Thursday, September 17, 2026

 

خلیج فارس سے باب المندب ۔۔۔ گولہ بارود بمقابلہ جغرافیہ

جنگ کا پھیلتا ہوا دائرہ

خلیج فارس کی جنگ اب بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب تک پھیلتی دکھائی دے رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے ایران نواز انصاراللہ المعروف حوثیوں نے سعودی حمایت یافتہ یمنی سرکاری فوج کو پیچھے دھکیلتے ہوئے المخا (Mokha) بندرگاہ پر قبضہ کیا اور اگلے ہی روز آبنائے باب المندب کے اہم جزیرے میون (Perim/Mayun) پر بھی اپنا کنٹرول قائم کرلیا۔ یہ پیش رفت محض یمن کی خانہ جنگی کا ایک اور واقعہ نہیں، بلکہ عالمی تجارت اور تیل کی رسد کے لئے اہم بحری راستوں کے بدلتے ہوئے جغرافیے کی علامت ہے۔

میون: باب المندب کا جغرافیائی مہرہ

تقریباً اٹھارہ میل چوڑی آبنائے باب المندب ایشیا، خلیج عرب، بحیرۂ احمر اور نہرِ سویز کے درمیان عالمی تجارت کا اہم دروازہ ہے۔ میون اسی آبنائے کے اندر واقع ہے اور اسے دو بحری راستوں میں تقسیم کرتا ہے۔ اس جزیرے پر قابض قوت کو وہاں سے گزرنے والی بحری آمدورفت کی نگرانی اور اسے خطرے میں ڈالنے کے لئے ایک اہم جغرافیائی پوزیشن حاصل ہوجاتی ہے۔

یوں ایک طرف آبنائے ہرمز اور دوسری طرف باب المندب میں ایران اور اس کے اتحادیوں کا دباؤ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ تاہم میون پر حوثیوں کے قبضے کو ایران کی مکمل بحری بالادستی قرار دینا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ خطے میں امریکی، سعودی اور دوسری بحری و فضائی قوتیں بھی موجود ہیں۔ حوثیوں کو سعودی عرب کی جانب سے شدید جوابی کارروائی کا بھی سامنا ہے۔ اس لیے ان کامیابیوں کو ایران کی فیصلہ کن فتح کے بجائے تہران کی تزویراتی سودے بازی کی قوت میں اضافے کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔

بارود بمقابلہ جغرافیہ

محلِ وقوع اور جغرافیے کے تناظر میں معاملہ اب Ammunition vs Location یعنی گولہ بارود بمقابلہ جغرافیہ تک پہنچ گیا ہے۔ امریکہ کے پاس غیر معمولی فوجی قوت، فضائی طاقت، میزائل، بحری بیڑے اور گولہ بارود ہے۔ ایران کے پاس امریکہ جیسی روایتی فوجی طاقت نہیں، لیکن اس کے پاس ایک ایسی چیز ہے جسے بموں سے تباہ نہیں کیا جاسکتا اور وہ ہے جغرافیہ۔امریکہ بم برسا سکتا ہے، میزائل داغ سکتا ہے اور فوجی تنصیبات تباہ کرسکتا ہے، لیکن چچا سام جغرافیہ کو مٹا نہیں سکتے۔ جنگی حکمتِ عملی، جنگجو زیادہ بہتر جانتے ہیں، مگر جغرافیہ کے ہم جسے  طالب علموں کے لئے بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا گولہ بارود جغرافیے کو شکست دے سکتا ہے؟

سعودی تیل بھی جنگ کی زد میں

باب المندب کے گرد طاقت کی کشمکش کے ساتھ سعودی تیل کی تنصیبات بھی اس جنگ کے حصار میں آتی دکھائی دے رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے سعودی عرب کی East-West Pipeline کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سعودی عرب نے اسے احتیاطاً عارضی طور پر بند کردیا۔ تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل یہ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی تیل میدانوں سے خام تیل بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع تک پہنچاتی ہے۔ اس کی موجودہ گنجائش تقریباً 70 لاکھ بیرل یومیہ ہے، جبکہ حالیہ مہینوں میں اس کے ذریعے تقریباً 40 سے 50 لاکھ بیرل یومیہ تیل منتقل کیا جارہا تھا۔

بحیرۂ احمر سے جنوب کی جانب جانے والے تیل بردار ٹینکر باب المندب سے گزر کر بحیرۂ عرب اور بحرِ ہند کے راستے ایشیائی منڈیوں تک پہنچتے ہیں، جبکہ شمال کی راہ اختیار کرنے والے ٹینکر نہرِ سویز عبور کرکے بحیرۂ روم کے راستے یورپی منڈیوں کی راہ لیتے ہیں۔یوں معاملہ صرف ہرمز اور باب المندب تک محدود نہیں رہا، بلکہ سعودی عرب کا وہ زمینی راستہ بھی زد میں آگیا جو آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر اہمیت رکھتا تھا۔

سعودی عرب پر حملہ اور مکہ معاہدہ

آٹھ ستمبر کو حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہروں ابہا، خمیس مشیط، نجران اور جازان پر ڈرونز اور میزائلوں سے بڑا حملہ کیا، جس میں کم از کم 73 افراد زخمی ہوئے۔ سعودی حکام کے مطابق توانائی کے بعض مراکز میں آگ لگی اور کچھ کارروائیاں عارضی طور پر روکنا پڑیں۔ اس کاروائی سے مکہ دفاعی معاہدے کا امتحان بھی شروع ہوگیا ہے۔اس بڑے حملے سے صرف ایک ماہ پہلے، 7 اگست کو سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کئے تھے، جس کی بنیادی شق کے مطابق تین میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ، تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔ کیا سعودی عرب پر حوثیوں کے یہ حملے مکہ معاہدے کی اجتماعی دفاعی شق کو حرکت میں لاسکتے ہیں؟ فی الحال اس کا جواب ’’نہیں‘‘ کہنا زیادہ محتاط ہوگا، کیونکہ معاہدہ اجتماعی دفاع کا اصول تو واضح کرتا ہے، لیکن یہ سوال الگ ہے کہ حملے کی صورت میں پاکستان اور ترکیہ کے لیے براہِ راست فوجی کارروائی لازم ہوگی یا وہ سیاسی، دفاعی، انٹیلی جنس یا دیگر معاونت کے ذریعے اپنا کردار ادا کرسکیں گے۔پاکستان کے لئے معاملہ خاصا حساس ہے۔ اسلام آباد ایک طرف سعودی عرب کی سلامتی کے لئے پر عزم ہے تو دوسری طرف ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار بھی ادا کررہا ہے۔ ترکیہ بھی براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کی پالیسی پر گامزن ہے۔ تاہم اگر سعودی سرزمین پر حملے مسلسل بڑھتے ہیں، انسانی اور معاشی نقصان وسیع ہوتا ہے یا سعودی فوجی تنصیبات براہِ راست نشانہ بنتی ہیں تو مکہ معاہدے کی اصل آزمائش شروع ہوجائے گی۔

