Friday, August 9, 2024

اسماعیلِ وقت،اسماعیل ہانیہ وہ تو وہ ہے تمہیں ہوجائیگی الفت مجھ سے اک نظر تم مرا محبوبِ نظر تو دیکھو

 

اسماعیلِ وقت،اسماعیل ہانیہ

وہ تو وہ ہے تمہیں ہوجائیگی الفت مجھ سے

اک نظر تم مرا محبوبِ نظر تو دیکھو

اسماعیل عبدالسلام ہنیۃ کے آباواجداد کئی نسلوں سے ساحلِ بحیرہ روم پر واقع خوبصورت شہر عسقلان کے سرسبزوشاداب گاوں الجورہ میں آباد تھے۔ اسرائیل کے قیام پر 1948 میں لاکھوں فلسطینیوں کی طرح ہنیۃ خاندان کو بھی اپنے آبائی گھر سے بیدخل کرکے جنوب میں غزہ ہانک دیا گیا۔ اسوقت یہ 12 کلومیٹر چوڑی اور 41 کلومیٹر لمبی ساحلی پٹی مصر کا حصہ تھی۔ ہنیہ صاحب کے والدین نے شمالی غزہ کی خیمہ بستی الشاطی میں پناہ لے لی جہاں 1962 میں اسماعیل ہنیہ نے آنکھ کھولی، یعنی موصوف اپنی ہی زمین پر پناہ گزین کی حیثیت سے پیدا ہوئے۔ انکی ولادت کے پانچ سال بعد 1967 کی چھ روزہ جنگ میں غربِ اردن، مشرقی بیت المقدس، صحرائے سینائی کے بڑے علاقے اور گولان کی پہاڑیوں کیساتھ غزہ پر بھی اسرائیل نے قبضہ کرلیا۔

جناب ہنیہ نے 1987 میں جامعہ اسلامیہ غزہ سےعربی ادب میں بی اے اور اسکے  بعد انتظامی امور میں ایم اے کیا۔ دورِ طالب علمی ہی سے ہنیہ فلسطین کی آزادی کیلئے سرگرم ہوگئے اور قیدو بند کی آزمائشوں سے گزرے۔رہائی پر انھیں ملک بدر کرکے لبنان بھیج دیا گیا لیکن وہ جلاوطنی کی خلاف وزری کرتے ہوئے غزہ واپس آگئے اور جامعہ غزہ میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ساتھ ہی وہ حماس کی تنظیم سے وابستہ ہوگئے۔

ریاست فلسطین کے پہلے آزادانہ انتخابات 25 جنوری 2006 کو منعقد ہوئے۔ متناسب نمائندگی کی بنیاد پرہونے والے انتخابات میں حماس نے 132 رکنی قانون ساز کونسل (قومی اسمبلی) کی 74 نشستیں جیت لیں۔ قریب ترین حریف الفتح کو 54 نشستوں پر کامیابی ہوئی۔ مارچ 2006 میں اسماعیل ہنیہ نے وزیراعظم کا حلف اٹھایا لیکن اسرائیل نے دہشتگرد قراردیکر انکی نقل و حرکت محدود کردی۔ امریکہ اور یورپی یونین نے فلسطین کی امداد بند کردی اورمغرب و اسرائیل کے دباو پر صدر محمود عباس نے صرف پندرہ ماہ بعد اسماعیل ہنیہ کی حکومت تحییل کردی۔ اسکے نتیجے میں الفتح اور حماس کے درمیان خونریز تصادم ہوا جس میں دونوں طرف کے ماہر جانباز مارے گئے۔ فلسطینیوں کی نام نہاد حکومت، مقتدرہ فلسطین (PA)غرب اردن تک محدود ہوگئی اور غزہ کا انتظام حماس نےسنبھال لیا۔ اسماعیل ہنیہ نے محمود عباس کی جانب سے جاری ہونے معزولی کا حکم ماننے سے انکار کردیا اور 2014 میں مدت پوری ہونے تک بطور وزیراعظم فلسطین کام کرتے رہے تاہم انکی عملداری غزہ تک محدود رہی۔

تین سال بعد 2017 میں مدت مکمل ہونے پر پولیٹیکل بیورو کے سربراہ خالد مشعل اپنے عہدے سے سبکدوش ہوگئے اور جناب ہنیہ کو بیورہ کا سربراہ منتخب کرلیا گیا۔ جسکے بعد ہنیۃ صاحب بیوروآفس قطر منتقل ہوگئے تاہم اہلیہ کے سوا انکا سارا خاندان غزہ میں قیام پزیر رہا۔

اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ 7 اکتوبر کے طوفان الاقصیٰ کی تمام منصوبہ بندی اسماعیل ہنیہ اور جناب یحیٰ سنوار نے کی تھی چنانچہ وہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی ہٹ لسٹ پر تھے۔اسرائیل نے سات اکتوبر کو غزہ پر حملے کے بعد سے ہنیۃ خاندان کو چن چن کر نشانہ بنایا۔آغاز ہی پر انکے بھائی اور بھتیجے سمیت انکے خاندان کے 10 افراد جاں بحق ہوئے۔ایک ماہ بعد انکی پانچ سالہ پوتی کو ڈرون نے بھسم کردیا، کچھ دن بعد بمباری سے انکا کم عمر پوتا جاں بحق ہوا۔ اس سال اپریل میں ڈرون نے ایک کار کو نشانہ بنایا جس میں اسماعیل ہنیۃ کے تین جوانسال صاحبزادے اپنی چار بیٹیوں کے ساتھ سفر کررہے تھے۔ صرف ایک بچی زندہ بچی وہ بھی دودن بعد زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسی۔ یہ لوگ عید ملنے اپنے رشتے داروں کے پاس جارہے تھے۔ اس دوران قطر میں اسماعیل ہنیہ کی اہلیہ علیل تھیں جنکی عیادت کووہ اسپتال گئے۔ جب وہ دوسرے مریضوں کی مزاج پرسی کررہے تھے تب انھیں بچوں کی شہادت کی اطلاع ملی۔ خبر سن کر اسماعیل ہنیہ نے مغفرت کی دعا کی اور عیادت جاری رکھی۔ اپنی بیوی کے بستر پر پہنچ کر شریک حیات کو یہ خبر سنائی تو اس خاتون نے خاندان کو شہادت کا افتخار عطا کرنے پر اللہ کا شکر ادا کیا۔ جب ایک صحافی نے جناب ہنیہ سے دلی تاثر بیان کرنے کو کہا تو وہ سپاٹ لہجے میں بولے غزہ میں ہزاروں نوجوان شہید ہوچکے ہیں اور میرے بچوں کا خون ان سب کے خون سے زیادہ قیمتی نہیں۔ تادم تحریز اسماعیل ہنیۃ خاندان کے 60 افراد غزہ میں شہید ہوچکے ہیں۔

جناب اسماعیل ہانیہ کی نماز جنازہ پورے احترام سے تہران میں اداکی گئی جسکی امامت رہبر ایران حضرت آئت اللہ خامنہ ای نے کی جسکے بعد میت قطر بھیج دی گئی۔ اس موقع پر انکی اہلیہ، امل ہانیہ کے صبر نے لوگوں کو رلا دیا۔ امل  نے کہا 'میرے محبوب ! آنسو پر قابو نہیں لیکن تمہاری جدائی پر اپنے رب سے کوئی شکوہ بھی نہیں۔ ملاقات ہو تو آقا(ص) کو میراسلام عرض کرنا۔ ہماری ننھی پوتیاں تمہاری سینے پر سونے کی عادی تھیں، اسی لئے ان معصوموں کے مہربان رب نے دادا میاں کو بھی وہیں بلالیا۔ یہ دنیا عارضی اورجدائی بھی عارضی۔ اب انشااللہ اپنے رب کی جنت میں تم سے ملوں گی کہ تم نے اپنی ساری زندگی اسی کے حصول کیلئے کھپادی۔

جمعہ 2 اگست کو دوحہ کی جامع مسجد امام عبدالوہاب میں جناب ہانیہ کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ مسجد کھچاکھچ بھری تھی اور 50 ڈگری سینٹی گریڈ گرمی میں ہزاروں لوگ چلچلاتی دھوپ میں باہر صفیں بنائے کھڑ ے تھے۔ نماز جنازہ میں امیر قطر تمیم بن حماد الثانی، انکے والد حمد بن خلیفہ، ایران کے اول نائب صدر محمد رضا عارف، ترک وزیرخارجہ حکن فیضان اور امیر جماعت اسلامی ہاکستان حافظ نعیم الرحمان نے بھی شرکت کی۔

اس سوگوار گفتگو کا اختتام ایک حوصلہ افزا نوٹ پر

آئے دن کے چھاپوں، عسکری دراندازی، زمینوں پر قبضہ، پکڑ دھکڑ اور قتل عام کے باوجود اس سال غرب اردن کے پچاس ہزار طلبہ میٹرک کے امتحان میں شریک ہوئے۔ بدقسمتی سے غزہ ہائی اسکولوں کے 39ہزار بچوں کا امتحان نہ لیا جاسکا۔ فلسطینی وزارت تعلیم نے اپنے بیان میں کہا 'غزہ کے بچو! امتحان کے تیاری جاری رکھو، تمہارا تعلیمی سال ضائع نہیں ہونے دیا جائیگا۔ حالات میں بہتری آتے ہی غزہ میں امتحانات ہونگے'

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 9 اگست 2024

ہفت روزہ  دعوت دہلی 9 اگست 2024

روزنامہ امت کراچی  9 اگست 2024

اسماعیل ہانیہ کا تہران میں قتل

 

