Thursday, November 18, 2021

سردی میں ٹھٹھرتے شامی و عراقی پناہ گزین اور بیرحم عالمی سیاست

سردی میں ٹھٹھرتے شامی و عراقی پناہ گزین اور بیرحم عالمی سیاست

آجکل  مشرقی یورپ میں درجہِ حرارت نقطہ انجماد سے کافی نیچے ہے۔خون جمادینے والی اس سردی میں مشرقی یورپ کے دوملکوں، بیلارس (Belarus)اور پولستان (Poland)کی سرحد پر ہزاروں شامی و عراقی پناہ گزین کھلے آسمان تلے اپنی کربناک موت کا انتظار کررہے ہیں۔ یہ بدنصیب جنگ و بد امنی سے پریشان ہوکر پناہ کی تلاش میں نکلے ہیں۔ سرحد کے قریب موجود شامیوں نے ترکی، اردن اور لبنان میں پناہ لے لی لیکن بحرروم کے ساحل تک پہنچ جانے  والے شامی، ٹوٹی پھوٹی کشتیوں پر نکل پڑے، جن میں سے  ہزاروں کو سمندر نگل گیا۔ اب بچ جانے والے 'خوش نصیب' یورپ اُتر کر پناہ کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔

داعش کی چیرہ دستیوں کا شکار شمال مغربی عراق کے لوگوں نے بھی شام کے راستے بحرِ روم کا رخ کیا۔ کافی تعداد میں عراقی و شامی مہاجرین۔ ایران سے گزر کر آذربائیجان کے راستے مشرقی روس سے ہوتے ہوئے بیلارُس پہنچ گئے۔ ان بے خانماں لوگوں کو امید تھی کہ وہاں سے مغرب میں سرحد عبور کرکے وہ پولستان پہنچ جائینگے جو یورپی یونین یا بزعمِ خود مہذب دنیا کا حصہ ہے۔ لیکن پولستانی افواج نے ان لوگوں کو اپنی سرحد پر روک دیا۔دوسری جانب روس نے بیلارُس کی سرحد پر اپنے دستے تعینات کردئے  جسکی وجہ سے یہ ہزاروں افراد یہاں پھنس کررہ گئے۔ اب نہ وہ پولینڈ میں داخل ہوسکتے ہیں اور نہ بیلارُس کو واپسی ممکن ہے۔   

مہاجرین کی ان پریشانیوں کی بڑی وجہ  یورپ میں پناہ گزینوں کے خلاف ایک عام رویہ ہے۔ برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کا سب سے بڑا محرک یہی تاثر تھا کہ یونین کا حصہ ہونے کی وجہ سے سلطنتِ برطانیہ کا اپنی سرحدوں پر کوئی کنڑول نہیں اور کسی بھی یورپی ملک میں داخل ہونے والا 'کنگلا و قلاش' مہاجر منہہ اٹھا کر لندن چلا آتا ہے۔ دلچسپ بات کہ سرحدوں پر پہرہ لگانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ برطانیہ میں 'مزدوروں' کی سخت قلت ہوگئی ہے۔ حال ہی میں لندن کے پیٹرول پمپوں پر ایندھن ختم ہوگیا کہ تیل ڈھونے والے ٹرکوں کیلئے مطلوبہ تعداد میں ڈرائیور میسر نہ تھے۔اس متعصبانہ فکر کے ساتھ روس و مغرب کی روائتی کشکمش نے مہاجرین کا معاملہ  مزید خراب کردیا ہے۔

ترانوے لاکھ نفوس پر مشتمل بیلارُس،  بیلورشین سوویٹ سوشلسٹ ریپبلک یا Byelorussian SSRکے نام سے آنجہانی سوویت یونین کی ایک ریاست تھی۔ جب افغان  مجاہدین کے ہاتھوں روس کے ٹکڑے ہوئے تو 1990 میں بیلا رُس ایک آزاد ملک بن گیا۔اسی دوران مشرقی یورپ پر بھی روس کی گرفت کمزور ہوئی اور اکثر ممالک نے کمیونزم کی چھتری سے باہر آکر مغربی جمہوری نظام اپنالیا۔ بیلارُس پر روس کی سیاسی و اقتصادی گرفت مضبوط رہی اور اب یہ روس اور مغربی دنیا کی سرحد ہے۔

بیلارُس کی آزادی اور نئے دستور کی منظوری کے بعد ہونے والے پہلے عام  انتخابات میں سوویت یونین کے فوجی افسر اور کمیونسٹ پارٹی کے سابق رہنما الیگزینڈر لکاشینکو  (Alexander Lukashenko)صدر منتخب ہوئے۔ جناب لکاشینکو اپنے انتخاب کے پہلے دن سے مغرب کیلئے ایک ناپسندیدہ شخصیت ہیں۔ امریکہ اور اسکے حلیفوں کو شکائت ہے کہ موصوف آمرانہ ذہن رکھتے ہیں اور انھوں  نے اپنے سیاسی مخالفین،سول سوسائٹی اور آزاد میڈیا کیخلاف پر تشدد رویہ اپنایا ہوا ہے۔ان الزامات کے تحت 2006ء میں سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے بیلارُس پر پابندیاں کیں۔ بش انتظامیہ کے مطابق ان اقتصادی و سفارتی قدغنوں کا مقصد صدر لکاشینکو کی آمرانہ حکومت کو انسانی حقوق کے حوالے سے معقولیت پر مجبور کرنا تھا۔ جارج بش کے بعد اقتدار سنبھالنے والے صدر بارک حسین  اوباما نے بھی بیلارُس کے خلاف امریکی تعزیرات برقرار رکھیں۔