امریکی نقصانات کے متضاد بیانات

خلیج فارس کی جنگ میں امریکی نقصانات کی خبریں بھی سامنے آرہی ہیں۔ دس ستمبر کو ایران نے اردن کے موفق السلطی (Muwaffaq Salti) اڈے پر حملے میں امریکی فوج کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا۔ امریکی ٹیلی ویژن CBS کے مطابق اس حملے میں تقریباً آٹھ F-15 طیاروں کو معمولی نقصان پہنچا جبکہ ایک A-10 Thunderbolt کا ایک بازو ضائع ہوگیا۔ صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حملہ غیر مؤثر رہا اور امریکہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

بحرین کا امریکی بحری اڈہ بھی محفوظ نہ رہا

دوسری طرف امریکی بحریہ کے قائم مقام سیکریٹری ہَنگ کاؤ (Hung Cao) نے ایک انٹرویو میں کہا کہ بحرین میں موجود امریکی بحری تنصیبات کو ایرانی حملوں سے ’’بری طرح نقصان پہنچا‘‘۔ ان کے مطابق صورتِ حال یہاں تک پہنچ گئی کہ طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن کے عملے کے لئے وہاں واپس آکر قیام یا جہاز کو لنگر انداز کرنے کی مناسب جگہ بھی باقی نہیں رہی۔ بحرین امریکہ کے لئے خلیج میں محض ایک فوجی اڈہ نہیں بلکہ اس کی بحری حکمتِ عملی کا اہم مرکز ہے۔ اس لئے اگر کسی فوجی کارروائی کے نتیجے میں وہاں امریکی بحری جہازوں کی آمدورفت اور قیام متاثر ہوجائے تو یہ معمولی نقصان نہیں۔

ایران کے ’’آنکھوں والے‘‘ میزائل

اسی دوران ایران کی جانب سے جدید electro-optical میزائلوں کے استعمال کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ ان میزائلوں میں ہدف کی شناخت اور نشاندہی کیلئے خصوصی کیمرے اور حساس شعاعِ نور آلات (Light sensors) استعمال کئے جاتے ہیں۔ امریکی مرکزی کمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی میزائیل انکے کسی اثاثے تک پہنچننے میں ناکام رہے لیکن الیکٹروآپٹیکل میزائیلوں کے استعمال سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا و اسرائیل کی شدید ترین بمباری، ایرانی فوج کی تحقیقی تنصیبات اور میزائیل فیکٹریوں کو تباہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔

زیرِ آب ڈرون: دعویٰ، پھر امریکی اعتراف

اسی سلسلے میں 8 ستمبر کو ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی زیرِ آب ڈرون (underwater drone) پکڑنے کا دعویٰ کیا۔ ابتدا میں امریکی حکام نے اس دعوے کو مسترد کیا، لیکن بعد میں امریکی مرکزی کمان نے تسلیم کیا کہ ایک Anduril Dive-LD زیرِ آب ڈرون سے رابطہ منقطع ہوا تھا۔ امریکی وضاحت کے مطابق یہ نسبتاً پرانا ماڈل تھا، جو ایک دن پہلے خراب ہوچکا تھا اور اس میں حساس یا درجہ بند سونار و ریڈار موجود نہیں تھا۔ ڈرون بنانے والی امریکی کمپنی Anduril نے بھی ایک Dive-LD کے ضائع ہونے کی تصدیق کی۔ تقریباً 19 فٹ طویل یہ خودکار زیرِ آب نظام سمندری تہہ کا نقشہ بنانے، بارودی سرنگوں کی تلاش اور زیرِ آب تنصیبات و کیبلز کی نگرانی جیسے کام انجام دے سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ اس میں موجود کوئی انتہائی حساس عسکری ٹیکنالوجی ایرانی ہاتھ نہ لگی ہو، لیکن امریکی اعتراف نے کم از کم یہ ضرور واضح کردیا کہ ایران کی دفاعی صلاحیت کے مکمل طور پر ختم ہوجانے کا دعویٰ حقیقت سے کہیں زیادہ بڑا تھا۔

ایران اور افغانستان: پابندیوں کا معاشی جواب

عسکری محاذ کے ساتھ ایران معاشی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے پڑوسی ملکوں کے ساتھ تجارت بڑھانے کی کوشش بھی کررہا ہے۔ کابل میں ایرانی سفارت خانے کے قائم مقام سربراہ علیرضا بیکدلی نے طلوع نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور افغانستان باہمی تجارت کا حجم موجودہ تقریباً 4 ارب ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر سالانہ کرنے کا ہدف رکھتے ہیں۔ بیکدلی کے مطابق دوغارون، ماہیرود، ابونصر فراہی، میلک اور ابریشم سرحدی گزرگاہوں کی گنجائش بڑھانے، سڑکوں اور ریل کے نظام کو بہتر بنانے اور تجارتی رکاوٹیں دور کرنے پر کام ہورہا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارت اس بات کی علامت ہے کہ ایران جنگ اور پابندیوں کے ماحول میں اپنے گرد ایک ایسا معاشی حلقہ بنانے کی کوشش کررہا ہے جو اس کی بیرونی تجارت کے لیے متبادل راستے فراہم کرسکے۔

