Monday, March 8, 2021

گیس استعمال کرنے والوں نے گیس کے کنویں خرید لئے

گیس استعمال کرنے والوں نے گیس کے کنویں خرید لئے

حب پاور کمپنی(حبکو)نے  اطالوی کمپنی  ای  این  آئی (eni)کے پیداواری اثاثے خرید نے کا ارادہ ظاہرکیا ہے۔ حبکو پاکستان میں  بجلی بنانے والا پہلا اور سب سے بڑا نجی ادارہ یا IPPہے۔حب(بلوچستان) کے علاقے کنڈ اور ناروال  (پنجاب)  کے کارخانوں میں  گیس اور تیل  سے  چلنے والے  پلانٹ(RFO) نصب ہیں۔ اسکے علاوہ جموں و کشمیر کی لاریب انرجی کے 75 فیصد حصص بھی حبکو کی ملکیت ہیں۔ لاریب  انرجی منگلا ڈیم  کی نہروں  میں چھوڑے جانے والی پانی سے بجلی بناتی ہے۔ قابل تجدید  یا Renewableتوانائی کے اس بندوبست کو Run-off-river Hydel Based Power Production   کہا جاتا ہے۔ادارے کی مجموعی  پیداواری صلاحیت 2920 میگا واٹس ہے۔ایندھن کی فراہمی کیلئے حبکوتھر میں کوئلے  کی تلاش و ترقی کاکام بھی کررہی ہے۔ا س مقصد کیلئے تھر انرجی کے نام سے ذیلی ادارہ قائم کیا گیاہے اور کانوں کے دہانوں پر کوئلے سے چلنے والا کارخانہ لگانے کی تیاری تکمیل کے مراحل میں ہے۔

ای این آئی کی پاکستان آمد 2000 کے آخر میں ہوئی جب اس نے برطانوی ادارے London and Scottish Marine Oilیا لاسمو (Lasmo)کو خرید لیا اور  لاسمو پاکستان کےاثاثے ای این آئی کے نام ہوگئے۔ ای این آئی نے  ضلع دادو میں بھٹ اور بھدرا کے مقام پر گیس کے نئے میدان دریافت کرنے کے علاوہ آسٹرین کمپنی او یم وی  (OMV)، بی ایچ پی (BHP)ور دوسرے ملکی اور غیرملکی اداروں سے مشارکے کے ذریعے اپنے اثاثوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔ کادنواری، ساون اور زمزمہ  گیس میدان ان مشارکوں کی چند مثالیں ہیں۔

گزشتہ برس این آئی کی گیس پیدوار کا تخمینہ 37 ارب مکعب فٹ (bcf)تھا۔ گیس کے ساتھ اکثر کنووں سے تیل کی بھی کچھ مقدار حاصل کی جاتی ہے۔ تیل اور گیس کی مجموعی پیدوار (Hydrocarbon)کا سالانہ حجم 70 لاکھ بیرل (boe)تھا۔ بحر عرب میں  کیکڑا کنویں کی کھدائی سے ای این آئی کو سارے ملک میں زبردست شہرت حاصل ہوئی۔ای این آئی  قابل تجدید توانائی کے میدان میں بھی سرگرم ہے اور بھٹ کے مقام پر  شمسی توانائی کاایک جدید ترین مرکز زیرتعمیر ہے۔ خیال ہے کہ  Photovoltaicکے اصول پر یہاں سے فضا کو آلودہ کئے بغیر  20 میگاواٹ برقی توانائی حاصل ہوگی۔

