یمن
سعودی تنازعہ : پاکستان کے لئے آزمائش
ایران، حوثی اور سعودی عرب
کی کشمکش میں اسلام آباد کا راستہ کیا ہو؟
مشرقِ وسطیٰ
میں سیاسی و نظریاتی صف بندی نئی نہیں۔ سرد جنگ کے زمانے میں مصر، شام، عراق اور
جنوبی یمن کے سوویت یونین سے قریبی تعلقات تھے، جبکہ خلیجی بادشاہتیں امریکہ کے
قریب تھیں۔ اس کے باوجود اسرائیل کے معاملے میں عرب ممالک کے درمیان اتفاق پایا
جاتا تھا۔ سوویت یونین کے خاتمے، مصر اسرائیل امن معاہدے اور بعد کے علاقائی
تغیرات نے یہ صورتِ حال بدل دی۔ تیونس سے 2010 میں شروع ہونے والی عرب بہار (Arab Spring)نے آمریت کے
خلاف عوامی بیداری پیدا کی، لیکن شام اور یمن سمیت کئی ملکوں میں یہ تحریک فرقہ
واریت، خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت کی نذر ہوگئی۔
یمن: مقامی تنازع، علاقائی جنگ
شمالی
اور جنوبی یمن کے 1990ء میں انضمام کے باوجود سیاسی اور علاقائی اختلافات ختم نہ
ہوسکے۔ انصار اللہ، المعروف حوثی تحریک کی جڑیں شمالی یمن میں ہیں۔یمن انضمام کے
بعد 2004ء حوثیوں کی مسلح بغاوت کا آغاز ہوااور 2014ء میں دارالحکومت صنعا پر قبضے
کے بعد تنازع وسیع خانہ جنگی میں بدل گیا۔سعودی قیادت میں خلیجی ممالک نے یمن میں
استحکام کیلئے اتحادی فوج تشکیل دی اور پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف
اسکے سپہ سالارمقرر ہوئے۔ اس جنگ نے لاکھوں افراد کو بے گھر کیا اور یمن کی معیشت
و معاشرت کو تباہ کن نقصان پہنچایا۔ غزہ جنگ کے آغاز پر حوثیوں نے اسرائیل اور
بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کو نشانہ بنایا، لیکن ان کی کارروائیوں کے علاقائی
اثرات فلسطین سے کہیں آگے تک پہنچے ہیں۔
الاصلاح، عبدالمجید زندانی اور جامعہ الایمان
یمن
کی اس کشمکش کا ایک اہم پہلو حوثیوں اور ان کے مخالفین کے درمیان طاقت کا عدم
توازن ہے۔ حوثیوں کی پیش قدمی نے یمن کی اسلامی تحریک الاصلاح کو بھی شدید نقصان
پہنچایا، اگرچہ جماعت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی لیکن اس کے قائد شیخ عبدالمجید
زندانی اور نوبل انعام یافتہ محترمہ توکل کرمان اور دوسرے رہنماوں کو جلاوطن ہونا
پڑا۔ حالانکہ الاصلاح نے یمن میں سعودی مداخلت کی شدت سے مذمت کی تھی جسکی پاداش
میں سیاسی پناہ گزیں زندانی صاحب سعودی عرب سے نکال دئے گئے۔
زندانی
کی قائم کردہ جامعہ الایمان صنعا میں تعلیم کا نمایاں مرکز تھی، جہاں اسلامی علوم
کے ساتھ جدید مضامین بھی پڑھائے جاتے تھے۔ حوثیوں کے دارالحکومت پر قبضے کے بعد
جامعہ ان کے کنٹرول میں آگئی اور اس کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ اس طرح یمن
کی جنگ نے صرف حکومت اور علاقائی طاقتوں کو نہیں، بلکہ ملک کے سیاسی اور تعلیمی
اداروں کو بھی گہرے بحران میں دھکیل دیا۔
آبنائے ہرمز سے باب المندب تک
ایران
پر اسرائیل اور امریکہ کے حملے میں انصاراللہ نے ایران کی حمائت کی اور سعودی عرب
میں امریکی اڈوں پر راکٹ برسائے۔ ایران نے اس جنگ کو جدید اسلحہ بمقابلہ جغرافیہ و
عالمی اقتصادیات میں تبدیل کرکے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کو مشکل کردیا۔ سعودی
عرب نے آبنائے ہرمز کو مخدوش دیکھ کر اپنی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے آبنائے
باب المندب کے راستے ایشائی صارفین کو تیل کی فراہمی شروع کردی۔ اس راستے کو مسدود
کرنے کیلئے حوثیوں نے آبنائے باب المندب اور بحیرہ احمر سے گزرنے والے تیل ٹیکروں
