Thursday, September 17, 2026

 

فلسطین سے ٹیکساس : دستاویزی فلم، نصاب اور تعصب کی نئی لکیریں

اسرائیل اور فلسطین کا تنازعہ اب صرف غزہ اور غربِ اردن تک محدود نہیں رہا۔ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف عالمی سطح پر سیاسی، سفارتی اور عوامی ردعمل بڑھتا جارہا ہے۔ برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے غربِ اردن کی اسرائیلی آبادیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندیوں کا اعلان کیا ہے، جبکہ مزید ممالک بھی ایسی پابندیوں کی حمایت کررہے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل نے برطانیہ کے مشرقی یروشلم میں قونصل خانے کو بند کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

آبادکاری کے خلاف برطانوی اقدام

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ (Ed Miliband) نے دارالعوام (پارلیمان) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ غربِ اردن پر اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی سمجھتا ہے۔ انھوں نے فلسطینی علاقوں سے مقامی افرادکی جبری بے دخلی اور قبضہ گردوں کے تشدد کو نسلی تطہیر قراردیا۔ برطانیہ نے ان آبادیوں سے آنے والی اشیا پر پابندی کے ساتھ ان کی توسیع میں مدد دینے والی بعض کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فرانس اور کینیڈا نے بھی اسی نوعیت کے اقدامات کئے، جبکہ مزید نو ممالک نے مشترکہ طور پر ایسی پابندیوں کی حمایت یا ان پر 'غور' کا اعلان کیا ہے۔

یہود دشمنی (Antisemitism)کے بیانئے کا سیاسی استعمال

ملی بینڈ کے بیانات پر اسرائیل اور اس کے بعض حامیوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور انہیں یہود دشمنی  سے جوڑا گیا، حالانکہ ملی بینڈ خود ایک یہودی ہیں۔ ان کے خاندان نے نازی دور میں یہودیوں پر ہونے والے مظالم کا سامنا کیا تھا۔ کیا اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں، قبضے یا آبادکاری کی مخالفت کو یہود دشمنی قرار دینا درست ہے؟

غربِ اردن میں گرفتاریوں اور آبادکاروں کا تشدد

الجزیرہ کے مطابق گزشتہ ہفتے غربِ اردن کے مختلف علاقوں سے بچوں سمیت تقریباً 100 فلسطینی گرفتار کئے گئے۔ طولکرم میں یتیم و بے سہارا بچوں کی دیکھ بھال میں معروف سماجی کارکن محترمہ روی ابراہیم کو ان کے گھر سے حراست میں لےلیا گیا۔ روی پر بچوں کو دہشت گردی کی تعلیم دینے کا الزام عائد کیا گیاہے۔ رام اللہ کے قصبے بیت إلّو میں آبادکاروں کے حملے میں ایک 23 سالہ نوجوان شدید زخمی ہوا، جبکہ قصریٰ میں آبادکاروں کی ناکہ بندی کے دوران امدادی سامان لے جانے والے ٹرک پر حملہ کرکے سامان لوٹنے کی بھی اطلاعات سامنے آئیں۔

غزہ میں بمباری، آئرلینڈ میں ٹرمپ سے سوال

غزہ میں اسرائیلی بمباری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ  جاری رہا۔ خان یونس میں ایک رہائشی عمارت پر حملے میں 9 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ غزہ شہر کی ایک خیمہ بستی پر بمباری سے متعدد افراد زندہ جل گئے۔ غزہ کی صورتحال پر صدر ٹرمپ سے ان کے دورۂ آئرلینڈ میں بھی سوال کیا گیا۔ ایک صحافی نے پوچھا کہ ان آئرش شہریوں کو وہ کیا جواب دیں گے جو سمجھتے ہیں کہ امریکہ، غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور غربِ اردن میں اسرائیلی دہشت گردوں کو سہولت فراہم کررہا ہے؟ صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ امریکہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان امن معاہدے کی کوشش کررہا ہے۔ ان کے دورے کے موقع پر آئرلینڈ کے بڑے شہروں میں غزہ، غربِ اردن اور ایران جنگ کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے۔

غزہ کی جنگ پر عالمی احتجاج

نیویارک میں نائن الیون کی یادگاری تقریب کے دوران ایک نوجوان فلسطینی پرچم لے کر میدان میں داخل ہوا جسے پولیس نے گرفتار کرلیا۔ یورپی ملک سلووینیا میں اسرائیلی سفارتخانے کے افتتاح کے موقع پر بھی احتجاج ہوا۔ یہ واقعات اس بات کی علامت ہیں کہ فلسطین کا مسئلہ اب صرف مشرقِ وسطیٰ کی سفارت کاری تک محدود نہیں بلکہ عالمی رائے عامہ کا مستقل موضوع بنتا جارہا ہے۔