اگست 2020 میں ہونے والے کے انتخابات کے بعد اس کشیدگی میں شدت آگئی۔ اس چناو میں الیگزینڈر لوکاشینکو چھٹی مرتبہ بلارُس کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔حزبِ اختلاف نے انتخابی عمل پر دھاندلی کا الزام لگا کر ملک گیر مظاہرے شروع کردئے جسے کچلئے کیلئے لکاشینکو سرکار نے مبینہ طور پر سخت گیر روئے کا مظاہرہ کیا۔ کئی ماہ جاری رہنے والے مظاہروں کے دوران  40 ہزار کے قریب افرادگرفتار کئے گئے اور سینکڑوں مخالفین کو پولیس تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان اقدامات پر مغرب کا ردعمل شدید تھااور امریکہ کے  ساتھ یورپی یونین نے لکاشینکو کی حکومت پر اضافی پابندیاں عائد کر دیں۔

اس سال مئی میں بیلارُس کے جنگی طیاروں نے یونان سے لتھوینیا جانے والی پرواز کا رُخ موڑ کر اسے اپنے دارالحکومت منسک (Minsk) اترنے پر مجبورکردیا۔حزب اختلاف نے الزام لگایا ہےکہ اس کاروائی کا مقصد جہاز پر سوار حکومت مخالف صحافی رومن پروٹا سیوچ (Roman Protasevich)کو حراست میں لینا تھا۔ دوسری طرف بیلارُس شہری ہوابازی کا موقف ہے کہ نجی ائرلائن Ryanairکی پرواز 4978 انتباہ کے باوجود مقررہ فضائی راستے سے مخلتف سمت میں جارہی تھی۔اس اقدام کے بعد یورپی یونین نے بیلارُس کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دیں اور تمام درآمدات پر پابندی لگادی جن میں پیٹرولیم مصنوعات، پوٹاش، کھاد اور زرعی آلات شامل ہیں۔ان پابندیوں سے بیلارُس کی معیشت بیٹھ جانے کاخطرہ پیدا ہوگیا۔

ان پابندیوں پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے صدر لکاشینکو نے کہا کہ خراب معاشی حالات کے باعث انکا ملک پناہ گزینوں کی میزبانی کا خرچ نہیں اٹھاسکتا لہذا بیلارُس کیلئے یورپی یونین سے کئے جانے والے اس معاہدے پر عملدرآمد جاری رکھنا ممکن نہیں جس کے تحت غیر قانونی تارکین وطن کو دوسرے ملک جانے سے روکنا میزبان ملک کی ذمہ داری ہے۔بیلورشین رہنما نے اعلان کیا کہ  انکا ملک  اب یورپی یونین کی طرف  جانیوالے والے  پناہ گزینوں کے سفر میں رکاوٹیں نہیں ڈالے گا۔

یورپی یونین نے الزام لگایا ہےکہ معاہدے کی یکطرفہ منسوخی کے  بعد بیلارُس حکومت  نے عراق، شام اور دیگر ممالک سے آنے والے پناہ گزینوں کو پڑوسی ممالک پولینڈ، لتھوینیا اور لٹویا کی جانب دھکیلنا شروع کر دیا ہے۔پولینڈ حکام کے مطابق بیلارُس کے حزب اختلاف کے رکن نے اس بات کی تصدیق کی ہےکہ سرکاری ٹورسٹ ایجنسی ان پناہ گزینوں کو سرحدی علاقوں تک سفر میں معاونت فراہم کررہی ہےیعنی صدر لکا شینکو پناہ گزینوں کو پابندیوں کے خلاف بطور ’مہرہ‘ استعمال کر رہے ہیں۔

دوسری طرف بیلو رشین صدر، یورپی یونین کی جانب سے سرحدوں کو بندش کو کٹھوردلی سے تعبیر کررہے ہیں۔انکا کہنا ہے ہے کہ پناہ گزینوں کو روکنے کیلئے پولینڈ نے اپنی سرحد پر خصوصی پولیس اور مسلح دستے  تعینات کر دئے ہیں اور یہ سپاہی بے سہارا پناہ گزینوں کو جانوروں کی طرح ہنٹر مار مار کر بیلارُس کی طرف واپس دھکیل رہے ہے۔ سات آٹھ ہزار پناہ گزین انتہائی سرد موسم میں کھلے آسمان تلے ہیں  اور گزشتہ تین چار دنوں میں کم ازکم آٹھ افراد  ٹھٹھر کر ہلاک ہوچکے ہیں۔

پولینڈکی جانب سےسرحد پر فوج تعیناتی کے جواب میں روس اپنے فوجی دستے بیلارُس بھیج رہا ہے جو اعلان کے مطابق پولستانی سرحد کے قریب بیلارُس کی  فوج کیساتھ مشترکہ مشق کرینگے۔ اس مقصد کیلئے مبینہ طور پر روسی چھاتہ بردار فوج  بھی بھیجی گئی ہے۔

