Thursday, August 5, 2021

لیبیا!!تیل کے میدان سے خوش کن خبر

لیبیا!!تیل کے میدان سے خوش کن خبر

اسپین کی قومی تیل کمپنی  ریپسول (Repsol)نے لیبیا کے الشرارا   میدان میں کام دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔مارچ میں وزیراعظم عبدالحمید الدبییہ کی زیرقیادت قومی حکومت  بن جانے کے بعد سے   یہاں  امن  و امان کی صورتحال کچھ بہتر ہوگئی   ہے جسکی وجہ تیل کی پیداوار میں  استحکام نظر آرہاہے۔اعدادوشمار   کے مطابق لیبیا  آجکل روزانہ ساڑھے بارہ لاکھ بیرل تیل  زمین سے نکال رہا ہے۔ اچھے وقتوں میں پیداوار 18 لاکھ بیرل یومیہ تھی۔

گزشتہ سال کےاختتام پر ترک ساختہ ڈرون کےمہلک حملوں سے حفتر ملیشیا  دارالحکومت کے قرب وجوار سے پسپا ہوگئی تھی ، جسکے بعد انکے گوریلوں نے  روسی کرائے کے  سپاہیوں کی مدد سے الشرارااور الفیل گیس کے میدانوں پر قبضہ کرکے  ان کے گرد بارودی مواد نصب   کردیاتھا۔ لیبیا کی فوج کیلئے بزور طاقت ان میدانوں کا کنٹرول حاصل کرنا مشکل نہیں تھالیکن زورآزمائی میں قیمتی اثاثہ راکھ کا ڈھیر بن سکتا تھا لہذا ملک کی قومی تیل کارپویشن NOC نے تمام سرگرمیاں معطل کرکے اپنے  عملے کو وہاں سے ہٹا لیا ۔

یہ میدان  لیبیا کے جنوب  مغربی  حصے   کے صحرائے مرزق میں واقع ہے  اور برآمد کیلئے یہاں سے خام تیل 1170 کلومیٹر طویل پائپ لائن کے ذریعے بحر روم کے ساحل پر واقعہ الزاویہ آئل ٹرمنل پر پہنچایاجاتا ہے۔ اسلئے  حفتر کیلئے ان کنووں سے  پیدوار حاصل کرکے بیچنا ممکن نہیں تھا۔

 الشرارا  آئل فیلڈ   1980 میں رومانیہ کی تیل کمپنی Petrom اور اسپین کی Repsolکے مشارکے  (JV)نے  دریافت کی تھی۔ Pterom  اب آسٹریا کی OMVکا حصہ ہے۔دوسرے شراکت داروں میں  فرانس کی ٹوٹل اور ناروے کی Equinor شامل ہیں۔ صحرائے مرزق میں واقع اس میدان  میں تیل کے ذخیرے کا تخمینہ 3 ارب بیرل  اور  پیدواری گنجائش 3 لاکھ   بیرل یومیہ ہے۔

طرابلس میں ریپسول  لیبیا کے سربراہ سائمن سینما نے بتایا کہ  میدان کی  ترقی کیلئے انکا ادارہ اضافی سرمایہ کاری کریگا۔لیبیا کی وزارت قدرتی وسائل کا خیال ہے کہ اس سال کے اختتام  تک ملکی پیداوار 17 سے 18 لاکھ بیرل یومیہ ہوجائیگی۔

ایک اور  بات جو ہمارے احباب کیلئے دلچسپی کا باعث ہو کہ  الشرارہ کے   جنوب مغرب میں   واقع  الفیل آئل فیلڈ  سے نکلنے والے خام تیل کی پیدواری لاگت صرف ایک ڈالر فی بیرل ہے۔ قدرت نے ہمارے لیبیا کے  بھائیوں کو بڑی نعمت سے نوازا ہے۔اللہ انھیں نظرِ بد سے محفوظ رکھے



 