غربِ اردن سے  جنوب ایشیا تک قبضہ گردی کی لہر

اسی دوران تھائی لینڈ میں اسرائیلی سیاحوں کے مبینہ نامناسب رویے اور تھائی لینڈ میں تل ابیب کی بڑھتی ہوئی کاروباری و جائیدادی سرگرمیوں کے خلاف مقامی سطح پر احتجاج شدت اختیار کرگیا ہے۔ سیاحتی مقام پھیوکیت (Phuket) میں مقامی گروہوں نے اسرائیلی سیاحوں پر مقامی قوانین کی خلاف ورزی، دکانداروں اور ٹیکسی ڈرائیوروں سے نامناسب رویے اور بعض مواقع پر خدمات کی ادائیگی سے متعلق شکایات عائد کی ہیں۔ دس ستمبر کو بنکاک میں اسرائیلی سفارتخانے کے باہر سینکڑوں افراد نے احتجاج کیا اور اسرائیلی تاجروں کی جانب سے مقامی زمینوں پر قبضے کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین نے ’’تھائی لینڈ برائے فروخت نہیں‘‘ اور ’’یہ تمہاری سرزمینِ موعود نہیں‘‘ کے نعرے لگائے۔

اسرائیلیوں کی اپنی دستاویزی فلم

اسرائیلی فلم ساز یووال ابراہام اور ریشل زور کی دستاویزی فلم NAZA نے وینس (اٹلی) فلم میلے میں خصوصی جیوری انعام حاصل کیا ہے۔ فلم میں 24 اسرائیلی فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کی گمنام گواہیاں شامل ہیں، جنہوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ غزہ میں مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے رہائشی علاقوں میں فون پر ہونے والی گفتگواور بچوں کی آواز کی تصدیق کے بعدایسے گھروں کو نشانہ بنایا گیا جہاں خواتین اور بچے موجودتھے۔

فلم کا نام NAZAدراصل اسرائیلی عسکری و انٹیلی جنس نظام میں استعمال ہونے والی ایک اصطلاح ہے، جو کسی فضائی حملے میں متوقع شہری ہلاکتوں یا ’’ضمنی نقصان‘‘ کی تعداد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ فلم نے اسی اصطلاح کو اپنا عنوان بنا کر یہ سوال اٹھایا ہے کہ جنگی منصوبہ بندی میں جب انسانی جانیں بھی محض اعداد و شمار یا ایک عسکری کوڈ بن جائیں تو اس کے اخلاقی اور انسانی مضمرات کیا ہوتے ہیں

جب 10 ستمبر کو اسکی افتتاحی نمائش کے بعد فلم ساز اسٹیج پر آئے تو سارا مجمع کھڑا ہوکو 25 منٹ تک تالیاں بجاتا رہا۔ یہ وینس فلم میلے میں کسی بھی فلم کی طویل ترین پذیرائی تھی۔ اس موقع پر یووال ابراہام نے کہا کہ NAZA  محض ایک فلم نہیں بلکہ ایک ایسی دستاویزی کاوش ہے کہ جس میں غزہ کی جنگ کو اسرائیلی فوجی اہلکاروں کی زبان سے بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس فلم سے ابھرتی AIٹیکنالوجی کے بارے میں دنیا تشویش کا شکار ہوگئی ہے۔لگتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی نے انسان کو محض ایک data point یا ہدف میں تبدیل کردیا ہے۔ اس حوالے سے تازہ پیش رفت یہ ہے کہ اسرائیلی وزیرِ ثقافت مکی ظہر نے دونوں فلم سازوں کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کا اعلان کیاہے جبکہ وزیراعظم نیتن یاہو نے NAZA کو "بدترین اشتعال انگیزی" قرار دیا۔ یہ ردعمل خود اس بات کی علامت ہے کہ فلم نے اسرائیل کے اندر بھی ایک غیر معمولی سیاسی تنازع کھڑا کردیا ہے اور اس جابرانہ طرز عمل سے مشرق وسطیٰ کی 'اکلوتی جمہوریت'  بے نقاب ہوگئی ہے۔

