Friday, August 7, 2020

بیروت!!کہنے والے کہتے ہیں کھا گئی نظر تنہا

 بیروت!!کہنے والے کہتے ہیں کھا گئی نظر تنہا

کیا بیروت پر حملہ اسرائیل کی کاروائی ہے؟ اس پر مخلتف ذرایع سے ملنے والی اطلاعات پر مبنی ایک پوسٹ حاضر خدمت ہے۔ ایک ہلکا سا تاریخی پس منظر میں دے دیا گیا ہے جس سے معاملے کو سمجھنے آسانی ہوگی۔مصروف احباب جنھیں غیر ضروری تفصیل سے دلچسپی نہیں وہ آخری تین چار پیراگراف دیکھ لیں۔

 

منگل  کے روز عملاً سارے بیروت کو دھماکے سے اڑادیاگیا۔ بحر روم کے ساحل پر واقع اس خوبصورت شہر نے اسرائیل کے قرب وجوار کے دوسرے عرب شہروں کی طرح کئی باراپنے لہو سےغسل کیا ہے شائد اسی لئے ہر آزمائش کے بعد مشرق وسطیٰ کی اس شہزادی کا چہرہ مزید گلنار ہوجاتا ہے۔ مورخین کہتے ہیں یہ  شہر نگاراں 5000 سال سے شادو آباد ہے۔بیروت کا  عرب تشخص اسکے نام سے ظاہر ہے۔ سمندر کے قریب ہونے کی وجہ سے یہاں زیر زمین پانی کی سطح خاصی بلند تھی اور نرم ریت کو انگلیوں سے کریدنے پر دو تین انچ گہرائی سے پانی نکل آتا تھا۔ عربی میں بئیر  کنویں کو کہتے ہیں اور اسی بناپر شہر کا نام بیروت پڑگیا۔تاہم اب یہ صورتحال نہیں اور سمندر سے بالکل متصل علاقوں کو چھوڑ باقی شہر میں زیرزمین پانی کی سطح نیچی ہوچکی ہے۔

635میں مسلمان تاجر  یہاں آئے۔مقامی آبادی کو پہلی بار ایسے تاجروں سے واسطہ پڑا  جو  صارف کو اپنے مال کی خرابی خود ہی بتادیتے ،ڈندی مارنے کے بجائے جھکتا تولتےاور بازار کی روایات کے برخلاف وہ مال بیچنے کیلئے قسمیں نہیں کھاتے تھے۔ جلد ہی انکی دکانیں دعوت کا مرکز بن گئیں اور آنے والے گاہک معیاری اشیا کے ساتھ ہدائت کی عظیم الشان دولت لے کر واپس لوٹنے لگے۔

1187 میں سلطان صلاح الدین نے بیروت کو فتح کیالیکن صرف 10 سال بعد جرمن صلیبیوں نے شہر کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ کہا جاتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا لیکن صلاح الدین کا اقتدار بیروت میں مسیحیت کا سنہرا دور کہلاتا ہے جب انکے مبلغین نے سارے دیہی بیروت کو اپناہمنوا  بنالیا۔ 1512 میں لبنان عثمانی خلافت کا حصہ بن گیااور رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سلطان سلیم اول کے حکم پر بیروت  شہرکا نظم و نسق دروز وں کے حوالے کردیا گیا جو موحدین کہلاتے تھے۔

مذہبی و ثقافتی اعتبار سے بیروت اور سارا لبنان انتہائی متنوع ہے۔ مسلمانوں کی آبادی 52 فیصد ہے اور سنی شیعوں کا تناسب تقریباً برابر ہے۔مسیحی کل آبادی کا 42 فیصدہیں جن میں سے  ایک چوتھائی قبطی ہیں۔اقتدار میں بھی تمام مذاہب کو منصفانہ حصہ دیا گیا ہے،  صدر مسیحی، وزیراعظم سنی مسلمان اور اسپیکر شیعہ منتخب کئے جاتے ہیں۔ آزادی کے ساتھ ہی اپنے سابق آقا فرانس کی شدید مخالفت کے باجود لبنان نے اپنے عرب  تشخص کا اعلان کیا اور  اسرائیلی ریاست وجود میں آنے پراکثر مسلمان ملکوں کی طرح لبنان نے بھی اسےآج تک تسلیم نہیں کیا۔سرکاری طور پر لبنان اسرائیل کو اپنا دشمن نمبر ایک سمجھتا ہے۔

