Thursday, August 13, 2020

امریکہ کا انتخابی کالج ۔۔ نصاب اور حساب

امریکہ کا انتخابی کالج ۔۔ نصاب اور حساب

امریکہ میں 3 نومبر کو انتخابات ہورہے ہیں۔ ان انتخابات سے ساری دنیا کو دلچسپی ہے کہ گولان سے بولان اور شکاگو سے کالاشاہ کاکو تک سب ہی چچا سام کی زلفوں کے اسیرہیں۔

امریکہ میں صدارتی انتخابات کا نظام دوسرے ملکوں سے بہت مختلف ہے جسکی وجہ یہاں کا منفرد وفاقی نظام ہے۔ امریکہ 50 آزاد و خود مختار ریاستوں پر مشتمل ایک وفاق کا نام ہے۔ وفاق کی  ہر ریاست کا اپنا دستور، جھنڈا اورمسلح فوج ہے۔ کرنسی اور خارجہ امور کے سوا بین الاقوامی تجارت سمیت تمام معاملات میں ریاستیں پوری طرح بااختیار ہیں۔امریکی صدر وفاق کی علامت اور اسکی مسلح افواج کا سپریم کمانڈر ہے۔ صدر کے انتخاب میں ہر ریاست انفرادی اکائی کی حیثیت سے ووٹ ڈالتی ہے اور اس مقصد کیلئے ایک کلیہ انتخاب یا Electoral-Collegeتشکیل دیا گیا ہے۔ سیاسیات کے طلبہ کیلئےامریکہ کے کلیہ انتخاب کا ایک مختصر تعارف ۔

کلیہ انتخاب میں ہر ریاست کو اسکی آبادی کے مطابق نمائندگی دی گئی ہے اور یہ اس ریاست کیلئے ایوان نمائندگان (قومی اسمبلی) اور سینیٹ کیلئےمختص نشتوں کے برابر ہے۔ امریکہ میں ایوان نمائندگان کی نشتیں آبادی کے مطابق ہیں جبکہ سینیٹ میں تمام ریاستوں کی نمائندگی یکساں ہے اور ہر ریاست سے سے دو دو سینیٹرز منتخب کئے جاتے ہیں۔ امریکہ کے ایوان نمائندگان کی نشستوں کی مجموعی تعداد 435 ہے جبکہ 50 ریاستوں سے 100 سینیٹرز منتخب ہوتے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت یعنی ڈسٹرکٹ آف کولمبیا المعروف واشنگٹن ڈی سی کیلئے انتخابی کالج میں تین ووٹ ہیں۔گویا کلیہ انتخاب 538 ارکان پر مشتمل ہے اور صدر منتخب ہونے کیلئے انتخابی کالج  کے  کم ازکم 270 ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے

الیکٹرل کالج کی ہیت کو اسطرح سمجھئے کہ ٹیکسس (Texas) سے ایوان نمائیندگان کے 36 ارکان منتخب ہوتے  چنانچہ 2 سییٹرز کو ملاکر انتخابی کالج میں ٹیکسس کے 38 ووٹ ہیں۔انتخابی کالج میں سب زیادہ ووٹ نائب صدارت کیلئے ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار کملا دیوی کی ریاست کیلی فورنیا کے ہیں یعنی 55 جبکہ اسی پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن کی ریاست ڈیلوئیر کے صرف 3 ووٹ ہیں۔ جنوبی ڈکوٹا، شمالی ڈکوٹا، مونٹانا، وایومنگ، الاسکا، ، ورمونٹ کے بھی کلیہ انتخاب میں تین تین ووٹ ہیں۔ انتخابی ووٹؤن کے اعتبار سے کیلی فورنیا پہلے، ٹیکسس دوسرے نمبر پر ہے جبکہ 29 ووٹوں  کے ساتھ نیویار ک اور فلورڈا تیسرے نمبر پر ہیں۔

