Thursday, March 16, 2023

ایران سعودی عرب تعلقات کی بحالی بات چیت کی جیت، امن کی فتح

 

ایران سعودی  عرب تعلقات کی بحالی

بات چیت کی جیت، امن کی فتح

فرقہ واریت کی بارودی سرنگوں سے پٹی پُر پیچ شاہراہ  

گزشتہ ہفتے چین ابلاغ عامہ پر چھایا رہا۔ جمعہ 10 مارچ کو صدر ژی جن پنگ،  جمہوریہ چین کے صدر منتخب ہوگئے۔ یہ ٓ موصوف کی اس منصب پر مسلسل تیسری کامیابی ہے اور اس اعتبار سے وہ چئیر مین ماوزے تنگ کے بعد چوتھی مدت  شروع کرنے والے دوسرے چینی  رہنما ہیں۔ رائے شماری کے دوران عوامی قومی کانگریس (پارلیمان) کے تمام 2952 ارکان نے انکی حمائت میں ہاتھ کھڑے کئے۔ واضح رہے کہ پرچہ انتخاب پر جناب ژی جن  پنگ  کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہ تھا۔یہ خبر اہم تو تھی لیکن کسی بھی اعتبار سے غیر متوقع نہیں کہ چینی کمیونسٹ پارٹی میں صدارت کیلئے جناب  ژی جن پنگ کے تمام متوقع حریف 'باعزت' سبکدوش اور باقی  سخت جانوں کو دیوار سے لگادیاگیاتھا۔

تاہم اسکے دوسرے دن بیجنگ سے آنے والی خبر واقعی چشم کشا تھی،  جب سعوی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی  وكالۃ الأنباء السعودیۃ (انگریزی مخفف SPA) نے انکشاف کیا کہ  چین کی ثالثی میں سعودی عرب اور ایران سفارتی تعلقات بحال کرنے پر رضامند ہوگئے ہیں۔ایس پی اے کے مطابق  چینی صدر کی کوششوں سے ایرانی اور سعودی حکام  کے مابین 6 تا 10 مارچ مذاکرات ہوئے ۔ سعودی وفد کی قیادت  قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر مساعد بن محمد العیبان نے کی جبکہ  اسلامی جمہوریہ ایران کے رئیسِ  وفد ، شورای عالی امنیت ملی (SNSC)کے  قیّم، امیر البحر علی شمخانی تھے

ریاض، بیجنگ اور تہران سے  بیک وقت جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 'سعودی عرب اور ایران کے درمیان اچھے تعلقات کی بحالی کے لیے چین کی ثالثی میں نتیجہ خیز اور بامقصد مذاکرات کے بعد  تینوں ممالک اعلان کرتے ہیں کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے اور اسے مزید وسعت  دینے کیلئے چین  کی میزبانی میں مزید بات چیت جاری رہیگی

معاہدے کے تحت ریاض و تہران  ایک دوسرے کی خودمختاری کے مکمل احترام اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر سختی سے قائم رہینگے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک ہمسائیگی کے تعلقات کو فروغ دینے کیلئے پرعزم ہیں اور دو ماہ کے اندر ایران اور سعودی عرب اپنے سفارتخانے دوبارہ کھولدینے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ تمام تصفیہ طلب امور کو سفارتی سطح پر بات چیت کے ذریعے حل کرلیا جائے۔اس ضمن میں معاہدے کی شرائط پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے سعودی عرب اور ایرانی وزرائے خارجہ جلد ہی ایک اجلاس منعقد کریں گے۔مشترکہ  بیان میں دونوں ملکوں کے در میان 2001 کے سیکیورٹی تعاون اور 1998 کے معیشت، سائنس اور کھیلوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں  کو موثر و فعال بنانے  کی ضرورت کو تسلیم  کیا گیا۔ مختصر الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ پانچ روزہ طویل مذاکرات کے بعد ایران و سعودی عرب نے اپنے تعلقات کو معمول پر لانے کا فیصلہ کرلیا جسے سفارتی اصطلاح  میں 'نارملائزیشن' کہا جاتا ہے۔

سعودی عرب اور ایران دو ایسے پڑوسی  ہیں جنکے درمیان 56 کلومیٹر چوڑی خلیج حائل ہے ۔ ایران اور جزیرہ نمائے عرب کے درمیان واقع یہ 989 کلومیٹر طویل خطہ آب بحر احمر  (Red Sea)کو بحیرہ عُمان  اور بحیرہ عر ب کے راستے  بحر ہند تک رسائی دیتا ہے۔ نہر سوئر نے بحر احمر کو بحر روم سے ملادیا ہے  لہذا  اس خلیج کو یورپ اور ایشیا کی مرکزی آبی شاہراہ کہا جاسکتا ہے۔ خلیج کا نام متنازع ہے۔ جغرافیہ دانوں کیلئے یہ خلیجِ فارس ہے جبکہ عرب اس بات پر مصر ہیں  کہ اسے خلیج عرب کہا جائے۔ ایک انٹرویو میں جب مشہور اطالوی صحافی محترمہ اوریانہ فلاسی نے  انقلابِ اسلامی ایران کے قائد حضرت آئت اللہ خمینی سے پوچھا آپ کیلئے یہ خلیج فارس ہے یا خلیج عرب؟ تو امام صاحب بے دھڑک بولے نہ عرب نہ عجم یہ خلیجِ اسلام ہے کہ اسکی چارو ں طرف مسلمان آباد ہیں۔

ایران میں 1979 کے اسلامی انقلاب سے جہاں مغرب کے ہاتھوں کے طوطے اڑے وہیں  مسلم دنیا اور باالخصوص خلیجی ممالک میں بیچینی پیدا ہوئی۔ایرانی انقلاب کے صرف 19 ماہ بعد  عراق  ایران پر چڑھ دوڑا اور صدر صدام نے اسے عرب و عجم کی جنگ قراردیا۔ سعودی عرب سمیت تمام خلیجی ممالک نے عراق کیلئے اپنے خزانوں کے منہہ کھولدئے۔ آٹھ سال جاری رہنے والی یہ بے مقصد خونریزی دونوں طرف کے 15 لاکھ مسلمانو ں کوچاٹ گئی اور زمانہ جاہلیت کی  عرب و عجم کشیدگی اپنی مکروہ ترین شکل میں پوری قوت سے دوبارہ ابھر آئی۔  

 اسی نوعیت کا عدم تحٖفظ 2011کے آغاز پر شمالی افریقہ سے برپا ہونے والے الربیع العربی (عرب اسپرنگ) کے موقع پر دیکھا گیا جب تیونس اور مصر کی آمریتوں کو عوامی بیداری کا سیلاب بہا کر لے گیا۔ عرب اسپرنگ سے خوفزدہ قوتوں نے عوامی سیلاب کا راستہ روکنے کیلئے فرقہ واریت کے بند کھڑے کئے اور جلد ہی یہ عظیم الشان تحریک اس دلدل میں پھنس گئی۔ یمن اور شام میں  فروعی منافرت کی آگ بہت تیزی سے بھڑکی۔ مصر میں فوج نے شبخون مارا تو لیبیا میں عالمی قوتوں نے انقلاب کا راستہ کھوٹا کردیا۔