اسماعیل ہانیہ کا تہران میں قتل

دھماکہ خیز مواد دوماہ پہلے اسرائیل سے ایران لایا گیا؟؟

پاسدارنِ انقلاب اسلامی ایران کےمہمان خانے میں بم کی تنصیب؟؟؟

اسرائیل کے لمبے ہاتھ   یا نفسیاتی مہم ؟؟؟ بڑھا بھی دیتے ہیں کچھ زیبِ داستاں کیلئے

غزہ کا عقوبت کدہ

غزہ مزاحمت کاروں کے قائد اور پولیٹیکل بیورو کے سربراہ اسماعیل عبدالسلام ہنیہ تہران میں قتل کردئے گئے۔اسی دن شام کو جنوبی لبنان پر اسرائیل کے ایک حملے میں لبنانی مزاحمت کاروں کے کمانڈرفواد شُکر المعروف حاجی محسن جاں بحق ہوگئے۔ لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ رہائشی عمارت پر بمباری سے ایک بچے سمیت تین افراد ہلاک اور 74 زخمی ہوگئے۔ دوسرے دن اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ غزہ مزاحمت کاروں کے فوجی سربراہ محمد دیاب ابراہیم المصری المعروف محمد الضیف کو مٹادیا گیا۔ محمد ضیف 13 جولائی کو خان یونس کے المواصی پناہ گزین کیمپ میں نشانہ بنائے گئے تھے۔ بمباری سے بچوں سمیت 70 افراد جاں بحق ہوئے۔ جیسا کہ ہم پہلے ایک نشست میں عرض کرچکے ہیں مزاحمت کاروں نے اسرائیلی دعوے کو جھوٹا قراردیا لیکن اسرائیلی مصر ہیں کہ وہ محمد ضیف کو راستے سے ہٹانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

حماس کے سربراہان ، ہمیشہ سے اسرائیل کا ہدف ریے ہیں۔ تحریک کے بانی، شیخ یاسین مارچ 2004میں امریکی ساختہ اپاچی ہیلی کاپٹر سے داغےجانے والے ہیل فائر میزائیل کا اسوقت نشانہ بنے جب وہ فجر کی نماز کے بعد اپنی وہیل چئیر پرگھر واپس جارہے تھے۔ سرسٹھ برس کے شیخ یاسین کا نچلا دھڑ فالج زدہ تھا۔ نظر بے حد کمزور اور سماعت نہ ہونے کے برابر تھی۔ شیخ صاحب کے بعد 56 سالہ عبدالعزیز الرنتیسی نے حماس کی قیادت سنبھالی لیکن صرف ایک ماہ بعد 17 اپریل کو انھیں بھی ہیل فائر میزائیل سے شہید کردیا گیا۔ اس واقعے میں انکا 27 سالہ لڑکا بھی جاں بحق ہوا۔

جناب اسماعیل ہنیہ حماس کےتیسرے قائدہیں جو اسرائیل کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ شیخ یاسین اور الرنتیسی براہ راست میزائیلوں کا نشانہ بنے لیکن اسماعیل ہنیہ کا قتل کا معمہ اب تک نہیں سلجھا۔ جناب ہنیہ ایرانی صدر مسعود پیزیشکان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کیلئے تہران آئے تھے۔ایرانی خبررساں ایجنسی فارس کے مطابق ہانیہ صاحب اپنے محافظ کے ساتھ پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC)کے مہمان خانے نشاط کمپاونڈ میں ٹہرے ہوئے تھے کہ انھیں 31 جولائی کو صبح دوبجے میزائیل سے نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ میزائیل ایران سرحد کے باہر سے داغا گیا تھا۔ مزید تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ نکلا کہ میزائیل ایرانی سرحد کے اندر سے فائر ہوا تھا۔اس عمارت کی اوہر والی منزل میں اہل غزہ کے ایک اور رہنما زید النخلا ٹہرے ہوئے تھے جنکے کمرے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔میزائیل گرنے کی صورت میں پوری عمارے متاثر ہوتی ہےلیکن ایسا نہیں ہوا۔

امریکہ کی آن لائن خبر رساں ایجنسی Axios کے مطابق دھماکہ خیز مواد دوماہ پہلے اسرائیل سے ایران اسمگل کیا گیا جسے موساد کے ایجنٹوں نے بہت باریکی کیساتھ اسماعیل ہنیہ کے کمرے میں نصب کردیا اور یہ یقین کرلینے کے بعد کہ موصوف اپنے کمرے میں ہیں موساد کے ایرانی ایجنٹوں نے ریموٹ کنٹرول سے دھماکہ کردیا۔

اگر Axiosکی رپورٹ درست ہے تو اس سے ایران کے حفاظتی انتظامات پر بہت سے سوالات اٹھتے ہیں۔ انکا کسٹم جانچ پڑتال اور اندرونی سلامتی کا نظام اتنا ناقص ہے کہ اسرائیل سے دھماکہ خیز مواد نہ صرف ایران پہنچ گیا بلکہ اسکی  IRGCکے VIPمہمان خانے کے ایک کمرے میں تنصیب کی بھی کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔

برطانوی رسالے ٹیلیگراف نے 2 اگست کو شایع ہونے والے رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اس کام کیلئے موساد نے حساس عمارات ، شخصیات اور تنصیبات کو تحفظ فراہم کرنے والے IRGCکے  ذیلی دارے انصار المہدی سیکیورٹی ایجنسی کے چند سینئر اہلکاروں کو خریدا۔ ان ایجنٹوں نے نشاط کمپلیکس کے تین کمروں میں دھماکہ خیز مواد نصب کیااور اسماعیل ہنیہ کے کمرے میں رکھے گئے بم کو ایران کے باہر سے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اڑادیاگیا۔موساد ذرایع کے حوالے سے بتایاگیا ہے کہ جناب ہنیہ کو سابق ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی تدفین کے موقع پر مئی میں نشانہ بنایا جانا تھا جسکے لئے دھماکہ خیز مواد درآمد کیا گیا لیکن سخت حفاظتی اقدامات کی بناپرمنصوبہ عین وقت پر معطل کردیا گیا۔

یہ بات تو ایرانی حکام خود بھی تسلیم کرتے ہیں کہ انکے ملک میں موساد کا انتہائی موثر نیٹ ورک موجود ہے۔ کئی ماہر ایرانی جوپری سائنسدان موساد کے ہاتھوں مارے جاچکے ہیں۔ ماہرینِ سراغرسانی کا خیال ہے کہ امریکی سی آئی اے کے نقشِ پا بھی ایران میں گہرے ہیں۔ شاہ ایران کے دورمیں سی آئی آے نے یہاں ایک  بہت بڑا تربیتی ڈھانچہ ترتیب دیا تھا اور اب بھی سی آئی اے کے ایرانی ایجنٹ موجود ہیں۔ اسرائیل نے ایران میں کئی کامیاب آپریشن کئے ہیں۔سب سے مشہور  نومبر 2020میں ایرانی جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کا قتل ہے۔ جناب فخری زادہ کے قتل کیلئے خودکار مشین گن اسرائیل سے درآمد کی گئی، جس نے تصویرسے ہدف کی نشاندہی کی،  صرف ایک منٹ میں فخری زادہ صاحب لقمہ اجل بن گئے اور نشانہ اتنادرست کے  ساتھ کھڑی انکی اہلیہ کو خراش تک نہ آئی۔

یہاں یہ وضاحٹ ضروری ہے کہ اسماعیل ہانیہ کے قتل کی یہ چشم کشا تفصیلات اسرائیلی ذرایع سے جاری ہورہی ہیں اور اس بات کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ انکشافات کی صورت ان خبروں کا اجراانکی تزویراتی حکمت عملی کا حصہ ہو۔اسرائیل کیلئے جناب ہنیہ کوقطر میں نشانہ بنانا کچھ مشکل نہ تھا لیکن انھیں تہران میں قتل کرکے اسرائیل نے کئی مقاصد حاصل کرلئے۔ ایک طرف پاسداران کی عمارت میں ایک انتہائی اہم مہمان کو نشانہ بناکر ایرانی قیادت کو باور کردایا گیا کہ IRGCہیڈکوارٹر سمیت ایران کا کوئی علاقہ موساد کی پہنچ سے دور نہیں۔ پاسدران کے سینئر افسران کے ملوث ہونے کے انکشاف سے IRGCکی صفوں میں ہیجان اور عدم اعتماد پیدا ہوسکتا ہے۔ دوسری طرف ان 'انکشافات' نے فلسطینیوں اوردنیا بھر کے مسلمانوں میں ایران کے لئے شک و شبہات پیداکردئے ہیں۔مسلم دنیا میں سوشل میڈیا پر ایران کے خلاف مہم کا اغاز ہوچکا ہے۔اس واقع کو بنیاد بناکرفرقہ پرست عناصر شیعہ سنی کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں۔ 'گھر بلاکر مروادیا'، 'ایران کے کوفی' جیسے عنوانات سے شبہات اور عدم اعتماد کے شجرِ زقوم کی آبیاری کی جارہی ہے۔ اسی کیساتھ  اسرائیلی ٹیکنالوجی کی عظمت و رفعت اور اس میدان میں مسلمانوں کی کم مائیگی بلکہ بے مائیگی کا بار بار ذکر کرکے احساسِ کمتری کو مہمیز لگانے کی تحریک بھی عروج پر ہے۔