آزادی کے بعد بیروت پھلتا پھولتا رہا اور  بیروت کی وہی حیثیت ہوگئی جو آجکل دبئی کی ہے۔1975 میں سازش کامیاب ہوئی اور مسیحی و مسلمان ایکدوسرے کے خلاف صف ارا ہوگئے۔ 15 سال جاری رہنے والی خانہ جنگی نے بیروت کو ملبے کا ڈھیر بنادیا۔اسی دوران 1978 میں شامی فوج بھی در آئی اور حملوں میں مشرقی بیروت کا مسیحی شہر الاشرفیہ زمیں بوس ہوگیا۔ خونریزی کا سب سے افسوسناک پہلو مسیحیوں اور مسلمانوں  کے درمیان نفرت کی لہر تھی اورسینکڑوں برس سے برداشت و رواداری کی مثال بنے رہنے والا بیروت مسیحی مشرق اور مسلم مغرب میں تقسیم ہوگیا۔ تاہم مسلمان اور عیسائی قیادت نے مکالمہ برقرار رکھا اور مفاہمتی کوششٰیں جاری رہیں۔

1990میں  خانہ جنگی ختم ہوئی اور بیروت کی تعمیر نو کا آغاز ہوا، شہر کی رونقیں بحال ہوگئیں اور بیروت کے خوبصورت ساحل پرسیاحوں کاہجوم بڑھنے لگا۔یورپ کے کئی مقابلہ حسن بیروت میں منعقد ہوئے۔اسی کیساتھ عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی میں بھی کمی آگئی۔ بیروت کی خوشحالی کچھ عناصر کو ایک آنکھ نہ بھائی۔ دشمنوں کے علاوہ دوستوں کو بھی  تیزی سے ابھرتے بیروت  پر سخت تشویش تھی ۔ خیال تھا کہ بیروت جلد ہی مشرق وسطیٰ کا دوبئی بن جائیگاکہ شاندار موسم اور متنوع جغرافیہ کے اعتبار سے دوبئی کے ریگستان کا باغ و بہار بیروت سے کوئی مقابلہ نہ تھا۔

2005میں وزیراعظم رفیق حریری قتل کردئے گئے۔ لوگوں کو شک  ہے کہ یہ  سب  شام کا کیا دھراتھا، چنانچہ لبنان سے شام کے انخلا کی تحریک چلی۔آخر کار شامی فوج واپس چلی گئی، بیروت کی تعمیر کا کام تیز ہوااور جلد ہی ساحلوں پر فیشن ایبل ہوٹل آباد ہوگئے۔ اسی دوران  2006میں اسرائیل و لبنان کے درمیان براہ راست تصادم شروع ہوا۔  اسرائیل لبنانی فوج کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے میں ناکام رہا۔ لبنانی فوج نے اسرائیل کی زبردست مزاحمت کی اور حزب اللہ کی مددسے لبنانی فوج نے حملہ آوروں کو پیچھے دھکیل دیا۔ اسرائیل کے دفاعی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ یہ پہلی جنگی تھی جس میں اسرائیل فوج پسپائی پر مجبور ہوئی۔

بم دھماکوں اور دہشت گردانہ کاروائیاں اور اسرائیل کے میزائیل حملوں کے باوجود بیروت کی رونقیں بحال رہیں کہ 5 اگست کا واقعہ پیش آیا۔