یمن میں شیعہ سنی تنازعے میں ایران براہ راست کود پڑا۔ انکی حمائت یافتہ حوثی ملیشیا نے  2014 میں دارالحکومت صنعا سمیت ملک کے  بڑے حصے پر قبضہ کرلیا اور  2015 میں سعودی عرب اس تنازعے کا ایک  فریق بن گیا۔ سعودی اور متحدہ عرب امارات کے بمباروں نے  سارےیمن کو نشانہ بنایا،  اس اس جنگ نے ایک بدتین انسانی المئے کو جنم دیا اور یمنی مسلمان چکی کے ان دوپاٹوں کے درمیان  پِس کر رہ گئے۔

 لبنان میں  ایران نواز حزب اللہ کے مقابلے میں ریاض نے سُنّی انتہا پسندوں  کی پشتیبانی کی۔ دوسری طرف شام میں بعثی ملیشیا، امریکہ نواز جمہوری اتحاد اور ترک مخالف کرد ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوگئے۔ داعش ، روس کے ویگنر دہشت گرد اور سارے عالم عرب کے جنگجووں نے شام کارخ کرلیا۔ لبنان اور شام میں سعودی ایران کشمکش کا سب سے زیادہ نقصان فلسطینیوں کو ہوا کہ سعودی انھیں حزب اللہ کا حمائتی سمجھتے ہیں اور شیعوں کا خیال کہ حماس آخر کو تو سنی ہیں۔ اس کشمکش کا اسرائیل نے خوب فائدہ اٹھایا۔ شام اور لبنان میں  شہری ٹھکانوں، ہوائی اڈوں اور دوسری کلیدی تنصیبات کو  امریکی ساختہ اسرائیلی بمباروں نے تہس نہس کردیا۔

تاہم ایران، سعودی عرب اور خلیجی اتحادیوں کو اندازہ ہورہا تھا کہ جنگ بند گلی میں داخل ہوچکی ہے اور اس دلدل سے فیصلہ کن وار  ممکن ہی نہیں۔ دونوں جانب بات چیت کی خواہش،  لیکن عدم اعتماد کے اندھیرے نے راستہ اوجھل کردیا تھا۔ یہ کشیدگی اسوقت اپنے عروج کو پہنچی جب جنوری 2016 میں سعودی عرب نے 47 دوسرے افراد کیساتھ ممتاز شیعہ عالم نمر باقر النمر کا سرقلم کردیا۔ انھیں بدامنی پھیلانے کے الزام میں عدالتوں نے سزائے موت سنائی تھی۔ ایران کی جانب سے اس سزا پر شدید رد عمل سامنے آیا  ۔ تہران میں مشتعل ہجوم نے سعودی سفارت خانے پر حملہ کیا اور عمارت نذرِ آتش کردی گئی۔ ایرانی حکومت نے واقعے میں ملوث 100 افراد کو گرفتار کیا لیکن سعودیوں کا کہنا تھا کہ حملہ ایرانی حکومت نے کروایا ہے چنانچہ دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات منقطع ہوگئے۔ بحرین نے بھی سعودی عرب سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ایران میں اپنے سفارتخانے کو تالہ لگادیا۔

کشیدگی اور عدم اعتماد کے باوجود سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ایران سےتعلقات بہتر بنانے کے خواہشمند تھے۔ اپنے رویۃ (Vision)  2030  کے بارے میں  وہ بے حد سنجیدہ ہیں اور  2030 تک سعودی عرب کو  تیل بیچنے والے ملک کے بجائے ایک اہم سیاحتی و تجارتی مرکز بنائا چاہتے ہیں اور یہ اسی  صورت ممکن ہے جب علاقہ کشیدگی سے پاک اور سعودی عرب کی شناخت ایک امن دوست ملک کی حیثیت سے ہو۔ دوسری طرف ایران بھی کشیدگی سے تنگ آیاہوا ہے۔ ستمبر 2022 میں کرد لڑکی مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد سے وہ اندرونی خلفشار اور  مغربی ممالک کی  جانب سے نئی پابندیوں کی زد میں ہے۔ چنانچہ بیان بازی اور جواب الجواب کیساتھ خاموش لیکن موثر سفارتکاری کا آغاز ہوا۔ یعنی 'اس طرف ہے گرم خوں اور انکو عاشق کی تلاش '

 سعودی عرب کو امریکہ کے روئے پر گہرے تحفظات ہیں۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران صدر بائیڈن نے  سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سعودی ولی عہد کے ممکنہ کردار کا مبہم سا ذکر کیا تھا۔ اگرچہ حکومت سنبھالنے  کے بعد سے وہ اس معاملے میں بے حد محتاط ہیں لیکن سعودی شہزادے کو انتخابی مہم کی بات یاد رہی۔ امر یکی کانگریس  (مقننہ) میں  مخصوص مفادات کیلئے کام کرنے والے ترغیب کاروں (Lobbysists)کے اثرات بہت زیادہ ہیں  اور یہاں ہر وقت مختلف ممالک کے خلاف قراردادیں اور  مسودہ قانون پیش ہوتے رہتے ہیں۔ادھر کچھ عرصے سے یہ کہا جارہا ہے کہ نائن الیوں (9/11) واقعہ میں جو  19 مبینہ دیشت گرد ملوث تھے ان میں 16 کا تعلق سعودی عرب سے تھا اسلئے  ریاض کو مالی نقصانات کی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے یعنی متاثرین کو رقم کی ادائیگی کیلیئے سعودی اثاثہ جات پر دعویٰ کیا جاسکتا ہے۔۔ تیل کی پیدوار بڑھانے کیلئے صدر بائیڈن سعودی عرب پر جس بھونڈے انداز میں دباو ٖڈال رہے ہیں وہ بھی سعودی شہزادے کو پسند نہیں۔

دوسری طرف دوستی ، مفاہمت اور سفارتی رکھ رکھاو کے حوالے سے  چین کی اپنی ایک مخصوص  شناخت ہے۔ چین،  عالمی تنہائی کا شکار ایران سے  برابری کی بنیاد پر تعلقات کیلئے مخلص نظر آرہا ہے چنانچہ چین کی ثالثی پر ایران و سعودی عرب تیار ہوگئے۔ جیسا کہ ہم نے سرنامہ کلام میں عرض کیا، شاہراہ امن و اعتماد طویل و پر پیچ ہونے کیساتھ عالمی قوتوں کی بچھائی بارودی سرنگوں سے پٹی پڑی ہے صبر و ضبط کی پکڈنڈی سے قدم ذرا بہکا اور اعتماد کی ساری پونچی راکھ کا ڈھیر۔ لیکن اگر ایران و سعودی  اخلاص و اعتماد کیساتھ آگے بڑھتے رہے تو امن کے نتیجے میں نہ صرف  دونوں ملکوں کے کروڑوں شہری امن و خوشحالی سے مستفید ہونگے اور شہزادہ محمد بن سلمان کے کیلئے رویۃ 2030 کا ہدف حاصل کرنا سہل ہو جائے گا بلکہ افغانستان سے لبنان تک ہر جگہ کشیدگی کم ہوگی۔