Wednesday, August 4, 2021

کشمیر! آخر وہی ہوا کہ جس کا ڈر تھا

5اگست کے یک طرفہ بھارتی اقدام کو 2 سال مکمل ہونے پر 2019 کی ایک تحریر

کشمیر! آخر وہی ہوا کہ جس کا ڈر تھا

نریندرا مودی نے آخرِکار آرٹیکل 370 کی بلی تھیلے سے باہر نکال دی یا یوں کہئے کہ اقوام متحدہ اور عالمی  قوانین کے منہہ پر تھپڑ دے مارا۔ گزشتہ انتخابات میں بی جے پی کامیابی پر امیت شاہ نے کہا تھا کہ ´مودی ہے  تو  ممکن ہے'۔ قومی سلامتی کیلئے مودی جی کے مشیر اجیت ادوال نے  عالمی سیاست کے تناظر میں اس  نعرے کو مواقع اور امکانات کی نئی جہت  دیتے ہوئےکہنا شروع کردیا کہ 'مودی  کے ساتھ ٹر مپ بھی  ہے اور اب تو سب کچھ ممکن ہے'۔ عمران خان اب بھی امریکہ سے امید لگائے بیٹھے ہیں لیکن مودی نےبالکل وہی حکمتِ عملی اختیار کی ہےجو صدر ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قراردینے کیلئے اپنائی تھی یعنی جو کرنا ہے کرگزرو، لوگ رو پیٹ کر کچھ عرصے بعد خود ہی چپ ہوجائینگے۔

 سفارتخانے کو بیت المقدس منتقل کرنے کی قراراداد امریکی کانگریس نے 1995 میں منظور کی تھی لیکن صدر بل کلنٹن نے ممکنہ فلسطینی ردعمل کے پیش نظر صدارتی استثنیٰ استعمال کرتے ہوئے اس فیصلے پر عملدرآمد کو چھ ماہ کیلئے کے موخر کردیا۔ مدت کی تکمیل پر اگلے چھ ماہ کیلئے مزید استثنیٰ جاری کردیا اور یہ سلسلہ کلنٹن عہدِ صدارت کے اختتام تک قائم رکھا۔ انکے بعد آنے والے صدر بش اور صدر اوباما بھی استثنیٰ پر استثنیٰ لے کر معاملے کو ٹالتے رہے لیکن مئی 2018 میں صدر ٹرمپ نے ساری دنیا کی جانب سے شدید رد عمل کو نظر کرتے ہوئے امریکی سفارتخانے کو بیت المقدس منتقل کردیا۔اسی پس منظر میں ہم ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 370 کا جائزہ لیتے ہیں جس سے مودی و ٹرمپ کی حکمت عملی میں  مماثلت کوسمجھنے میں مدد ملے گی۔

کشمیر کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے21  اپریل 1948 کو جو  قرارداد نمبر 47 منظور کی اس میں کشمیر کے حل کیلئے 3 مراحل تجویز کئے گئے تھے۔ یعنی پہلے کشمیر سے 'پاکستانی قبائلیوں' کا انخلا، دوسرے مرحلے میں وادی سے ہندوستانی فوج کی واپسی جسکے بعد جموں و کشمیر میں سرگرم تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک نگراں حکومت کا قیام جو ریفرنڈم کے ذریعے معلوم کریگی کہ کشمیری پاکستان یا ہندوستان میں سے کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔

اس قرارداد کی تشریح ہندوستان نے کچھ انداز میں کی کہ پاکستان کی دراندازی کے جواب میں  مزید فوجی دستے کشمیر  بھیج دئے اور ریاستی پارلیمان قائم کرکے عبوری حکومت تشکیل دیدی۔ قیام ہند وپاکستان کے وقت کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے جس دستاویزِ وابستگی یا Instrument of Accessionپر دستخط کئے تھے اسکے مطابق کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی اور  ریاست پر ہندوستان کے قوانین کا اطلاق نہ ہوتا تھا۔اقوام متحدہ کی قرارداد پر عملدرآمد پر کا تاثر دینے کیلئے دستاویزِ وابستگی کے حوالے سے  ایک صدارتی حکم کے ذریعے ہندوستانی آئین کے باب 21 میں دفعہ 370 کا اندارج ہوا جسکے تحت ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت اور اسکی اسمبلی کو مکمل خودمختاری عطا کی گئی۔