حبکو کی جانب سے سودے کی جو تفصیلات بیان کی گئی ہیں اسکے مطابق ای این ائی کے پیدواری اثاثےاور تلاش و ترقی کے وسائل یعنی Upstream Operarationsخریدے جائنگے۔ صنعت سے غیروابستہ احباب کی وضاحت کیلئے عرض ہے کہ تیل اور گیس  کو  زمین کی گہرائیوں سے  سطح تک لانے کی سرگرمیوں کو Upstreamکہا جاتا ہے۔ جبکہ خام تیل کی صفائی اور تقسیم کو Downstreamکا نام دیا گیا ہے۔بھٹ شمسی توانائی مرکز سمیت قابل تجدید توانائی کے وسائل اور تنصیبات بھی مجوزہ معاہدے  کا حصہ ہیں۔

سودے کی سب سے خوش آئند  بات یہ ہے  کہ ای این آئی کے مقامی ملازمین  نئی کمپنی  میں برابر کے شریک ہونگے۔کارکنوں  نے اپنی تنخواہوں اور مراعات کے عوض ای این آئی کے حصص حاصل کئے ہیں۔ کچھ محنت کشوں نے تنخواہوں اور بعد ازملازمت مراعات کی قربانی کیساتھ  ملکیت حاصل کرنے  کیلئےنقد رقوم بھی دی ہیں۔ اب نئے ادارے میں حبکو کی ملکیت 50 فیصد ہوگی جبکہ  بقیہ نصف کے مالک  ملازمین ہونگے۔

کمپنی کے اعلامئے میں سودے کی تفصیلات نہیں بیان کی  گئیں لیکن کہا جارہا ہے کہ نئی کمپنی پر واجب الاد قرض اور دوسری مالیاتی ذمہ داریاں  حبکو  اپنے سر لے گی۔ اس اعتبار سے یہ ای این آئی کے کارکنوں کیلئے ایک پرکشش  بندوبست ہے۔

خریداری سے جہاں حبکو کو اپنے بجلی کےکارخانے کیلئے  گیس  میسر آجائیگی وہیں بھٹ شمسی توانائی کے تجربےاور تنصیبات سے قابلِ تجدیدایندھن  کا کام تیز ہوگا۔ ای این آئی کے ملک سے جانے کی بناپر کارکنوں کے روزگار خطرے میں تھے۔ اس سودے کے نتیجے میں نوکریاں محفوظ ہوجائینگی۔

تاہم حبکو کےسرپر لٹکتی ایک مہلک تلوار سوئی سدرن  اور ای این آئی کے درمیان گیس  فروخت کا معاہدہ (GSA)ہے جسکے تحت ای این آئی اپنی گیس سوئی سدرن کو فروخت کرنے کی پابند ہے۔ کیا تیل اور گیس کی مقتدرہ (OGRA)حبکو کو  گیس کی کچھ یا ساری مقدار  خود استعمال کرنے کی اجازت دیگی؟؟؟؟


 

Thursday, March 4, 2021

سینیٹ کے انتخابات۔۔۔ بڑھابھی دیتے ہیں کچھ زیبِ داستاں کیلئے

سینیٹ کے انتخابات۔۔۔ بڑھابھی دیتے ہیں کچھ زیبِ داستاں کیلئے

سینیٹ کے انتخابات کے بارے کہا جارہا ہے کہ یہاں خوب رشوت چلی ہے۔ستم ظریفی کہ خرید و فروخت کا ہنگامہ خود حکمراں جماعت نے کھڑا کیاہے۔ وزیراعظم سمیت ساری کابینہ الیکشن کمیشن کو مطعون کررہی ہے کہ انتخابات منعقد کرنے والوں نے اپنی ذمہ داری ٹھیک سے ادا نہیں کی، حالانکہ حالیہ چناو  میں تحریک انصاف نے اپنا پارلیمانی حجم دگناکرلیا ہے۔

پاکستان کا تعلیمیافتہ طبقہ بد ترین احساس کمتری کا شکار ہے اور ہم لوگ ہر وقت خود کو کوستے رہتے ہیں۔ عام خیال ہے کہ

