Thursday, January 20, 2022

خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان

باچاخان

آج 20 جنوری بزرگ رہنما خان عبدالغفارخان المعروف باچا خان کی34 ویں برسی ہے۔ عبدالغفار خان 6 فروری 1890 کو چارسدہ کے قریب ہشت نگرمیں پیدا ہوئے۔باچا خان تحریک آزادی ہند کے سرگرم رہنما تھے جنھوں نے خدائی خدمت گار کے پلیٹ فارم پر پشتونوں کو منظم کرکے انگریز سے آزادی کیلئے بھرپور مہم چلائی۔ انتہائی پرامن رہنے کے باوجود انگریز انتظامیہ نے باچا خان اور خدائی خدمتگار تنظیم کے کارکنوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا لیکن اس بہیمانہ ظلم کے جواب میں نہ تو باچا خان نے اپنے معتقدوں کو تشدد پر اکسایا اور نہ جدوجہدِ آزادی کو ترک کیا۔ باچا خان انڈین کانگریس کے سرگرم رہنما تھے اور اسی بنا پر انھیں سرحدی گاندھی بھی کہا جاتا ہے۔

 تقسیم ہندوستان (قیام پاکستانٌ) سے چند ہفتہ قبل خدائی خدمت گار نے بنوں کے مقام پر لویہ جرگا کا اہتمام کیا جہاں 'اعلانِ بنوں' کے نام سے وہ مشہور قراراداد منظور ہوئی جس میں انگریزوں سےمطالبہ کیا گیا کہ پشتون علاقوں پر مشتمل پشتونستان کے نام سے ایک آزاد و خودمختار ریاست قائم کی جائے لیکن انگریز سرکار نے انکے مطالبے کو ماننے سے انکار کردیا اور پھر ریفرنڈم میں بھی پشتونوں کی اکثریت نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا۔

پاکستان بننے کے بعد باچا خان نے پاکستان سے وفاداری کا اعلان کیا لیکن وہ مسلسل قیدو بند کی آزمائش سے گزرتے رہے حتیٰ کہ انکی موت بھی اس حالت میں ہوئی کہ باچا خان اپنے گھر میں نظر بند تھے۔ انکی خواہش پر خان عبدالغفار خان کی میت تدفین کیلئے جلال آباد لے جائی گئی۔ اسوقت وہاں روسی فوج اور جلال الدین حقانی کے چھاپہ ماروں کے درمیان شدید جنگ ہورہی تھی لیکن باچا خان کے احترام میں  عارضٰ فائر بندی کی گئی تاکہ باچا خان کی میت کو دفنایا جاسکے۔ انتقال کے وقت خان عبدالغفار خان کی عمر 97 بر س تھی۔

باچا خان ایک راسخ العقیدہ مسلمان تھے اور یہ بات شائد بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ اپنے آبائی قصبے اتمان زئی کی پہلی مسجد انھوں اپنے خرچ سے بنوائی تھی جسکے ساتھ ایک مدرسہ بھی تھا۔1927 میں باچا خان اپنے گاوں کے درجنوں افراد کو حج کیلئےاپنے ساتھ لے کر گئے۔ خان عبدالغفار خان کے تین بیٹے عبدالغنی خان، عبدالولی خان اور عبدالعلی خان تھے۔ ان سب کو شہرت اور نیک نامی نصیب ہوئی۔ اتفاق سے اسوقت ان میں سے کوئی بھی حیات نہیں۔ انکی صاحبزادیوں  کےنام سرداراں اور مہر تاج ہیں جنکے بارے میں ہمیں نام سے زیادہ کچھ معلوم نہیں۔ خان عبدالغنی ایک دانشور، شاعر اور ماہر لسانیات تھے۔ انکی وجہ شہرت تو پشتو شاعری کی ہے لیکن انھوں نے اردو کلام بھی تخلیق کیا جو  شائدکلیاتِ غنی میں موجود ہے۔ عبدالولی خان پائے کے سیاستدان تھے جبکہ ڈاکٹرعبدالعلی خان ایک دانشور اور ماہر تعلیم تھے جو جامعہ پشاور کے شیخ الجامعہ بھی رہ چکے ہیں۔


 