پاسداران نے تحقیقات کے بعد 3 اگست کو بتایا کہ اسماعیل ہنیہ کو قریبی فاصلے تک مار کرنے والے یعنی short rangeمیزائیل سے نشانہ بنایا گیا۔ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میزائیل پر نصب بم میں 7 کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیاتھا۔فلسطینی مزاحمت کاروں نے بھی Axios اور نیویارک ٹائمز کی رپورٹوں کو فتنہ خیز و دروغ آمیز کہانی قراردیا۔ مزاحمت کاروں کے ترجمان خالد قدومی نے تہران میں پاکستانی نجی چینل  جیو نیوز کو بتایا کہ دھماکے سے ساری عمارت لرز گئی اور اسکی چھت میں شگاف سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک میزائیل حملہ تھا۔ قدومی صاحب کا خیال ہے کہ مغربی میڈیا، بم کا افسانہ تراش کر اسرائیل کی برتری ثابت کرنے کیساتھ ایران کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا چاہاتا ہے۔

یہ اعصابی و نفسیاتی جنگ کا دور ہے جہاں حقیقت سے زیادہ ادراک واحساسِ حقیقت یا perception اہم اور فیصلہ کن ہے۔ دنیا بھر کے سیاسی و عسکری تجزیہ کاروں کے خیال میں اسرائیل یہ جنگ پار رہا ہے کہ 300 دنوں میں 6000 فضائی حملوں اور سارے غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنادینے کے باوجود اسرائیلی اپنا کوئی بڑا عسکری ہدف حاصل کرنے میں اب تک ناکام رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا کہ 7 اکتوبر کو غزہ کا دفاع کرنے والے مسلح مزاحمت کاروں کی کل تعداد 22000 تھی جنکے مقابلے کیلئے  جدید ٹینکوں اور بکتروں  پر سوار دولاکھ سے زیادہ فوجی میدان میں اتارے گئے۔ اگست کے آخر تک اسرائیل نے 15000 مزاحمت کاروں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا دعویٰ کیا ہے۔اگر یہ دعویٰ درست ہے تو دوتہائی افرادی قوت فنا ہوجانے پر مزاحمت ختم ہوجانی چاہے تھے لیکن اسرائیلی عسکری محکمہ سراغ رسانی نے چند دن پہلے کہا ہے کہ انکی فوج کو اب بھی سخے مزاحمت کا سامنا ہے۔ محکمے کے سابق سربراہ پہلے ہی کہ چکے ہیں کہ مزاحمت کاروں کی نظرہاتی بنیاد اتنی مضبوط ہے کہ انھیں جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ممکن ہی نہیں۔

اب تک اسرائیل نہ اپنے قیدی چھڑا سکا نہ کسی اہم فوجی کمانڈر کو مٹاسکا۔ اس ہفتے جنرل الضیف کے خاتمے کا تسلسل سے دعویٰ کیا جارہا ہے لیکن مزاحمت کاروں نے اسے اسرائیلی فوج کے تیزی سے کم ہوتے حوصلے کو سہارا دینے کی کوشش قراردیا ہے۔ محاذ جنگ پر مسلسل ناکامی کی وجہ سے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اس وقت غیر مقبولیت کی انتہا پر ہیں، تقریبا 75 فیصد اسرائیلی نئے انتخابات کا مطالبہ کررہے ہیں۔

اسماعیل ہنیہ کا قتل نیتن یاہو کا ذاتی فیصلہ تھا،  تاکہ وہ خود کو قد آور اور دبنگ ثابت کرسکیں۔ فواد شکر کا قتل اور محمد ضیف کے خاتمے کا ڈھنڈورہ نیتن یاہو کی سیاسی بقا کیلئے مقوی انجیکشن ثابت ہوا اور اسرائیل میں ایک بار پھر 'دہشت گردوں' کو کچل دو کا نعرہ گونج رہا ہے۔ گزشتہ سات ماہ میں پہلی بارسبت (ہفتہ) پر قیدیوں کی رہائی اور وزیر اعظم کے استعفیٰ کیلئے بڑی ریلی نہیں ہوئی۔ انتہا پسند بہت فخر سے کہہ رہے ہیں کہ صف اول کے تین رہنما یعنی اسماعیل ھانیہ،ابو موسی مرزوق اور خالد مشعل میں سے ایک کو ٹھکانے لگادیا تو دوسری جانب عسکری قائدین یحیٰی سنوار اور محمد ضیف میں سے بھی ایک کو مٹاکر مزاحمت کاروں کی کمر توڑدی گئی ہے۔لن ترانی اور شیخی اپنی جگہ،  اسرائیل کی عسکری قیادت اور سنجیدہ عناصر جانتے ہیں کہ غزہ مزاحمت کی بنیاد نظریاتی وابستگی پر ہے جسے قتل و غارتگری سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

ارادہ تو تھا کہ آج ہم اپنی گفتگو اسماعیل ہنیہ کے المناک قتل تک محدود رکھیں گے لیکن ٹائمز آف اسرائیل نے غزہ کے قریب تشدد کے ایک مرکز کی جو تفصیل شایع کی ہے اس کا ذکر ہمیں ضروری محسوس ہورہا ہے۔

سات اکتوبر کو حملے کے آغاز پر صحرائے نقب (Negev Desert)میں غزہ سے 18 میل دور سدیہ تیمان حراستی مرکز (Sde Teiman detention center) قائم کیا گیا۔ یہیں زخمی قیدیوں کے علاج کیلئے ایک خیمے میں ہسپتال بھی ہے۔ جی ہاں سخت گرمی کے دوران صحرا میں خیموں پر مشتمل ہسپتال۔یہ حراستی مرکز دراصل عقوبت کدہ ہے جہاں غزہ سے پکڑے جانیوالے بچوں اور لڑکیوں کو لب کشائی کیلئے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔بدترین بمباری اور مہلک ترین ہتھیاروں کے بے دریغ استعمال کے باوجود اب تک مزاحمت کاروں کا ایک بھی رہنما ہاتھ نہ لگ سکا۔کاروائی ڈالنے کیلئے غزہ سے نہتے بچے پکڑ پکڑ کر اس حراستی مرکز پر لائے جاتے ہیں جن سے مزاحمت کاروں کے بارے میں معلومات کیلئے تفتیش کی جاتی ہے۔ تشدد سے لڑکیوں سمیت درجنوں کم افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

گزشتہ دنوں آن لائن عرب جریدے Arab 48نے دستاویزی شواہد کیساتھ یہاں توڑے کانے والے مظالم کی روداد شایع کی۔جس میں بتایا گیا کہ یہ حراستی مرکز اسرائیل کے اوباش سپاہیوں کا مرکز ہے جہاں غزہ سے اسلحے کی نوک پر اغوا کی جانیوالی معصوم لڑکیوں کو یہ درندے بے آبرو کرتے ہیں۔خبر کے مطابق غیر انسانی سلوک سے کئی بچیاں ہلاک ہوچکی ہیں اور بہت سی قریب واقع بئیرسبع کے فوجی اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔

اس خبر پر 9 سپاہیوں کے خلاف پرچے کٹے۔ملٹری پولیس جب انھیں گرفتار کرنے پہنچی تو اڈے پر بغاوت ہوگئی۔ فوجیوں نے پتھراو اور پولیس پر مرچ والے پانی کا چھڑکاو کیا۔ ملٹری پولیس کی مزید نفری بھیج کر مطلوبہ سپاہیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔یہ خبر سن کر  انتہاپسندوں نے سدیہ تیمان مرکز کا گھیراو کرلیا اور عمارت پر پتھر پھینکے۔ حکمراں جماعت کے ارکانِ کنیسہ مظاہرین کی قیادت کررہے تھے۔ دوسرے دن مظاہرین غرب اردن کے فوجی اڈے بیت لِد پر چڑھ دوڑے

ان مظاہروں سے خود اسرائیلی فوج بھی پریشان ہے۔دودن پہلے عسکری سربراہ جنرل حرزی حلوی بیت لِد آئے اور نقصانات کا جائزہ لیا انکا کہناتھا کہ دائیں بازو کے انتہاپسند ملک کو خانہ جنگی کی راہ پر ڈال رہے ہیں۔

اس حوالے سے تازہ ترین خبر یہ ہے کہ گرفتار ہونے والے 9 وحشیوں میں سے تین کو شواہدوثبوت نہ ملنے کی بنا پر رہا کردیا گیا اور عسکری تحقیقاتی کمیٹی نے تین مزید افراد کی بریت کی درخواست کی ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 9 اگست 2024

ہفت روزہ دعوت دہلی 9 اگست 2024

روزنامہ امت کراچی 9 اگست 2024

ہفت روزہ رہبر سرینگر 11 اگست 2024

حسینہ واجد کا عروج و زوال

 حسینہ واجد کا عروج و زوال

پندرہ سال مسلط رہنے والی حسینہ واجد فرار ہوکر ہندوستان  پہنچ گئیں۔ ائے عقل والو! عبرت پکڑو

حسینہ واجد قیام پاکستان کے تقریباً ایک ماہ بعد 28 ستمبر 1947 میں ڈھاکہ کے مضافاتی علاقے تنگی پورہ میں پیدا پوئیں۔ تنگی پورہ آجکل گوپال گنج ضلع کا حصہ ہے۔ حسینہ واجد اپنے تین بھائیوں اور بہن سے بڑی تھیں۔ فسادات کے آغاز پر یہ ہندوستان فرار ہوگئیں اور قیام بنگلہ دیش کے بعد واپس آکر 1973 میں جامعہ ڈھاکہ سے بنگلہ ادب میں ایم اے کیا۔وہ دوران طالب عالمی عوامی چھاترو لیگ کی رہنما تھیں۔پندرہ اگست 1975 کو ایک فوجی بٖغاوت میں انکے والد، والدہ اور تینوں بھائی مارے گئے۔ حسینہ صاحبہ ان دنوں لندن میں اپنی بہن کے پاس تھیں اسلئے محفوظ رہیں۔

