ہیں۔ جنرل فیض حمید اور کپتان ایک دوسرے کے ممدوح ہیں اور خانصاحب کی    دوبارہ تخت نشینی کی دیوانگی کی حد تک خواہش کا ایک بنیادی محرک بھی یہی کہ وہ 'تکڑے اور محب وطن'  جنرل فیض حمید کو کماندارِ اعلیٰ تعینات کر سکیں۔ دوسری طرف جنرل فیض حمید بھی  یقین کی حد تک پرامید ہیں کہ اِ دھر لیلٰےِ اقتدار نے کپتان کے گلے میں بانہیں ڈالیں  ادھر  جرنیلی چھڑی خود بخود انکی  بغل میں ہوگی۔اس حوالے سے کپتان اپنی خواہش  اور پسند کو  غیر مبہم انداز میں اتنی  بار دہراچکے ہیں کہ باقی دو جرنیل  حضرات کو اس منصب پر تقرری کیلئے عمران خان کی حمائت کی کوئی امید نہیں۔

 جنرل فیض حمید نے   اپنی تقرری کیلئے ترغیب کاری کا دائرہ  عسکری میدان سے سیاسی اکھاڑے تک بڑھادیا ہے اور GHQکی غلام گردشوں میں ہونے والی سرگوشیاں کپتان کے گوش گزار کردی جاتیں ہیں۔ اسی بناپر کپتان بڑے پراعتماد انداز میں کہتے پھر رہے  ہیں کہ 'مجھے اپنے خلاف ہونے والی ہرسازش کا علم ہے' ۔ پہلے سیاسی تبدیلیوں کے مشورے چھاونیوں میں ہوتے تھے اسی طرھ اب GHQکے مستقبل پر بلڈی سویلین کھل کر بحث کررہے ہیں۔

آرمی  چیف کے ساتھ  دوسری تقرریاں بھی ہونی ہیں جن میں سب سے اہم ڈائریکٹر جنرل سی یا DG Counter Intelligenceہے۔  ڈی جی سی  بربنائے عہدہ  آئی ایس آئی کے سربراہ   کو جوابدہ ہیں  لیکن فوج کے سربراہ بھی  ڈی جی سی کو ہدایات دیتے ہیں یعنی انکی reporting  dotted lineفوج کے سربراہ کو بھی ہے۔ ڈی جی سی   کا کام دہشت گردوں پر نظر رکھنا ہے اسلئے ، ملا، مساجدم مداراس کیساتھ سیاسی جماعتیں بھی انکی عقابی نگاہوں کا ہدف ہیں۔

آجکل ڈی جی سی    میجر جنرل فیصل نصیر ہیں جنھیں  عمران خاں ، وزیراداخلہ اور وزیراعظم کیساتھ وزیرآباد حملے کا سرغنہ نامزد کرنا چاہتے ہیں۔جنرل فیصل نصیر اور جنرل فیض  حمید کی آویزش برسوں پرانی ہے۔   کافی وعرصہ پہلے  جب  جنرل فیصل (تب بریگیڈیر) کراچی میں ملٹری انٹیلیجنس سے وابستہ تھے اسوقت انکی کراچی ہی میں تعینات بریگیڈیر شاہد پرویز سے نہیں بنتی تھی جو کراچی میں آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر تھے۔ شاہد پرویز جناب فیض حمید کے منظورِ نظر تھے تو فیصل نصیر،  جنرل ساحرشمشاد   کی good booksمیں۔ بعد میں جنرل فیض حمید کی مخالفت کے باوجود فیصل نصیر ترقی کرکے میجر جنرل بن گئے اور اب دوماہ پہلے انھیں GGCتعینات کردیا گیا۔جنرل فیض حمید اس ہزیمت کو اب تک نہیں بھولے۔

آئین کے تحت سپہ سالار کا تقرر وزیراعظم کی ذمہ داری ہے اسلئے  بظاہر فیض حمید کا اس منصب پر آنا  بعد از قیاس لگتا ہے کہ  وہ جنرل عاصم اور جنرل ساحر شمشار سے جونئیر ہیں اور شہباز شریف   کے  وہ اس حد تک منظور نظر نہیں کہ  انھیں  اپنے افسران پر سے چھلانگ لگواکر کمان کی چھڑی سونپ دی جائے۔جنرل فیض حمید کے چیف بننے کی ایک صورت یہی باقی رہ گئی ہے کہ  ملک گیر ہڑتال اور دھرنوں سے شریف حکومت کو مفلوج کردیا جائے اور ملک ایسی بحرانی کیفیت میں   آجائے کہ   جنرل باجوہ اور شریف انتظامیہ  کیلئے  جنرل فیض حمید کے تقرر کے سوا اور کوئی راستہ نہ رہے۔اسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے   آزادی مارچ شروع  ہوا ۔ضمنی انتخابات میں شاندار کامیابی سے پی ٹی آئی کے کارکنوں کاحوصلہ ساتویں آسمان کو چھورہاتھا اسلئے  کپتان اور جنرل دونوں کو توقع تھی کہ

وہ جو پی کر شراب نکلے گا

کس طرح آفتاب نکلے گا

لیکن  شرکا میں وہ  جوش و خروش نظر نہ آیا جسکی کپتان کو توقع تھی۔ مجمع ہر جگہ بلاشبہ بہت بڑا تھا لیکن یہ  کارواں نہ بن سکا یعنی لوگ بڑی تعداد میں آتےپرجوش انداز میں عمرا  ن خان کا خطاب سنتے اور تقریر ختم ہونے پر ساتھ چلنے کے بجائے خدا حافظ کہہ کر گھروں کی راہ لیتے اور دوسرے شہر میں نیا مجمع حاضر ہوجاتا۔ شاہ محمود قریشی ، اسدعمر اور دوسرے امن جو رہنماوں کا خیال تھا کہ اس کارواں کا لانگ مارچ کے بجائے عوامی رابطہ  مہم بنادیا جائے لیکن مہم جو کپتان   اور انکے غیر مرئی سہولت کاروں کے خیال میں وقت نکلا جارہا تھا۔ اسی دوران صدف نعیم کی شہادت سے مزید دھچکہ لگا۔

بدقسمتی سے سیاست کی بدقماش و بدخصال دیوی کو انسانی خون بہت پسند ہے۔ چنانچہ تجربہ کار سیاسی طبیبوں نے تحریک کیلئے خون کا انجیکشن تجویز کیا اور حملہ ہوگیا جس میں تین معصوم بچوں کا باپ اپنی جان سے گیا۔حکمت عملی یہ تھی کہ اسے مذہبی جنونی کا حملہ قراردیا جائے۔ تحقیقات کے آغاز سے بھی پہلے وزیرِداخلہ رانا ثنااللہ نے اس  حملے کو مذہبی انتہا پسندی کا شاخسانہ قرار دے دیا۔ عمران خان پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ   انھیں راستے سے ہٹانے کیلئے مذہبی انتہا پسندوں کو  استعمال کیا جائیگا، ملاؤں کے سر الزام دھرنے کا خانصاحب اور حکومت دونوں کا فائدہ ہے۔ سلمان رشدی پر حملے کی مذمت کرکے خاںصاحب مغرب میں اپنے لئے نرم گوشہ پیدا کرچکے ہیں اب خود کو مذہبی انتہا پسندوں کا ہدف ثابت کرکے وہ مزید منظور و محبوب نظر ہوجائینگے۔ سرکار کوبھی اس میں فائدہ ہے۔ جھوٹا سچا الزام لگاکر امریکہ کی خوشنودی کیلئے دو ایک حفاظ کو پھانسی چڑھادینا نقصان کا سودا نہیں۔

اس حملے کے ردعمل میں فیصل نصیر کو ہدف بنایا گیا۔ تاکہ فوج میں عمران خان  کے ترغیب کار  یہ کہہ سکیں کہ آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ اور جنرل باجوہ  کی حماقتوں سے اب فوج عوامی غیض و غضب کا نشانہ بن  چکی ہےاور اگر اس ادارے کی ساکھ کو بچانا ہے تو عمران کے منظور نظر کوسپہ سالاری عطاکردو ورنہ اگر عوام بے قابو ہوگئے تو فوج بھی صورتحال پر قابو نہ پاسکے گی