اسی کے ساتھ جموں کے  پنڈتوں نے سارے دیش کے ہندووں کوکشمیر آنے کی دعوت دی تاکہ ریفرنڈم سے پہلے یہاں ہندووں کے تناسب کو بڑھایا جاسکے۔ اس مقصد کیلئے باہر سے کشمیر آنے والوں کو ریاستی ملازمتیں اور سیاحتی صنعت میں سرمایہ کاری کے لئے پرکشش مراعات دی گئیں۔ان اقدامات پر کشمیریوں کی جانب سے شدید مزاحمت ہوئی اور کئی جگہ ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے۔ ہندوستانی فوج نے کشمیریوں کی مزاحمت کو کچلنے کیلئے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا اور ہزاروں کشمیری مارے گئے۔ لیکن بہیمانہ تشدد کشمیریوں کو دبانے میں ناکام رہا۔کشمیر کی شناخت برقراررکھنے کیلئے تحریک نہ صرف جاری رہی بلکہ اس میں مزید شدت آگئی جسکی وجہ سے پنڈتوں نے کشمیر چلو کی تحریک معطل کردی۔ حالات کا رخ دیکھتے ہوئے وزیراعظم نہرو کی سفارش پر ہندوستان کے صدر راجندرا پرشاد نے 14 مئی 1954 کو ایک صدارتی فرمان کے ذریعے ہندوستانی آئین کے دفعہ 370 میں ترمیم کرکے ایک ذیلی شق دفعہ 35 اے کے اندراج کا حکم  دیا جسکے تحت ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی  حیثیت کو مزید مستحکم کردیاگیا۔ دفعہ 35اے کی رو سے صرف وہی لوگ ریاست کشمیر میں:

  • سرکاری ملازمت
  • غیر منقولہ جائداد کی خرید و فروخت
  • مستقل رہائش
  • ریاستی اسمبلیوں کی رکنیت اور
  • تعلیمی وظائف و گرانٹ

کے حقدار ٹہرے جنکی کئی نسلیں یہاں آباد ہیں یا یوں کہئے کہ صرف جدی پشتی کشمیری ہی ریاست کے قانونی  شہری ہیں۔اس ترمیم کے ذریعے 'کشمیر کشمیریوں کا' مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے وادی کی مذہبی، لسانی و عمرانی شناخت کو محفوظ کردیا گیا۔

یہ شق پہلے دن سے ہندوستانی قوم پرستوں کو کھٹک رہی ہے اور کئی اسے مرتبہ منسوخ کرانے کی کوشش کی گئی  لیکن ہربار کشمیریوں کے شدید ردعمل کی بنا پر اسکی تنسیخ معطل کردی گئی۔ تاہم حالیہ انتخابات میں کامیابی کے بعد سے ہی 'مودی ہے تو ممکن ہے'   کے نعرے لگاتے قوم پرست 35-Aکے خاتمے کیلئے بے حد پر عزم نظر آرہے تھے ۔

اسکے برعکس وزیراعظم کو دورہ امریکہ کی دعوت ملنے کے بعد سے اسلام اؓباد پر چہرہ  ملائم بنانے یاملک کا Soft Imageابھارنے کا بھوت سوار تھا۔اس ضمن میں ہندوستان سے تعلقات بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ سلامتی کونسل کی نشست کیلئے ہندوستان کی حمائت، پاکستان کی فضائی حدود کو ہندوستانی طیاروں کیلئے کھولنے کے علاوہ کچھ پاکستانیوں کیخلاف دہشت گردوں کی سہولت کاری کے پرچے کاٹ کر دہلی کو اپنے اخلاص کا یقین دلایاگیا۔صدر ٹرمپ سے ملاقات کے دوران عمران خان نے پاک بھارت تنازعے کے حل کیلئے ثالثی کی درخواست کی اور بہت لجاجت سے عرض کیا کہ اگر امریکی صدر کی کوششوں سے دو ایٹمی قوتوں کے درمیان کشیدیگی کم ہوجائے تو خطے کے ڈیڑھ ارب سے زیادہ لوگ صدر ٹرمپ کو دعائیں دینگے۔ امریکی صدر ثالثی پر فوراً رضامند ہوگئے اور فرمایا کہ دوہفتہ پہلے ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی نے بھی کشمیر کے مسئلے پران سے ثالثی کیلئے کہا تھا اور وہ اس خدمت کیلئے تیار ہیں۔دلچسپ بات کہ ابھی ٹرمپ عمران ملاقات ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان شری رویش کمار نے اپنے ایک ٹویٹ میں نریندرامودی کی جانب سے ثالثی کی سختی سے تردید کردی۔ انھوں نےکہا کہ بھارتی وزیراعظم نے صدر ٹرمپ سے ثالثی کی کوئی درخواست نہیں کی۔ دوسرے روز لوک سبھا (ہندوستانی قومی اسمبلی) میں بھارتی وزیرخارجہ شری جئے شنکر نے بھی مودی  جی کی جانب سے ثالثی کی درخواست کی غیر مبہم تردیدکردی۔