فروری 1981 میں وہ عوامی لیگ کی سربراہ منتخب ہوئیں۔اس دوران انھوں نے جماعت اسلامی اور بنگلہ دیش نینشلست پارٹی کے ساتھ مل کر جنرل حسین محمد ارشاد کی آمریت کیخلاف تحریک چلائی،جس نے جنرل صاحب 1990 میں استعفی پر مجبور کردیا۔ دلچسپ بات کے تحریک کے دوران حسینہ واجد اور خالدہ ضیا کے درمیان لڑائی رہئی اور یہ اکثر ایک دوسرے سے 'کُٹی' ہوجاتیں۔ا سی بنا پر ان دونوں کو لڑاکو بیگمات کہا جاتا تھا

جون 1996 میں حسینہ واجد وزیراعظم منتخب ہوئیں اور پانچ سال بعد انھیں بی این پی اور جماعت اسلامی کے اتحاد نے شکست دیدی۔ کچھ عرصہ بعد وہ لندن چلی گئیں۔ نومبر 2008 میں واپسی پر انھوں نے اپنے بدترین مخالف حسین محمد ارشاد سے اتحاد کرلیا۔ 2009 کے انتخابات میں عوامی لیگ اور جنرل ارشاد کی جاتیہ لیگ اتحاد نے اکثریت حاصل کی اورحسینہ واجد وزیراعظم منتخب ہوگئیں۔

اس دورِ حکومت میں انکا ایک نکاتی ایجنڈہ جماعت اسلامی کا خاتمہ تھا۔اس مقصد کیلئے انھوں نے جنگ آزادی کے دوران بنگالی دانشوروں کے قتل اور بچیوں کی آبرویزی کے مرتکب 'غدار بنگالیوں' کو انصاف کے کٹہرے تک لانے کا اعلان کیا۔ مقدمہ چلانے کیلئے خصوصی ٹریبیونل قائم کیا گیا اور تحقیقات سے پہلے ہی سابق امیر جماعت اسلامی پروفیسر غلام اعظم، امیر جماعت مطیع الرحمان نظامی،نائب امیر دلاور حسین سعیدی، قیم جماعت علی احسن مجاہد، نائب قیم قمرالزماں، عبدالقادر ملا سمیت جماعت اسلامی کی پوری قیادت جیل میں ٹھونس دی گئی۔جماعت اسلامی کے علاوہ  بی این پی اور مسلم لیگ کے رہنماوں کے خلاف بھی قرعہ انتقام جاری ہواجن میں پاکستان قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر فضل القادر چودھری کے صاحبزادے، بی این پی کے رہنما اور سابق وزیر  صلاح الدین چودھری شامل تھے۔

یہ ٹریبیونل اپنے قیام کے پہلے ہی روز سے متنازعہ رہا۔ اسکے بنیادی خدوخال عوامی لیگ کے رہنما اور ممتاز وکیل احمد ضیاالدین نے مرتب کئے جو کیتھولک یونیورسٹی برسلز  (بلیجیم) میں بنگلہ دیش سینٹر برائےامورِ نسل کشی کے ڈائریکٹر تھے۔بیرسٹر صاحب کی خواہش تھی کہ بنگلہ دیشی ٹریبیونل کو معاہدہ برائےبین الاقوامی عدالت یا International Criminal Court Statute المعروف Rome Statueسے ہم آہنگ کرلیا جائے تاکہ یہاں سے ملنے والی سزاوں کو دنیا کی تائید حاصل ہوسکے۔ اس مقصد کیلئے بیرسٹر ضیاالدین نے مشہور برطانوی وکیل ٹوبی کیڈمن سے مدد کی درخواست کی۔ بیرسٹر کیڈمین جنگی جرائم کی تحقیق اور فردجرم کی تدوین کا تجربہ رکھتے ہیں اور عالمی عدالت انصاف میں انکا بڑا احترام ہے۔ بیرسٹر صاحب نے ٹریبیونل کے طریقہ کار، فرد جرم کی تیاری، الزامات کی تحقیق اور ملزمان کیلئے صفائی کی سہولتوں کا جائزہ لینے کے بعد رائے دی کہ  جنگی جرائم کیلئے قانون سازی مبہم اور غیر شفاف ہے جبکہ ٹریبیونل کی  ساخت اور ہئیت متعصبانہ نوعیت کی ہے۔ مسٹر کیڈمین نے کہا کہ جرائم کی تعریف غیر واضح اور گواہی و ثبوت کے اظہار کا طریقہ بے حد مبہم ہے جسکی بنا پر استغاثہ ریاستی عمل دخل کا فائدہ اٹھا سکتا ہے اور سب کے بڑھکر کہ جرائم کی تحقیق پردہ راز میں ہے جسکی بنا پر اسکی صداقت و صحت مشکوک ہے۔ موصوف نے اس اخفا کیلئے cloak of secrecyکا لفظ استعمال کیا۔

 کیڈمین کے اس خدشے کی تصدیق کچھ ہی عرصے بعد برطانوی رسالے اکانومسٹ میں شایع ہونے والی ایک سنسنی خیز رپورٹ سے ہوگٗئی۔ جسکی تفصیل کچھ اسطرح ہے کہ ٹریبیونل کی تشکیل کے بعد پروفیسر غلام اعظم اور دلاور حسین سعیدی کا مقدمہ پیش ہوا۔ حسینہ واجد کی خواہش تھی کہ سب سے پہلے پروفیسر غلام اعظم کو پھانسی پر لٹکایا جائے ۔ یہ اگست 2012 کی بات ہے  کہ انھوں نے ٹریبیونل کے سربراہ جسٹس نظام الدین سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا۔ وہ چاہتی تھیں کہ 16 دسمبر کو یوم آزادی کے موقع پر پروفیسر صاحب کو  پھانسی دیدی جائے۔جسٹس نظام کا کہنا تھاکہ چار مہینے میں اس مقدمے کو نمٹانا ممکن نہیں۔ جس پر یہ گفتگو تکرار میں تبدیل ہوگئی اور حسینہ واجد نے یہ کہہ کر فون بند کردیا کہ بنگالی عوام 41 سال سے انصاف کا انتظار کر رہے ہیں اور اب انکے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا ہے وہ ہر قیمت پر اس' بڈھے' کو  سال کے اختتام سے پہلے پھانسی پر لٹکتا دیکھنا چاہتی ہیں۔ جسٹس نظام نے گھبرا کر برسلز میں بیرسٹر احمد ضیا الدین کو فون کیا اور بیرسٹر صاحب نے وعدہ کیا کہ وہ پروفیسرصاحب کے خلاف فیصلہ تحریر کرکے بھجوائینگے اور مقدمے کی تیزی سے سماعت کے 'گر' بھی بتا دینگے۔ اس مقصد کیلئے انھوں نے وزیرانصاف شفیق احمد سے بات کرکے فرد جرم کی تیاری کیلئے بھی مفید مشورے دئے۔برطانوی رسالے اکانومسٹ  نے وہ گفتگو شایع کردی جو ان دونوں کے درمیان 28اگست سے 20اکتوبر 2012 کے دوران ہوئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اسکائپ Skypeپر ہونے والی اس گفتگو کا مجموعی دورانیہ سترہ گھنٹے تھا جبکہ دو سو سے زیادہ برقی مکتوب Emailsایک دوسرے کو بھیجے گئے۔ اکانومسٹ پر اس خبر کے شایع ہوتے ہی بنگلہ دیش کی وزارت اطلاعات نے ایک ضابطہ اخلاق جار ی کیا جسکے تحت ٹریبیونل سے متعلق صرف وہی خبر شایع اور نشر کی جاسکتی ہے جو ٹریبیونل کا رجسٹرار جاری کریگا۔ لیکن ڈھاکہ کے ایک اخبار روزنامہ امر دیش نے اکانومسٹ میں شایع ہونے والی رپورٹ چھاپ دی جس پر اخبار کو بند کرکے اسکے ایڈیٹر محمودالرحمٰن کو گرفتار کر لیا گیا۔ حسینہ واجد کے وزیرقانون نے الزام لگایا کہ جماعت اسلامی نے یہ کہانی شایع کرنے کیلئےامر دیش کو ڈھائی کروڑ ڈالر دئے ہیں۔ شفیق احمد نے کہا کہ  امردیش کی نظریاتی وابستگی خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلست پارٹی سے ہے اورپارٹی کی ایما پر اپنے اتحادیوں کو بچانے کیلئےیہ خبر شایع کی گئی ہے۔

اس مشکوک ٹریبیونل کا پیلا شکار عبدالقادر ملا تھے جنھیں ستمبر 2013 میں پھانسی پر چڑھایا گیا۔ جسکے بعد محمد قمر الزمان، علی احسن مجاہد، مطیع الرحمان نظامی، ممتاز صحافی میرقاسم علی کو تختہ دار پر کھینچا گیا۔ اسکے علاوہ صلاح الدین چودھری اور مسلم لیگ کے رہنما فرقان ملک بھی حسینہ کی آتش انتقام کا نشانہ بنے۔ عمر قید کی سزا پانے والے پروفیسر غلام اعظم اور مولانا دلاور سعیدی نے دورانِ حراست دم توڑدیا۔