اس طویل تمہیدکے بعد اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف کہ یہ لبنانی بدنصیبوں کی قسمت کا لکھا ہے یا اسکے پیچھے کچھ پردہ نشین بھی ہیں۔ نظریہ سازش پر یقین رکھنے والے انگلی سے جنوب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہہ رہے کہ۔ 'سب بلاوں کا ہے جہاں سے نزول ، یہ بلا بھی وہیں سے آئی ہے'۔ یہ مفروضہ بے بنیاد بھی نہیں بلکہ واقعے سے پہلے اسرائیل وزیراعظم کی تقریر اور دھمکی آمیز ٹویٹ سے شبہہ کو تقویت ملتی ہے

2018 میں  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں وزیراعظم نیتن یاہو  نے بیروت کا نقشہ دکھاتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ حزب اللہ نے اس مقام پر ہتھیار چھپا رکھے ہیں۔ 5 اگست کو ہونے والے دھماکے کا مقام اس جگہ سے چند کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ دوسری طرف حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کا کہنا ہے کہ حزب اللہ شہروں میں اسلحہ نہیں رکھتی ہماری تمام عسکری سرگرمیاں دشمن کے سر پر ہیں۔

4 اگست کو اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے ایک ٹویٹ میں چند دن پہلے شام پر حملے کاحولہ دیتے ہوئے کہا کہ

'ہم نے (دہشت گردوں کے ) ٹھکانے کو نشانہ بنایا،  انھیں بھیجنے والوں پر حملہ کیا۔ ہم اپنے دفاع کیلئے آخری حد تک جائینگے اور حزب اللہ سمیت  تمام (دہشت گردوں ) کو (اسرائیل کے خلاف کاروائی کرتے سے پہلے) اس بات کو سمجھ لینا چاہیے'

صدر ٹرمپ نے بھی دھماکے کے فوراً بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ خوفناک حملہ بندرگاہ پر موجود اتشگیر مادے اور دھماکہ خیز مواد کو تیلی دکھانے کا سب ہوسکتاہے قرار دینے کے بعد ممکنہ حملے سے متعلق افواہوں نے تیزی پکڑ لی تھی۔

جائزے کے مطابق لبنانیوں کا خیال ہے کہ اگر اسرائیل براہ راست ملوث نہیں تب بھی کسی نہ کسی اعتبار سے نیتن یاہو نے سہولت کاری ضرور کی ہے۔ جب بیروت سے خیر سگالی کا اظہار کرتے ہوئے تل ابیب بلدیہ کی عمارت پر  روشنی سےلبنان کا پرچم بنایا گیا تو اسکے خلاف سوشل میڈیا پر زبردست ردعمل سامنے آیا۔ دوتبصرے جو بے حد مقبول ہوکر ٹرینڈ بنے وہ کچھ اسطرح ہیں

'آج وہ ہمارا جھنڈا لہرارہے ہیں لیکن بہت جلد ہمارے ملک پر حملہ آور ہونگے'

'(تم روشنی سے ہمارے پرچم لہراو) ہم تل ابیب کو اپنے راکٹوں سے روشن کرینگے'

حوالہ: صباح نیوز ترکی، بی بی سی، صدائے امریکہ اور ٹائمز آف اسرائیل


 

Thursday, August 6, 2020

یورو 5! ہتھیلی پر سرسوں نہ جمائیں

یورو 5! ہتھیلی پر سرسوں نہ جمائیں

وفاقی حکومت نے  اس سال ستمبر سے  ملک بھر میں Euro-5 پیٹرول استعمال کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس ضمن میں تیل فروخت کرنے والی کمپنیوں کو ہدایات بھی جاری کردی گئی ہیں۔

آج تھوڑی سی 'سنجیدہ'گفتگو اس اہم موضوع پر۔

ہمیں ڈر ہے کہ چند ہی دنوں بعد پاکستانی میڈیا پر یورو پیٹرول موضوع سخن بن جائیگا جسکے بعد اینکرز اور تبصرہ نگار اسی نوعیت کی گل افشانیاں فرماینگے جسکا عذاب ہم نے گزشتہ برس سمندر میں گیس کیلئے کنویں کی کھدائی کے دوران  سہا تھا۔

