Friday, July 12, 2024

ایران، فرانس اور برطانیہ کے انتخابات انتہاپسند، قدامت پسند اور اصلاح پسند و معتدل کا شور

 

ایران، فرانس اور برطانیہ کے انتخابات

انتہاپسند، قدامت پسند اور اصلاح پسند و معتدل کا شور

گزشتہ ہفتے انتخابی سیاست ابلاغ عامہ پر چھائی رہی۔ اٹھائیس جون کو ایران میں نئے صدر کا انتخاب فیصلہ کن ثابت نہ ہوسکا، چنانچہ 5 جولائی کو پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والے امیدوار براہ راست صف آرا ہوئے۔فرانس میں 30جون  کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات بھی نتیجہ خٰیز نہ ریے اور  7 جولائی کو دوسرے مرحلے یا Run-off کا میدان سجا۔برطانیہ میں 4جولائی کو 650 رکنی برطانوی دارالعوام کیلئے ووٹ ڈالے گئے۔ اسی دوران امریکہ میں صدارتی مباحثے کے دوران صدر بائیڈن کی مایوس کن کارکردگی نے امریکی صدرکے سیاسی مستقبل کے بارے میں سوالیہ نشان کھڑے کردئے۔ آج کی نشست میں ہم ایران، فرانس اور برطانیہ کے انتخابات کا مختصر جائزہ پیش کرینگے۔ امریکہ کے بارے میں گفتگو انشااللہ آئندہ کسی نشست میں

ایران

ایران میں صدارتی انتخابات اگلے برس ہونے تھے لیکن 19 مئی کو صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں المناک وفات کی وجہ  سے  چناو ایک برس پہلے منعقد ہوا۔ ان انتخابات کی روداد ہم گزشتہ نشست میں عرض کرچکے ہیں۔ نتایج کے مطابق ڈاکٹر مسعود پرشکیان 44.36فیصد ووٹ لیکر پہلے نمبر پر آئے اور 40.35فیصد رائے دہندگان نے سعید جلیلی کے حق میں رائے دی۔ باقر قالیباف 14.41فیصد لیکر تیسرے نمبر پر رہے جبکہ مصطفےٰ پورمحمدی کے حاصل کردہ ووٹ ایک فیصد سے کم تھے۔چونکہ کوئی بھی امیدوار 50 فیصد لے مط نشان تک نہ پہنچ سکا اسلئے پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والے مسعود پرشکیان اور سعید جلیلی کے درمیان 5 جولائی کو براہ راست مقابلہ ہوا جس ڈآکٹر پرشکیان 53.67فیصد ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے۔

مغربی میڈیا مسعود صاحب کو اصلاح پسند قرار دے رہا ہے، شائد اسلئے کہ ڈاکٹر صاحب جبہ و دستار زیب تن نہیں کرتے لیکن آدربائیجان سے تعلق رکھنے والے کرد نسل کے  69 سالہ نو منتخب صدر،  جراحِ قلب (Heart Surgeon)کے ساتھ قرآن کے استاد ہیں اور انھیں نہج البلاغۃ   کا بڑا  حصہ  زبانی یاد ہے۔ڈاکٹر صاحب فوج میں بھی طبی خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ اپنا مطب چلانے کیساتھ جناب مسعود، دانشگاہ علومِ پزشکی (University of Medical Science)تبریز میں پوفیسر بھی ہیں۔ منتخب ہونے کے بعد قوم سے خطاب میں ڈاکٹر مسعود نے کہا کہ ساری دنیا کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔ سب ایرانی اس ملک کے شہری ہیں۔ ملک کی ترقی اور خوشی و خوشحالی کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہے۔

فرانس

فرانس میں ہونے والے انتخابات بھی قبل ازوقت تھے کہ یہاں قومی اسمبلی کی پانچ سالہ مدت 2027 میں پوری ہونی تھی لیکن 9 جون کو یورپی پارلیمان کے انتخابات میں فرانس کیلئے مختص نشستوں پر قدامت پسند نیشنل ریلی (NR)کے ہاتھوں اپنی جماعت کی بدترین شکست پر صدر میکراں نے یہ کہہ کر قومی اسمبلی توڑ دی کہ رائے عامہ کے بدلتے رجحان کے تناظر میں استحقاقِ نمائندگی یعنی مینڈیٹ کی تجدید ضروری ہے۔

اتوار 30 جون کو 577 رکنی قومی اسمبلی کیلئے ووٹ ڈالے گئے۔ ۔فرانسیسی انتخابی ضابطے کے تحت کامیابی کے لئے ڈالے جانے والے کل ووٹوں کے پچاس فیصد اور رجسٹرڈ ووٹوں کے 25 فیصد سے زیادہ لینا ضروری ہے۔ اگرکوئی بھی امیدوار اس نشان تک نہ پہنچ سکے تو پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والوں کیساتھ رجسٹرڈ ووٹوں کا ساڑھے بارہ فیصد سے زیادہ لینے والے امیدواروں کے درمیان run offمقابلہ ہوتا ہے۔ان انتخابات میں چار بڑے اتحادوں

·         صدر میکران کی نشاۃثانیہ (Renaissance) پارٹی، تحریک جمہوریت، ہورائزن پارٹی، ریڈیکل پارٹی اور یونین ڈیموکریٹس پر مشتمل شہری اتحاد (Ensemble)یا ENA

·         بائیں بازو کا نیشنل پاپولر اتحاد (NPF)

·         میری لاپن کا قوم پرست نیشنل ریلی اتحاد (RN/UXD)اور

·         قدامت پسند ریپبلکن اتحاد (LR)نے حصہ لیا۔

پہلے مرحلے میں ووٹ ڈالنے کاتناسب 66.71رہا جو 1997 کے بعد سب سےزیادہ ہے۔ نتائج کے مطابق ایمیگریشن مخالف قوم پرستوں نے 33.1 فیصد، بائیں بازو کے اتحاد نے 28.14فیصد، صدر میکران کے ENAنے 21.27فیصد اور ریپبلکن نے 10.22 فیصد ووٹ لئے۔

پہلے مرحلے میں صرف 76 نشستوں کے نتائج فیصلہ کن رہے جن میں سے 38 پر قوم پرست RN/UXD ارکان منتخب ہوئے اور 32 نشستیں بائیں بازو کے NPF نے جیت لیں۔ دو نشستیں صدر میکران کے ENA نے جیتیں ، ایک نشست ریپبلکن کے ہاتھ لگی اور دو پر دائیں بازو کے آزاد امیدوار منتخب ہوگئے۔ پہلے مراحل کے نتائج صدر میکراں کیلئے مایوس کن ریے کہ انکا اتحاد تیسرے نمبر پر آگیا۔ گزشتہ انتخابات میں انکے اتحادیوں نے 249 نشستیں جیت کر سادہ اکثریت حاصل کرلی تھی۔

ایک ہفتے بعد 7 جولائی کو 501 نشستوں کیلئے دوسرے مرحلے کی پولنگ ہوئی۔

تیس جون کو انتہاپسندوں کی کامیابی سے جہااں غیر ملکی تارکین وطن میں شدید خوف و ہراس پھیلاوہیں روشن خیال اور ترقی پسندوں کے ساتھ ماحول دوست گرین اتحاد بھی قدامت پسندوں سے سخت خوفزدہ تھا، چنانچہ ملک بھر کی مزدور یونینوں، خواتین کی انجمنوں، اساتذہ اور بائیں بازو سے وابستہ عناصر نے زبردست تحریک چلائی اور 7 جولائی کو جب ووٹنگ ختم ہونے کے بعد نتائج آنے کا سلسلہ شروع ہوا تو ایسا لگا کہ گویا بائیں بازو اور گرین اتحاد نے قدامت پسندوں کا راستہ روکدیا ہے۔