جماعت اسلامی کے رہنماوں کی سزائے موت کیساتھ تنظیم کے خلاف قانونی مہم بھی شروع ہوئی۔ جنوری 2009 میں بنگلہ دیش سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی کو ایک نوٹس جاری کیا جس میں قیادت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی تھی کے اسکے دستور میں اللہ کی بالاستی کا عزم ظاہر کیا گیا ہے جو ملک کے  دستور سے متصادم ہے۔ عدالت نے جماعتی دستور میں ترمیم کی تجویز پیش کی۔ جماعت نے نوٹس کا جواب نہیں دیا اور پانچ اگست 2013 کو عدالت نے جماعت کے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی لگادی۔

ان پیشبندیوں کے بعد 5 جنوری 2014 کے انتخابات ہوئے۔ بی این پی اور جماعت اسلامی مل کر میدان میں اتریں۔ جماعت کے امیدواروں نے بی ین پی کے نشان چاول کی بالی پر کاغذات نامزدگی داخل کرائے۔ انتخابات سے پہلے جماعت اور بی این پی کی پوری قیادت کے ساتھ لاکھوں  کارکن گرفتار کرلئے گئے۔ عوامی لیگ اور چھاترو لیگ کے حملوں میں سینکڑوں کارکن قتل ہوئے۔حالات ایسے پیدا کردئے گئے کہ حزب اختلاف کیلئے انتخاب میی حصہ لیناممکن نہ رہا اور بی این پی نے انتخابات کا بائیکاٹ کردیا۔ ایسی ہی صورتحال دسمبر 2018 کے انتخابات میں پیش آئی۔ اس سال جنوری میں ہونے والے انتخابات سے پہلے ہی حزب اختلاف نے انتخابی عمل کو مہمل قراردیتے ہوئے اس میں حصہ نہ لینے کا اعلان کردیا۔

حزب اختلاف کے خاتمے کے  بعد حسینہ واجد کیلئے میدان صاف ہوگیا۔ انھوں نے یکطرفہ قانون سازی کرکے اپنی حکومت کو ناقابل تسخیر بنالیا۔اور یہی انکے زوال کا بنا کہ نشہِ اقتدار اور احتساب سے بے نیازی کے نتیجے میں انھوں نے جو اقدامات اٹھائے اس سے انکے اپنے حامی بھی بدظن ہوگئے ۔

اپنے اقتدار کے تسلسل کیلئے  حسینہ کا مکمل دارومدار فوج اور ہندوستان پرتھا۔دہلی کا اثرورسوخ اتنا بڑھ گیا کہ بنگلہ دیش میں تھانے کے SHOکا تقرر بھی را کی مرضی سے ہوتا ہے۔ فوج، عدلیہ، کسٹم، پولیس، خفیہ اداروں میں را اور ہندوستانی فوج کے لاکھوں اہلکار تعینات ہیں۔ فوج کے سربراہ جنرل وقارالزماں بھی حسینہ واجد کے قریبی عزیز اور سب سے بڑھ کر بھارتی را کے پسندیدہ ہیں۔

حکومت میں اپنے لوگوں کے تقرر کیلئے سرکاری ملازمتوں میں مکتی باہنی کا کوٹہ 30 فیصد کرکے باہنی کے ساتھ انکے بچوں، پوتے پوتی،نواسے اور نواسیوں کو بھی کوٹے کا حقدار قرار دیدیا گیا۔ دنیا کے دوسرے مسلم معاشروں کی طرح بنگلہ دیش میں بھی نوجوانوں کا تناسب 60 فیصد سے زیادہ ہے جسکی بڑی تعداد بیرزگاری کا عذاب سہہ رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق تین کروڑ 20 لاکھ تعلیمیافتہ بنگالی نوجوان بیروزگار ہیں  جبکہ سرکاری ملازمتوں کا بڑا حصہ مکتی باہنی کے لواحقین کیلئے وقف ہے۔

مکتی باہنی کے کوٹے پر نوجوان سخت برہم تھے۔حکومت نے اعتراض کو 'جماعتی سازش' قراردیکر مسترد کردیا اور سارے ملک میں اسلامی چھاترو شبر کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ شبر کے درجنوں کارکن 'پولیس مقابلے' کا شکار ہوئے۔ تاہم تحریک جاری رہی اور طلبہ کےتیور دیکھ کر حزب اختلاف کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کیساتھ وزیراعظم کی اتحادی جاتیہ پارٹی نے بھی اپنا وزن تحریک کے پلڑے میں ڈالدیا۔ حسینہ واجد کو اس بات کا احساس تھا کہ پانی سر سے اونچا ہورہا ہے، چنانچہ انھوں  نےاپنی طلبہ تنظیم چھاترو لیگ کو اعتماد میں لے کر مکتی باہنی کا کوٹہ ختم کردیا۔منصوبہ یہ تھا کہ کوٹہ ختم کرنے کی یادداشت (میمورنڈم) کے خلاف عدالت میں استغاثہ دائر کردیا جائے گا اور عدلیہ اس میمورنڈم کو کالعدم قراردیدیگی۔ اس طرح ایک طرف تو بنگلہ دیشی عدالت کی آزادی کا ڈھنڈورا پیٹنے کا موقع ملتا کہ عدلیہ نے بلا خوف وزیراعظم کا حکم کالعدم قراردیدیا اور دوسری طرف وہ مظاہرین کو کہہ سکیں گی کہ میں نے تو اپنی سی کوشش کرلی لیکن عدلیہ کے آگے میرے ہاتھ بندھے ہیں

اور ہوا بھی ایسا ہی کہ 5 جون کو عدالت عالیہ نے مکتی باہنی کے لواحقین کا کوٹہ ختم کرنے کا حکم غیر آئینی قراردے دیا۔عدالت کے فیصلے پر چھاترولیگ نے جشن منایا لیکن طلبہ اس پر سخت برہم تھے۔ لاوا پکتا رہا اور 12 جولائی کو ملک بھر کی جامعات کے طلبہ سڑکوں پر آگئے۔ حکمراں عوامی لیگ اور انکی طلبہ تنظیم چھاترو لیگ نے ہر جگہ مزاحمت کی اور تصادم میں چار طلبہ ہلاک اور سینکڑوںزخمی ہوئے ۔ تشدد سے تحریک میں مزید شدت آگئی۔

کوٹے کے خلاف تحریک بہت جلد حکومت مخالف مہم میں تبدیل ہوگئی۔وزیراعظم نے جماعت اور بی این پی کی رَٹ جاری رکھی۔ ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر جذباتی خطاب کیا۔ انکا کہنا تھا کہ انتخابات ہارنے کے بعد جماعت اسلامی اور بی این پی تشدد کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔پاک فوج کے تنخواہ دار “جماعتی” سنار بنگلہ کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ ہم مکتی باہنی کے احسانات نہیں بھول سکتے۔ حسینہ واجد نے جذباتی انداز میں کہا'دیش کو 1971 کی سی صورتحال کا سامنا ہے۔  بنگلہ دیش میں اگر مکتی باہنی کی اولاد کو نوکری نہیں ملے گی تو کیا 1971کے “خونی رجاکاوں”کی اولاد کو نوازا جائے۔ یہ دراصل 1971 میں مکتی باہنی کے مقابلے میں پاکستانی رجاکاروں(رضاکاروں) کی مزاحمت کی طرف اشارہ تھا جو البدر اور الشمس کے عنوان سے منظم ہوئے تھے۔ 

انکے خطاب سے ملک بھر میں آگ گئی اور بدترین تشدد سے حالات اور خراب ہوگئے۔ طلبہ کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کیلئے عدالت نے سرکاری بھرتی کے نظام میں تبدیل کرکے مکتی باہنی کا کوٹہ 5 فیصد کردیا۔عدالتی فیصلے سے امید بندھی کہ شائد اب بنگلہ دیش میں حالات معمول پر آجائیں۔ لیکن حکومت نے مظاہرہ کرنے والے طلبہ کے  خلاف انتقامی کاروائی شروع کردی۔ ڈھاکہ پولیس نے بلوہ، اقدام قتل، کارِ سرکار میں مداخلت، غداری ، پاکستانی فوج کی ایما پر بنگلہ دیش کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے الزامات پر دو لاکھ تیرہ ہزار افراد پر مقدمات قائم کردئے۔ زیادہ تر مقدمات “نامعلوم” افراد کے خلاف بنائے گئے۔بہت سے الزامات ایسے ہیں جنکے ثابت ہونے پر سزائے موت دی جاسکتی ہے۔ پرچے کٹتے ہی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا اور صرف 24 گھنٹوں کے دوران 4500 طلبہ دھر لئے گئے۔ طالب علم رہنما ناہید اسلام اور آصف محمود کو اسپتال سےگرفتار کیاگیا۔ ساتھ ہی باغی طلبہ کی ٹارگٹ کلنگ شروع ہوئی اور سارے ملک میں درجنوں طلبہ کو سادہ لباس پولیس نے ہلاک کردیا۔طلبہ نے الزام لگایا کہ طلبہ کے خلاف خصوصی آپریشن کیلئےہندوستان کی خفیہ پولیس کے ہزاروں اہلکار بنگلہ دیش بلائے گئے ہیں اور باغیوں کو ٹھکانے لگانے کے اس آپریشن کی نگرانی قومی سلامتی کےہندوستانی مشیر اجیت دوال کررہے ہیں۔طلبہ رہنماوں کا  کہنا ہے کہ ٹارگیٹ کلنگ کے ساتھ نوجوانوں کو  معذور کرنے کی منظم مہم شروع کردی گئی ہے اور اسپتال ایسے طلبہ ے بھرگئے ہیں جنکے پیر اور ہاتھ نامعلوم افراد نے توڑدئے، ریڑھ کی ہڈی پر شدید  ضربات سے کئی طلبہ کا نچلا دھڑ مفلوج ہوگیا۔ معذور کئے جانیوالے زیادہ تر افراد جامعات  کےطلبہ ہیں جو شائد اب کبھی اپنے پیروں پر کھڑے نہ ہوسکیں۔