پاکستان کی جانب سے مہرومحبت کے ان اشاروں سے ظالم محبوب کا دل تو کیا پسیجتا، دلی نےخاموشی کے ساتھ مزید 10 ہزار فوجی وادی کی طرف رونہ کردئے ۔ دنیا کی نظروں میں دھول جھونکنے کیلئے فوج کے بجائے اضافی سپاہیوں کو پولیس کہا گیا اور اسکا اعلان بھی وزارت دفاع کے بجاے وزارت داخلہ میں کشمیر امور کے ایڈیشنل سکریٹری شری گنیش کمار نے کیا۔ انھوں نے دلی میں اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے گورنر کی درخواست پر Central Armed Police Forces(CAPF)کی 100 کمپنیاں فوری طورپر مقبوضہ کشمیر بھیجی جارہی ہیں۔صحافیوں کے سوال پر وضاحت کرتے ہوئے گنیش کمار نے بتایا کہ  CAPFکی ہر کمپنی 100سپاہیوں پر مشتمل ہے۔اسوقت مقبوضہ کشمیر میں 4لاکھ مسلح افواج ، 65 ہزار Central Reserve Police Force(CPRF)اور ساڑھے 3 لاکھ کے قریب CAPF کے مسلح جوان تعینات ہی جن میں 10ہزارکا اضافہ کیا جارہا ہے۔

تازہ دم فوجی کمک کے آتے ہی مقبوضہ کشمیر کے تمام شہروں کے داخلی اور خارجی راستوں پر بھارتی فوج نے اضافی چوکیاں قائم کرلیں۔ گھر گھر تلاشی، اس دوران خواتین سے بدتمیزی، احتجاج پر پیلیٹ گنوں کا بے دریغ اور نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ میں تیزی آگئی۔اسی کے ساتھ آزاد کشمیر کی طرف اندھادھند فائرنگ کا سلسلہ بھی شروع کردیا گیا جسکی وجہ سے  بچوں سمیت کئی لوگ شہید ہوئے جبکہ درجنوں افراد زخمی ہیں۔ گزشتہ ہفتے پاکستانی آئی ایس پی آر نے الزام لگایا کہ ہندوستانی فوج کنٹرول لائن پر آباد پاکستانی شہریوں کے خلاف کلسٹر بم استعمال کررہی ہے۔

اس پیش بندی کے ساتھ 2 اکست کو کشمیر میں تعینات ہندوستانی فوج کے چنار کورکے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل  کے جی ایس ڈھلوں نے  متوقع  دہشت گرد حملے کے پیشِ نظر وادی سے تمام سیاحوں کو چلے جانے کا حکم دیدیا۔سرینگر میں  پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل صاحب نے کہا کہ  دہشت گردبہت بڑی کاروائی کا منصوبہ بنارہے ہیں۔ انھوں نے  امرناتھ یاترا کی تقریبات کو فوری طور پرختم کرکے تمام زائرین کو بھی کشمیرسے نکل  جانے کو کہا۔ زائرین کی سہولت کیلئے ہندوستانی فوج نے پہلگام اننت ناگ سے ہندوستان کیلئے خصوصی بسیں چلانے کا بھی  اعلان کیا ۔

سرینگر سے 140کلومیٹر دور اورسطح سمندر سے 13000فٹ بلندی پر کوہ ہمالیہ کے غار میں واقع  امرناتھ مندر ہندووں کے 18مقدس ترین مقامات یا مہا شکتی  پیڑھا  میں سے ایک ہے۔ عبادت  و زیارت کیلے ہندوستان کے علاوہ نیپال سےآنے والے   لاکھوں زائرین45 دن  یہاں گزارتے ہیں۔ سخت سے سخت حالات میں بھی امرناتھ یاترا کبھی منسوخ یا معطل نہیں کی گئ

