Thursday, July 4, 2019

یمن میں اخوا ن المسلمون اور متحدہ عرب امارات کے درمیان شدید کشیدگی


یمن میں اخوا ن المسلمون  اور متحدہ عرب امارات کے درمیان شدید کشیدگی
یمن خانہ جنگی میں  اخوان المسلمون  حوثیوں اور صدر عبدلرب  منصور ہادی  کے درمیان مصالحتی کردار اداکررہی ہے۔ یمن کے اخوانی جمیعت الاصلاح کے نام سے منظم ہیں جو 1990میں شیخ عبدالمجید زندانی نے قائم کی تھی۔ الاصلاح  یمن  کی واحد سیاسی جماعت  ہے  جو شیعہ اور سنی تقسیم سے پاک  ہے۔خانہ جنگی سے پہلے ہونے والے انتخابات میں الاصلاح پارلیمانی حجم کے اعتبار سے حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت  بن کر ابھری۔اسکی پارلیمانی رہنما محترمہ توکل کرمان ہیں جنھیں امن کا نوبل انعام بھی مل چکا ہے۔
الاصلاح اور متحدہ عرب امارات کے در میان براہ راست کشیدگی کا آغاز  کچھ عرصہ قبل   ہوا جب امارات نے اپنے سینکڑوں فوجی یمنی جزیرے  سقطریٰ پر اتاردئے۔ بحر عرب میں 3800 مربع کلومیٹر رقبے پر واقع اس جزیرے میں 60 ہزار لوگ آباد ہیں۔ سقطریٰ ایک انتہائی مصروف آبی شاہراہ پر واقع ہے۔ خلیج فارس اور بحر احمر سے آنے والے جہاز سقطریٰ کے ساحلوں کو تقریباً چھوتے ہوئے بحر عرب اور بحر ہند کی راہ لیتے ہیں۔ ۔  یہاں کے گورنر استاذرمزی محروس اخوانی فکر سےمتاثر ہیں جبکہ سقطرہ  کے حوثیوں سے بھی الاصلاح کے اچھے مراسم ہیں۔ اس بنا پر اب تک یہ جزیرہ خانہ جنگی کی ہولناکیوں سےبڑی حد تک محفوظ رہا ہے۔
لیکن متحدہ عرب امارات  پر علاقائی طاقت  بننے کا خبط سوار ہے۔ اسی بنا پر کچھ عرصہ پہلے ابوظہبی  نے صومالیہ  پر بھی اثرانداز ہونے کوشش کی اور یہ اقدامات اتنے بھونڈے تھے کہ اب دونوں ملکوں کی بات چیت تک بندہے۔
سقطریٰ پر اترنے والے  امارات کے  فوجی  اپنے ساتھ خوراک  اور دواوں کا بڑا ذخیرہ ساتھ لائے  ہیں جس  کی وجہ سے مقامی آبادی خوش ہے۔ امارات  کا یہ بھی کہنا ہے  کہ انھوں نےفوج بھیجنے سے پہلے گورنر رمزی سے اجازت لی تھی لیکن گورنر صاحب  فرماتے ہیں   کہ یہ امارات کی طرف سے جزیرے پر قبضے کی ایک کوشش ہے۔ دوسری طرف اماراتی فوج  کی آمد پر  حوثیوں کو  بھی سخت اعتراض ہے۔
متحدہ عرب امارات  نے اب کہنا شروع کردیا ہے کہ گورنر اور عوام اماراتی فوج کے حق میں ہیں اور خالی  الاصلاح نے رولا ڈالا ہوا ہے۔ کل اماراتی فوج کے حامیوں نے جزیرے پر ایک بڑا جلوس نکالا جس  میں  الاصلاح کے خلاف  زبردست  نعرے لگائے گئے۔ مقررین نے کہا کہ اماراتی فوج کے آنے سے امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی۔ یہ فوجی مقامی لوگوں میں  خوراک ، دوا اور نقد رقوم تقسیم کررہے ہیں ۔ لیکن اخوانی  حوثیوں کے ایما پر اماراتی فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈا کررہے ہیں۔
اس تنازع سے الاصلاح کو جو نقصان پہنچے گا وہ تو خیر اپنی جگہ  لیکن  اسکی وجہ سے حوثیوں اور یمنی حکومت  کے درمیان  ایک  دیادنتدار ثالثی کی حیثیت سے اخوانیوں کی ساکھ بھی متاثر ہورہی ہے۔ اگر الاصلاح کی مصالتی کوششیں  بےاثر ہوگئیں تو  خانہ جنگی کی آگ  بہت  جلدسقطریٰ تک بھی  پہنچ سکتی ہے۔
 ان شیوخ و سلاطین کو کون سمجھائے کہ اگر  یمن خانہ  جنگی کی آگ  پر قابو نہ پایا گیا  توشعلوں کی  لپٹ خلیجی ممالک  تک بھی پہنچ سکتی ہے۔اخوان کو بے وقعت کرنے کی کوشش میں اس آگ کو ہوا دینا کسی کے  بھی مفاد میں  نہیں۔