الیکٹرل کالج میں 'سارے ووٹ جینتے والے کیلئے' کا اصول اختیار کیا جاتا ہے اور ریاست میں جس امیدوار کو بھی برتری حاصل ہوئی اس ریاست سے انتخابئ کالج کیلئے مختص سارے ووٹ جیتنے والے امیدوار کے کھاتے میں لکھ دئے جاتے ہیں۔ یعنی اگر کیلی فورنیا سے کسی امیدوار نے ایک ووٹ کی برتری بھی حاصل کرلی تو تمام کے تمام 55 الیکٹرل ووٹ اسے مل جائینگے۔ صرف ریاست مین Maine اور نیبراسکا میں ایک تہائی الیکٹرل ووٹ ایوان نمائندگان کی حلقہ بندیوں کے مطابق الاٹ کئے جاتے ہیں ورنہ باقی سارے امریکہ میں ریاست کے مجموعی ووٹوں کی بنیاد پر فیصلہ ہوتا ہے۔

دلچسپ بات کہ اس سال  3 نومبر کو ہونے والی ووٹنگ کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں بلکہ صدر اور نائب صدر کے انتخاب کیلئے 14 دسمبر کو تمام ریاستی دارالحکومتوں میں پولنگ ہوگی جس میں الیکٹرل کالج کے ارکان خفیہ بیلٹ کے ذریعے صدر اور نائب صدر کیلئے ووٹ ڈالینگے۔ ووٹنگ کے بعد نتائج مرتب کئے جائینگے اور اسے ایک بکس میں بند کرکے وفاقی دارالحکومت بھیج دیا جائیگا۔6 جنوری 2021 کو سینیٹ کے چیئرمین (نائب صدر) کی نگرانی میں تما م ریاستوں سے آنے والے بکسوں کو کھول کر صدارتی انتخاب کا سرکاری نتیجہ مرتب کیا جائیگا۔

یہاں یہ ذکر بہت ضروری ہے کہ قانونی طور سے الیکٹرل کالج کے ارکان کسی مخصوص امیدوار کو ووٹ دینے کے پابند نہیں اور انتخاب بھی خفیہ بیلٹ پیپر کے ذریعے ہوتا ہے۔ اسکے باوجود گزشتہ ڈھائی سو سال کے دوران ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا کہ جب الیکٹرل کالج میں عوامی امنگوں کے برخلاف کوئی ووٹ ڈالا گیا ہو۔

2016 کے انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہلیری کلنٹن کو مجموعی یا پاپولر ووٹوں کے اعتبارسے ڈانلڈ ٹرمپ پر 28 لاکھ ووٹوں سے زیادہ کی برتری حاصل تھی لیکن جب تمام ریاستوں کے انتخابی ووٹ جمع کئے گئے تو صدر ٹرمپ کے الیکٹرل ووٹوں کی تعداد کلنٹن سے 77 زیادہ تھی۔اس سلسلے چند دلچسپ مثالیں پیش خدمت ہیں جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ امریکہ میں صدارتی انتخابات کی مہم سیاست سے زیادہ ریاضی کی مشق ہے

امریکی دارالحکومت میں ہلیری کلنٹن نے 90 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے یہاں مختص 3 الیکٹرل ووٹ اپنے نام کرلئے، جبکہ مشیگن میں کانٹے دار مقابلہ ہوا جہاں صدر ٹرمپ کو صرف  0.23فیصد ووٹوں کی برتری کے عوض 16 انتخابی ووٹ مل گئے۔کچھ ایسا معاملہ فلوریڈا ور پنسلوانیہ میں ہوا جہاں باالترتیب 1.2اور 0.7فیصد برتری کے عوض 49 الیکٹرل ووٹ صدر ٹرمپ کے کھاتے میں لکھ دئے گئے۔

 

Wednesday, August 12, 2020

مشرقی بحر روم میں شدید کشیدگی۔ ترکی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں

 

مشرقی بحر روم میں شدید کشیدگی۔ ترکی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں

یونان، مصر، اسرائیل اور یورپ کی شدید مخالفت کو نظر انداز کرتے ہوئے زمینی ارتعاشات کے اخراج و نمو (Seismic)کاجائزہ لینے والے جدید ترین ترک جہاز 'عروج رئیس' (Oruc Reis) نے مشرقی بحرروم  کے 1750 کلومیٹر علاقے میں زیرزمین چٹانوں کی ماہیت، ساخت، تہوں اور طبقات کی ترتیب وغیرہ کا مطالعہ شروع کردیا۔ اس عمل کو سائیینسی اصطلاح میں مساحتِ طبعیاتی ارضیاتGeophysical Surveyکہا جاتا ہے۔ خیال ہے کہ سروے کا کام 23 اگست تک مکمل ہوجائیگا جسکے بعد حاصل کردہ معلومات کی تجزئے اور تشریح میں تین ماہ لگیں گے۔ اگر نتائج امید افزا ثابت ہوئے تو پہلے کنویں کی کھدائی کے آغاز کیلئے دسمبر کا ہدف طئے کیا گیا ہے۔ترک بحریہ کے تباہ کن جنگی جہاز عروج رئیس کو حفاطتی حصار میں لئے ہوئے ہیں۔ ترک وزارت دفاع نے دھمکی دی ہے کہ اگر عروج رئیس کوکام سے روکا گیا تو بحر روم میں آزاد جہاز رانی قصہ پارینہ ہوجائیگی۔

آگے بڑھنے سے پہلے چند سطور جہاز کے نام پر۔ عروج رئیس عثمانی بحریہ کا امیرالبحر (ایڈمرل) تھا جسے بعد میں الجزائر کا گورنر مقرر کیاگیا۔ عروج رئیس کے چھوٹے بھائی خیر الدین بربروس سو لہویں کا مایہ ناز ملاح تھے جنھوں نے بحر روم پر عثمانی اقتدار کو مستحکم کیا۔ ایڈمرل بربروس کی قیادت میں ترک بحری بیڑے نے الجزائر، تیونس اور لیبیا فتح کیا جسکی بناپر انھیں قبودانِ دریا کا منصب عطا ہوا۔ اسکا اردو ترجمہ 'فرمانروائے بحر' ہوسکتا ہے فوجی اصطلاح میں قبودانِ دریا فیلڈ مارشل کا ہم منصب ہے۔

یونان، (یونانی) قبرص، مصر اور اسرائیل مشرقی بحر روم پر ترکی کا حق تسلیم نہیں کرتے۔ انکا کہنا ہے ترکی کو اپنی سرگرمیاں بحر اسود تک محدود رکھنی چاہئیں۔اسی بنا پر یو نان ترکی کو بحر یونان تک بھی رسائی دینے کو تیار نہیں۔ صدر ایردوان اس تجویز پرسخت برہم ہیں۔انکا کہنا ہے کہ عظیم ترکی کو اسکے ساحلوں پر محدود کردینے کا خواب دیکھنے والوں کو اپنی حقیقت جلد ہی معلوم ہوجائیگی۔ انکا موقف ہے کہ قبرص تک کا سمندری علاقہ ترکی اور ترک قبرص (TRNC)کاحصہ ہے اور جنوب میں لیبیا کے ساحلوں تک تمام وسائل برادر ملکوں کی مشترکہ ملکیت ہیں۔اپنے دعوے کو یقینی بنانے کیلئے ترک بحریہ ای این ائی اور امریکی تیل کمپنیوں کے کئی رگ بردار جہازوں (drill-ships)کو علاقے سے نکال چکی ہے۔

یونانی حکومت نے عروج رئیس کی سرگرمیوں کو دراندازی اور بحری قزاقی قراردیا ہے۔ یونانی وزیراعظم نے ترک جارحیت کو لگام دینے کیئے یورپی یونین کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فرانس اور اٹلی بھی یونان کے موقف کے حامی ہیں جبکہ جرمنی نے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ جرمنی کی پیشکش کا جواب دیتے ہوئے ترک وزیرخارجہ مولت داود اوغلو نے کہا کہ انکا ملک تمام تنازعات کے منصفانہ حل کیلئے بات چیت پر تیار ہے لیکن ترکی کے خلاف شیطانی صف بندی سے یونان و جنرل السیسی کی نیت کا فتور ظاہر ہوتا ہے۔ ترک وزیرخارجہ نے کہا کہ مشرقی بحر روم پر مذاکرات سے پہلے مصر اور یونان اپنا سمندری حد بندی (maritime delamination)کا یکطرفہ معاہدہ دریابرد اور ترک لیبیا معاہدے کی مخالفت ختم کرنے کا اعلان کریں۔