Thursday, November 3, 2022

یوکرین جنگ ۔۔ تھکن، جنجھلاہٹ اور دراڑ

 

یوکرین جنگ ۔۔  تھکن، جنجھلاہٹ اور دراڑ

یوکرین روس جنگ نویں مہینے میں داخل ہوچکی ہے۔ جب 24 فروری کو صدر پیوٹن نے طبلِ جنگ بجایا اُس وقت ان کے جرنیلوں کا خیال تھا کہ عسکری کارروائی کا دورانیہ چار دن سے زیادہ نہیں ہوگا اور یکم مارچ کو دارالحکومت کیف میں ماسکو نواز حکومت کے قیام کے بعد روسی افواج کی فاتحانہ واپسی شروع ہوجائے گی۔ جنگ کے ابتدائی ایام میں لگ بھی کچھ ایسا ہی رہا تھا۔ روسی افواج نے جارحانہ پیش قدمی کرکے جنوب مشرقی یوکرین کے بڑے حصے پر اپنی گرفت مضبوط کرلی۔ دنباس (Donbas)کے نام سے مشہور اس علاقے کے دو صوبوں یعنی دینیاتسک (Donetsk)اور لوہانسک (Luhansk) کے کچھ حصوں پر روس 2014ء میں قبضہ کرکے اپنی مرضی کی حکومت بناچکا تھا، چنانچہ پیش قدمی کرتی فوج کو ابتدائی مرحلے میں کسی خاص مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ دوسری طرف فضا سے داغے جانے والے تباہ کن میزائلوں نے یوکرین کے دفاعی نظام کو مفلوج کرکے رکھ دیا۔ ایک اندازے کے مطابق جنگ کے آغاز سے وسط اکتوبر تک روس نے یوکرین پر 4500 میزائل برسائے۔

جنگ شروع کرتے ہی روس نے اپنی سرحد سے متصل مشرقی یوکرین میں زاپوریژیا (Zaporizhzhia)کے جوہری پاور پلانٹ پر قبضہ کرلیا جو زاپوریژیا صوبے کے شہر اینرہودار (Enerhodar)میں دریائے دنیپر(Dniper)کے کنارے واقع ہے۔ سوویت دور کا یہ پلانٹ 1986ء میں مکمل ہوا تھا جس میں 6 جوہری ری ایکٹر نصب ہیں، اور پلانٹ میں بجلی پیدا کرنے کی مجموعی گنجائش 5700 میکاواٹ (MW)ہے۔ یہ یورپ کی سب سے بڑی جوہری تنصیب ہے، جبکہ گنجائش کے اعتبار سے اس کا شمار دنیا کی دس بڑی جوہری تنصیبات میں ہوتا ہے۔ چند ہی دنوں میں جوہری پلانٹ کے قریب واقع تھرمل (پن بجلی گھر) پلانٹ بھی روس کے قبضے میں آگیا۔

جنگ کے ابتدائی دنوں میں یوکرینی فوج کا سب سے مہلک اسلحہ ترک ساختہ ڈرون تھے۔ ان ڈرونوں کے ذریعے یوکرین نے روسی فوج کی صفوں کی پشت پر حملے کرکے ان کی رسد میں خلل ڈالا اور کئی محاذوں پر روسی کمک کے راستے مسدود ہوگئے۔ اسی کے ساتھ امریکہ نے یوکرین کو جدید ترین ہمارس (HIMARS) راکٹ فراہم کردیے۔ ہمارس راکٹ اپنے دشمن کو پچاس میل دور سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکی اسلحہ ساز ادارے لاک ہیڈ مارٹِن نے یہ راکٹ 1990ء میں تیار کیے تھے اور وقت گزرنے کے ساتھ اسے مزید مہلک اور تیر بہدف بنادیا گیا ہے۔ اس ہتھیار کی عملی آزمائش نہتے افغانوں پر کی گئی تھی۔ امریکی حملے کے آغاز پر جارح فوج کا سب سے بڑا مسئلہ افغانستان کا طبعی جغرافیہ تھا۔ ملک کا بڑا علاقہ کوہستان پر مشتمل ہے۔ کھائیوں، غاروں اور چٹانوں کی اوٹ کو افغان جنگجو حفاظتی مورچوں کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ چنانچہ ان راکٹوں پر خصوصی بارودی مواد نصب کیے گئے جن کی ہلاکت خیزی کا یہ عالم تھا کہ ان کی ضرب سے بلند و بالا پہاڑوں کی مضبوط چٹانیں سُرمہ بن کر بکھر جاتی تھیں۔ لیکن چٹانوں کو رائی بنادینے والا بارود حریت پسندوں کے عزم کو پست نہ کرسکا۔ اس کے برعکس یوکرین میں ہمارس راکٹوں کی کارکردگی بہت اچھی رہی۔ امریکہ کے علاوہ جرمنی اور برطانیہ نے جدید ترین توپوں، زمین سے فضا میں مار کرنے والے راکٹوں اور گولہ بارود کا ڈھیر لگادیا۔

جدید ترین اسلحہ، تربیت اور زبردست مالی امداد سے، پسپا ہوتی یوکرینی فوجیں سنبھل گئیں اور ستمبر کے آخر سے زوردار جوابی حملوں کا آغاز ہوا۔ یوکرینی فوج نے تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے مقبوضہ Kherson, Zaporizhzhia, Luhansk, Donetsk صوبوں کے کئی علاقے روسیوں سے واپس چھین لیے۔ اس دوران روس کے ایران ساختہ ”شاہد 136“ڈرونوں نے یوکرین کے بجلی گھروں اور آب نوشی کے ذخائر کو نشانے پر رکھ لیا۔ ترک ڈرون کے مقابلے میں شاہد 136 خودکش ہیں یعنی یہ ہدف پر تباہ کن راکٹوں کے ساتھ خود بھی گرجاتے ہیں۔ اسی لیے ان سستے ”جنگی کھلونوں“ کو disposable droneکہا جاتا ہے۔ ان ڈرون حملوں میں یوکرین کے ایک تہائی کے قریب بجلی گھر تباہ ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے ملک کا بڑا علاقہ تاریک اور پینے کے پانی کی قلت ہے۔ گزشتہ دنوں گروپ7 کی مجازی (virtual) چوٹی کانفرنس میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے شکوہ کیا کہ روس کے بمباروں اور مہلک میزائلوں سے کہیں زیادہ نقصان ہمیں شاہد ڈرونوں نے پہنچایا ہے۔ ایران جوہری منصوبے پر تعاون کے بدلے روس کو خودکش ڈرون فراہم کررہا ہے جبکہ اسرائیل روس سے تعلقات کے ہونکے میں غیر جانب دار ہے۔

امریکہ کی قومی سیکورٹی کونسل کے ترجمان جان کربی نے الزام لگایا ہے کہ ڈرون کے ساتھ ایران نے ”قلیل تعداد“ میں سپاہی بھی مقبوضہ کریمیا بھیج دیے ہیں جو روسی افواج کو یوکرین پر ڈرون حملوں کی تربیت دے رہے ہیں۔ ایران اور روس دونوں نے امریکہ کے دعوے کو سفید جھوٹ قرار دیا ہے۔ کیا یوکرین کے خلاف ایرانی مدد کا واویلا اس کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملے کی پیش بندی ہے؟ اگر واقعی ایرانی سپاہ کریمیا بھیجی گئی ہیں تو فرقہ وارانہ منافرت بھی خارج ازامکان نہیں۔ یہاں بڑی تعداد میں سُنّی تاتار آباد ہیں جنھیں روسیوں کی جانب سے نسل کُشی کا سامنا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ روس تاتار کشیدگی اب شیعہ ایران اور سنی تاتار تصادم میں تبدیل ہوجائے۔

یوکرینیوں نے تابڑ توڑ زمینی حملوں کے ساتھ روس کی زمینی اور آبی سرحدوں کے اندر بھی کئی کامیاب کارروائیاں کی ہیں، جن میں سب سے اہم روس کو کریمیا سے ملانے والے پل پر کار دھماکا ہے۔ آبنائے کرش پر تعمیر کیا جانے والا یہ پل یوکرین میں تعینات فوج کو کمک اور اسلحہ کی فراہمی کا سب سے محفوظ راستہ سمجھا جاتا ہے۔ روسیوں کے مطابق پل کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا، لیکن اس کلیدی پُل تک رسائی بذاتِ خود یوکرینیوں کا بڑا کارنامہ ہے۔