Thursday, January 13, 2022

قازقستان! کرپٹ قیادت، مہنگائی کا عذاب اور خود مختاری کو حائل خطرات

قازقستان! کرپٹ قیادت، مہنگائی کا عذاب اور خود مختاری کو حائل خطرات

دنیا میں رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑا مسلم ملک قازقستان آجکل بدترین خلفشار میں مبتلا ہے۔ ستائیس لاکھ 25 ہزار مربع کلومیٹر پرمشمل اس ملک کی آبادی صرف ایک کروڑ91 لاکھ کے قریب ہے اور اس اعتبار سے یہاں ہر مربع کلومیٹر رقبے پراوسطاً 7 نفوس آباد ہیں۔ قارئین کی دلچسپی کیلئے عرض ہے کہ پاکستان میں ہر مربع کلومیٹر پر 244، ہندوستان میں 414اور بنگلہ دیش میں اوسطاً 1106افراد رہتے ہیں۔ آبادی میں  مسلمانوں اور مسیحیوں کا تناسب بالترتیب72 اور 23.1  ہے جبکہ چار فیصد آبادی کسی بھی مذہب کی پیروکار نہیں۔ دنیا کی دوبڑی طاقتیں قازقستان کی پڑوسی ہیں۔ شمال اور شمال مغربی جانب روس اور مشرق میں اسکی سرحدیں چین سے ملتی ہیں۔قازق روسی سرحد کی لمبائی 7644 اور چین سے ملنے والی سرحد 1783 کلو میٹر لمبی ہے۔جنوب میں کرغستان، ازبکستان اور ترکمانستان اسکے ہمسائے ہیں۔

چودھویں صدی میں یہ خطہ اسلام کی روشنی نے منور ہوا اور جلد ہی قازق خانات قائم ہوگئی، عربی رسم الخط رائج ہوااور مبلغین نے اپنے کردار سے سارے علاقے کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ اٹھارہویں صدی کے آغاز میں روسیوں نے حملوں کا آغاز کیا۔یہ  برطانوی سلطنت کی توسیع کا دور تھا۔ روسیوں نے 'گوروں' کا خوف دلاکر قازق عوام کے دلوں میں نرم گوشہ پیدا کیا اور روسی سلطنت نے قبائلیوں کی مدد سے قازقستان کے بڑے علاقے پر قبضہ کرلیا، 1860 تک قازق مزاحمت جاری رہی لیکن جلد ہی روس کی فوجی طاقت غالب آگئی اور 1917 میں علاقائی خود مختاری اور رسم الخط برقرار رکھنے کا وعدہ کرکے قازق مجاہدین کو تحریک مزاحمت ختم کرنے پر راضی کرلیاگیا، لیکن وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوگیا چنانچہ  1936 میں قازقستان سوویٹ سوشلسٹ ریپبلک قائم ہوتے ہی روسی رسم الخط رائج ہوگیا۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران جب جوہری اسلحے کی دوڑ شروع ہوئی تو بڑے لق و دق علاقے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آزمائشی جوہری دھماکوں کیلئے مشرقی قازقستان کے شہر سیمی کا انتخاب کیا گیا اور 1949 میں ہونے پہلے کامیاب تجربے کے بعد 1989 تک یہاں سینکڑوں جوہری تجربات کئے گئے۔ ان پئے در پئے دھماکوں سے خارج ہونے والی تابکاری نے قازق شہریوں کی صحت پر جو منفی اثرات مرتب کئےاسکی روسیوں کو قطعی کوئی فکر نہ تھی اور  سفاک کے جی بی نے 'فکرمندوں' کو صفحہ ہستی سے مٹاکر اس اس مسئلے کو بڑا تنازعہ نہ بننےدیا۔

افغانستان میں روس کی شکست بلکہ سوویت یونین کے کِریاکرم نے وسط ایشیا کی دوسری سوویت ریا ستوں کی طرح قازقستان کی  آزادی کی راہ ہموار کی اور سابق سوویت رہنما نورسلطان نذربایوف نے اقتدار سنبھال لیا۔گویا آسمان سے گر کر مظلوم قازق عوام کھجور میں اٹک گئے۔ نورسلطان کا آمرانہ نظام، برترین کرپشن کی اپنی مثال آپ ہے۔ جب 2002 میں حکومت مخالف اخبار نے سوئٹزرلینڈ کے ذرایع ابلاغ میں شایع ہونے والی ایک خبر کی بنیاد پر قازق اسٹیٹ بینک سے ایک ارب ڈالر چوری کا انکشاف کیا تو اسکے دفتر پر بم کا دھماکہ ہوا جس سے کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوالیکن روزنامہ جمہویہ کے دفتر کو شدید نقصان پہنچا۔ امریکی اخبار نیویارکر نے 1999 میں ایک رپورٹ شایع کی جس کے مطابق  سوئس بینک کے کئی افسران نے قازق اسٹیٹ بینک سے ساڑھے آٹھ کروڑ ڈالر ایک بے نامی اکاونٹ میں جمع کرانے کی تصدیق کی تھی اور  بینک میں سب کو پتہ تھا کہ یہ اکاونٹ نورسلطان نذربایوف کا ہے۔ افسوس کہ شفافیت اور دیانت داری کی مالا جپنے والا یورپ اس قسم کی چوری کی حوصلہ افزائی میں مصروف ہے۔

