Tuesday, April 2, 2019

ڈالر پرواز کیلئے تیار


ڈالر پرواز کیلئے تیار
واشنگٹن میں عالمی مالیاتی ادارے (IMF)کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی   حکومت  اور  عالمی مالیاتی ادارے  میں تمام امور پر مکمل آہنگی کے بعد قرض  کی رقم بہت جلد پاکستان کے حوالے کردی جائیگی۔ آئی ایم ایف نے جو شرایط  رکھی تھیں وہ کچھ اسطرح  ہیں:
بجلی ،  پیٹرول  اورگیس پر رعائت یا سبسڈی ختم کردی جائے۔ حکومت  نے یہ شرط مان کرقیمتوں میں اضافے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔
زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس کے نظام میں لانے کیلئے عام معافی یا ٹیکس  ایمنسٹی دی جائے۔ وزیرخزانہ اسد عمر نے 2 اپریل کا اعلان کیا  ہےکہ ٹیکس نادہندگان کیلئے ٹیکس ایمنسٹی اگلے بجٹ سے پہلے متعارف  کرادی جائیگی۔ اسی کے ساتھ ٹیکس نادہندگان کو ودہولڈنگ ٹیکس (Withholding Tax) سے استثنیٰ بھی دیا جارہا ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے نے زرمبادلہ کے موجودہ نظام پر  عدم اطمینان کا اظہارکیا ہے۔ آئی آیم ایف کا مطالبہ تھا کہ پاکستان روپے کی قدر مستحکم رکھنے کی پالیسی ترک کرے اور FOREXبازار کو آزاد چھوڑ دے تاکہ  ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت کا تعین مارکیٹ خود کرے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے  آئندہ بجٹ سے پہلے شرح مبادلہ کا لچکدار نظام لانے کا عندیہ دیا ہے۔
زرمبادلہ کے کاروبار سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر کو بالکل آزاد چھوڑدینے سے پاکستانی  کرنسی  کو  شدیددباو کا سامنا کرنا پڑیگا جو پہلے ہی سے زوال پزیر ہے۔ خدا کرے بات غلط ہو لیکن   FOREXکے کچھ پنڈت  ایک ڈالر کے عرض 175 روپئے کی بات کررہے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو حکومت پیٹرول  گیس اور بجلی کی قیمتوں میں بھاری اضافے پر مجبور ہوجائیگی۔ 




احترامِ نسوانیت


احترامِ نسوانیت
یورپ  اور امریکہ میں خواتین کو مکمل آزادی حاصل ہے اوراختلاطِ مردوزن کی وجہ سے  اس   کھلے ڈلے معاشرے میں مروکا کسی عورت   سے مصافحہ، معانقہ  حتیٰ کہ اس پری پیکر کے  لب و رخسار چوم لینا کوئی معیوب بات نہیں  سمجھی جاتی لیکن اب خواتین  اس  معاملے میں  بہت حساس ہوگئی ہیں اور 'غیرمطلوبہ ' یا Unwanted پیش دستی پر بہت سے  بیباک مردوں کو ڈانٹ  پھٹکار سے آگے بڑھ کر محکمہ جاتی کاروائی کا سامنا ہے۔ کئی سیاسی رہنماوں کو اپنے عہدے سے  استعفیٰ  دینا پڑا ہے۔ خواتین کی #metooتحریک نے ایسے لوگوں کا تعقب شروع کردیا ہے جو خوش اخلاقی  کی آڑ میں  اپنی  ٹھرک  کی  تسکین  کرتے ہیں۔
تازہ ترین مثال  امریکہ کے سابق نائب صدر جو بائیڈن کی ہے  جو خواتین سے ملتے وقت غیر معمولی گرمجوشی کا   اظہار کرتے ہیں۔مصافحے کے دوران وہ نسوانی ہاتھ  بہت دیر تک تھامے رہتے ہیں ، پرجوش معانقہ کرتے ہیں اور گال چوم کر   بہت فراخدلی سے  حسن کی تعریف کرتے ہیں۔
جوبائیڈن  نے اب تک اعلان نہیں کیا لیکن وہ  آئندہ صدراتی انتخابات کیلئے  ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ کے خواہشمند ہیں ۔ گزشتہ دنوں انکی ایک پرانی تصویر سامنے آئی  جب  2015 میں انھوں نے سابق وزیردفاع ایش کارٹر  سے حلف لیا اور حلف کے بعد جب وزیرباتدبیر تقریر  کررہے تھے تو بائیڈن صاحب  نے وزیر کی اہلیہ محترمہ اسٹیفنی کارٹر کو اپنے مخصوص انداز میں مبارکباد دی۔ اخبارات میں اسی  نوعیت کی چند دوسری تصاویر بھی شائع ہوئیں  جس میں جو بائیڈن    خواتین  سے بے تکلفی کا مظاہر ہ کرررہے ہیں۔#Metooتحریک اور خواتین کی انجمنوں   کا خیال ہے کہ اکثر تصاویر میں سابق نائب  صدر جس بے تکلفی کا مظاہرہ کرتے نظر آرہے ہیں  وہ غیر مطلوبہ پیش دستی  بلکہ دست درازی شمار ہوتی ہے۔
جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ مصافحہ و معانقہ کرتے  وقت انکی نیت بالکل 'پاک' تھی۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کانگریس کی اسپیکر اور ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما  محترمہ  نینسی پلوسی سے کہا کہ  تاثر    نیت پر نہیں بلکہ مشاہدے  پرقائم ہوتے ہیں۔
ڈیموکریٹک پارٹی کی خواتین رہنماوں کا کہنا ہے کہ ان تصویروں میں   جناب  جوزف بائڈن  بلاوجہ  'فری ' ہوتے نظر آرہے ہیں جو  خواتین کو ہراساں  کرنے کی ایک کوشش ہے اور ایسے ٹھرکی کو ملک کا صدر نہیں بنایا جاسکتا۔