اپنی بحریہ کے کمانڈروں سے خطاب کرتے ہوئے ترک وزیردفاع نے کہا ہمیں صف بندیوں اور گیڈر بھبکیوں سے ڈراکر ساحل تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ ویڈیو کانفرنس کے بعد رائٹرز سے باتیں کرتے ہوئے ترک وزیردفاع نے توقع ظاہر کی کہ یونان اور مصر تہذیب کا مظاہرہ کرتے ہوئے  مذاکرت کے ذریعے بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں اس مسئلے کا سب کیلئے قابل قبول حل تلاش کرنے میں جرمنی کی پیشکش کا مثبت و مخلصانہ جواب دینگے۔ انھوں نے اسرائیل اور فرانس کا نام لئے بغیر کہا کہ جو لوگ یونان و مصر کو شہہ دے رہے ہیں ہمیں انکے احوال و مقامات اچھی طرح معلوم ہیں۔



Tuesday, August 11, 2020

کملاہیرس ! جو بائیڈن کا انتخاب

کملاہیرس ! جو بائیڈن کا انتخاب

ڈیموکریٹ پارٹی کے (یقینی) صدارتی امیدوار  جو بائیڈن نےکملا ہیرس کو نائب صدرکیلئے امیدوار نامزد کردیا۔ 55 سالہ کملا نائب صدارت کیلئے امریکی تاریخ کی تیسری خاتون امیدوار ہونگی۔ اس سے پہلے 1984 میں سابق نائب صدر والٹر مانڈیل نے  نائب صدارت کیلئے جیرالڈین فرارو اور 2008میں انجہانی سینیٹر جان مک کین نے محترمہ سارا پیلن کو نائب صدارت کیلئے نامزد کیا تھا۔ بدقسمتی سے یہ دونوں خواتین ہارنے والے پینل کا حصہ ثابت ہوئیں۔

کملا ہیرس امریکی تاریخ کی پہلی سیاہ فام اور ہندوستانی نژاد خاتون ہیں جنھیں نائب صدرکیلئے امیدوار نامزد کیا جارہا ہے۔ کملا کی والدہ ڈاکٹر شیا مالا گوپلان مدراس، ہندوستان سے  اعلی تعلیم کیلئے جامعہ کیلی فورنیا برکلے آئی  تھیں جہاں انکی ملاقات جمیکا (Jamaica)کے ڈاکٹر ڈانلڈ ہیرس سے ہوئی۔ جلد ہی  دونوں نے شادی کرلی۔ کملا کی پیدائش کے صرف سات سال بعد انکے والدین کی طلاق ہوگئی۔  جسکے بعد  کملا اور انکی چھوٹی بہن مائرہ اپنی ماں کیساتھ رہنے لگیں۔ انکی والدہ مذہبی خاتون تھیں اور وہ رواداری کامظاہرہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کو ہندومندر کے ساتھ انکے پتاجی کےسیاہ فام گرجا بھی لے جایا کرتی تھیں۔کملا کو کم عمری سے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ کہتی ہیں کہ بچپن میں سفید فام بچے انکے ساتھ نہیں کھیلتے تھے۔ کملا کی والدہ 2011میں انتقال کر گئیں۔

کملا ہیرس نے امریکی دارالحکومت کی جامعہ ہورورڈ (Howard) سے سیاسیاست اور معاشیات میں بی اے کیا۔ احباب کی وضاحت کیلئے عرض ہے کہ Howardاور جامعہ ہارورڈHarvardمحتلف تعلیمی ادارے ہیں۔ ہارورڈ میسیچیوسٹس کے شہر بوسٹن میں ہے۔ Howardسیاہ فام تعلیمی ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ بی اے کے بعد کملا نے جامعہ کیلی فورنیا  سان فرانسسکو سے قانون کی سند حاصل کی۔ کملا کی اب تک اپنی کوئی اولاد  نہیں لیکن انکے شوہر ڈگلس ایمہوف کی سابق اہلیہ کے دو بچے انکے ساتھ رہتے ہیں۔ کملا کے بے پناہ پیار کی وجہ سے انکے سوتیلے بچے (ایک بیٹی اور ایک بیٹا) انھیں مومالا (مام کمالا) کہتے ہیں۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد محترمہ کملا المیڈا کاونٹی کی نائب ایڈوکیٹ جنرل (District Attorney)مقرر ہوئیں۔ 2003 میں انھیں سان فرانسسکو کی سرکاری وکیل (District Attorney)منتخب کرلیا گیا،جبکہ 2010 کے انتخابات میں کملا کیلی فورنیا کا اٹارنی جنرل منتخب ہوئیں۔ 2016 میں  جب ڈیموکریٹک پارٹی کی سینئر سینیٹرباربرا باکسر نے عملی سیاست کو خیر باد کہا تو انکی خالی کردہ نشست پر کملا ہیرس  سینیٹر منتخب ہوگئیں۔ یہ وہی انتخاب تھا جس میں ڈانلڈ ٹرمپ صدر منتخب ہوئے تھے لیکن انھیں کیلیفورنیا میں بری طرح شکست ہوئی۔

