Thursday, April 16, 2026

 

جنگ بندی کا فریب، لبنان پر قیامت

عبوری معاہدہ یا سفارتی دھوکہ

ایران اور امریکہ کے درمیان  جنگ بندی نے بظاہر ایک بڑے تصادم کو روک دیا، مگر اس کے فوری بعد جو منظر لبنان میں ابھرا، اس نے اس معاہدے کی روح پر ہی سوال اٹھا دئے ہیں۔ کیا یہ واقعی امن کی جانب پیش رفت تھی، یا محض ایک محاذ خاموش کرکے دوسرے کو مزید بھڑکانے کی حکمتِ عملی؟

جنگ بندی کے سائے میں لبنان پر قیامت

ایران امریکہ جنگ بندی کے فوراً بعد اسرائیل نے لبنان پر حملے تیز کر دیے۔ منگل کو ایرانی محاذ پر توپیں ٹھنڈی پڑتے ہی لبنان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ اہلِ لبنان کے لیے یہ “سیاہ بدھ” تھا، جب بیروت کی بلند و بالا عمارتیں تباہ کن بنکر بسٹر بموں سے زمین بوس کر دی گئیں۔

لبنانی ہلالِ احمر کے مطابق اس روز 254 افراد جاں بحق اور 1165 زخمی ہوئے۔ بمباری سے ہسپتالوں اور طبی مراکز کو بھی شدید نقصان پہنچا، جس کے باعث زخمیوں کی دیکھ بھال مزید مشکل ہو گئی۔ بعض عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حملے ایک روز قبل سرحدی جھڑپ میں زخمی ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کے ردِعمل میں کئے گئے۔ اسی روز جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ امن فوج کا اطالوی دستہ بھی اسرائیلی فوج کا نشانہ بنا۔ حملے میں کوئی جانی نقصان تو نہ ہوا لیکن اطالوی فوج کی گاڑی تباہ ہوگئی۔گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے امن مشن کے اہلکاروں پر اسرائیلی فائرنگ سے انڈونیشیا کے تین فوجی جاں بحق ہوگئے تھے۔

جنگ بندی: مفہوم کا تنازع

پاکستانی وزیرِاعظم کی جانب سے جاری کردہ بیان میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ جنگ بندی “ہر جگہ، بشمول لبنان” نافذ ہوگی۔ تاہم صدر ٹرمپ نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ لبنان اس معاہدے کا حصہ نہیں۔ اسکی مزید وضاحت کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وانس  بولےکہ “ایک جائز غلط فہمی” (Legitimate Misunderstanding) کے باعث ایران نے یہ سمجھ لیا کہ کل اعلان کی گئی دو ہفتوں کی جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے، حالانکہ واشنگٹن نے کبھی ایسی کسی شرط سے اتفاق نہیں کیا تھا۔

سفارتکاری کی یہ ناکامی انسانی المئے کا ماتم ہے، وہ خونریز حقیقت جو لبنان کی گلیوں میں بکھری پڑی ہے۔کیا انسانی جانوں کی قیمت محض بیانات اور “تشویش” تک محدود رہ گئی ہے؟معاملہ صرف جنگ بندی کا نہیں، بلکہ انسانیت کے مستقبل کا ہے۔طاقتور ممالک کی وعدہ خلافی کے نتیجے میں آج معصوم لاشوں کیساتھ انسانی ضمیر لبنان کے ملبے تلے دفن ہورہا ہے۔

غزہ: ایک اور جلتا ہوا محاذ

غزہ پر حملوں کیساتھ مصر میں مجلس السلام یا Board of Peace کے اجلاس بھی جاری ہیں۔مجلس کا سارا زور مزاحمت کاروں سے اسلحہ رکھوانے پر ہے۔ دوسری طرف  مزاحمت کار کہتے ہیں کہ مسلسل حملوں کے دوران ہتھیار رکھنا ممکن نہیں۔

اسرائیلی فوج کے ساتھ اسرائیل نواز ملیشیا کی سرگرمیاں بھی بڑھتی جارہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے وسطی غزہ کے علاقے مغازی میں لڑکیوں کے خیمہ اسکول میں گھس کرملیشیاکے غندوں نے معصوم بچیوں کو اغوا کرنے کی کوشش کی۔ نہتی طالبات اور انکے والدین نے غنڈوں کو ماربھگایا۔ جواب میں اسرائیل نے اسکول پر بمباری کردی، جس میں بچیوں سمیت دس سے زیادہ افراد جاں بحق ہوگئے۔ مسلسل بمباری و ڈرون حملوں نے زندگی کو عذاب بنا دیا ہے۔