Monday, April 1, 2019

الجزائر۔۔ عوامی امنگوں سے مذاق


الجزائر۔۔ عوامی امنگوں  سے مذاق  
الجزائز میں  20 سال سے عوام کے سروں پر مسلط صدر عبد العزيز بوتفليقة  نے اپنی حالیہ مدت صدارت کی تکمیل سے  پہلے سبکدوشی کا اعلان کردیا۔اگر موصوف اپنی بات پر قائم رہے تو  28 اپریل سے پہلے  وہ ایوان صدارت خالی کردینگے۔ اسی کے ساتھ الجزائری پارلیمان نے تحفظ جمہوریت کیلئے آئین  کی وہ دفعہ بحال کردی جسکے تحت صدارت کو دومدت کیلئے محدود کردیا گیا تھا۔ صدر عبدالعزیز نے انگوٹھا چھاپ پارلیمان  سے  ترمیم منظور کراکے اسے لامحدود کردیا تھا۔
ایک اور ترمیم کے ذریعےاب   صدر کو اس  بات کا پابندکردیا  گیا ہے کہ پارلیمان کا انتخاب  ہوتے ہی  7 دن کے اندر اندر سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کے پارلیمانی قائد کو حکومت  سازی کی دعوت دے۔ صدر عبدالعزیز نے یہ وطیرہ اختیار کیا ہوا تھا کہ وہ چھوٹی چھوٹی جماعتوں کو اس امید پر حکومت سازی کی دعوت دیتے تھے کہ وہ دوسری جماعتوں سے مل کر واضح اکثریت  حاصل کرلے۔ اس طریقہ واردات کا فائدہ یہ تھا کہ حکومت سازی میں مہینےلگ جاتے اور اکثر  بھان متی کے اس کنبے کا کچھ ہی عرصے بعد شیرازہ  بکھرجاتا اور پارلیمانی دنگل کے دورا ن صدر صاحب اطمینان سے من پسند صدارتی آرڈیننس کے ذریعے حکومت چلاتے رہتے۔
آئینی ترامیم  کے ساتھ ایوان صدر نے 18 اپریل کو صدارتی انتخابات کا اعلان کیا ہے۔دوسری طرف یہ افواہ بھی گشت کررہی ہے کہ  صدارت کو دو مدت تک محدود کرنے پر عملدرآمد 2024 سے ہوگا جسکا مطلب ہوا کہ صدر عبدالعزیز 18 اپریل کو ہونے والے انتخابات میں حصہ لینگے۔سینیٹ کے سربراہ   بن صلاح نے فرمایا کہ 40 فیصد الجزائری 25 سال سے کم عمر ہیں جنھوں نے عبدالعزیز کے علاوہ کسی اور کو صدر نہیں دیکھا  چنانچہ اس بطلِ جلیل ' کو منظر عام سے یکدم  ہٹادینا ملک کے مفاد میں نہیں۔  فوج کے سربراہ  لیفٹیننٹ احمد قائد صالح کا بھی یہی خیال ہے کہ  صدر عبد العزيز بوتفليقة ایک علامتی سربراہ کے طور پر  مزید پانچ برس  ملک کی  قیادت فرمائیں۔ چونکہ موصوف معذوری کی حد تک بیمار ہیں اسلئے سینیٹ کے سربراہ کی حیثیت   سے جناب بن صلاح امور مملکت کی نگرانی کریں ا ورآہستہ آہستہ چند برسوں میں عبدالعزیز صاحب کو فار غ کردیا جائے۔ گویا نہ صرف  عبدالعزیزکا اقتدار قائم رہے بلکہ فوج  اور سیکیولر عناصر کے منظور نظر بن صلاح صاحب  عبدالعزیز کی جانشینی اختیار کرلیں۔
اس چالاکی پر الجزائری عوام میں شدید اشتعال پھیل گیا ہے۔ اور خیال ہے کہ منگل سے عوامی مظاہروں سلسلہ دوبارہ شروع کردیا جائیگا۔
Bouteflika has been confined to a wheelchair since suffering a stroke in 2013 [Sidali Djarboub/AP]