امریکی فوجی ذرایع کے مطابق پولستانی سرحد کیساتھ جنوبی بیلارُس  میں یوکرین کی سرحد پر بھی روسی فوجوں کی نقل و حرکت دیکھی جارہی ہے۔ امریکہ اور نیٹو خدشہ ظاہر کرہے ہیں کہ پناہ گزینوں کے معاملے پر  پولینڈ اور بیلارُس کی کشیدگی سے فائدہ اٹھاکر روس، یوکرین کیخلاف ویسی ہی مہم جوئی کا ارادہ رکھتا ہے جیسی 2014میں کی گئی تھی جب روس نے کریمیا پر قبضہ جمالیا۔ امریکی وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ ماسکو کے عسکری عزائم کے بارے میں واشنگٹن سوئے ظن کو مناسب نہیں سمجھتا لیکن اُنکے ہتھکنڈوں سے غافل رہنا بھی ممکن نہیں۔ روس اور بیلارُس دونوں نے یوکرین کی سرحد پر فوج تعیناتی کی تردید کی ہے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ روس بیلارُس کی پیٹھ ٹھونک رہا ہے تو دوسری طرف  یورپی یونین پولینڈ، لتھوینیا اور لٹویا کی غیر مشروط حمائت پر کمربستہ۔ یورپی کونسل کے صدرچارلس مچل کے مطابق بلارُس سرحد پر خاردار تار لگانے اور رکاوٹٰیں کھڑی کرنے کی تجویز زیر غور ہے جو یورپی یونین کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہوگا۔غیر معمولی فوجی اجتماع اورعسکری نقل و حرکت سے جہاں مسلح تنازعے کی صورت میں علاقائی امن کو شدید خطرہ درپیش ہے وہیں سخت سردی میں شیرخوار بچوں سمیت ہزاروں پناہ گزینوں کی موجودگی خوفناک انسانی المئے کا سبب بن سکتی ہے

موسم کے رحم و کرم پر موت کا انتظار کرتے ان  ہزاروں افراد کے دونوں جانب مسلح فوجی دستے لڑائی کیلئے تیار کھڑے ہیں یایوں کہئے کہ مظلوم پناہ گزین دونوں طرف کے بندوقچیوں کے نشانے پر ہیں۔ یہ بد نصیب اب نہ اپنے ملکوں کو واپس جاسکتے اور نہ ہی یورپ کی جانب سفر ممکن  ہے۔ہلکا سے اشتعال اور معمولی تصادم کی صورت میں گولیوں کی پہلی باڑھ ان بے کسوں  کے سینے چھلنی کردےگی۔

اقوام متحدہ اور عالمی اداروں سے کیا شکوہ کہ مسلم و عرب دنیا کو  اس خطرناک صورتحال کا ادراک تک نہیں۔ اب تک شام اور عراق کی حکومتیں، عرب لیگ، موتمرعالم اسلامی اور مسلم ممالک کی تنظیم OICاس معاملے سے بالکل لاتعلق ہیں۔ جانے نہ جانے گُل ہی نہ جانے

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 19 نومبر 2021

روزنامہ امت کراچی 19 نومبر 2021

ہفت روزہ دعوت دہلی 19 نومبر 2019

ہفت روزہ رہبر سرینگر 21 نومبر 2021

روزنامہ قومی صحافت لکھنو


 

Wednesday, November 17, 2021

تحریک ِ انصاف اور الیکشن کمیشن کی خدمت میں ۔۔۔۔۔

 

تحریک ِ انصاف اور الیکشن کمیشن کی خدمت  میں ۔۔۔۔۔  

پاکستانی پارلیمان نےآئندہ عام انتخابات  الیکٹرانک ووٹنگ مشین (EVM)کے ذریعے منعقد کرانے کا بل منظور کرلیا اور توقع ہے کہ صدرمملکت  کی توثیق کے بعد یہ ایک قانون  جائیگا جسکی پاسداری ہر شہری کی اخلاقی ذمہ داری ہوگی۔

مشین کے ذریعے انتخابات سے کسی کو بھی اختلاف نہیں لیکن  شفافیت کے حوالے سے  پاکستان میں انتخابات کی تاریخ بہت اچھی نہیں اور تقریباً ہر انتخاب کے بعددھاندلی کا شور اٹھتا ہے۔ اس تناظر میں الیکشن کمیشن اور حزب اختلاف دونوں کو مشینی انتخابات پر تحفظات ہیں۔ سب سے بڑا ڈر یہ ہے کہ اگر حکومت کمپیوٹر کی پروگرامنگ میں ہاتھ کرگئی تو کیا ہوگا۔

 فواد چودھری صاحب کے دورِ وزارت میں جو مشین بنائی  گئی ہے وہ صرف انتخابی نشان پر Clickکریگی جس کے بعد چراغوں کی روشنی ختم یعنی شک و ابہام کی صورت میں اسکی تحقیق ممکن نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مشین میں کچھ ترمیم کرکے   سراغ پزیری یا Traceabilityکو یقینی بنالیا جائے