یہ شاندار پیش رفت دنیا بھر کے امن پسندوں کیلئے باعث مسرت ہے۔خانہ جنگی کا شکار شامی، اہل یمن و عراق اور ساکنانِ افغانستان  بہت امید و آرزو کیساتھ ایران اور سعودی عرب کی کشیدگی ختم ہونے کی دعا کررہے ہیں لیکن اسرائیل کو اس پر شدید تشویش ہے۔ اسرائیلی حزب اختلاف سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کو نیتھن یاہو حکومت کی ناکامی قرار دے رپی ہے۔ اسرائیل کی  پریشانی آنے والے دنوں کیا روپ اختیار کریگی اس بارے میں ابھی کچھ کہنا مشکل ہے  کہ دائیں بازو کی  انتہا پسند حکومت مفاہمت کی کسی بھی کوشش کو کمزوی گردانتی ہے۔اس حوالے سے  واشنگٹن نے  سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی پر  'اطمینان' کا اظہار تو کیا ہے مگر لہجے میں گرمجوشی کی ہلکی سی رمق بھی نہیں۔

باقی ساری دنیا ریاض و تہران کے مابین کشیدگی ختم ہونے کی اس امید افزا خبر پر مسرور نظر آرہی ہے۔ ہمیں اس معاہدے پر

چینی  وزیر خارجہ  کا یہ ایک سطری تبصر ہ بہت پسند آیا کہ

'یہ بات چیت کی جیت، امن کی فتح اور ایسے وقت میں اہم خوشخبری جب دنیا انتشار کا شکار ہے'

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 17 مارچ 2023

ہفت روزہ دعوت دہلی 17 مارچ 2023

روزنامہ امت کراچی 17 مارچ 2023

ہفت روزہ رہبر سرینگر 19 مارچ 2023

روزنامہ قومی صحافت لکھنو




 

 

Thursday, March 2, 2023

دیوانگیِ عشق پہ الزام کچھ تو ہو 'شیروں کی کچھار' عقبہ مذاکرات ۔۔ نشستند، گفتند اور برخواستند

 

دیوانگیِ عشق پہ الزام کچھ تو ہو

'شیروں کی کچھار'

عقبہ مذاکرات ۔۔ نشستند، گفتند اور برخواستند

قیامِ امن کیلئے فلسطیینیوں اور اسرائیل کے درمیان  امن مذاکرات 'خواہش اور آرزو' کے حسین اعلان کیساتھ ختم ہوگئے۔  اتوار 26 فروری کو اردن کے سیاحتی مرکز عقبہ پر منعقد ہونے والی اِس یٹھک کو سیای و حفاظتی یا Political-Securityاجلاس کا نام دیا گیا۔  ایک دن پہلے  فرانسیسی خبر رساں ایجنسی AFPسے باتیں کرتے ہوئے اردنی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ  سیاسی وحفاظتی گفتگو،  جامع امن مذاکرات نہیں بلکہ اسے اسرائیل و فلسطین کے مابین اعتماد سازی کی ایک کوشش سمجھنا چاہئے۔ اردنی سفارتکار  کا  کہنا تھا کہ  اگر کشیدگی پر قابو نہ پایا گیا تو رمضان میں اسرائیل کی جانب سے غربِ اردن اور غزہ پر بھرپور حملوں کا خطرہ ہے۔

عقبہ اجلاس میں اسرائیلی وزیراعظم کے مشیر قومی سلامتی زکی ہانیزبی (Tzachi Hanegbi)   اور خفیہ پولیس شاباک کے سربراہ رونن بر (Ronin Bar)شریک ہوئے۔ فلسطینیوں کی نمائندگی  تحریک آزادیِ فلسطین (PLO)  کے معتمدِ عام حسین الشیخ، فلسطینی خفیہ ایجنسی کے سربراہ ماجد فراج  اور مقتدرہ فلسطین کے ممتاز سفارتکار ماجدی خالدی نے کی جبکہ اردن کے علاوہ مصر اور امریکہ کے نمائندے بطور ِ ثالث و سہولت کار موجود تھے۔

بات چیت کے بعد مشترکہ اعلامئے میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیکر کہا گیا کہ  "مزید تشدد" روکنے کے لئے  تما م فریق مل کر کام کریں گے۔ اعلانِ عقبہ میں اسرائیل نے وعدہ کیا کہ اگلے چار ماہ  نئی اسرائیلی بستیوں کے قیام کا منصوبہ پیش نہیں ہوگا اور  چھ ماہ تک کسی  نئی بستی کی منظوری نہیں دی جائیگی۔

اعلامئے کے تجزئے اور تشریح کیلئے بہت زیادہ عرق ریزی کی ضرورت نہیں کہ  اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتھن یاہو المعروف بی بی گزشتہ ہفتہ بالکل یہی کہہ چکے ہیں جب انھوں نے اعلان کیاکہ صدر بائیڈن کی درخواست پر مقبوضہ عرب علاقوں میں بنائی گئی فوجی چوکیوں کو اسرائیل کا حصہ قرار دینے کی کوئی نئی تجویز “اگلے چند ماہ” تک منظوری نہیں کی جائیگی، تاہم جن 9 چوکیوں پر اسرائیلی بستیاں تعمیر کرنے کے اعلان کیا گیا ہے ، وہ فیصلہ واپس نہیں ہوگا۔ اس چار سطری بیان سے یہ بات بہت واضح ہوچکی تھی کہ اسرائیل قبضہ گردی کا سلسلہ جاری رکھنے کیلئے پرعزم ہے اور  اور اس حوالے سے اسکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔  آبادکاری میں چند ماہ کا وقفہ صدر بائیڈن کو سفارتی فتح دلانے کی ایک کوشش ہے۔

عقبہ کی سیاسی و حفاظتی بات چیت سے پھولنے والے 'خوش فہمی' کے غبارے کو  جناب زکی ہانیزبی نے وہیں یہ کہہ کر سوئی چبھودی کہ نئی بستیوں کے بارے میں اسرائیل کی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی، 9چوکیوں کے اسرائیل سے ادغام اور یہوداالسامرہ (عبرانی تلفظ یہودا والشمران) میں 9500 نئے مکانات کی تعمیر  جاری رہیگی۔ انہوں نے غیر مبہم انداز میں کہا نئی آبادیوں کا کام منجمد نہیں ہوگا اور نہ ہی علاقے میں اسرائیلی فوج کی سرگرمیوں پر کوئی قدغن عائد کی جائیگی ۔ اسی کیساتھ انھوں نے یقیین دلایا کہ  الحرم الشریف  المعروف Temple Mountکی موجودہ حیثیت یا Status Que برقرار رہیگا۔

