Sunday, June 15, 2025

 

 غزہ جانے والے امدادی کارواں (Flotilla)کو اشدود پہنچادیا گیا

غزہ کی طرف جانیوالے تیسرا امدادی کارواں المعروف Freedom Flotillaبھی منزل مقصود پر پہنچنے میں ناکام رہا۔سوئٹزرلینڈ کی 22 سالہ گریٹا تھورنبرگ (Greta Thornburg)  کی قیادت میں امدادی سامان سے لدی Madleenانامی یہ کشتی اٹلی کی سسلین بندرگاہ Cataniaسے یکم جون کو غزہ کیلئے روانہ ہوئی جسکا اہتمام یورپی و فلسطینی رفاحی ادارے  Freedom Flotilla Coalition(FCC) نے کیا تھا۔ گریتا تھورنببرگ صاحبہ کے ساتھ امریکی فنکار لیام کننگھم(Liam Cummingham) اور انسانی حقوق کے برازیلی رہنما Thiago Avilaسمیت انسانی حقوق کے 12 کارکن سوارتھے۔آٹھ جون کو جب اس کشتی نے مصری بندرگاہ سے غزہ کا رخ کیا تو کشتی کے ملاح کو وزیر دفاع، اسرائیل کاٹز کا پیغام موصول ہوا جس میں بہت صراحت سے کہا گیا کہ 'یہود دشمن (Antisemitic)،حماس کی ترجمان گریٹا اور انکے ساتھیوں کو غزہ نہیں آنے دیا جائیگا'۔ اسرائیلی وزیردفاع نے پیشکش کی کہ امدادی سامان غزہ کے شمال میں اشدود کی بندرگاہ پر اتار دیا جائے۔وزیردفاع کے نام اپنے جوابی پیغام میں گریٹا نے کہا کہ ہمارا مشن مظلوموں کی مدد کیساتھ غزہ کی انسانیت کش ناکہ بندی کو توڑنا ہے لہٰذا ہم ہر قیمت پر غزہ جائینگے۔ تھوڑی دیر بعد کشتی کے GPSکو جام کردیاگیا، لیکن حوصلہ مند لوگوں نے روائتی قطب نما کی مدد سے سفر جاری رکھا۔جب مید لین،  غزہ سے 100 کلومیٹر دور تھی تو اسرائیلی بحریہ کی جنگی کشتیوں نے اسکا کا راستہ روکا اورمسلح چھاپہ مار ہیلی کاپٹروں کی مدد سے کشتی پر اتر گئے۔ تمام کارکنوں کو کشتی کے چیمبر میں دھکیل دیا گیا اور اسرائیلی بحریہ کی Tugboatsنے میدلین کو کھینچ کر اشدود پہنچادیا۔

اس کاروائی کے دوران گریٹا نے سوشل میڈیا پر ایک ہنگامی (SOS) بیان جاری کیا کہ ' اسرائیلی فوج نے میدلین پر سوار تمام کارکنوں کو اغوا کرلیا ہے۔ ہماری رہائی اور حفاظت کیلئے انصاف پسند عالمی برادری اسرائیل پر دباو ڈالے۔ اسی نوعیت کا ایک بصری پیغام انسانی حقوق کے برازیلی کارکن Thiago Avila کی طرف سے نشر ہوا۔دوسری جانب اسرائیلی وزیردفاع نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 'ہماری بحریہ کے بہادر سپاہیوں نے مادر وطن کا کامیابی سے دفاع کرتے ہوئے درانداز کشتی کو اشدود پہنچا دیا۔ کشتی پر لدا امدادی سامان غزہ بھیجا جارہا ہے۔ وزیرباتدبیر نے طنز کے تیر برساتے ہوئے اس کشتی کو Selfie Yachtکا نام دیا۔اسرائیلی وزیردفاع نے مزید کہاکہ کہ کشتی پر سوار تمام لوگوں کو 7 مئی 2023 کے طوفان الاقصیٰ کی 43 منٹ دورانئے کی دستاویزی فلم دکھائی جائیگی تاکہ انسانی حقوق کے ان کارکنوں کو پتہ چلے کہ وہ کن وحشیوں کی حمائت کررہے ہیں۔ یہ فلم اسرائیلی فوج نے بنائی ہے۔ یہاں اسرائیل کو ایک اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا کہ جب ان کارکنوں کو فلم دکھانے ہال لے جایا گیا تو یورپی رکن پارلیمان ریما حسن نے مطالبہ کیاکہ فلم دکھانے کے بجائے ہمیں غزہ جانے دیا جائے تاکہ ہم حقیقت کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرسکیں، ریما صاحبہ کی یہ تجویز مسترد کردی گئی اور جب فلم کا آغاز ہوا تو وفد کی قائد گریٹا چلا کر بولیں'تمام ساتھی آنکھیں بند کرکے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں کہ جھوٹ کا مشاہدہ اور سماعت دراصل ظلم کی حمائت ہے'۔اس پر وزیردفاع نے جھلا کر بیان جاری کیا کہ یہود مخالف(Antisemitic) عناصر میں سچ دیکھنے اور سننے کا حوصلہ بھی نہیں۔منگل 10 جون کو اسرائیلی حکومت نے تمام زیرحراست کارکنوں کو پیرس بھیجنے کا اعلان کیا لیکن یہاں بھی مقطع میں ایک سخن گسترانہ بات آن پڑی۔ فلوٹیلا کی قائد گریٹا تھورنبرگ سمیت انسانی حقوق کے چار دوسرے کارکنوں کو اسرائیلی ائرلائز (El Al) کی پرواز کے ذریعے پیرس پہنچا دیا گیا لیکن ریما حسن سمیت انسانی حقوق کے دوسرے آٹھ کارکنوں نے ملک بدری حکمنامے (Deportation Order)کی تعمیل سے انکار کردیا۔ انکے خیال میں اس دستاویز پر دستخط کا مطلب اسرائیل کو تسلیم کرنا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ واپسی کیلئے ہم اسرائیلی ائرلائن پر نہیں بیٹھیں گے۔یہ لوگ 11 جون کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہونگے۔ اسرائیل، ریماحسن کودہشت گردوں کی سہولت کار قرار دیتا ہے اسلئے انکے خلاف انتقامی کاروائی خارج امکان نہیں۔

ابھی اسرائیلی میدلین سے نمٹ ہی رہے تھے کہ تیونس سے ڈاکٹروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر مشتمل ایک کارواں غزہ کیلئےروانہ ہوگیا۔ صمود نامی یہ قافلہ لیبیا اور مصر کے راستے غزہ جانے کا عزم رکھتا ہے۔ مہم کی قائد جواہر ثنا نے بتایا کہ سینکڑوں افراد پر مشتمل 9 بسوں کا یہ قافلہ جمعہ تک صحرائے سینائی میں غزہ کو کھلنے والے ر فح پھاٹک پہنچے گا۔ بس پر کوئی امدادی سامان نہیں اورہمارا مقصد اسرائیلی ناکہ بندی توڑ کر اہل غزہ کو گلے لگانا ہے۔ یہ خبر ملتے ہی الجزائر سے بھی بسوں کا ایک بڑا کارواں روانہ ہوگیا جو لیبیامیں قافلہ صمود سے مل جائیگا۔

دوسری طرف برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، نیوزی لینڈ اور ناروے نے نیتن یاہو کے قریبی رفقا، وزیرخزانہ بیزلل اسموترچ اور وزیر اندرونی سلامتی اتامر بن گوئر پر تادیبی پابندیاں عائد کردیں ہیں۔ ان مجرموں پر غربِ اردن میں غنڈہ کردی، فلسطینیوں کی جائیداد جلانے، مقامی لوگوں کو انکے گھروں سے بیدخل کرنے کے علاوہ، دوریاستی حل کی عملی مخالفت کا الزام ہے۔انتہاپسندوزرا کے سفر اور تجارت پر پابندیوں کے علاوہ ان پانچ ملکوں میں ان دونوں کے بینک اکاونٹ منجمد کئے جارہے ہیں۔