اس کے لئے پاکستان کا الیکشن کمیشن امریکہ کے حالیہ انتخابات میں استعمال کی جانیوالی مشینوں کے ڈیزائن سے فائدہ اٹھاسکتا ہے۔ گزشتہ صدارتی انتخابات کے بعد سابق صدر ڈانلڈ ٹرمپ اور انکی ریپبلکن پارٹی نے انتخابی مشینوں پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ تین ریاستوں یعنی وسکونسسن ، پنسلوانیہ اور مشیگن میں رات کو دیر سے جاری ہونے والے نتائج  یکطرفہ نظر آرہے تھے جن میں صدر بائیڈن کو غیر معمولی برتری حاصل ہوئی جس سے نتیجہ پلٹ گیا ورنہ نصف شب تک ان ریاستوں سے  سابق صدر ٹرمپ جیت رہے تھے۔ مشینوں میں وہ سہولت موجود نہیں جو کاغذی بیلٹ میں ہے کہ  تنازعے کی صورت میں   انھیں عدالتی نگرانی میں دوبارہ گن کر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کیا جاسکتا ہے۔  

اس شکایات کی بناپراس سال 2 نومبر کو ہونے والے انتخابات میں  کئی  امریکی ریاستوں نے نظام کو مزید  شفاف  بنانے کیلئے ایسی مشینیں استعمال کی ہیں جن میں  پرنٹر بھی نصب ہیں۔ ووٹ ڈالنے کا طریقہ کچھ اسطرح ہے

  • پولنگ اسٹیشن کے استقبالیہ پر ووٹر کی شناخت کرکے اسے کمپیوٹر کا شناختی لفظ یا passwordعطاکردیاجاتا ہے۔ پاس ورڈ کے ساتھ اس شخص کی ساری تفصیل ریکارڈ ہوجاتی ہے اور وہ کسی اور اسٹیشن پر جاکر دوبارہ ووٹ نہیں ڈال سکتا
  • ووٹنگ مشین کے تختہِ کلید (keyboard)پر شناختی لفظ ٹائپ کرنے سےاسکرین پر بیلٹ پیپر سامنے آجاتا ہے اور ووٹر curser اپنے پسندیدہ امیدواروں کے نام کے سامنے لاکر جب returnدباتے ہیں تویہ گویا ان امیدواروں کوووٹ ڈالنے کی 'نیت' کا اظہار ہے
  • جس کے بعد ووٹر کو بیلٹ پیپر پر نظرثانی کی اجازت ہے
  • اگر تمام نشانات ووٹر کی خواہش کے مطابق ہیں تو VOTEکابٹن دباکر ووٹنگ کی کاروائی مکمل کرلی جاتی ہے
  • ووٹ ڈالنے کا کام مکمل ہوتے ہی مشین سےملحق پرنٹراس بیلٹ کو چھاپ دیتا ہے۔
  • چھپے ہوئے بیلٹ کو دیکھ کر ووٹر کو یقین آجاتا ہے کہ مشین نے اسکاووٹ درست ریکاڑد کیا ہے۔ اگر ووٹرکو اس مرحلے پر کسی غلطی کا احساس ہو تو اسے اپنے ووٹ کو منسوخ کرکے مشین پر دوبارہ ووٹ ڈالنے کی اجازت ہے
  • اگرچھپا ہوا بیلٹ دیکھ کر ووٹر کو یقین ہوجائے کہ سب ٹھیک ہے تو وہ اسے بیلٹ بکس میں ڈال دیتا (دیتی) ہے۔
  • بیلٹ بکس دراصل Scannerہے جوبیلٹ پیپر اسکین کرکے اسے گنتی میں شامل کرنے کے ساتھ اسے اپنے پیٹ میں محفوظ کرلیتا ہے۔
  • تنازعے کی صورت میں اسکین مشین سے بیلٹ پیپر نکال کر گنے جاسکتے ہیں۔

پاکستان میں بھی مشین کیساتھ پرنٹر شامل کرکےاسے قابل اعتماد اور طریقہ کار کو شفاف بنایا جاسکتا ہے۔امید ہے تحریک انصاف کے رفقا اس تجویز پر ٹھنڈے دل سے غور فرمائینگے کہ انتخابی نظام کا شفاف ہونا سب سےزیادہ جیتنے والی جماعت کی ضرورت ہے۔


Tuesday, November 16, 2021

مُشتری ہُشیار باش!!!!

مُشتری ہُشیار باش!!!!

مشیرِ خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے قرض کی آخری قسط کے اجرا سے پہلے، 5 مطالبات کئے ہیں، جن میں ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ اور اسٹیٹ بینک کی خود مختاری شامل ہیں

آئی ایم ایف نے بجلی ، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی بھی سفارش کی تھی جن پر عملدرآمد جاری ہے جبکہ ٹیکسوں میں چھوٹ ختم کرنے کا معاملہ آئندہ بجٹ میں نمٹا لیا جائیگا

قومی سلامتی کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کی خود مختاری کا مطالبہ بے حد اہم ہے۔ مشیر خزانہ کا کہنا ہے کہ اس مطالبے کی تکمیل کیلئے مسودہِ قانون یا بل تیار ہورہاہے

اگر اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کیلئے آئی ایم ایف کی بات مان لی گئی تو پاکستان کا حال بھی افغانستان جیسا ہوسکتا ہے جہاں اسٹیٹ بینک زرمبادلہ کے ذخائر آئی ایم ایف کی زیر نگرانی واشنگٹن میں رکھنے کا پابند تھا۔ فوجوں کی واپسی کیساتھ ہی امریکہ نے افغان سرمایہ منجمد کردیا اور آج کروڑوں افغان فاقہ کشی کا شکار ہیں