ایک جوتا اور ایک نیا اسرائیلی تنازع

اسرائیل نے اہلِ غزہ کو برباد کردیا، لیکن حکمرانوں کی وحشت کی بھاری قیمت اس کے سپاہی اب تک ادا کررہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پانچ ہزار سے زیادہ اسرائیلی فوجی ایک یا دونوں پیروں سے محروم ہوگئے ہیں۔ جوتے بنانے والے ادارے Adidas نے ایک پیر والے افراد کے لئے خصوصی جوتے تیار کئے ہیں، جس کے اشتہار میں اسرائیل کے ایک معذور فوجی کو اس جوتے کے ساتھ دوڑتے دکھایا گیا ہے۔ اسرائیلی انتہا پسند اس پر سخت ناراض ہیں اور فوجیوں کی جانب سے Adidas کے بائیکاٹ کی مہم شروع کی گئی ہے۔

ٹیکساس کا نیا نصاب: تاریخ یا تعصب؟

ادھر ریاست ٹیکساس (Texas) کے تعلیمی بورڈ نے ہائی اسکول کے سماجی علوم کے نئے نصاب کی منظوری دی ہے، جس میں 11 ستمبر 2001 کے حملوں کو ’’Radical Islam‘‘ سے جوڑ کر پڑھانے اور ابتدائی اسلامی تاریخ کے بعض پہلوؤں کو جنگ، غلامی اور خواتین قیدیوں کے تناظر میں بیان کرنے کی ہدایات شامل ہیں۔ یہ تبدیلیاں 2030-31 کے تعلیمی سال سے نافذ ہونا شروع ہوں گی۔ اگر تاریخ پڑھاتے ہوئے کسی ایک مذہب کو مسلسل منفی مثالوں کے ذریعے پیش کیا جائے گا تو تاریخی شعور پیدا کرنے کے بجائے بین المذاہب بداعتمادی اور معاشرتی کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ اعتراض صرف مسلم تنظیموں یا ناقدین کی طرف سے نہیں آیا۔ بورڈ کے مقرر کردہ کم از کم تین ماہرین نے بھی نصاب میں اسلام سے متعلق بعض بیانیوں پر تحفظات ظاہر کیے۔ ممتاز ماہر تعلیم محترمہ آندریا ہچنسن (Andrea Hutchinson) نے کہا کہ متعلقہ مواد ’’قریب سے تاریخی جانچ پڑتال‘‘ پر پورا نہیں اترتا، جبکہ جامعہ ٹیکساس، آسٹن  میں فلسفے کے پروفیسر رابرٹ کونز نے بھی بعض دعوؤں کے ماخذ کی علمی حیثیت پر سوال اٹھایا۔ پروفیسر صاحب کا کہنا تھا کہ تاریخ کا بنیادی اصول یہی ہے کہ طالب علم کو واقعات، شواہد اور مختلف نقطۂ نظر سے آگاہ کیا جائے، اُسے پہلے سے کسی نتیجے کا پابند بنانا علمی بددیانتی ہے۔ اگر اسلام کی تاریخ میں جنگیں، غلامی یا دوسرے متنازع پہلو پڑھانا ضروری ہے تو ان کا پورا تاریخی پس منظر بھی بیان ہونا چاہیے۔ غلامی کو صرف اسلامی دنیا سے منسوب کرنا تاریخی تصویر کو ادھورا کردے گا، کیونکہ غلامی اسلام سے بہت پہلے بھی مختلف معاشروں میں موجود تھی۔ اور تو اور خود امریکہ میں 1865 تک غلامی کو آئینی تحفظ حاصل تھا۔

اسرائیل اور فلسطین کے تنازع سے لے کر ٹیکساس کے کلاس روم تک الفاظ اور بیانئے اسلام مخالف مہم کا حصہ بن چکے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کو یہود دشمنی اور دہشت گردی کو اسلام سے جوڑ دیا گیا ہے۔ اب اسکولوں میں تاریخ، تحقیق، شواہد اور غیر جانب داری کے بجائے مسلمانوں سے خوف اور شک کے ساتھ پڑھائی جائے گی۔جسکی بناپر کمرہِ  تدریس علم کا مرکز بننے کے بجائے معاشرتی تقسیم کا میدان بن سکتا ہے۔ تاریخ کا کام کسی مذہب کو کٹہرے میں کھڑا کرنا نہیں، بلکہ انسان کو ماضی سے سچ سیکھنے کے قابل بنانا ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 18 ستمبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 18 ستمبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 20 ستمبر 2026


No comments:

Post a Comment