اس واقعے کے چند ہی دن بعد یوکرینی سرحد کے قریب بیلگرود (Belgorod)چھائونی پر دھاوا بولا گیا اور روسی فوجی وردی میں ملبوس یوکرینی چھاپہ ماروں نے سپاہیوں پر اُس وقت فائرنگ کردی جب یہ جوان نشانہ بازی کی مشق کررہے تھے۔ حملے میں 11 سپاہی ہلاک اور 15 زخمی ہوگئے۔

یوکرینیوں کا سب سے بڑا کارنامہ روس کے تباہ کن جہاز ایڈمرل میکرووف (Admiral Makarov) کی غرقابی ہے۔ یوکرینی بحریہ کے مطابق ایک مسلح ڈرون کشتی نے بحراسود میں مقبوضہ کریمیا کی بندرگاہ سیوسٹاپول (Sevastopol) کے قریب 409 فٹ لمبے اس میزائل بردار جہاز کو نشانہ بنایا۔ کہا جارہا ہے کہ یہ ڈرون کشتی ترک ساختہ تھی۔ روس نے اس واقعے کو آبی دہشت گردی قرار دیا ہے۔ واشنگٹن میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے امریکہ میں روس کے سفیر اناتولی انٹینووف (Anatoly Antonev) نے کہا کہ یوکرینی نازیوں نے بحری قزاقوں اور پیشہ ور دہشت گردوں کے تعاون سے سیوسٹاپول کی بندرگاہ پر حملہ کیا جس سے وہاں کھڑے جہازوں کو نقصان پہنچا۔ سفیر صاحب کا کہنا تھا کہ دہشت گردانہ کارروائی کی امریکہ اور نیٹو کی جانب سے ”پشت پناہی“ پر بطور احتجاج روس غلہ کی فراہمی معطل کررہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ترکیہ کی کوششوں سے روس اور یوکرین نے گندم اور دوسری زرعی اجناس کی بحراسود کے راستے ترسیل شروع کی تھی۔ روسی اور یوکرینی غلے سے لدے جہازوں کو ترک بحریہ بحرِروم تک حفاظت فراہم کررہی ہے۔ بحر روم کے کنارے واقع ملکوں بلکہ ساری دنیا میں ایک بار پھر گندم، جوار، مکئی اور دوسرے دانے مہنگے اور نایاب ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

ایک ہفتے کے دوران روسی فضائیہ کے دو بمبار طیارے تربیتی پرواز کے دوران رہائشی عمارتوں پر گرکر تباہ ہوگئے۔ بہت سے عسکری تجزیہ نگار ان حادثات کو روسی فوج کی تھکاوٹ اور کم حوصلگی کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔ شدید بمباری کے باوجود زمین پر روسی فوج کی کارکردگی بہت اچھی نہیں۔ دوسری جانب امریکہ اور نیٹو، یوکرین کے فضائی دفاعی نظام کو بہتر بنانے کے جتن کررہے ہیں۔ صدر پیوٹن کے جرنیلوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یوکرین فضائی اور میزائل حملوں کو غیر موثر کرنے میں کامیاب ہوگیا تو یہ روس کا دوسرا افغانستان بن جائے گا۔

یوکرینیوں کی بے مثال مزاحمت ہے تو قابلِ تعریف… لیکن امریکہ، نیٹو اور یورپی یونین کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑرہی ہے۔ اب تک امریکہ بہادر اس جنگ میں 51.92ارب ڈالر پھونک چکے ہیں، جبکہ یورپی اعانت کا حجم 16.24 ارب ڈالر ہے۔ جہاں تک یوکرین کے مالی نقصان کا تعلق ہے تو عالمی بینک نے ستمبر کے آخر تک اس کا تخمینہ 348ارب ڈالر لگایا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ دس ماہ کے دوران یوکرین کے 6 ہزار شہری ہلاک اور 9ہزار سےزیادہ زخمی ہیں۔ متاثرہ علاقوں کے 77لاکھ شہری ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ جانی نقصان کے بارے میں کوئی مصدقہ خبر نہیں کہ ہر جنگ کی پہلی شہید سچائی ہے۔

جنگ پر بے تحاشا اخراجات نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شدید اقتصادی مشکلات میں مبتلا کردیا ہے۔ امریکہ ھیرا ہاتھی، کہ مر کر بھی سوا لاکھ کا۔ وہاں پریشانی تو ہے لیکن صرف گرانی کی حد تک۔ قلت کی آزمائش سے امریکہ اب تک محفوظ ہے۔ لیکن یورپ کا حال بہت خراب ہے۔ پہلے اس کی معیشت کو کورونا ناگن نے ڈسا، اور اب جنگ کی شکل میں نئی مصیبت سر پر آن پڑی۔ مہنگائی کو قابو کرنے کے لیے یورپین سینٹرل بینک (اسٹیٹ بینک) شرح سود میں مسلسل اضافہ کررہا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا عذاب کیا کم تھا کہ موسم سرما کے آغاز پر گیس کی لوڈشیڈنگ نے سردی سے ٹھٹھرتے گوروں کے چودہ طبق روشن کردیے۔

اسی کے ساتھ کساد بازاری کے کوڑے نے یورپی یونین کی بڑی بڑی کارپوریشنوں، خاص طور سے توانائی کمپنیوں کو ادھ موا کردیا ہے۔ جرمنی کی سب سے بڑی بجلی کمپنی Uniperکا کہنا ہے کہ اگر سرکار نے اعانت نہ کی تو اسے تالا لگ جائے گا۔ اس کمپنی کی سالانہ آمدنی (revenue) کا تخمینہ 170 ارب ڈالر ہے۔ گزشتہ سال اسے 4 ارب ڈالر کا خسارہ ہوا، اور اِس سال کی ہر سہ ماہی ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ خسارے کے بوجھ سے کراہتی یونیپر نے بلب روشن اور دروازے کھلے رکھنے کے لیے 60 ارب ڈالر کی فرمائش کی ہے۔ دوسری صورت میں 11 ہزار ملازمین بے روزگار ہوجائیں گے۔

سیاسی راہنما اپنے سر آئی بلا ٹالنے کے لیے ہر پریشانی کی وجہ روس اور یوکرین جنگ کو قرار دے رہے ہیں۔ دوسری طرف مہنگائی، لوڈشیڈنگ اور بے روزگاری سے تنگ آئے عام یورپی بھی اب یوکرینی جنگ اور اس کے نتیجے میں نازل ہونے والی مصیبت سے جھنجھلائے ہوئے لگ رہے ہیں۔ کئی جگہ یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ روس کو نیچا دکھانے کے لیے یورپ کی معیشت کو آگ لگادینا کہاں کی عقل مندی ہے! سوشل میڈیا پر ”یوکرین تنازعے کے بات چیت کے ذریعے پُرامن حل“ کے عنوان سے بحث شروع ہوگئی ہے۔

ہفتے کو چیک ریپبلک (سابق چیکوسلاواکیہ) کے دارالحکومت پراگ میں 70 ہزار افراد نے مہنگائی، گیس کی لوڈشیڈنگ اور معاشی پریشانیوں کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا۔ جلوس کے شرکا روس کے خلاف اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور یوکرین تنازعے کے پُرامن حل کے حق میں نعرے لگارہے تھے۔ اسی کے ساتھ وزیراعظم Peter Fiala سے استعفے کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے، حالانکہ نئی حکومت نے گزشتہ برس نومبر کے آخر میں نظم و نسق سنبھالا ہے۔ اسی قسم کے مظاہرے اگلے ہفتے پیرس، روم اور جرمنی کے شہروں میں متوقع ہیں۔