امدادی قافلے کی روداد کے بعدعیدالاضحیٰ کا ذکر۔کربلا کی وادیِ اخدود، المعروف غزہ میں دورمضان اور دوعیدالفطر کے بعد دوسری عید الاضحیٰ بھی  آسمان سے آتش و آہن  کی نہ رکنے والی موسلا دھار بارش میں منائی گئی،  'کلمہ پڑھتے ہیں ہم چھاوں میں بمباروں کی' ۔عید سے دوددن پہلے سلامتی کونسل میں جنگ بندی اور امداد کی بحالی کی قرارداد ویٹو کرکے صدر ٹرمپ نے اہل غزہ کو عید کا تحفہ بھی عطا کردیا۔

انسانیت کے ویٹو کے ساتھ، چچا سام نے اسرائیل کے دفاع میں بین لاقوامی قوانین کو بھی پیروں تلے روند دیا۔پانچ جون کو امریکہ نے اسرائیلی وزیراعظم، سابق وزیردفاع اور فوج کے سابق سربراہ کے خلاف پروانہ گرفتاری جاری کرنے والی عالمی فوجداری عدالت (ICC) کی چار ججوں پر تادیبی پابندیاں عائد کردیں۔امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے یوگنڈا کی جسٹس Solomy Balungi Bossa، پیرو کی جسٹس Luz del Carmen Ibáñez Carranza، بینن کی جسٹس Reine Adelaide Sophie Alapini Gansou اور سلوانیہ کی جسٹس Beti Hohler کے خلاف کاروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ 'ججوں کی حیثیت سے ان چار افراد نے امریکہ اور ہمارے قریبی اتحادی اسرائیل کو نشانہ بنانے کی ناجائز اور بے بنیاد کاروائیوں میں حصہ لیا۔آئی سی سی سیاسی ہوگئی ہے۔ ہم انکے اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتے کہ انکے پاس امریکہ اور ہمارے اتحادیوں کے خلاف تحقیقات، الزامات عائد کرنے، اور فیصلہ دینے کے غیر محدود اختیارات ہیں۔

عالمی سطح پر اس قانون شکنی سے اسرائیلی حکومت کو حوصلہ ملا اوراب اسرائیل نے غزہ کے جرائم پیشہ افراد اور دہشت گردوں کو مزاحمت کاروں کے مقابلے کیلئے تربیت دے کر مسلح کرنا شروع کردیاہے۔اسکا انکشاف سابق وزیردفاع اور اسرائیل مادر وطن پارٹی Yisrael Beiteinu کے سربراہ، ایوگڈر لائیبرمین (Avigdor Liberman) نے Kanٹیلی ویژن پر کیا۔ لائیبرمین کا کہنا ہے کہ غزہ میں لوٹ مار اور ڈکیتی کیلئے مطلوب یاسر ابوشہاب کو اس گینگ کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے جو ماضی میں  ISISسے وابستہ تھا۔

اسرائیل کی جارحانہ سرگرمیوں میں حالیہ اضافے کی ایک بڑی وجہ حکومتی اتحادمیں پڑنے والی دراڑ کے نتیجے میں نیتن یاہو حکومت کا عدم استحکام ہے۔لازمی فوجی تربیت سے حریدی فرقے کے استثنیٰ پر وزیراعظم اور انکے حریدی اتحادیوں میں چپقلش کافی عرصے سے جاری ہے۔حریدیوں کے یہاں ہر لڑکے پر مدارس (Yeshiva)میں جاکر تلاوت و حفظ توریت لازمی ہے۔دوسری طرف لازمی فوجی خدمت قانون کے تحت ہر نوجوان کیلئے دوسال کی فوجی تربیت ضروری ہے۔ حریدی نوجوان فوجی تربیت میں نہیں شریک ہوتے کہ اس سے انکی دینی تعلیم متاثر ہوگی۔ اب تک فوج اس معاملے کو نظر انداز کرتی چلی آئی ہے اور حریدیوں کو فوجی بھرتی سے غیر اعلانیہ استثنیٰ ملا ہوا ہے لیکن غزہ میں فوجیوں کی غیر معمولی ہلاکتوں اور معذوری کی وجہ سے فوج میں افرادی قوت کی شدید قلت ہوگئی ہے۔ جسکی وجہ سے اب حریدیوں کی بھرتی پر اصرار ہورہا ہے۔گزشتہ ہفتے حریدیوں نے وزیراعظم سے صاف صاف کہدیا کہ اگر ہمارے استثنیٰ کو قانونی تحفظ نہ دیا گیا تو دونوں حریدی جماعتیں یعنی پاسبانِ توریت جماعت (Shas) اور توریت پارٹی (UTJ)حکومتی اتحاد سے الگ ہوجائینگی۔

کشیدگی اتنی بڑھی کہ ایک ہفتہ قبل شیخِ علومِ توریت (Degel HaTorah) اور حریدیوں کے روحانی پیشوا ربائی موسیٰ ہرش، ربائی ڈوو لینڈو اور توریت کونسل نے اپنی سیاسی جماعت UTJکو کنیسہ (پارلیمان) تحلیل کرنے کی قرارداد پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ اسی دوران 7 جون کو یوم سبت پر یروشلم میں حریدیوں کے مرکزی معبد (Synagogue)میں پراسرار آگ بھڑک اٹھی۔شاس کے روحانی سرپرست اور رئیس کلیہ علوم توریت (Rosh Yeshiva) ربائی اسحق یوسف یہیں امامت کرتے ہیں۔سیاسی تجزیہ نگاروں کے خیال میں آتشزدگی اسی کشیدگی کا شاخسانہ ہے۔ اس واقعہ کے بعد شاس نے بھی پارلیمان تحلیل کرنے کی قرارداد کے حق میں ووٹ دینے کا اعلان کردیا۔ایک سو بیس رکنی کنیسہ میں اس وقت نیتن یاہو کو 67ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ ان دونوں جماعتوں کا ساتھ چھوڑ دینے کے بعد حکومت کے حامیوں کی تعداد 50 رہ جائیگی۔ قرارداد پر فوری رائے شماری کی راہ ہموار کرنے کیلئے حزب اختلاف نے نجی بل، استحقاق کے نوٹس اور نکتہ اعتراض کی تمام تحریکیں واپس لے لیں۔خیال ہے کہ بدھ کو قرارداد پر بحث کا آغاز ہوگا۔ تاہم امریکہ اس محاذ سے غافل نہیں اور اسرائیل میں امریکہ کے سفیر مائک ہکابی حریدی رہنماوں سے بات چیت میں مصروف ہیں۔ اپنے ایک بیان میں سفیر معظم نے کہا کہ یک ایسے وقت جب ملک کو بدترین دہشتگردی کا سامنا ہے سیاسی عدم استحکام سے ملک کو سخت نقصان پہنچے گا۔حزب اختلاف اسرائیلی سفیر کی ان سرگرمیوں کو بیرونی مداخلت قرار دے رہی ہے جبکہ حکومتی عدم استحکام سے جھنجھلائے نیتن یاہو کے اشتعال کی قیمت مظلوم اہل غزہ ادا کررہے ہیں۔