غربِ اردن: خاموش تصادم

غرب اردن میں فوج کی فائرنگ، انتہا پسندوں کے حملے اور جبری بیدخلی کا سلسلہ جاری ہے۔ شمالی وادی اردن  کے قصبے تیسر میں قبضہ گرد علاقے کے مکینیوں کو انکے گھروں سے نکال رہے تھے جس پر تصادم ہوا اور سادہ کپڑوں میں وہاں موجود ایک اسرائیلی فوجی نے 19 سالہ اعلیٰ خالد کے سینے میں گولی ماردی۔ بعد میں مقتول کے خلاف پسِ مرگ دہشت گردی کا مقدمہ قائم کردیا گیا تاکہ  الزام ثابت ہوجانے کی صورت میں اعلیٰ کے آبائی گھر کو مسمار کیا جاسکے۔ وادی اردن ہی کے ایک اور شہر عین الشباب پر اسرائیلی فوج کی کاروائی میں  ایک 15 سالہ بچہ زخمی ہوگیا جبک درجنوں نوجوان گرفتار کرلئے گئے۔ نابلوس کے گاوں لبن الشرقیہ پر اسرائیلی قبضہ گردوں نے حملہ کرکے مکانوں، گاڑیوں اور مویشی کے باڑوں کو آگ لگادی گئی۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ گاوں دودھ کی پیداوار کیلئے مشہور ہے۔پولیس کاروائی میں درجنوں نوجوان گرفتار کرکے ان سب کے خلاف دہشت گردی کے پرچے کاٹ دئے گئے

بستیاں، انتہا پسندی اور سرکاری سرپرستی

اس ہفتےاسرائیلی حکومت نے فلسطینیوں کو انکی آبائی زمینوں سے بیدخل کرکے 34 نئی اسرائیلی بستیاں تعمیر کرنے کی منظوری دیدی۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے اسرائیلی ڈیموکریٹک پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ نیتن یاہو کے جنگی جنون کی وجہ سے سارا ملک غیر محفوظ ہوچکا ہے اور اسرائیل کو نئی بستیوں کی نہیں میزائیل حملوں سے دفاع کیلئے مزید پناہ گاہوں کی ضرورت ہے۔

الاقصیٰ: امید کی ایک کرن

چالیس دن کی بندش کے بعد 8 اپریل کو مسجدِ اقصیٰ کے دروازے کھولدئے گئے۔ پہلے جمعے کو ایک لاکھ سے زائد افراد کی شرکت اور “القدس لنا” کے نعروں نے یہ بات ظاہر کردی کہ  مزاحمت صرف ہتھیاروں سے نہیں، ایمان اور امید سے بھی جاری رہتی ہے۔

ایک اور صحافی جان سے گیا۔

غزہ شہر پر اسرائیلی ڈرون نے الجزیرہ کے ایک صحافی محمد وشاح کی جان لے لی۔ غزہ میں سچ شایع کرنے کے الزام میں تین سو سے زیادہ صحافی قلم کی حرمت پر قربان ہوچکے ہیں

فائربندی کے ٹویٹ اور میدانِ جنگ کی حقیقتوں میں ایک گہری خلیج موجود ہے۔ اگر جنگ بندی کے معاہدے زمینی حقائق کو نہ بدل سکیں تو وہ محض الفاظ رہ جاتے ہیں۔آج لبنان اور غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ طاقتوروں کی سفارت کاری اکثر کمزوروں کے لئے تباہی کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔کیا یہ جنگ بندی واقعی امن کی جانب قدم ہے، یا ایک مختصر سی مہلت، نئے طوفان سے پہلے؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 17 اپریل 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 17 اپریل 2026

ہفت روزہ رہبر  سری نگر 19 اپریل 2026


 

ہنگری کے انتخابات: یورپ کی دھڑکن یا سیاست کا نیا موڑ؟

صدر ٹرمپ  کے اتحادی کی شرمناک شکست

مشرقی یورپ کا چھوٹا مگر تاریخی اہمیت کا حامل ملک ہنگری ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا۔ حالیہ انتخابات نے نہ صرف داخلی سیاست کا نقشہ بدل دیا بلکہ یورپی اتحاد، امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کے تناظر میں بھی نئے سوالات کھڑے کر دیئےہیں۔ کیا یہ محض اقتدار کی تبدیلی ہے، یا ایک بڑی جغرافیائی و نظریاتی تبدیلی کا آغاز؟

تاریخی پس منظر اور قومی شناخت

مشرقی یورپ کا یہ 96 لاکھ آبادی والا ملک خشکی سے گھرا ہواہے۔ ترک خلیفہ سلیمان اعظم (Suleman the Magnificent)نے  1526 کی جنگ موہاچ Mohács میں  صلیبیوں و شکست دیکر اس علاقے کو عثمانی خلافت کا حصہ بنایا۔ ہنگری پر ترک خلافت 1699 تک برقرار رہی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ہنگری آزاد تو ہوا لیکن عملاً سوویت یونین کے زیراثر رہا۔ افغانستان میں شکست کے بعد جب سوویت یونین کی شکست و ریخت کا سلسلہ شروع ہوا تو انقلاب 1989 کے نتیجے میں ہنگری جمہوری ریاست بن گیا اور 2004 میں ہنگری نے یورہی یونین کی رکنیت اختیار کرلی جسکے تین سال بعد ہنگری یورپ کے  کھلی سرحد معاہدے شیینگن (Schengen)کا حصہ بن گیا۔ ہنگری قوم کو مجیّار (Magyar)کہا جاتا ہے اسلئے ہنگری کا سرکاری نام Magyar Orszag یا مجیاروں کا وطن ہے۔