استنبول کے رئیس شہر کا انتخاب ۔ لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال


استنبول کے رئیس شہر کا انتخاب  ۔ لمحہ بہ لمحہ  بدلتی صورتحال
 ترکی  کے بلدیاتی انتخابات  کے نتائج مکمل ہوچکے لیکن  استنبول  کے رئیسِ شہر  یا Mayorکے لئے ووٹوں کی  گنتی ابھی  تک جاری ہے۔ کل  غیرسرکاری نتائج کے مطابق    ایردوان کے  امیدوار بن علی  یلدرم     4773ووٹوں کے ساتھ آگے تھے لیکن  کچھ بیلٹ  بکسوں کی دوبارہ گنتی کے بعد  الیکشن کمیشن  نے اعلان کیا ہے کہ 99 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے بعد CHPکے امیدوار اکرم امام اوغلو کو  27889ووٹوں کی  برتری حاصل ہے  جبکہ ابھی تک   64 بیلٹ  بکس نہیں  کھولے گئے ۔ بن علی یلدرم نے اپنے مخالف امیدوار کی برتری کا اعتراف  توکیا ہے لیکن انکا کہنا ہےکہ وہ صرف  20000 ووٹوں سے پیچھے ہیں  اور ابھی جن  علاقوں  کے بیلٹ بکسوں کی گنتی باقی ہے  وہ انکی پارٹی کا مضبوط گڑھ ہے۔  خیال رہے کہ میئر کے انتخاب میں 83 لاکھ سے زیادہ ووٹ  ڈالے گئے ہیں۔
 خیال ہے کہ پیر کی دوپہر تک  ووٹوں کی گنتی مکمل ہوگی۔ تاہم دونوں جماعتوں نے  بہت سے بیلٹ بکسوں کی دوبارہ  گنتی کا مطالبہ کیا ہے ۔ الیکشن کمیشن ان درخواستوں پر منگل کی دوپہر کو اپنا فیصلہ سنائیگا۔ جسکے بعد کورٹ کچہری کا راستہ بھی خارج ازامکا ن نہیں  لہٰذا   آوے آوے اور جاوے جاوے کا شور ابھی کچھ عرصہ  جاری رہنے کی توقع ہے۔
اس   نشست  پر جوش  و خروش کا یہ عالم کہ  یہاں ووٹ ڈالنے کا تناسب 92 فیصد رہا۔ استنبول  صدر ایردوان  کا  آبائی  علاقہ ہے۔ ترک صدر نے یہیں تعلیم حاصل کی ، استنبول کی فٹبال  ٹیم کے  ہونہار کھلاڑی کی حیثیت سے شہرت حاصل کی اور پھر  مارچ 1994 میں  استنبول  کے  میئر منتخب  ہوئے۔ 1998 میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ پر ایک نظم پڑھنے  کے جرم میں انھیں سیاست سے نااہل قراردیکر جیل بھیج دیا گیا لیکن 4 سال کے دوران شہر کے نظم و نسق  خاص طور  سے  ذرایع  آبنوشی کی ترقی،   ماحولیاتی آلودگی پر قابو اور پولیس اصلاحات وغیرہ جیسے  زبردست اقدامات کی بناپر وہ آج  بھی استنبول کے ہیرو تسلیم کئے جاتے ہیں۔
مصر  و یمن کی اخوان، تیونس کی النہضہ، الجزائر کے اسلامک فرنٹ اور دنیا بھر کی اسلامی جماعتوں کی طرح اردوان اور پروفیسر نجم الدین اربکان (ر) نے بلدیات کو اپنی پارلیمانی سیاست کی بنیادبنایا ہے۔ انکا خیال ہے کہ خدمتِ عوام دعوت اور اجتماعی خیر کا  کا سب سے موثرذریعہ ہے اورگلی محلوں  کے حقیقی مسائل  پر توجہ دیکر  قومی ایجنڈے  پر رائے عامہ کواپنے حق میں   ہموارکیا جاسکتا ہے۔