ڈاکٹر حفیظ شیخ اور اسٹیٹ بینک کے گورنر جناب رضا باقر سرکاری خزانے پر پاکستان کو تصرف کے اختیار سے محروم یا کم ازکم اسے محدودکرنے کا ہدف دیکر یہاں بھیجے گئے تھے اور شیخ صاحب کی فراغت کے بعد یہی کام اب ترین صاحب کو سونپا گیا ہے

ہماری بدنصیبی کہ شدید اختلاف بلکہ نفرت کے باوجود آئی ایم ایف کی غلامی پر عمران خان، نوازشریف اور بلاول بھٹو میں ذرہ برابر اختلاف نہیں ، لہذا ڈر ہے کہ اسٹیٹ بینک خودمختاری بل آئی ایم ایف کی خواہش کے عین مطابق آسانی سے منظور ہوجائیگا۔

اسٹیٹ بینک پر حکومت پاکستان کا اختیار ختم ہونے سے ملکی خزانے کی کنجی جملہ اختیارات کے ساتھ گورنر اسٹیٹ بینک کی ' ملکیت' ہوجائیگی۔سی پیک (CPEC)اور ملکی دفاع خاص سے جوہری صلاحیتوں میں اضافے اور نکھار کی ہرتجویز کو وائسرائے یا گورنر اسٹیٹ بینک 'برائے ملاحظہ ' واشنگٹن بھیجیں گے اور وہاں سے آشیر واد کے بعد ہی اسٹیٹ بینک رقم جاری کریگا۔

ائے اہل وطن! ذرا سوچئے


 

Thursday, November 11, 2021

اُنہیں جمہوریت اچھی لگے ہے ۔ اگر یہ الجزائر ،مصر و تیونس میں نہ ہووے

اُنہیں جمہوریت اچھی لگے ہے

اگر یہ الجزائر ،مصر و تیونس میں نہ ہووے

گفتگو کے آغاز پر حضرت انور مسعود سے انکے شعر میں بلا اجازت تصرف پر دست بستہ معذرت۔  نیو ورلڈ آرڈر کے عنوان سے یہ  قطعہ دراصل کچھ اس طرح ہے

انہیں ضد ہے، ہوا اِسلامیوں کی

کسی گاڑی کے ٹائر میں نہ ہووے

انہیں جمہوریت اچھی لگے ہے

اگر یہ الجزائر میں نہ ہووے

آج کی نشست میں ہم سوڈان کے حالیہ سیاسی بحران کا جائزہ لیں گے اور گفتگو کا آغاز اس ملک کی مختصر تاریخ سے تاکہ قارئین کو معاملے کا پس منظر سمجھنے میں آسانی ہو

بحر قلزم (یااحمر) کے ساحل پر واقع جنوب مشرقی افریقہ کے  ملک سوڈان کی آبادی ساڑھے چار کروڑ کے قریب اور مسلمانوں کا تناسب 97 فیصد ہے۔ سوڈانیوں کو اپنی کالی رنگت پر ہمیشہ سے فخر رہا ہے۔ اس خطے کا نام پہلے بلادالسودان یا سیاہ فاموں کی سرزمین تھا۔ خلافت راشدہ کے دورہی میں سوڈان نورِہدائت سے جگمگا اٹھا جب مصر سے آنے والے مبلغین نے یہاں کے لوگوں کو دینِ حق سے روشناس کیا۔ عثمانی ترکوں نے 1821 میں سوڈان کے بڑے حصے کو ولایاتِ مصر کا حصہ بنالیا۔ آٹھ دہائیوں بعد 1899 میں سوڈان اور مصر کے پورے علاقے پر برطانیہ کا قبضہ ہوگیا۔ یکم جنوری 1956 کو سوڈان کو آزادی دیدی گئی۔ علما پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے قائد اسماعیل الازھری سوڈان کے پہلے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ ریاست کے قیام کے ساتھ ہی جنوبی سوڈان کے مسیحی علاقے میں آزادی کی تحریک شروع ہوگئی۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فوجی طالع آزماوں نے مداخلت شروع کردی۔ جلد ہی فوج کے دباوپر اسماعیل الازھری کی جگہ عبداللہ خلیل وزیراعظم بنادئے گئے۔ فوج کا ایک طبقہ جناب الازھری کاحامی تھا جس نے صرف دوسال بعد عبداللہ خلیل کو برطرف کرکے ایک فوجی افسر ابراہیم عبود کو وزیراعظم اور صدر نامزد کردیا۔فوج کے دوسرے دھڑے نے 6 سال بعد اسماعیل الازھری کو ملک کا صدر بنادیا لیکن الازھری کی صدارت صرف چار سال ہی چل سکی اور مئی 1969 میں کرنل جعفر النمیری نے اسماعیل الازھری کا تختہ الٹ دیا۔ کرپشن اور غداری کے الزام میں سابق صدر جیل بھیج دئے گئے۔ خرابیِ صحت کی بناپر الازھری صاحب ہسپتال منتقل ہوئے اور دورانِ حراست ہی انکا انتقال ہوگیا۔

