Thursday, October 15, 2026

 

غزہ جنگ بندی کی پہلی برسی

 طبی اخلاقیات ،سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کی آزمائش

غزہ پر مسلط جنگ کے تین سال مکمل ہونے کے تین دن بعد، 10 اکتوبر کو جنگ بندی کی پہلی برسی اسرائیلی فوج  نے  ایک بچے سمیت کم از کم سات افراد کو قتل کرکے منائی۔ یہاں تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کے ساتھ پانی کی شدید قلت بھی انسانی المیے کو بڑھا رہی ہے۔ بار بار کی نقل مکانی میں پانی ذخیرہ کرنے کے ڈرم اور بڑے برتن ضائع ہوچکے ہیں؛ بہت سے خاندان بالٹیوں میں پانی جمع کرنے پر مجبور ہیں۔ پانی کے ٹرکوں کے قریب خیمے لگانا، پانی ڈھونے سے آسان ہوچکا ہے۔ یوں بے گھر خاندان پانی کی دستیابی کے ساتھ اپنی عارضی پناہ گاہیں بھی بدلتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اہلِ غزہ کی مہاجرت کا المیہ 1948ء سے جاری ہے۔

سات اکتوبر: ہینی بال حکمنامے کا سوال

سات اکتوبر 2023ء کے واقعات کی تیسری برسی پر ایک اہم سوال زیرِ بحث ہے کہ  اسرائیلی شہریوں کی ہلاکتوں میں فوجی کارروائیوں کا کیا کردار تھا؟ اقوام متحدہ تحقیقاتی کمیشن کے مطابق اس روز حماس کے حملوں میں 809 اسرائیلی شہری ہلاک ہونے۔ اسی رپورٹ میں ہینی بال حکمنامے (Hannibal Directive) کے ممکنہ استعمال کے شواہد بھی درج ہیں۔ یہ حکمنامہ اغوا کی کوشش ناکام بنانے کے لیے ایسی فوجی کارروائیوں سے متعلق ہے جن میں مغوی کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ کمیشن نے ایک اسرائیلی ٹینک کے عملے کے بیان سمیت ایسے واقعات کا ذکر کیا جن میں فوجی کارروائی سے یرغمال بنائے گئے اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کا امکان سامنے آیا۔ اگر حماس کے حملے میں 809 شہری مارے گئے تو اسرائیلی دعوے کے مطابق جو ہزاروں لوگ مارے گئے، کیا وہ  اسرائیلی فوج کی Hannibal حکمت عملی کا نشانہ بنے؟؟؟ان شواہد کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔

غربِ اردن: بے دخلی اور قبضہ گردوں کے حملے

غربِ اردن میں فلسطینی خاندانوں کی بے دخلی، اسرائیلی فوج کی موجودگی یا سرپرستی میں قبضہ گردوں کے حملے، فصلوں کی تباہی اور مویشیوں پر قبضے  کاسلسلہ جاری ہے۔رام اللہ کے گاوں دیر ابو مشعل میں بہت سے فلسطینی خاندانوں کو بے گھر کردیا گیا۔ رام اللہ کے ایک اور گاوں دیر نظام میں اسرائیلی آبادکاروں نے گاڑیوں کو آگ لگادی۔ شمالی یروشلم کے قریب جبع گاوں میں بھی فلسطینیوں کے مکانات منہدم اور گاڑیاں نذرِ آتش کردی گئیں۔ نابلوس کے گاوں برقہ میں مسلح قبضہ گردوں نے فوج کی سرپرستی میں 44 سالہ علی البزاری کو اسکے بچے کے سامنے قتل کردیا۔ ایسے واقعات صرف ایک خاندان کو نہیں توڑتے، بلکہ بچوں کے ذہنوں پر بھی گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑتے ہیں۔

زیتون کے باغات: شناخت کو مٹانے کا خطرہ

غرب اردن میں زیتون کی فصلوں اور باغات کی تباہی کا منظم سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے۔انتہاپسندوں کے خیال میں زیتون،  فلسطین کی شناخت ہے جس کو مٹا نا نسلی تطہیر کا حصہ سمجھا جارہا ہے۔ اب زیتون سے نفرت کا دائرہ جنوبی لبنان تک وسیع کردیا گیا ہے۔زیتون کی کاشت کیلئے مشہور جنوبی لبنان کے علاقے خیام میں  گزشتہ چند ماہ کے دوران 24کروڑ ڈالر مالیت کی فصلیں غارت کردی گئیں اور 11 اکتوبر کو اسی علاقے میں بنتِ جبیل کے گاوں فرون اور یاطر پر زیتون کی کٹانی کے دوران اسرائیلی ٹینکوں سے گولہ باری نے  دو افراد کی جان لے لی