انتخابی مراکز پر ووٹ ڈال کر نکلنے والوں کے جائزے یعنی Exit Pollکے مطابق

بائیں بازو کے NPFاور گرین اتحاد کو 177-192

صدر میکران کے ENAاتحاد کو 152-158

اور

دائیں بازو کے قدامت و انتہاپسند اتحاد RN/UCDاتحاد کو 138-145نشستیں ملنے کی توقع ہے۔

فرانس میں حکومت سازی کیلئے کم ازکم 289 نشستوں کی ضرورت ہے اور نتائج کے مطابق تمام جماعتیں اور اتحاد واضح اکثریت کے نشان سے کافی پیچھے ہیں۔ صدر میکراں اور NPFاتحاد ، انتہاپسند میری لاپن سے شرکتِ اقتدارکو تیار نہیں یعنی ENAاورNPFکیلئے مل کر حکومت بنانے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں۔اس صورت میں وزارت عظمیٰ  NPF کو ملنے کا امکان ہے۔ آج انتخابات کے ابتدائی نتائج سامنے آتے ہی وزیراعظم جبریل اتال Gabriel Attalنے استعفیٰ دیکرNPFکیلئے راستہ خالی کردیا۔

آنے والے دنوں میں فرانس کے صدر اور وزیراعظم کا سیاسی قبلہ مختلف سمت میں ہوگا اور اگر مفاہمت و رواداری کا راستہ اختیار نہ کیا جاسکا تو دو ملاوں میں مرغی حرام بھی ہوسکتی ہے۔ کچھ ایسی ہی صورتحال 1997 میں پیش آئی تھی جب ایوان صدارت میں قدامت پسند جیک شیراک رونق افروز تھے تو ایوان وزیراعظم سوشلٹ وزیراعظم Lionel Jospin کے ہاتھ میں تھا۔

انتخابی نتائج کو فرانس کایہودی طبقہ مایوس کن قرار دے رہا ہے۔پیرس کے ربائیِ اعظم موسےٰ صباغ Moshe Sebbagکا خیال ہے کہ انتخابات میں یہود دشمن (Anti-sematic) سوشلسٹ عناصر کی کامیابی کے بعد فرانس میں یہودیوں کا کوئی مستقبل نہیں۔ایک بیان میں ربائی صاحب نے کہا کہ 'میں نوجوان فرانسیسی یہودیوں سے کہتا ہوں کہ وہ فوری طور پر اسرائیل یا کسی محفوط ملک چلے جائیں۔ یہاں انکا کوئی مستقبل نہیں۔ بڑی عمر کے یہودیوں کیلئے  تو یہاں رہنا ٹھیک ہے لیکن ہماری نئی نسل کے لئے فرانس مناسب مقام نہیں۔ (حوالہ: ٹائمز آف اسرائیل)

برطانیہ

یہاں گزشتہ انتخابات دسمبر 2019 میں منعقد ہوئے تھے اور نیا چناو اس سال دسمبر میں ہونا تھا لیکن نسل پرست ایمگریشن پالیسی، مہنگائی اور پارٹی کی اندرونی رسہ کشی کی بناپر حکمران قدامت پسند جماعت المعروف ٹوری پارٹی خاصی غیر مقبول تھی۔ وزیراعظم رشی سوناک کو خوف تھا کہ وقت گزرنے کیساتھ پارٹی کی مقبولیت مزید کم ہوگی لہذا انھوں نے جماعت کے دوسرے رہنماوں کی مخالفت کو نظر انداز کرکے پارلیمان تحلیل کردی۔ انتخابات کا اعلان ہوتے ہی رائے عامہ کے جو جائزے شایع ہوئے وہ ٹوری کیلئے انتہائی مایوس کن تھے اور 4 جولائی کے نتائج نے ان جائزوں کو درست ثابت کردیا۔

ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر حزب اختلاف کی لیبر پارٹی نے دارالعوام کی 650 میں سے 411 نشستیں جیت کر بہت ہی واضح اکثریت حاصل کرلی جو 2005 کے بعد اس جماعت کی پہلی اور پارلیمانی حجم کے اعتبار سے 1997کے بعد سب سے بڑی کامیابی ہے جب ٹونی بلئیر کی قیادت میں لیبر پارٹی نے 418نشستیں جیتی تھیں۔ حکمران قدامت پسند ٹوری پارٹی نے 121 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، پانچ سال پہلے ٹوری کا پارلیمانی حجم 365 تھا۔ ان انتخابات میں لبرل ڈیموکریٹس کی کارکردگی مثالی رہی اور انکے 72 امیدوار کامیاب ہوئے، 2019 میں لبرل کو صرف 11 نشستیں ملی تھیں۔بھر پور کامیابی کے باوجود لیبر کو اسکے مضبوط حلقوں میں فلسطین کے حامی پانچ آزاد امیدواروں نے شکست دیدی جن میں سب سے اہم فلسطینیوں کے پرجوش حامی جیرمی کوربن (Jeremy Corbinکی فتح ہے۔چار سال پہلے اسرائیل پر تنقید  کے “جرم” میں Antisemitismکا الزام لگاکرانھیں لیبر پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ جناب کوربن نے لندن کے مضافاتی حلقےIslington Northسےلیبر پارٹی کے امیدوار کو شکست دیکر دارالعوام کی نشست آزاد حیثیت سے جیت لی۔ تاہم اہل غزہ کے پرجوش وکیل جارج گیلووے (George Galloway)مانچسٹر میں Rochdale کی نشست پر لیبر پارٹی سے شکست کھاگئے۔ اسی حلقے سے انھوں نے فروری کے ضمنی انتخابات میں کامیابئ حاصل کی تھی۔

بھاری اکثریت سے کامیابی ہونے  برطانوی وزیراعظم کئیر اسٹارمر کی پالیسیوں کے بارے میں فی الحال کچھ کہنا قبل ازوقت ہے کہ ابھی انکی حکومت تشکیل ے مرحلے میں ہے لیکن انھوں نے اقتدار سبنھالتے ہی ٹوری پارٹی کی جانب سے غیر ملکی تارکین وطن کو افریقی ملک روانڈا بھجنے کا منصوبہ ترک کردیا ہے۔ سابق حکومت نے تارکین وطن کیلئے روانڈا میں بیگار کیمپ قائم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ چھ جولائی کو اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوتے  نئے وزیاعظم  نے یہ منصوبہ کچرے کی توکری کی نذر کرنے کا اعلان کیا۔ غزہ اور فلسطین کے حوالے سے نئی حکومت پر عوامی دباو تو رہیگا لیکن یورپ اور امریکہ کی طرح برطانیہ پر اسرائیل نواز عناصر کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ اس باب میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں۔ برطانیہ کی نئی خاتون اول 50 سالہ وکٹوریہ کے والد برنارڈ الیگزینڈڑ ایک  راسخ العقیدہ یہودی ہیں جنکی دعوت پر وکٹوریہ کی کیتھولک والدہ نے یہودی مذہب اختیار کرلیا۔