سوڈان اپنی آزادی کے پہلے دن سے وردی والوں کے نرغے میں رہا اور  نمیری انقلاب کے بعد فوج نے سوڈان پر اپنے پنجے گاڑ دئے۔ اپریل 1985 میں ایک جمہوریت پسند جرنیل عبدالرحمان سوارالذھب نے جعفر النمیری کوبرطرف کرکے  انتخابات کے بعد  اقتدار صدر احمد المغیرنی اور وزیراعظم صادق المہدی کے حوالے کردیا۔

منتخب حکومت صرف چار سال چلی اور جون 1989 میں جنرل عمر البشیر نے وزیراعظم صادق المہدی کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ مسلم ممالک کے دوسرے جرنیلوں کی طرح عمر البشیر کے خیال میں سارے سیاست دان بے ایمان اور نااہل ہیں چنانچہ وہ سات سال تک سیاسی تطہیر کرتے رہے اور 1996 میں انتخابات کرواکر صدر 'منتخب' ہوگئے۔ پارلیمان کے انتخاب میں اخوان کی فکر سے وابستہ حزب الموتمر الشعبی یا پاپولر کانگریس پارٹی کو برتری حاصل ہوئی اور ممتاز اسکالر و دانشور ڈاکٹر حسن ترابی اسپیکر منتخب ہوگئے۔ جنرل صاحب نے دوام اقتدار کیلئے اسلام کا سہارا لیا اور ملک میں 'شریعت' نافذ کردی گئی جسکا اسلام کی روح یعنی انصاف، قانون کی حکمرانی، دیانت و احتساب وغیرہ سے کوئی تعلق نہ تھا۔ ان جرنیلوں کا خیال تھا کہ شریعت بس ہاتھ کاٹنے، گردن اڑانے اور سنگسار کرنے کا نام ہے۔

حسب توقع بہت جلد ڈاکٹر ترابی، جنرل صاحب کے ناپسندیدہ لوگوں میں شامل ہوگئے۔غداری، انتہا پسندوں سے تعلقات، اختیارات کے ناجائز استعمال اور اس نوعیت کے دوسرے الزامات عائد کرکے ترابی صاحب کو جیل بھیج دیا گیا اور 2016 میں انتقال تک ترابی صاحب وقفے وقفے سے جیل یاترا کرتے رہے۔

دوسری طرف جنوبی سوڈان میں علیحدگی کی تحریک زور پکڑ گئی۔ نسلی اعتبار سے سوڈان تین لسانی اکایئوں پر مشتمل ہے یعنی شمالی سوڈان جہاں عرب مسلمانوں کی اکثریت ہے، جنوبی سوڈان میں عیسائی اور روح پرست (Animist) افریقی قبائل آباد ہیں جبکہ مغربی سوڈان  ڈارفور کہلاتا ہے جو  افریقی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا 1956 میں مملکت کی  آزادی کے ساتھ ہی جنوبی سوڈان میں علیحدگی کی تحریک شروع ہوچکی تھی۔ ایتھوپیا کے متعصب حکمران شہنشاہ ہیل سلاسی علیحدگی پسندوں کی پشت پر تھے۔اصلاحِ عقیدہ کی غرض سے  شہنشاہ ھیل سلاسی نے مسیحی مبلغین کے بھیس میں سینکڑوں عسکری ماہرین جنوبی سوڈان بھیجے جبکہ اسلحے کی ترسیل کینیاکی ذمہ داری تھی۔ جنوبی سوڈان تحریک آزادی (SSLM)کے نام سے تربیت یافتہ گوریلوں نے سوڈانی فوج کا ناطقہ بند کردیا۔ جلد ہی سوڈان پیپلز لبریشن آرمی (SPLA) کے نام سے منظم مسلح جدوجہد کا آغاز ہوا

علاقے میں تیل کی دریافت نے معاملہ اور خراب کردیا۔ تیل سے ہونے والی آمدنی کی 'غیر منصفانہ تقسیم' پر SPLA نےجنگِ آزادی کا اعلان کردیا۔ نتیجے کے طور پر سوڈانی فوج اورSPLA کے درمیان خونریز تصادم ہوا۔لیبیا، کینیا، ایتھوپیا اور یوگنڈا نے SPLAکو جنوبی سوڈان کا نمائندہ تسلیم کرلیا جس سے SPLA کو سیاسی و سفارتی اعتبار سے  تقویت حاصل ہوئی۔ مغربی دنیا کھل کرSPLAکی پشت پر آکھڑی ہوئی اورجنوبی سوڈان میں جدید ترین اسلحے کے انبار لگا دئے گئے۔ مسیحی مبلغین نے محلے محلے جذباتی تقریروں سے جنگ کی فضا پیدا کردی اور نو برس کے بچے بھی SPLAکی وردی پہن کر میدان میں آگئے۔

بار بار کے مارشل لا نے سوڈانی فوج کو سیاسی و نظریاتی اعتبار سے تقسیم کردیا تھا جسکے نتیجے میں سوڈانی سپاہیوں کا حوصلہ بری طرح متاثر ہوا اور مغرب کے دباو پر جنرل البشیر ریفرنڈم پر تیار ہوگئے۔ جنوری 2011کے ریفرنڈم میں98 فیصد افراد نے مکمل آزادی کے حق میں رائے دی اور سوڈانی پارلیمنٹ نےعوامی رائے کا احترام کرتے ہوئے جنوبی سوڈان کوآزاد کرنے کا اعلان کردیا۔