ان غیر معمولی اقدامات پر حریت پسندوں کے ساتھ ہندوستان کے حامیوں کو بھی تشویش ہوئی اور نیشنل کانفرنس کے ایک وفد نے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں 3 اگست کو گورنر ملک سے ملاقات کی جس میں ملک صاحب نے بڑی صراحت سے کہا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ کسی قسم کی آئینی تبدیلی کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ گورنر ملک کاکہنا تھا کہ خفیہ ایجنسیوں نے امرناتھ یاترا اور وادی کے دوسرے اہم علاقوں پر فدائی حملے کا خدشہ ظاہر کیا ہے چنانچہ حفظ ماتقدم کے طور پر 'پولیس' کی اضافی نفری طلب کی گئی ہے اور لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کے پیشِ نظر امرناتھ یاترا کی تقریبات کو قبل ازوقت ختم کرکے زائرین اور دوسرے سیاحوں کو کشمیر سے چلے جانے کی ہدائت کی گئ ہے۔ غیر معمولی عسکری نقل و حرکت کے دفاع میں یہ بھی کہا گیا کہ اگست کے  دوران  وادی میں کشیدگی عام طور سے  بڑھ جاتی ہے۔ 14 اگست کو کشمیری پاکستان کا یوم آزادی بہت شان و شوکت سے مناتے ہیں جسکے دوسرے دن ہندوستان کے یوم آزادی پریوم سیاہ مزید جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔چانچہ ہر سال ہی ان دنو ں اضافی فوجی دستے ساری وادی میں تعینات کئے جاتے ہیں۔

تاہم کشمیری قیادت گورنر صاحب کی اس یقین دہانی پر مطمئن نہ ہوئی اور محبوبہ مفتی نے وفاقی حکومت کے غیر ضروری اقدامت کو پراسرار قراردیتے ہوئے دلی سے وضاحت کا مطالبہ کیا۔ اپنے ایک ٹویٹ میں انھوں نے 14 اور 15 اگست کوبھارتی فوج کی جانب سے شدید ترین کریک ڈاون کا خدشہ ظاہر کیا۔

اس ماہ کے آغاز سے وادی میں عسکری نقل و حرکت کے ساتھ دہلی غیر معمولی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا۔ 4 اگست کو ہفتہ وار تعطیل کے باوجود قومی سلامتی سے متعلق  ایک اہم اجلاس  وزیرداخلہ اجیت شاہ کی زیرصدارت  ہوا جس میں  قومی سلامتی کیلئے وزیراعظم کے مشیر اجیت دوال، وفاقی انٹیلیجنس کے ڈی جی  اروند کمار، را کے   سربراہ سمنت گِل اور دوسرے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ رات کو دیر تک  جاری رہنے والی اس نشست کے بعد کوئی اعلامیہ جاری نہیں ہوا۔ جب   صحافیوں نے اجیت دوال سے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کے بارے میں دریافت کیا تو انکے  جواب دینے سے پہلے ہی وزیرداخلہ شاہ نے کہا کہ یہ ساری سفارشات کل صبح یعنی پیر کو کابینہ کے اجلاس میں پیش کی جائینگی۔ اسی دوران  شری گنیش کمار  نے مزید 2500  بھارتی فو جیوں کی فوری کشمیر روانگی کا انکشاف کیا۔ یہ   100 جوانوں کی 100 کمپنیوں کے علاوہ ہے جنکی تعیناتی 2 اگست  کو مکمل ہو چکی تھی۔ 

دوسری طرف  مقبوضہ کشمیر میں  خوف و ہراس میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔حریت کانفرنس  کے ساتھ ہندوستان کے حامی رہنماوں  عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو انکے گھروں پر نظر بند کردیا گیا۔ ابتدا میں کہا گیا کہ متوقع دہشت گرد حملے کے پیشِ نظر یہ رہنما  حفاظتی حراست میں لئے گئے ہیں لیکن 5 مارچ کو ان دونوں کو تحفظ امن عامہ کے تحت گرفتار کرلیاگیا اور ساتھ ہی پیپلز کانگریس کے سجاد لون اور کانگریس کے عثمان ماجد  بھی دھر لئے گئے۔ اسکول و کالج تو پہلے ہی بند تھے 4 اگست سے ساری وادی میں  کرفیو لگادیا گیا۔گرفتاری سے پہلے محبوبہ مفتی نے سرینگر میں ایک بہت بڑے مشعل برادار جلوس کی قیادت کی۔ جلوس کے شرکا نے کشمیر کی خودمختاری اور آئین کی شق 35-Aکے حق میں نعرے لگائے۔