جب  1967 میں اسرائیل نے بیت المقدس پر قبضہ کیا اس وقت مسجد اقصیٰ کی حیثیت تسلیم کرتے ہوئے تحریری ضمانت دی گئی تھی کہ الحرم الشریف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے جہاں حرمِ کعبہ اور مسجد نبوی کی طرح غیر مسلموں کا داخلہ عرب محکمہ اوقاف کی اجازت سے مشروط ہوگا۔ لیکن گزشتہ ماہ حلف اٹھاتے ہی وزیرقومی سلامتی اور عزمِ یہود پارٹی کے قائد اتامر بن گوئر Itamar Ben-Gvir بنفسِ نفیس القدس شریف چلے گئے اور متکبرانہ انداز میں گنبد صخرا کے دالان میں چہل قدمی فرمائی۔ دیکھتے ہیں کہ  جناب زکی اس حوالے اپنا یہ نیا وعدہ کیسے نبھاتے ہیں۔

اپنے مشیر سلامتی کے وضاحتی بیان سے بی بی کی مکمل  تشفی نہ ہوئی اور انھوں نے ٹویٹر پر ترنت ایک پیغام  جاری کیا کہ  "یہودیہ اور سامریہ میں آبادکاری و تعمیرات  جاری رہینگی اور بستیوں کی تعمیر  (غیر معینہ مدت کیلئے) منجمد نہیں کی جائیگی۔

مغربی کنارے کو یہوداالسامرہ کہنے سے بھی اسرائیلی حکومت کی نیت کا فتور ظاہر ہوتا ہے۔ دریائے اردن اور بحیرہِ مردارکے مغرب  میں واقع 5655 مربع کلومیٹر کے اس زرخیز قطعہِ ارض پر اسرائیل نے 1967 میں قبضہ کیا تھا۔ اقوام متحدہ کی دستاویزات میں اس 'مقبوضہ'علاقے' کا نام الضفۃ الغربیہ یا West Bankہے۔ امریکہ سمیت تقریباً ساری دنیا اسے مغربی کنارہ کہتی ہے۔ اسی بنا پر 'نہر الالبحر ، فلسطین 'عربو ں کا نعرہ ہے یعنی دریائے اردن سے بحر روم تک فلسطین۔ یہودی روایات کی رو سے  یہ علاقہ یہوداوالسامرہ ہے جو عظیم الشان سلطنتِ داود (ع) کا حصہ تھا۔  گویا یہ مقبوضہ سرزمین نہیں بلکہ اسرائیل کا اٹوٹ انگ ہے۔ اسرائیلی قیادت کے  بیانات سے   اُن فلسطینی رہنماوں کے موقف کو تقویت ملی ہے جو عقبہ مذاکرات  کو ڈھونگ اور پی ایل او کو ایک غیر موثر و مفلوج ادارہ کہہ رہے ہیں۔

ارضِ فلسطین کئی دہائیوں سے مقتل بنی ہوئی ہے۔ نہ بازوئے قاتل میں تھکن کے آثار ہیں اور نہ عشاقان کی جانب سے سینہ و سر کی فراہمی میں کوئی کمی۔ اسرائیلی فوج ہر سال رمضان المبارک سے قبل القدس شریف (مشرقی بیت المقدس)  کے قریب پرُ تشدد کاروائیوں میں اضافہ کردیتی ہے۔ لیکن اس بار مسجد اقصیٰ میں دراندازی اور بیحرمتی کے ساتھ دریائے اردن کے مغربی کنارے پر فلسطینیوں کے قتل عام کا جو  سلسلہ عیدالاضحیٰ سے شروع ہوا اسکی شدت تھمتی نظر نہیں آتی۔  غزہ میں اسرائیلی فوج کو داخلے کی ہمت نہیں اسلئے 41 کلومیٹر لمبے اور 9 کلومیٹر چوڑی اس پٹی کو  خوفناک بمباروں نے اپنے نشانے پر رکھ لیا ہے۔

فلسطینیوں کو گزشتہ لبرل حکومت میں بھی کوئی راحت نصیب نہیں ہوئی حالانکہ اخوانی فکر سے وابستہ رعم برسراقتدار اتحاد کا حصہ تھی لیکن دسمبر کے اختتام پر جب  بی بی نے حکومت سنبھالی، معاملات مزید خراب ہوگئے ۔ گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران  فوج کی فائرنگ اور زیرحراست تشدد سے 65 فلسطینی جاں بحق ہوئے، جنکی اکثریت سولہ سترہ سال کے بچوں کی ہے۔ بمباری سے غزہ میں جو ہلاکتیں  ہوئیں اسکا تخمینہ درجنوں میں ہے۔ ہزاروں نوجوان شدید زخمی ہیں جن میں بہت سوں کو تاعمر معذوری کا سامنا ہے۔

دائیں بازو کی قوم پرست سیکیولر جماعت  لیکڈ، خوشنودیِ رب پارٹی (Noam) جماعت عزمِ یہود (Otzma Yehudit)، دینِ صیہون پارٹی (Religious Zionism)، پاسبانِ توریت (Shas)پارٹی اور  متحدہ توریتِ یہود پارٹی پر مشتمل  حکومت  نے اقتدار سنبھالتے ہی مقبوضہ عرب علاقوں میں مکینو ں کو بیدخل کرکے وہاں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کا کام تیز کردیا۔ اسی کیساتھ ایک نیا شوشہ یہ اٹھاکہ  حماس، حزبِ جہاد اور فلسطینی محاذ آزادی نے نابلوس میں تخریبی سرگرمیوں کیلئے  عرین لاسود یعنی شیروں کی کچھار (Lions’ Den)کے نام سے ایک اڈہ قائم کرلیا ہے جہاں گوریلوں کو تربیت دی جاتی ہے۔ اس قسم کی فتنہ گری نئی نہیں۔ ماورائے ضابطہ قتل کیلئے القاعدہ، داعش، الشباب جیسے کئی دیومالائی اہداف تراشے گئے ہیںِ۔ اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے مطابق  شیروں کی یہ کچھار جولائی 2022 میں سجائی گئی۔ اسوقت سے اسکی بازیابی اورپامالی کیلئے اسرائیلی فوج ایک سو سے زیادہ آپریشن کرچکی ہے اور ہر حملے میں بے گناہ فلسطینی مارے گئے۔