آزادی کے ساتھ ہی سوڈان بڑی  آمدنی سے محروم ہوگیا کہ تیل اور گیس کے سارے میدان جنوبی سوڈان میں جبکہ تیل صاف کرنے کے کارخانے خرطوم اور اسکے مضافات میں ہیں۔ خام تیل کی ترسیل رکنے سے جہاں آمدنی  ختم ہوگئی وہیں یہ عظیم الشان کارخانے ملک پر بوجھ  بن گئے اور لاکھوں کارکنوں کو ملازمتوں سے فارغ کرنا پڑا۔ جنوبی سوڈان میں ڈیم اور اور چھوٹے بڑے بندوں کی تعمیر  سے دریائے نیل  میں پانی کا حجم  متاثر ہوا اور سوڈان کیلئے اپنے عوام کو غلہ و سبزی فراہم کرنا بھی مشکل ہوگیا۔

ان مشکلات کے باوجود فوجی جنتا کی لوٹ مار جاری رہی، تین سال پہلے  سوڈانی عوام نے فوجی اقتدار کے خاتمے کیلئے زبردست تحریک چلائی ۔عوامی تحریک کے نتیجے میں جنرل عمرالبشیر کو فوجی جنتا نے  معزول  تو کردیالیکن ملک کی باگ ڈور 'بلڈی' سویلین کے حوالے کرنے کے بجائے ایک انقلابی عبوری کونسل تشکیل دیدی گئی جسکے سربراہی  جنرل عبدالفتاح البرہان نے سنبھال لی اور  ماہرِ معاشیات ڈاکٹر عبداللہ حمدوک کو وزیراعظم بنادیا گیا۔ ساتھ ہی 2022 میں انتخابات کی نوید بھی سنادی گئی۔

عبوری کونسل نے مغرب سے سندِ قبولیت کیلئے اسرائیل کوتسلیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب صدر ٹرمپ عرب ممالک پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے دباو ڈال رہے تھے۔امریکی صدر کی کوششوں سے متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا جبکہ سعودی عرب نے اپنی فضائی حدود اسرائیلی کمرشل طیاروں کیلئے چوپٹ کھول دیں۔

سوڈان کو ترغیب دی گئی کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی صورت میں اسے دہشت گرد ملکوں کی فہرست سے نکال دیا جائیگا۔ کاروباری ٹرمپ نے کلنگ کے اس ٹیکے کو  ہٹانے کیلئے سوڈان سے 40 کروڑ ڈالر بھی وصول کئے۔ یہ رقم  دہشت گرد واقعے کے متاثرین کو سوڈانی حکومت کی جانب سے بطور تاوان اداکی جائیگی۔ جنرل صاحب نے  یہ شرط قبول کرکے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کردیا، یا یوں کہئے کہ تسلسلِ اقتدار کو یقینی بنالیا۔اسی کیساتھ وزیراعظم نے شرعی قوانین  منسوخ کرکے سوڈان کو ایک سیکیولر ملک قراردیدیا۔ یہ گویا جنرل برہان کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے نہلے پر حمدوک صاحب کا دہلا تھا۔

ان دواقدامات پر مغرب نے عبوری حکومت کی بڑھ بڑھ کر بلائیں لیں لیکن اختیارات کی تقسیم کے معاملے پر جنرل برہان اور وزیراعظم حمدوک کے درمیان کھینچ تان جاری رہی حتٰی 25 اکتوبر کو جنرل صاحب نے  عبوری حکومت کو تحلیل کرکے وزیراعظم  عبداللہ حمدوک اور کابینہ کے ارکان کو انکے گھروں پر نظر بند کردیا۔ قوم سے خطاب میں جنرل عبدالفتاح البرہان نے کہا کہ یہ قدم نہ تو فوجی انقلاب ہے اور نہ مارشل لا بلکہ نااہلی اور بدعنوانی کی بناپر انھوں نے حکومت کو گھر بھیجا ہے اور جلد ہی  نئی عبوری حکومت قائم کردی جائیگی۔ ساتھ ہی  انھوں  نے اگلے سال جولائی میں عام انتخابات کرانے کا وعدہ بھی کرلیا۔

فوجی قبضے کے خلاف ساری دنیا سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ امریکہ، یورپی یونین ، افریقی یونین، عرب لیگ اور اقوام متحدہ  نے فوجی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے عبداللہ حمدوک کی حکومت فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔دلچسپ بات کہ خلیج کے امرا، شیوخ اور سلاطین جیسے آمروں کو بھی سوڈان میں جمہوریت کی پامالی پر سخت تشویش ہے۔

قرنِ افریقہ (Horn of Africa)کیلئے امریکی صدر کے خصوصی نمائندے جیفری فیلٹ مین Jeffery Feltman جنرل برہان کے نام صدر بائیڈن کا بہت سخت پیغام لے کر 2 نومبر کو خرطوم پہنچے۔ اس انتباہ سے جنرل صاحب پریشان اور  معقولیت پر آمادہ نظر آرہے ہیں۔فوجی قیادت سے ملاقات کے بعد آن لائن اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جناب فیلٹ مین نے بتایا کہ سوڈانی فوج اب مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز اور تحمل کا مظاہرہ کررہی ہے جس سے اندازہ ہو تا ہے کہ جنرل برہان جلد ہی سویلین کیساتھ شراکتِ اقتدار پر راضی ہوجائینگے۔