تاہم معاملہ یک طرفہ نہیں بلکہ ”دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی“۔ عین اس وقت جب چیک ریپبلک کے ٖدارالحکومت پراگ میں ہزاروں افراد یوکرین جنگ بند کرکے تنازعے کو بامقصد مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا مطالبہ کررہے تھے، ماسکو میں روسی وزیرخارجہ سرگئی لاورو (Sergei Lavrov)نے بھی کچھ ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا۔

روس کے سرکاری ٹیلی ویژنRIA Novosti(RIAN) (روسی رسم الخط РИАН) پر گفتگو کرتے ہوئے جناب لاورو نے بہت ہی ”نرم“ لہجے میں کہا ”اگر ہمارے مغربی ہم نشینوں (Colleagues)نے بات چیت کے ایک نئے دور کا اہتمام کیا تو وہ ہمیں مذاکرات کے لیے تیار پائیں گے“۔ ہم نے ”نرم“ اس لیے کہا کہ جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار کسی روسی رہنما نے نیٹو یا یورپ کے لیے مخالف (Adversary) یا دشمن (Enemy) کے بجائے Colleagueکا لفظ استعمال کیا ہے جو دوست، ہم منصب، ساتھی، یا ہم نشیں کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔

جناب لاورو نے گفتگو کو مشروط کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہاکہ اگر ہماری دو شرائط کو تسلیم کرلیا جائے تو بات چیت نتیجہ خیز ہوسکتی ہے۔ روسی وزیرخارجہ نے ان دو شرائط کو کچھ اس طرح بیان کیا:

:1   مغرب کو روس کے مفادات اور اس کی سلامتی کا خیال رکھنا ہوگا۔ روس کئی سالوں سے نیٹو کی توسیع پر اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار کررہا ہے۔ کریملن نیٹو کے پھیلائو کو اپنے مفادات اور سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

 :2      روس کو توقع ہے کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے مغرب سنجیدہ رویّے کا مظاہرہ کرے گا۔

روسی وزیرخارجہ نے ان دونکات کی وضاحت نہیں کی لیکن کریملن یوکرین کو نیٹو کی رکنیت نہ دینے پر اصرار جاری رکھے گا۔ اس کے جواب میں روس یوکرین کو تحفظ و عدم مداخلت کی ضمانت دینے کو تیار نظر آرہا ہے۔ تناو کم کرنے کے اقدامات میں روس کے خلاف پابندیوں کا خاتمہ سرِفہرست ہے۔

اسی دن صدر پیوٹن کے ترجمان ڈیمتری پیسکوف (Dmitry Peskov) نے روسی خبر رساں ایجنسی تاس سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے گفتگو پہلے امریکہ سے ہونی چاہیے جو اس معاملے میں فیصلہ کن حیثیت (deciding vote)رکھتا ہے۔

روسی سیاست پر نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ ”صرف“ امریکہ سے مذاکرات پر اصرار حملے کو اخلاقی جواز فراہم کرنے کے لیے ہے۔ روس دنیا سے یہ بات تسلیم کرانا چاہتا ہے کہ یوکرین کے خلاف اس کی فوجی کارروائی علاقے میں امریکی مداخلت کا ردعمل ہے، اور اسے روسی جارحیت قرار دینا قرین از انصاف نہیں۔

روس یوکرین کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا اور کریملن نے اپنے دفاع اور انتہائی حساس تزویراتی (strategic) مفادات کے تحفظ کے لیے فوج کشی کی ہے۔ روس اس حملے کو جنگ کے بجائے ”خصوصی عسکری کارروائی“ قرار دیتا ہے۔

الفاظ، اصطلاح، نیت، ترجیحات اور حکمت عملی سے قطع نظر، دنیا میں امن کے خواہش مندوں کے لیے روس کی جانب سے امن کے یہ موہوم ہی سہی لیکن مثبت اشارے انتہائی حوصلہ افزا ہیں۔ آتش و آہن کی بارش اور توپوں کی گھن گرج میں شاخِ زیتون کی ہلکی سی سرسراہٹ ہی میزائل باری سے دہشت زدہ یوکرینیوں کے لیے نشاط انگیز ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 4 نومبر 2022

ہفت  روزہ دعوت دہلی، 4 نومبر 2022

روزنامہ امت کراچی 4 نومبر2022

ہفت روزہ رہبر سرینگر 6 بومبر 2022

روزنامہ قومی سیاست لکھنو


Thursday, October 27, 2022

جتنے عرصے میں مرا لپٹا ہوا بستر کھُلا سینتالیس سالہ وزیراعظم پینتالیس دن بعد فارغ نئی قیادت۔۔ عزائم اوراندیشے

 

جتنے عرصے میں مرا لپٹا ہوا بستر کھُلا

سینتالیس سالہ وزیراعظم پینتالیس دن بعد فارغ

نئی قیادت۔۔ عزائم اوراندیشے

برطانوی تاریخ کی تیسری اور سب سے کم عمر خاتون وزیراعظم محترمہ لز ٹرس نے استعفیٰ دیدیا۔ سینتالیس سالہ قدامت پسند  لز صاحبہ نے 6 ستمبر کو  وزیراعظم  کا حلف اٹھایا اور 45 دن بعد اپنا استعفےٰ بادشاہ سلامت کو پیش کردیا۔

لز صاحبہ نے برطانیہ میں سب سے کم عرصہ وزیراعظم رہنے کا 'اعزاز' حاصل کیاہے۔ انکے مقابلے میں آنجہانی رابرٹ والپول Robert Walpole  طویل ترین عرصے تک برطانیہ کے وزیراعظم رہے۔ انھوں نے 3 اپریل 1721 کو حلف اٹھایا اور   11 فروری  1742تک حکمرانی فرمائی  یعنی 21 برس سے چند دن کم۔ جناب وال پول کو شاہ جارج اول نے وزیراعظم مقرر کیا اور جون 1727 میں شاہ صاحب کے انتقال پر جب انکے صاحبزادے جارج دوم نے تخت سنبھالا تو انھوں نے بھی  جناب وال پول کو بطور وزراعظم برقرار رکھا۔ یعنی جناب وال پول نے اپنے دورِ اقتدار میں دو بادشاہ بھگتائے۔اس اعتبار سے  لز ٹرس کی وزارت عظمٰی بھی تاریخی ہے کہ انکی توثیق ملکہ ایلزبیتھ نے کی جبکہ لز صاحبہ نے استعفٰی ملکہ کے جانشیں شاہ چارلس سوم کی خدمت میں پیش کیا۔

اس حوالے سے برصغیر کا جائزہ لیا جائے تو ہندوستان  میں جواہر لال نہرو نے طویل عرصِہ حکمرانی کا ریکارڈ قائم کیا اور آزادی سے لیکر 1964 میں اپنے انتقال تک  وہ  16 برس اور 266 دن وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہے۔شری گلزاری لال نندا نے سب سے کم عرصہ وزیراعظم رہنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ مئی 1964 میں وزیراعظم جواہر لال نہرو کے انتقال پر انھوں نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا اور 13 دن بعد یہ منصب منتخب وزیراعظم لال بہادر شاستری کے حوالے کردیا۔ شاستری جی کی  زندگی نے وفا نہ کی اور وہ پاکستان کے جنرل ایوب خان کیساتھ مذاکرات کے دوران 11 جنوری 1966 کو تاشقند میں انتقال کرگئے، ایک بار پھر گلزاری لال نندا عبوری وزیراعظم مقرر ہوئے اور 13 دن بعد اقتدار اندرا گاندھی کے حوالے کرکے گھر چلے گئے۔ اٹل بہاری واجپائی کے پہلے دورِ وزارتِ عظمیٰ کا دورانیہ صرف 16 تھا جب 1996 کے انتخابات کے بعد لوک سبھا کی سب بڑی جماعت کے پارلیمانی سربراہ کی حیثیت سے انھیں حکومت سازی کی دعوت دی گئی لیکن وہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔

ہندوستان میں جواہر لال نہرو، انکی صاحبزادی اندرا گاندھی اور نواسے راجیو گاندھی کے عرصہِ اقتدار کی مجموعی مدت 36 برس اور 303 دن رہا۔طوالتِ کے اعتبار سے نہرو پہلے، اندرا گاندھی دوسرے اور من موہن سنگھ کا تیسرانمبر ہے جبکہ آٹھ سال 147 دن کیساتھ موجودہ وزیراعظم نریندرا مودی چوتھے درجے پر فائز ہیں۔