خلیج فارس سے باب المندب تک پھیلتی ہوئی جنگ ایک نئی حقیقت سامنے لارہی ہے، یعنی جدید جنگ صرف میزائل، بم اور طیاروں کی جنگ نہیں ہوتی۔ بندرگاہیں، جزیرے، آبنائے، پائپ لائنیں، تجارتی راستے اور سرحدی گزرگاہیں بھی جنگ کے اہم ہتھیار بن سکتے ہیں۔امریکہ کے پاس گولہ بارود کی غیر معمولی طاقت ہے، مگر ایران اور اس کے اتحادیوں کے پاس خطے کا پیچیدہ جغرافیہ ہے۔ دیکھنا ہے کہ عسکری قوتِ قاہرہ،  جغرافئے کو شکست دے پائیگی یا جغرافیہ گولہ بارود کی طاقت کو مفلوج کرسکے گا؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 18 ستمبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 18 ستمبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 20 ستمبر 2026


 

فلسطین سے ٹیکساس : دستاویزی فلم، نصاب اور تعصب کی نئی لکیریں

اسرائیل اور فلسطین کا تنازعہ اب صرف غزہ اور غربِ اردن تک محدود نہیں رہا۔ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف عالمی سطح پر سیاسی، سفارتی اور عوامی ردعمل بڑھتا جارہا ہے۔ برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے غربِ اردن کی اسرائیلی آبادیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندیوں کا اعلان کیا ہے، جبکہ مزید ممالک بھی ایسی پابندیوں کی حمایت کررہے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل نے برطانیہ کے مشرقی یروشلم میں قونصل خانے کو بند کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

آبادکاری کے خلاف برطانوی اقدام

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ (Ed Miliband) نے دارالعوام (پارلیمان) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ غربِ اردن پر اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی سمجھتا ہے۔ انھوں نے فلسطینی علاقوں سے مقامی افرادکی جبری بے دخلی اور قبضہ گردوں کے تشدد کو نسلی تطہیر قراردیا۔ برطانیہ نے ان آبادیوں سے آنے والی اشیا پر پابندی کے ساتھ ان کی توسیع میں مدد دینے والی بعض کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فرانس اور کینیڈا نے بھی اسی نوعیت کے اقدامات کئے، جبکہ مزید نو ممالک نے مشترکہ طور پر ایسی پابندیوں کی حمایت یا ان پر 'غور' کا اعلان کیا ہے۔

یہود دشمنی (Antisemitism)کے بیانئے کا سیاسی استعمال

ملی بینڈ کے بیانات پر اسرائیل اور اس کے بعض حامیوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور انہیں یہود دشمنی  سے جوڑا گیا، حالانکہ ملی بینڈ خود ایک یہودی ہیں۔ ان کے خاندان نے نازی دور میں یہودیوں پر ہونے والے مظالم کا سامنا کیا تھا۔ کیا اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں، قبضے یا آبادکاری کی مخالفت کو یہود دشمنی قرار دینا درست ہے؟

غربِ اردن میں گرفتاریوں اور آبادکاروں کا تشدد

الجزیرہ کے مطابق گزشتہ ہفتے غربِ اردن کے مختلف علاقوں سے بچوں سمیت تقریباً 100 فلسطینی گرفتار کئے گئے۔ طولکرم میں یتیم و بے سہارا بچوں کی دیکھ بھال میں معروف سماجی کارکن محترمہ روی ابراہیم کو ان کے گھر سے حراست میں لےلیا گیا۔ روی پر بچوں کو دہشت گردی کی تعلیم دینے کا الزام عائد کیا گیاہے۔ رام اللہ کے قصبے بیت إلّو میں آبادکاروں کے حملے میں ایک 23 سالہ نوجوان شدید زخمی ہوا، جبکہ قصریٰ میں آبادکاروں کی ناکہ بندی کے دوران امدادی سامان لے جانے والے ٹرک پر حملہ کرکے سامان لوٹنے کی بھی اطلاعات سامنے آئیں۔

غزہ میں بمباری، آئرلینڈ میں ٹرمپ سے سوال

غزہ میں اسرائیلی بمباری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ  جاری رہا۔ خان یونس میں ایک رہائشی عمارت پر حملے میں 9 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ غزہ شہر کی ایک خیمہ بستی پر بمباری سے متعدد افراد زندہ جل گئے۔ غزہ کی صورتحال پر صدر ٹرمپ سے ان کے دورۂ آئرلینڈ میں بھی سوال کیا گیا۔ ایک صحافی نے پوچھا کہ ان آئرش شہریوں کو وہ کیا جواب دیں گے جو سمجھتے ہیں کہ امریکہ، غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور غربِ اردن میں اسرائیلی دہشت گردوں کو سہولت فراہم کررہا ہے؟ صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ امریکہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان امن معاہدے کی کوشش کررہا ہے۔ ان کے دورے کے موقع پر آئرلینڈ کے بڑے شہروں میں غزہ، غربِ اردن اور ایران جنگ کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے۔

غزہ کی جنگ پر عالمی احتجاج

نیویارک میں نائن الیون کی یادگاری تقریب کے دوران ایک نوجوان فلسطینی پرچم لے کر میدان میں داخل ہوا جسے پولیس نے گرفتار کرلیا۔ یورپی ملک سلووینیا میں اسرائیلی سفارتخانے کے افتتاح کے موقع پر بھی احتجاج ہوا۔ یہ واقعات اس بات کی علامت ہیں کہ فلسطین کا مسئلہ اب صرف مشرقِ وسطیٰ کی سفارت کاری تک محدود نہیں بلکہ عالمی رائے عامہ کا مستقل موضوع بنتا جارہا ہے۔