 انتخابی نظام اور حالیہ نتائج

اتوار 12 اپریل کو ہنگری کی 199 رکنی قومی اسمبلی کے انتخابات ہوئے۔ یہاں کے مخلوط طرز انتخاب کے تحت 106 نشستیں پاکستان اور ہندوستان کی طرح حلقہ جات کی بنیاد پر ہیں جبکہ 93 نشستیں متناسب نمائندگی کے اصول پر پر جماعتوں کو اسکے حاصل کردہ ووٹوں کی بنیاد پرعطاہوتی ہیں۔ ہنگری ایک ایوانی (Unicameral) پارلیمانی جمہوریت ہے اور قومی اسمبلی کے علاوہ کوئی دوسرا ایوان، یعنی سینیٹ یا ایوانِ بالا موجود نہیں۔

نتائج کے مطابق افتخارِ حریت پارٹی (Tisza)نے 53.3 فیصد ووٹ لیکر قومی اسمبلی کی 138 نشستیں جیت لیں۔ وزیراعظم اوربن کے ہنگری اتحاد (Fidsez-KDNP) 55 نشستوں کیساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ حکمراں اتحاد نے مجموعی طور ہر 38.3 فیصد ووٹ لئے۔چار سال پہلے ہونے والے انتخابات میں اوربن کی جماعت نے 135 نشستیں حاصل کی تھیں۔انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا تناسب 79.51فیصد رہا جو گزشتہ انتخابات سے تقریباً 10 فیصد زیادہ ہے۔

سیاسی صف بندیاں اور عالمی تناظر

ہہ انتخابات مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں بے حد اہم تھے کہ 2010 سے برسراقتدار قدامت پسند وزیراعظم وکٹر اوربن اسرائیل اور صدر ٹرمپ کے پرجوش حامی ہیں۔ عالمی فوجداری عدالت (ICC)کے وارنٹ پر انہوں نے نیتن یاہو کے حق میں کھل کر مؤقف اپنایا، جس سے ان کی خارجہ پالیسی کا جھکاؤ واضح ہوتا ہے۔ باسٹھ سالہ اوربن خود کوصدر ٹرمپ کا نظریاتی اتحادی کہتے ہیں۔

دوسری جانب، Tisza پارٹی اور اس کے قائد پیٹر مجیار) (Péter Magyar،یورپی یونین کے ساتھ مضبوط تعلقات کے حامی ہیں۔ یورپی یونین کی سربراہ محترمہ ارسلا وانڈڑلین نے اس تبدیلی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ آج یورپ کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی ہے۔

 

انتخابات سے قبل حلقہ بندیوں میں تبدیلی پر حزب اختلاف نے “gerrymandering”  کا الزام لگایا، جس سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھے۔ تاہم بلند ٹرن آؤٹ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عوام نے بھرپور انداز میں جمہوری عمل میں حصہ لیا۔

ہنگری کے عوام نے تبدیلی کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے، مگر اصل امتحان اب شروع ہوگا جناب پیٹر مجیار کی قیادت میں نئی حکومت کو ایک نازک توازن قائم کرنا ہوگا۔ ایک طرف یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کی بحالی، اور دوسری جانب داخلی معیشت، مہنگائی اور عوامی توقعات کا دباؤ۔

وکٹر اوربن کے طویل دورِ اقتدار کے بعد ریاستی اداروں، پالیسیوں اور سیاسی کلچر میں تبدیلی آسان نہیں ہوگی۔ مزید یہ کہ عالمی سیاست میں بڑھتی ہوئی تقسیم خصوصاً امریکہ، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے تناظر میں ہنگری کے لیے نئی آزمائشیں لے کر آئے گی۔

اگر نئی قیادت شفافیت، جمہوری اقدار اور معاشی استحکام کو یقینی بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو ہنگری واقعی یورپ کے دل کی ایک نئی دھڑکن بن سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر، یہ تبدیلی بھی محض ایک اور سیاسی تجربہ ثابت ہوگی، جس کے اثرات صرف ہنگری تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے یورپ میں محسوس کیے جائیں گے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 26 اپریل 2026


Thursday, April 9, 2026

 

غزہ ، غرب اردن تا جنوبِی لبنان

 مسلسل بمباری، بڑھتی عسکریت اور سفارتی جمود

غزہ پر اسرائیلی حملوں کو ڈھائی برس سے زائد عرصہ گزر گیا جبکہ تقریباً اسی مدت سے جنوبی لبنان بھی مسلسل کشیدگی اور جھڑپوں کی زد میں ہے۔ اس طویل تنازع نے نہ صرف خطے کے امن کو یرغمال بنا رکھا ہے بلکہ عالمی ضمیر، سفارتی اداروں اور انسانی حقوق کے دعووں کی قلعی بھی کھولدی ہے۔ جنگ اب محض ایک جغرافیائی تنازع نہیں رہی بلکہ یہ ایک اخلاقی امتحان بن چکی ہے۔

سرحدی محاذ: لبنان میں بڑھتی کشیدگی

جنوبی لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ لبنانی مزاحمتی گروہوں کی جانب سے جوابی راکٹ حملوں میں بھی شدت دیکھی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی سرحدی شہر کریات شمونہ کی سمیت حالیہ دنوں میں متعدد راکٹ داغے گئے، جن کے نتیجے میں درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی خبریں سامنے آئیں۔ اسی دوران لبنان اور غزہ پر بمباری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ بھی جاری رہااور 31 مارچ کو اقوام متحدہ کے امن مشن کے اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے میں انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے تین فوجی جاں بحق ہوگئے۔