عسکری تیاریوں سے یہ ڈر تو بڑا واضح تھا کہ دہلی آئینی تبدیلی کا فیصلہ کرچکا ہے لیکن جس سرعت سے یہ کام ہوا اسکی کسی کو توقع نہ تھی۔ حریت کانفرنس کے رہنما سید علی گیلانی کا کہنا تھا کہ ہندوستان نے اسرائیل کے مشورے اور مدد سے  ایک خوفناک حملے  کے ذریعےکشمیریوں کی نسل کشی کی تیاری مکمل کرلی ہے اور 14 یا 15 اگست کو کشمیریوں کے  روائتی مظاہروں کو کچلنے کی آڑ میں یہ حملہ متوقع ہے۔ تیاریوں سے ایسا لگ رہا ہے کہ 14 اگست کو یوم آزادی کے ساتھ کشمیر میں خون کی ہولی سے بڑی کاروائی کا آغاز ہوگاجسکے بعد ہنگامے اور کرفیو کی آڑ میں 35-Aسے بھی جان چھڑالی جائیگی۔

لیکن 5 اگست کی صبح وزیر داخلہ امیت شاہ نے راجیہ سبھا(سینیٹ) میں جموں و کشمیر کا تنظیمِ نو بل پیش کردیا اور اس پر بحث مکمل ہونے سے پہلے ہی صدر رام ناتھ کووند نے جموں و کشمیر حکومت کی 'رضامندی' سے صدارتی آرڈیننس جاری کرکے ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 370 کو بیک جنبش قلم کالعدم قراردے دیا۔

نئے بندوبست کے تحت جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کے اختتام کے ساتھ ہی اسے دو حصو ں یعنی جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کردیا گیاہے۔ جموں و کشمیر اور لداخ دونوں کو ہندوستانی یونین کا حصہ بنادیاگیا۔ جموں و کشمیر میں اپنی قانون ساز اسمبلی بھی ہوگی جبکہ لداخ براہ راست وفاق کا حصہ ہوگا۔

اسی کے ساتھ ہندوستانی ذرایع ابلاغ خاص طور سے سوشل میڈیا پر زبردست پروپیگنڈا شروع کردیا گیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ کشمیر رقبے کے اعتبار سے ہندوستان کی سب سے بڑی Territory ہے جسکی اپنی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔ یہ اعزاز اسوقت صرف  دہلی اور پانڈے چری کو حاصل ہے۔

 ممتاز صحافی منیش کمار نے وائس آف امریکہ پر کہا کہ 35-Aکی پابندیوں کی وجہ سے کشمیر میں بیرونی سرمایہ کاری کا راستہ بند تھا جس کی وجہ سے ساری وادی غربت کا شکار ہے اورکاروبار کے مواقع محدود ہیں۔ ملکی سیاست و اقتداراور تمام وسائل  پر بھی چندخاندانوں کا قبضہ ہے لیکن اب یہاں ترقی کے دروازے چوپٹ کھل جائینگے اور ساری دنیا سے سرمایہ کار کشمیر آئینگے جہاں سیاحت کے میدان میں لامحدود مواقع موجود ہیں۔ اس سرمایہ کاری سے نئے کاروبار اور روزگار کے لاکھوں مواقع ہونگے جس سے وادی میں خوشحالی آئیگی۔ امریکہ کے دامادِ اول جیررڈ کشنر نے 25 جون کو بحرین میں ہونے والی عظیم الشان امن کانفرنس کے موقع پر خوشحالی کا ایسا ہی منصوبہ فلسطینیوں کو پیش کیا تھا۔ انھوں نے امریکہ، عرب اور اسرائیلی تاجروں کے تعاون سے فلسطینی علاقوں میں زبردست معاشی سرگرمی کی پیشکش  کی تھی۔ انھوں نے چارٹ اور گراف کی مدد سے ثابت کیا کہ کاروبار کے ان نئے مواقع سے صرف چند برسوں کے دوران غزہ اور غرب اردن میں دودھ و شہد کی نہریں بہنے لگیں گی۔ لیکن فلسطینیوں نے آزادی و استقلال کی فاقہ کشی کو غلامی کی شکم پروری پر ترجیح دیتے ہوئے اس منصوبے کو جسے Deal of Centuryکا نام دیا گیاتھا یکسر مسترد کردیا۔