اس ضمن میں برطانیہ کے نئے وزیرخارجہ ڈیوڈ لیمی (David Lammy) نے غزہ میں پائیدار امن کیلئے  بھرپور کوشش کا اعلان کیا ہے۔ گیانا سے آئے ماں باپ کے گھر میں جنم لینے والے ڈیوڈ  نے وزیراعظم سے ملاقات کے بعد کہا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی انکی اولین ترجیح ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 12جولائی  2024

ہفت روزہ دعوت دہلی 21 جولائی 2024

روزنامہ امت کراچی 12 جولائی  2024

ہفت روزہ رہبر سرینگر 14 جولائی 2024


امن معاہدے پر اسرائیل کی آمادگی؟؟؟ غزہ کی گرمی!! بانکوں کا غازہ بکھر رپاہے اسرائیلی وزیر اعظم اور وزیردفاع کی بول چال بند

 امن معاہدے پر اسرائیل کی آمادگی؟؟؟

غزہ کی گرمی!! بانکوں کا غازہ بکھر رپاہے

اسرائیلی وزیر اعظم اور وزیردفاع کی بول چال بند

غزہ میں جنگ بندی کیلئے اسرائیل کی جانب سے کوششیں تیز ہوگئی ہیں اور 'مزاحمت کاروں کو فنا کرنے سے پہلے تلواریں نیام میں نہیں جائینگی 'پر اصرار کرنے والے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتھن یاہو المعروف بی بی نے امن بات چیت کیلئے اپنی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنی کو قطر بھیج دیا۔ایک ہفتہ قبل اسرائیلی فوج کے چھ حاضر اور ریٹائرڈ جرنیلوں نے شناخت پوشیدہ رکھنے کی شرط پرنیویارک ٹائمز کو بتایا تھا کہ معمول سے زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے غزہ  تعینات سپاہیوں میں تھکن کے آثار ہیں تو دوسری طرف شدید جانی و مالی نقصان کے باوجود اہل غزہ پرعزم اورمزاحمت کی شدت برقرار ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نئے مزاحمت کار مارے جانیوالوں کی جگہ لے رہے ہیں۔

ان جرنیلوں کا کہنا تھا کہ مزاحمت کاروں کے مکمل خاتمے پر اصرار کے بجائے ہمیں قیدیوں کی رہائی کے عوض مکمل جنگ بندی کا بائیڈن امن منصوبہ قبول کرلینا چاہئے۔ حسب توقع بی بی نے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کو من گھڑت، گمراہ کن اور دشمن کی سازش قرار دے کر مسترد کردیا

لیکن اسکے دوسرے ہی دن اسرائیل کے عبرانی جرائد میں اسرائیلی قومی سلامتی کونسل کے اعلیٰ افسران کے حوالے سے بھی تقریباً ویسی ہی رپورٹ شایع ہوئی کہ مزاحمت اور غیر معمولی گرمی نے اسرائیلی فوج کا حوصلہ پست کردیا ہے۔کئی مقامات پر مزاحمت کاروں نے فوج پر چھروں سے حملے کئے ہیں جس نے اسرائیلی فوج میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے اور پیادہ فوجی آبادی کے قریب جانے سے ہچکچا رہے ہیں۔ کونسل سے وابستہ اعلی سطحی اہلکاروں کا خیال  ہے کہ غزہ اسرائیل کا افغانستان بننے والا ہے۔

کونسل کی جانب سے وزیراعظم کو بھیجے گئے خفیہ مراسلے کے مطابق 'پاپوش کی کیا فکر کہ دستار سنجھالو' یعنی غزہ کے ساتھ اب غرب اردن میں جاری پرامن مزاحمت، مسلح ہوتی جارہی ہے۔ گزشتہ دنوں جنین، رام اللہ اور نابلوس میں مزاحمت کاروں کی بچھائی بارودی سرنگوں نے کئی اسرائیلی فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتاریا جبکہ ایک درجن کے قریب سپاہی شدید زخمی  ہیں۔ نیتھن یاہو غزہ پر مکمل کنٹرول کا ڈھول پیٹ  رہے ہیں لیکن زمینی حقائق اسکے بالکل برعکس ہیں۔غزہ سے تابوتوں اور معذور سپاہیوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعرات 27 فروری کو ہنگامی کابینہ کے اجلاس میں سلامتی کونسل کے مراسلے پر گفتگو کے بعد ہی اسرائیلی وزیراعظم نے موساد کے سربراہ کو قطر بھیجا۔

مزاحمت کاروں کے ترجمان نے اپنے ایک بصری پیغام میں بتایا کہ اسرائیلی حکومت کے سرد روئے نے غزہ میں زیرحراست اسرائیلی قیدییوں کو نفسیاتی مریض بنادیا ہے۔دوسری طرف مکمل ناکہ بندی اور غذائی قلت کی وجہ سے اسرائیلی قیدیوں کا کھانا پینا بھی متاثر ہورہا ہے۔ترجمان نے انکشاف کیا کہ حال ہی میں کئی قیدیوں نے خودکشی کرے کی کوشش کی۔ویڈیو سامنے آتے ہی  قیدیوں کے لواحقین تشویش کا شکار ہوگئے اورتل ابیب میں ایک مظاہرے کے دوران ایک بڑا بینر لہرادیا گیا جس پر لکھا تھا 'ہتھیار ڈالو، معافی مانگو، فوج واپس بلاو لیکن ہمارے پیاروں کو ہم سے ملادو۔'

اُدھر  صدر بائیڈن سخت دباو میں ہیں۔ صدارتی مباحثے میں بدترین کارکردگی کی وجہ سے ان پر دستبرداری کیلئے دباو بڑھ رہا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کو عطیات دینے والے بڑے معاونین نے صاف صاف کہدیا ہے کہ وہ ہارتے گھوڑے پر رقم لگانے کو تیار نہیں اور نہ صرف صدارتی مہم بلکہ وہ پارٹی کے کانگریس اور بلدیاتی امیدواروں کو بھی چندہ نہیں دینگے۔ چنانچہ امریکی صدر غزہ جنگ بندی کے ذریعے خود کو عالمی سطح کا مدبر اور قائد ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ قصرِ مرمریں  کے مطابق 5 جولائی کو صدر بائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم کو فون کرے غزہ میں  فوری جنگ بندی پر زور دیا۔ بات چیت کے دوران جناب بائیڈن نے نیتھن یاہو کو بتایا کہ غزہ خونریزی سے امریکی مسلمانوں اور امریکہ کے یورپی اتحادیوں میں سخت تشویش ہے چنانچہ اس جنگ کا بند ہوجانا خود اسرائیل اور امریکہ کے مفاد میں ہے۔ بات چیت جیت کے دوران صدر بائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم سے کہا کہ غزہ کی جنگ سے نیتھن یاہو کی مقبولیت متاثر ہورہی ہے اور قیدیوں کی باعزت و سلامتی کیساتھ واپسی سے اسرائیلی وزیراعظم کی سیاسی ساکھ میں اضافہ ہوگا۔  

اسی شام امریکی ٹیلی ویژن ABCکو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا 'میں ہی وہ شخص تھا جس نے مشرق وسطیٰ کے لیے ایک امن منصوبہ تیار کیا جو نتیجہ خیز ثابت ہو سکتا ہے'۔موصوف کا اشارہ اسرائیل اور سعودی عرب کے تعلقات کو معمول پر لانے کی طرف تھا جسے طوفان اقصیٰ نے خاک میں ملادیا۔امریکی صدر کی اس لاف زنی کا مقصد  جناب ڈانلڈ ٹرمپ کے ہاتھوں بننے والی درگت کا ازالہ تھا۔