اس مرحلے پر حسینہ واجد نے ترپ کا پتہ پھینکا اور مغربی دنیا کو 'ڈرانے' کیلئے قوم سے اپنے خطاب میں انھوں طلبہ تحریک کو انتہاپسندوں کا غدر قراردیا۔ انکا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کو انتہاپسند اسلامی ریاست بنانا چاہتی ہے۔ اسی مقصد کیلئے اسکی طلبہ تنظیم اسلامی چھاترو شبر نے یہ تحریک شروع کی ہے اور انھوں نے جماعت اسلامی اور اسلامی چھاترو شِبّر پر پابندی لگادی۔

جمعہ 2 اگست کو طلبہ نے ملک گیر یوم سیاہ منایااور پورا بنگلہ دیش حسینہ واجد استعفیٰ دو، بھارتی مداخلت مردہ باد اور 'ہر قیمت پر مادر وطن کی آزادی' کے نعروں سے گونج اٹھا۔ ڈھاکہ، سلہٹ، کھلنا، چاتگام، نواکھالی سمیت کئی شہروں میں پولیس نے مظاہرین پر شدید تشدد کیا اور پولیس فائرنگ سے دونوجوان ہلاک ہوگئے۔ چار

اگست کو سول نافرمانی تحریک  کا آغاز ہوا۔ پولیس وردیوں میں ملبوس عوامی لیگی جتھوں نے مظاہرین پر حملے کئے اور صرف ڈھاکہ میں  14پولیس والوں سمیت 93 افراد مارے گئے۔

اسی دن طالب علم رہنماوں آصف محمود، سرجیس عالم اور ابوبکر موجمدار نے  ڈھاکہ مارچ کا اعلان کرتے ہوئےملک بھر کے لوگوں سے ڈھاکہ پہنچنے کی درخواست کی ۔قائدین کا کہنا تھا کہ حسینہ واجد کے استعفے تک تحریک جاری رہیگی

اس اعلان پر اتوار کی شام ہی سے لاکھوں لوگوں نے بنگلہ دیشی دارالحکومت میں ڈیرے ڈالدئے تھے۔مظاہرین وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ اور پارلیمان کی عمارت میں گھس گئے۔ اسوقت حسینہ واجد نے فوجی ہیڈکوارٹر میں پناہ لی ہوئی تھی۔

اسی دوران صدارتی محل میں امیر جماعت اسلامی اور بنگلہ دیش نیشنلست پارٹی (BNP)کے رہنماوں سمیت تمام سیاسی جماعتوں، علما، سول سوسائٹی، طلبہ رہنماوں نے فوج کے سربراہ جنرل وقار الزماں سے ملاقات کی ۔عوامی لیگ اور اسکی طلبہ تنظیم چھاترو لیگ کو مدعو نہیں کیا گیا۔ملاقات کے بعد BNP کے سربراہ مرزا فخرالاسلام عالمگیر اور امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر شفیق الرحمان نے صحافیوں کو بتایا کہ حالیہ ہنگاموں سے ملک سے شدید نقصان اٹھایا ہے۔ نوخٰیز بچے مارے جارہے ہیں۔کاروبار تباہ ہوگیا اور لاکھوں گھروں میں فاقے کی نوبت آگئی ہے۔ ان رہنماوں نے  کہا کہ انتقامی طرزعمل سے اجتناب، جمہوریت کی بحالی، منتخب حکومت اور نفرت کی سیاست ختم کرکے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ جناب عالمگیر نے بتایا کہ بی این پی کی قائد خالدہ ضیا، تمام سیاسی قیدیوں اور حالیہ ہنگاموں میں گرفتار ہونے والے طلبہ کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ جنرل صاحب کو بتادیا ہے کہ مارشل لا مسئلے کا حل نہیں۔

اسکے چند گھنٹے بعد فوجی ہیڈکوارٹر میں بحریہ اور فضائیہ کے سربراہوں کے ہمراہ جنرل وقارالزماں نے اعلان کیا کہ حسینہ واجد نے استعفیٰ دیدیا ہے اور جلد ہی عبوری حکومت قائم کردی جائیگی۔  بنگلہ دیشی وزیراعظم اس سے پہلے ہی فرارہوچکی تھیں۔

ہندوستانی ٹیلی ویژن NDTVکے مطابق حسینہ واجد اپنی ہمشیرہ شیخ ریحانہ کے ہمراہ ایک فوجی ہیلی کاپٹر میں اگرتلہ پہنچیں جہاں سے انھیں ہندوستانی فوج کے پیلی کاپٹر میں دہلی کے مضافاتی علاقے غازی آباد کے ہندن فوجی اڈے پہنچایا گیا۔ پیر کی رات انھوں نے ہندوستانی مشیر قومی سلامتی اجیت دوال سے ملاقات کی۔ بی بی سی کے مطابق لندن میں حسینہ واجد کے صاحبزادے  سجیب واجد نے صحافیوں کو بتایا کہ انکی والدہ اب سیاست میں واپس نہیں آینگی۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ سجیب کا یہ بیان انکی والدہ کی جانب سے برطانوی حکومت کو دی جانیوالی ضمانت اور سیاسی پناہ کیلئے انکی درخواست کا حصہ ہے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل 9 اگست 2024

ہفت روزہ دعوت دہلی 9 اگست 2024

روزنامہ امت کراچی 9 اگست 2024

ہفت روزہ رہبر 9 اگست 2024


بنگلہ دیش اور جماعت اسلامی

 

بنگلہ دیش اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش میں آنے والی تبدیلیوں کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مبالغہ آمیز انکشافات کا سلسلہ جاری ہے۔ اسلام پسند عناصر کیلئے یہ  سنار بنگلہ میں اسلامی انقلاب کی نوید ہے تو روشن خیال بنگلہ دیش میں ملاملتڑی الائنس کا خوف ظاپر کررہے ہیں۔

بنیادی طور پر یہ طلبہ تحریک ہے جو کوٹہ سسٹم کے خلاف شروع ہوئی۔ڈھاکہ ہائیکورٹ کے فیصلے سے یہ بحران پرامن حل کے قریب پہنچ چکا تھا اور عدالتی فیصلے پر علمدرآمد کیلئے وزارت قانون نے گزٹ کا مسودہ بھی وزیراعظم کا بھیج دیا تھا۔

لیکن حسینہ واجدنے طلبہ مظاہروں کے دوران  پرتشدد واقعات اور جانی و مالی نقصانات کی ذمہ داری جماعت اسلامی اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی پر ڈالنے کیساتھ 'شر پسند' طلبہ کے خلاف انتقامی کاروائی شروع کردی۔ایک جانب جماعت اسلامی اور اسلامی چھاترو شبر پر پابندی لگادی گئی تو دوسری طرف  ڈھاکہ پولیس نے بلوہ، اقدام قتل، کارِ سرکار میں مداخلت، غداری ، پاکستانی فوج کی ایما پر بنگلہ دیش کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے الزامات پر دو لاکھ تیرہ ہزار افراد پر مقدمات قائم کردئے۔ زیادہ تر مقدمات “نامعلوم” افراد کے خلاف بنائے گئے۔بہت سے الزامات ایسے ہیں جنکے ثابت ہونے پر سزائے موت دی جاسکتی ہے۔ پرچے کٹتے ہی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا اور صرف 24 گھنٹوں کے دوران 4500 طلبہ دھر لئے گئے۔ طالب علم رہنما ناہید اسلام اور آصف محمود کو اسپتال سےگرفتار کیاگیا۔ ساتھ ہی باغی طلبہ کی ٹارگٹ کلنگ شروع ہوئی اور سارے ملک میں درجنوں طلبہ کو سادہ لباس پولیس نے ہلاک کردیا۔

طالب علم رہنماوں نے الزام لگایا کہ نوجوانوں کے خلاف خصوصی آپریشن کیلئےہندوستان کی خفیہ پولیس کے ہزاروں اہلکار بنگلہ دیش بلائے گئے ہیں اور باغیوں کو ٹھکانے لگانے کے اس آپریشن کی نگرانی قومی سلامتی کےہندوستانی مشیر اجیت دوال کررہے ہیں۔ طلبہ رہنماوں کا  کہنا تھا ہے کہ ٹارگیٹ کلنگ کے ساتھ نوجوانوں کو  معذور کرنے کی منظم مہم شروع کردی گئی ہے اور اسپتال ایسے طلبہ ے بھرگئے ہیں جنکے پیر اور ہاتھ نامعلوم افراد نے توڑدئے، ریڑھ کی ہڈی پر شدید  ضربات سے کئی طلبہ کا نچلا دھڑ مفلوج ہوگیا۔ معذور کئے جانیوالے زیادہ تر افراد جامعات  کےطلبہ ہیں جو شائد اب کبھی اپنے پیروں پر کھڑے نہ ہوسکیں

انتقامی کاروائی کئ جواب میں طلبہ نے 2 اگست کو ملک گیر یوم سیاہ منایا۔محترمہ نے تشدد کا سہارا لیا اور 4 اگست کو 93 طلبہ ہلاک کردئے گئے۔ اسی رات طلبہ کی اپیل پر سارے ملک سے آنے والے لاکھوں افراد نے وزیراعظم ہاوس سمیت سارے ڈھاکہ پر قبضہ کرلیا اور حسینہ واجد فرار ہونے پر مجبور ہوگئیں۔