غربِ اردن سے  جنوب ایشیا تک قبضہ گردی کی لہر

اسی دوران تھائی لینڈ میں اسرائیلی سیاحوں کے مبینہ نامناسب رویے اور تھائی لینڈ میں تل ابیب کی بڑھتی ہوئی کاروباری و جائیدادی سرگرمیوں کے خلاف مقامی سطح پر احتجاج شدت اختیار کرگیا ہے۔ سیاحتی مقام پھیوکیت (Phuket) میں مقامی گروہوں نے اسرائیلی سیاحوں پر مقامی قوانین کی خلاف ورزی، دکانداروں اور ٹیکسی ڈرائیوروں سے نامناسب رویے اور بعض مواقع پر خدمات کی ادائیگی سے متعلق شکایات عائد کی ہیں۔ دس ستمبر کو بنکاک میں اسرائیلی سفارتخانے کے باہر سینکڑوں افراد نے احتجاج کیا اور اسرائیلی تاجروں کی جانب سے مقامی زمینوں پر قبضے کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین نے ’’تھائی لینڈ برائے فروخت نہیں‘‘ اور ’’یہ تمہاری سرزمینِ موعود نہیں‘‘ کے نعرے لگائے۔

اسرائیلیوں کی اپنی دستاویزی فلم

اسرائیلی فلم ساز یووال ابراہام اور ریشل زور کی دستاویزی فلم NAZA نے وینس (اٹلی) فلم میلے میں خصوصی جیوری انعام حاصل کیا ہے۔ فلم میں 24 اسرائیلی فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کی گمنام گواہیاں شامل ہیں، جنہوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ غزہ میں مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے رہائشی علاقوں میں فون پر ہونے والی گفتگواور بچوں کی آواز کی تصدیق کے بعدایسے گھروں کو نشانہ بنایا گیا جہاں خواتین اور بچے موجودتھے۔

فلم کا نام NAZAدراصل اسرائیلی عسکری و انٹیلی جنس نظام میں استعمال ہونے والی ایک اصطلاح ہے، جو کسی فضائی حملے میں متوقع شہری ہلاکتوں یا ’’ضمنی نقصان‘‘ کی تعداد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ فلم نے اسی اصطلاح کو اپنا عنوان بنا کر یہ سوال اٹھایا ہے کہ جنگی منصوبہ بندی میں جب انسانی جانیں بھی محض اعداد و شمار یا ایک عسکری کوڈ بن جائیں تو اس کے اخلاقی اور انسانی مضمرات کیا ہوتے ہیں

جب 10 ستمبر کو اسکی افتتاحی نمائش کے بعد فلم ساز اسٹیج پر آئے تو سارا مجمع کھڑا ہوکو 25 منٹ تک تالیاں بجاتا رہا۔ یہ وینس فلم میلے میں کسی بھی فلم کی طویل ترین پذیرائی تھی۔ اس موقع پر یووال ابراہام نے کہا کہ NAZA  محض ایک فلم نہیں بلکہ ایک ایسی دستاویزی کاوش ہے کہ جس میں غزہ کی جنگ کو اسرائیلی فوجی اہلکاروں کی زبان سے بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس فلم سے ابھرتی AIٹیکنالوجی کے بارے میں دنیا تشویش کا شکار ہوگئی ہے۔لگتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی نے انسان کو محض ایک data point یا ہدف میں تبدیل کردیا ہے۔ اس حوالے سے تازہ پیش رفت یہ ہے کہ اسرائیلی وزیرِ ثقافت مکی ظہر نے دونوں فلم سازوں کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کا اعلان کیاہے جبکہ وزیراعظم نیتن یاہو نے NAZA کو "بدترین اشتعال انگیزی" قرار دیا۔ یہ ردعمل خود اس بات کی علامت ہے کہ فلم نے اسرائیل کے اندر بھی ایک غیر معمولی سیاسی تنازع کھڑا کردیا ہے اور اس جابرانہ طرز عمل سے مشرق وسطیٰ کی 'اکلوتی جمہوریت'  بے نقاب ہوگئی ہے۔

ایک جوتا اور ایک نیا اسرائیلی تنازع

اسرائیل نے اہلِ غزہ کو برباد کردیا، لیکن حکمرانوں کی وحشت کی بھاری قیمت اس کے سپاہی اب تک ادا کررہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پانچ ہزار سے زیادہ اسرائیلی فوجی ایک یا دونوں پیروں سے محروم ہوگئے ہیں۔ جوتے بنانے والے ادارے Adidas نے ایک پیر والے افراد کے لئے خصوصی جوتے تیار کئے ہیں، جس کے اشتہار میں اسرائیل کے ایک معذور فوجی کو اس جوتے کے ساتھ دوڑتے دکھایا گیا ہے۔ اسرائیلی انتہا پسند اس پر سخت ناراض ہیں اور فوجیوں کی جانب سے Adidas کے بائیکاٹ کی مہم شروع کی گئی ہے۔

ٹیکساس کا نیا نصاب: تاریخ یا تعصب؟

ادھر ریاست ٹیکساس (Texas) کے تعلیمی بورڈ نے ہائی اسکول کے سماجی علوم کے نئے نصاب کی منظوری دی ہے، جس میں 11 ستمبر 2001 کے حملوں کو ’’Radical Islam‘‘ سے جوڑ کر پڑھانے اور ابتدائی اسلامی تاریخ کے بعض پہلوؤں کو جنگ، غلامی اور خواتین قیدیوں کے تناظر میں بیان کرنے کی ہدایات شامل ہیں۔ یہ تبدیلیاں 2030-31 کے تعلیمی سال سے نافذ ہونا شروع ہوں گی۔ اگر تاریخ پڑھاتے ہوئے کسی ایک مذہب کو مسلسل منفی مثالوں کے ذریعے پیش کیا جائے گا تو تاریخی شعور پیدا کرنے کے بجائے بین المذاہب بداعتمادی اور معاشرتی کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ اعتراض صرف مسلم تنظیموں یا ناقدین کی طرف سے نہیں آیا۔ بورڈ کے مقرر کردہ کم از کم تین ماہرین نے بھی نصاب میں اسلام سے متعلق بعض بیانیوں پر تحفظات ظاہر کیے۔ ممتاز ماہر تعلیم محترمہ آندریا ہچنسن (Andrea Hutchinson) نے کہا کہ متعلقہ مواد ’’قریب سے تاریخی جانچ پڑتال‘‘ پر پورا نہیں اترتا، جبکہ جامعہ ٹیکساس، آسٹن  میں فلسفے کے پروفیسر رابرٹ کونز نے بھی بعض دعوؤں کے ماخذ کی علمی حیثیت پر سوال اٹھایا۔ پروفیسر صاحب کا کہنا تھا کہ تاریخ کا بنیادی اصول یہی ہے کہ طالب علم کو واقعات، شواہد اور مختلف نقطۂ نظر سے آگاہ کیا جائے، اُسے پہلے سے کسی نتیجے کا پابند بنانا علمی بددیانتی ہے۔ اگر اسلام کی تاریخ میں جنگیں، غلامی یا دوسرے متنازع پہلو پڑھانا ضروری ہے تو ان کا پورا تاریخی پس منظر بھی بیان ہونا چاہیے۔ غلامی کو صرف اسلامی دنیا سے منسوب کرنا تاریخی تصویر کو ادھورا کردے گا، کیونکہ غلامی اسلام سے بہت پہلے بھی مختلف معاشروں میں موجود تھی۔ اور تو اور خود امریکہ میں 1865 تک غلامی کو آئینی تحفظ حاصل تھا۔