غزہ: انسانی المیہ اور امدادی بحران

جمعہ 3 اپریل، اہل غزہ کیلئے انتہائی مشکل دن رہا۔ صبح سویرے جبالیہ خیمہ بستی پر اسرائیلی فوج کی اندھا دھند فائرنگ سے بچوں سمیت 6 افراد زخمی ہوئے۔ ہسپتال یا ہنگامی طبی امداد کے مراکز نہ ہونے کی وجہ سے زخمی دیر تک سڑک پر تڑپتے رہے۔ اسی دن  ساحلی علاقے مواصی پر وحشیانہ بمباری سے چار افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ دودن بعد مشرقی غزہ شہر کی خیمہ بستی کو ایک اسرائیلی ڈرون نے نشانہ بنایا۔ خیموں میں آگ بھڑک اٹھنے سے تین افراد زندہ جل گئے۔ اکتوبر کی نام نہاد جنگ بندی کے بعد سے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں 756افراد جاں بحق ہوئے اور 2000 زخمی ہیں۔ یہ اعدادوشمار اس بڑے انسانی بحران کی عکاسی کرتے ہیں جہاں بنیادی طبی ڈھانچہ مفلوج ہو چکا ہے۔

سفارتی محاذ: خاموشی اور غیر یقینی

بڑے دعووں کے ساتھ قائم کی جانے والی "مجلسِ امن" (Board of Peace) تاحال کوئی مؤثر کردار ادا کرتی نظر نہیں آتی۔ البتہ یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ مزاحمتی قیادت استنبول میں ترک اور مصری حکام سے رابطے میں ہے۔ذرائع کے مطابق مزاحمتی گروہوں نے اپنے اس مؤقف کو دہرایا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے قبل ہتھیار ڈالنے یا مزاحمت ترک کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اسرائیل: افرادی قوت کا دباؤ

اسرائیلی میڈیا کے مطابق ریزرو (reserve)فوجیوں کی خدمات کا دورانیہ بڑھایا جا رہا ہے، جو افرادی قوت کے دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کا عندیہ ہو سکتی ہے کہ جنگ طویل اور پیچیدہ رخ اختیار کر چکی ہے۔

امریکی پالیسی: عسکری ترجیحات کا غلبہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں میں سفارتکاری کے مقابلے میں عسکری طاقت پر انحصار بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اگلے مالی سال کیلئے امریکی کانگریس (پارلیمان) کو جو بجٹ تجاویز جمع کرائی ہیں اسکےمطابق دفاع کی مد میں 1500 ارب یا 1.5 ٹریلین ڈالر تجویز کئے جارہے ہیں جبکہ سماجی بہبود کے پروگراموں میں دس فیصد کٹوتی ہوگی۔ آئندہ برسوں میں غیر عسکری اخراجات میں مزید کمی کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔اس رجحان سے مستقبل کے عالمی منظر نامے میں امریکی کردار پر تجزیاتی بحث کا آغاز ہوگیا ہے۔

غربِ اردن: بڑھتی قبضہ گردی اور بے دخلی

غربِ اردن میں کشیدگی اور آبادکاری کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ نابلوس کے علاقے میں املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور زرعی زمینوں پر اسرائیلی فوج کی نگرانی میں نئی بستیاں قائم کی جا رہی ہیں۔اسرائیلی میڈیا پر متاثرین کے بیانات اس المیے کی شدت کو اجاگر کرتے ہیں، جہاں لوگ اپنے گھروں، زمینوں اور بنیادی وسائل سے محروم ہو رہے ہیں۔

مذہبی مقامات اور روحانی بحران

انتہاپسند عناصر فلسطینیوں کے خلاف اپنی کارروائیوں کو مذہبی جواز فراہم کرتے ہیں، مگر درحقیقت یہ طرزِ عمل بیت المقدس کی روحانی عظمت کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ کشیدگی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ مسجد اقصیٰ کے دروازے مقفل ہیں، یروشلم میں کلیسائے قبرِ مقدس (Church of the Holy Sepulcher) تک رسائی محدود و مسدود  اور دیوارِ گریہ، عیدِ فسح (Passover) جیسے اہم مذہبی موقع پر بھی غیرمعمولی سناٹے کا منظر پیش کر رہی ہے۔یہ محض سکیورٹی اقدامات نہیں، بلکہ ایک ایسے شہر کی روح پر پڑنے والی دراڑیں ہیں جو تینوں ابراہیمی مذاہب کے ماننے والوں کیلئے مقدس ہے۔ شاید اسی پس منظر میں کھجوروں کے تہوار (Palm Sunday) کے موقع پر اپنے خطبے میں کیتھولک دنیا کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہاردہم (Pope Leo XIV) نے نہایت رقت آمیز انداز میں خبردار کیا کہ 'خدا اُن لوگوں کی دعائیں قبول نہیں کرتا جن کے ہاتھ خون سے رنگے ہوں'۔کاش دنیا کے مقتدر حلقے اس صدا کو محض ایک مذہبی وعظ نہیں بلکہ ایک عالمی اخلاقی حکم نامہ سمجھ کر سنیں۔

امید کی کرن: بحری قافلہ "صمود"