  • پاکستانی جاہل ہیں، انھیں اچھے برے کی تمیز نہیں
  • امانت و دیانت کے حوالے سے  پاکستان دنیا کا بد ترین ملک ہے
  • پاکستانی ڈنڈے سے سیدھی رہنے والی قوم ہے جہاں جمہوریت نہیں چل سکتی

اور اب تو عدالت عظمیٰ کے ایک فاضل قاضی صاحب نے ملکِ خداداد کو گٹر قراردے دیا ہے

اگر ہم جیسے لوگ اس رائے سے اختلاف کریں تو کہا جاتا ہے کہ آپ ماضی میں جی رہے رہے ہیں اور حقیقت کا سامنا نہیں کرسکتے۔ پاکستانی دانشوروں کو یہ اندازہ ہی نہیں کہ خوداحتسابی اور  خود کو ملامت کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔اس تمہید کے بعد آتے ہیں سینیٹ کے حالیہ انتخاب کی طرف

سینیٹ کا انتخابی کالج ملک کی صوبائی اسمبلیاں ہیں۔ اس تناظر میں نتائج کا جائزہ لیا جائے تو 'ووٹ فروشی' کا شبہہ بےبنیاد نظر آتا ہے

سندھ میں پیپلزپارٹی کو واضح بلکہ بھاری اکثریت حاصل ہے۔ یہاں کل نشستوں کی تعداد 165ہے جن میں سے 99 پر پیپلز پارٹی براجمان ہے۔ تحریک انصاف 30 کیساتھ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ 21 نشستیں ایم کیوایم کے پاس ہیں۔ سندھ سے سینیٹ کے نتائج حصہ بقدرِ جسہ رہے، یعنی پیپلز پارٹی نے 7، ایم کیوایم نے 2 اور تحریک انصاف نے 2 نشستیں اپنے نام کرلیں

تعداد کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ بلوچستان ہے جہاں ضمیر فروشی نسبتاً آسان اور منافع بخش ہے لیکن یہاں کے نتایج بھی پارلیمانی حجم کے مطابق نظر آرہے ہیں۔ بلوچستان کی کل 65 نشستوں میں سے 24 باپ کے پاس ہے جبکہ فضل الرحمان 11 کیساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ یہاں باپ نے 7، فضل الرحمان نے 2 اور اے این پی نے ایک نشست حاصل کی جبکہ دو نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔

خیبر پختونخواہ کی 145 رکنی اسمبلی میں 94 کے ساتھ تحریک انصاف کو بھاری اکثریت حاصل ہے۔ فضل الرحمان کے پاس  15 اور 12 نشستوں پراے این پی کے ارکان تشریف فرما ہیں۔ یہاں بھی نتیجہ پارلیمانی حجم کے مطابق رہا یعنی تحریک انصاف نے 10 نشستیں جیتیں اور ایک ایک کرسی فضل الرحمان اور اے این پی کے ہاتھ لگی

پنجاب میں باہمی مفاہمت سے ایک نشست ق لیگ کو دیکر باقی دس نشستیں تحریک انصاف اور ن لیگ برابر برابر تقسیم کرلیں۔ قصہ مختصر، چاروں صوبوں میں کہیں بھی غیر متوقع یا غیر حقیقی نتیجہ نہیں نکلا کہ ارکان اسمبلی کی دیانت پر شبہہ کیا جائے

اب آتے ہیں  اسلام آبادکی طرف۔  یہاں کے انتخابی کالج یعنی 342 رکنی قومی اسمبلی میں تحریک انصاف اور انکی اتحادیوں کی مجموعی تعداد 178 ہے اور دوسری طرف حزب اختلاف کو 160 ارکان کی حمائت حاصل ہے۔ یہاں عام نشست پر  یوسف گیلانی نے 169 اور ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے 164 ووٹ لئے۔ شیخ صاحب کے 7 ووٹ مسترد ہوگئے۔ دوسری طرف خواتین کی نشست پر تحریک انصاف کی ڈاکٹر فوزیہ ارشد نے سرکار کے پارلیمانی حجم کے مطابق 174 ووٹ لے کر انتخاب جیت لیا۔