یورو معیار دراصل گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ماحول دوست ایندھن (پیٹرول، ڈیزل)کی درجہ بندی ہے۔ پہییہ  رواں دواں رکھنے کیلئے جب گاڑیوں کے انجن ایندھن پھونکتے ہیں تو جلے ہوئے ایندھن کی باقیات دھویں کی شکل میں Exhaustپائپ سےخارج ہوتی ہیں۔ دھویں میں مضر صحت مواد کی موجودگی کو یورو کے ساتھ عدد لگاکر ظاہر کیا جاتا ہے۔ ماحول کی آلودگی اورحیاتیاتی صحت کے اعتبار سے یورو 1 پیٹرول سب سے ناپسندیدہ اور یورو 6سب سے بہتر ہے۔

میری اطلاع کے مطابق اسوقت پاکستان میں یورو 2 ڈیزل اور پیٹرول استعمال ہورہا ہے۔ ماہرین سے اصلاح کی درخواست ہے۔

سوال یہ ہے کہ تیل آلودہ کیوں ہوجاتا ہے؟

پیٹرول و گیس کا کیماوی نام ھائیڈروکاربن (Hydrocarbon)ہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے  یہ نامیاتی مرکب ہائیڈر وجن اور کاربن کے ملاپ سے وجود میں آتا ہے۔ اسکا بنیادی سالمہ کاربن کے ایک اور ہائیڈروجن کے 4 جوہروں پر مشتمل ہوتا ہے جسے میتھین یا خشک گیس (Dry Gas)کہتے ہیں۔ سوئی گیس جو آپکے آتشدان دہکاتی اور چولہے جلاتی ہے وہ دراصل میتھین ہے جسکے جلنےپر ہلکے نیلے رنگ کا شعلہ دکھائی دیتا ہے۔ جیسے جیسے ہائیڈروکاربن کے سالمے میں کارین کی تعداد بڑھتی ہے اسکے وزن اور گیلے پن میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ گاڑیوں کیلئے جو ایندھن استعمال ہوتا اس میں کاربن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔

زمین سے نکلنے والاخام تیل بالکل خالص ہائیڈروکاربن نہیں ہوتا۔اس میں گندھک، کاربن ڈائی آکسائیڈ، نائٹرروجن اور کچھ دوسری دھاتیں اور ہوا سم ذرات یا Aerosol Particlesشامل ہوتے ہیں۔دنیامیں  تیل و گیس کے ذخائر میں کثافت کی مقدار مختلف  ہے۔ مثلا لیبیا کے سدرہ لائٹ تیل میں کثافت بہت کم ہے جبکہ ایران کے کئی ذخائر سے نکالا جانیوالا تیل نسبتاً زیادہ کثیف ہے۔ تیل کی پیداوارو ترسیل کے دوران تیل کو  بہت سی کثافتوں سے پاک کرلیا جاتا اور ریفائنری مٰیں خام تیل سے پیٹرولم ڈیزل اور دوسری مصنوعات کی کشید کے دوران باقی مضر صحت مواد کو بھی علیحدہ کرلیا جاتا ہے۔ لیکن انسان کا علم محدود ہے اسلئے بے پناہ قابلیت اور محنت کے باوجود ہمارے مہندسین اور ماہرین ایندھن کو 100 فیصدپاک یا بالکل صاف کرنے میں اب تک کامیاب نہیں ہوسکے۔خوب سے خوب تر کی تلاش اور کامیابی کا سفر جاری ہے۔ یورو معیارات اسی جدوجہد کی حوصلہ افزائی اور انسانی کوششوں کو مہمیز لگانےکی ایک شکل ہے۔