اسرائیلی امن تجویز کے جواب میں 5 جولائی کو مزاحمت کاروں نے جنگ بندی پر اصولی رضامندی کا اظہار کیا ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق 'اہل غزہ عارضی جنگ بندی، امدادی سامان کی بلاروک ٹوک ترسیل اور اسرائیلی فوج کی غزہ سے پسپائی کے 16 دن بعد خواتین اور ضعیف قیدیوں کی رہائی پر تیار ہوگئے ہیں ۔ اپنے غیر سرکاری جواب میں مزاحمت کاروں نے کہا کہ اسرائیلی فوج کی واپسی کے بعد وہ عارضی جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک توسیع دینے کو تیار ہیں تاکہ قیدیوں کے تبادلے کی تفصیلات طئے ہوسکیں تاہم اس دوران امداد کی ترسیل اور تعمیر نو کے کام میں رکاوٹ جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کی جائیگی۔

غزہ امن کیلئے نیتھن یاہو کی 'خواہش' اور جواب میں مزاحمت کاروں کی آمادگی حوصلہ افزا تو ہے لیکن عسکری محاذ پر پئے در پئے ناکامیوں نے اسرائیلی وزیراعظم کی طبیعت میں جو چڑچڑاپن پیدا کردیا ہے اس سے معاملات کے بگڑجانے کا امکان بھی موجود ہے۔ اسرائیلی ذرایع کا خیال ہےکہ نیٹھن اپنی ناکامی کا ملبہ گرانے کیلئے ہدف کی تلاش میں ہیں۔ عبرانی ٹی وی چینل 12، Ynetاور ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق امن معاہدے پر وزیراعظم نیتھن یاہو اور وزیردفاع یوسف گیلینٹ کی بات چیت بند ہے۔ ہفتہ  جولائی کو اسرائیلی اخبارات میں بی بی (نیتھن یاہو) اور وزیردفاع کی ایک ملاقات کی روداد شایع ہوئی جو کچھ اسطرح تھی

بی بی: آپ موساد کے سربراہ اور  شاباک (داخلی سراغرسانی) کے ڈائریکٹر سے قیدیوں کی رہائی پر بات نہ کیا کریں۔ یہ معاملات میں دیکھ رہا ہوں۔

اگر فوج کے سربراہ اور سراغ رسانی کے ذمہ داروں سے مجھے ملنے کی اجازت نہیں تو میں کس کام کا وزیر دفاع؟ مسٹر گیلینٹ کا سوال

یہی تو کہہ رہا ہوں ، تم وزیراعظم نہیں ہو، اپنی حد میں رہو۔ بی بی

غزہ جنگ کے بارے میں اسرائیل کے پسپائی کی طرف مائل تیور کے باوجود امریکہ میں اسرائیل کے حامی مزید پرجوش نظر آرہے ہیں۔ چار جولائی کو اسرائیل کے زبردست حامی سینیٹرلنڈسے گراہم (Lindsay Graham)کی رہائش گاہ کے باہر غزہ نسل کشی کے خلاف پرامن  مظاہرہ کیا گیا۔اس موقع پر مظاہرین کے نام اپنے بیغام میں سینٹر صاحب نے کہا 'غزہ میں بچوں کو نفرت کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے کرہ ارض پر سب سے زیادہ اور بدترین بنیاد پرست فلسطینی، غزہ کے ہیں۔میں غزہ میں اسرائیلی کاروائی کی مکمل اور غیر مشروط حمائت کرتا ہوں'

اسکے مقابلے میں کولمبیا کے ارکان پارلیمان نے اپنی اسمبلی کی عمارت پر 'غزہ میں نسل کشی بند کرو' کا بینر لہرادیا۔ اسی نوعیت کے بینر اور فلسطینی پرآسٹریلیامیں پارلیمان کی عمارت پر بھی لہرائے گئے۔ یہاں آسڑیلیا ہی سے متعلق ایک واقعہ کا ذکر قارئین کی دلچسپی کا باعث ہوگا۔

آسٹریلیا میں برسر اقتدار لیبر پارٹی کی سینیٹر فاطمہ پیام سینیٹ  میں آزاد فلسطین ریاست کی قرارداد پیش کرنا چاہتی تھیں۔ انھوں نے پارٹی کے رہنما اور وزیراعظم انتھونی البانیز سے جب بات کی تو وزیراعظم نے اپنی 'مجبوری' کا ذکر کرکے انھیں ایوان میں اس معاملے پر کچھ کہنے سے منع کیا۔ فاطمہ نے انھیں یاد دلایا کہ مسئلے کا دوریاستی حل پارٹی کی اعلان شدہ پالیسی کا حصہ ہے۔ تاہم وزیراعظم صاحب خوفزدہ تھے۔ افغان نژاد فاطمہ کہاں ڈرنے والی تھیں چنانچہ انھوں نےقرارداد سیینیٹ میں جمع کرادی جس پر پارٹی نے  فاطمہ کی  رکنیت معطل کردی اور سینیٹ میں اسکا داخلہ بند ہوگیا۔پانچ جولائی کو 29 سالہ فاطمہ نے لیبر پارٹی سے استعفیٰ دیکر آزاد نشستوں پر بیٹھنے کا اعلان کردیا۔ مغرب میں آزادی اظہار ِرائے ایسی مقدس گائے ہے کہ قرآن جلانے اور خاکے اڑانے پر بھی پابندی ممکن نہیں لیکن  ایک منتخب نمائندے کو محض  قرارداد پیش کرنے  پر معطل کردیا گیا۔

آزادی اظہار کا ایسا ہی مظاہرہ 4 جولائی کی برطانوی انتخابات کے موقع پر نظرآیا جب بہت سے انتخابی مراکز پر فلسطینی لہرادئے گئے۔ یہ منظر دیکھ کر انتظامیہ فوراً حرکت میں آئی اور تمام پرچم اتار دئے گئے۔ افسران کہا کہنا تھا کہ غیر قانونی پرچم کشائی کی  جمہوری نظام میں گنجائش نہیں۔ اس پر کسی منچلے نے تبصرہ کیا کہ 'ہلاکت خٰیز جدید ترین اسلحے سے لیس اسرائیلی فوج نہتے اہل غزہ سے خوفزدہ اور دنیا کی قدیم ترین جمہوریت، ایک پرچم سے لززہ اندام

آزادی اظہار اور خواتین کے احترام کے ایک 'شاندار' مظاہرے پر گفتگو کا اختتام

جنگ بندی اور نئے انتخابات کیلئے  30 جون کو تل ابیب میں زبردست مظاہرہ ہوا جسکی قیادت لیبر پارٹی کی رکن پارلیمان نعمہ لزیمیNaama Lazimi کر رہی تھیں۔ نعمہ صاحبہ کے حکومت مخالف نعرے پر پولیس افسر نے خاتون رکن پارلیمان کو تھپڑ جڑدیا، فحش گالیاں دیں اور خوفزدہ کرنے کیلئے کہا گیا کہ اگر نعمہ لزیمی غزہ دہشت گردوں کی حمائت سے باز نہ آئیں تو انکی والدہ کو بے حرمت کردیا جائیگا

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 12جولائی  2024

ہفت روزہ دعوت دہلی 21 جولائی 2024

روزنامہ امت کراچی 12 جولائی  2024

ہفت روزہ رہبر سرینگر 14 جولائی 2024


Thursday, July 4, 2024

غزہ نسل کشی کے کیساتھ غرب اردن میں حیات و اسباب حیات کی پامالی فلسطینی اراضی پر پانچ نئی اسرائیلی بستیوں کا قیام عالمی عدالت میں اسرائیلی قیادت کے پروانہ گرفتاری کے خلاف برطانیہ کی درخواست