گزشتہ برس غزہ پہنچنے کی کوشش کرنے والے بحری قافلے "صمود" کے کارکن ایک نئے مشن کی تیاری کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق 12 اپریل کو بارسلونا سے اس مہم کا آغاز متوقع ہے، جس میں درجنوں کشتیوں اور سینکڑوں بین الاقوامی رضاکاروں کی شرکت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔منتظمین کے مطابق اس اقدام کا مقصد محاصرے کے خلاف آواز بلند کرنا اور عالمی سطح پر دباؤ بڑھانا ہے۔

غزہ اور لبنان میں جاری یہ طویل جنگ محض سرحدوں کا تنازع نہیں بلکہ انسانیت، اخلاقیات اور عالمی نظام کے ضمیر کا امتحان بن چکی ہے۔ طاقت کے توازن، سفارتی ناکامیوں اور خاموش عالمی ردعمل کے بیچ سب سے بڑی قیمت عام انسان ادا کر رہا ہے۔اگر عالمی برادری نے اب بھی مؤثر اور منصفانہ کردار ادا نہ کیا تو تاریخ اس خاموشی کو ایک جرم کے طور پر یاد رکھے گی۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 10 اپریل 2026

ہفت دوزہ دعوت دہلی 10 اپریل 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 12آپریل 2026


Wednesday, April 8, 2026

 

آبنائے ہرمز پر سفارت کاری کی جیت یا عارضی مہلت؟

پاکستان کی ثالثی، ٹرمپ کی پسپائی اور مشرقِ وسطیٰ میں نازک جنگ بندی کا غیر یقینی مستقبل

ایران اور امریکہ و اسرائیل کے مابین  جنگ میں عارضی وقفہ آگیا۔ انگریزی اصطلاح میں یہ 11th hourکامیابی ہے کہ ایران کو فنا کردینے کی دھمکی پر علمدرآمد واشنگٹن کے وقت کے مطابق رات 8 بجے شروع ہونا تھا کہ صدر ٹرمپ نے شام ساڑھے چھ بجے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے 2 ہفتے کی عارضی جنگ کی تجویز پر آمادگی ظاہر کردی۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" (Truth Social) پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قیادت، بالخصوص وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مشاورت کے بعد ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کو عارضی طور پر معطل کیا جا رہا ہے تاکہ سفارتی حل کی راہ ہموار کی جا سکے۔

اس سے پہلے شہباز شریف نے  تجویز پیش کی تھی کہ ' امریکہ، ایران کی شہری تنصیات پر حملہ دو ہفتے کیلئے ملتوی کردے اور ہمارے ایرانی بھائی اس عرصے کیلئے آبنائے ہرمز کھول دیں'۔ اس تجویز کو ایران کی جانب سے مشروط طور پر مثبت ردعمل ملا۔ ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر ایران پر حملے روک دیے جائیں تو ایران بھی اپنی دفاعی کارروائیاں معطل کرنے پر آمادہ ہے، اور مخصوص شرائط کے تحت آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ فراہم کی جا سکتی ہے۔

بعد ازاں پاکستان نے عبوری جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ یہ جنگ بندی نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ ان کے اتحادیوں پر بھی لاگو ہوگی، جس میں لبنان اور دیگر محاذ بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق براہِ راست امن مذاکرات 10 اپریل سے شروع ہونے کا امکان ہے۔

اگرچہ یہ پیش رفت ایک اہم سفارتی کامیابی ہے، تاہم اس کے پس منظر میں کئی پیچیدہ عوامل کارفرما تھے۔ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات، جن میں غیر معمولی سختی اور اشتعال انگیزی پائی جاتی تھی، نہ صرف عالمی سطح پر تنقید کا باعث بنے بلکہ خود امریکہ کے اندر بھی بے چینی پیدا ہوئی۔ شہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی باتیں بین الاقوامی قانون کے مطابق جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتی ہیں، جس پر متعدد امریکی صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے تشویش کا اظہار کیا۔

اسی دوران اسرائیل کی جانب سے ایران پر ایک محدود نوعیت کے تزویراتی (Tactical)جوہری حملے کی افواہیں بھی گردش کرتی رہیں، اگرچہ امریکی حکام نے اس کی تردید کی۔ تاہم صدر ٹرمپ کے بعض بیانات، جن میں "بڑا سرپرائز" اور "تہذیب کو مٹا دینا" جیسے الفاظ شامل تھے، ان خدشات کو تقویت ملی۔

امریکی یہودی حلقوں میں بھی ان بیانات پر تشویش دیکھی گئی۔ جیوش کونسل فار پبلک افیئرز کی سربراہ ایمی اسپیٹل نک (Amy Spitalnick) نے واضح کیا کہ کسی بھی قوم یا تہذیب کو مٹانے کی دھمکیاں نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ یہ خود یہودی برادری کے لیے نقصان دہ اور سام دشمنی (antisemitism) کو ہوا دے سکتی ہیں۔

ادھر تہران میں ایک قدیم یہودی عبادت گاہ (سیناگوگ) کو اسرائیلی بمباری میں نقصان پہنچنے کی خبر بھی سامنے آئی، جسے اسرائیلی فوج نے "ضمنی نقصان" (collateral damage) قرار دیا، تاہم اس وضاحت کو مذہبی حلقوں میں پذیرائی حاصل نہ ہو سکی۔