مثال کے طور پر جو ایندھن اسوقت پاکستان میں استعمال ہورہا ہے اسمیں گندھک کی مقدار 500 فی دس لاکھ یا 0.05فیصد ہےجبکہ یورو 5 پیٹرول میں گندھک کی مقدار10 فی دس لاکھ ہوگی یعنی ایک فیصد کا ایک ہزارواں حصہ یا 0.0001فیصد۔ گاڑیوں میں یورو کے مخلتف برانڈ کے استعمال سے  مضر صحت مواد کے اخراج کا جدول نیچے پیش خدمت ہے۔

اب تک کی گفتگو سے اتنی بات تو واضح ہے کہ یورو 5 پیٹرول و ڈیزل کے استعمال سے ہم ماحول کے نقصانات کو کس حد تک کم کرسکتے لہذا اسکی مخالفت کا کوئی جواز نہیں

تاہم ہر اچھی اور بہتر چیز عام طور سے ذرا مہنگی ہوتی ہے چنانچہ یورو معیار کا ایندھن موجودہ ڈیزل و پیٹرول سے مہنگا ہوگا۔ عام تاثر ہے کہ یورو 5 یورو 2 کے مقابلے میں 6 روپئے فی لیٹر مہنگا ہوگا۔ مہنگائی کے علاوہ کچھ دوسرے نکات کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔

موٹر سازی صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی تک پاکستان میں بنائی جانیوالی گاڑیاں یورو 2کیلئے بنائی گئی ہیں اور یورو 5 کیلئے گاڑی کے انجن اور اخراجی نظام میں کچھ تبدیلی لانی ہوگی۔ بنیادی مسئلہ چکناہٹ یا Lubricationکا ہے۔ یورو 5 CNGکی طرح یورو 3 کے مقابلہ نسبتاً زیادہ خشک ہوتا ہے اسلئے کار کے وہ مقامات جہاں لوہا لوہے سے ٹکراتا یا رگرتا ہے انکی کارکردگی متاثر ہوگی،  چکناہٹ کیلئے موٹر آئل ذرا جلد تبدیل کرنا ہوگا اور اضافی Lubrication کی ضرورت ہوگی۔ سیانے کہہ رہے ہیں پرانی گاڑیوں میں یورو 5 ڈالنے سے ماحول کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا کہ ان انجنوں میں وہ ٹیکنالوجی موجود نہیں  جو اخراج کو کم سے کم کرسکے۔

پاکستان کی ریفائنریاں یورو 5 کشید کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں اور یورو 5 کی صلاحیت حاصل کرنے کے لئے جو تبدیلیاں ضروری ہیں ان میں ایک سال لگ سکتا ہے۔ اسکا مطلب ہوا کہ اب پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرنی پڑینگی۔ اسوقت تیل صاف کرنے کے پاکستانی کارخانے ضروت کا چالیس فیصد پیٹرول اور ڈیزل تیار کرتے ہیں۔ اب اگر سو فیصد مصنوعات درآمد کی جائینگی تو اس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر اضافی دباو پڑیگا۔ مشرق وسطیٰ کی ریفائنریز میں اتنی گنجائش نہیں کہ پاکستان کی اضافی ضروریات کو پوری کرسکیں اسلئے پیڑول و ڈیزل یورپ سے درآمد کرنا پڑیگا جسکی وجہ سے باربرداری کا خرچ بڑھنے کے علاوہ مال آنے میں وقت بھی زیادہ لگے گا

نامراد کرونا وائرس نے ساری دنیا کی طرح پاکستانی معیشت کا بھی نقصان پہنچایا ہے۔ لاکھوں لوگ بیروزگار ہوگئے ہیں، مہنگائی نے زندگی اجیرن کردی ہے۔ حفاظتی اقدامات کی وجہ سے ہر شعبے کی پیداواری و انتظامی لاگت خاصی بڑھ گئی اسلئے مہنگائی کے جن کو قابو کرن اتنا آسان نہیں۔ ان حالات میں یورو 5 کے نفاذ سے عام افراد کی زندگی مزید مشکل ہوسکتی ہے۔

