Tuesday, July 2, 2019

بیگار کیمپ


بیگار کیمپ
یہ ایشیا وافریقہ کے کسی پناہ گزین کیمپ  کا منظر نہیں  بلکہ دنیا کے سب سے امیرترین ، بزعم خود مہذب  اور انسانی حقوق کے علمبردر بلکہ ٹھیکیدار ملک کے وہ کیمپ ہیں جہاں  لاطینی امریکہ کے ان لوگوں کو رکھا گیا ہے جو امریکہ میں  سیاسی پناہ کے خواہشمند ہیں۔ یہ Undocumentedتو ہیں کہ انکے پاس سفری دستاویز اور امریکہ کا ویزا نہیں لیکن یہ غیر قانونی تارکینِ وطن  نہیں  بلکہ انکی درخواست  زیر سماعت ہے۔شیر خوار بچوں سمیت  یہ ہزاروں افراد  کئی ہفتوں سے یہاں بند ہیں جن کےلئے  ٹیکسس اور میکسیکو کی سرحد پر ٹین کی دیواروں اور خاردار تاروں سے اس طرح کے کئی کیمپ بنائے گئےہیں ۔ اس علاقے میں دن کے وقت درجہ حرات  100ڈگری فارن ہائیٹ  سے زیادہ  ہوتا ہے۔ان کیمپوں میں دوبچے فوت بھی ہوچکے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ غلطی انکی ہے کہ یہ لوگ بغیر ویزا مریکہ  آئے ہی کیوں؟؟؟ صدر کی سابق ترجمان محترمہ سارا سینڈرز نے  کٹھوردلی کے حق میں مذہبی دلیل  دیتے ہوئے فرمایا 'انجیل میں بھی قانون کی پابندی پر زور دیا گیا ہے'
کاش محترمہ یہ بھی فرمادیتیں کہ انکے اور صدر بش  کے آباو اجداد جن کشتیوں پرسوار ہوکر امریکہ آئے تھے انھیں کس نے گرین کارڈ یا ویزا جاری کیا تھا؟؟

Monday, July 1, 2019

افغانستان سے نیٹو فوج کے فوری ، مکمل اور غیر مشروط انخلا پر اتفاق؟؟؟؟


افغانستان سے نیٹو فوج کے فوری ، مکمل اور غیر مشروط انخلا پر اتفاق؟؟؟؟
قطر میں طالبان نے ترجمان ملا سہیل شاہین  نے اشارہ دیا ہے کہ افغانستان سے فوجی انخلاپر اصولی  اتفاق ہوچکا ہے اور اب   معاہدے  کے متن پر کام ہورہا ہے۔  (طلوع نیوز کابل)
باخبر ذرایع  کے مطابق  طالبان کی جانب سے افغان سرزمین کسی اور ملک  کے خلاف استعمال نہ ہونے کی جو ضمانت دی  گئی ہے اس  پر امریکی سی آئی اے اور وزارت  دفاع یا  پینٹاگون نے اطمینان کا اظہار کیا    ہے۔صدر ٹرمپ  خود بھی افغانستان سے مکمل انخلا کے حق میں ہیں۔  وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران  طنزیہ کہتے تھے کہ افغانستان کی تعمیر نو کیلئے ہم اپنے بچے مروارہے ہیں اور قوم کے خون  پسینے کی کمائی پھونک  رہے ہیں جبکہ خود امریکہ کو تعمیر نو کی شدید ضرورت ہے۔
 تاہم صدر ٹرمپ  کو ڈر ہے کہ کہیں مستقبل میں افغانستان دہشت گردوں کی آماجگاہ نہ بن جائے۔انکے خیال میں  افغانستان کا جغرافیہ کچھ ایسا ہے کہ وہاں چھپنے کی  جگہیں  بہت زیادہ ہیں ۔ چنانچہ انخلا سے پہلے وہ افغانستان میں سراغرسانی کا ایک مضبوط نظام قائم  کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ملا اس پر راضی   نہیں۔ انکا کہنا ہے کہ امریکی سفارتخانے اور دوسری سفارتی تنصیبات  کی حفاظت کیلئے میرین کے ایک دستے کے علاوہ ایک بھی غیر ملکی فوجی  یا اہلکارافغانستان میں نہیں رہےگا۔
ملا سہیل شاہین نے بتایا کہ معاہدے کیلئے طالبان کے پیش کردہ مسودے میں کچھ ضروری ترمیم کی جارہی ہے  جسکے تحت طالبان  صدر ٹرمپ کے تحفظات  دور کرنے کیلئے اضافی ضمانت فراہم کرینگے۔اگر ان مجوزہ اقدامات سے صدر ٹرمپ کی تشفی ہوگئی تو پھر معاہدہ اب چند ہفتوں کی بات ہے۔اللہ کرے  ایسا ہی ہو۔