 

غزہ نسل کشی کے کیساتھ غرب اردن میں  حیات و اسباب حیات کی پامالی

فلسطینی اراضی پر پانچ نئی اسرائیلی بستیوں کا قیام

عالمی عدالت میں اسرائیلی قیادت کے پروانہ گرفتاری کے خلاف برطانیہ کی درخواست

جیسا کہ اس سے پہلے کئی نشستوں میں ہم عرض  کر چکے ہیں، اسرائیل غزہ نسل کشی جاری رکھتے ہوئے غربِ اردن کے سیاسی جغرفیہ اور معاشرتی و تمدنی ھئیت کو تبدیل کرنے میں مصروف ہے۔ سارے کا سارا غرب اردن محاصرے میں ہے اور فوجی کاروائیوں میں یہاں 600 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ گرفتار شدگان کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ ہے۔ دوکانیں، کارخانے  اورتجارتی مراکز مسمار کردئے گئے جسکی وجہ سے علاقے میں معاشی سرگرمیاں غارت ہوچکیں۔زرعی زمینوں پر بلڈوزر پھیر دئے گئے۔اسرائیلی فوج اور قابضین مویشی ہنکا لے گئے۔ بے گھر ہونے والے ہزاروں فلسطینیوں کو بھیڑ بکریوں کی طرج اردنی سرحد کی طرف دھکیل دیا گیا، جہان تپتی دھوپ میں یہ لوگ کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔بعض مقامات پر اقوام متحدہ نے انکے لئے خیموں کا انتظام کیا ہے۔

حکومت کے انہتاپسند وزیرخزانہ بیزلیل اسموترچ نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نئی بستیوں کی تعمیر شروع کردی۔ گزشتہ سال امریکی صدر نے کہا تھا کہ اسرائیلی حکومت نے مزید بستیاں قائم نہ کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔اسکی تصدیق کرتے ہوئے جناب نیتھن یاہو نے مبہم انداز میں کہا تھا کہ اسرائیلی حکومت 'فی الحال' مزید بستیوں کی منظوری  نہیں دیگی۔ لفظِ 'فی الحال' میں حیلہ سازی کی اسرائیلی روایت پوری مکارانہ شان کیساتھ موجود تھی۔

طریقہ وارادت کچھ اسطرح ہے کہ فلسطینی آبادیوں کے کنارے انسداد دہشت گردی کے نام پر فوج حفاطتی چوکیاں قائم کرتی ہے۔ یہ چوکیاں محض چند مربع گز علاقہ نہیں بلکہ ہر چوکی کیلئے فلسطینیوں کی سینکڑوں ایکڑ زمینیں 'کرائے' پر لی گئیں۔ کرائے سے چھٹکارے کیلئے زیادہ تر مالکان کو دہشت گردی کے الزام میں گولی ماردی گئی۔چوکیوں پر تعینات فوجیوں اور انتظامی اہلکاروں کیلئے قبضہ کی ہوئی اراضی پر رہائشی کوارٹر تعمیر کرلئے گئے۔ ضروری اشیا کیلئے وہاں دوکان بلکہ بازار بھی قائم ہوگئے۔ کچھ عرصے بعد وہاں معبد (Synagogue) بھی تعمیر کرلیاگیا جسکے گرد مزید لوگ آکر آباد ہوگئے۔ 'محلہ'بن جانے والی چوکیوں کو 'پوسٹ'  کا نام دیدیا جاتا ہے۔ پوسٹ دراصل ایسی اسرائیلی بستی ہے جسے قانونی تحفظ حاصل نہیں، بلدیاتی اصطلاح میں یہ کچی بستیاں ہیں۔

اس ہفتےاسرائیلی حکومت نے غر بِ اردن کی چار اور اثقلان میں ایک پوسٹ کو 'قانونی' حیثیت دینے کا اعلان کیا ہے۔یعنی اب یہاں پہلے سے قابض لوگوں کو مالکانہ حقوق دے دئے جائینگے اور بلدیہ سے نقشہ منظور کراکر یہاں پارک، تجارتی مراکز، سڑکوں اور اسکولوں کیلئے مزید اراضی عدالتی حکم کے ذریعے ہتھیائی جائیگی۔ ان بستیوں کو دہشت گرد حملوں سے محفوظ رکھنے کیلئے چوکیاں بناکر قبضےکا نیا سلسلہ شروع ہوگا۔

گزشتہ ہفتے نیویارک ٹائمز نے وزیرخزانہ اسموترچ کے ایک نجی سمعی تراشے (Audio Clip)کا متن شایع کیا تھا جس کے مطابق وزیرموصوف اپنے ساتھیوں کو مبارکباد دے رہے تھےکہ وزیراعظم نے ان پانچ بستیوں کے قیام کی منظوری دیدی ہے۔ وزیراعظم کے دفتر سے اس خبر کی تردید یا تصدیق نہیں ہوئی لیکن 28 جون کو کابینہ کے سکریٹری یوسی فُکس (Yosi Fuchs)نے اعلان کیا کہ ہنگامی کابینہ نےپانچ چوکیوں کو بستی بنانے کی منظوری دیدی ہے۔ فاضل سکریٹری نے وضاحت کی کہ یہ نئی بستیاں نہیں اور اسرائیلی حکومت صرف فوجی چوکیوں پر اپنی ملکیت قائم کررہی ہے۔ کابینہ کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ ان پانچ بستیوں میں کئی ہزار نئے مکانات تعمیر کرنے کی بھی اجازت دیدی گئی ہے۔

اسرائیل اور امریکہ میں برپا پونے والے سیاسی بحران نے فلسطینیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔اسرائیلی بحران کا آغاز  24 جون کو اسوقت ہوا جب اسرائیلی ہائیکورٹ نے لازمی فوجی تربیت سے مدارس کے طلبہ کا استثنٰی غیر آئینی قرار دیدیا۔ لازمی فوجی بھرتی کا اطلاق اب قدامت پسند حریدی فرقے پر بھی ہوگا جنکے ہاں ہر لڑکے کیلئے توریت کی تعلیم لازمی ہے ۔ حفظ توریت کے مدارس یا Yeshivaکے طلبہ کو لازمی فوجی تربیت سے استثنی حاصل ہے تاکہ دوسال کی لازمی فوجی تربیت کی وجہ سے حفظ متاثر نہ ہو۔ حکمران اتحاد کی توریت پارٹی (UTJ)اور پاسبان توریت یا Shasپارٹی کی طرف سے فیصلے کے خلاف شدید رد عمل سامنے آیا۔ شاس کے سربراہ اریہ مخلوف درعی نے ایک بیان میں کہا کہ توریت یہودی قوم کا اصل ہتھیار ہے اور دنیا کی کوئی قوت ہمیں اسکی تعلیم سے باز نہیں رکھ سکتی۔ حریدی فرقے کے روحانی پیشوا موسٰی مایا نے مدارس کے طلبہ کیلئےفوجی تربیت کی مخالفت کرتے ہوئے،  مدرسے نہ جانے والے نوجوانوں کو بھی اسرائیلی فوج میں بھرتی سے منع کردیا۔ ایک ریڈیو انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ توریت کی تعلیم میں خلل ڈالنا “سبت” کا قانون توڑنے سے کم سنگین نہیں۔ مایا صاحب کا کہنا تھا کہ توریت کی برکت سے ہی فوج محفوظ ہے ورنہ بڑی آفت آئیگی۔ربائیوں (یہودی ائمہ) کی ہدایت پر 29 جون (یوم سبت) کو دیوار گریہ کے سامنے اسرائیلی عدلیہ کے خلاف اجتماعی  بددعا کی  گئی۔ اس موقع پر خطبہ سبت دیتے ہوئے صفاردی (Sephardic) یہودیوں کے ربائی اعظم اسحق یوسف نے کہا کہ جاہل جج جو تلمود (یہودی فقہ) کی چند سطر نہیں پڑھ سکتے، مدارس کے بارے میں حکم جاری کررہے ہیں۔ ان جہلا کو توریت اور اسکے علم کی اہمیت کا کیا پتہ ؟