اسرائیل اور فلسطین کے تنازع سے لے کر ٹیکساس کے کلاس روم تک الفاظ اور بیانئے اسلام مخالف مہم کا حصہ بن چکے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کو یہود دشمنی اور دہشت گردی کو اسلام سے جوڑ دیا گیا ہے۔ اب اسکولوں میں تاریخ، تحقیق، شواہد اور غیر جانب داری کے بجائے مسلمانوں سے خوف اور شک کے ساتھ پڑھائی جائے گی۔جسکی بناپر کمرہِ  تدریس علم کا مرکز بننے کے بجائے معاشرتی تقسیم کا میدان بن سکتا ہے۔ تاریخ کا کام کسی مذہب کو کٹہرے میں کھڑا کرنا نہیں، بلکہ انسان کو ماضی سے سچ سیکھنے کے قابل بنانا ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 18 ستمبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 18 ستمبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 20 ستمبر 2026


Thursday, September 10, 2026

 

غزہ سے ’’ہجرت‘‘ یا جبری بے دخلی؟

مقبوضہ فلسطین میں قبضہ گردوں کا تشدد  اور اسرائیل کی بدلتی سیاست

لبنان، غربِ اردن اور غزہ اس ہفتے بھی بمباری، میزائل حملوں، فائرنگ، قبضہ گردی اور فوجی کاروائیوں کی لپیٹ میں رہے۔ جنوبی لبنان کے قصبے مفدون پر حملے میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔ اتوار 6 ستمبر کو کفر ریمن پر شدید بمباری کی گئی جس میں بچوں سمیت 11 افراد مارے گئے۔جسکے بعد اسرائیلی ڈرون نے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے والی ایمبیولینس کو نشانہ بنایا اور طبی عملے کے دوافراد اپنی جان سے گئے۔ اسی روز نبطیہ کا جدید غندور ہسپتال اسرائیلی بمباری سے تباہ ہوگیا۔

 فلسطینی علاقوں میں گھروں، کھیتوں، مویشیوں اور زیتون کی فصلوں پر حملے معمول بنتے جارہے ہیں۔ یہ واقعات کسی ایک دن یا ایک محاذ کی کہانی نہیں، بلکہ ایک پوری قوم کے خلاف جاری مسلسل تشدد کا نقشہ ہے، جسے دنیا دیکھ تو رہی ہے مگر روک نہیں پا رہی۔

غزہ کی ’’رضاکارانہ ہجرت‘‘ — ایک نیا بیانیہ

غزہ سے فلسطینیوں کا انخلا اب اسرائیل کا قومی بیانیہ بنتا جارہا ہے۔ قومی سلامتی کے وزیر اتامر بن گوئر نے غزہ کی تقریباً پوری آبادی کو 'رضاکارانہ ہجرت ' کے ذریعے سات برس کے اندر بیرونِ ملک منتقل کرنے کا منصوبہ پیش کردیا۔ منصوبے میں سفر، رہائش، پیشہ ورانہ تربیت اور 24 ماہ تک مالی معاونت شامل ہے۔ فلسطینیوں کو آباد کرنے والے ممالک کو بھی فی فرد ادائیگی کی تجویز ہے۔ اس منصوبے کے لئے ابتدائی طور پر 3 ارب ڈالر اور بعد میں 15.2 ارب ڈالر تک ’’مطابقتی اعانت‘‘ (Matching Fund)کی پیشکش کی گئی ہے۔

جبری بے دخلی کو ہجرت نہیں کہا جاسکتا

وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز بھی کہہ چکے ہیں کہ غزہ کا ’’حقیقی حل‘‘ فلسطینیوں کی ہجرت کے بغیر ممکن نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جس سرزمین پر بمباری، محاصرہ، تباہی اور مسلسل بے گھری کے ذریعے زندگی ناقابلِ برداشت بنا دی جائے، وہاں سے جانے کو ’’رضاکارانہ‘‘ کیسے کہا جاسکتا ہے؟ کسی قوم کو اس کی سرزمین سے اجتماعی طور پر بے دخل کرنا بین الاقوامی قانون کے تحت سنگین جرم ہے۔ اگر یہ عمل نسلی شناخت کی بنیاد پر ہو تو اسے ’’نسلی تطہیر‘‘ کے سوا کوئی اورنام نہیں دیا جاسکتا۔ اہم سوال یہ نہیں کہ فلسطینی کہاں جائیں گے، بلکہ یہ ہے کہ کیا دنیا کسی قوم کو اس کی اپنی سرزمین سے نکالنے کے منصوبے کو محض ’’ہجرت‘‘ کے خوبصورت نام پر قبول کرلے گی؟ غزہ خالی کرانا ’’ہجرت‘‘ نہیں، فلسطینیوں کے حقِ وطن کا خاتمہ ہوگا۔