ان تحٖفظات کے باوجود یورو 5 کی مخالفت کا کوئی جواز نہیں لیکن ایندھن کے پورے نظام کو یکسر بدل دینے کے بجائے یو رو 5 کے استعمال کو بتدریج بڑھانا مناسب ہوگا۔ اس سلسلے میں ہماری تجویز کچھ اسطرح ہے۔

  • پہلے مر حلے میں تمام پیٹرول پمپوں پر یورو 5 بھی فروخت کیا جائے تاکہ نئی گاڑیوں کے مالکان اسے استعمال کرسکیں
  • ریفائریز کویورو 5 بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کیلئے 6 سے 9 مہینے کا ہدف دیا جائے۔ upgradeکے ساتھ  ریفائنریز کی گنجائش میں بھی اضافہ کی کوش کرنی چاہئے تاکہ درآمدات پر انحصار کم کیا جسکے۔
  • کارساز کارخانوں کو بھی کہا جائے کہ اب وہ ایسی گاڑیاں بنائیں جو  یورو 5 کا پورا فائدہ اٹھاسکیں
  • اقدامات پر عملدرآمد کیلئے ریفائنریز اور موٹر ساز کارخانوں کی حوصلہ فزائی اور  موثر نگرانی کرکے یہ  ہدف ایک سال میں حاصل جاسکتا ہے