امریکہ کی غیر مشروط حمائت کے باوجود دنیا بھر میں اسرائیل کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔امریکی مرکزِ دانش Pew Researchنے 6 جون کو 24 ممالک میں رائے عامہ کا جو جائزہ شایع کیا ہے اسکے مطابق اسرائیل مخالفت میں 93 فیصد کے ساتھ ترکیہ پہلے نمبر پر ہے۔انڈونیشیا میں 80 فیصد، جاپان 79 فیصد، ہالینڈ میں 78 فیصد، اسپین اور سوئیڈن میں 75 فیصد اور جنوبی افریقہ کے 54 فیصد لوگ اسرائیل کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں۔ اسرائیل، نائیجیریا اور کینیا میں سب سے زیادہ مقبول ہے جہاں بالترتیب 59 اور 50 فیصد لوگ اسرائیل کے حامی ہیں۔امریکہ میں 53 فیصد لوگ اسرائیل کے مخالف جبکہ ہندوستان میں 34 فیصد لوگ اسرائیل کے حامی ہیں۔ اگر ان 24 ممالک کا اوسط لیا جائے تو مجموعی طور پر 62 فیصد لوگ اسرائیل کے مخالف ہیں۔ امریکہ، آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس اور جنوبی افریقہ میں نوجوان طبقہ اسرائیل کا سخت مخالف ہے۔

غزہ کے معاملے پر کچھ رہنماوں کے دبنگ روئے نے اسرائیل کے حامیوں کو آزمائش میں ڈالدیا ہے۔برازیل کے صٖدر Luiz Inacio Lula da Silva  نے اپنے فرانسیی ہم منصب کے ہمراہ پیرس میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے صاف صاف کہدیا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ جنگ نہیں بلکہ ایک طاقتور مسلح فوج کی جانب سے عورتوں اور بچوں کاقتل عام بلکہ ایک انتہاپسند حکومت کی جانب سے سوچی سمجھی نسل کشی ہے۔جواب میں صدر میکراں، احتیاط و مصلحت کا نقاب اوڑھتے ہوئے ممیائے 'سیاسی رہنما (نسل کشی کی) اصطلاح استعمال کررہے ہیں لیکن وقت آنے پر یہ فیصلہ مورخین کرینگے'۔

اس حوالے سے ہسپانیہ کا رویہ بہت حوصلہ افزا ہے۔ گزشتہ ہفتے اسپین نے اسرائیلی کمپنی سے ٹینک شکن میزائیل خریدنے کا معاہدہ منسوخ کردیا۔ سودے کی مالیت 32کروڑ 50لاکھ ڈالر تھی۔ یہ اسلحہ ایک ہسپانوی کمپنی Pap Tacnosبناتی ہے جو اسرائیل کی Rafael Advanced Defense Systemکا ذیلی ادارہ ہے۔ ہسپانوی وزیردفاع مارگریٹا روبیلز نے کہا کہ غزہ نسل کشی کے بعد ہسپانیہ نے اسرائیلی فوج اور اسکے دفاعی اداروں سے کسی قسم کا تعاون یا مالیاتی لین دین نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، خواہ یہ مصنوعات ساختہ اسپین ہی کیوں نہ ہوںْ

نسل کشی کے مرتکبین کا تعاقب بھی جاری ہے۔ایک فرانسیسی خاتون جیکولین ریواولٹ Jacqueline Rivaultنے پیرس کی عدالت کو دہائی دی ہے کہ 24 اکتوبر 2024 کو خان یونس میں اسکی بیٹی کے گھر پر اسرائیل نے میزائیل حملہ کیا جس میں اسکی چھ سالہ نواسی جینا اور جینا کا نوسالہ بھائی عبدالرحیم جاں بحق ہوئے۔ یہ دونوں بچے فرانسیسی شہری تھے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ امریکی ساختہ F-16 طیارے سے دو گائیڈڈ میزائیل اسکی بیٹی کے گھر پر داغے گئے۔ گائیڈڈ میزائیل پہلے سے طئے شدہ ہدف کو نشانہ بناتے ہیں۔ یعنی اسرائیلی طیاروں نے رہائشی عمارت کو جان کر نشانہ بنایا اور شہریوں کو جان بوجھ کر ہلاک کرنا بین الاقوامی قانون کے تحت نسل کشی اور جنگی جرائم شمار ہوتے ہیں۔ مزید دلیل دیتے ہوئے درخواست میں کہا گیا ہے شہری آبادی پر بمباری کا مقصد فلسطینی آبادی کو ختم کرنا اور پوری پٹی پر انسانی زندگی کو مشکل بنانا ہے جو نسل کشی کی ایک شکل ہے۔ حوالہ: AFP

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 13 جون 2025

ہفت روزہ دعوت دہلی 13 جون 2025

روزنامہ امت کراچی 13 جون 2025

ہفت روزہ سرینگر 15 جون 2025


Saturday, June 7, 2025

 

کربلا میں عیدِ قرباں

حکیم الامت نے اسلامی تاریخ کا احاطہ  اپنے ایک مصرعے میں کچھ اس طرح کیا ہے

نہائت اسکی حسین (ر) ابتدا ہے اسماعیلؑ

آج غزہ اور غربِ اردن وہی منظر پیش کررہے ہیں۔ آتش و آہن کی ایک لمحے نہ رکنے والی موسلا دھار بارش کو 600 دن سے زیادہ ہوگئے اور عید سے دوددن پہلے سلامتی کونسل میں جنگ بندی اور امداد کی بحالی کی قرارداد ویٹو کرکے صدر ٹرمپ نے اہل غزہ کو عید کا تحفہ پیش کردیا۔

سچ تو یہ ہے کہ غزہ 2006 سے کربلا بناہوا ہے جہاں پانی کا ایک قطرہ، غذہ کا ایک دانہ اور توانائی ایک شرارہ اسرائیل کی اجازت کے بغیر وہاں نہیں پہنچ سکتا۔ بحیرہ روم کے کنارے 41 کلومیٹر لمبی اور 8 کلومیٹر چوڑی اس پٹی کو جولائی 2012 سے مئی 2013 تک سکون کا سانس نصیب ہوا جب مصر کے صدر ڈاکٹر محمد مورسی سے صحرائےسینائی میں کھلنے والے بابِ ر فح کو چوپٹ کھول دیا یا یوں کہئے کہ دنیا میں کھلی چھت کی اس سب سے بڑے جیل خانے کی ایک دیوار گرادی گئی۔اس جسارت کی جناب ڈاکٹر مورسی اور اخوانیوں نے بھاری قیمت ادا کی۔ خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں کارکن شہید ہوئے اور ڈاکٹر صاحب اپنی پوری قیادت کے ساتھ پھانسی گھاٹ بھیج دئے گئے۔بدترین تشدد کا شکار جناب مورسی 17 جون 2019کو پیشی کے دوران اپنے موبائل پنجرے میں دم توڑ گئے جبکہ ہزاروں کارکن قاہرہ کی بدنام زمانہ بچھو جیل میں انسانیت سوز عقوبت سہہ رہے ہیں۔   

اہل غزہ کے موجودہ دورابتلا کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو ہوا جب بانکوں نے طوفان الاقصیٰ برپا کیا۔ جو دراصل 25 لاکھ قیدیوں کی طرف سے جیل توڑنے کی ایک کوشش تھی۔ اس وقت سے غزہ، کربلا بلکہ وادی اخدود بن چکا ہے، یعنی ایک ایسا تندور جہاں جیتے جاگتے انسان دھکائے جارہے ہیں اور جیے اصحاب الاخدود، آگ کے گڑھوں میں گرنے والے ایل ایمان کی چیخوں اور انکی ہڈیوں کے چٹخنے کی آواز سے لطف اندوز ہورہے تھے، ویسا ہی تماشہ آج غزہ میں برپا پے۔کسی اور سے کیا شکوہ کہ غزہ سے دنیا کے امیر ترین مسلم ممالک کا فاصلہ 1000 کلومیٹر سے بھی کم ہے لیکن امراو ملوک اور شیوخان حرم کے کان معصوموں کی چیخوں کیلئے بہرے ہوچکے ہیں۔