مسجدکی زیر سایہ خرابات چاہئے


مسجدکی زیر سایہ خرابات چاہئے    
 مڈل ایسٹ آئی (MEE)کے مطابق  دو ہفتے بعد  جدہ میں ایک بہت بڑی محفلِ موسیقی (کنسرٹ) کا اہتمام کیا جارہا ہے جس میں ٹڑینیڈیڈ (Trinidad)نژاد امریکی گلوکارہ اور ماڈل   نکی مناج  (Nicki Minaj)جلوہ گر ہونگی۔ تیکھے نقوش والی  36 سالہ نکی  اپنے  گیت و نغمے خود لکھتی ہیں یعنی  نکی  شاعرہ بھی ہیں۔ Queen of Rap کے نام سے جانی جانے والی نکی کی وجہ شہرت انکا حسن، بیباک ادائیگی   اور  فحش نغمات  ہیں۔
 رقص و موسیقی کی یہ نشستیں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کےVision 2030یا رؤیۃ  السعودیۃ 2030 کا حصہ ہے جسکے تحت  مملکت  کو دورِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جارہا ہے۔ جدہ میں جس جگہ نکی مناج کاکنسرٹ  برپا ہوگا  وہ مکہ سے صرف 90 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔


Wednesday, July 3, 2019

امریکہ کا ملائم چہرہ


امریکہ کا ملائم چہرہ
جرمنی کے نازی کیمپ میں بند بلکہ ٹھنسے لاکھوں یہودیوں کو کسی سے ملنے  کی اجازت  نہ تھی۔   اپنے جذبات کااظہار انسانی فطرت ہے  لیکن  ان تنگ و تاریک کھولیوں میں روشنی اور ہوا کاگزر بھی نہ  تھاقلم و قرطاس کا کیا ذکر۔ ضرورت ایجاد کی ماں ہے چنانچہ یار لوگوں نے کئی راستے نکال  لئے۔ شعرا اور ادیبوں نے  کوئلے سے  دیواروں  کوگلزار کیا۔ایک خاتون مصورہ کسی طرح قلم چھپا کر لانے میں کامیاب  ہوگئی اور اس   نے  دامن  کے اندرکی  طرف کے حصے کو کاغذ بنالیا۔ مختصر یہ کہ  ہٹلر  لاکھوں بے گناہ یہودیوں   کوہلاک  کرنے کے باوجود   اظہار رائے کو  قتل  نہ کر سکا۔
جرمن کے بیگار کیمپوں  ہی کی انداز میں آجکل  امریکہ کی  جنوبی سرحدوں پر پنجرے آباد کئے گئے ہیں۔ یہ بات ہم  نہیں کہہ رہے بلکہ آج   ماہرینِ امراضِ اطفال   کی امریکی انجمن American Academy of Pediatricsکے وفد نے ٹیکسس میں ایک کیمپ کا دورہ کیا جہاں  امریکہ میں سیاسی پناہ کے لیے آنے والے بچوں کو رکھا گیا ہے۔ دورے کے بعدوفد کی سربراہ ڈاکٹر کولین کرافٹ  صاحبہ نے فرمایا کہ  سگ خانہ یاDog Houseبھی اس سے بڑا اور صاف  ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے کہا کہ جب وہ کیمپ  میں داخل ہوئیں تووہاں  ویسی ہی تعفن تھی جیسی انتہائی غلیظ  عوامی بیت الخلامیں محسوس ہوتی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ سوتے وقت ایک بچے کا پیر دوسرے کے سر یا پیٹ پر ہوتا ہے، ان بچوں نے کئی دن سے منہہ نہیں دھویا،  غسل کا کیا تذکرہ۔  سخت گرمی میں انکے جسموں سے امڈتی  پسینے  کی بو سے ہمیں  ابکائی آرہی تھی۔
ڈاکٹر صاحبہ نے وہاں موجود چھوٹے بچوں کوقلم اور کاغذ دئے اور ان سےکہا  کہ اس پر اپنے جذبات کا اظہار کرو۔ معصوموں نے مارکر سے ان پنجروں کی تصویربنادی جن میں سے کچھ ڈاکٹر صاحبہ نے یہ کہہ کر میڈیا کو جاری کردیں کہ یہ ہے امریکہ کا Soft Image
حسب توقع اس بات پر صدر ٹرمپ  سخت غصے میں ہیں اور ٹویٹ پیغام میں  انتہائی  تکبر سے فرمایا۔
اگر ہمارے حراستی کیمپ پسند نہیں  تو امریکہ آنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟؟؟؟؟  کیا رعونت ہے؟؟