کیساتھ سعودی ریفاننری اور تیل پائپ لائن کو نشانہ بنایا۔
تاہم
حوثیوں کو ایران کا بے اختیار آلہ سمجھنا درست نہیں۔ تہران سے ان کے قریبی تعلقات
اور عسکری مدد کے شواہد موجود ہیں، لیکن ان کے اپنے یمنی مفادات اور فیصلے بھی
ہیں۔ ایران نے سعودی عرب اور حوثیوں کے تنازعے کے سفارتی حل کی حمایت کا اظہار کیا
ہے۔ اس لیے تہران کے مؤقف اور حوثیوں کے ہر اقدام کو ایک ہی چیز نہیں سمجھا جاسکتا
۔
مکہ دفاعی معاہدہ اور پاکستان کا مخمصہ
اگست
2026ء میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا، جس میں
ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ سمجھنے کی شق شامل ہے۔ حوثیوں کے
حملوں کے بعد اس معاہدے کے تحت مشترکہ دفاعی اقدامات پر اتفاق نے پاکستان کو
آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ سعودی عرب پاکستان کا قریبی دوست ہے تو ایران ہمسایہ جسکے
ساتھ سرحدی سلامتی، تجارت اور علاقائی استحکام کے معاملات بھی وابستہ ہیں۔ دوسری
طرف ترکیہ کے ایران سے سفارتی اور معاشی تعلقات ہیں، جبکہ پاکستان کے افغانستان
اور بھارت سے اختلافات کے باوجود سعودی عرب اور ترکیہ کے ان دونوں ملکوں سے قریبی
تعلقات ہیں۔
لہٰذا
اس معاہدے کو نیٹو کی مکمل نقل سمجھنا مناسب نہیں اسلئے کہ تینوں ممالک کے مفادات
بہت سے معاملات میں مختلف ہیں۔چنانچہ حوثیوں کے خلاف زمینی جنگ میں پاکستان کی
شرکت کو معاہدہِ مکہ کا قانونی و اخلاقی تقاضہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پاکستان اگر
یمن میں براہِ راست جنگ کا حصہ بنتا ہے تو ایران سے تعلقات متاثر ہونے، داخلی فرقہ
وارانہ کشیدگی بڑھنے اور پاکستانی معیشت پر مزید دباؤ پڑنے کا خطرہ ہے۔ اس کے
برعکس سعودی عرب کی سلامتی سے لاتعلقی بھی دوطرفہ اعتماد کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
حل: دفاعی تعاون، مگر جنگ سے گریز
پاکستان
کے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ وہ سعودی عرب کے دفاع میں واضح تعاون کرے، مگر اپنی
عملی ذمہ داریوں کو دفاعی نوعیت تک محدود رکھنے کی کوشش کرے۔ فضائی دفاع، انٹیلی
جنس کے تبادلے، شہری تنصیبات اور جہاز رانی کے تحفظ میں تعاون ممکنہ راستے ہیں۔
کسی جارحانہ کارروائی یا زمینی جنگ میں شرکت کا فیصلہ پارلیمانی و کل جماعتی غور و
فکر کا متقاضی ہے۔ ساتھ ہی اسلام آباد کو تہران، ریاض اور انقرہ کے درمیان مسلسل
رابطہ برقرار رکھنا چاہیے اور عمان و چین جیسے سفارتی کردار ادا کرنے والے ممالک
کے ساتھ مل کر جنگ بندی اور مذاکرات کی کوشش کرنی چاہیے۔ باب المندب اور بحیرۂ
احمر میں جہاز رانی کا تحفظ بھی کسی ایک ملک کے خلاف جنگی مہم کے بجائے وسیع
علاقائی تعاون سے زیادہ پائیدار ہوسکتا ہے۔
دوست کا دفاع، ہمسائے سے دشمنی نہیں
پاکستان
کو سعودی عرب کی سلامتی اور ایران کے ساتھ پُرامن ہمسائیگی میں سے کسی ایک کو چننے
پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔ دانش مندی یہ ہے کہ دفاعی ذمہ داریوں کو سفارت کاری کا
متبادل نہ بنایا جائے۔ یمن کی تاریخ بتاتی ہے کہ بیرونی عسکری مداخلت تنازع کو
طویل کرسکتی ہے، جبکہ مذاکرات اور علاقائی مفاہمت ہی پائیدار امن کی بنیاد بن سکتے
ہیں۔ پاکستان کا مفاد اسی میں ہے کہ وہ اپنے اتحادی کی حفاظت میں مدد دے، مگر خود
ایک ایسی جنگ میں نہ الجھے جس کا کوئی واضح اختتام نظر نہیں آتا۔
ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 16 اکتوبر 2026

No comments:
Post a Comment