ان تمام عوامل کے پیش نظر صدر ٹرمپ کو ممکنہ نتائج کا ادراک ہوا اور انہوں نے پسپائی اختیار کرتے ہوئے سفارتی راستہ اپنانے میں عافیت سمجھی۔ اس موقع پر پاکستان کی مداخلت نے نہ صرف کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا بلکہ دونوں فریقین کو باعزت راستہ بھی فراہم کیا۔

اس عبوری جنگ بندی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس کا اطلاق لبنان اور دیگر محاذوں پر بھی ہوگا، جس کا مطلب یہ ہے کہ خطے میں جاری دیگر جھڑپوں میں بھی وقتی کمی آ سکتی ہے۔ اگر یہ مفروضہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کے اثرات غزہ سمیت دیگر حساس علاقوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

بلاشبہ یہ پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق اس وقت دو متوازی جنگیں جاری تھیں: ایک عسکری اور دوسری سفارتی، اور پاکستان نے سفارتی محاذ پر بظاہر پہلا مرحلہ اپنے نام کر لیا ہے۔

تاہم اس جنگ بندی کی بنیاد نہایت کمزور ہے۔ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں میں عدم تسلسل اور اچانک فیصلوں کی تاریخ اس معاہدے کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے۔ مزید برآں اسرائیل کا مؤقف بھی مکمل طور پر ہم آہنگ نظر نہیں آتا۔ اس طرح یہ جنگ بندی شاخِ نازک پر بنا آشیانہ ہے جو کسی بھی لمحے بکھر سکتا ہے۔

فی الحال یہ عارضی جنگ بندی ایک سانس لینے کا موقع ضرور فراہم کرتی ہے، مگر اسے مستقل امن کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں اعتماد کا فقدان، طاقت کا عدم توازن اور علاقائی رقابتیں ایسی بارودی سرنگیں ہیں جو کسی بھی وقت اس امن کو نگل سکتی ہیں۔ تاہم اس مختصر وقفے نے یہ ضرور ثابت کیا ہے کہ سنجیدہ سفارت کاری، بندوق کی گھن گرج کو وقتی طور پر خاموش کر سکتی ہے۔ اصل امتحان اب اس خاموشی کو پائیدار امن میں بدلنے کا ہے۔خونریزی کے وقتی خاتمے کی پہلی برکت تیل کی قیمتوں میں 16 ڈالر فی بیرل کی کمی کی صورت میں ظاہرہوئی جو مشرق وسطٰی کے تیل درآمد کرنے والے ایشائی ملکوں کیلئے وقتی راحت کا باعث ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی، 10 اپریل 2026


Friday, April 3, 2026

 

ٹرمپ کی ‘Excursion’، پھیلتی جنگ اور بدلتی عالمی صف بندی

الفاظ کبھی کبھی حقیقت سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں، خاص طور پر جب انہیں طاقت کے ایوانوں سے ادا کیا جائے۔ جب جنگ کو “تفریح” یا “مختصر مہم” کہا جائے تو پھر یہ بیانیہ خون اور بارود کو معمول بنا دیتا ہے۔ آج ایران کے خلاف جاری جنگ بھی اسی تضاد کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔

یہExcursion ہے یا مہنگی جنگ؟

دونوں جانب شدید نقصان کے باوجود صدر ٹرمپ کا اصرار ہے کہ ایران پر حملہ باضابطہ جنگ نہیں بلکہ “excursion” ہے۔ اس انگریزی لفظ کو عسکری اصطلاح میں “مختصر مہم” کیا جا سکتا ہے، لیکن امریکی صدر کے لب و لہجے اور رویّے کو دیکھتے ہوئے اسکا اردو متبادل “تفریح” زیادہ موزوں معلوم ہوتا ہے۔ اس “تفریح” کی بھاری جانی و مالی قیمت جہاں ایرانی ادا کر رہے ہیں، وہیں امریکی ٹیکس دہندگان کے لئے بھی یہ شوقِ کشور کشائی کچھ کم مہنگا نہیں۔ امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی طیاروں اور تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات تین ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، جبکہ اس مہم کا یومیہ خرچ 90 کروڑ سے ایک ارب ڈالر کے درمیان بتایا جا رہا ہے۔

مذاکرات یا دھوکہ؟

گزشتہ ہفتے ایسا محسوس ہوا کہ صدر ٹرمپ ایرانی تنازعے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر آمادہ ہیں۔چوبیس مارچ کو انہوں نے نہ صرف مذاکرات کی تصدیق کی بلکہ یہ انکشاف بھی کیا کہ اخلاص و غیر سگالی کے طور پر ایرانیوں نے انہیں ایک “بہت قیمتی تحفہ” بھیجا ہے۔ عندیہ دیا گیا کہ ایرانیوں سے بات چیت کیلئے نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو ممکنہ طور پر اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں۔

پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق  امریکہ کی 15 نکاتی شرائط تہران پہنچا دی گئیں ہیں۔ایرانی وزیرخارجہ نے امریکی پیغام کی تصدیق کی تاہم مذاکرات کو “فیک نیوز” قرار دیا، جبکہ اسپیکر محمد باقر قالیباف مذاکرات کے پروپینگنڈے کو  مالیاتی اور تیل کی منڈیوں میں ہیرا پھیری کا حربہ کہہ رہے ہیں۔