2018بکے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعدکملا ہیرس نے 2020 کے صدارتی انتخاب کیلئے مہم شروع کردی۔ وہ جو بائیڈن کی سخت مخالف تھیں اور ایک مباحثے میں انھوں نے جو بائیڈن پر نسل پرستی  کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔ انکا کہنا تھا کہ  جب وہ چھوٹی تھیں تو کملا محلے کے اسکول جانے کے بجائے بس پر بیٹھ کر بہت دور واقع ایک اسکول جاتی تھیں کہ محلے کے سفید فام اسکول میں انکا داخلہ ممنوع تھا۔ کملا ہیرس نے الزام لگایا کہ اسوقت جو بائیڈن سینیٹر تھے اور انھوں نے اس نسلی امتیاز کے خلاف آواز بلند نہیں کی۔ اس موقع پر کملا اور جوبائیڈن کے درمیان سخت تلخ کلامی ہوئی اور مباحثے کے بعد وہ جو بائیڈن سے ہاتھ ملائے بغیر پیر پٹختی اسٹیج سے اتر گئیں۔

پرائمری انتخابات کے دوران کملا کی کارکردگی شروع ہی بہت خراب تھی۔ چنانچہ  وہ نوشتہ دیوار پڑھ کر جلد ہی دستبردار ہوگئیں۔ مہم ختم کرتے ہوئے کملا نے کہا کہ انکے پاس انتخابی مہم جاری رکھنے کیلئے مالی وسائل نہیں۔ کچھ عرصے بعد انھوں نے جو بائیڈن کی غیر مشروط حمائت کا اعلان کردیا۔ جو بائیڈن نے انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ نائب صدارت کیلئے کسی خاتون کو نامزد کرینگے۔ مینیسوٹا میں جارج فلائیڈ کی موت کے بعد سے ان پرکسی رنگدار خاتون کو نامزد کرنے کیلئے دباو تھا۔ اس سلسلے میں کملا ہیرس کے علاوہ قومی سلامتی کیلئے صدر اوباما کی مشیر ڈاکٹر سوزن رائس، اٹلانٹا کی رئیس شہر محترمہ کیشا لانس باٹم اور سینٹر ٹیمی ڈک ورتھ کا نام لیا جارہاتھا۔

 کملا ہیرس ہیں تو نسلی اعتبار سے سیاہ فام لیکن اٹارنی اور مستغیث (Prosecutor)کی حیثیت سے انھوں نے زیادتی اور نسلی امتیاز کا مظاہرہ کرنے والے پولیس افسران کا دفاع  اور چھوٹے چھوٹے جرائم پر عدالتوں سے سخت ترین سزاوں کامطالبہ کیا۔ 1994 میں منشیات اور پرتشدد جرائم کے سد باب کیلئے صدر بل کلنٹن  نے عادی وپیشہ ور مجرموں کو سخت سزادینے کیلئے Habitual Offenders Lawsمنظورکیا جسکے مطابق تین چھوٹی واردات کے مرتکب افراد کو خطر ناک و ناپسندیدہ عنصر سمجھ کر انکے لئے عدالتوں سے سخت سزا کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ یہ ضابطہ تین خلاف ورزی یا Three-strikes laws کے نام سے مشہور اور سیاہ فاموں میں بدنام ہے۔ پولیس سیاہ فام بچوں کو دوکان سے چاکلیٹ کی ٹکیہ چرانے، شراب خریدنے کیلئے جعلی شناخت دکھانے، اسکول میں لڑائی جھگڑے، آدھی رات کے بعد آوارہ گردی ، سڑک پر زیبرا کراسنگ کو نظر انداز کرکے سڑک پار(jay walking)کرنے جیسے تین چھوٹے الزامات میں ملوث کرکے ان کیلئے سخت سزاوں کا مطالبہ کرتی ہے۔ امریکی جیلوں میں ہزاروں کم عمر سیاہ فام اور ہسپانوی نوجوان 'تین خلاف ورزیوں' کے الزام میں طویل سزا بھگت رہے ہیں۔ سرکاری وکیل کی حیثیت سے کملا نے کم عمر رنگدار بچوں کو سخت سزائیں دلوائیں۔