پاکستان میں سب سے طویل عرصہ وزیراعظم رہنے کا اعزاز نوابزداہ لیاقت علی خان کے پاس ہے جو 4 سال 63 دن سربراہ حکومت رہے۔ اسکے مقابلے میں جناب نورا الامین نے  12 سے 20 دسمبر تک صرف 13 دن وزارت عظمیٰ سنبھالی۔ پاکستان کی تاریخ میں صرف ایک وزیراعظم نے اپنے مدت مکمل کی اور وہ ہیں جناب ذوالفقار علی بھٹو  جنھوں نے 14گست 1973 کو نئے آئین کے نفاذ پر وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا اور آئینی مدت کی تکمیل تک وزیراعظم رہے، بدقسمتی سے انتخابات میں دھاندلی کے الزام کی بناپر انکی دوسری مدت کا آغاز متنازعہ تھا اور وہ 5جولائی 1977 کو جنرل ضیا کے ہاتھوں معزول ہوگئے۔

ہم نے اس سے پہلے ایک نشست میں عرض کیا تھا کہ لز ٹرس صاحبہ کا سیاسی ماضی یو ٹرن U-Turnsسے عبارت ہے۔ دور طالب علمی میں وہ  مزدور انجمنوں کی حامی اور شہنشاہیت کی سخت مخالف تھیں لیکن عملی سیاست کیلئے انھوں نے قدامت پسند ٹوری پارٹی کا انتخاب کیا۔ جامعہ میں 'سرخ سویرا' کا نعرہ لگانیوالی لز ٹرس صاحبہ Britannia Unchained نامی کتاب کی مصنفین میں سے ایک ہیں۔ اس کتاب میں  برطانوی  مزدوروں کو 'دنیا کے بدترین کاہلوں میں سے ایک' بیان کیا گیاہے

بریکزٹ یعنی برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے معاملے پر  محترمہ نے بریکزٹ کے خلاف  مہم چلائی لیکن جب ریفرنڈم میں برطانوی عوام نے بریکزٹ قبول کرلیا تو لز ٹرس نے بھی اپنا موقف تبدیل کرلیا ۔

اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی لز ٹرس صاحبہ نے یو ٹرن کا سلسلہ جاری رکھا۔ سابق وزیراعظم بورس جانسن نے بڑی بڑی کارپوریشنوں کی ٹیکس چوری کی شکوہ کرتے ہوئے ”مال داروں” پر عائد ٹیکس کی شرح 19 سے بڑھالر 25فیصد کرنے کا عندیہ دیا تھاجس سے انکے خیال میں سرکار کو 20ارب ڈالر کی اضافی آمدنی ہوتی۔ رکنِ کابینہ کی حیثیت سے لز ٹرس نے بورس جانسن کے اس فیصلے کی شدت سے مخالفت کی۔ وزارت عظمی کیلئے اپنی مہم کے دوران محترمہ لز ٹرس نے اس معاملے پر اپنے موقف کو مزید سخت کرلیا اور  ٹیکس شرح میں اضافے کو “سوشلسٹ چونچلہ” قرار دیتے ہوئے اضافے کے بجائے سرمایہ کاروں  کی حوصلہ افزائی کیلئے شرح مزید کم کرنے کا وعدہ کیا۔

اقتدار سنبھالتے پر جیسے ہی لز ٹرس نے نئی کابینہ تشکیل دی،  اپنی قائد کے بیانئے کو آگے بڑھانے کیلئے انکے  ناظم بیت المال  (وزیرخزانہ) کواسی کوارٹینگ (Kwasi Kwarteng) نے ٹیکس شرح کم کرنے کیلئے ضمنی یا mini budgetزتیار کرلیا۔ اس میزانئے میں  ٹیکس کی جو نئی شرح تجویز کی گئی تھی، اس سے  ٹیکس وصولی کا حجم  50 ارب ڈالر سکڑ سکتا تھا۔ خسارے کی شدت کم کرنے کیلئے تجویر کئے جانیوالے اقدامات میں سب سے تکلیف دہ توانائی زرِ تلافی (subsidy)کا خاتمہ تھا۔ یہ تجویز لِز حکومت کیخلاف دودھاری تلوار تھی۔ پیٹرول اور گیس کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں سے بلبلاتے عوام زرِ تلافی کے خاتمے پر پھٹ پڑے تو آمدنی میں کمی سے خسارہ کے بے قابو ہونے کی خبر بازار حصص اور مالیاتی منڈیوں پر بجلی بن کر گری۔ دباو کا شکار برطانوی پونڈ مزید ارزاں  اور حصص کی منڈی پر ریچھ (مندی) حملہ آور ہوگیا۔

عوام کے غصے کو کم کرنے کیلئے وزیراعظم صاحبہ نے اپنے گھانا نژادناظم بیت المال کو  برطرف کردیا یاں یوں کہیے کہ  اقتدار بچانے کیلیے ناظم بیت المال کو قربانی کا بکرا بنادیا  اور 55 سالہ جریمی ہنٹ کو یہ منصب عطا ہوا۔ اسوقت ہی کچھ سیاسی تجزیہ نگاروں نے سوال کیا تھا کہ بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منائیگی؟

آکسفورڈ سے معاشیات میں بے اے کرنے والے جریمی ہنٹ اپنےخیالات کے اعتبار سے انتہائی قدامت پسند ہیں۔ انکے والد سر نکولس ہنٹ شاہی بحریہ کے امیر البحر تھے۔ انکے آباواجداد میں Sir Streynsham Masterشامل ہیں جو برصغیر کو زنجیرِ غلامی پہلانے والی ایسٹ انڈیا کمپنی کے بانیوں میں سے تھے۔ جناب ہنٹ نے عہدہ سنبھالتے ہی مجوزہ میزانئے سے ٹیکس میں کمی کا پورا  باب حذف کردیا۔ اس نئے یوٹرن نے ٹوری پارٹی کے قدامت پسندوں کو مشتعل کردیا اور حکمراں  پارٹی میں لز ٹرس کیخلاف عدم اعتماد کے نعرے گونجنے لگے۔ بدھ 19 نومبر کو لز ٹرس صاحبہ نے بڑے دبنگ لہجے میں کہا وہ کمزور اعصاب کی صنفِ نازک نہیں بلکہ وہ ایک جنگجو ہیں لہٰذا استعفیٰ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

وزیراعظم کے اعتماد کی وجہ ٹوری پارٹی کی وہ روائت تھی  کہ اقتدار کی پہلی سالگرہ سے پہلے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک نہیں لائی جاسکتی۔ تاہم 'وعدہ خلافی' پر ٹوری پارٹی میں اسقدر غم و غصہ تھا کہ ارکان نے 1922 کمیٹی سے رابطہ قائم کرلیا۔ اس کمیٹی کو آپ پشتونوں کا مشران جرگہ یا ہئیۃ البیعۃ (سعودی عرب) کہہ سکتے ہیں۔ یہ کمیٹی 1923 میں قائم ہوئی جسکے ارکان چونکہ 1922میں منتخب ہوئے تھے اسلئے کمیٹی 1922کے نام سے مشہور ہوئی۔ کمیٹی پارٹی کے 18سینیر ارکانِ دارالعوام پر مشتمل ہے جو کسی کابینہ یا حکومت کے بربنائے عہدہ حصہ نہیں اور ایوان کی آخری نشستوں پر بیٹھے اپنی پارٹی کی کارکردگی جانچتے رہتے ہیں۔ اسی لئے یہ لوگ backbenchersکہلاتے ہیں۔ کمیٹی کا اجلاس ہر ہفتے ہوتا ہے جس میں ٹوری پارٹی کی حکمت عملی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔مزے کی بات کہ 1922کمیٹی کی کوئی آئینی حیثیت نہیں جسکی بنا پر اسے Conservative Private Members’ Committee بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ ادارہ صحیح معنوں میں بادشاہ گر ہے کہ پارٹی کے تمام قواعد و ضوابط کمیٹی 1922 ہی مرتب کرتی ہے۔ اسی دوران ایک جائزہ شایع ہوا جسکے مطابق ٹوری پارٹی کے 85فیصد ارکانِ پارلیمان  نے لز ٹرس صاحبہ کے ٹیکس کے بارے میں U turn کو وعدہ خلافی اور سیاسی بددیانتی قرار دیا۔