کہا جارہا ہے کہ زرداری صاحب نے تحریک انصاف کے ارکان سے ووٹ خرید کر یوسف گیلانی کی کامیابی کو یقینی بنایا ہے اور ایک ایک ووٹ کے کروڑوں دئے گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب رکن اسمبلی ضمیر بیچنے پر تیار ہوہی گیا تھا یا تھی تو اس سے خواتین کی نشست کا ووٹ کیوں نہ خریداگیاچنانچہ ہمارا تجزیہ مختلف ہے۔

 تحریک انصاف کے ارکان ایک عرصے سے حکومت پر غٖیر منتخب ارکان کی اجاری داری کی شکائت کررہے ہیں۔ پارلیمانی پارٹی کے کئی اجلاسوں میں ارکان نے اس معاملے پر اپنی بیچینی کا اظہار کیا ہے۔ اور تو اور جناب فواد چودھری نے اس سلسلے میں ٹویٹ بھی لکھے ہیں۔ تحریک انصاف کے ارکان ڈاکٹر حفیظ شیخ اور اسٹیٹ بینک کے گورنر رضا باقر کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے اور ان دونوں کو حالیہ مہنگائی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں بلکہ کچھ ارکان کا تو خیال ہے کہ حفیظ شیخ نے آئی ایم ایف کے زور پر متوازی حکومت قائم رکھی ہے اور وزیر اعظم نے دباو میں آکر ڈاکٹر صاحب کو ٹکٹ جاری کی تھی۔ تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کیلئے یوسف رضا گیلانی بھی قابل قبول نہ تھے چنانچہ انھوں نے حفیظ شیخ کو ووٹ ڈالنے کے بعد بیلٹ پیپر خراب کردئے جسکے نتیجے میں ووٹ مسترد ہوگئے۔ اس تجزئے کو آپ نظریہ سازش کہہ کر مسترد کرسکتے ہیں لیکن جب تینوں صوبائی اسمبلیوں میں چھوٹے موٹے اختلافات کے باوجود  پی ٹی آئی کے تمام ارکان نے دیانت داری سے پارٹی امیدواروں کو ووٹ دئے تو ارکانِ قومی اسمبلی پر خیانت کے شبہے کی کیا وجہ ہے؟   


 

شام پر امریکہ کا فضائی حملہ ۔۔۔ شاہراہِ امن پر خفیہ بارودی سرنگیں

شام پر امریکہ کا فضائی حملہ  ۔۔۔ شاہراہِ امن پر خفیہ بارودی سرنگیں

صدرجو بائیڈن نے اپنے اقتدار کے 36 ویں دن ایک آزاد وخودمختار ملک کی سرحدوں کو پامال کرکے دنیا کو پیغام دیدیا کہ امریکہ اپنا استعماری انداز بدلنے پر تیار نہیں۔ اس سے پہلے جناب بائیڈن مسلسل یہ تاثر دے رہے تھے کہ انکا دورِاقتدار ، مہذب،  پرامن اور جنگ و جدل کے بجائے روارداری و سفارتکاری پر یقین رکھنے والے امریکہ کا نقطہ آغاز ہوگا۔انکے بیانات اور تقاریر سے بھی اسی عزم کا اظہار ہورہا تھا۔