یہاں دہشت گردی کے الزام میں گرفتار ہونے والے فرد کا مکان،  الزام ثابت ہونے سے پہلے ہی منہدم کردیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر وہ شخص کرائے دار ہو تب بھی گھر کا انہدام لازمی ہے۔ اسرائیلی قانون میں فلسطینی باشندوں کی جانب سے 'کارِسرکار' میں مداخلت کا ہر عمل دہشت گردی ہے۔ یعنی قبضے کے خلاف مظاہرہ، عوامی مقامات پر فلسطینی پرچم لہرانا یا آزادی کے گیت گانا دہشت گردی ہے۔ گزشتہ سال دسمبر میں ایک 16 سالہ فلسطینی بچی جاناذکرنا جنین میں  اپنے گھر کی چھت پر فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے آزادی کے گیت گارہی تھی کہ اسرائیلی فوج نے اسے گولی ماردی اور اس معصوم  کا تڑپتا لاشہ چھت سے نیچے گر پڑا۔

عرین الاسد کی تلاش میں  دس فروری  تک  فلسطیینوں کے 953 گھر منہدم کئے گئے جسکے نتیجے میں 1031 بالغ افراد (18 سال یا اس سے زیادہ) بے گھر ہوئے۔ اگر بچوں شامل کرلیا جائے تو یہ تعداد کئی ہزار ہے۔ادھر کچھ دنوں سے جنین میں بھی شیروں کی کچھار تلاش کی جارہی ہے۔تنظیم آزادی فلسطین کا کہنا ہے کہ ان کاروائیوں کا مقصد زیادہ سے زیا دہ گھروں  کو مسمار کرنا ہے تاکہ علاقے کو اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کیلئے 'صاف' کیا جاسکے۔

پندرہ فروری کو کچھار کی تلاش میں اسرائیلی فوج نے نابلوس پر زبردست حملہ کیا جس میں ایک 72 سالہ بزرگ اور 16 سالہ بچی سمیت 10 فلسطینی بحق ہوئے۔ ڈیڑھ سو سے زیادہ نوجوان شدید زخمی ہیں جنھیں ہسپتالوں میں زنجیروں سے جکڑ کر رکھا گیا ہے۔اسکے دوسرے دن جنین ہدف بنا جسکا اُمّ یوسف محلہ عملاً ملیامیٹ ہوگیا۔ یہاں ہر گھر کی دیوار گولیوں سے چھلنی ہے۔  ضعیف خاتون اور بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق ہوئے۔ دوسرے دن جب صحافیوں نے علاقے کا دورہ کیا تو  گلیوں میں گولیوں کے خول کی تہیں جمیں ہوئی تھیں ٹائمز آف اسرائیل نے فائرنگ سے جاں بحق ہونے والی  61 سالہ ماجدہ عبید کے پوتے کی تصویر شایع کی جو گولی کا  ایک خول دورہ کرنے والے صحافیوں کو فخر سے دکھا رہا تھا۔

ستم ظریقی کے عرین الاسد کے نام پر نابلوس ا ور جنین میں خون کی  ہولی کھیلنے کے ساتھ ان  پرتشدد کاروائیوں کو تل ابیب  نے  مغربی کنارے پر نئی بستیوں کے قیام کا جواز قرادیا ہے۔  فلسطینیوں کی نجی اراضیوں پر قائم9 فوجی ناکوں  کو مستقل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بی بی نے کہا کہ اسرائیلی فوج اور عوام کو دہشت گرد حملوں سے بچا نے کیلئے ضروری یے کہ ان چوکیوں کو مستقل اور پختہ ٹھکا نوں میں تبدیل کردیا جائے جسکے لئے ملکیت کی منتقلی ضروری ہے۔

اسرائیل کے اس اعلان پر سعودی عرب کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا اور  وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے غرب اردن (فلسطین) کی نو چوکیوں کو اسرائیل کا حصہ بنانے کے اعلان کی شدید مذمت کی ۔ سعودی وزیر کاکہنا تھا کہ اس قسم کی اقدامات سے کشیدگی اور تشدد میں اضافہ ہوگا۔ اسی دن لاطینی امریکہ کے چار ممالک برازیل، ارجنٹینا، چلی اور میکسیکونے فلسطینیوں کو بیدخل کرکےاسرائیلی آبادیاں بسانے کی  شدید مذمت کی۔ برازیل سے جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں اس فیصلے کو بین الاقومی قوانین اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 (2016) کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔امریکہ بہادر نے بھی اسرائیلی حکومت کے فیصلے پر 'تشویش' کا اظہار کیا ۔ قصر مرمریں (وہائٹ ہاوس) کی نائب پریس سکریٹری محترمہ کرین جین پئر نے  نئی آبادیاں بسانے کے فیصلے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے علاقے میں پائیدار امن کی کوششوں نقصان پہنچے گا۔ تاہم واشنگٹن نے  ویٹو کی دھمکی دیکر سلامتی کونسل میں اسرائیل کےخلاف  متحدہ عرب امارات کی  مذمتی قرارداد رکوادی،

نئی بستیوں کے اعلان اور کچھار کے بہانے فلسطینیوں کے قتل عام  پر مسلم و عرب دنیا کاردعمل مایوس کن بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ اسی دوران  عُمان نے اپنی فضائی حدود اسرائیلی طیاروں کیلئے کھولنے کا اعلان کردیا۔ دوسری طرف سی این این CNNکو انٹرویو میں بی بی بے بہت ڈھٹائی سے کہا کہ 'فلسطین میں امن کو اپنے دماغ پر سوار مت کرو۔ جب عرب دنیا اور اسرائیل کے تنازعات ختم اور تعلقات معمول پر آ جائینگے تو فلسطینیوں سے امن کا ایک “معقول” حل تلاش کرلیا جائیگا'

اردن کی  یہ کوششیں قابل تحسین ہیں لیکن امن کی راہ میں رکاوٹ اسرائیل کا متکبرانہ رویہ ہے۔ تل ابیب خود کو  دنیا کے کسی بھی ادارےکے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتا۔ فلسطینی مکانات کا انہدام اور نئی اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کا کام جاری ہے چنانچہ فلسطینی بھی پروقار مزاحمت کرتے رہینگے اور جواب میں  ظالمانہ قوتِ قاہرہ کا استعمال  بھی ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔ جب تک مہذب دنیا  اسرائیلی کو معقولیت کی لگام ڈالنے کی جرات نہیں کریگی، فلسطینیوں کا قتل عام رکنے والا نہیں۔اس ضمن میں تازہ ترین خبر یہ ہے اسرائیلی کابینہ نے نئے سال کے میزانئے میں وزارت قومی سلامتی کیلئے مختص رقم  دو ارب چالیس کروڑ ڈالر بڑھادی ہے۔ اس رقم سے مقبوضہ علاقوں میں آپریشن کیلئے ہلکے ہتھیار خریدے جائینگے اور جیلوں کے حفاظتی اقدامات کو موثر بنایا جائیگا