لز ٹرس صاحبہ کیلئے یہ پریشانی ہی کیا کم تھی کہ وزیرداخلہ سویلا بریورمین Suella Bravermanکے بارے میں خبر آئی کہ محترمہ نے ایک سرکاری دستاویز کیلئے  ذاتی برقی خط (ای میل) کا نجی اکاونٹ استعمال کیا جو حکومتی ضابطے کے تحت ممنوع ہے۔ یہ سن کر وزیراعظم صاحبہ برہم ہوگئیں جس پر سویلا صاحبہ نے غلطی تسلیم کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفےٰ دیدیا۔ استعفےٰ کے خط میں وزیرداخلہ نے یہ بھی لکھدیا کہ وہ لزسرکار کے رخ سے مطمئن  نہیں۔ اسی دوران کسی منچلے نے سماجی رابطے پر لز ٹرس کی ایک نجی گفتگو کا انکشاف کیا جس میں محترمہ اختیار میں کمی کی شکائت کررہی تھیں۔اس حوالے سے ایک اخبار نے سرخی جمائی کہ “PM in Power is without power”

پئے در پئے دواستعفوں سے لز حکومت کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی اور موقع سے فائدہ اٹھاتے ہویے حزب اختلاف نے ماحولیاتی آلوگی کے بارے میں اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ اس تحریک کے تکنیکی پہلو پر چند سطور:

یورپ کیلئے روسی گیس کی بندش کے بعد سے علاقے کے دوسرے ملکوں کی طرح برطانیہ کو بھی تیل اور گیس کے بحران کا سامنا ہے۔ توانائی کی قلت سے نمٹنے کیلئے لز ٹرس  تیل کی تلاش و ترقی کا کام تیز کرنا چاہتی تھیں ۔ دوسری طرف حزبِ اختلاف کا خیال ہے کہ کنووں کی کھدائی کے اجازت نامے جاری کرتے ہوئے ماحول کی آلودگی کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ تیل اور گیس کے روائتی میدان ریت (sand) اور چونے کے پتھر (limestone)کی چٹانوں میں پائے جاتے ہیں۔ ادھر کچھ عرصے سے سلیٹی چٹانوں یا Shaleمیں بھی قسمت آزمائی کی جارہی ہے۔ سلیٹی چٹانوں میں قباحت یہ ہے کہ انکے مسام آپس میں ملے ہوئے نہیں اسلئے ان میں موجود تیل اور گیس کو گہرائی سے سطحِ زمین کی طرف سفر پر آمادہ کرنا بہت مشکل ہے اور اسکے لئے شدید دباو یا Frackingکے ذریعے چٹانوں کو توڑنا اور جنجھوڑٖنا پڑتا ہے۔ اس مقصد کیلئے جو ترکیبیں اور کیماوی مواد استعمال ہوتا ہے وہ ماہرین کے خیال میں مضرِ صحت ہیں اور   frackingکے عمل میں  آبنوشی کے زیرزمین ذخائر آلودہ ہورہے ہیں۔

حزب اختلاف نے فریکنگ پرپابندی کی قرارداد ایوان میں پیش کردی۔ لز ٹرس صاحبہ کو معلوم تھا کہ توانائی کی شدید قلت کے تناظر میں اس تحریک کا منظور ہونا ناممکن ہے چنانچہ انھوں نے اپنی دانست مں ترُ پ کا پتہ پھینک دیا اور فرمایا کہ 'یہ قرارداد دراصل انکے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ہے'۔ حسب توقع فریکنگ پر پابندی کی تجویز 230 کے مقابلے میں 326 ووٹوں سے مسترد ہوگئی۔  پارلیمان میں برسراقتدار ٹوری پارٹی کو واضح برتری حاصل ہے چنانچہ پارٹی کے ارکان معمول کی کاروائی کو عدم اعتماد جیسی اہمیت دینے پر ناخوش ہوگئے اور پارٹی کی چیف وہپ Chief Whip محترمہ وینڈی مورٹن نے بھی استعفیٰ دیدیا۔اب پانی سر سے اونچا ہوچکا تھا اور  نوشتہ دیوار پڑھ کر وزیراعظم لز ٹرس نے بادشاہ سلامت کو اپنا استعفیٰ پیش کردیا۔ اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہیں  اور عوام کی توقعات پر پوری نہیں اُتریں۔

لز ٹرس کے مقابلے میں انکے جانشیں کا انتخاب بہت اسان  رہا۔ اس منصب کیلئے سابق ناظمِ بیت المال Chancellor Of the Exchequerالمعروف وزیرخزانہ رشی سوناک (Rishi Sunak) اور دارلعوام کی قائد ایوان محترمہ پینی مرڈانٹ (Penny Mordaunt)نے قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا۔ اسی کیساتھ چندماہ پہلے اپنی ہی پارٹی میں عدم اعتماد کا شکار ہونے والے بورس جانسن نے بھی دوبارہ وزیراعظم بننے کی خواہش ظاہر کردی۔ بورس جانس عوام میں خاصے مقبول ہیں لیکن دروغ گوئی اور ضابطے کی خلاف ورزی کے الزام میں موصوف تحقیقات کے پلِ صراط سے گزر رہے ہیں چنانچہ احباب نے سمجھایاکہ 'دستار کی کیا فکر ہے پاپوش سنبھالو'۔ یعنی آپ وزارت عظمیٰ کا خواب دیکھ رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ الزامات ثابت ہونے کی صورت میں عالم پناہ پالیمان کی رکنیت سے بھی نااہل ہوجائینگے۔ آدمی جہاندیدہ ہیں لہٰذا جناب جانسن نے اس دوڑ سے باہر جانے کا اعلان کردیا۔دوسری طرف پینی صاحبہ کے مقطع امیدواری میں یہ سخن گسترانہ بات آن پڑی کہ موصوفہ نامزدگی کی حمائت میں کم ازکم سو ارکان کی شرط پوری نہ کرسکیں اور رشی سوناک ٹوری پارٹی کے قائد و وزیراعظم منتخب ہوگئے۔

بیالیس برس کے رشی ہند نژاد اور راسخ العقیدہ ہندو ہیں۔ انکے والد کینیا سے انگلستان تشریف لائے جبکہ والدہ محترمہ تنزانیہ سے آئی تھیں۔ انکے دادا رام داس سوناک کا تعلق گجرانوالہ سے تھا۔ جناب سوناک برطانوی تاریخ کے پہلے رنگدار وزیراعظم ہیں۔

جناب رشی سوناک نے آکسفورڈ سے سیاسیات اور معاشیات میں بی اے کرنے کے بعد فل برائٹ Fulbrightوظیفے پر امریکہ کی موقر جامعہ اسٹینفرڈ Stanfordسے ایم بی اے کیا۔ دورانِ طالب علمی رشی نے ریستوران میں برتن دھوکر اخراجات پورے کئے۔ رشی صاحب ٹھنڈے مزاج کے متحمل و بردبار آدمی ہیں۔ انکی یہ شاندار شخصیت و صفاتِ عالیہ بہت خوب لیکن سوناک صاحب کی اصل آزمائش دباو کا شکار برطانوی معیشت ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ کساد بازاری کا یہی حال رہا تو حجم کے اعتبار سے برطانوی معیشت ہندوستان سے پیچھے ہو جائیگی۔