غربِ اردن — عبادت گاہیں، گھر اور کھیت سب نشانہ

اس ہفتے نابلوس قبضہ گروں کا خاص ہدف رہا۔ مداما میں تاریخی جامع مسجد نورالدین زنگی کو آگ لگا دی گئی۔ آگ بجھانے کی کوشش کرنے والے فلسطینیوں کو پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ مسجد میں محصور نمازی آنسو گیس کے شیلوں سے زخمی ہوئے۔ بزاریا کی مسجد بھی نذرِ آتش کردی گئی اور جاتے جاتے دیواروں پر عبرانی میں ’’انتقام‘‘ لکھ دیا گیا۔معلوم نہتے فلسطینیوں پر حملہ کرکے مسلح آبادکار کس سے اور کس بات کا انتقام لے رہے ہیں؟

پتھروں سے ڈرون کا مقابلہ

غرب اردن کے بچے غلیلوں سے اسرائیلی بندوقوں کا مقابلہ کئی دہائی سےکررہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے قلقیلیہ کے گاوں ججاج شرقی میں 'لڑکوں' نے پتھراو کرکے قبضہ گردوں کا ایک ڈرون گرالیا۔ یہ ایک ویڈیو بنانے والا ڈرون تھا۔کچھ دیر بعد مسلح قبضہ گرد گاوں پہنچے اور ڈرون کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ ان دہشت گردوں کی مدد کیلئے اسرائیلی فوج آگئی۔ سپاہیوں کی فائرنگ سے 20 سالہ عمر محمد طوباسی جاں بحق اور کئی بچے زخمی ہوگئے

 

دیہات اور کھیت — زندگی کی کمائی خاکستر

جنوبی نابلوس کے گاؤں اوصرین میں کئی مکانات جلا دئے گئے۔ عسکر میں فوجی کارروائی کے دوران متعدد نوجوان گرفتار ہوئے۔ قصٰری میں ایک فلسطینی خاندان کے گھر پر قبضہ کرکے آبادکاروں نے بالکونی میں خود گرفتہ تصویر (selfie)بنائی اور اسے فخریہ انداز میں سوشل میڈیا پر نشر کیا۔ایک اور گاؤں میں کاشتکاروں کو گھروں سے نکال کر عارضی حراست کدےمیں بند کیا گیا، جس کے بعد ان کی زیتون کی کھڑی فصلوں پر بلڈوزر پھیر دئے گئے اور جالیوں کے پیچھے کھڑے یہ کسان اپنی زندگی بھر کی کمائی کو مٹی ہوتا دیکھتے رہے۔

رام اللہ — سڑکوں پر حملے، ایک  نوجوان کو چلتی  گاڑی سے باہر پھینک دیا گیا

رام اللہ کے علاقوں المغیر اور ابوالفلاح میں کاروں پر حملوں میں تین سگے بھائیوں سمیت متعدد فلسطینی زخمی ہوئے۔ اسی علاقے میں ایک گرفتار نوجوان کو چلتی فوجی گاڑی سے باہر پھینک دیا گیا۔ اس درندگی کا بصری تراشہ ٹائمز آف اسرائیل نے جاری کیا۔

امریکی تشویش — مگر عملی اقدام؟

اسرائیل میں امریکی سفیر مائک ہکابی نے رام اللہ میں قبضہ گروں کے ہاتھوں تباہ شدہ گھروں اور باغات کا جائزہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہونی چاہیے‘‘۔یادش بغیر تحریک پاکستان کے دوران مسلم کش فسادات کے بعد گاندھی جی بھی متاثرہ علاقے کا دورہ کرتے ہوئے مسلمانوں سے تعزیت کے ساتھ اسی طرح تشویش کا اظہار فرماتے تھے۔

اسرائیل میں داخلی بحران — فوجی بھرتی سے استثنیٰ کا مطالبہ

فلسطینیوں کے خلاف امتیازی روئے کے ساتھ اسرائیل میں ایک اور تنازع شدت اختیار کر رہا ہے اور وہ ہے حفظِ توریت مدارس (یشیوا) کے طلبہ کو لازمی فوجی بھرتی سے استثنیٰ۔ تل ابیب میں فوجی بھرتی مرکز کے باہر حریدی طلبہ اور ربائیوں نے مظاہرہ کیا۔ ان کے پلے کارڈ پر لکھا تھا: ’’فوج میں بھرتی سے بہتر تھا ہم ہولوکاسٹ میں یہودی کی حیثیت سے مر جاتے۔‘‘اسی ہفتے حریدی علما کا ایک وفد واشنگٹن میں صدر ٹرمپ سے ملا اور اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی درخواست کی تاکہ استثنیٰ برقرار رکھا جائے۔

امریکی سیاست — اسرائیل کے بائیکاٹ پر پابندی کا بل

امریکی ایوانِ نمائندگان نے 3 ستمبر کو ایک بل منظور کیا ہے جس کے تحت اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے والی جامعات کی وفاقی اعانت بند کی جاسکے گی۔ قرارداد 169 کے مقابلے میں 237 ووٹوں سے منظور ہوئی، جن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے 33 ارکان بھی شامل تھے۔ یہ بل تعلیمی آزادی اور امریکی آئین کی پہلی ترمیم سے متصادم ہے۔ اس قانون کے بعدجامعات کےبجائے،  واشنگٹن یہ فیصلہ کرے گا کہ وقف رقوم  کی سرمایہ کاری کس ملک میں کی جائے۔  بل اب سینیٹ میں پیش ہوگا، جہاں سے اس کی منظوری یقینی دکھائی دیتی ہے۔