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچئ 3 مارچ 2023

ہفت روزہ دعوت دہلی 3 مارچ 2023

روزنامہ امت کراچی 3 مارچ 2023

ہفت روزہ رہبر سرینگر 5 مارچ 2023

روزنامہ قومی صحافت لکھنو




 

Thursday, February 23, 2023

زلزلہ، ترک ماہرین ارضیات نے سرجوڑ لئے سازش کا نظریہ دلیل و منطق سے عاری کچھ تکنینکی گفتگو

 

زلزلہ، ترک ماہرین ارضیات نے سرجوڑ لئے

سازش کا نظریہ دلیل و منطق سے عاری

 کچھ تکنینکی گفتگو

ترکیہ کی مختلف جامعات کے 13 ماہرین ارضیات اور ارضی طبیعات (Geophysicist) نے 5 فروری کو آنے والے خوفناک زلزلے کا تجزیہ شروع کردیا ہے۔ مطالعے کی قیادت استنبول کی جامعہ تیکنیکل علوم(ITU)کررہی ہے۔  ترک سائنسدانوں کی  تحقیق و جستجو کی اس مہم پر گفتگو سے پہلے قارئین کی دلچسپی کیلئےزلزلے کی مبایات پر چند سطور۔ ٰیہاں اس باب میں اپنی علمی کم مائیگی بلکہ بے مائیگی کا اعتراف ضروری ہے۔ اگلے چند پیراگراف میں آپ جو کچھ پڑھیں گے وہ دراصل علماے ارضیات کے گرانقدر کام کی خوشہ چینی ہے جسے مخٹلف مقالوں اور انٹرنیٹ سے حاصل کیا گیا ہے۔

 زمین کی بیرونی سطح جس  پر ہم آباد ہیں وہ سِلوں یا slabs پر مشتمل ہے جنھیں ارضیات کی اصطلاح میں ساختمانی پرتیں یاTectonic Plates کہا جاتاہے۔ یہ سلیں  یا پلیٹیں حرکت کرتی رہتی ہیں، تاہم متصل پلیٹیں اتنے مربوط انداز میں ہِلتی  ہیں کہ ہمیں اسکااندازہ ہی نہیں ہوتا ، جیسے زمین،  سورج کے گرد  1670 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے گھوم رہی ہے لیکن ہمیں اس حرکت کا احساس نہیں ہوتا۔ حالانکہ طلوع آفتاب، دوپہر کو ڈھلنے اوررات کے چھاجانے کی شکل میں ہم اجرام ہائے فلکی کی حرکت کو ہرروز مشاہدہ کرتے ہیں۔

زمین کی سِلیں حرکت کے دوران ایک دوسرے سے ٹکراتی بھی ہیں اور پرتوں کی ناہموا ٹکّر سے ہمیں وقتاً فوقتاً ہلکے پھلکے جھٹکے محسوس ہوتے ہیں۔ ٰجو آبادیاں بڑی پلیٹوں کے وسط پر ہیں انھیں یہ ٹکراو تصاد م اور  رگڑ کا احساس نہیں ہوتا ،لیکن کنارے پر آباد لوگ چھوٹے موٹے جھٹکے محسوس کرتے رہتے ہیں۔

بعض اوقات پلیٹیں  آمنے سامنے آکر ایک دوسرے کا راستہ روک لیتی ہیں یا یوں کہئے کہ جنگلی بھینسوں کی طرح سینگ پھنسالیتی ہیں۔شائد اسی بنیاد پر قدیم یونانیوں خیال تھا کہ زمین کو بھینسا دیوتا نے اپنے ایک سینگ پر اٹھا  رکھا ہےاور جب دیوتا جی تھک جاتے ہیں تو بوجھ دوسرے سینگ پر رکھ لیا جاتا ہے۔ سینگ کی تبدیلی زلزلے کا سبب بنتی ہے۔

ماہرین ارضیات کا خٰیال ہے کہ پلیٹوں کے ایک دوسرے کے سامنے آجانے سے حرکت رُک جاتی ہے لیکن  پشت سے آنے والا دھکابرقرار رہتا ہے۔ دباو بڑھ جائے پر چٹانوں کی شکست و ریخت شروع ہوتی ہے۔ اگر دباو دونوں جانب سے برقرار رہے تو بیچ کا حصہ اوپر اٹھ کر پہاڑ کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ مثال طور پر اگر آپ ایک موٹےکاغذ کو ہموار سطح پر رکھ اپنے ہاتھ کاغذ کے  کناروں پر رکھ کر اسے دونوں جانب سے آگے بڑھانے کی کوشش کریں تو کاغذ بیچ سے اوپر (fold) اٹھ جائیگا۔ارضیاتی ساخت میں اس نوعیت کی تبدیلی  عام طور سے بہت آہستہ ہوتی ہے جس میں لاکھوں پر  بلکہ بعض اوقات کروڑوں سال لگتے ہیں۔

اگر دباو برداشت سے بڑھ جائے تو دونوں پلیٹیں  پھسل کرایک دوسرے کے راستے سے ہٹنے  لگتی ہیں۔ انشقاق کے  اس عمل کو ارضیات کی اصطلاح  میں ruptureکہتے ہیں۔ دونوں پلیٹیں جس مقام پر آمنے سامنے ملی ہوتی ہیں اسے ماہرین ارضیات نے خطِ دراڑ یا faut lineکا نام دیا ہے۔ انشقاق کے نتیجے میں پلیٹیں  اوپر نیچے یعنی عمودی اور دائیں بائیں دونوں  سمت  پھسل سکتی ہیں۔ پلیٹوں کے پھسلنے سے  سطح  زمین پر ارتعاش محسوس ہوتا ہے جو درحقیقت زلزلے کے پہلا جھٹکا ہے۔ ان پلیٹوں کی صرف ایک سینٹی میٹر حرکت خوفناک زلزلے جا سبب بنتی ہے۔

نقطہ انشقاق دراصل زلزلے کا مقام یا Hypocenter ہے جسے بعض ماہرین Focal Point یا Focusبھی کہتے ہیں۔  اسکے عین اوپر سطحِ زمین کا مقام Epicenter کہلاتا ہیے۔ پلیٹوں کے کھسکنے سے جھٹکے کے ساتھ وہ  توانائی بھی خارج ہوتی ہے جو دونوں پلیٹوں  کی حرکٹ رک جانے کے باوجود پیچھے سے آنے والے دھکے کے نتیجے میں  جمع ہورہی تھی۔اسے یوں سمجھئے کہ  آپ نے گاڑی کے بریک پر سختی سے پاوں رکھا ہوا ہے۔ پیچھے سے کئی تنو مند نوجوان گاڑی کو دھکا لگارہے ہیں اور اگر آپ اچانک بریک سے پاوں ہٹالیں تو کیا ہوگا؟ کچھ ایسا ہی انشقاق کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ اس توانائی سے پیداہونے تھرتھراہٹ (Vibrations) زلزلے کے مقام سے سینکڑوں میل دور تک کی زمیں کو ہلاکر رکھ دیتی ہے۔ پہلے جھٹکے کے بعد یہ توانائی رفتہ رفتہ خارج ہوتی رہتی ہے جو رادفات یا  after shocksکا سبب ہے۔