مشرق وسطیٰ امن کے سلسلے میں انھوں نے دو ریاستی حل یعنی اسرائیل و فلسطین خومختار و بااختیار ریاستوں کی تجویز کو آگے بڑھانے کا اعلان کیا تو اسی کیساتھ امریکی صدر نے ایرانی جوہری تنازعے کے پرامن حل کیلئے 2015 میں طئے پانے والے عالمی معاہدے برنامہِ جامع اقدامِ مشترک المعروف 'برجام' یا JCPOAمیں دوبارہ شمولیت کا عندیہ دیا۔ سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ارکان اور جرمنی کا ایران سے یہ معاہدہ جولائی 2015 میں طئے پایا تھا جسکے تحت ایران نے معاشی پابندیوں کے خاتمےکے عوض اپنے جوہری پروگرام کو منجمد کردینے کے ساتھ یورینیم کی افزودگی اس سطح تک گرادینے پر رضامندی ظاہر کی تھی کہ اس سے جوہری ہتھیار نہ بن سکیں۔ 

دو سال قبل صدر ٹرمپ نے اس معاہدے سے امریکہ کو یہ کہہ کر نکال لیا کہ JCPOA ناکافی اور کمزور معاہدہ ہے۔ جسکے بعد انھوں نے ایران پر پابندیوں کی تجدید کردی۔عسکری و سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ صدرٹرمپ نے یہ فیصلہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے اصرار بلکہ دباو پر کیاتھا۔اسرائیل کا موقف ہے کہ امریکہ اور سلامتی کونسل کے ارکان کو ایران نے بیوقوف بناکر اس معاہدے پر راضی کیا ہے اور وہ درپردہ جوہری سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے۔ دوسری طرف جوہری توانائی کی بین القوامی ایجنسی IAEAنے 2015 میں جوہری معاہدے پر دستخط کے بعد چارمرتبہ ایران کی جوہری تنصیبات کا دورہ کیا اور ہربار انکی رپورٹ میں ایران کی جانب سے معاہدے پر مخلصانہ عمل کی تصدیق کی گئی۔

اقتدار سنبھالتے ہی سابق صدر ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے جناب جو بائیڈن نے کہاکہ جوہری معاہدے سے یک طرفہ نکل آنے کے نتیجے میں باہمی تناؤ کے سوا اور کچھ حاصل نہیں ہوا اور 2015  کے مقابلے میں  ایران آج جوہری ہتھیار تیار کرنے کے زیادہ قریب ہے۔امریکی صدر نے عندیہ دیا کہ کہ اگر ایران JCPOAکی شرائط پر مخلصانہ عمدرآمد کی یقین دہانی کروادے تو امریکہ معاہدے میں واپس آ جائے گا۔جوہری معاہدےکے حوالے سے اپنی سنجیدگی کا اظہار کرتے ہوئے جو بائیڈن نے ممتاز سفارتکار جناب رابرٹ ملّے (Robert Malley)کو نمایندہِ خصوصی برائے ایران نامزدکردیا۔ 'برجام' جناب رابرٹ ملے کی کامیاب سفارتکاری کا کمال قراردیا جاتا ہے۔

ایران کی جانب شاخ زیتون لہراتے لہراتے 25 فروری کو چچا سام نے اچانک خنجر تان لیا اور مشرقی شام میں عراق کی سرحد پر ایران نواز ملیشیا کو زبردست بمباری کا نشانہ بنایا۔ پنج گوشہ (امریکی وزارت دفاع المعروف Pentagon) کے ترجمان جان کربی نے اپنے  ایک بیان میں کہا کہ صدر جو بائیڈن کے حکم پر امریکی بمباروں نے شام میں ایران نواز عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کونشانہ بنایاہے۔ حملے کے دوران 500 پونڈ  کے 7منضبط (Guided Precision) بم گرائے گئے۔فو جی اعلامئے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی کاروائی دو ہفتہ قبل  عراق کے ایربیل ائرپورٹ پر امریکی فوج اڈے کو ایران نواز ملیشیا حشد الشعبی او ر انکے حاشیہ بردار اولیاالدّم کی جانب سے نشانہ بنانے کا ردعمل ہے۔اس حملے میں امریکی فوج کا ایک سویلین ٹھیکدار ہلاک اور ایک امریکی فوجی سمیت کئی افراد زخمی ہوگئے تھے۔ایرانی حکومت نے اس حملے سے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔امریکی حملے سے تین دن قبل بھی  بغداد کے ایک فوجی اڈے پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا جہاں امریکی سپاہی بھی موجود تھے، تاہم  حملے میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔ان واقعات کی تحقیقات کے بعد عراقی حکام کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں چھوٹے چھوٹے گروہ ملوث ہیں جنکا مقصد امریکیوں کو خوف زدہ کرنا ہے