بمباری و گولہ باری کے ساتھ اب غذائی سامان کی تقسیم کے نام پر موت کے نئے جال بُن دئے گئے ہیں جہاں امداد  کیلئے آنے والے بچے کفن میں لپٹے واپس لوٹتے ہیں۔ مرجانے والے اس اعتبار سے خوش نصیب ہیں کہ مصیبت سے نجات پاگئے ورنہ زخمی سڑکوں پر ایڑیاں رگڑ رہے ہیں جنکے جھلسے جسموں کو مرہم کی راحت تو دور کی بات خشک لبوں کو تر کرنے کیلئے چند قطرےپانی بھی میسر نہیں۔ اہل غزہ اسی حالت میں دورمضان، دوعیدالفطر، عاشورہ و عید الاضحٰی گزار چکے ہیں اور آج کربلا کی وادیِ اخدود میں دوسری عیدالاضحیٰ  منائی جارہی ہے۔

جب اللہ کے خلیلؑ نے اپنے فرزند کو اپنا خواب سنایا تو بیٹے نے بے دھڑک کہدیا 'ابا جان آپ کرگزرئے جو آپ کو حکم دیا جارہا ہے یعنی آپکا بیٹا آپ کے رب کے حکم پر ذبح ہونے کو تیارہے اور اللہ سے یہی امید ہے کہ وہ مجھے صابر و ثابت قدم رکھے گا۔ عید الاضحیٰ کے موقع پر اہل غزہ،  فرزند ابراہیمؑ اور نواسہ رسول کی پاک سنت کی ایک ساتھ تجدید کررہے ہیں۔ گھر برباد ہوگئے، ایک ایک کرکے سارے بچے رب کے پاس پہنچ  گئے۔ بھوک و پیاس سے ساری آبادی موت کی دہلیز پر لیکن ہر زبان اللہ کی حمد اور اسکے شکر کے  ترانے۔

غزہ، شہدائے اخدود کے ایمان، شعب ابی طالب کے فاقے ، کربلا میں نواسہ و خانوادہ رسول کی بے بسی اور ذبیح اللہ ؑ کے ٹبات و قرار کا شاندار امتزاج ہے۔آج جہاں ساری دنیا میں جانور قربان کرکے إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ کے وعدے کی تجدید کی جارہی ہے وہیں بھوکے پیاسے فلسطینی اپنا لہو بہاکر ٖفلسفہ قربانی کو حقیقت کا روپ دے رہے ہیں۔

ہفت روزہ سنڈے میگزین، کراچی 8 جون 2025


Thursday, June 5, 2025

 

 امریکہ کے تجویز کردہ امن معاہدے پر اہل غزہ کے تحفظات

غزہ میں امن کی حالیہ کوشش بھی ناکام ہوتی نظر آرہی ہے۔صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف نے 29 مئی کو امن معاہدے کا جو 13 نکاتی متن غزہ مزاحمت کاروں کو بھجوایا نو کچھ اسطرح تھا۔

1۔ مدت: 60 دن، صدر ٹرمپ اس بات کے ضامن ہیں کہ اسرائیل مدتِ معاہدے کے دوران اسکی پاسداری کریگا

2۔ اہل غزہ پہلے سات دنوں میں 10 قیدی اور 18 لاشیں اقوام متحدہ کے حوالے کرینگے۔

3۔ معاہدے ہوتے ہی غزہ کیلئے امداد پر عائد تمام پابندیاں ختم کردی جائینگی۔ تقسیم کی نگرانی اقوام متحدہ اور فلسطینی ہلال احمر کرینگی

4۔ معاہدہ ہوتے ہی اسرائیل تمام فوجی کاروائی روکدیگا۔ غزہ پر فوجی طیاروں اور جاسوس پروازیں 10 گھنٹہ روزانہ تک محدود کردی جائینگی۔ قیدیوں کی حوالگی کے دوران 12 گھنٹے تک غزہ کی فضا میں کوئی جہاز نہیں اڑے گا

5۔ معاہدہ کے بعد قیدیوں کے پہلے گروپ کے تبادلے کے ساتھ ہی اسرائیلی فوجوں کا شمالی غزہ اور نتظارم راہداری (Netzarim Corridor) سے انخلا شروع ہوجائیگا۔ ساتوں دن قیدیوں کے دوسرے گروپ کے تبادلے کےساتھ اسرائیلی فوج جنوبی غزہ خالی کرنا شروع کردیگی۔ دونوں طرف کی ٹیکنیکل ٹیمیں واپسی کا حتمی نقشہ طئے کرینگی

6۔ عبوری معاہدہ ہوتے ہی ضامن (یعنی امریکہ) اور مصالحت کاروں (قطر اور مصر) کی نگرانی میں پائیدار اور مستقل امن کیلئے بات چیت شروع ہوجائیگی جن میں مندرجہ ذیل نکات کا احاطہ کیا جائیگا۔

تمام قیدیوں اور باقیات کا تبادلہ

اسرائیلی فوج کا غزہ سے مکمل انخلا

بعد از انخلا، غزہ کا انتظام و انصرام

7۔ امریکی صٖدر معاہدے پر عملدرآمد کرانے کیلئے انتہائی سنجیدہ ہیں اور انکا اصرار ہے کہ عبوری جنگ بندی کے دوران دونوں فریق اخلاص کے ساتھ معاملات طئے کرکے علاقے میں مستقل اور جامع امن کو یقینی بنائیں۔

8۔ پانچ اسرائیلی قیدیوں کے عوض اسرائیل، عمر قید کی سزاپانے والے 125 اور دوسرے 1111 قیدیوں کو رہا کریگا۔ اٹھارہ لاشوں کے بدلے 180 فلسطینی قیدی رہا کئے جائینگے۔

9۔ معاہدے کے دسویں دن مزاحمت کار زندہ اور مردہ قیدیوں کی مکمل فہرست اقوام متحدہ کے حوالے کرینگے

10۔ جامع امن معاہدے کی صورت میں باقی ماندہ تمام قیدی رہا کردئے جائینگے

11۔ امریکہ، قطر اور مصر یہ ضمانت دیتے ہیں کہ 60 دنوں کے عبوری دور میں معاہدے کی پابندی یقینی بنائی جائیگی۔ اسکے علاوہ مکمل و پائیدار امن کیلئے سنجیدہ کوششیں کی جائینگی۔

12۔معاہدے کو آخری شکل دینے کیلئے اسٹیو وٹکاف حتمی مذاکرات کی صدارت کرینگے

13: فریقین کی رضامندی کی صورت میں صدر ٹرمپ خود اس معاہدے کا اعلان کرینگے

ان تجاویز کے بارے میں جناب ٹرمپ اتنے پرامید تھے کہ قصر مرمرٰیں میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے پراعتماد لہجے میں کہا کہ غزہ جنگ بندی اب ہفتوں یا دنوں کی نہیں  گھنٹوں کی بات ہے۔