مہم میں جماعت اسلامی اور بی این پی کی شرکت حمائت کی کی سطح پر تھی یعنی انکے کارکنوں نے گرفتار طلبہ کی داررسی کی اور ڈھاکہ مارچ میں عوام کو لانے میں تنظیمی مدد فراہم کی۔ جامعات میں موجود شبر کے کارکن بھی احتجاج میں شریک ہوئے

تاہم مہم  طلبہ کے ہاتھ میں تھی اور اب تک ہے۔ ناہید اسلام، آصف محمود، سرجیس عالم اور ابوبکر موجمدار تحریک کی قیادت کررہے ہیں۔ ممکن ہے قائدین میں سے کچھ لوگوں کی نظریاتی وابستگی یا ہمدردی اسلامی چھاترو شبر کے ساتھ ہو، لیکن ان میں سے کسی کا شبر سے تنظیمی تعلق نہیں۔ ناہید اسلام کے معتمدِ شبر ہونے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں۔

جماعت و شبر کی ساری قیادت اور ہزاروں بلکہ لاکھوں کارکن جیل میں اور انکے دفاتر مقفل تھے۔ یہ سب لوگ کل رہا ہوئے ہیں۔ ڈھاکہ میں جماعت اسلامی کے بازیاب ہونے والے مرکزی دفتر کا افتتاح کرتے ہوئے امیرجماعت اسلامی ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا 'ہمیں نہ عبوری حکومت میں شمولیت کی دعوت ملی ہے اور نہ جماعت اسلامی  کو کوئی دلچسپی ہے'۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اس وقت اصل ضرورت دستور کے مطابق 90 دن میں انتخاب کرانے کی ہے۔ جماعت کو اصل خوشی اس بات کی ہے کہ دودہائیوں بعد کھل کر کام کرنے کا نوقع مل رہا ہے۔



Thursday, August 1, 2024

سرائیل لبنان براہ راست جنگ کا خطرہ؟؟؟ القدس شریف میں انتہا پسندوں کی دراندازی پر یہودی علما مشتعل اسرائیلی فوج میں مایوسی۔ محاذ پر جانے سے انکار غزہ بندر بانٹ کا منصوبہ

 

اسرائیل لبنان براہ راست جنگ کا خطرہ؟؟؟

القدس شریف میں انتہا پسندوں کی دراندازی پر یہودی علما مشتعل

اسرائیلی فوج میں مایوسی۔ محاذ پر جانے سے انکار

غزہ بندر بانٹ کا منصوبہ

سیانے کہتے ہیں کہ ہر جنگ کی سب سے پہلی شہید سچائی ہوتی ہے۔ اس حقیقت کا دردناک مشاہدہ  ہم گزشتہ دس ماہ سے کر رہے ہیں۔یکم ستمبر کو 21 کلومیٹر لمبی اور دس کلومیٹر چوڑی پٹی پر مسلسل بمباری کے 300 دن مکمل ہوگئے۔اس سے ایک پفتہ پہلے امریکی کانگریس (پارلیمان) کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں اسرائیل کے وزیراعظم بن یامیں نیتھن یاہو نے بہت اعتماد سے کہا کہ غزہ آپریشن انسانی تاریخ کی محفوظ ترین عسکری کاروائی ہے کہ جس میں شہریوں کا نقصان نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کے اس جملے پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا اور دنیا کی سب سے طاقتور جمہوریت کے قانون ساز دومنٹ تک ڈیسک بجاتے رہے۔اپنی تقریر میں نیتھن یاہو نے فخر سے کہا کہ ہم غزہ میں اب تک  14 ہزاردہشت گردوں کو ہلاک کرچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق غزہ میں پندرہ جولائی تک مارے جانیوالوں کی تعداد 38500 ہے۔ اگر اسرئیلی وزیراعظم کے دعوے کو درست مان لیا جائے تب بھی 24500 یعنی دوتہائی نہتے شہری مارے گئے ہیں۔

لیکن اسکی شکائت کس سے کی جائے کہ مسلم معاشروں سمیت ساری دنیا نے اس پر آنکھیں بند کررکھی ہیں۔ اس حوالے سے 27 جولائی کو ایک ہی دن کے دو واقعات پیش خدمت ہیں۔

دوپہر کومقبوضہ گولان کے علاقے مجدل شمس پر لبنان سے ہونے والے میزائیل حملے میں 12افراد ہلاک ہوئے۔ لبنانی مزاحمت کاروں کا دعوی ہے کہ انھوں نے فٹبال میدان میں قائم اسرائیل کے ایک فوجی تربیتی مرکز کو نشانہ بنایا جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ میزائیل اسوقت داغا گیا جب یہاں نوجوانوں کا فٹبال میچ ہورہا تھا۔ ہلاک ہونے والے تمام افراد کی عمریں 10 سے 20 سال کے درمیان ہیں۔امریکہ، یورپ اور 'مہذب' دنیا کو اس پر شدید تشوییش ہے۔ جنگ میں نہتے افراد کی ہلاکت یقیناً قابلِ افسوس اور ایسے واقعات کا کسی بھی تناظر میں دفاع غیر منصفانہ ہے۔لیکن تقریباً عین اسی وقت  غزہ میں دیر البلاح  کے ایک اسکول کو اسرائیلی بمباروں نے پیوندخاک کردیا جس میں پر پندرہ کم عمر بچوں اور انکی آٹھ استانیوں سمیت 30 افراد جان بحق ہوئے۔ اسرائیل نے حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسکول مزاحمت کاروں کا اڈا تھا۔ تاہم عینی شاہدوں نے رائٹرز کے نمائندوں کو بتایا کہ ہلاک یا زخمی ہونے والوں میں ایک بھی مزاحمت کار شامل نہیں۔'مہذب' دنیا نے اسرائیل کی وضاحت کو من و عن قبول کرلیا۔ یادش بخیر 11 جولائی کو غزہ میں فٹبال کھیلتے بچوں کو نشانہ بنایاگیا تھا جس میں CNNکے مطابق 50 بچے زندہ جل گئے۔

مجدل شمس میزائیل حملے کے بعد اسر ائیل لبنان براہ رات جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اسرائیلی انتپاپسند لبنان کو کچل دو کے نعرے لگارہے ہیں۔ نیتھن یاہو نے اپنے جذباتی خطاب میں معصوم لہو کا انتقام لینے کا اعلان کیا تو دوسری جانب ایران کا رویہ بھی سخت نظر آرہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نصر کنعانی نے کہا کہ اگر اسرائیل نے لبنان کو جارحیت کا نشانہ بنایا تو اس مہم جوئی کی تل ابیب کو بھاری قیمت ادا کرنی ہوگی۔

ہفتہ رفتہ میں اسرائیلی وزیراعظم کا دورہ امریکہ ذرایع ابلاغ پر چھایا رہا۔ اس دوران جناب نیتھن یاہو نے امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ امریکی صدر و نائب صدر کے علاوہ انھوں نے ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈانلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی۔

نیتھن یاہو کے خطاب کا نائب صدر کملا دیوی ہیرس اور 80 ارکان نے بائیکاٹ کیا۔ فلسطینی نژاد رکن محترمہ رشیدہ طلیب نے بائیکاٹ میں حصہ نہیں لیا لیکن وہ اجلاس کے دوران اسرائیلی وزیراعظم کو 'جنگی مجرم' کا کتبہ دکھاتی رہیں۔ نائب صدر بربنائے عہدہ سینیٹ (راجیہ سبھا) کی سربراہ ہیں اور انکی غیر حاضری سب نے محسوس کی۔ نائب صدارت کیلئے ریپبلکن پارٹی کے امیدوار سینیٹر جے ڈی وانس بھی اجلاس سے غیر حاضر تھے۔ اس موقع پر ہزاروں لوگوں نے کانگریس  کی عمارت کے باہر اور جس ہوٹل میں نیتھن یاہو ٹہرے ہوئے ھے اسکے سامنے زبردست مظاہرہ کیا۔اس دوران پولیس کا رویہ انتہائی معاندانہ تھااور پکڑ دھکڑ کے ساتھ مظاہرہ کرنے والوں پر جلد میں سوزش پیدا کرنے والے کیمیکل کا اسپرے کیا گیا جسکی وجہ سے کئی خواتین بیہوش ہوگئیں۔

دوسرے دن اسرائیلی وزیراعظم نے صدر بائیڈن سے ملاقات کی۔صحافتی ذرایع کاکہنا ہے کہ باضابطہ مذاکرات کے دوران امریکی صدر کا رویہ دوٹوک تھا اور انھوں نے واضح کردیا کہ قیدیوں کی رہائی اور علاقے میں دیرپا امن کیلئے انکے مرحلہ وار امن منصوبے پر عمل ضروری ہے۔ ملاقات کے بعد مشترکہ کانفرنس منعقد نہیں ہوئی۔

صدربائیڈن سے بات چیت کے بعد نائب صدر کملا ہیرس نے اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات کی جسکے بعد صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق اور اس حوالے سے انھیں ہماری مکمل حمایت حاصل ہے لیکن اہل غزہ کے مصائب سے آنکھیں چرانا بھی بنیادی انسانی اخلاقیات کے منافی ہوگا۔ یہود دشمن رویہ (Antisemitism) ہو یا اسلام فوبیا اور نفرت کے دوسرے بیانئے ان سب کو مسترد کیا جانا چاہئے۔ ہیرس صاحبہ کا کہنا تھا کہ غزہ میں فوجی جنگ بندی ضروری ہے اور اس سلسلے میں صدر بائیڈن نے مسئلے کے دیرہا حل کیلئے تین مرحلوں پر مشتمل حل پیش کیا ہے