زلزلے کی شدت کو ناپنے کے دوپیمانے ہیں۔ ایک اسکی شدت یا Magnitudeکیلئے جسے Richter Scaleکہتے ہیں کہ اسے فرانسیسی سائینسدان Charles Richterنے 1935 میں ترتیب دیا تھا۔ زلزلہ پیما یا Seismographپر ارتعاش کی شدت کو 1 سے9 پر تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک سے دو شدت کے زلزلے انسانوں کو محسوس نہیں ہوتے۔ چار سے پانچ کو ہلکے زلزلے کا نام دیا گیا ہے۔ پانچ سے چھ کسی حد تک سنجیدہ یا moderate سمجھا جاتا ہے۔ چھ  سے 7 شدت کے زلزلے شدید اور آٹھ کو بڑا جھٹکا کہا جاتا ہے جبکہ آٹھ سے زیادہ شدت خوفناک سمجھی جاتی ہے۔

جیسا کہ ہم نے عرض کیا انشقاق کے نتیجے میں پلیٹوں کے سرکنے سے جہاں جھٹکا محسوس ہوتا ہے وہیں زبردست  Seismicتوانائی بھی خارج ہوتی ہے، توانائی کی لہریں زلزلے  کے نقطہ آغاز یا Hypocenter  سےچہار جانب ارتعاش پیدا کردیتی ہیں۔ توانائی کی شدت یا Intensityناپنے کیلئے اطالوی ماہر طبعیاتی ارضیات Mercalliنے 1902 میں  ایک پیمانہ تجویز کیاجو  Scale Mercalli کہلاتا ہے۔ یہ اسکیل 1 سے12 درجات پر مشتمل ہے۔ ایک سے چار معمولی، پانچ کسی حد تک خطرناک، 6 سے 8 تک سخت اور اسکے بعد اوپر  خوفناک سمجھا جاتا ہے ۔

اب آتے ہیں 6 فروری کے زلزلے کی طرف

امریکی مساحت ارضی USGSکے مطابق، اس زلزلے کا مرکز غازیان تب شہر سے 32.4کلومیٹر شمال مغرب میں سطح زمین سے 17.9کلومیٹر نیچے اور زلزلے کی شدت 7.8تھی۔ توانائی کی شدت کے اعتبار سے اسے Mercalliکے پیمانے پر ایک سے 12  کے معیار پر یہ 11 تھا۔ بر صغیر کے لوگوں نے اس نوعیت کے زلزلے کامشاہدہ  18 برس پہلے کیا تھا جب 8 اکتوبر 2005 کو سارا کشمیر،   اسلام آباد اور خیبر پختونخواہ کا بڑا حصہ لرز اٹھا تھا۔ کشمیر میں آنے والے زلزلے کی شدت  7.6 اور اسکا مرکز سطح زمین سے 15 کلومیٹر نیچے تھا۔

ترکیہ کے جس علاقے میں زلزلہ آیا وہ  افریقی، عرب اور اناطولیہ پلیٹوں کے نقطہ اتصال یا Junctionکے پڑوس میں واقع ہے، چنانچہ وہاں پلیٹوں کی ایک دوسرے سے چھیڑ چھاڑ عام ہے اور وقفے وقفے سے جھٹکے محسوس ہوتے رہتے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق انشقاق کا عمل مشرقی اناطولیہ دراڑ (Fault line)  سے شروع ہوا اور ترک ماہرین کا خیال میں  پلیٹوں کی پھسلنے سے کچھ دوسری دراڑیں بھی سرگرم ہوگئیں۔ زلزلے کے بعد ترک سائیسدانوں نے دراڑ کے 15 کلومیٹر حصے  کا جائزہ (mapping)لیا اور انکا خیال ہے کہ مجموعی طور پر پلیٹیں پانچ مقامات پر انشقاق یا Ruptureکا شکار ہوئیں۔ امریکی مساحت ارضی کا کہنا ہے کہ بیک وقت دوزلزلے آئے۔ پہلے شمال مشرق اور جنوب مغرب کی جانب پلیٹوں کے سرکنے  سے زمین لرز اٹھی جبکہ مشرق سے مغرب کی جانب انشقاق نے دوسرے جھٹکے کو جنم دیا۔ ترک ماہرین تین زلزلوں کی بات کررہے ہیں لیکن  ارضیات  کے دوسرے علما کے خیال میں  یہ نیا زلزلہ نہیں بلکہ ایک مضبوط رادفہ یا After Shockتھا۔

دنیا بھر کے ماہرینِ ارضیات ترکوں کے اس تحقیقاتی مطالعے کو بہت دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔ اسکے نتیجے میں زلزلے کی پیشن کوئی کا کوئی نظام مرتب ہوجانے کا تو کوئی امکان نہیں لیکن پلیٹوں کی حرکت ، انشقاق اور خط دراڑ کے تجزئے سے شائد ان علاقوں کی نشاندہی ممکن ہوجائے جہاں شدید زلزلے کے امکانات  بہت واضح ہیں۔

یہاں ایک نظریہ سارش کا ذکر بھی شائد قارئین کی دلچسپی کاباعث ہو۔ امریکی فوج نے جامعہ الاسکا کے تعاون سے  بلند فضا اور گہرے پانیوں میں  ریڈیو کمیونیکیشن کو موثر بنانے کیلئے High-frequency Active Auroral Research Program یا HAARPکے عنوان سے ایک منصووبہ شروع کیاہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس مقصد کیلئے آواز کی لہروں پر قابو پانے کی جو  تیکنیک وضع کی کئی ہے اسے زیرزمین ارتعاش پیدا کرنے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان لہروں کے ذریعے بادلوں کی حرکت بھی متاثر کی جاسکتی ہے،  گویا چچا سام،  موسم کو بطور ہتھیار استعمال کرنے  یا Weaponizing Weatherکی شیطانی خواہش رکھتے ہیں۔ مستقبل میں شائد HAARPکے ذریعے زلزلہ لانا یا بادلوں کا رخ موڑنا ممکن ہوجائے لیکن فی الوقت یہ ٹیکنالوجی اس مقام پر نہیں پہنچی،  چنانچہ ہمیں   نظریہ سازش   منطق و دلیل سے   محروم اور بے بنیاد نظر آتا ہے۔

حوالہ جات:

Dorling Kindersley, What Causes an Earthquake? (Internet Article)

روزنامہ صباح ترکیہ



Tuesday, February 21, 2023

مسیحی برادری کے ایامِ صوم (LENT)

 