بھارتی فوج نے پوری وادی کو جس بری طرح ظلم کے شکنجے میں کسا ہواہے اسے دیکھتے ہوئے نہتے کشمیریوں کی جانب سے کسی بڑے ردعمل کی توقع نہیں لیکن سید علی گیلانی نے  14 اگست کو یوم پاکستان کے موقع پر ساری وادی میں پاکستانی پرچم لہرانے کے ساتھ370 کی منسوخٰ کے خلاف بھرپور مہم چلانے کا اعلان کیا ہے جس میں حریت کانفرنس کے ساتھ انھیں ہندوستان  نواز رہنماوں کی حمائت بھی حاصل ہے۔ نظربندی کے دوران اخباری کانفرنس سے مواصلاتی خطاب میں عمر عبداللہ نے بھارتی  متنبہ کیا کہ آرٹیکل 370سے چھیڑ خانی مودی سرکار کو مہنگی پڑیگی۔ محبوبہ مفتی بول اٹھیں کہ 1947 میں دو قومی نظریہ مسترد کرکےکشمیری قیادت نے ہندوستان سے الحاق کا  جو فیصلہ کیا تھا وہ آج غلط ثابت ہوا۔

پاکستانی سرحد کے قریب بھارتی فوج کے جارحانہ عزائم کو دیکھ کر بعض عسکری تجزیہ نگار یہ خدشہ بھی ظاہر کررہے ہیں کہ ہندوستانی فوج  پر زبر دست حملہ کرکے آزاد کشمیر میں فوجی دستے داخل کرنے کی کوشش کریگی۔  دو ایٹمی طاقتوں کےدرمیا ن خوفناک  جنگ کے نتیجے میں ساری دنیا میں بیچینی پھیلے  گی اور اقوامِ عالم پر دباو بڑھے گا۔ عمران ٹرمپ چوٹی ملاقات میں  ثالثی کی شرلی پہلے ہی چھوڑی جاچکی ہے۔خدانخواستہ اگر ہندوستان سرحد عبور کرنے میں کامیا ب ہو گیا تو امریکی صدر پاکستان کو دباو میں لے کر  کشمیر کیلئے اپنی مرضی کا حل مسلط کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

ہفت  روزہ فرائیڈے  اسپیشل کراچی  9 اگست 


2019

 

 

 

 

Monday, August 2, 2021

ناپائے ماندن نہ جائے رفتن

ناپائے ماندن نہ جائے رفتن  

طویل وقفے کے بعد مشرقی بیت المقدس کے قدیم محلے شیخ جرّاح کے تنازعے پر اسرائیلی عدالتِ عظمیٰ نے سماعت کا پیر کو دوبارہ  آغاز کیا۔

شیخ جراح ، اسرائیل کے قیام سے 83 سال پہلے 1865 میں سلطان صلاح الدین ایوبی کے ذاتی طبیب  شیخ جراح کے نام پر آباد ہوا۔

اسرائیل بیت المقدس کی لسانی، مذہبی و معاشرتی شناخت تبدیل کرنے کیلئے یہاں سے فلسطینیوں کو نکالنا چاہتا ہے۔ چنانچہ چند برس پہلے کہا گیا کہ شیخ جراح میں  آباد لوگوں کے پاس قبضے (لیز) کی قانونی دستاویزات نہیں ہیں۔ کچھ دن بعد یہاں کے مکینوں کو عدالت سے چٹھیاں آنی شروع ہوئیں۔ ان نوٹسوں میں اسرائیلی شہریوں کی اجتماعی درخواست کا حوالہ دیتے ہوئے حکم دیا گیا کہ آپ لوگ یہاں غیر قانونی طور پر آباد ہیں  لہٰذا جلد ازجلد جائیداد خالی کردیں