کیا کملا ہیرس کو ساتھ ملاکر جو بائیڈن نے انتخابات میں اپنی پوزیشن بہتر کرلی ہے؟ اس بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہورہا ہے کہ کرونا وائرس اور نسلی ہم آہنگی آنے والے انتخابات کے فیصلہ کن نکات ہونگے۔ کرونا وائس کے حوالے سے صدر ٹرمپ شدید دباومیں ہیں جبکہ نسلی امتیاز بلکہ منافرت کے باب میں بھی امریکی فکر مند نظر آرہے ہیں۔

آنے والے انتخابات میں سیاہ فام، ہسپانوی اور رنگدار لوگوں کے ووٹ بڑی اہمیت کے حامل ہیں اور ان لوگوں کو ووٹ ڈالنے پر آمادہ کرنا جو بائیڈن کی کامیابی کیلئے بہت ضروری ہے۔ دیکھنا ہے کہ شمالی کیرولینا، فلوریڈا، پینسلوانیہ، وسکونسن، مشیگن، اوہایو، الی نوائے جیسی ریاستوں میں جہاں گھمسان کا مقابلہ متوقع ہے سیاہ فام ووٹروں کو گھروں سے نکالنے میں کملا ہیرس کتنی کامیاب رہینگی۔ چار سال قبل ہیلری کلنٹن ان ریاستوں میں اپنے حامیوں کو ووٹ ڈالنے پر آمادہ کرنے میں ناکام رہی تھیں جو انکی شکست کی وجہ بنی ورنہ انھوں نے مجموعی طور پر صدر ٹرمپ سے 25 لاکھ ووٹ زیادہ لئے تھے۔

جہاں تک ووٹ ڈالنےکا سوال ہے تو اب تک طریقہ انتخاب پر بھی دونوں جماعتٰیں یکسو نہیں بلکہ انکے درمیان اختلاف کی خلیج بہت گہری ہے۔ڈیموکریٹک پارٹی کرونا وائرس کے پس منظر میں ڈاک کے ذریعے انتخاب کا مطالبہ کررہی ہے  لیکن صدر ٹرمپ کو ڈر ہے کہ ڈاک کے ذریعے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندھلی ہوگی۔

 

Sunday, August 9, 2020

بڑھا بھی دیتے ہیں کچھ زیبِ داستاں کیلئے

بڑھا بھی دیتے ہیں کچھ زیبِ داستاں کیلئے  

پاکستانی میڈیا پر کچھ دنوں سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان داغ مفارقت کی افواہ عروج پر ہے۔ کہا جارہا ہے کہ اسلام آباد اپنا سیاسی قبلہ تبدیل کررہا ہے۔

چائے کی پیالی سے امڈنے والے طوفان کا آغاز اسوقت ہوا جب گزشتہ دنوں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا ایک غیر معمولی  بیان سامنے آیا۔ غیر معمولی اس اعتبار سے کہ شاہ صاحب ٹھنڈے مزاج کے آدمی ہیں اور اسقدر سنبھل سنبھل اور ٹہر ٹہر کر بلکہ الفاط چباچبا کر بولتے ہیں کہ تصنع کا گماں ہوتا ہے۔ اپنے بیان میں قریشی صاحب نے  او آئی سی کی سرد مہری پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر اور بابری مسجد کے معاملے پر اگر سعودی عرب اپنا کلیدی کردار ادا کرنے کو تیار نہیں تو وہ وزیراعظم عمران خان کو مشورہ دینگے کہ پاکستان مسلمان ملکوں کا اجلاس طلب کرے چاہے سعودی عرب اس پر تیار ہو یا نہ ہو۔

قریشی صاحب کے بگڑے تیور نے سفارتی فضا میں ارتعاش پیدا کردیااور سوشل میڈیا پر ایسا لگا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے سات دہائیوں پر مشتمل تعلقات اب قصہ پارینہ بننے کو ہیں۔