Tuesday, July 2, 2019

مذہب اور نسل پرستی


مذہب اور نسل پرستی
ایک فرقے کی استثنیٰ کے ساتھ جمہور یہودی سمجھتے ہیں  کہ  فلسطین انکی سرزمین ہے۔ عقیدہِ سرزمین کی بنا پر ہر یہودی کیلئے لازم ہے کہ وہ  اسرائیل (فلسطین) میں سکونت اختیار کرے۔ دنیا کے دوسرے ملکوں سے رہائش کیلئے اسرائیل کی جانب ہجرت کو عبرانی میں عالیہ (Aliyah)کہتے ہیں۔ اس سفر کی یہودیوں کے یہاں وہی برکت و فضیلت ہے جو مسلمانوں میں ہجرت کی۔
چنانچہ اس ہجرت کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے۔ نیتھین یاہو اور انکا ٹولہ مسلمانوں کا جانی دشمن  ہے لیکن دورِ جدید میں عالیہ اول  اور عالیہ دوم  1881 سے 1914 کے درمیان ہوئی جب فلسطین عثمانی سلطنت کا حصہ تھا۔ ترکوں نے مقدس ہجرت میں اپنے اہل کتاب بھائیوں کی مدد کی۔ عالیہ اول کے دوران عثمانی خلیفہ کے حکم پر  روس اور مشرقی یورپ سے ہزاروں یہودیوں کی فلسطین میں آباد کیاگیا  اور سفر کے اخراجات  مسلمان حکومت نے اداکئے۔ عالیہ دوم میں یمن، ایران، ہندوستا ن اور ایشیائی ممالک  میں آباد یہودیوں کو فلسطین لایا گیا۔ اس بار بھی ہجرت عثمانی خزانے سے ہوئی ۔
اسرائیل بننے کے بعد 1960 میں ایتھوپیا کے یہودیوں نے  اسرائیل کی طرف عالیہ کی خواہش ظاہر کی ۔ یورپ کے یہودیوں کی اسرائیل آمد پر تو گورے یہودیوں کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ لیکن ایتھوپیا کے 'کالے'یہودیوں کے معاملے میں اسرائیلی تذبذب ک شکار ہوئے۔ انکے کنیسہ(پارلیمینٹ) میں خوب بحث و مباحثہ ہوا اور معاملہ ٹلتا رہا۔ 1977میں جب قدامت پسند منیخم  بیگن وزیراعظم بنے تو انھوں نے اسرائیلی سیاستدانوں کو یہ کہہ کر شرم دلائی کہ جب ہمارا اپنا وطن نہ تھا تب  عثمانیوں نے  یہودیوں کیلئے عالیہ مبارکہ کا اہتمام کیا اور اب جب  ہماری اپنی ریاست بن چکی ہے تو ہم محض اسلئے ایتھوپین بھائیوں کو یہاں لانے میں پس وپیش کررہے ہیں کہ انکی جلد کا رنگ سیاہ ہے۔
اس جذباتی تقریر کا اثر ہوا ور 1979 سے 1990 تک آپریشن  برادر، آپریشن موسیٰ (ع) اور آپریشن سلیمان (ع) کے تحت   سوالاکھ کے قریب ایتھوپین  یہودی اسرائیل لائے گئے۔
تاہم  یہ سیاہ فام یہودی  تل ابیب یا بیت المقدس  کےبجائے بحرروم کے ساحلی شہر حیفہ میں بسائے گئے۔  بہانہ یہ تراشہ گیا کہ یہ لوگ ایتھوپیا میں  ساحلوں پر آباد تھے ۔ حیفہ چونکہ اسرائیلی بحریہ کا مرکز ہے اور یہ لوگ کشتی بانی کے ماہر ہیں اسلئے انھیں حیفہ میں روزگار تلاش کرنے میں آسانی ہوگی۔ مذہبی اعتبار سے ایتھوپیا کے یہودی بے حدقدامت پسند ہیں اور یہ یورپی یہودیوں کو بدعتی سمجھتے ہیں۔ انکا خیال ہے یورپ سے آنے والوں  نے  سبت سمیت بہت سی پابندیوں میں ازخودنرمی پیدا کرلی ہے۔
 اس انتہا پسندی کی بناپر ایتھوپین یہودی خود بھی الگ تھلگ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ دوسری طرف  یورپین یہودی انھیں  سوتیلا بھائی سمجھتے ہیں۔ ایتھوپین یہودیوں کو شکائت ہے کہ تعلیم اور روزگار میں انکے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے اور حکومت بھی  ایتھو  پین  یہودیوں کو مدد فراہم کرنے میں  کنجوسی سے کا م لیتی ہے۔ بدقسمتی سے امریکہ سمیت ساری دنیا میں سیاہ فام آبادی امتیازی سلوک کا شکار ہے  چنانچہ اسرائیل میں  بھی ایسی ہی صورتحال ہے۔ معاشی تفاوت کی وجہ سے ایتھوپین یہودیوں میں جرائم کی شرح  نسبتاً زیادہ ہے اور اسرائیلی پولیس نے 'بڑھابھی دیتے ہیں کچھ زیب داستاں کیلئے'  کے تحت  ایتھوپین یہودیوں کی  پکڑ دھکڑ ،  تشدد اور غیر ضروری فائرنگ کا نشانہ بنایا ہوا ہے۔