اسی دن امریکہ، برطانیہ اور ناروے کے سفیروں نے گھر پر نظر بند عبداللہ حمدوک سے ملاقات کی جس میں 'ڈٹے رہو' پیغام کے ساتھ خوشخبری دی گئی کہ جنرل برہان سے بات چیت کا سلسلہ چل رہا ہے۔ گویا 'سحر قریب ہے دل سے کہو نہ گھبرائے'۔ سفیروں سےاس اہم ملاقات کے بعد 'قیدی' معزول وزیراعظم نے صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  فوجی اقتدار کی تحلیل اور سول حکومت کی بحالی سے سوڈانی عوام کو درپیش مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔

رائٹرز کے مطابق  معتمدِ عام اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ووکر پرتھز Volker Pertthes نے  خرطوم  سے سمعی و بصری رابطے پر نیویارک میں صحافیوں سے باتین کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی  کہ سوڈان کی فوجی جنتا سے مذاکرات جاری ہیں۔ بات چیت کے دوران مراعات اور سہولیات کے علاوہ عسکری قیادت کیلئے اس دلدل سے نکلنے کا باعزت  راستہ  تلاش کیا جارہا ہے ۔ جناب پرتھز پرامید ہیں کہ  یہ 'بحران' بہت  جلد ختم ہوجائیگا۔

اتوار، 7 نومبر کو جنرل برہان نے قوم سے خطاب میں سوڈانی عوام، سیاسی قائدین اور بین الاقوامی برادری کو یقین دلایا کہ انتخابات وقت پر ہونگے اور نتائج مرتب ہوتے ہی اقتدار منتخب حکومت کو منتقل کرکے فوج اپنی بیرکوں میں واپس چلی جائیگی۔ انھوں یہ وعدہ بھی کہا کہ عبوری دور کے خاتمے پر وہ کوئی حکومتی عہدہ قبول نہیں کرینگے۔ جنرل صاحب نے اعلان کیا کہ سیاسی سرگرمیوں اور پرامن مظاہروں پر کوئی پابندی نہیں۔ انھوں نے ماضی میں ہونے والے پر واقعات کی شفاف تحقیقات کیلئے ایک کمیشن قائم کردیا ہے۔

سوڈان کے حوالے سے یہ غیر معمولی رد عمل مغربی دنیا کے دہرے معیار کی ایک مثال ہے۔ بلاشبہہ ملکی امور میں فوجی مداخلت ایک قابل مذمت فعل ہے تاہم  عبداللہ حمدوک کی حکومت عبوری بندوبست تھا۔وہ منتخب رہنما نہیں تھے۔ اس واقعے سے ٹھیک 3 ماہ پہلے 25 جولائی کو ایک اور افریقی ملک تیونس میں”صدارتی مارشل لا” لگاکر منتخب حکومت کو معطل اور پارلیمان کو منجمد کردیا گیا۔اس پر دنیا کو کوئی تشویش نہیں شائد  اسلئے کہ  پارلیمنٹ کا اسپیکر اخوانی ہے۔ ماہرینِ سیاست و سفارت کا خیال ہے کہ اس شب خون  میں امریکی سفیرڈانلڈ بلوم نے کلیدی کردارادا کیا، موصوف کو اب پاکستان میں امریکہ کا سفیر نامزد کیا گیا ہے۔

اس سے 9سال پہلے ایک اور جنرل عبدالفتاح یعنی عبدالفتاح السیسی نے مصر میں ملکی تاریخ کے پہلے منتخب صدرکا تختہ الٹنے کے بعد قتل و غارتگری کا جو بازار گرم کیا ، وہ آج تک جاری ہے۔اس 'انقلاب' کو اسرائیل ، امریکہ، مغربی یونین اور خلیج تعاونی کونسل کی بھرپور حمائت حاصل تھی۔مورسی کاتختہ الٹنے کیلئے 3 جولائی کا انتخاب کیا گیایعنی یہ امریکہ کے یوم آزادی پر جنرل السیسی کی طرف سے صدراوباما کو ایک تحفہ تھا۔ مصر میں کامیابی کے چارسال بعد ایسی ہی کاروائی ترکی میں کی گئی اور وہاں بھی  جولائی کا انتخاب ہوا، لیکن ترک عوام نے مہم جو  فوجی افسران کی سرِ عام مُشکیں کس کر انکا اور انکے سرپرستوں کا دماغ درست کردیا۔ یہ کھیل الجزائر میں بھی کھیلا گیا۔کچھ ایسا ہی معاملہ فلسطین میں ہوا جب جون 2007 منتخب وزیراعظم اسماعیل ہانیہ کو صدر محمود عباس کے ہاتھوں معزول کراکے فلسطینوں کے درمیان نفرت کا بیج  بو دیا گیا۔یعنی مسلمان ملکوں میں وہی جمہوریت قابل قبول ہے جو مغرب کے سیکیولر ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے پرعزم ہو

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 12 نومبر 2021

ہفت روزہ دعوت دہلی 12 نومبر 2021

روزنامہ امت کراچی 12 نومبر  2021

ہفت روزہ رہبر سرینگر 14 نومبر 2021

روزنامہ قومی صحافت لکھنو