بریکزٹ کی وجہ سے برطانوی برآمدکنندگان کو سخت مشکلات کا سامنا ہے اور معاملہ صرف یورپی یونین تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے اکثر ممالک سے تجارتی معاہدوں پر نظر ثانی کا اعصاب شکن مرحلہ درپیش ہے۔ اسلئے کہ تجارت یورپی یونین معاہدے کے تحت ہورہی تھی اور یہ معاہدات اب عملاً غیر موثر ہوگئے ہیں۔کرونا سے پہنچنے والے نقصان کا ماتم ابھی جاری تھا کہ روس یوکرین جنگ نے ایک نیا بحران پیداکردیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق توانائی چھ گنا مہنگی ہوچکی ہے۔ تجارتی معاہدوں کی پریشانی اپنی جگہ، توانائی مہنگی ہونے کی وجہ سے مصنوعات کی پیداواری لاگت بہت بڑھ گئی ہے نتیجے کے طور پر برآمدات میں کمی واقع ہورہی ہے۔ رشی سوناک نے مہنگائی کو اپنا اولین ہدف قراردیا ہے لیکن اپنی پیشرو کی طرح موصوف بھی رعایتوں (subsidies)پر یقین نہیں رکھتے نہ وہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرکے حکومتی اخراجات کو بڑھانے کے حق میں ہیں۔ معلوم نہیں انکے پاس وہ کون سی گیڈر سنگھی ہے جسکے ذریعے وہ رعائت اور تنخواہوں میں اضافے کے بغیر مہنگائی کے مارے عوام کو راحت عطا فرمائینگے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل، کراچی 28 اکتوبر 2022

ہفت روزہ دعوت دہلی 28 اکتوبر 2022

روزنامہ امت کراچی 28 اکتوبر 2022

ہفت روزہ رہبر 30 اکتوبر 2022

روزنامہ قوی صحافت لکھنو


Thursday, October 20, 2022

ایران میں ہنگامے ۔۔۔۔

 

ایران میں ہنگامے ۔۔۔۔

ایران میں نوجوان کرُد خاتون مہسا المعروف ژینا امینی کی موت کے بعد سے ہونے والے احتجاج و ہنگاموں کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ تمام شہروں میں زن، زندگی اور آزادی (کرد تلفظ ژن، ژیان، ئازادی) کا نعرہ لگاتی ہوئی خواتین سڑکوں پر ہیں۔ پولیس سے تصادم میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایرانی کردستان کے دوسرے بڑے شہر سقز کی رہائشی 22 سالہ ژینا اپنے بھائی سے ملنے تہران آئی تھی۔ اسے 13 ستمبر کو تہران کی مرکزی شاہراہ سے ’گشتِ ارشاد‘ (اخلاقی پولیس) نے اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ اپنی والدہ اور بھائی کے ساتھ نجی گاڑی میں تھی۔ گرفتاری کے وقت اِس کے بھائی سے کہا گیا کہ مہسا کو ’نصیحت‘ کے لیے حراستی مرکز لے جایا جا رہا ہے اور ایک گھنٹے میں اسے گھر واپس پہنچا دیا جائے گا۔ کچھ دیر بعد اہلِ خانہ کو اطلاع دی گئی کہ مہسا کو دورانِ حراست دل کا دورہ پڑا ہے اور اسے پولیس کی نگرانی میں تہران کے نجی ہسپتال ’بیمارستانِ کسریٰ‘ پہنچایا جا رہا ہے۔ ژینا کو انتہائی نگہداشت کے شعبے میں رکھا گیا جہاں وہ 16 ستمبر کو دم توڑ گئی۔

ژیناکے رشتے داروں کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے بعد حوالات لے جاتے ہوئے پولیس کی گاڑی میں اس پر تشدد کیا گیا۔ ثبوت کے طور پر ان لوگوں نے پہلے سے موجود زیر حراست افراد کے تاثرات پیش کیے ہیں جس کے مطابق تھانے پہنچتے وقت مہسا کی حالت غیر تھی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اس کی بینائی ختم ہو چکی ہے اور گاڑی سے اترتے ہی وہ بیہوش ہو کر زمین پر گر پڑی۔ کسریٰ ہسپتال کی انتظامیہ کا کہنا کہ وہاں آنے سے پہلے ہی مہسا کا دماغ مردہ ہو چکا تھا۔ کسریٰ نے اس کے لیے brain dead کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ مہسا کے بھائی کا کہنا ہے کہ اس کی بہن کے سر اور پیروں پر تشدد کے نشان تھے۔ حوالات میں قید دوسری خواتین کا کہنا ہے کہ تھانے لاتے ہوئے پولیس افسران نے مہسا کو گالیاں دیں جس کا اس لڑکی نے ترکی بہ ترکی جواب دیا اور مشتعل ہو کر پولیس افسران نے مہسا کو مارا پیٹا اور ضرب و شلاق کے دوران سر پر لگنے والی چوٹ جان لیوا ثابت ہوئی۔ مہسا کے رشتے داروں کا کہنا ہے کہ ایک پولیس والے نے اس لڑکی کے سر پر ڈنڈا بھی مارا۔ دوسری طرف ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ مہسا کو دل و دماغ کا عارضہ تھا۔ ایک ماہرِ اعصاب ڈاکٹر نوشیروانی کا کہنا ہے کہ آٹھ برس کی عمر میں مہسا کے دماغ سے آپریشن کے ذریعے ایک رسولی (tumor) نکالی گئی تھی اور ڈاکٹروں نے مزید رسولیوں کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ مہسا کے والد نے حکومتی دعوے کو جھوٹ قرار دیا اور کہا ہے کہ ان کی بیٹی صحت مند تھی جسے کسی قسم کا کوئی عارضہ لاحق نہیں تھا۔

کہا جا رہا ہے کہ مہسا کے اسکارف میں سے کچھ بال نظر آرہے تھے جو گشتِ ارشاد پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کا سبب بنی۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے ’گشتِ ارشاد‘ ایرانی پولیس کے خصوصی دستے ہیں جنہیں اسلامی اخلاقیات کے احترام کو یقینی بنانے اور ’غیر مناسب‘ لباس پہنے ہوئے افراد کی ’اصلاح‘ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ مقامی قانون کے تحت گھر سے باہر نکلتے وقت خواتین کے لیے اپنے سر کو پوری طرح ڈھانپنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ ایسا لباس پہننے کی بھی اجازت نہیں جس میں جسم کے خدو خال نمایاں ہوں۔ چست لباس کی پابندی مردوں کے لیے بھی ہے اور گھر سے باہر ایسی ہاف پینٹ پہننی ممنوع ہے جس میں گٹھنے عریاں ہوں۔

ان ہنگاموں کے دوران ایران کے صدر ابراہیم رئیسی اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک آئے ہوئے تھے۔ امریکی صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مہسا کی موت کی تحقیقات انصاف کا تقاضا ہے اور ایرانی حکومت عدل وانصاف کے معاملے میں اپنی فرض سے اچھی طرح آگاہ ہے۔ احتجاج بھی عوام کا حق ہے اور اس حق کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے تاہم احتجاج کے نام پر ہنگامہ آرائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایرانی صدر نے برطانیہ اور امریکہ میں پولیس کے ہاتھوں شہری ہلاکتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران میں ایک ’زیر تحقیق‘ واقعے پر قیامت کھڑی کر دینا دہرے معیار کی بدترین مثال ہے۔ دیکھ غافل اپنی آنکھوں کا ذرا شہتیر بھی۔
اس صورتحال کی وضاحت کے لیے امریکی نیوز چینل سی این این کی ایرانی نژاد میزبان کرسچین امان پور نے ایرانی صدر سے انٹرویو کی درخواست کی۔ صدر رئیسی اس شرط پر راضی ہوئے کہ ان کی گفتگو براہ راست (live) نشر کی جائے گی۔ ملاقات سے پہلے ایرانی صدر نے کہا کہ انٹرویو کے دوران امان پور صاحبہ کو اسکارف اوڑھنا ہو گا۔ خاتون صحافی نے اس شرط کو غیر منطقی قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ملاقات نیویارک میں ہو رہی ہے جہاں قانونی طور پر ایسی پابندیاں نہیں۔ جواب میں ایرانی صدر نے کہا کہ وہ میزبان ملک کے قوانین کا احترام کرتے ہوئے اپنی ثقافت اور تہذیب کے اظہار کا موقع ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ چنانچہ امان پور صاحبہ نے یہ انٹرویو منسوخ کر دیا۔ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کرسچین امان پور نے صدر ریئسی کے معاون کا پیغام نقل کیا جس کے مطابق ایرانی حکام نے کہا کہ ’اگر امان پور صاحبہ اسکارف نہیں اوڑھتیں تو انٹرویو نہیں ہو گا کیونکہ یہ ہماری قومی عزت کا معاملہ ہے