عسکری ذرائع کے مطابق شام وعراق کی سرحد پر ایران نواز حشد الشعبی، کتائب حزب اللہ اور کتائب سید الشہدا کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئی۔امریکیوں کا دعویٰ ہے کہ اس مقام سے عراق میں سرگرم امریکہ مخالف شیعہ ملیشیاکو اسلحہ پہنچایا جاتاہے۔ امریکی حکومت نے نقصان کی تفصیل نہیں بیان کی لیکن بشارالاسد کی مخالف  تنظیم، شامی مبصرین برائے حقوق انسانی یا SOHRکا کہنا ہے کہ امریکی حملے میں کم ازکم 15 ایران نواز چھاپہ مار ہلاک ہوئے جبکہ حشد الشعبی کے اسلحے اور گولہ بارود کے ذخائر کو بھاری نقصان پہنچا۔

حالیہ کاروئی گزشتہ سال بغدادائرپورٹ پر ڈرون حملے کے بعد ایرانی تنصیبات پر امریکہ کا پہلا بڑاحملہ ہے۔ جنوری 2020کے حملے میں پاسدارن انقلابِ اسلامی کے سربراہ  جنرل قاسم سلیمانی اور حشدالشعبی کے کمانڈرابومہدی المہندس مارے گئے تھے۔

حملے پر ایران اور شام کا ردعمل خلاف توقع کافی ملائم ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے حملے کو شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی قراردیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی کاروائیوں سے علاقے میں عدم استحکام پیدا ہوسکتاہے۔ شامی صدر کی ترجمان محترمہ بوثینہ شعبان نے  'وحشیانہ جارحیت' کے نتیجے میں  ہلاکتوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ہم کشیدگی نہیں چاہتے اور امریکی فوج نے اُسی شیعہ ملیشیا کو نشانہ بنایا ہے جو ہمارے اڈوں، سپاہیوں، تنصیبات اور مفادات پر حملوں میں ملوث ہے۔امریکی محکمۂ دفاع کے ترجمان جان کربی نے ایک بیان میں کہا کہ بمباری صدر بائیڈن کی ہدایت پر کی گئی ہے جسکا مقصد  ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کو سزا دینا تھا تاہم امریکہ علاقے میں کشیدگی نہیں چاہتا۔ جناب کربی نے کہا کہ صدر بائیڈن امریکیوں اور اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ہر قدم اٹھائیں گے۔ یہ ایک جوابی کارروائی تھی۔امریکہ، مشرقی شام اور عراق میں کشیدگی کو کم کرنا چاہتاہے۔

جمعہ 26 فروری کو بد ترین برفانی طوفان سے متاثر ہونے والے شہر ہیوسٹن کے دورے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئےجو بائیڈن نے کہا کہ امریکی ردعمل جارحیت نہیں بلکہ دشمن کو یہ بتانا مطلوب تھا کہ ہم اپنی فوج پر حملے کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرینگے لہذا احتیاط لازمی ہے۔انھوں نے جوہری معاہدے میں واپسی کے سوال پر ایک بار پھر کہا کہ اگر ایران معاہدے کی پاسداری کا عملی ثبوت فراہم کرے تو وہ JCPOAمیں امریکہ کی واپسی پر غور کرنے کو  تیار ہیں۔