دوسال پہلے صدر نور سلطان نذر بایوف نے صدارت سے مستعفی ہوکر اقتدار اپنے فرمانبردار قاسم جمعرت توقیر کے حوالے کردیا  اور قاسم صاحب نے وفاداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نذربایوف کو  قومی دفاعی کونسل کا سربراہ مقرر کردیا۔ قازقستان کی مسلح افواج اور خفیہ ادارے اس کونسل کو جوابدہ ہیں، یعنی نذربایوف صاحب فوج کے سویلین سپریم کمانڈر بنا دئے گئے۔ فوج پرگرفت مزید مضبوط کرنے کیلے نذربایوف نے اپنے بھتیجے صمد عباس کو کونسل کا نائب سربراہ مقرر کردیا۔

شائد قازقستان کا تعارف اور اسکی تاریخ کا ذکر ہمارے کچھ قارئین کو غیر ضروری محسوس ہورہا ہو۔ اگر آپکا بھی یہی خیال ہے تو وقت کے زیاں پر معذرت لیکن اس روداد کا مقصد یہ بتانا تھا کہ حالیہ ہنگامے اچانک نہیں ہوئے بلکہ عوام میں قازق حکمرانوں کی لوٹ مار پر بے چینی کا لاوا ایک عرصے سے پک رہا تھا۔ دوکروڑ سے بھی کم آبادی والےاس ملک میں تیل کی یومیہ پیداوار 17 لاکھ بیرل ہے جس میں سے صرف سواتین لاکھ بیرل مقامی طور پر استعمال ہوتا ہے، یعنی ہر روز  13 لاکھ 75 ہزار بیرل  تیل برآمد کیا جاتا ہے۔ تیل کے ساتھ ہی قدرت نے قازقستان کو معدنیات بھی فیاضی کے ساتھ عطا کی ہیں۔یہاں یورینیم، کرومیم، جست، سیسہ، تانبا، لوہا، سونا اور کوئلے کے عظیم الشان ذخائر ہیں، جنکی برآمد سےملک کو  اربوں ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔ اس رقم کا بڑا حصہ نورسلطان نوربایوف نے  دوامِ اقتدار کیلئے خفیہ پولیس اور جاسوسی کے نظام پر پھونک دیا۔ باقی ماندہ رقم سوئٹزر لینڈ کے بے نامی اکانٹ میں جمع کرادی گئی۔ حکومتی اخراجات پورا کرنے کیلئے وہ نت نئے ٹیکس عائد کررہے ہیں اور ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے

اس سال کے شروع میں حکومت نے ایل پی جی (LPG)کی قیمتیں دگنی کردیں۔ ساتھ ہی بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات بھی مہنگی کردی گئیں۔ موسمِ سرما کی سختی نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور مغربی قازقستاں کے ایک شہر ژاناوژن (Zhanaozen)سے بے چینی کا آغاز ہوا۔ ژاناوژن تیل اور گیس کا مرکز ہے اور یہاں کام کرنے والے کارکن ایک عرصے سے کم تنخواہ اور مہمل حفاظتی اقدامات پر احتجاج کررہے ہیں۔ اس مسئلہ پر 2011 میں یہاں زبردست ہنگامہ ہوچکا ہے جب تیل کے کنووں اور تنصیبات پر کام کرنے والے مزدروں نے تنخواہ میں اضافے اور سہولتوں کی بہتری کیلئے ہڑتال کی تو دارالحکومت سے بھیجے گئے خصوصی فوجی دستے  نے اندھادھند فائرنگ کرکے ایک درجن سے زیادہ زیادہ مزدوروں کو ہلاک کردیاتھا