جہاں اس واقعے کے خلاف احتجاج جاری ہے وہیں حجاب کے حق میں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے تہران میں ہزاروں برقعہ پوش خواتین اسلامی ایران کے بانی آیت اللہ خمینی کی تصاویر لے کر سڑکوں پر نکل آئیں جن میں طالبات کی اکثریت تھی۔ یہ خواتین ’حجاب ہماری آبرو‘ کے نعرے لگا رہی تھیں۔ تہران کے علاوہ مشرقی آذربائیجان، جنوبی خراسان، بلوچستان ہرمزگان، کاشان، قم، یزد، بوشہر، کرمان، وسطی، فارس، مغربی آذربائیجان اور ایلام میں بھی برقعہ پوش خواتین نے مظاہرے کیے۔

حجاب ایران میں ہمیشہ سے جذبات کے اظہار کا ذریعہ رہا ہے۔ جب 1978ء میں شاہ ایران کے خلاف عوامی تحریک میں شدت آئی تو ایرانی خواتین نے اسکارف اور چادر کو شاہ ایران کے خلاف نفرت کا استعارہ بنالیا۔ مظاہرین کی ترجمان فاطمہ تہرانی نے امریکہ کے مشہور صحافی آنجہانی والٹر کرانکائٹ (Walter Cronkite) کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایرانی خواتین شاہ ایران کو ’چڑانے‘ کے لیے اسکارف اوڑھ رہی ہیں۔ شاہ صاحب حجاب کے سخت خلاف تھے اور اسے خواتین کی غلامی کی علامت کہا کرتے تھے۔
حالیہ مظاہروں میں حکومت مخالف خواتین سرکار کے خلاف نفرت کے اظہار میں اسکارف جلا رہی ہیں۔ ایران میں خواتین کے آرائش گیسو کے مراکز پر بال کی تراش خراش کی تو اجازت ہے لیکن اسے اتنا چھوٹا کرنا کہ مردوں سے مشابہت پیدا ہو منع ہے۔ حکومت مخالف خواتین نے اب بطور احتجاج بال کٹوانے شروع کر دیے ہیں۔

حالیہ ہنگاموں میں فرقہ وارانہ پہلو بڑا نمایاں ہے۔ مہسا چونکہ کرد تھی اس لیے کردستان میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہو رہے ہیں۔ کردستان میں سُنّیوں کی اکثریت ہے۔ اسی طرح سُنّی بلوچستان بھی حکومت مخالف مظاہروں کی لپیٹ میں ہے۔

حالیہ تحریک کی خاص بات یہ ہے کہ نوجوانوں خاص طور سے لڑکیوں میں زبردست جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ جامعات کے ساتھ اب اسکولوں کی بچیاں بھی سڑکوں پر ہیں اور ان کا خاص ہدف حجاب ہے۔ طالبات چھوٹے بالوں (boy cut) کے ساتھ بلا اسکارف اپنی تصویریں سوشل میڈیا پر نشر کر رہی ہیں۔ ان طالبات کا کہنا ہے کہ وہ شریعت کے مطابق زندگی گزارنا چاہتی ہیں لیکن اس معاملے میں ریاستی جبر ناقابل قبول ہے۔ دوسری جانب مغربی ممالک کا رد عمل بہت سخت ہے۔ کینیڈا، امریکہ اور یوپی یونین نے ایرانی خواتین پر ’تشدد‘ کی مذمت کرتے ہوئے ایرانی حکام پر سفری پابندیاں عائد کردی ہیں۔

اسی دوران 15 اکتوبر کو تہران کے مضافاتی علاقے اوین میں واقع زندانِ اویں کی آگ نے مزید سنسنی پیدا کر دی ہے۔ یہ قید خانہ شہنشاہ ایران نے سیاسی قیدیوں خاص طور سے حکومت مخالف طلبہ کو زیر حراست رکھنے کے لیے 1972ء میں قائم کیا تھا۔ جب شاہ کے خلاف آیت اللہ خمینی نے تحریک شروع کی تو اس کی پشت پر جامعات کے طلبہ تھے، جن کی بڑی اکثریت کو اوین جیل میں ٹھونس دیا گیا۔ بڑی تعداد میں پروفیسر بھی گرفتار ہوئے۔ ان اساتذہ نے جیل میں درس وتدریس کا سلسلہ شروع کیا اور اس کا نام جامعہ زندانِ اوین پڑ گیا۔ انقلاب کے بعد نئی حکومت نے اپنے مخالفین کی مزاج پرسی اور گوشمالی کے لیے اس جیل کا استعمال شروع کیا اور کہا جاتا ہے کہ سیکڑوں خواتین سمیت موجودہ حکومت کے پندرہ سو مخالفین اس وقت زندانِ اوین میں بند ہیں۔ حالیہ ہنگاموں کے دوران گرفتار ہونے والے مظاہرین بھی یہاں رکھے گئے ہیں۔ تہران کے گورنر محسن منصوری نے سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA کو بتایا کہ کچھ قیدیوں نے سلائی کڑھائی کے تربیتی مرکز کے ایک حصے کو آگ لگا دی جس پر فوراً قابو پالیا گیا۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق اس واقعے میں 6 افرد زخمی ہوئے اور کسی شخص کے ہلاک ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ حسب توقع امریکہ اور مغربی ممالک کو اس واقعے پر سخت تشویش ہے۔
حجاب و پردے کی شرعی حیثیت کے بارے میں علمائے کرام بہتر رائے دے سکتے ہیں، لہٰذا ہم اپنی گفتگو اس مسئلے کے سیاسی پہلو تک محدود رکھ رہے ہیں۔ یورپی یونین اور امریکہ کا کہنا ہے کہ لباس کا انتخاب ہر شخص کا بنیادی حق ہے اور ریاست کو اس سلسلے میں دخل دینے کی ضرورت نہیں۔ اسکارف کے معاملے میں مہیسا کی گرفتاری ہی غلط تھی اور لباس کے لیے تشدد ’تہذیب‘ کے خلاف ہے۔ بظاہر مغرب کا یہ موقف منطقی نظر آتا ہے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ایران و افغان خواتین کے ’آزادی لباس‘ کے لیے فکر مند مغرب کو فرانس کی مسلم خواتین کے بنیادی حقوق سے کوئی دلچسپی نہیں جہاں قانون کے تحت عام مقامات پر اسکارف اوڑھنا منع ہے۔ حتیٰ کہ دکان کی مالکن بھی اپنی دکان پر سر نہیں ڈھانک سکتی۔ غسل آبی وآفتابی کے لیے ساحل سمندر یا تیراکی کے حوض پر جانے والی خواتین کو ساتر لباس کی اجازت نہیں اور ان کے لیے بِکنی پہننا ضروری ہے۔ فرانس کے وزیر ثقافت کہہ چکے ہیں کہ جن خواتین کو ستر کا خیال ہے وہ ساحلوں سے دور رہیں۔

ایران اور افغانستان میں سر ڈھانکنے پر اصرار غلط اور فرانس میں بچیوں کے سر سے حجاب نوچ لینے کی اجازت کو دہرے معیار کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ فرانس کے بعد اب سوئٹرزلینڈ میں بھی حجاب کو غیر قانونی قرار دینے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ سوئس پارلیمنٹ ایک مسودہ قانون پر بحث کر رہی ہے جس کے تحت ڈاک خانوں سمیت تمام سرکاری دفاتر، پارک، ساحل اور دوسرے پبلک مقامات پر برقعہ اوڑھنا جرم قرار دیا جا رہا ہے جس کے مرتکبین کو ایک ہزار ڈالر جرمانہ کیا جائے گا۔ اگر لباس کا انتخاب ہر انسان کا بنیادی حق ہے تو جو بات ایران میں غلط ہے اسے یورپ میں درست کیسے کہا جا سکتا ہے؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 21 اکتوبر 2022

ہفت روزہ دعوت دہلی 21 اکتوبر 2022

روزنامہ امت کراچی 21 اکتوبر 2022

ہفت روزہ رہبر 23 اکتوبر 2022

روزنامہ قومی صحافت لکھنو