حملے کے بارے میں امریکیوں کے تبصرے بہت زیادہ جارحانہ نہیں لگتے اور پنج گوشہ یہی تاثر دے رہا ہے کہ کاروائی کا مقصدحشدالشعبی کے ان عناصر کو متنبہ کرنا تھا جو عراق میں امریکی مفادات کو نشانہ بنارہے ہیں اور ایران یا بشارالاسد سے براہ راست تصادم مطلوب نہیں۔ قصرِ مرمریں کی ترجمان جین ساکی نے  اپنے بیان میں کہا کہ باوجودیکہ بشار الاسد ایک قاتل ڈکٹیٹر ہیں، امریکہ شام کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے۔

امریکی حکام کے بیانات سے لگتا ہے کہ واشنگٹن معاملے کو بڑھانا نہیں چاہتا اسی لئے بمباری سے پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں واشنگٹن کی جانب سے کوئی دعویٰ سامنے نہیں آیا اور نہ ہی مستقبل میں مزید حملوں کی کوئی دھمکی جاری کی گئی ہے۔ لیکن اسرائیل نے اس کاروائی پر غیر معمولی جوش و خروش کا مظاہرہ کیا ہے۔اسرائیلی خبر رساں ایجینسی Wallaنے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے حملے سے پہلےاسرائیلی وزارت دفاع کو اعتماد میں لیا تھا۔اس خبر کی پنج گوشہ نے تصدیق یا تردید نہیں کی۔اسرائیلی حکام نے حملے کا خیرمقدم کرتے ہوئے  کہا کہ یہ اوباما نہیں جو بائیڈن کا دور حکومت ہے اور اب اینٹ کا جواب پتھر  سے دیا جائیگا۔ اسرائیل میں یہ تاثر عام ہے کہ صدراوباما ایران کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے تھے۔

حملے کے بعد بھی جوہری معاہدے میں واپسی کی خواہش سے تاثر ملتا ہے کہ جوبائیڈن ایران سے کشیدگی ختم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یمن کے ایران نواز حوثیوں پر امریکی پابندیاں نرم کرنے سے بھی اس تاثر کو تقویت ملتی ہے لیکن چندہفتہ پہلے امریکی حکومت وینیزویلاجانے والے ایرانی جہازوں پر لدے تیل کو بحق سرکار ضبط کرکے تہران کو کروڑوں ڈالر کا نقصان پہنچا چکی ہے۔ صدر ٹرمپ نے 2018 میں جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد ایرانی تیل پر پابندی لگادی تھی۔ گزشتہ سال اگست میں امریکی بحریہ نے گیارہ لاکھ سولہ ہزار بیرل ایرانی پیٹرول (Gasoline)سے لدے چار جہازوں پر قبضہ کرلیا تھا جبکی منزل مبینہ طور پر وینیزویلا تھی۔

امریکی وزارت انصاف نے گزشتہ ماہ پیٹرول فروخت کرکے اس سے حاصل ہونے والی رقم ریاستی دہشت گردی سے امریکی متاثرین کے  فنڈ یا U.S. Victims of State Sponsored Terrorism Fundمیں جمع کرادی۔ یہ فنڈ 2015 میں قائم کیا گیا تھاجس سے ان امریکیوں  کو مدد فراہم کی جاتی ہے  جو کسی دوسرے ملک  کی سرپرستی میں کی جانیوالی دہشت گردی سے متاثر ہوئے ہیں۔ خیال ہے  کہ  پیٹرول کی فروخت سے  امریکی حکومت   کو د س کروڑ ڈالر کے قریب  رقم   ہاتھ لگی ہے۔امریکی بحریہ نے 10 فروری کو  بحر  غرب الہند (کریبین)  Caribbean Seaسے ایک اور  تیل بردار ٹینکر  Achileasپکڑنے کا دعویٰ کیا ہے جس  پر 20 لاکھ بیرل خام تیل لدا ہوا تھا۔ امریکی  حکومت کے مطابق یہ ٹینکر بھی وینزویلا جارہا تھا۔ لدائی کی دستاویز (Bill of Lading) پر  تیل کا ماخذ عراق  درج ہے لیکن امریکی دعوے کے مطابق  یہ ایرانی تیل ہے۔ امریکی کسٹمز کی کشتیوں کے پہرے میں اس ٹینکر کو خلیج میکسیکو کی طرف روانہ کردیا گیا ہے جہاں لوزیانہ کی کسی بندرگاہ پر تیل اتار لیا جائیگا۔امریکہ کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل کی ترسیل امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی ہے۔