اسی کیساتھ یہ اطلاع بھی آئی کہ سعودی عرب نے پاکستان کو ادھار تیل دینا بند کردیا ہے اور 2018 میں دئے جانیوالے 3 ارب ڈالر واپس مانگ لئے ہیں۔

سفارتی سطح پر کیا کھچڑی پک رہی ہے اس بارے میں ہمیں کچھ نہیں معلوم لیکن ادھار تیل اور نقدی کی واپسی کوئی غیر معمول واقعہ نہیں۔ اس حوالے سے کچھ حقایق احباب کیلئے

2018 کے آغاز پر سعودی عرب نے پاکستان کیلئے 6.2ارب ڈالر کا امدادی پیکیج منظور کیا تھا۔ جن میں سے 3 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک میں جمع کرائے گئے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ رقم قرض نہیں تھی بلکہ زرمبادلہ کے ذخاٗئر کو بڑھاکر اسٹیٹ بینک کی ساکھ کو بہتر کرنے کی ایک کوشش تھی۔ گزشتہ حکومت کی بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں کی وجہ سے ایسا لگ رہا تھا کہ پاکستان کا خزانہ خالی ہے اور ضروری درآمدات کیلئے ڈالر میسر نہیں۔ معاہدے کے تحت سعودی عرب نے یہ رقم نومبر 2019 میں نکال لینے کا عندیہ دیا تھالیکن بعد میں واپسی کی مدت جنوی 2021 تک بڑھادی گئی۔ اسٹیٹ بینک نے اس میں سے ایک ارب ڈالر گزشتہ ہفتے واپس کردیئے اور بقیہ 2 ارب اگلے تین مہینوں تک واپس کردئے جائینگے۔ 3 ارب کی واپسی سے پاکستان کی معیشت یا زرمبادلہ کے ذخائر پر کوئی منفی یامثبت اثر نہیں پڑیگا۔ اسلئے کہ یہ ایک بینکاری کا سادہ سا معاملہ ہے یعنی صارف اپنی جمع شدہ رقم نکال رہا ہے۔

اسٹیٹ بینک میں پیسہ رکھوانے کے ساتھ ہی سعودی عرب نے پاکستان کو 3.2ڈالر مالیت کا خام تیل ادھار دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس سال مئی تک پاکستان نے اس مالیت کا تیل حاصل کرلیا اور گزشتہ تین ماہ سے پاکستان سعودی تیل نقد خرید رہا ہے۔ یعنی ادھار ختم ہونے والی بات بھی کسی اعتبار سے چشم کشا نہیں۔ خبر ہے کہ اگلے ماہ سعودی ارامکو کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس ہورہا ہے جس میں پاکستان کیلئے ادھار تیل کی سہولت میں توسیع پر غور ہوگا۔ ظہران کے صحافتی ذرایع کا کہنا ہے شائد مزید 2 ارب ڈالر کا تیل ادھار مل جائے۔

سعودی عرب کی طرح متحدہ عرب امارات نے بھی 6.2ارب ڈالر کے پیکیج کا اعلان کیاتھا لیکن بعد میں ابوظہبی نے ادھار تیل کی پیشکش واپس لے لی اور صرف 2 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک میں جمع کرائے۔

اس بنیاد پر ہمارا خیال ہے کہ محمود قریشی صاحب کی تقریر سے راستے جداہونے کا تاثر رائی کے پہاڑ سے زیادہ کچھ نہیں۔ کشمیر کے حوالے سے مقتدرہ نے ٹالنے اور نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیار کررکھی ہے لیکن مرزاانیس کی طرح یہ عفیفہ آبگینوں  کوٹھیس بھی نہیں لگانا چاہتی۔ بازو پر سیاہ پٹیاں، سرینگر ہائی وے اور نئے نقشے کی طرح قریشی صاحب کی برہمی و دھمکی بھی خیالِ خاطرِ احباب اور موذیوں کا منہہ بند کرنے کیلئے تھی جسے صحافتی اصطلاح میں Public Consumptionکہا جاتا ہے۔ دنیائے صحافت کے کچھ منچلے کہہ رہے ہیں کہ فرمائشی tough talk سے پہلے ریاض کو اعتماد میں لیا جاچکا ہے۔  

کون کہتا ہے کہ ہم تم میں جدائی ہوگی