ہیروشیما اور ناگاساکی


ہیروشیما اور ناگاساکی
آج 6 اگست انسانیت کی برسی ہے جب  75 برس پہلے آج ہی کے دن جاپان کے شہر ہیروشیما پر انسانی تاریخ کا پہلا ایٹم بم گرایا گیا۔ بمباری امریکی طیارے سے کی گئی لیکن کاروائی سے پہلے برطانیہ کو بھی اعتماد میں لیا گیا۔ اس بم کیلئے عملی تجربہ ایک ماہ پہلے امریکی ریاست نیو میکسیکو کے صحرا میں کیا گیا تھا۔ امریکی سائنسدانوں نے دو طرح کے ایٹم بم بنائے تھے۔ ایک یورینیم سے بنایا گیا جسکا نام ننھا بچہ یا Little Boy رکھا گیا جبکہ دوسرے بم کی بنیاد پلوٹونیم تھی جسے موٹا آدمی یا Fat Man پکارا گیا۔ قیامت خیز بموں کے ایسے سنگدلانہ ناموں ہی سے انھیں بنانے والوں کی ذہنیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
کامیاب ایٹمی تجربے کے بعد 26 جولائی 1945 کو امریکی صدر صدر ہیری ٹرومین، برطانیہ کے وزیراعظم ونسٹن چرچل اور فارموسا (چین) کے صدر چیانگ کائی شیک نے جاپان کے بادشاہ کو فوری اور غیر مشروط طور ہر ہتھیار ڈالنے کا الٹی میٹم دیا۔ اس مکتوب میں صاٖف صاٖ ف لکھا گیا کہ ہتھیار نہ ڈالنے کی صورت میں 'فوری اور مکمل تباہی جاپان کا مقدر بن جائیگی'
جاپان نے اس دھمکی کو مسترد کردیا چنانچہ 6 اگست 1945 کو صبح نو بجے 'ننھا بچہ' ہیروشیما پر پھینک دیا گیا۔ یاں یوں کہئے کہ معصوم و نہتے لوگوں کو بھٹی میں ڈالدیا گیا۔ بم کے پھٹتے ہی اسکی چمک سے ہزاروں لوگوں کی بینائی ختم ہوگئی۔ سارا شہر زمیں بوس ہوگیا اور آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے۔ خوش نصیب ٹہرے وہ لوگ جو فوراً ہی ہلاک ہوگئے ورنہ زخمیوں کو دیکھ کر مائیں بھی اپنی اولاد کیلئے موت کی دعا کرتی تھیں۔ ہزاروں لوگوں کی آنکھیں ابل کر باہر آگئیں، ہونٹ پگھل گئے اور چہرے پر دانت چمک رہے تھے۔ پیروں کی ہڈیوں کو دیکھ کر سیخ کا گماں ہوتا تھا جن پر بھنے گوشت کے قتلے جمے ہوئے تھے۔
اس تباہی کے 16 گھنٹے بعد صدر ہیری ٹرومین نے جاپان کے بادشاہ کو ایک اور دھمکی دی۔ اپنے بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ اگر جاپان نے فوری طور پر ہتھیار نہ ڈالے تو آسمان سے تباہی کی ایسی بارش ہوگی جسے انسانی آنکھ نے کبھی نہیں دیکھا اور اسکے بعد 9 اگست کو 'موٹا آدمی' جاپان کے دوسرے بڑے شہر ناگاساکی پر گرادیا گیا۔ ان دوحملوں میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی ان معنوں میں واقعتاًصفحہِ ہستی سے مٹ گئے کہ ان دونوں شہروں کی مٹی اور مائیں آج تک بانجھ ہیں۔ یہاں گھاس بھی نہیں اگتی اور نہ خواتین کی امید بندھتی ہے اور اگر کوئی بدنصیب کونپل پھوٹ بھی اٹھے تو وہ ذہنی اور جسمانی طور پر معذور ہوتی ہے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی میں جانوروں کی افزائش بھی نہیں ہوتی۔
اتحادیوں کی جس نشست میں ایٹم بم گرانے کا فیصلہ کیا گیا وہ جرمنی کے شہر پوٹسڈم Potsdam میں منعقد ہوئی  تھی اور اس مناسبت سے اسے پوٹسڈم کانفرنس کہا جاتا ہے۔ اس بیٹھک میں روس کے صدر جوزف اسٹالن بھی شامل تھے یعنی اس وحشت کا ارتکاب دنیا کے ائمہِ  کیپیٹل ازم، سیکیولرازم، نیشنل ازم اور کمیونزم نے مشترکہ طور پر کیا۔ آج یہی وحشی انسانیت کو دنیا کا سب سے  بڑا مذہب قرار دے رہے ہیں۔ اور حیرت ہے ان لوگوں کی عقل پر جنکے خیال میں سیکیولرازم سے پرامن بقائے باہمی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
ستم ظریفی ملاحظہ فرمایئے کہ جس ملک نے نہتے لوگوں کے خلاف ایٹم بم استعمال کیااور وہ ساری اقوام جو انسانیت کے خلاف اس بھیانک جرم  میں وحشیوں کی سہولت کار تھیں وہی اب دنیا میں جوہری ہتھیار کے عدم پھیلاو کے عملبردار ہیں جنکی لگائی ظالمانہ پابندیوں سے ایران اور شمالی کوریا کے کروڑوں لوگ دوا اور غذا سے محروم ہیں۔