جب مسیحا ہی زخم دینے والوں کے ساتھی بن جائیں

اسرائیلی حراستی مرکز سدی تیمان (Sde Teiman) میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مبینہ تشدد، بدسلوکی اور طبی غفلت کے معاملے پر ہند رجب فاؤنڈیشن نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے  مستغیث (پراسیکیوٹر) سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ فاؤنڈیشن کی درخواست میں اسرائیلی ڈاکٹروں، طبی اداروں اور متعلقہ حکام کے کردار کی جانچ کی استدعا کی گئی ہے۔ اس میں علاج کے دوران ہتھکڑیاں اور آنکھوں پر پٹی باندھنے، درد کش ادویات کے بغیر جراحی اور طبی نگرانی میں مبینہ بدسلوکی جیسے الزامات شامل ہیں۔

فاونڈیشن نے نام لے کر اسرائیلی میڈیکل ایسوسی ایشن کے سربراہ پروفیسر زائن ہیگے (Zion Haggay)کو نامزد کیا اور عالمی میڈیکل فاونڈیشن (WMA)سے مطالبہ کیا ہے کہ IMAکی رکنیت معطل کرکے اسکے وفد کو ڈاکٹروں کے عالمی کنونشن سے نکالا جائے۔یہ اجلاس اجکل ہالینڈ کے شہر روٹیرڈیم میں ہورہا ہے۔ معاملہ صرف فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مبینہ سلوک کا نہیں،  یہ اس بنیادی اصول کا امتحان ہے کہ طب کا پیشہ تشدد کا سہولت کار نہیں، انسانیت کا محافظ ہونا چاہئے۔ اگر مسیحا ہی زخم دینے والوں کے ساتھی بن جائیں تو مظلوم، مرہم کے لئے کس دروازے پر دستک دے؟

امریکی سفارت کاری: کیا واشنگٹن تک مکمل حقائق پہنچ رہے ہیں؟

مسیحاوں کے ساتھ سفارتکار بھی امتیازی سلوک میں سہولت کار بنتے نظر آرہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق یروشلم کے امریکی سفارتخانے میں اسرائیلی اقدامات سے متعلق تیار کی جانے والی بعض رپورٹوں کو ڈیوڈ ملسٹین (David Milistein)نامی ایک اعلیٰ امریکی سفارتی معاون نے روک دیا، تبدیل کیا یا اس انداز میں دوبارہ لکھا کہ اسرائیلی حکومت زیادہ مثبت دکھائی دے۔ حتیٰ کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں میں غیر معمولی توسیع سے متعلق ایک ہنگامی رپورٹ واشنگٹن بھیجی ہی نہیں گئی۔ ایک اور معاملے میں امریکی سفارتخانے کے عملے نے فلسطینی نژاد امریکی شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ تیار کی، لیکن ملسٹین صاحب نے اسے بھی آگے بڑھنے سے روک دیا۔سفارتی اہلکار کی جانب سے اہم معلومات کو امریکی فیصلہ سازوں تک پہنچنے سے روکنامحض رپورٹ نویسی کا معاملہ نہیں، اس سے خارجہ پالیسی کی تشکیل اور سرکاری معلومات کی دیانت داری متاثر ہوسکتی ہے۔ امریکی عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کے نام پر فیصلے کرتے وقت فیصلہ سازوں کو مکمل حقائق فراہم کئے جارہے ہیں یا نہیں۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت اور طاقتور ریاستوں کا رویہ

اس مہمل سفارتکاری کی وجہ امریکی وزارت خارجہ کا متعصبانہ رویہ ہے جس نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) پر وسیع پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیاہے۔ یہ اقدام جنوبی افریقہ کی ممتاز قانون دان اور سابق جج ڈاکٹر نیوی پلّے کو نوبل امن انعام ملنے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔ پلّے اقوام متحدہ کے اس تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ رہ چکی ہیں جس نے غزہ میں اسرائیلی اقدامات کو نسل کشی قرار دیا تھا۔ امریکہ اور اسرائیل نے ان الزامات اور عدالت کے اقدامات کی مخالفت کی ہے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عدالت کو “Rogue” یعنی بدمعاش کورٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس کے ساتھ لین دین روک کر اس کے وسائل اور کام کرنے کی صلاحیت محدود کرے گا۔واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ امریکہ نے منشورِ روم کی توثیق نہیں کی اور وہ امریکی شہریوں، فوجیوں یا سیاسی رہنماؤں پر ایسی عدالت کا اختیار تسلیم نہیں کرتا۔ کسی عدالت کے فیصلے سے اختلاف کرنا ہر ایک کا حق ہے اور عدالت کے قانونی اختیار پر اعتراض بھی درست، لیکن اگر ہر ریاست اپنی ناپسندیدہ تحقیقات یا فیصلے کے جواب میں عدالت کو معاشی دباؤ کے ذریعے مفلوج کرنے لگے تو بین الاقوامی انصاف کا نظام کس طرح کام کرے گا؟