امریکی محکمہِ انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ خام تیل کی شکل میں پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے لاکھوں ڈالر مالیت کے اثاثوں پر قبضہ کرکے دہشت گردوں کو قیمتی وسائل نے محروم کردیاگیا ہے، لیکن وینزویلا میں ایرانی سفیر ہوجات سلطانی نے امریکی دعوے کو سفید جھوٹ اور نفسیاتی حربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بحری جہاز اور نہ ہی ان پر لدا تیل ایران کی ملکیت ہے۔

مہذب دنیا کوسوچنا چاہئے کہ کیا بین الاقوامی قانون کے تحت ایک ملک کسی بھی دوسرے ملک کو دہشت گرد  قراردیکر اسکی نقل و حمل پر پابندی لگا سکتا ہے؟ پہلے تو اسکے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اجازت ضروری تھی لیکن اب لگتا ہے کہ اس دنیا میں لاقانونیت قانون بن چکی ہے۔ امریکہ کے ان  اقدامات کو نظیر بناکر  ایرانی بحریہ نے بھی آبنائے ہرمز میں مغربی ممالک کے جہازوں کو ہراساں کرنا شروع کردیا ہے۔کچھ عرصے سے آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے کئی تیل  ٹینکروں اور جہازوں میں دھماکے ہوچکے ہیں۔

جمعہ 26 فروری کو آبنائے ہرمز کے قریب خلیج عمان میں اسرائیل کے ایک تجارتی جہاز پر بارودی مواد سے حملہ کیا گیا  جس سے جہاز  کو معمولی  نقصان پہنچا تاہم عملے کے کسی فرد کے زخمی یا ہلاک ہونے کی کوئی اطلاع نہیں۔ ذرایع کے مطابق گاڑی بردار جہاز MV Heliosدمام، سعودی عرب سے سنگاپور جارہاتھا کہ آبنائے ہرمز کے قریب خلیج عُمان میں اسے نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی حکام اسے ایران کی کاروائی قرار دے رہے ہیں۔

صدر جو بائیڈن نے اقتدار سنبھالتے ہی مشرق وسطٰی میں پائیدار امن اور ایران سے تعلقات بہتر بنانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ اس ضمن میں انکے بعض اقدامات انتہائی حوصلہ افزا ہیں۔ جیسے رابرٹ ملے کی بطور خصوصی نمائندہ برائےایران تقرری، جوہری امن معاہدے میں امریکہ کی واپسی پر مشروط رضامندی، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو امریکی اسلحے کی فراہمی پر وقتی پابندی،حوثیوں پر پابندیوں میں نرمی وغیرہ۔ ان اقدامات سے یہ امید بندھ رہی تھی کہ شائد واشنگٹن اور تہران کئی دہائیوں کی کشیدگی کے بعد اپنے تعلقات کو بہتر بنالیں لیکن ایران کی بحری نقل و حمل پر پابندی، اسکے اثاثوں کی لوٹ مار اور اب براہ راست بمباری سے لگتا ہے کہ شاہراہ امن پر خفیہ بارودی سرنگیں بڑی مہارت سے نصب کی گئی ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 5 مارچ 2021

ہفت روزہ دعوت دہلی 5 مارچ 2021

روزنامہ امت کراچی 5 مارچ 2021

ہفت روزہ رہبر سرینگر 7 مارچ


2021