فیصلے کے خلاف Yeshiva کے طلبہ نے فوجی بھرتی مراکز پر مظاہرے کئے۔ اس دوران طالب علموں نے وہیں سڑک پر اساتذہ سے توریت کا سبق لیا ور تلاوت کی۔ مظاہرین نے جو کتبے  اٹھائے ہوئے تھے ان پر لکھا تھا کہ 'اسرائیل اب یہود دشمن (Antisemitic)ملک بن گیا ہے'۔زیراعظم نیتھن یاہو کی حکومت شاس اور UTJکی بیساکھیوں پر کھڑی ہے اگر  یہ جماعتیں UTJحکمراں اتحاد سے الگ ہو گئیں توحکومت تحلیل ہوجائیگی۔وزیراعظم اس فیصلے پر عملدرآمد میں تاخیر کے خواہشمند ہیں لیکن فوجی بھرتی سے Yeshiva کا استثنیٰ ختم ہونے ہی انکی اٹارنی جنرل نے وزارت دفاع کو ہدائت کی کہ فوری طور پر مدارس کے 3000 ہزار طلبہ کو فوج میں بھرتی کیا جائے، ساتھ ہی محترمہ نے دھمکی بھی دی کہ جو مدارس بھرتی میں تعاون نہیں کرینگے انکی سرکاری امداد معطل کردی جائیگی۔حکومتی مدد سے بے نیاز ہونے کیلئے مدارس نے چندہ جمع کرنا شروع کردیا، چند ہی گھنٹوں میں امریکی حریدیوں نے 10 کروڑ ڈالر جمع کرلئے۔عدالتی فیصلے نے وزیراعظم کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔

امریکہ کا سیاسی بحران صدر بائیڈن کی بڑھتی ہوئی غیر مقبولیت ہے۔ جمعرات 27 جون کو ہونے والے صدارتی مباحثے میں امریکی صدر کی آواز لرز رہی تھی، لہجے میں لکنت کے ساتھ انھیں سوالوں کا جواب دینے میں سخت مشکل پیش آئی۔ ایک تجزیہ نگار نے کہا کہ یہ ایک انوکھا مباحثہ تھا، جناب ٹرمپ دھڑلے سے جھوٹ بولتے رہے اور صدر بائیڈن سے بولا ہی نہ گیا۔امریکی صدر بائیڈن کی انتہائی خراب کارکردگی پر ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت پریشان ہے۔ کانگریس کیلئے قسمت آزمائی کرنے والے ڈیموکرٹک امیدوار بھی خوفزدہ ہیں کہ کہیں صدر کیساتھ انکی بھی چھٹی نہ ہوجائے جسے یہاں Down the ballot effect. کہا جاتا ہے یعنی ووٹر صدر کے ساتھ اسی جماعت کی پوری ٹکٹ پر ٹھپہ لگادیتے ہیں۔ انکی جماعت میں یہ بحث شروع ہوچکی ہے کہ نومبر کیلئے پارٹی کا ٹکٹ جناب بائیڈن کے بجائے کسی اور فرد کو عطاکردیا جائے۔ قانونی اعتبار سے ڈیموکریٹک پارٹی جناب بائیڈن کو دستبرداری پر مجبور نہیں کرسکتی لیکن انھوں نے مباحثے میں اپنی خراب کارکردگی کا خود ہی اعتراف کرلیا ہے۔

مباحثے میں دونوں امیدواروں نے  خودکو اسرائیل کا سب سے بڑا دوست و پشتیان ظاہر کیا۔ صدر بائیڈن پرجوش انداز میں بولے'ہم نے اسرائیل کا تحفظ کیا، ہر قسم کی مدد فراہم کی۔فلسطینی مزاحمت کاروں کی کمر توڑدی۔ انکے قائدین کا وہی حشر کیا جو اسامہ بن لادن کا ہوا' ۔جواب دیتے ہوئے سابق امریکی صدر نے کہا  'صدر باائیڈن اسرائیل کے حامی نہیں یہ عملاً فلسطینی ہیں لیکن ایک بیکار فلسطینی، اسی لئے فلسطینی بھی انکو پسند نہیں کرتے ' ڈانلڈ ٹرمپ  نے مزید کہا اگر میں حکومت میں ہوتا تو فلسطینی مزاحمت کار 7 اکتوبر کو حملہ نہ کرپاتے۔ اسلئے کہ غزہ مزاحمت کاروں کو ایران سے مدد ملتی ہے اور ہم ایران کو دیوالیہ کرچکے تھے۔

عدم مقبولیٹ سے گھبرائے ہوئے صدر بائیڈن نے اسرائیل کیلئے 2000 پونڈ کے بموں کی ترسیل دوبارہ شروع کردی۔ر فح پر حملے کے بعد اپریل میں ان ہلاکت خیز بموں کی فراہمی معطل کردی گئی تھی۔ امریکہ کی آن لائن خبر رساں ایجنسی AXIOSکے مطابق روزانہ تین دیوقامت امریکی طیارے ہلاکت خیزی کا سامان صحرائے نقب میں بئیر سبع (Beersheba)کے نواتم فوجی اڈے پر لارہے ہیں۔

امریکہ اور یورپ کی جانب سے اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی نئی بات نہیں لیکن گزشتہ ہفتے انکشاف ہوا کہ ہندوستان بھی غزہ نسل کشی کیلئے اسرائیل کو اسلحہ فراہم کررہا ہے۔ اسرائیلی خبر رساں ادارے Ynetnewsکو ایک انٹرویو دیتے ہوئے  دہلی میں اسرائیل کے سابق سفیر دانیال کارمن Daniel Carmon نے بتایا کہ غزہ جنگ کیلئے ہندوستان، اسرائیل کو ڈرون اور توپ کے گولے فراہم کررہا ہے۔جناب کارمن نے کہا کہ بقول ہندوساتی مشیر سلامتی اجیت دوال، 'یہ 1999 کے  پاک ہندکارگل تصادم میں اسرائیلی مدد پر ہندوستان کا اظہار تشکر ہے'

غزہ نسل کشی کیلئے اسرائیل کو مہلک اسلحے کی بلاروٹوک فراہمی کیساتھ انصاف کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا کام بھی جاری ہے۔برطانیہ نے  2جون کو عالمی فوجداری عدالت (ICC)کے نام ایک  درخواست میں فاضل عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ اسرائیل ICCکو تسلیم نہیں کرتا، لہٰذا اسکے شہری عدالت کے دائرہ اختیار (Jurisdiction)سے باہر ہیں۔اسے بنیاد بناکر اسرائیلی وزیراعظم،وزیردفاع اور فوج کے مجوزہ پروانہِ گرفتاری منسوخ کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔اب وارنٹ کے اجرا سے پہلے عدالت کو برطانوی درخواست نبٹانا ہوگی، جس میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