جب شیخ جراح کے رہائشیوں نے عدالت سے رجوع کیا تو معلوم ہوا کہ 'لیزدستاویزات' غیر مصدقہ ہونے کی بناپر ساری زمین  بحقِّ سرکار ضبط کرکے 'شفاف نیلامی' کے ذریعے ایک تعمیری ادارے نہلۃ السائمن Nahalat Shimon کو فروخت کی  جاچکی ہے۔اب  عام اسرائیلیوں نے نہلہ سے رہائشی اور کاروباری پلاٹ خرید نے کے بعد  پراپرٹی پر قبضے کیلئے عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔ سائلین کا دعویٰ بڑا مضبوط ہے کہ نہلۃ نے ادائیگی براہ راست سرکار کو کی ہے جن سے عام اسرائلیلیوں نے نہ صرف پلاٹ خرید کر انتقال کی کاروائی مکمل کرلی ہے بلکہ بینکوں سے قرض منظور ہونے کے بعد تعمیراتی اداروں سے معاہدے بھی ہوچکے ہیں۔وزارت  دفاع نے یہاں آباد لوگوں کوبیدخل کرکے غرب اردن کے مہاجر کیمپ منتقل کرنے کا پورا منصوبہ بھی جاری کردیا۔ نہلۃ کا کہنا تھا کہ اس مقام پر اسرائیلیوں کیلئے  530 مکانات اور شاپنگ سینٹر تعمیر ہونگے۔

فلسطینیوں نےملکیت کی تصدیق کیلئے عثمانی دور کی لیز دستاویزات پیش کیں جو انگریزی، عربی اورترکی میں تھیں اور ساتھ ہی اسکا تصدیق شدہ عبرانی ترجمہ بھی جمع کرادیاگیا لیکن عدالت سے دستاویز مسترد کردیں اور آخری سماعت کیلئے 10 مئی کیا تاریخ دی گئی۔

عدالت کے جانبدارانہ روئے پر عوامی احتجاج شروع ہو جسکے جواب میں  خون کی جوہولی کھیلی گئی وہ انسانی تاریخ کا ایک سیاہ باب بن چکا ہے۔ اسرائیلی فضائیہ نے غزہ کوریت کاڈھیر بنادیا جسے جو بائیڈن  اور مغربی دنیا نے انتہائی بے شرمی سے راکٹوں کا مناسب جواب قراردیا۔ تاہم اس تباہی کے باوجود فلسطینی ڈٹے رہے۔ جنگ کے بعد حکومت سازی کی مصروفیتوں میں عدالتی کاروائی ملتوی ہوتی رہی۔ اس دوران فلسطینیوں کے عزم میں کمی نہ آئی اور اہل غزہ نے متنبہ کیا ہےکہ اگر شیخ جراح کی ایک اینٹ بھی گری توراکٹ باری دوبارہ شروع ہوگی۔ غزہ تباہ ہوچکا لہٰذا ہمیں مزید تباہی کا اب کوئی خوف نہیں۔

پیر 2 اگست کا اس مقدمے کی جب دوبارہ سماعت ہوئی تو ججوں نے تاثر دیا کہ clear cut ruling 'قومی و عوامی مفاد' میں نہیں اور دونوں فریق مفاہمانہ روش اختیار کریں۔ ججوں کا کہنا تھا کہ فلسطینی کئی نسلوں سے یہاں آباد ہیں لہذا انھیں ہٹانا مناسب نہیں، اگر لیز دستاویز میں سقم ہے تو اسے دور کرلیا جائے

نہلۃ نے سوال اٹھایا کہ انھوں نے زمین کی خریداری پر جو رقم خرچ کی ہے، اسکاکیا ہوگا؟اس پر  ججوں کی جناب سے یہ تجویز آئی کہ اس ضمن سے ہرگھر نہلۃ کو 465ڈالر سالانہ اداکرے۔

فلسطینیوں کیلئے یہ تجویز صرف قابل اعتراض ہی نہیں بلکہ مبہم  بھی ہے کہ

  • یہ رقم کیوں اور کتنے عرصے تک ادا کی جائیگی؟
  • نہلۃ اس رقم کو بطور کرایہ وصول کریگی جسکا مطلب انکی ملکیت کو تسلیم کرنا ہوگا

فلسطینیوں نے اپنے جواب میں اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جائیداد پر انکے قبضے کو قانونی تحفظ دیکر اس تنازعے کی بیخ کنی کردی جائے

دیکھنا ہے کہ اگلی سماعت میں اٹارنی جنرل کیا جواب دیتے ہیں۔ حکومت اور عدالت کے روئے سے پتہ چلتا ہے کہ  اسرائیل، احساسِ کمتری کے مارے پاکستانی دانشوروں کی طرح غزہ کے راکٹوں کو بے ضرر پھلجڑی  نہیں سمجھتا اور وہ فلسطینیوں کے عزم کوسنجیدہ لے رہا ہے۔