مزاحمت کاروں کاکہنا ہے کہ معاہدے میں اصل بات یعنی اسرائیلی فوجوں کی واپسی کا معاملہ گنجلک ہے۔ متن کے مطابق انخلا کی تفصیل مستقل امن معاہدے کیلئے مذاکرات میں طئے کی جائینگی۔ جب قیدی رہا ہوگئے تو پھر اسرائیل کو من مانی سے کون روک سکتاہے؟؟صدر ٹرمپ اور امریکہ جو بھی چاہے دعویٰ کرتے پھریں، لیکن مزاحمت کار انھیں غیر جانبدار ثالث تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ خود اسٹیو وٹکاف کے بیانات میں دھمکی و دھونس بہت نمایاں ہے۔ یکم جون کو اہل غزہ نے متن پر اپنے تحفظات کیساتھ جواب امریکہ کے حوالے کردیا۔ مزاحمت کاروں کا کہنا ہے کہ وہ پیشکش مسترد تو نہیں کررہے  لیکن متن کا مجموعی جھکاو اسرائیل کی طرف ہے۔ اہل غزہ نے اپنے جواب میں کہا کہ اگر جنگ بندی عبوری مدت کی کرنی ہے تو یہ دورانیہ سات سال ہونا چاہیے تاکہ اس عرصے میں مکمل و پائیدار جنگ بندی کیلئے بامقصد مذاکرات ہوسکیں۔ امدادی سامان کی تقسیم امریکہ اور اسرائیل کے بجائے غزہ کی مقامی انتظامیہ کے ہاتھ میں ہو اور اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کی ضمانت دی جائے۔ معاہدے کے متن میں ایسی تبدیلی ضروری ہے جسکے تحت مستقل امن معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں بھی اسرائیل جنگ کا دوبارہ آغاز نہ کرسکے۔ غزہ سے جواب ملتے ہی اسٹیو وٹکاف نے کہا کہ مزاحمت کاروں کی جوابی شرائط ناقابل قبول ہیں اور یہ لوگ وقت ضایع کررہے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل کے وزیردفاع نے دھمکی دی کہ اگر امریکی تجاویز ناقابل قبول ہیں تو مزاحمت صفحہ ہستی سے مٹنے کو تیار ہوجائیں۔ غزہ کے جواب سے ایک ہی دن پہلے قیدیوں کے لواحقین سے باتیں کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے کہا تھا کہ وہ مزاحمت کاروں ے مکمل خاتمے سے پہلے جنگ ختم نہیں کرینگے۔

امن بات چیت کے دوران اسرائیل کی وحشیانہ کاروائی میں شدت آگئی ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق 17 سے 27 مئی کے دوران ایک لاکھ 80ہزار اہل غزہ اپنے گھروں سے بیدخل کیے گئے، مارچ میں عارضی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد سے اب تک سوا چھ لاکھ شہری دربدر ہوئے۔ ہلاکت خیز بمباری میں تیزی و ہلاکت خیزی کا ذکر خود اسرائیلی فوج فخریہ انداز میں کررہی ہے۔ ایک حالیہ اعلان میں کہا گیا کہ محمد سنوار کونشانہ بنانے کےلیے اسرائیل نے 13مئی کو یورپین اسپتال پر تیس سیکنڈ میں پچاس بم گرائے۔پریس نوٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملے میں محمد سنوار کے ساتھ تین دوسرے اہم کمانڈر بھی جاں بحق ہوئے۔ محمد سنوار ، یحییٰ سنوار کے بھائی اور مزاحمت کاروں کے عسکری سربراہ ہیں جنکے جاں بحق ہونے کی مزاحمت کار تردید کررہے ہیں۔ اعلامئے کے مطابق حملہ اسقدر مہارت سے کیا گیا کہ ایک بھی مریض یا غیرمتعلقہ فرد کو خراش تک نہیں آئی۔ ہسپتال پر آدھے منٹ میں تیس بنکر بسٹر گرے اور کوئی زخمی نہیں ہوا؟؟؟؟۔ جو چاہے آپکا حسن کرشمہ ساز کرے۔ عینی شاہدین کا کہناہے کہ استقبالیہ کے سوا پوری عمارت زمیں بوس بوگئی۔

نیتن یاہو، صدر ٹرمپ کی مدد سے  غزہ پر جہنم کے نئے دروازے کھولدینے میں تو کامیاب ہوگئے لیکن انکی انتہا پسند پالیسیوں نے اسرائیل کو خانہ جنگی راہ پر لاکھڑا کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے تل ابیب میں حکومت مخالف مظاہرین، حکمران لیکڈ اتحاد کے مرکز پر ٹوٹ پڑے اور پر عربی اور عبرانی میں 'قطری سفارتخانہ' لکھدیا۔ اسرائیلی وزیراعظم کے قریبی احباب پر قطر سے رشوت کھانے کا الزام ہے۔ اس دوران 'سول نافرمانی'، 'بن گوئر (وزیراندرونی سلامتی) دہشت گرد ہے'، 'بے مقصد جنگ بند کرو' کے فلک شگاف نعرے لگائے گئے۔ ہجوم پر قابو پانے کیلئے گھڑ سوار پولیس استعمال کی گئی اور 75 افراد گرفتار ہوئے۔

مظاہرے روکنے کیلئے طرح طرح کی پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔ شہری حقوق کی اسرائیلی انجمن ACRIنے 29 مئی کو یوم سبت پر جنگ بندی اور غزہ نسل کشی کے خلاف تل ابیب میں مظاہرے کا پروگرام بنایا تو پولیس کی جانب سے منتظمین کو بتایا گیا کہ غزہ میں شہید و زخمی ہونے والے بچوں کی تصویروں والے پوسٹروں اور پلے کارڈز کی نمائش 'قومی جذبات بھڑکانے" کی ملک دشمن کارروائی ہے اور اور جو بھی ایسے پلے کارڈز لہراتا پایا گیا اسے گرفتار کر لیا جائے گا۔ اسی روز اسرائیل کے تیسرے بڑے شہر اور مرکزی بندرگاہ حیفہ کے جلسہ عام میں عرب سیاسی اتحاد حدش طعل کے سربراہ اور رکن پارلیمان ایمن عودہ نے کہا کہ 'اقوام عالم اور خاص طور سے مغرب میں اسرائیل ایک قابل نفرت ریاست بن چکا ہے۔چھ سو دن سے جاری جنگ کے بارے میں اسرائیلی کھل کر کہہ رہے ہیں کہ کاش ہم یہ دن نہ دیکھتے۔ یہ دائیں بازو کے انتہا پسندوں اور انکے متعصبانہ نظریے کی تاریخی شکست ہے۔ غزہ جیت گیا، غزہ جیت رہا ہے اور غزہ جیتے گا'

دوسری طرف فرانس، اٹلی، اسپین اور برطانیہ آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کیلئے بات چیت کا آغاز کرچکے ہیں اور جون میں اس حوالے سے اہم فیصلہ متوقع ہے۔جواب میں اسرائیلی وزیر تزویراتی امور ران ڈرمر نے دھمکی دی کہ اگر  یورپ نے فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کیا تو غربِ اردن کااسرائیل سے الحاق کرلیا جائیگا۔اپنی دھمکی کو عملی جامہ پہناتے ہوئے نیتن یاہو کی کابینہ نے غرب اردن میں 22 نئی بستیاں تعمیر کرنے کی منطوری دیدی اور اراضی کے حصول کیلئے نابلوس میں فلسطینی مکانات کے انہدام کا کام شروع ہوگیا۔ اب اسرائیل کے سب سے پرجوش حامی جرمنی نے بھی نیتن یاہو کی توسیع پسندانہ پالیسیوں پر عدم اعتماد کا اظہار کرنا شروع کردیاہے۔ فن لینڈ کے شہر ٹرکو (Turku)میں 19 مئی کو نورڈک سربراہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا کہ 'غزہ پر اسرائیلی فوج کے نئے حملوں کی کوئی منظق نظر نہیں آتی۔ اس سے دہشت گردی کا سدباب کیسے ہوگاا؟ مجھے اس سے شدید اختلاف ہے۔یہ میں پہلی بار نہیں کہہ رہا۔ وقت آگیا ہے کہ اس موقف کا برملا اظہار کیا جائے۔ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ناقابل قبول ہے'