دنیا بھر کی حمائت و فوجی مدد اور 270 دن کی بلا تعطل بمباری کے بعد بھی اسرائیل، فوجی اہداف کے حصول سے کافی دور ہے۔گزشتہ نشست میں ہم نے اسرائیلی فوج کے ترجمان کی مایوسی کاذکر کیا تھا جنکے خیال میں غزہ مزاحمت عسکری سے زیادہ نظریاتی ہے جسے ختم کردینا ممکن نہیں۔ اب 28 جون کو شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اسرائیلی بریگیڈیر جنرل نے عبرانی روزنامے ایدیت خرنوت Yedioth Ahronothسے باتیں کرتے ہوے کہا کہ غزہ کے مزاحمت کاروں کی قوتِ حکمرانی کمزورکرنے میں وقت لگے گا، یہ طاقت ختم ہوجانےکے بعد بھی تحریک ختم ہونے والی نہیں۔ غزہ کی سرنگوں کو تباہ کرنا ایک پیچیدہ کام ہے جس میں چھ ماہ سے زیادہ لگ سکتے ہیں۔ کچھ ایساہی تجزیہ بلوم برگ کی سینئر دفاعی تجزیہ نگار محترمہ جمانا برساچی (Joumanna Bercetce کا ہھی ہے۔ ایک انتر ویومیں انھوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ میں مژاحمت کے خاتمے کے ہدف سے پیچھے ہٹتی دکھائی دے رہی ہے۔

فوج کے اندر پھیلی اسی مایوسی کا نتیجہ ہے کہ لبنان پر حملے کے بارے میں اسرائیلی قیادت یکسو نہیں۔ وزیراعظم، لبنان اور ایران کومزہ چکھانے کی دھمکی دے رہے ہیں لیکن واشنگٹن میں انکے وزیردفاع یوف گیلینٹ نے کہا کہ معاملے کا سیاسی و سفارتی تصفیہ اسرائیل کی ترجیح ہے۔ اخباری کانفرنس میں روائتی تکبر کا اظہار کرتے ہوئے وزیرباتدبیر بولے ہمارے بمباروں کے لئے لبنان کو پتھر کے دور میں پہنچا دینا کچھ مشکل نہیں اور پرامن تصفیے کی خواہش کوہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔

ایک طرف اسرائیلی وزیردفاع کی امریکہ میں شیخی تو دوسری جانب توانائی کے اسرائیلی ماپر اور بجلی تقسیم کرنے والے ادارے National Electrical System Management Company کے سی ای او، .شال گولڈاسٹائین فکر مند ہیں کہ لبنان سے میزائیلوں کی بارش بجلی کے نظام کو مفلوج کرسکتی ہے۔اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جناب گولڈ اسٹائن نے کہا کہ لبنانی مزاحمت کاروں کے پاس ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ تباہ کن میزائیل ہیں اور وہ بیک وقت 4000 میزائیل داغ سکتے ہیں۔امریکی ساختہ آئرن ڈوم دفاعی نظام ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ 150فضائی اجسام کو روک سکتا ہے۔ بچ نکلنے والے میزائیل power grids اور high-tension towersکو نشانہ بنائنگے۔ گولڈ اسٹائن کے خیال میں ایسا کرنا لبنانیوں کیلئے مشکل نہیں کہ آئرن ڈوم نچلی سطح پر پرواز کرنے والے میزائیلوں کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ برقی ماہر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی میں پینے کیلئے سمندر کے پانی کو میٹھا بنایا جاتا ہے اور بجلی معطل ہونے سے آبنوشی کا سارا نظام درہم برہم ہوجائیگا۔ صحت کے ماپرین کا کہنا ہے کہ اگر بجلی 72 گھنٹے سے زیادہ منقطع رہی تو گرمی کے اس موسم میں بچوں کی زندگیوں کو خطرہ ہوسکتا ہے۔لبنانی میزائیل،  بحیرہ روم میں گیس کی تنصیبات کو بھی نشانہ بناسکتے ہیں۔ وزیر توانائی ایلی کوہن نے مسٹر گولڈاسٹائین کے تجزئے کو غیر ذمہ دارانہ قراردیا ہے

اسرائیلی انتہاپسندوں کے ساتھ اسرائیلی وزیراعظم کو ملک کے دانشوروں کی جانب سے بھی گہری تنقید کا سامناہے۔سابق وزیراعظم یہودابراک سمیت درجنوں اسرائیلی سیاستدانوں، سابق حکومتی اہلکاروں، پروفیسروں اور سائنسدانوں نے ایک خط میں امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے وزیراعظم بن یامین نیتھن یاہو کا خطاب منسوخ کرنے کی درخواست کی ہے۔اسپیکر کانگریس کی دعوت پر نیتھن یاہو 24 جولائی کو مشترکہ اجلاس سے خطاب کرینگے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ نیتھن یاہو علاقے میں کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں اور انھوں نے طول اقتدار کیلئے اسرائیلی قیدیوں کی جان خطرے میں ڈل دی ہے۔ ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انتہا پسند اور غیر ذمہ دار سربراہ حکومت کو امریکی کانگریس میں خوش آمدید کہنا نیتھین یاہو کی جارحانہ پالیسی کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔دستخط کرنے والوں میں اسرائیل اکیڈمی برائے سائنس اور فنون کے صدر ڈاکٹر ڈیوڈ ہیرل، موساد کے سابق سربراہ تامر پاردو، موساد کے سابق سربراہ طالع سیسن اور نوبل انعام یافتہ ہارون شیشانور شامل ہیں۔

اہل غزہ کی پشت میں خنجر زنی کی ایک واردات پر گفتگو کااختتام:

غزہ حارحیت کے آغاز سے امریکہ اور یورپ نے اسرائیل میں اسلحے کا انبار لگادیا ہے، اس 'کارِ خیر' میں ہندوستان بھی پیچھے نہیں۔ معاملہ صرف توپ و تفنگ کا نہیں بلکہ F35بمباروں کیساتھ تباہ کن بحری جہازوں کی فراہمی کا کام بھی جاری ہے۔ بحری راستے سے غزہ اترنے کیلئے امریکہ نے دو نئےLanding Craft اسرائیل کیلئے تعمیر کئے ہیں. گزشتہ ہفتے اس کھیپ کا دوسرا جہاز کوممیوت INS Komemiyutامریکہ سے اسرائیل روانہ ہوا،جسےایندھن اور عملے کی خوراک و آرام کیلئے کسی بندرگاہ پر ٹہرنا تھا۔ ہسپانیہ (اسپین) نے اس جہاز کو اپنی بندرگاہ پر رکنے کی اجازت دینے سے یہ کہہ کر انکار کردیاکہ انکا ملک غزہ کی خلاف جارحیت میں تعاون نہیں کرسکتا۔ برطانوی کالونی جبرالٹر نے بھی معذرت کرلی، لیکن مراکش نے نہ صرف اجازت دیدی بلکہ طنجہ کی بندرگاہ پر جہاز میں ایندھن بھرنے کے ساتھ عملے کی “عرب روایات” کے مطابق بھرپور تواضع بھی کی گئی

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل 5 جولائی 2024

ہفت روزہ دعوت دہلی 5 جولائی 2024

روزنامہ امت کراچی 5 جولائی 2024

ہفت روزہ رہبر سرینگر 7 جولائی 2024


ایران کے صدارتی انتخابات، غیر فیصلہ کن اب ماہر امراض قلب اور سفارتکار کے درمیان براہ راست مقابلہ ہوگا