بیانات کی جنگ: طنز اور تضحیک

قصرِ مرمریں کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے شکست تسلیم نہ کی تو “جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے”۔ جواب میں ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا:“خودکلامی کو مذاکرات کا نام نہ دو… ‘Epic Fury’ اب ‘Epic Fear’ بن چکا ہے۔” یہ جملے اس جنگ کے ایک اور رخ کو بے نقاب کرتے ہیں جہاں الفاظ بھی ہتھیار بن چکے ہیں۔

امن کی شرائط یا ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ؟

جبگ بندی کیلئے امریکہ کی پندرہ نکاتی شرائط درحقیقت ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا تقاضا معلوم ہوتی ہیں، جبکہ اسکا تہران سے جو پانچ نکاتی جواب سامنے آیا ہے اسکے مطابق ایران ، امریکہ سے شکست تسلیم کرنے کے ساتھ جنگی نقصانات کے ازالے (reparations) کی ادائیگی چاہتا ہے۔مزید یہ کہ جنگ بندی کا اطلاق خطے بھر میں تمام مزاحمتی گروہوں کے خلاف جنگ پر ہونا چاہئے۔

اعتماد کا بحران

امریکہ کی تجویز اور اسکے ایرانی جواب میں جو خلیج نظر آرہی ہے وہ اپنی جگہ لیکن امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ صدر ٹرمپ کی نیت، بیانات کا تضاد اور انکی ساکھ ہے۔ گزشتہ برس جب ایرانی جوہری پروگرام پر گفتگو “کامیابی” سے جاری تھی تو امریکی بمباروں نے فردو، نطنز اور اصفہان کی مبینہ جوہری تنصیبات کو صدر ٹرمپ کے الفاظ میںobliterate کر دیا۔پھر دوسری بار امن مذاکرات کے دوران27 فروری کو جنیوا میں ایک دور کے اختتام پر امریکی وفد کے سربراہ اسٹیو وٹکاف  نے امید ظاہر کی کہ “ہم ایک مثبت نتیجے کی طرف بڑھ رہے ہیں اور جلد ٹھوس پیش رفت متوقع ہے”۔لیکن اگلی ہی صبح امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملہ آور ہوگئے۔ اس بار بھی سلام و پیام کیساتھ زمینی حملے کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ ہزاروں فوجیوں پر مشتمل Marine Expeditionary Unit (MEU) ،بڑے عرشے والے جل تھل (Amphibious) جنگی جہازوں کے ساتھ خلیجِ عمان کی جانب بڑھ رہا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مذاکرات محض وقت حاصل کرنے کی حکمت عملی ہیں۔

اصولی و دوٹوک موقف: اسپین کی مثال

ہسپانوی وزیرِ دفاع محترمہ مارگریٹا روبلز (Margarita Robles) نے ان خبروں کی تصدیق کر دی ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے امریکی طیارے اب اسپین کی فضائی حدود استعمال نہیں کر سکیں گے۔ ہسپانوی اخبار El País سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی قیادت کو غیرمبہم الفاظ، لہجے اور انداز میں بتادیا گیا ہے کہ اسپین میں موجود امریکی اڈوں سے کوئی طیارہ ایران پر حملے کیلئے اڑان بھرسکتا ہے اور نہ ہی ہماری فضائی حدود ایران پر حملے کیلئے استعمال ہوسکتی ہیں۔ ایرانی حملوں پر شکائت کناں خلیجی حکمران بھی تو یہی موقف اختیار کرسکتے ہیں؟

اسرائیلی عنصر: آگ پر تیل

صدر ٹرمپ کے روئیے کیساتھ، جنگ میں اسرائیل کی شمولیت نے معاملے کو دوآتشہ کردیا ہے۔ گزشتہ ہفتے  اسرائیلی اخبار الارض (Haaretz)نے خبر دی کہ امن  مذاکرات کیلئے ماحول سازگار بنانے کی غرض سے صدر ٹرمپ ایک مہینے کی یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کرنے والے ہیں۔ اسی دن وزیراعظم  نیتن یاہو نے اسرائیلی فضائیہ کو سارے ایران پر بھرپور حملے کا حکم دیدیا تاکہ جنگ میں مزید شدت آجائے۔ اسرائیلی بمباروں نے بوشہر کے جوہری تحقیقی مرکز کونشانہ بنایا۔جوہری توانائی کو بجلی کی پیداوار کیلئے استعمال کرنے پرتحقیق کرنے والا یہ ادارہ امریکہ کے اشتراک سے 1955 میں قائم ہوا تھا۔اسی دن دو اسٹیل ملوں پر حملوں کیساتھ رہائشی عمارات، اسکول، پل، سڑکیں، آبنوشی کے ذرائع اور بنیادی ڈھانچے پر بمباری کی گئی۔گزشتہ 26 دنوں کے دوران ایران میں 500 اسکول اور 300 ہسپتال اور شفاخانے تباہ کئے گئے۔اسرائیلی وزیردفاع کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز (28 فروری) سے 26 مارچ تک  ایران پر 15000 بم برسائے گئے۔