فائرنگ کا ایسا ہی ایک واقعہ اتوار کو حیفہ کے ایتھوپین محلے کریات  ہیم   Kiryat Haimمیں پیش آیا۔ ایتھوپین یہودیوں کا خیال کے کہ حضرت یعقوب کی ایک اہلیہ حبشہ سے تھیں جنکے بطن سے حضرت  یوسف  کے سوتیلے بھائی پیدا ہوئے۔ اسی مناسبت سے ایتھوپین یہودی خود کو   بیتِ اسرائیل یا خانوادہ حضرت یعقوب کہلوانا چاہتے ہیں جبکہ عام اسرائیلی انھیں ایتھوپین یہودی کہنے پر اصرا ر کرتے ہیں۔ اس روز کچھ ایتھوپین نو جوان سڑک کے کنارے گپ شپ کررہے تھے کہ راستے سے گزرتی پولیس موبائل کو شک ہوا۔اور گاڑی روک کر ایک افسر نے توہین آمیز انداز میں کہا او ایتھوپین! سڑک پر کھڑے  کیا کررہےہو۔ اس پر ان لوگوں نے کہا تمیز سے بات کرو ہم  بیت اسرائیل کے لوگ ہیں۔ اس جواب پر سارجنٹ حقارت سے ہنستے ہوئے بولا جیکب (حضرت  یعقوب) کے بیٹے کا حسن تو ضرب المثل تھا۔  پولیس افسر کا اشارہ حضرت یوسف کی طرف تھا۔
 اس بات پر پولیس اور ان لڑکوں میں  بحث  مباحثہ شروع  ہوا اور ایک افسر نے گولی چلادی جو 19 سالہ  لڑکے سلیمان تکاہ کے سر پر لگی۔ اسے ہسپتال لے جایاگیا جہاں اس نے د م توڑدیا۔ لڑکے کے باپ ورقہ تکاہ کا تعلق  کاہنوں (مولویوں) کے خاندان سے ہے جو سارے ملک میں مشہور ہے چنانچہ آن کی آن میں بات پھیل گئی۔ چوکوں اورچوراہوں پر نوجوانوں نے الاو روشن کردئے ۔ دوسرے د ن یہ مظاہرہ دوسرے شہروں میں پھیل گیااور تل ابیب میں زبردست مظاہرہ ہوا۔
پولیس نے اپنے دفاع میں جو دلیل دی ہے اسے کوئی بھی قبول کرنے کو تیار نہیں۔ ملوث افسرصاحب کا کہنا ہے کہا کہ لڑکوں نے ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی جس پر  اس  نے ڈرانے کیلئے سامنے زمین کا نشانہ لے کر گولی چلائی لیکن زمین میں گڑے ایک پتھر سے ٹکرا کر وہ گولی سلیمان کے سر میں لگ گئی۔ ورقہ کا کہنا ہے کہ وہ انصاف لئے بغیر خاموش نہیں بیٹھے گا اور بیت اسرائیل بھی سارے ملک میں انصاف  کے حصول تک تحریک چلانے کیلئے پرعزم  ہے۔ ایتھوپین اسرائیلوں کو  تحریک جاری رکھنے کیلئےعرب  اسرائیلیوں کی صورت میں فطری اتحادی بھی میسر آگئے جو  خود پولیس  گردی کا شکار ہیں۔ چند ہفتوں بعداسرائیل میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ 66 لاکھ آبادی والے ملک میں سوالاکھ  ایتھوپین ووٹ کچھ کم نہیں  اور پھر یہاں متناسب نمائندگی کا نظام رائج ہے جہاں ہر ووٹ شمار ہوتا ہے۔ورقہ کہنا ہے کہ اپنے بیٹے کےلہو   کو رائیگاں نہیں جانے دیگا اور سارے اسرائیل میں   نسلی امتیاز کے خاتمے  اور اقلیتوں  کے بنیادی حقوق کیلئے  تحریک چلائی جائیگی۔ مولوی مسلمان ہو یا یہودی  عزم کرلے تو مقتدرہ  کوناکوں چنے چبا دیتا ہے۔ دیکھنا ہے کہ  اسرائیل کا خانوادہ  یعقوب   کیسی  تحریک چلاتا ہے۔