Sunday, August 2, 2020

متحدہ عرب امارات کا جوہری پاورپلانٹ


متحدہ عرب امارات کا جوہری پاورپلانٹ
متحدہ عرب امارات کے پہلے جوہری پاور پلانٹ نے کام شروع کردیا۔ یہ منصوبہ اپنے آغاز سے ہی تنازعے کا شکار ہے۔امریکہ کا دباو تھا کہ تعمیر کا ٹھیکہ کسی امریکی کمپنی کو دیا جائے لیکن پرکشش تکنیکی اور تجارتی پیشکش کی بنیاد پر قرعہ فال کورین الیکٹرک پاور کمپنی کے نام نکلا۔ چچا سام نے عالمی ایٹمی ایجنسی کی جانب سے اجازت میں مبینہ طور پر روڑے اٹکائے تاہم مارچ 2011میں منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا۔ البرکہ جوہری پلانٹ کے لئے صوبے الظفرہ کا ساحلی علاقہ منتخب کیا گیا۔الظفرہ کو پہلے صوبہ غربیہ کہاجاتاتھا۔ سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں کوریا کے صدر بھی تشریف لائے۔
عجیب اتفاق کہ ابھی تعمیر کا آغاز ہی ہوا تھا کہ سونامی کی وجہ سے اٹھنے والی موجیں جاپان کے فیکوشیماجوہری پلانٹ پر چڑھ دوڑیں اورجوہری مواد فضا میں پھیل جانے سےہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی۔ فیکوشیما حادثے کی وجہ دنیا بھر کے نیوکلیر پلانٹ کے حفاظتی اقدامات پر نظر ثانی کی گئی چنانچہ برکہ پاور پلانٹ کے ڈیزائن کو بھی نئے سرے سے کھنگھالاگیا اور اطمینان کرلینے کے بعد جولائی 2012 میں تعمیر کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔
دسمبر 2017 میں یمن کے حوثی باغیوں نے برکہ پاور پلانٹ کو نشانہ بنانے کادعوی کیا جسکی متحدہ عرب امارات نے تردید کی اور عالمی تونائی ایجنسی نے بھی البرکہ کے ارد گرد ناخوشگوار واقعے کو بے بنیاد سمجھا۔ لیکن اسے بنیاد بناکر قطر نے عالمی جوہری ایجنسی کو ایک چٹھی لکھدی جس میں البرکہ پلانٹ کو خلیجی ممالک کیلے خطرہ قراردیا گیا۔ ان اندیشوں اور اعتراضات کے باوجود پلانٹ پر کام جار ی رہا۔
یکم اگست کے اس کے چار میں سے ایک ری ایکٹر پر افزودگی کے عمل کا آغازہوگیا۔ منصوبے کی مجموعی لاگت 24 ارب چالیس کروڑ ڈالر ہے۔ اس پہلے ری ایکٹر سے بجلی کی پیداوار کا تخمینہ 1345میگا واٹ اور اگلے  برس جولائی تک چاروں ری ایکٹر کے چالو ہوجانے پر یہاں سے 5000 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی جو امارات کی ضرورت کے ایک چوتھائی کے قریب ہے۔
البرکہ عرب دنیا کا پہلا جوہری پاور پلانٹ ہے۔ کچھ عرصہ قبل امارات نے مریخ پر اپنا تحقیقاتی مشن بھی بھیجا ہے۔
اماراتی حکومت اس کامیابی پر  بہت خوش ہے لیکن اسکے 'نئے دوست' اسرائیل میں چہ می گوئیاں شروع ہوگئی ہیں۔ غیر ضروری اندیشہ ہائے دوردرازمیں مبتلا اسرائیلی میڈیا اس پیشرفت کو پاکستان کے اسلامی بم کے بعد عرب بم کا نقطہ آغاز قرار دے رہاہے۔ کچھ دانشوروں نے بقراطی بگھاری ہے کہ جب توانائی کیلئے امارات کو سستا تیل میسر ہے تو اسے ایٹمی بجلی کی ضرورت ہی کیاہے۔لوگوں کو  یہ خوف بھی لاحق ہے کہ دہشت گردی کا نشانہ بننے کی صورت میں کہیں یہ پلانٹ سارے علاقے کومشکل میں نہ ڈالدے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ امارات کو جوہری توانائی کے بجائے شمسی توانائی پر توجہ دینی چاہئے جو شفاف اور محفوظ ہے۔
ماہرین دراصل کہنا یہ چاہتے ہیں کہ جوہری توانائی مغرب کی مہذب اقوام کیلئے ہے۔اجڈو گنوار عرب و اسلامی دنیا اس حساس ٹیکنالوجی کے قابل نہیں۔ احساس کمتری کے مارے ہمارے دانشور بھی کچھ اسی انداز میں سوچتے ہیں حالانکہ اب تک صرف ایک ملک نے شہری آبادی کو جوہری بم کا نشانہ بنایا ہے اور ستم ظریفی کہ اسی ملک کو جوہری پھیلاوپر سب سے زیادہ تشویش ہے۔ خرد کا نام جنوں رکھدیا جنوں کا خرد