 

ایران کے صدارتی انتخابات، غیر فیصلہ کن

 اب ماہر امراض قلب اور سفارتکار کے درمیان براہ راست مقابلہ ہوگا

ایران  میں نئے صدر کیلئے 28 جون کو ووٹ ڈالے گئے۔ صدارتی انتخابات اگلے برس ہونے تھے لیکن 19 مئی کو صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں المناک وفات کی وجہ  سے  چناو ایک برس پہلے منعقد ہوا۔

انتخابات کیلئے نامزدگی کا مرحلہ 30 مئی سے شروع ہوکر چار جون کو مکمل ہوگیا۔جسکے بعد کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال ہوئی۔ایرانی دستور کے تحت   امیدواروں کی جانچ پڑتال 12 رکنی شوری نگہبان کرتی ہے۔ شوریٰ نگہبان کیلئے چھ فقہا کا انتخاب رہبر ِمععظم فرماتے ہیں جو آجکل حضرت علی خامنہ ای ہیں۔ باقی چھ ارکان   کا  انتخاب، قاضی القضاۃ، کی فراہم کردہ  ججوں کی فہرست   سے ایرانی مجلس (پارلیمان ) کرتی ہے۔

شوریٰ نگہبان نے   چار خواتین اور سابق صدر محموداحمدی نژادسمیت 74 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کرکے 6 افرادکو انتخاب لڑنے کی اجازت دی ۔ امیدواروں کی حتمی فہرست کچھ اسطرح تھی

·         تہران کے  رئیس شہر  علی رضا زاکانی: اٹھاون برس کے زاکانی فقہ کے عالم اور پارلیمانی تحقیقی کمیٹی کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ زاکانی صاحب ہفت روزہ پنجرہ کے مدیر اور آن لائن جہاں خبر رساں ایجنسی کے مالک ہیں۔

·         ڈاکٹر امیر حسین قاضی زادہ ہاشمی: 53 سالہ ڈاکٹر ہاشمی، ایران کے مایہ ناز ماہر امراض ناک کان و گلا (ENT) ،ایرانی پارلیمان کے رکن اور شہدا کے اہل و عیال کی دیکھ بھال کرنے والے ادارے شہدا فاونڈیشن کے سربراہ ہیں

·         پارلیمان کے  اسپیکر  محمد باقر قالیباف: ڈاکٹر قالیباف سیاسی جغرافیہ میں پی ایچ ڈی ہیں۔ انھیں ہوابازی سے گہرا شغف ہے ۔باسٹھ سالہ قالیباف صاحب پاسدارن انقلاب اسلامی کی فضائیہ کے کمانڈر، تہران کے رئیسِ شہر، اور پولیس کے سربراہ رہ چکے ہیں۔

·         سابق نائب وزیرخارجہ اور  مشہور سفارتکار سعید جلیلی: اٹھاون سالہ جلیلی صاحب سیاسیات میں پی ایچ ڈی ہیں۔ انکا مقالہ 'نبی مہربان(ص) کی خارجہ پالیسی' کے نام سے کتابی شکل میں شایع ہوا جسے بہت پزیرائی نصیب ہوئی۔ سعید جلیلی ایک  منجھے ہوئے سفارتکار ہیں۔موصوف  2015میں  سلامتی  کونسل کے مستقل ارکان اور جرمنی،  المعروف   P5+1سے جوہری مذاکرات کرنے والے وفد کے  رکن اور وزیرخارجہ جاوید ظریف صاحب  کےمعاون خصوصی تھے۔ ڈاکٹر جلیلی تہران کی دانشگاہ امام صادق (امام صادق یونیورسٹی) میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں اور 'محمدی(ص) سفارتکاری' انکا خاص مضمون ہے۔ جلیلی صاحب صاحبِ قرطاس و قلم کیساتھ صاحب سیف بھی ہیں۔ عراقی جارحیت کا مقابلہ کرتے ہوئے 1986 میں وہ شدید زخمی ہوئے۔ جلیلی صاحب کی اہلیہ فاطمہ سجادی ایک معروف معالج ہیں۔

·         رکن پارلیمان مسعود پرشکیان: سابق رکن پارلیمان و سابق وزیرصحت، مسعود پرشکیان جراحِ قلب (Heart Surgeon)کے ساتھ قرآن کے استاد ہیں اور انھیں نہج البلاغۃ   کا بڑا  حصہ  زبانی یاد ہے۔ڈاکٹر صاحب فوج میں بھی طبی خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ اپنا مطلب چلانے کیساتھ جناب مسعود، دانشگاہ علومِ پزشکی (University of Medical Science)تبریز میں پوفیسر بھی ہیں۔ آدربائیجان سے تعلق رکھنے والے 69 سالہ ڈاکٹر مسعود، نسلاً کرد ہیں۔

·         وزیرانصاف مصطفےٰ  پورمحمدی خانقاہ حقانیہ، قم سے فقہ اور شریعت میں 'درجہ چار' کی سند لے چکے ہیں ۔ یہ سند ایچ ڈی کے مساوی سمجھی جاتی ہے ۔ محمدی صاحب وزیرسراغرسانی بھئ رہ چکے ہیں

ایرانی سیاست کا کمال یہ ہے کہ وہاں انتہائی لائق و فائق اور تجربہ کارامیدوار سامنے آتے ہیں۔ جیسا کہ تعارف سے ظاہر ہے کہ اس بار بھی تمام کے تمام امیدوار اعلیٰ تعلیمیافتہ اور میدان سیاست کے شہسوار تھے۔ایرانی صدارت کا خواہشمند ہرشخص اس سے پہلے کسی نہ کسی عوامی منصب پرفائز اور قائدانہ و تنظیمی صلاحیتوں سے مال مال ہے۔نوشتہ دیوارپڑھ کر انتخابات سے ایک دن پہلے ڈاکٹر امیر حسین قاضی زادہ ہاشمی اور علی رضا زاکانی دستبردار ہوگئے۔  

ایران میں ووٹروں کی کم سے کم عمر 18 سال ہے اور دوسرے  ممالک میں رہنے والے ایرانیوں کیلئے دنیا بھر میں 250 انتخابی مراکز قائم کئے گئے تھے، ایران میں رجسٹرڈ ووٹروں کی کل تعداد 6 کروڑ 10 لاکھ ہے۔

انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا تناسب 39.93فیصد رہا۔ مسعود پرشکیان 44.36فیصد ووٹ لیکر پہلے نمبر پر آئے اور 40.35فیصد رائے دہندگان نے سعید جلیلی کے حق میں رائے دی۔ باقر قالیباف 14.41فیصد لیکر تیسرے نمبر پر رہے جبکہ مصطفےٰ پورمحمدی کے حاصل کردہ ووٹ ایک فیصد سے کم تھے۔  ضابطے کے تحت کامیاب امیدوار کیلئے کم ازکم پچاس فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔ چونکہ کوئی بھی امیدوار اس نشان تک نہ پہنچ سکا اسلئے پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والے مسعود پرشکیان اور سعید جلیلی کے درمیان 5 جولائی کو براہ راست مقابلہ ہوگا جسے Run-offمرحلہ کہا جاتا ہے۔

ہفت وزہ فرائیڈے اسپیشل 5 جولائی 2024

ہفت روزہ دعوت دہلی 5 جولائی 2024

ہفت روزہ رہبر 7 جولائی 2024