مسیحی برادری کے ایامِ صوم (LENT)

بدھ سے مسیحی دنیا کے لئے انتہائی مبارک و مقدس ایام کا آغاز ہوچکا  ہے جسے Lentکہا جاتا ہے اسے ہم اردو میں روزوں کا موسم بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس سال روزوں کا آغاز 22 فروری سے ہواہے۔ ایام صوم کا پہلا دن یورپ و امریکہ میں Ash Wednesdayیا 'راکھ کا بدھ' کہلاتا ہے ۔اس روزاپنے ماتھوں پر راکھ سے  صلیب کا نشان بناکر  ایام  صوم کا استقبال کیا جاتا ہے ۔ امریکہ فرانس اور بعض دوسرے ممالک میں راکھ کے بدھ سے پہلے والے منگل کو Fat Tuesdayمنایا جاتا ہے جب لوگ روزوں کے آغاز سے پہلے خوب کھاتے پیتے اور موج مستی کرتے ہیں۔ بڑے شہروں میں مارڈی گرا Mardi Gras کے نام سے پریڈ کا اہتمام ہوتا ہے۔ تاہم Fat Tuesday اور مارڈی گرا محض سماجی تہوار ہیں اور انکی کوئی مذہبی حیثیت نہیں۔ مسیحی روزوں کے پس منظر پر ایک مختصر سے گفتگو شائد احباب کو پسند آئے۔

یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ یا John علیہ السلام کی ولادت با سعادت تقریباً ایک ہی زمانے میں ہوئی تھی جسکی تفصیل سورہ آل عمران میں دیکھی جاسکتی ہے۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام ایمان لانے والوں کو مقدس غسل دیا کرتے تھے جسے بپتسمہ کہتے ہیں اسی بنا پر عیسائی دنیا میں حضرت یحییٰ کو John the Baptist علیہ السلام کہا جاتا ہے۔

انجیل مقدس کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام بپتسمہ کیلئے دریائے اردن  (فلسطین) پر حضرت یحییٰ علیہ السلام کے پاس آئے جو اسوقت بنی اسرائیل کی طرف اللہ کے نبی تھے۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بپتسمہ دینا بے ادبی جانا۔ انکا خیال تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرتبے میں ان سے بڑے ہیں اور انھیں خود مسیح علیہ السلام سے بپتسمہ لینا چاہئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ طئے کردہ اصول ہے کہ نیا آنے والا ہر نبی اپنے پیشرو نبی کی شریعت کا پابند ہوتا ہے اور اسوقت تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبوت عطا نہیں ہوئی تھی لہذا حضرت یحییٰ علیہ السلام نے بپتسمہ کی رسم شروع کی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسمِ اطہرکو پانی میں ڈبکی دی۔ پانی سے اوپر آتے ہی آسمان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کی صدا آئی لیکن اسکے ساتھ ہی شیطان آزمائش کیلئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے ساتھ ایک ویرانے میں لے گیا اور انھیں چالیس دن تک مقید رکھا جہاں کھانا پینا بھی میسر نہ تھا۔ اس دوران شیطان انکو اپنی اطاعت کے عوض دنیا کے اقتدار، دولت اور دوسری نعمتوں کی پیشکش کرتا رہا لیکن حضرت ثابت قدم رہے۔ سب سے شدید آزمائش بھوک و پیاس کی تھی ۔ چالیسویں دن شیطان نے انکی نبوت پر شک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر نبی کو اللہ نے معجزہ دیا ہے اور اے عیسیٰ علیہ السلام اگر تم نبی ہو تو دعا کرو کہ اللہ تمہارے لئے ان پتھروں اور مٹی کو رزق بنادے تاکہ تم کم ازکم اپنی بھوک ہی مٹالو۔ جس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں صابر ماں کا بیٹا ہوں۔ میرے رب کو میری تکلیف کا خوب پتہ ہے اور وہ اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے۔حضرت کے اس جواب پر شیطان   یہ کہتا ہوا وہاں سے چلاگیا کہ اللہ نے مجھے آدم علیہ السلام کے سامنے بھی ایسے ہی رسوا کیا تھا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس بھوک و پیاس کی یاد تازہ کرنے اور شیطانی آزمائش کے مقابلے کیلئے خود کو تیار کرنے کی غرض سے روزے رکھے جاتے ہیں۔ پاکستان و ہندوستان کے مسیحی ان چالیس دنوں میں صرف رات کو ایک بار کھانا کھاتے ہیں لیکن یورپ اور امریکہ میں روزوں کے دوران کوئی ایک محبوب چیز چھوڑ دینا کافی ہے، مثلاً بلانوش حضرات اس عرصے میں شراب ترک کردیتے ہیں۔ سگریٹ نوشی ترک کردی جاتی ہے۔چاکلیٹ کی شوقین خواتین روزوں میں چاکلیٹ نہیں کھاتیں۔ کوک اور سوڈا کے رسیا اس دوران پانی پر گزارہ کرتے ہیں۔کچھ لوگ گوشت چھوڑدیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ روزوں کا اختتام 19 اپریل  کو جمعہ مقدس یا Good Fridayپر ہوگا۔

   جمعہ مقدس اور ایسٹر کے تعین کیلئے مسیحی (Gregorian)کے ساتھ  رومن یا Julianکیلنڈر سے بھی مدد لی جاتی اور حساب کتاب میں اختلاف  کی بناپر  مغرب   میں اختتام ِ موسم صوم  کی تاریخ مختلف ہوتی ہے۔ اس سال مغرب  (رومن کیتھولک)میں 6اپریل  جبکہ مشرق میں  7 اپریل  تک روزے  رکھے جائینگے۔

 مسیحی عقیدے کے مطابق اس روز دن کے بارہ بجے حضرت کو سولی دی گئی تھی اور مسیح علیہ السلام کا جسمِ اطہر 3 گھنٹے سولی پر ٹنگا رہا۔ اسی وجہ سے جمعہ کو 12 سے 3 بجے دوپہر تک رقتِ قلب اور گریہ و زاری سے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ انجیل مقدس کے مطابق سولی کے دودن بعد یعنی اتوار کو حضرت دنیا میں واپس آگئے تھے اور ظہور مسیح کی یاد میں  9 اپریل کو مغربی دنیااور 16اپریل کو  مشرق میں عیدِ ایسٹر Easterمنائی جائیگی۔مسیحی احباب کو Lentکی برکت و رحمت اور عیدِ ایسٹر مبارک۔

تشکر: مفید معلومات کی فراہمی پر میں ڈاکٹرافضال فردوس کا شکر گزار ہوں ، ہیوسٹن میں مقیم ڈاکٹر صاحب ایک عمدہ شاعر اور مسیحی خطیب ہیں۔ڈاکٹر صاحب  خاصے وسیع القلب   ہیں  اور اکنا کی سماجی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے ہیں۔