امریکی
وسط مدتی انتخابات
جنگ، مہنگائی، تارکینِ وطن
کی پالیسی اور اسرائیل ۔۔ اہم انتخابی
نکات
امریکہ
میں ان دنوں وسط مدتی انتخابات کی گہماگہمی ہے۔تین نومبر کو ہونے والے انتخابات
میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 35 نشستوں کے لئے ووٹ ڈالے جائیں
گے۔ان انتخابات کے نتائج، صدر ٹرمپ کی باقی ماندہ مدتِ صدارت کے لئے قانون سازی
اور حکومتی نگرانی کے امکانات پر اثر انداز ہوں گے۔ اسی روز 26 ریاستوں میں
گورنروں اور ریاستی و مقامی سطح پر بھی کئی اہم انتخابات ہوں گے۔انتخابی معرکے کا
تجزیہ کرنے سے پہلے امریکی انتخابی نظام کے چند بنیادی پہلو سمجھ لینا مفید ہوگا،
کیونکہ یہاں وفاقی، ریاستی اور مقامی انتخابات کے قواعد اور اختیارات میں نمایاں
فرق پایا جاتا ہے۔
وفاق
اور ریاستیں: اختیارات کی تقسیم
امریکہ پچاس ریاستوں پر مشتمل ایک وفاق ہے جہاں کرنسی، بین
الاقوامی تعلقات اور دفاع کے علاوہ تمام اختیارات ریاستوں (صوبوں) کے پاس ہیں۔یہاں
انتخابات کا انتظام چونکہ ریاستوں کی ذمہ داری ہے اور وفاق کو مداخلت کا کوئی حق
نہیں اسلئے مختلف ریاستوں میں حلقہ بندی، ووٹر رجسٹریشن اور ووٹ ڈالنے کے طریقہ
کار بھی ایک جیسے نہیں اور اس ضمن میں کئی جگہ مطلوبہ نتائج کیلئے جماعتی مداخلت
بہت واضح ہے۔صرف چھ ریاستوں میں ایوان نمائندگان کی حلقہ بندی کیلئے آزادوخودمختار
کمیشن قائم کئے گئے ہیں اور باقی اکثر ریاستوں میں حلقہ بندی کا کام ریاستی مقننہ
(صوبائی اسمبلی) کی ذمہ داری ہے۔ حلقہ بندی کرتے وقت اکثریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے
اس انداز میں حلقے تراشے جاتے ہیں کہ
مخالفین کے ووٹ بینک کو غیر موثر کیا جاسکے۔اس حکمت عملی کو پارلیمانی اصطلاح میں Gerrymandering کہتے ہیں۔
وسط
مدتی انتخابات کیوں کہلاتے ہیں؟
امریکہ
میں کانگریس کے عام انتخابات ہر دو سال بعد، نومبر کے پہلے پیر کے بعد آنے والے
منگل کو ہوتے ہیں۔ صدر کی مدتِ صدارت چار سال ہے، ایوانِ نمائندگان کے ارکان دو
سال کے لئے منتخب ہوتے ہیں جبکہ سینیٹرز کی مدت چھ سال ہے۔ صدر ٹرمپ 2024 کے
صدارتی انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے۔ چونکہ 2026 کے کانگریسی انتخابات ان کی مدتِ
صدارت کے درمیان میں ہورہے ہیں، اس لئے انہیں
Midterm
Elections، یعنی وسط مدتی انتخابات کہا جاتا ہے۔ وسط مدتی انتخابات کو صدر کی کارکردگی، پالیسیوں اور
عوامی مقبولیت کے بارے میں ایک اہم سیاسی اشارہ سمجھا جاتا ہے۔
صرف
کانگریس نہیں، مقامی عہدے بھی اہم ہیں
ایک اور اہم بات کہ ریاستی ، کاونٹی اور شہری عدلیہ کے جج،
اٹارنی جنرل، محتسب (کمپٹرولر)، پولیس کمشنر، شیرف (ایس ایچ او) اور اسکول بورڈ
سمیت شہری انتطامیہ بھی منتخب ہوتی ہے۔ اسکے علاوہ اہم معاملات پر عوام کی رائے
بھی لی جاتی ہے جسے Prepositionکہتے ہیں تاہم اسکی حیثیت ریفرنڈم کے بجائے مشورے کی ہے۔
ایوانِ
نمائندگان اور سینیٹ
امریکی
کانگریس کے دو ایوان ہیں۔ ایوانِ نمائندگان میں نشستوں کی تعداد آبادی کے تناسب سے