تیل و گیس کی ترقیاتی کارپوریشن (ODGCL)میں قیادت کی تبدیلی


تیل و گیس کی ترقیاتی کارپوریشن  (ODGCL)میں قیادت کی تبدیلی
او جی ڈی سی کے منتظم ِ اعلیٰ (MD & CEO)جناب  زاہد میر اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔ کراچی اسٹاک ایکسچینج کے نام اپنے ایک خط میں  کمپنی کے سکریٹری جناب احمد حیات لک نے حصص یافتگان کو مطلع کیا ہے کہ جناب  میر  31 جولائی کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہوجائینگے۔
کمپنی اعلامئے کے مطابق میر صاحب کی سبکدوشی پر ڈاکٹر نسیم احمد او جی ڈی سی کے قائم مقام منتظم اعلیٰ کے اختیارات سنبھالیں گے۔
ڈاکٹر نسیم ایک تجربہ کار پیٹرولیم انجنیئر ہیں جنھوں نے یونیورسٹی آف انجینرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (UET)لاہور سے پیٹرولیم میں بی ای کے  بعد امریکہ کی  جامعہ ٹیکسس آسٹن (UT Austin)سے ماسٹر اور لندن کے امپیریل کالج سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ بہترین  تعلیمی صلاحیتوں کے اعتراف میں پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ  ے انھیں اسکالر شپ سے نوازا۔
ڈاکٹر صاحب گزشتہ 35 سال سے او جی ڈی سے وابستہ ہیں اور اسوقت وہ  کمپنی کے ایگزیکیوٹیو ڈائریکٹر برائے پیداوار (ED Production)ہیں۔ڈاکٹر نسیم کے کئی تحقیقاتی مقالے موقر جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔
اسوقت  تیل و پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر ملک کا خطیر زرمبادلہ خرچ ہورہا ہے۔ معاشی  استحکام  بلکہ قومی سلامتی  واستقلال کیلئے توانائی میں خودکفالت ضروری ہے۔ او جی ڈی سی اس میدان میں گرانقدر خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ امید ہے کہ ڈاکٹر قمر جاوید شریف اور  ڈاکٹر  نسیم احمد کی باوقار قیادت میں قوم کا یہ  خواب جلد شرمندہ تعبیر ہوگا۔ 

پاکستان کو ادھار تیل کی فراہمی


پاکستان کو ادھار تیل کی فراہمی    
 العربیہ ٹیلی ویژن کے مطابق آج یعنی یکم جولائی سے  موخر ادائیگی  پر سعودی تیل کی فراہمی  شروع ہوجائیگی ۔ ادھار تیل کی فراہمی اس اقتصادی پیکج کا حصہ ہے جسکا اعلان  سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ اسلام آباد کے موقع پر کیا گیا تھا۔ سعودی عرب  نے بیرونی ادائیگی اور زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کیلئے 3 ارب ڈالر  دئے تھے۔
اس نقد اعانت  کے علاوہ  سعودی عرب نے موخر ادائیگی  کی بنیاد پر اگلے تین سال کے دوران  9ارب  60 کروڑ ڈالر مالیت  کا خام تیل  فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا جسکی پہلی کھیپ اسی ہفتے سعودی عرب سے روانہ ہوگی۔ اس بات کی تصدیق  وزیراعظم کے مشیر برائے اقتصادیات ڈاکٹر حفیط شیخ کے ٹویٹ پیغام سے بھی ہوتی ے جس میں شیخ  صاحب نے اس فراخدلی پر سعودی ولی عہد کا شکریہ ادا کیا ہے۔
اس بندوبست کے تحت  سعودی عرب ہرماہ   27 کروڑ 50لاکھ  (275 ملین) ڈالرمالیت کا تیل فراہم  کریگا۔
آج کے دن سعودی تیل (اوپیک  باسکیٹ) کی قیمت  60.65فی بیرل ہے۔ اس حساب سے موخر ادائیگی کی بنیادپاکستان کو تقریباً 1 لاکھ 38 ہزار بیرل تیل یومیہ  ملے گا۔ ملکی معیشت کا پہییہ رواں دواں رکھنے  کیلئے ملک کو  اوسطاً  3 لاکھ 15 ہزار بیرل  درآمدی تیل کی ضرورت  ہے۔ اسکا مطلب  ہوا کہ سعودی فیاضی سے ہماری 44 فیصد ضروریات پوری ہونگی اور ایک لاکھ  77ہزار بیرل یومیہ تیل نقد ادائیگی پر حاصل کرنا ہوگا۔
پاکستانی صارفین کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ موخر ادائیگی سے حاصل ہونے والی راحت عارضی ہے کہ یہ ادھار ہے  عطیہ نہیں۔ لہٰذا  تیل کے استعمال میں کفائت   کیلئے غیر ضروری ڈرائیونگ سے اجتناب  وقت کا تقاضہ  ہے۔ ہم  شادی اور تہواروں پرچراغاں کی عیاشی کے متحمل بھی نہیں  ہوسکتے۔ بازارکے اوقات  کار  بھی کچھ اسطرح ترتیب دینے کی ضرورت ہے  کہ دن کی روشنی کو  زیادہ سے زیادہ استعمال کرکے بجلی کا خرچ بچایا جائے۔ دوکان صبح سویرے کھولنے سے  ایئرکنڈیشن کا خرچ بھی  کم ہوگا۔
کفائت کے ساتھ تیل و گیس کے مقامی وسائل کو ترقی دیکر توانائی میں خودکفالت بہت ضروری ہے۔