مغرب میں مخالفت کا مقابلہ کرنے کیلئے اسرائیل نے ہولوکاسٹ (Holocaust)کا ڈھول پیٹنا شروع کردیا ہے۔ یروشلم میں بین الاقوامی اتحاد برائے یاددہانیِ ہولوکاسٹ یا International Holocaust Remembrance Alliance کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیرخارجہ گدون سعر بلبلائے کہ اگر اسرائیل پر ہتھیاروں کی پابندی لگائی گئی تو اقوامِ عالم کی یہ واحد یہودی ریاست تباہ ہوجائیگی اور دنیا ایک نئے ہولوکاسٹ (Holocaust)کا مشاہدہ کریگی۔کپکپاتے لہجے میں انھوں نے کہا کہ جو ملک، ریاستیں اور سیاستدان اسرائیل پر پابندیاں لگانا چاہتے ہیں انھں اندازہ ہی نہیں کہ اسکے کیا نتائج نکلیں گے۔ یہ دراصل یہودی قوم کو دفاع کے وسائل سے محروم کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ ایسے وسائل جو ہمیں جلا وطنی کے طویل سالوں اور ہولوکاسٹ کے دوران میسر نہ تھے۔

غزہ نسل کشی کے بارے میں امریکی طلبہ کی حمائت پرجوش ہوتی جارہی ہے۔ نیوزویک اور آن لائن خبر رساں ایجنسی Axiosکے حالیہ جائزوں کے مطابق امریکی کالجوں اور جامعات کے 65 فیصد طلبہ آزاد فلسطین کے حامی اور غزہ نسل کشی پر سخت تشویش میں مبتلا ہیں۔اسی کیساتھ انتظامیہ کی سختی بھی بڑھتی جارہی ہے۔ غزہ نسل کشی کے خلاف تقریر پر برہم ہوکر، مایہ ناز امریکی دانشگاہ MITنے ہندوستان نژاد طالبہ میگھا ویموری کو جلسہ تقسیم اسناد میں شرکت سے روکدیا۔ میگھا کو طلبہ یونین کے صدر کی حیثیت سے جلسہ تقسیم اسناد میں تقریر کرنی تھی۔دوروز پہلے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے میگھا نے کہا تھا کہ MITانتظامیہ جو چاہے کرے، طلبہ غزہ نسل کشی کے خلاف احتجاج کرتے رہینگے کہ یہ مسلمان یہودی یا عرب اسرائیل کا نہیں انسانیت کا معاملہ ہے۔

معاملہ صرف امریکہ تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر کی جامعات پر نسل کشوں کے دروازے بند ہوتے جارہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے سینگالی دارالحکومت ڈاکار کی جامعہ شیخ دیوپ میں تعلقاتِ عالم پر تقریر کیلئےاسرائیلی سفیر یووال واکس (Yuval Waks)بطور مقرر مدعو کئے گئے۔موصوف کے جامعہ آتے ہی طلبہ نے آزاد فلسطین اور غزہ کے قاتل واپس جاو کے نعروں سے انکا استقبال کیا ۔ مظاہرے کی شدت دیکھ کر فاضل سفیر نے وہاں سے دم دباکر بھاگنے ہی میں غنیمت جانی۔

سیاسی و سفارتی محاذ پر اسرائیل کی تنہائی کے ساتھ انسانی حقوق کی تنظیمیں خطرات کے باوجود غزہ کی مدد کیلئے پرعزم ہیں۔یکم جون کو سوئٹزرلینڈ کی گریتا تھونبرگ (Greta Thornburg)  کی قیادت میں امدادی سامان سے لدی ایک کشتی اٹلی کی سسلین بندرگاہ Cataniaسے غزہ کیلئے روانہ ہوگئی۔اس قافلے کا اہمتام یورپی و فلسطینی رفاحی ادارے  Freedom Flotilla Coalition(FCC) نے کیا ہے۔ گریتا تھورنببرگ صاحبہ کے ساتھ امریکی ڈرامہ سیریز Game of Thronesکے اداکار لیام کننگھم(Liam Cummingham)، انسانی حقوق کے برازیلی رہنما Thiago Avilaاور یورپی پارلیمان کی فرانسیسی رکن ریماحسن سمیت انسانی حقوق کے 12 کارکن Madleenنامی کشتی پر سوارہیں۔اگر رکاوٹ نہ ٖڈالی گئی تو یہ کشتی ایک ہفتے میں غزہ پہنچے گی۔ ایک ماہ قبل FCCکے زیراہمتام گریتا تھونبرگ کی قیادت میں اسی نوعیت کی الضمیر یا Conscienceنامی کشتی 29 اپریل کو الجزائری بندرگاہ بنزرت (Bizerte)سے روانہ کی گئی تھی۔ جب یہ کشتی مالٹا کی بندرگاہ پر لنگر انداز تھی تو 2 مئی کو اس پر اسرائیل نے  ڈرون حملہ کیا جس سےکوئی جانی نقصان تو نہ ہوا لیکن کشتی کے آگلے حصے میں آگ لگ جانے کی وجہ سے اسکا مشن منسوخ کردیا گیا۔گریٹا صاحبہ اور انسانی حقوق کے دوسرے کارکنوں کو پورا یقین ہے کہ اس قافلے کا بھی وہی حال ہوگا جو الضمیر اور اس سے  پندرہ برس پہلے ترک کشتی ماوی مرمرہ (MV Mavi Marmara)کا ہواتھا۔ خطرے کا احساس کرتے ہوئے مشن کے آغاز پر گریٹا نے کہا 'چاہے جیسی بھی مشکلات حائل ہوں، ہمیں کوشش کرتے رہنا ہے کہ (خیر کی)کوشش کا خاتمہ درصل انسانیت کا خاتمہ ہے۔ یہ مشن خواہ کتنا بھی خطرناک کیوں نہ ہو، (غزہ) نسل کشی پر دنیا کی خاموشی سے زیادہ خطرناک نہیں'  

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 6 جون 2025

ہفت روزہ دعوت دہلی 6 جون 2025

روزنامہ امت کراچی 6 جون 2025

ہفت روزہ رہبر سرینگر 8 جون 2025


Thursday, May 29, 2025

 

یہ جنازہ نہیں میرے شہزادے کی برات ہے ، کفن پر دولہا لکھو، ایک ماں کی فریاد

یوم سبت (24 مئی) پر تل ابیب سے ایک سنسنی خیز بیان جاری ہوا جسکے مطابق آخری اور فیصلہ کن حملے کیلئے اسرائیل نے اپنی پوری پیدل اور بکتر بند فوج غزہ طلب کرلی ہے۔ اعلامئے میں مزید کہا گیا کہ گولانی چھاپہ مار ڈویژن، گیواتی کمانڈوز بریگیڈاور نحل ٹینک ڈیژن کے ساتھ تمام محفوظ یا reserveدستوں نے بھی پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔ فوج کے سربرہ جنرل ایال ضمیر کا کہنا تھا کہ اس بھرپور حملے کا مقصد مزاحمت کاروں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے۔

اسکے دودن بعد 26 مئی کی صبح امریکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز  نے صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف کے حوالے سے خبر دی کہ اہل غزہ 70 دن کی عبوری جنگ بندی پر آمادہ ہوگئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق، مزاحمت کار اپنے سینکڑوں قیدیوں اور جزوی اسرائیلی انخلا کے عوض 70 دنوں میں اسرائیل کے 10 قیدی رہاکردینگے۔اس  معاہدے کے ضامن صدر ٹرمپ ہیں جنھوں نے بانکوں کو یقین دلایا ہے کہ 70 دنوں میں  پائیدار و مستقل امن معاہدہ ہوجائیگا اور اگر معاہدے کی راہ میں رکاوٹیں آئیں تب بھی اسرائیل غزہ پر حملہ نہیں کریگا۔