مقرر ہوتی ہے۔ یہ ایوان 435 ارکان پر مشتمل ہے اور ہر رکن اپنے انتخابی حلقے کی
نمائندگی کرتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ پاکستان کی قومی اسمبلی اور بھارت کی لوک سبھا
سے کسی حد تک مشابہ ہے۔ سینیٹ (راجیہ سبھا) میں تمام پچاس ریاستوں کو مساوی
نمائندگی حاصل ہے اور ہر ریاست سے دو سینیٹر منتخب ہوتے ہیں، خواہ اس کی آبادی
کتنی ہی کم یا زیادہ ہو۔ اس طرح سینیٹ کے کل ارکان کی تعداد 100 ہے۔ تسلسل برقرار
رکھنے کے لیے سینیٹرز کی چھ سالہ مدت اس انداز میں تقسیم کی گئی ہے کہ ہر دو سال
بعد تقریباً ایک تہائی نشستوں پر انتخابات ہوں۔
تین
نومبر کو سینیٹ کی 35 نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوگی۔ ان میں 33 نشستیں معمول کے
انتخابی دور کا حصہ ہیں، جبکہ فلوریڈا اور اوہائیو کی دو نشستوں پر خصوصی انتخابات
ہورہے ہیں۔ یہ نشستیں مارکو روبیو کے وزیر خارجہ اور جے ڈی وینس کے نائب صدر بننے
کے بعد خالی ہوئی ہیں۔ جن 35 نشستوں پر انتخاب ہورے ہیں ان میں سے 22 اس وقت
ریپبلکن پارٹی کے پاس ہیں، جبکہ 13 پرڈیموکریٹس ارکان براجمان ہیں۔
کانگریس
میں موجودہ جماعتی پوزیشن
اس
وقت ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن پارٹی کے 219 اور ڈیموکریٹک پارٹی کے 214 ارکان
ہیں اور دو نشستیں خالی ہیں۔سینیٹ میں ریپبلکنز کے 53 اور ڈیموکریٹس کے 45 ارکان
کے علاوہ دو آزاد سینیٹرز، برنی سینڈرز اور انگس کنگ، ڈیموکریٹک جماعتی صف بندی کے
ساتھ کام کرتے ہیں۔ یوں ڈیموکریٹس کے ساتھ ووٹ دینے والے ارکان کی مجموعی تعداد 47
بنتی ہے۔ اسکامطلب ہواکہ ریپبلکن پارٹی اپنی جن 22 نشستوں کا دفاع
کررہی ہے ان میں سے اگر 3 تنشستوں پر شکست کھاجائے تب بھی ایوان بالا پر انکی
برتری قاتم رہیگی جبکہ ڈیموکریٹس کو برتری حاصل کرنے کیلئے اپنی تمام نشستوں کا
دفاع کرنے کے ساتھ کم از کم چار اُن نشستوں پر جیتنا ہوگا جن پر اس وقت ریپبلکن
سینیٹر بیٹھے ہیں۔ دلچسپ بات کہ ریپبلکن پارٹی کو برتری کیلئے سینیٹ کی 50 لیکن
ڈیموکریٹک پارٹی کو 51 نشستیں درکار ہیں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ امریکی قانون کے تحت نائب صدر بر بنائے عہدہ سینیٹ کی
سربراہ ہیں اور ووٹ برابر ہوجانے کی صورت میں فیصلہ کن یا tie-breakerووٹ ڈال کر اپنی پارٹی کی نیّاپار لگاسکتے ہیں لہذا حکمراں
جماعت کے لئے کسی تحریک کو منظور کرانے کیلئے 50 ارکان ہی کافی ہیں۔
مہنگائی،
ایران جنگ اور امیگریشن انتخابی موضوعات
ایران جنگ اور اسکے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے
مہنگائی ایک اہم انتخابی نکتہ ہے۔بھاری درآمدی محصول (ٹیرف) کی وجہ بھی سے اشیائے
ضرورت مہنگی ہوگئی ہیں۔سخت امیگریشن پالیسی اور امیگریشن پولیس (ICE)کی کاروائیوں پر ہسپانوی اور
ایشیائی امریکنوں کو گہرے تحفظات ہیں۔اس بنا پر صدرٹرمپ کی مقبولیت میں کمی آئی
ہے۔رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق 65 فیصد سے زیادہ امریکی، حکومت کی کارکردگی سے