رعم پارٹی کا فیصلہ: سیاسی پل کی تعمیر

انتہاپسندانہ ماحول کے باوجود اخوانی فکر سے وابستہ اسرائیل کی رعم (Ra’am) پارٹی نے یہودی سیاسی رہنما اور سابق رکنِ پارلیمان یوآو سیگالووِٹز کو آئندہ انتخابات کے لیے ٹکٹ جاری کیا ہے۔ اسرائیل میں کنیسہ (پارلیمان) کے انتخابات متناسب نمائندگی (Proportional Representation) کے نظام کے تحت ہوتے ہیں۔ ووٹر کسی امیدوار کو براہِ راست منتخب کرنے کے بجائے جماعت کو ووٹ دیتے ہیں۔ یاوو سیگوکووٹز کانام رعم کی فہرست میں منصور عباس کے بعد دوسرے نمبر پر ہوگا۔ کسی جماعت کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہونا محض علامتی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ پارلیمان تک پہنچنے کا مضبوط راستہ ہے۔منصورعباس کافی عرصے سے ایسی سیاست کی بات کررہے ہیں جس میں عرب اور یہودی شہریوں کے مشترکہ مسائل، مساوی شہری حقوق اور سیاسی شراکت کو مذہبی و قومی تقسیم پر ترجیح دی جائے۔ سیگالووِٹز نے بھی عرب و یہودی شہریوں کے درمیان سیاسی پل تعمیر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ شاید یہی وہ راستہ ہے جس سے بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت اور انتہاپسندی کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ ایک طرف اسرائیل میں مذہبی، قومی و سیاسی تقسیم گہری ہوتی جارہی ہے، آبادکاروں کا تشدد بڑھ رہا ہے اور غزہ کے فلسطینیوں کو باہر منتقل کرنے کی تجاویز سامنے آرہی ہیں، دوسری طرف اسی اسرائیل میں ایک عرب جماعت، یہودی سیاست دانوں کو اپنی صفِ اول میں شامل کررہی ہے۔

فلسطین میں جاری تشدد، غزہ سے آبادی کے انخلا کی تجاویز، مسجدوں پر حملے، گھروں اور کھیتوں کی تباہی اور امریکی جامعات پر اسرائیل کے بائیکاٹ کے حوالے سے قانون سازی—یہ سب ایک ایسی سیاسی فضا کی عکاسی کرتے ہیں جس میں اختلاف بتدریج دشمنی اور دشمنی تشدد میں تبدیل ہورہی ہے۔ لیکن اسی ماحول میں منصور عباس اور یوآو سیگالووِٹز کا سیاسی اشتراک ایک مختلف امکان کا راستہ ہموار کررہا ہے۔ مذہبی شناخت کو سیاسی دیوار بنانے کے بجائے عدل، مساوات، شہری حقوق، امن اور انسانی وقار کے لئے مشترکہ میدان تلاش کرنا  سب سے مشکل کام لیکن اس خطے کی اہم ترین سیاسی ضرورت  ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 11 ستمبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 11 ستمبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 13 ستمبر 2026


 

جنگ یا ’Small Potatoes‘؟

بڑھتے ہوئے نقصانات  اور جنگ کے مقاصد کا سوال

امریکی فوج کے اعلیٰ کمانڈروں جانب سے اہم ترین عسکری دستاویز Secretary of Defense Orders Book (SDOB)میں ایران کے خلاف طویل عرصے تک جنگ جاری رکھنے کے مضمرات پر انتباہ کے باوجود صدر ٹرمپ خلیج فارس میں عسکری کاروائی کاروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔بری، بحری اور فضائی افواج کے سربراہوں کے علاوہ متعدد چار ستارہ جرنیلوں نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے کی فوجی کارروائیوں کو طول دینا امریکی عسکری صلاحیت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

شہری ہلاکتیں

امریکی حملوں میں شہری نقصان کی خبریں بھی ہیں۔ دو ستمبر کو کوہستک بندرگاہ کے قریب  شادی کی ایک تقریب پر امریکی طیاروں نے بم برسائے جس میں ایک بچے سمیت چار افراد جاں بحق اور 50 زخمی ہوگئے۔ جنگ کے آغاز پر 28 فروری کو اسی صوبے ہرمزگان میں کم سن لڑکیوں کا ایک اسکول امریکہ اور اسرائیلی بمباروں کا نشانہ بنا جس میں سینکڑوں بچیاں زندہ دفن ہوگئیں تھیں۔ایران نے جواباً کوئت میں علی السالم اڈے پر امریکی کمانڈ پوسٹ اور ڈرون اڈہ تباہ کرنے کا دعویٰ کیاہے اوراس حملے میں بھی شہری نقصانات کی اطلاعات ہیں۔

آبنائے ہرمز: کھلی ہے یا عملاً رکی ہوئی؟

آبنائے ہرمز کے معاملے میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ یہ اہم بحری راستہ کھلا ہوا ہے اور روزانہ لاکھوں بیرل تیل بلا روک ٹوک اس سے گزر رہا ہے۔ تاہم بحری ٹریفک پر نظر رکھنے والے حلقے اس دعوے سے پوری طرح اتفاق نہیں کرتے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ بھی آبنائے ہرمز کے ذریعے آمدورفت میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں اور غیر یقینی صورت حال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

رائٹرز اور ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق 28 اگست سے 6ستمبر تک آبنائے ہرمز سے اوسطاً 10 تجارتی جہاز یومیہ گزرے ہیں۔ یہ مئی کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔ ایک دن صرف دو اور دوسرے دن چھ جہازوں نے آبنائے عبور کی۔ جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 130 سے 150 تجارتی جہاز گزرتے تھے۔ اگر معمول کے 130 سے 150 جہازوں کے مقابلے میں صرف 10 جہاز روزانہ گزر رہے ہوں تو اسے ’’مکمل طور پر کھلا ہوا‘‘ کہنا کس حد تک درست ہے؟ امریکی صدر اپنے کھلے منہہ سے جو چاہے کہتے پھریں، ہرمز عملاً بند ہے۔ دلچسپ بات کہ گزشتہ ہفتے صدرٹرمپ نے اپنے نجی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر آبنائے ہرمز کا نام بدل کر آبنائے ٹرمپ  رکھنے کی تجویز بھی پیش کردی۔ جنگی بحران کے دوران نام بدلنے کی یہ تجویز شاید سیاسی طنز کے لئے دلچسپ ہو، لیکن عالمی تجارت اور توانائی کی سلامتی کے لئے یہ آبنائے محض ایک نام نہیں بلکہ دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔

بہتوں کی جان گئی، آپ کی اداٹہری

امریکی صدر  اس تصادم کو جنگ کہنے کے لئے تیار نہیں۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے ایران کے ساتھ جاری چھ ماہ سے زائد عرصے کے فوجی تصادم کو “small potatoes for us” یعنی ’’ہمارے لیے معمولی سی بات‘‘ قرار دیا۔ اسی روز نائب صدر  جے ڈی وانس نے بھی کہا کہ اسے جنگ نہیں کہا جائے گا کیونکہ فائرنگ نہیں ہورہی۔ امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک دو ستمبر کو یہاں تک کہ گئے کہ یہ جنگ ہے ہی نہیں اور اس میں کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا ہم تو بس ایرانی معیشت کا گلا گھونٹ رے ہیں۔ جنگ کے آغاز پر صدر ٹرمپ نے اسے  Excursionکہا جسکا اردو ترجمہ تو محدود کاروائی ہے لیکن یہ لفظ تفریح کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ یوں چھ ماہ سے جاری ایک بڑے فوجی تصادم کے لئے کبھی ’’Excursion‘‘ اور کبھی “Small Potatoes” جیسے الفاظ کا انتخاب سفاکیت اور بے حسی کا اظہار ہے۔ تاہم الفاظ خواہ کچھ بھی ہوں، میدان جنگ کے اعداد و شمار اپنی الگ زبان بولتے ہیں۔ اس تصادم میں اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک اور 790 زخمی ہوچکے ہیں۔ ایران میں ہلاک اور زخمی ہونے والے شہریوں کی تعداد بھی ہزاروں میں بتائی جارہی ہے۔

امریکی صدر کے  بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سیننٹر چک شومر نے کہا کہ جس جنگ میں ہمارے 18 کڑیل جوان مارے گئے ہوں اسے small potatoes کہنا فوج کے کمانڈر انچیف کو زیب نہیں دیتا۔ ریاست ایریزونا کے سینیٹر اور امریکی بحریہ کے سابق افسر مارک کیلی نے کہا کہ سڑک پر چلتا ایک عام آدمی (Randos)بھی اس جنگ کو ٹرمپ انتظامیہ کے مقابلے بہتر طریقے سے لڑسکتا ہے۔ ٹرمپ صاحب کے ہر small potatoes کے پیچھے ایک انسان، ایک خاندان اور ایک المیہ ہے، ماوں کیلئےایسا سانحہ جو وہ کبھی نہیں نہیں سکیں گی

امریکی زخمیوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے

صدر ٹرمپ اس تصادم کو کوئی بھی عنوان دیں، امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ پانچ ستمبر کو ABC ٹیلی ویژن کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جاری تصادم میں زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 790 ہوگئی۔ اس سے ایک روز قبل یہی تعداد 767 بتائی گئی تھی، جبکہ 28 اگست کو 758 اور 21 اگست کو 756 تھی۔واشنگٹن اب بھی اس تصادم کو ’’جنگ‘‘ کہنے سے گریزاں ہے۔کہیں ایسا تو نہیں کہ تھکی ہوئی امریکی سپاہ بھی اس ’غیر جنگ‘ کے خاتمے کی منتظر ہے؟

ایران کی اسلامی حکومت کا خاتمہ: اصل ہدف؟

ادھر عبرانی سالِ نو، روش ہشنا پر فوجی جرنیلوں سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کا بنیادی مشن ایران سے اسلامی حکومت کا خاتمہ ہے اور اب یہ ہدف بہت زیادہ دور نہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت کمزور ہوکر لڑکھڑا رہی ہے جسکا خاتمہ اب ‘بالکل قریب’ ہے۔ یہ کوئی معمولی سیاسی جملہ نہیں بلکہ سالِ نو کے فوجی جشن میں جرنیلوں سے  خطاب اسرائیل کی عسکری حکمتِ عملی کا اعلان ہے۔ اب یہ بات بالکل واضح ہو گئی ہے کہ اسرائیل کا اصل ہدف ایران کا جوہری پروگرام نہیں بلکہ اسلامی حکومت کا خاتمہ ہے۔

کیا امریکہ اور اسرائیل اس معاملے میں ایک صفحے پر ہیں؟

 اسرائیل کی طرح امریکہ کھلے لفظوں میں تبدیلی اقتدار یا رجیم چینج کی بات نہیں کرتا، مگر ایران کو کمزور کرنے، اس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے اور اس کی علاقائی طاقت کو گھٹانے میں دونوں ممالک کی تزویراتی ہم آہنگی نمایاں ہے۔ فرق صرف طریقہ کار کا ہے۔ امریکہ کی ترجیح سفارتی دباؤ اور اقتصادی پابندیاں ہیں جبکہ اسرائیل براہِ راست فوجی کارروائی کو اپنی حکمت عملی کا نمایاں حصہ بنائے ہوئے ہے۔

خونریز جنگ کو Excursion  کہیں یا Small Potatoes، الفاظ بدلنے سے اس کی حقیقت نہیں بدلتی۔ اٹھارہ امریکی فوجیوں کی قبریں، 790 زخمی فوجیوں کے خاندان، ایرانی شہریوں کی ہلاکتیں اور اسکولوں و گھروں میں جان سے جانے والے بے گناہ انسان کسی لغت کے محتاج نہیں۔ صدر ٹرمپ کے لئے شاید یہ تنازعہ ایک بڑے عالمی کھیل کا محض ایک مرحلہ ہو، فوجی حکمت عملی کا ایک باب ہو یا معاشی دباؤ کا ذریعہ، لیکن جس گھر میں تابوت پہنچتا ہے وہاں Small Potatoes نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ جس جنگ میں مائیں اپنے بیٹے، بچے اپنے باپ اور خاندان اپنے پیارے کھو رہے ہوں، اسے معمولی کہنا انسانیت کی تذلیل ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 11 ستمبر 2026

ہفت روزہ دعوت دہلی 11 ستمبر 2026

ہفت روزہ رہبر سرینگر 13 ستمبر 2026