اس اعلان کے چند گھنٹوں بعد اسٹیو وٹکاف نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کیلئے امریکی تجویز اسرائیل نے تسلیم کرلی ہے اور مزاحمت کاروں کو چاہئے کہ وہ بھی اسرائیل کی پیشکش قبول کرلیں۔ اسی کیساتھ ٹائمز آف اسرائیل نے اہل غزہ سے منسوب ایک بیان شائع کیا جس میں الزام لگایاگیا ہے کہ جناب وٹکاف پہلے طئے کی گئی شرائط سے مکر رہے ہیں یعنی اسرائیلی فوج کا جزوی انخلا انکے ترمیم شدید اعلان میں شامل نہیں۔جواب میں جناب وٹکاف خوب غرائے اور کہا کہ مزاحمت کار ہمارا وقت ضائع کررہے ہیں۔غزہ امن کے بارے میں جناب وٹکاف اور صد ٹرمپ کی نیتوں کا فطور بہت واضح ہے۔ یہ دونوں میدانِ Real Estate کے شہسوار ہیں اور انھیں لٹے پٹے غزہ کی پشت پر نفع بخش Beach Frontنظر آرہا ہے۔ زمین مفت اور تعمیر قطر، سعودی و متحدہ عرب امارات کے پیسوں سے۔ یعنی آم کے آم آور گٹھلیوں کے دام

گزشتہ انیس ماہ کے دوران، بنکر بسٹر بموں سمیت اسرائیل نے اپنے ترکش کا ہر تیز آزمالیا۔ اسکے نتیجے میں غزہ کھنڈر اور اہل غزہ زندہ درگور ہوگئے لیکن اسرائیل اب تک اپنا ایک بھی عسکری ہدف حاصل نہ کرسکا۔ اسی جنجھلاہٹ کا نتیجہ ہے کہ حملوں میں شدت کیساتھ وحشت و درندگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور اسرائیل کے امریکی دوستوں کے خیال میں 'اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا'

صد ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور فلورڈا سے ریپبلکن پارٹی کے رکن کانگریس رینڈی فائن نے غزہ پر جوہری بم گرانے کی تجویز دے ہے۔راسخ العقیدہ یہودی، مسٹر فائن یکم اپریل کو سابق مشیر سلامتی مائک والز کی خالی کردہ نشست پر رکن منتخب ہوئے ہیں، صدر ٹرمپ نے موصوف کی انتخابی مہم می  بنفس نفیس حصہ لیا تھا۔ واشنگٹن میں اسرائیلی سفارتخانے کے دو اہلکاروں کے قتل پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے رینڈی فائن نے فاکس ٹیلی ویژن پر کہاکہ 'فلسطینیوں کا موقف (cause) بذات خود ایک شیطنت ہے۔ غزہ میں تنازعہ کا خاتمہ مسلم دہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کی طرف سے ہتھیار ڈالنے کی صورت ہی میں ممکن ہے۔دوسری جنگ عظیم میں نازیوں سے ہتھیار ڈالنے کی بات کی گئی نہ جاپانیوں سے۔ہم نے جاپانیوں پر دو بار ایٹم گرایا اور معاملہ ختم۔ یہاں بھی اسی کی ضرورت ہے۔جیسے امریکہ نے جاپان پر جوہری بم گرایا، شائد اب اسی کی ضرورت غزہ میں ہے'

بلاشبہ نہتے افراد کا قتل حد درجہ افسوسناک ہے، لیکن غزہ میں ہونے والے واقعات کا دکھ ساری دنیا محسوس کررہی جسکا رد عمل 21 مئی کی شام کو نظر آیا جب امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے یہودی میوزیم سے باہر آتے اسرائیلی سفرتخانے کے دوافسران یارون لچنسکی اور اسکی گرل فرینڈ سارہ ملگرم کو ایک 30 سالہ شخص الیاس راڈریگز نے  گولی مار کر ہلاک کردیا۔حملے کے بعد بھاگنے کے بجائے الیاس نے میوزیم کے اندر جاکر خود کو پولیس کے حوالے کردیا۔پولیس کمشنر پامیلا اسمتھ کے مطابق گرفتاری کے وقت الیاس 'آزاد فلسطین' کے نعرے لگارہا تھا۔دوسرے روز عدالت کے روبرو بھی الیاس نے کہا کہ غزہ میں ہونے والے مظالم نے اسے راست اقدام پر مجبور کیا۔ الیاس ایک تعلیم یافتہ اور برسرروزگار شخص ہے۔ اسکے ریکارڈ میں کسی قسم کی مجرمامہ یا پُر تشدد سرگرمی میں ملوث ہونے کا کوئی اندراج نہیں۔ سوشلسٹ خیالات کی طرف مائل الیاس، انسانی حقوق کا سرگرم کارکن ہے۔واضح رہے کہ الیاس مسلمان نہیں۔ اس واقعہ کے بعد امریکہ اور یورپ کے یہودیوں میں شدید خوف و ہراس پیدا ہوگیا۔ جرمنی میں انسداد سام دشمنی (Antisemitism)کے کمشنر فیلیکس کلائن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دوسرے ممالک میں بھی اس قسم کے مزید واقعات پیش آسکتے ہیں۔اسرائیلی ماہرین کی فکرمندی کی اصل وجہ یہ ہے کہ الیاس راڈریگز کسی گروپ یا گروہ سے وابستہ تھا اور نہ اس نے اس کام کیلئے کسی کی مدد لی۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ غزہ نسل کشی عام لوگوں کو راست قدم اٹھانے پر اکسارہی ہے اور اس قسم کے واقعات کو روکنا بہت مشکل ہے۔

پابندیوں اور بدترین سینسر کے باوجود اب غزہ نسل کشی کی خبریں اسرائیل پہنچ رہی ہیں اور وہاں بھی عوام سطح پر بیچینی کا اظہار ہورہا ہے۔ سابق ڈپٹی چیف آف اسٹاف اور ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ جنرل (ر) یائر گولان نے کہا کہ اسرائیل بہت تیزی سے Apartheid دور کا جنوبی افریقہ بن رہا ہے۔ ایک معقول ملک شہریوں کے خلاف نہیں لڑتا، بچوں کو شوقیہ نہیں مارتا اور آبادیوں کو بے دخل کرنا اسکی قومی حکمت عملی نہیں ہوتی۔ جنرل صاحب کے اس بیان پر وزیردفاع اسرائیل کاٹز نے انھیں محفوظ یا ریزرو دستے سے فارغ کردیا۔ اسرائیل میں تمام فوجی ریٹائر ہونے کے بعد ریزرو شمار ہوتے ہیں جنھیں بوقت ضرورت محاذ پر بھیجا جاسکتا ہے۔ دوسرے دن بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے اسرائیل کے سابق وزیراعظم، یہود المرٹ نے کہدیا کہ 'غزہ میں اسرائیلی اقدامات انسانیت کے خلاف جرائم کے “بہت قریب” ہیں'

غرب اردن میں ہونے والے تشدد اور جبری بیدخلی پر بھی دنیا تشویش کا اظہار کررہی ہے۔اس تاثر کو غلط ثابت کرنے کیلئے اسرائیل نے غیر ملکی سفارتکاروں کو غرب اردن کا دورہ کرنے کی اجازت دیدی۔ وفد کی آمد سے  پہلے علاقے کی ادھیڑی ہوئی سڑکوں کی استرکاری کی گئی اور عمارتوں کو رنگ روغن کرکے چمکا دیا گیا۔ اس سارے انتظامات کے بعد 21 مئی کو فوج کی نگرانی میں فرانس، برطانیہ، کینیڈا، روس، چین، ہندوستان، جاپان سمیت 21ممالک اور یورپی یونین کے سفارتکاروں کو جنین لایا گیا۔چونا کاری کاکام اس قدر جلدبازی اور بھونڈے پن سے کیا گیا تھاکہ اسکا مصنوعی پن صاف نظر آرہا تھا، چنانچہ یورپی یونین کے سفارتکار برابر والی گلی میں چلے گئے جہاں سڑک ادھڑی اور مکانات کی دیواریں گولیوں سے چھلنی تھیں۔ اس پر اسرائیلی فوج نے زبردست ہوائی فائرنگ شروع کردی۔سفارتکار بھاگ کر وہاں سے واپس آگئے اور کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔اسرائیلی فوج نے اس پر معذرت کرتے ہوئے کہاکہ وفد نے پہلے سے طئے شدہ راستے سے انحراف کیا تھا اور فائرنگ دہشت گردوں کو متنبہ کرنے کیلئے کی گئی تھی۔