سوڈان : مظاہرین اور فوج میں تصادم


سوڈان :  مظاہرین اور فوج میں تصادم 
سوڈان میں عوام اور فوجی جنتا کے درمیاں کشیدگی اہنے عروج پر ہے۔ اتوار کو ملین مارچ پر فوج کی فائرنگ سے 7 افراد جاں بحق جبکہ سینکڑوں مظاہرین زخمی ہوگئے۔حالیہ ہنگاموں کا آغاز 19 دسمبرکو اسوقت ہوا جب حکومت نے روٹی کی قیمتوں میں 3 گنا اضافہ کردیا اور مہنگائی سے تنگ لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ سابق صدر عمرالبشیر نےمظاہرین کی بات سننے کے بجائے ریاست بہت مضبوط ہے کا موقف اپنایا اور طاقت کے غیر معمولی استعمال نے ایک چھوٹے سے مظاہرے کو  ملک گیر تحریک  میں تبدیل  کردیا۔
موقع سے طالع آزماوں نے فائدہ اٹھایا اور11 اپریل کو جنرل احمد عواد ابن عوف نے حکومت پر قبضہ کرلیا۔  عمرالبشیر معزول کرکے جیل بھیجدئے گئے۔قو م سے اپنے خطاب میں جنرل صاحب نے 'معصوم ' عوام کے خلاف عمرالبشیر کے آمرانہ ہتھکنڈوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انھیں نشانہ عبرت بنادینے کا وعدہ کیا۔مزے کی بات کہ جنرل ابن عوف صدر عمرالبشیر کے نائب صدر اور وزیر دفاع تھے۔ جنرل ابن عوف کی تقریر میں نئے انتخابات کا کوئی ذکر نہ تھا چنانچہ سوڈان پروفیشنل ایسوسی ایشن  (SPA)نے مظاہرے جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔
 مارشل لا کے دوسرےہی دن  جنرل ابن عوف کو معزول کرکے جنرل عبدالفتاح برہان نے حکومت سنبھال کی اور انتخابات کے بجائے 'عوامی امنگوں کی ترجمان' ایک قومی حکومت تشکیل دینے کا اعلان کیا۔
SPAنے قومی حکومت کو مسترد کرتے ہوئے فوری طور پر انتخابات کا مطالبہ کیا جس پر جنرل برہان سخت غصے میں آگئے اور اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے کہا 'عام لوگوں کو کیا پتہ کہ ملک کو کیسی سنگین صورتحال کا سامنا ہے اور اگر اس دلدل سے نکلنے کیلئے فوری طور پر اہم اقدامات نہ کئے گئے تو ملک کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے' جنرل صاحب کا کہنا تھا کہ اسوقت ملک کو انتخابات کی نہیں بلکہ ایک 'محب وطن' ٹیکنوکریٹ حکومت کی ضرورت ہے۔
سوڈان کے بیوقوف سویلینز اپنی کم عقلی کی بنا پر  جنرل صاحب کی منظق سمجھنے سے قاصر ہیں  اور ساری قوم سڑکوں پر ہے۔ مشرق وسطیٰ کے شیوخ و ملوک  کا خیا ل ہے کہ اگر سوڈان کے مظاہرے کو سختی سے نہ کچلا گیا تو عرب اسپرنگ کی طرح  بدامنی کی ایک نئی لہر جنم لے سکتی جس سے سارا مشرق وسطیٰ عدم استحکام کا شکار ہوجائیگاچنانچہ خلیجی ممالک کی جانب سے 3 ار ڈالر کی مالی اعانت  کے ساتھ  جنرل عبدالفتاح  کے ہم نام مصری ہم منصب   ان مظاہروں کو کچلنے کیلئے  تیکنیکی  تعاون فراہم کررہے ہیں ۔عوامی مظاہروں کو طاقت سے کچلنے میں مصری فوج کا دنیا میں کوئی ثانی نہیں۔
دیکھنا ہے کہ  خلیجی ممالک کے درہم و دینار اور السیسی کے شیطانی حربوں کے مقابلے میں نہتے سوڈانی  کتنی دیر ثابت قدم رہتے ہیں۔ تاہم تشدد کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں ڈر ہے کہ کہیں سوڈان شام یا لیبیا نہ بن جائے۔