مطمئن نہیں۔ ان جائزوں کے مطابق ایوان نمائندگی کا کنٹرول ڈیموکریٹک پارٹی کے
ہاتھوں میں آنے کا امکان ہے۔ سینیٹ کی جنگ میں
بھی ریپبلکن پارٹی دباو میں ہے۔ تاہم، قومی سطح کے جائزوں کو
انفرادی ریاستوں کے نتائج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ امریکہ میں ریاستی سیاسی
رجحانات، امیدواروں کی مقبولیت، مقامی مسائل اور ووٹرز کی شرکت بھی فیصلہ کن کردار
ادا کرسکتے ہیں۔ اسی لئے سینیٹ کی چند ریاستوں کے مقابلے قومی سیاسی بحث کا مرکز
بنے ہوئے ہیں۔
الاسکا:
ریپبلکن گڑھ میں ڈیموکریٹس کی امید
الاسکا
(Alasak)امریکہ کی غیر متصل ریاست ہے، یعنی اس کی
زمینی سرحدیں باقی امریکی ریاستوں سے نہیں ملتیں۔ الاسکا ریپبلکن پارٹی کا گڑھ ہے۔ یہاں سے سینیٹ کی نشست پر
کسی ڈیموکریٹک امیدوار نے آخری بار 2008 میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن اس مرتبہ
ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار میری پیلٹولا (Mary Peltola)خاصی مقبول نظر آرہی ہیں۔ دلچسپ بات کہ ریپبلکن امیدوارڈین
سولیون کے ہم نام ایک آزاد امیدوار بھی میدان میں ہیں۔
آیووا:
زرعی معیشت اور مہنگی توانائی کا سوال
زرعی ریاست آیوا بھی ریپبلکن پارٹی کا قلعہ ہے جہاں سے
2024کے صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ نے 13 فیصد کی برتری حاصل کی تھی۔ گزشتہ
دومدتوں سے سینیٹر منتخب ہونے والی جونی ارنسٹ (Joni Ernst)نے نئی مدت کا انتخاب لڑنے سے معذرت کرلی ہے۔ یہاں ریپبلکن
پارٹی کی ایشلے ہنسن کا مقابلہ ڈیموکریٹک امیدوار جاش ترک سے ہے اور رائے عامہ کے
جائزے کہہ رہے ہیں کہ مقابلہ خاصہ سخت ہے۔ آیووا کے کسانوں
کے لئے ایندھن، کھاد اور دوسری پیداواری لاگت میں اضافہ بہت اہم ہے۔
شمالی
کیرولائنا: رائے کوپر کو حاصل برتری
شمالی کیرولینا میں ریپبلکن پارٹی کے ٹام ٹلس (Tom Tllis) 2014 اور اسکے
بعد 2020 میں سینیٹر منتخب ہوئے لیکن اس بار ٹلس صاحب انتخاب نہیں لڑرہے۔ یہاں
مقابلہ ریپبلکن پارٹی کے ریاستی صدر مائکل وہٹلے اور سابق گورنر رائے کوپر میں ہے۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق رائے کوپر کو اپنے حریف پر معمولی سی برتری حاصل ہے۔
مین:
سوزن کولنز کے لیے سخت مقابلہ
مین
(Maine) سیاسی
اعتبار سے نسبتاً آزاد خیال ریاست سمجھی جاتی ہے. یہاں ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز 1996 سے
مسلسل منتخب ہوتی رہی ہیں۔ اس بار ان کا مقابلہ ڈیموکریٹک امیدوار ٹرائے جیکسن
(Troy Jackson) سے ہے، جو ریاستی سینیٹ کے سابق صدر رہ چکے ہیں۔کولنز
نے انتخابی مہم کے دوران بعض معاملات میں صدر ٹرمپ سے اختلاف ظاہر کیا ہے۔ ان کا
کہنا ہے کہ سینیٹ میں انہوں نے ٹرمپ کے موقف کے خلاف متعدد بار ووٹ دیا، اور 2021
میں ان کے پہلے مواخذے کے مقدمے میں بھی ٹرمپ کو سزا دینے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
تازہ جائزوں میں دونوں امیدواروں کے درمیان مقابلہ سخت دکھائی دیتا ہے۔
جنوبی
کیرولائنا: لنڈسے گراہم کی خالی نشست