نئے کھلاڑی: یوکرین کی خاموش پیش قدمی

ایران پر اسرائیل و امریکہ کے حملے کے بعد سے مشرق وسطیٰ میں یوکرین کا عمل دخل بڑھتا نظر آرہا ہے۔ ڈرون شکن ٹیکنالوجی پر مہارت کا دعویٰ  کرتے ہوئے صدر زیلینسکی، سعودی عرب اور قطر سے دفاعی معاہدہ کرچکے ہیں۔ دلچسپ بات کہ معاہدے میں خلیجی ریاستوں کے دفاع سے زیادہ زور یوکرین میں خلیجی سرمایہ کاری پر ہے۔ جہاں تک ڈرون شکن مہارت کا تعلق ہے تو ایران کے “شاہد” ڈرونز کے ہاتھوں یوکرینی عسکری تنصیبات کی تباہی نے اس دعوے کو مشکوک بنادیا ہے۔

عرب ذرائع یہ خدشہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ اسرائیل، لبنان میں انٹیلی جنس سرگرمیوں کے لئےیوکرینی عناصر کو استعمال کر رہا ہے۔ اسی تناظر میں لبنانی سیکیورٹی کے سربراہ حسن شکور نے فرانسیسی خبر رساں ادارے AFP کو بتایا کہ حال ہی میں بیروت کے یوکرینی سفارت خانے نے اپنے ایک شہری کے انخلا کی درخواست دی، جس کا پاسپورٹ مبینہ طور پر گم ہو گیا تھا۔ تاہم شناخت کے بعد معلوم ہوا کہ مذکورہ شخص جنوبی لبنان میں اسرائیلی بمباری کے اہداف کی نشاندہی کے لیے موساد سے وابستہ تھا۔یوکرینی سفارت خانے نے اس شخص کو پناہ دے رکھی ہے، جبکہ لبنانی وزارتِ خارجہ نے اس کی حوالگی کے لیے باضابطہ درخواست جمع کرا دی ہے۔

حوثی بھی میدان میں

اس ہفتے یمن کے حوثی بھی اسرائیل پر میزائل حملوں کے ساتھ میدان میں اترآئے۔ گزشتہ برس اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے یمن پر شدید بمباری کے نتیجے میں شہری خدمات کے بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچا، مگر بحیرۂ احمر کے یمنی ساحل پر حوثیوں کی گرفت بدستور بہت مضبوط ہے۔وہ آبنائے باب المندب سے گزرنے والے جہازوں کا راستہ روکنے کی عملی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وہ تنگ سمندری گزرگاہ ہے جس کے ذریعے نہرِ سوئز اور سعودی عرب سے آنے والے جہاز خلیجِ عدن پہنچتے ہیں، اور وہاں سے بحیرۂ عرب کے راستے بحرِ ہند اور ایشیائی منڈیوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔اگر آبنائے ہرمز کے بعد آبنائے باب المندب کا راستہ بھی مخدوش ہو گیا تو یہ صرف ایک علاقائی بحران نہیں رہے گا بلکہ توانائی کے حوالے سے ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

ٹرمپ کا روائتی تلخ لہجہ اور فارسی کی مٹھاس

امریکی صدر کی زبان اور لہجہ امن کی منزل کو مزید دورکرنے کا سبب بن رہےہیں۔ وہ ایرانی قیادت کا ذکر بہت حقارت سے کرتے ہیں۔ کابینہ کے اجلاس میں انھوں نے کہا کہ ایرانی قیادت معاہدے کیلئے بیقرار ہے لیکن انھیں بولنے کی ہمت نہیں کیونکہ انتہا پسند انھیں مارڈالیں گے اور پھر اپنے مخصوص متکبرانہ لہجے میں بولے (اگر معاہدہ نہ ہوا تو) یہ ہمارے ہاتھوں مارے جائینگے۔ اسکے مقابلے میں ایرانی، مزاحمت کیلئے پرعزم اور  بات چیت کیلئے بھی تیار نظر آتے ہیں۔وہ زمینی حقیقت کے حوالے سے بہت پرامید اور ثابت قدم تو ہیں لیکن گفتگو میں تلخی یا سختی نہیں اور فارسی لہجے کی مخصوص نرمی و مٹھاس  جنگ کی سختیوں سے آلودہ ہوتی نظر نہیں آتی۔

عالمی اور داخلی ردعمل

عالمی تنہائی کیساتھ امریکہ کے اندر بھی اس جنگ کی حمایت کمزور پڑ رہی ہے۔ ایک حالیہ جائزے کے مطابق 59 فیصد امریکی ان کارروائیوں کو حد سے تجاوز سمجھتے ہیں، جبکہ اکثریت کسی بڑی زمینی جنگ کی مخالف ہے۔ حزب اختلاف کیساتھ صدر ٹرمپ ریپبلکن حلقوں میں بھی زمینی جنگ کے حوالے سے تحفظات پائے جاتے ہیں۔

ادھر میزائیل و راکٹ بازی سے اسرائیلی بھی پریشان نظر آرہے ہیں۔جنگ کے آغاز میں 78 فیصد اسرائیلی 'ایران کو کچل دو' کے حامی تھے لیکن اب یہ حمائت 50 فیصد رہ گئی ہے۔

یہ خونریز جنگ میدانوں کیساتھ الفاظ، بیانئےاور فریب کے درمیان بھی جاری ہے۔ جب “جنگ” کو “تفریح” اور “مذاکرات” کو حکمت عملی کا پردہ بنایا جائے، تو اصل نقصان صرف عمارتوں یا فوجوں کا نہیں ہوتا بلکہ انسانیت اور سچ دونوں اس کی قیمت چکاتے ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 3 اپریل 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 3 اپریل 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 5 اپریل 2026