  • مکمل جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کی غزہ کے آباد علاقوں سے واپسی
  • قیدیوں کی رہائی
  • اسرائیلی فوج کی غزہ سے مکمل واپسی

امریکی نائب صدر نے زور دیکر کہا کہ فلسطینینوں کو اپنی خودمختار ریاست کا حق حاصل ہے۔ فلسطینیوں کی امنگوں کے مطابق آزاد و خود مختار ریاست سے علاقے میں استحکام کیساتھ اسرائیل بھی محفوظ ہوجائیگا۔انھوں نے کہا کہ غزہ تنازعہ یکطرفہ نہیں، تمام فریق کے بیانئے اور نقطہ نظر کو ٹھنڈے دل و دماغ سے سمجھ لینے کے بعد ہی مستقبل کی منصفانہ صورت گری ممکن ہے۔ صدر بائیڈن کی طرح کملا ہیرس صاحبہ نے بھی مشترکہ پریس کانفرنس سے گریز کیا

امریکی نائب صدر کے اس بیان پر ریپبلکن پارٹی کی جانب سے شدید رد عمل کااظہار ہوا اور ریپبلکن یہود اتحاد (Republican Jewish Coalition) نے امریکی ذرائع ابلاغ پر اشتہار میں پیغام دیا کہ کملا ہیرس، مخصوص ووٹوں کیلئے اسرائیل کی پشت میں چھرا گھونپ رہی ہیں۔

عالمی سطح پر اس حوالے سے ایک بڑی تبدہلی برطانیہ کی جانب سے دکھائی دی جب لندن نے نیتھن یاہو، اسرائیلی وزیردفاع اور عسکری سربراہ کے خلاف عالمی فوجداری عدالت (ICC)کے پروانہ گرفتاری پر اعتراض واپس لے لیا۔ سابق وزیراعظم رشی سوناک کی حکومت نے وارنٹ کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی تھی، جسکی سماعت 26 جولائی کو ہونی تھی۔برطانیہ کے اٹارنی جنرل لارڈ ہرمر (The Lord Hermer)نے ایک دن پہلے عدالت کو مطلع کیا کہ انکی حکومت یہ درخواست واپس لے رہی ہے۔ اسکی وضاحت کرتے ہوئے وزیراعظم کئیر اسٹرامر (Keir Stramer) نے کہا کہ برطانیہ قانون کی بالادستی پر یقین رکھتا ہے اور ہم عالمی عدالت کو غیر ضروری بحث میں نہیں الجھانا چاہتے۔

اس ہفتہ حکومت کی اتحادی، عزم یہود جماعت (Otzma Yehudit) کے سربراہ اور وزیر اندرونی سلامتی، اتامار بین گوئر(Itamar Ben Givr)نے القدس شریف میں گنبد صخرا کے سائے میں عبادت کی جو 1967 میں اقوام متحدہ کو فراہم کی جانیوالی ضمانت کی صریح خلاف ورزی تھی۔ جنگ 1967 میں مشرقی بیت المقدس پر قبضے کے بعد اسرائیلی حکومت نے اس کے احترام کی تحریری ضمانت القدس شریف اوقاف اور اقوام متحدہ کو تحریری شکل میں جمع کرائی ہے ، جسے Status Que Maintenance Documentکا نام دیا گیا۔دستاویز کے مطابق غیر مسلم زائرین کو القدس کمپاونڈ میں عبادت کی اجازت نہیں۔

یہودی انتہا پسندوں کے لئے القدس کمپاونڈ جبلِ بیتِ محترم (Har haBayit)یا ٹیمپل ماونٹ ہے۔حالیہ حکومت کے انتہا پسند، Status Quoدستاویز کو منسوخ کردینا چاہتے ہیں اور اسی کے اظہار کیلئے بن گوئر نے  گنبدِ صخرا کے سائے میں عبادت کی۔ لیکن دلچسپ بات کہ مسلمانوں سے زیادہ یہودی علما بن گوئر کی مذمت کررہے ہیں۔ یہودیوں کا کہنا ہے کہ 70 عیسوی میں یروشلم کی تباہی اور رومن بادشاہ Titusکے ہاتھوں ہیکل سلیمانی کے انہدام کے بعد نئے ہیکل کی تعمیر تک ٹیمپل ماونٹ یہودیوں کیلئے حرام اور اسکی حدود میں داخلہ گناہِ کبیرہ ہے۔یہودی عقیدے کے مطابق ہیکل سلیمانی کی تعمیرِ نو کا مقدس فریضہ، نجات دہندہ المعروفHa-mashiach اپنے دست مبارک سے انجام دینگے۔ یہودیوں کے یہاں نجات دہندہ حضرت عزیر ؑ یا حضرت داودؑ کے نامزز کردہ خلیفہ ہونگے جبکہ مسیحیوں اور مسلمانوں کے خیال میں Messiah حضرت مسیح ؑہیں۔ٹیمپل ماونٹ پر عبادت کے بارے میں بن گوئر کی شیخی سے قدامت پسند سخت مشتعل ہوگئے۔کنیسہ(پارلیمان )میں تقریر کرتے ہوئے نیتھن یاہو کی اتحادی جماعت Shasپارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیرداخلہ موشے اربل نے کہا " ٹیمپل ماونٹ پر عبادت کرکے حضرت سلیمانؑ کے خلاف جس مکروہ توہین رسالت (blasphemy) کا ارتکاب کیا گیا ہے اس پرخاموش نہیں رہا جاسکتا۔ اسی جماعت کے ایک اور رکن پارلیمان موشے گیفی نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ ٹمپل ماونٹ میں یہودیوں کے داخلے پر مکمل پابندی لگائی جائے۔

جیسا کہ ہم پہلی کئی نشستوں میں عرض کرچکے ہیں کہ طاقت کے بہیمانہ استعمال کے باوجود اسرائیل غزہ میں اب تک کوئی عسکری ہدف حاصل نہیں کرسکا اور اسرائیلی مظالم  کی داستانیں اور ناکامی کے قصے اب خود انکے اپنے سپاہی بیان کررہے ہیں۔

مشہور امریکی جریدے گارجین کے ہفتہ وار رسالے Observerنے اپنی 27 جولائی کی اشاعت میں اسرائیلی سپاہیوں یووال گرین، طل وردی اور مائیکل اوفر زیو کی روداد شایع کی ہے جس میں ان تینوں نے اسرائیلی فوج کی غیر انسانی حرکتوں پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے دوبارہ غزہ جانے سے انکار کردیا ہے۔ یہ رپورٹ رسالے کی سینئر کالم نگار محترمہ روتھ مائیکلسن اور فوٹوگرافر کئیرزن بام (Quique Kierszenbaum) نے مرتب کی ہے۔کئیرزن بام صاحب ایک راسخ العقیدہ یہودی اور یروشلم کے رہائشی ہیں۔

یورال گرین نے جسکا تعلق طبی عملے سے ہے، خان یونس میں پچاس دن اسرائیلی فوج کیساتھ گزارے۔ گرین ایک رضاکار فوجی ہے جو سات اکتوبر کے حملے کی روح فرسا خبریں سن کر دہشت گردوں کی سرکوبی کیلئے غزہ آیا تھا۔ لیکن اسرائیلی فوج کے غیر انسانی روئے اور مجرمانہ سرگرمیوں نے اسے بد ظن کردیا۔ گرین نے بتایا کہ اسلحے کی تلاش کیلئے مارے جانیوالے چھاپوں  ہیں گھر سے قیمتی چیزیں بطور 'نشانی' اٹھالی جاتی ہیں۔خواتین کے عرب نقاشی والے زیور اسرائیلی سپاہیوں کو بہت محبوب ہیں جو وہ نشانِ بہادری کے طور پر اپنی بیویوں اور گرل فرینڈ کو روانہ کرتے ہیں۔ کئی گھروں کو کچھ نہ ملنے پر جھنجھلا کر جلادیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق معاملہ ان تین سپاہیوں تک محدود نہں۔گزشتہ ماہ رفح تعینات 41 رضاکار (Reserve)سپاہیوں نے فوج کے سربراہ کے نام کھلے خط میں کہا ہے کہ انکا ضمیر غزہ آپریشن کا حصہ بنے رہنے کی اجازت نہیں دیتا۔ خط میں انھوں نے لکھا کہ ' نصف سال سے ہم یہاں جنگ کررہے ہیں اور اب یہ بات ثابت ہوچکی ہےکہ فوجی کاروائی سے قیدیوں کو وطن واپس نہیں لایا جا سکتا۔ ہر گزرتا ہوا دن نہ صرف قیدیوں اور غزہ میں ہمارے فوجیوں کیلئے خطرات میں اضافہ کررہا ہے بلکہ شمالی سرحدوں پر رہنے والوں کی زندگی بھی مشکل میں پڑگئی ہے'

اہل غزہ کو اسرائیلی حملوں کیساتھ عرب دنیا کی جانب سے بھی منفی اشاروں کا سامنا ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق غزہ سے اسرائیلی فوج کی واپسی کےبعد پٹی کی بندر بانٹ کیلئے بات چیت فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ گزشتہ ہفتے ابوظہبی میں اسرائیل، امریکہ، متحدہ عرب امارت اور مصر کے اعلیٰ سطحی عسکری اہکاروں کا اجلاس ہوا جس میں اسرائیلی فوج کی واپسی کے بعد پٹی کے عسکری و سیاسی بندوبست کو آخری شکل دی گئی۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسیشل کراچی،  2 اگست  2024

ہفت روزہ دعوت دہلی 2  اگست 2024

روزنامہ امت کراچی2 اگست 2024  

ہفت روزہ رہبر سرینگر 2  اگست  2024