جنوبی
کیرولائنا روایتی طور پر ریپبلکن پارٹی کا مضبوط گڑھ رہی ہے۔ طویل عرصے تک اس
ریاست کی نمائندگی کرنے والے سینیٹر لنڈسے گراہم کے انتقال کے بعد ان کی ہمشیرہ، ڈارلین گراہم (Darline Graham) ریپبلکن امیدوار
ہیں۔ ان کا مقابلہ ڈیموکریٹک امیدوار اور ماہرِ اطفال ڈاکٹر اینی اینڈریوز
(Annie Andrews) سے ہے۔ اگرچہ جنوبی کیرولائنا میں ریپبلکن امیدوار کو
روایتی سیاسی برتری حاصل رہی ہے، لیکن قومی سیاسی ماحول اور امیدواروں کی ذاتی
مقبولیت کے باعث اس نشست پر بھی نظر رکھی جارہی ہے۔
ٹیکساس:
کیا ڈیموکریٹس کے لیے نئی راہ کھل سکتی ہے؟
ٹیکسس (Texas)
ریپبلکن پارٹی کا مضبوط گڑھ ہے۔ یہاں سے آخری بار 1993 میں ڈیموکریٹک امیدوار باب
کروگر سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔ اس بار ڈیموکریٹک پارٹی
کے جیمز ٹیلاریکو (James Talarico) اور ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن
(Ken Paxton) کے
درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے۔حالیہ جائزوں
میں ٹیلاریکو کو برتری حاصل دکھائی گئی ہے، لیکن ٹیکسس
کی روایتی سیاسی سمت اور ووٹروں کی شرکت کے فرق کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا
مشیگن:
عبدالسید، مائک راجرز اور AIPAC کا کردار
مشیگن میں سینیٹ کے مقابلے کو امریکہ سے زیادہ اسرائیل میں
دلچسپی سے دیکھا جارہا ہے جہاں مصر نژاد ڈاکٹر عبدالرحیم محمد السید المعروف عبدل
السید ریپبلکن پارٹی کے مائک راجرز کا مقابلہ کررہے ہیں۔ عبدل السید کو پارٹی ٹکٹ
سے محروم کرنے کیلئے امریکہ اسرائیل سیاسی مجلس عمل (AIPAC) نے کروڑوں ڈالر خرچ کئے
لیکن وہ بہت معمولی فرق سے اپنی مخالف کو ہرانے میں کامیاب ہوگئے۔ اب AIPAC نے ایک بار پھر
عبدالسید کو ہرانے کیلئے خزانے کے منہہ کھولدئے ہیں۔عبدالسید 2018 میں ریاستی
گورنر کے لئے میدان میں اترے تھے لیکن انھیں پرائمری انتخابات میں شکست ہوگئی۔
بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ معاشی پریشانی، امیگریشن پولیس کی
کاروائیوں، مہنگائی اور اور ایران سے جنگ کی بنا پر وسط مدتی انتخابات
کے نتائج صدر ٹرمپ کیلئے ناخوشگوار ہونگے۔اسوقت ریپبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں
ایوانوں میں برتری حاصل ہے۔اس تناظر میں اگر ڈیموکریٹک پارٹی دونوں یا ایک بھی
ایوان سے حکمراں جماعت کی بالادستی ختم کرنے میں کامیاب ہوگئی تو اپنے اقتدار کے
آخری دوسالوں میں صدر ٹرمپ کو مشکل پیش آسکتی ہے۔ تاہم یہ تجزیہ اور تاثر انتخابی
جائزوں کی بنیاد پر ہے جبکہ اصل فیصلہ
رائے دہندگان نے کرنا ہے، کئی ریاستوں میں قبل ازوقت یا early voting کا آغاز ہوچکا ہے۔ موسم
اور مزاجِ یار کی طرح نیرنگی سیاست کے اپنے ہی رنگ ڈھنگ ہیں اور اس باب میں تیقن
سے کچھ کہنا ممکن و مناسب نہیں۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 16 اکتوبر
2026
ہفت روز دعوت دہلی 16 اکتوبر 2026
ہفت روزہ رہبر سرینگر 18 اکتوبر 2026

No comments:
Post a Comment