اسرائیلی مظالم پر دنیا میں بیداری تو ہے لیکن ردعمل سست ہونے کیساتھ  گروہ بندی، اسلاموفوبیا اور تعصب  بہت واضح ہے۔ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے حالیہ اجلاس میں اسرائیل سے تجارت اور تعاون کے معاہدوں پر نظر ثانی کی قرارداد27میں سے 17ممالک نے منظور کرلی۔ گویا دوتہائی سے بھی کم یورپی ممالک غزہ کے معاملے کو سنگین سمجھ رہے ہیں۔یہ تحریک ہالینڈ نے پیش کی تھی جسکی بلغاریہ، کروشیا، یونانی قبرص، چیک ریپبلک، جرمنی، یونان، ہنگری، اٹلی اور لتھوانیہ نے مخالفت کی جبکہ لٹویا غیر جانبدار رہا۔ دوسری طرف برطانیہ نے اسرائیل سے آزادانہ تجارت کے معاہدے (FTA)پر مذاکرات منجمد کردئے ہیں۔ پارلیمان میں تقریر کرتے ہوئے وزیرخارجہ ڈیوڈ لیمی نے کہا کہ غزہ اور غرب اردن میں اسرائیل کا رویہ انتہائی برا اور انسانیت کے خلاف جرائم شمار ہوسکتا ہے

موسیقی کے عالمی مقابلے یورویژن (Eurovision) کا ذکر ہم گزشتہ نشست میں کرچکے ہیں۔سوئزرلینڈ کے شہر باہزل (Basel)میں ہونے والے اس مقابلے کے اختتام پر فاتح، آسٹریائی گلوکار، Johannes Pietschالمعروف JJ نے ایوارڈ لیتے ہوئے گلوگیر لہجے میں کہا 'اسرائیل کو مقابلے میں شامل ہوتے دیکھ کر بہت مایوسی ہوئی۔ میں چاہتا ہوں کہ اگلا یورووژن ویانا میں ہو اور اسرائیل کے بغیر'

کچھ ایسی ہی صورتحال Ivor Novelloایوارڈ کی تقسیم کے وقت پیش آئی۔ مشہور یورپین فنکار آیور نویلو کی یاد میں ہر سال عمدہ گیت کے تخلیق کار اور دھنیں تیار کرنے والوں کو انعامات دئے جاتے ہیں۔ اس بار یہ تقریب 22 مئی کو لندن کے Grosvenor ہوٹل میں منعقد ہوئی، جس کے مہمان خصوصی آئرلینڈ کے مشہور گلوکار پال ڈیوس ہیوسن المعروف بونوح (Bono) نے غزہ امن فارمولا پیش کرتے ہوئے کہا 'غزہ میں خونریزی ختم ہو، مزاحمت کار قیدی آزاد کردیں اور اسرائیل نیتن یاہو اوراسکے انتہا پسند ساتھیوں کے چنگل سے آزاد ہوجائے'

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا لیو چہاردہم نے پوپ کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد سینٹ پیٹرر برگ چوک پر اپنے پہلے ہفتہ وار خطبے میں کہا کہ 'غزہ کی صورتحال تشویش ناک اور تکلیف دہ ہے۔ میں دلی التجا کرتا ہوں کہ وہاں خاطر خواہ امداد کی اجازت دی جائے۔ اس دشمنی کو ختم کرنے کی ضرورت ہے جس کی دل دہلا دینے والی قیمت بچے، بزرگ اور بیمار ادا کررہے ہیں ہیں۔ کلیسائے انگلستان (Church of England)کے اسقف ہائے اعظم یا Bishops کے 22مئی کو یارک (York)میں ہونے والے سالانہ اجتماع میں بھی ایک قراردادمنظور ہوئی جس میں کہا گیا کہ 'غزہ میں اسرائیل کے عسکری اقدامات، دفاعی جنگ نہیں بلکہ قابل مذمت جارحیت ہے۔ ہم غزہ کیلئے انسانی امداد کی پابندی کو نسل کشی کی ایک شکل سمجھتے ہیں'۔

امریکی جامعات میں تشدد و گرفتاری کے باوجود اہل غزہ کی حمائت بڑھتی جارہی ہے۔ اجکل جامعات اور دوسرے تعلیمی اداروں میں  تقسیم اسناد کی تقریبات ہورہی ہیں اور بلا استثنیٰ ہر جگہ سند لینے والے طلبہ کی معقول تعداد فلسطینی کفیہ گلے میں ڈال کر ڈگری وصول کررہی ہے۔ بہت دلچسپ صورتحال جامعہ شمالی ٹیکسس (UNT)کے شعبہ طب کے جلسہ تقسیم اسناد میں پیش آئی۔ایک پاکستان نژاد ڈاکٹر کو رئیس کلیہ نے اعزازی مفلر پہنایا تو اس نے  فلسطین کا پرچم لہرادیا۔ اس لڑکے کی جرات رندانہ سے زیادہ غیر متوقع سامعین کا ردعمل تھا۔ اس علاقے اور جامعہ پر قدامت پسندوں کے اثرات بہت گہرے ہیں لیکن فلسطینی پرچم دیکھ کر سارا مجمع کھڑا ہوگیا اور دیر تک تالی بجتی رہی۔

اور آخر میں دوواقعات کہ جنکا بصری تراشہ بھی ہم سے نہ دیکھا گیا۔

شہید ہونے والے ایک بچے کی ماں بلک بلک کر کہہ رہی تھی۔ 'تم سب کو تمہارے رب کا واسطہ، اسے جنازہ نہ کہو یہ میرے شہزادے کی بارات ہے'۔امدادی کارکنوں سے اس نے رو رو کر فریاد کی کہ کفن پردولہا لکھدو۔ جب ایک کارکن نے کالے مارکر سے کفن پر 'العریس' یعنی دولہا تحریر کیا تب اس نے تدفین کیلئے میت اٹھانے کی اجازت دی۔ دوسرا واقعہ کچھ اسطرح ہے کہ ناصر ہسپتال سے وابستہ مشہور ماہر اطفال ڈاکٹر آلاء النجار 21 مئی  کی شام بدترین بمباری کے بعدزخمیوں اور لاشوں کو دیکھ رہی تھیں۔ سب کے جسم اس بری طرح جھلسے ہوئے تھے کہ شناخت مشکل تھی۔ڈاکٹر صاحبہ ایک لاش کی شناخت کررہی تھیں تو انھیں پتہ چلا کہ کوئلہ بنا یہ لاشہ انکے بڑے صاحبزادے یحییٰ کا ہے۔ اسکے بعد تو جس لاش کو بھی ہاتھ لگاتیں وہ انکے کس بچے کی تھی۔ بمباری میں انکے دس میں سے نو  بچے شہید ہوگئے اور بری طرح جھلسا ہوا دسواں لخت جگر موت و حیات کی کشکمش میں ہے۔ لیکن آفرین ہے احساسِ ذمہ داری پر کہ اپنے مہ پاروں کی لاشوں کو ایک طرف کرکے وہ معمول کے مطابق زخمیوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہوگئیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 30 مئی 2025

ہفت روزہ دعوت دہلی 30 مئی 2025

رزنامہ امت کراچی 30 مئی 2025

ہفت روزہ رہبر سرینگر یکم جون 2025