یہودیت اور صیہونیت: ایک مذہبی رہنما کا اختلاف

اسرائیل کے ممتاز حریدی ربائی (امام) ڈوو لانڈو (Rabbi Dov Lando) نے کہا ہے کہ یہودیت اور صیہونیت کو ایک ہی چیز سمجھنا تاریخی اور مذہبی طور پر درست نہیں۔ حریدی سیاسی جماعت Degel HaTorah کے روحانی رہنما، صیہونیت پر سخت تنقید کرتے ہوئے یہاں تک کہہ گئے کہ اگر اسرائیلی ریاست کے بجائے یہاں اقوام متحدہ یا عرب حکمرانی ہوتی تو حالات بہتر ہوسکتے تھے۔ ربائی صاحب نے دو ٹوک اندااز میں کہا ’’صیہونیت نے ہمیں عربوں سے نفرت کرنا سکھایا‘‘ اور اس تحریک نے یہودی قوم پر ’’جسمانی تباہیاں‘‘ بھی مسلط کیں۔ اسرائیلی انتہا پسندوں نے یہودی مذہب اور صیہونی سیاست کو گڈ مڈ کردیا ہے۔ حالانکہ یہودیت ایک مذہبی و تہذیبی شناخت اور صیہونیت ایک جدید سیاسی تحریک ہے۔ ہر یہودی ، صیہونی ہے اور نہ ہر صیہونی لازماً یہودی ۔ خود اسرائیل کے حریدی مذہبی حلقوں میں صیہونیت اور ریاست کے قیام کی مذہبی تعبیر سے اختلاف کی ایک طویل روایت موجود ہے۔ ربائی لانڈو کی موجودہ گفتگو میں بھی مذہبی صیہونیت سے ان کا اختلاف نمایاں ہے۔ انہوں نے اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دینے والے صیہونی نوجوانوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ فوج کے ربائی انہیں ’’تحریف شدہ توریت‘‘ سکھاتے ہیں۔

غیر جانبدار علمائے سیاست ایک عرصے سے اسرائیل کو یہودی کے بجائے انتہا پسند و نسل پرست صیہونی ریاست کہہ رہے ہیں۔ اور اب یہودی ربائی نےخود یہ کہہ دیا کہ صیہونیت نے یہودیوں کے لیے جسمانی تباہیاں پیدا کیں اور عربوں کی دشمنی میں اضافہ کیا ۔ یعنی صیہونیت کو یہودیت کا مترادف قرار دینا خود یہودی مذہبی حلقوں کے ایک بڑے حصے کے مؤقف کی عکاسی نہیں کرتا اور اور شاید یہی اس بحث کا سب سے اہم پہلو ہے۔

فلسطینی انتخابات کا التوا

فلسطین کے پارلیمانی انتخابات ملتوی کردئے گئے، قانون ساز اسمبلی کیلئے 28 نومبر کو ووٹ ڈالے جانے تھے۔ حکام نے غزہ کی غیر یقینی صورتِ حال، اسرائیلی فوج کی موجودگی، سلامتی کے مسائل اور انتخابی عمل کے لئے درکار انتظامات میں رکاوٹوں کو فیصلے کی وجوہ میں شمار کیا ہے۔فلسطین میں آخری انتخابات 2006 میں ہوئے جس میں حماس نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل لیکن اسرائیل اور امریکہ کی شدید مخالفت کی بناپر محمود عباس نے وزیراعظم اسماعیل ہانیہ کی حکومت صرف پندرہ ماہ بعد معزول کرکے اسمبلی تحلیل کردی تھی۔ تقریباً دو دہائیوں سے نئے پارلیمانی انتخابات نہ ہونے کے باعث فلسطینی عوام کی جمہوری نمائندگی اور سیاسی جواب دہی معطل ہے۔ انتخابات کے مسلسل التوا نے اس بحران کو مزید گہرا کردیا ہے۔

غزہ میں جنگ بندی کی برسی پر شہریوں کی ہلاکتیں، غربِ اردن میں بے دخلی اور حملے، قیدیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی، سفارتی رپورٹوں پر دباؤ اور بین الاقوامی عدالتوں کے اختیار پر تنازع ایک ہی بنیادی سوال کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کیا انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کا اصول سب کے لئے یکساں ہے؟ جنگ بندی کا مقصد محض بمباری میں کمی نہیں، بلکہ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی ضروریات کی فراہمی، ذمہ داروں کا احتساب اور ایک پائیدار سیاسی حل کی راہ ہموار کرنا بھی ہے۔ جب تک فلسطینیوں کو تحفظ، انصاف اور اپنی سیاسی تقدیر کے تعین کا حقیقی موقع نہیں ملتا، امن کے دعوے ادھورے رہیں گے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 16 اکتوبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 16 اکتوبر 2026

ہفت روزہ رہبر، سرینگر  18 اکتوبر 2026


No comments:

Post a Comment