ایندھن کی قیمت میں حالیہ اضافے کیخلاف ژانا وژن کے  مزدور سڑکوں پر آئے جسے پولیس نے سختی سے کچل دیا۔ ساتھ ہی صدر قاسم جمعرات اور انکے وزرا نے رنگین چارٹ اور گراف کی مدد سے یہ ثابت کردیا کہ اضافے کے بعد بھی قازقستان میں ایندھن سارے وسط ایشیا سے سستا ہے۔انکا کہنا تھا کہ مہنگائی ساری دنیا کا مسئلہ ہے۔ قازقستان دنیا سے الگ تھگ جزیرہ یا قلعہ نہیں جو عالمی اقتصادیات کے منفی اثرات سے محفوظ ومامون ہو۔ اپنے زخموں پر حکمرانوں کی نمک پاشی سے عوام بلبلا اٹھے۔ ژاناوژن میں ہونے والے مظاہرے کو تو فوج کچلنے میں کامیاب ہوگئی لیکن  قریبی شہروں میں ہنگامے شروع ہو گئے اور جلد ہی  سب سے بڑے شہر الماتی اور دارالحکومت نورسلطان سمیت سارا ملک اسکی لپیٹ میں آگیا۔ قازقستان کے دارالحکومت کا نام  آستانہ تھاجسے دوسال پہلے صدر نذربایوف نے اپنے نام سے موسوم کردیاہے۔مظاہرین کا ہدف نورسلطان نذربایوف ہیں اور سارا ملک  'بڈھے ہماری جان چھوڑو' کے نعروں سے گونج رہا ہے۔

چار جنوری سے مظاہروں میں شدت کے ساتھ تشدد کا عنصر بھی داخل ہوگیا،  مشتعل ہجوم نے الماتی، دارالحکومت اور دوسرے بڑے شہروں میں سرکاری عمارتوں کو آگ لگادی جن میں نورسلطان نذربایوف کے رشتے داروں کے مکانات بھی شامل ہیں۔مظاہرین نے نورسلطان میں صدارتی محل پر بھی حملہ کیا جس سے  بیرونی دیوار کا کچھ حصہ منہدم ہوگیا۔ فوج نے مظاہروں کو کچلنے کیلئے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا اور عوام پر اندھادھند گولیاں برسائیں۔ فوج کی فائرنگ سے درجنوں افراد ہلاک ہوئے لیکن مظاہرین منتشر نہ ہوئے۔ عوام کے پتھراو سے دودرجن کے قریب سپاہی بھی مارے گئے۔ مشتعل مظاہرین نے ایک پولیس افسر کا تیزدھار آلے سے سرقلم کردیا۔پانچ جنوری کو اپنے خطاب میں صدر قاسم جمعرات نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیتے ہوئے 'نااہل حکومت' کو برطرف کردیا۔ ساتھ ہی انھوں نے نورسلطان نذربایوف کو قومی سلامتی کونسل کی سربراہی سے الگ کردیا۔ اسکے باوجود مظاہرے جار ی رہے۔جابرانہ نظام کی وجہ سے قازقستان میں سیاسی جماعتیں منظم نہیں اور مہنگائی کے خلاف حالیہ تحریک کا بھی کوئی سربراہ نہیں۔ تاہم سوشل میڈیا پر 'شہریانِ ژان وژن' کے نام سے ایک نامعلوم گروہ اس تحریک کی غیر رسمی قیادت کررہاہے۔

چھ جنوری کو صورتحال قابو سے باہر ہوتی دیکھ کر صدر قاسم جمعرات نے روس سے مدد کی درخواست کی۔ جس پر صدر پوٹن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ قازقستان کا اندرونی معاملہ جس میں بیرونی مداخلت سے صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔روس کے ساتھ ہی قازق صدر نے معاہدہ برائے اجتماعی دفاع یا CSTOسے بھی  مدد کی درخواست کی۔ روس آرمینیا، بیلارُس، قازقستان، کرغستان اور تاجکستان پر مشتمل CSTOآنجہانی سوویت یونین کی دولت مشترکہ ہے۔ آرمینیا کے وزیراعظم اور CSTOکے روحِ رواں نکول پشینیان نے صدر قاسم کی درخواست پر   فوجی دستےقازقستان  بھیجنے کا اعلان کیا، تاہم اعلامئے میں بہت صراحت کیساتھ کہاگیا کہ CSTOمظاہرین کو کچلنے کیلئے استعمال نہیں ہوگی اور ہمارے سپاہی صرف امن کے قیام میں اپنا کردار ادا کرینگے۔اس معاملے میں آرمینیا کی دلچسپی پر آذربائیجان خوش نہیں۔ یہ دونوں ملک ڈیڑھ برس پہلے خونریز جنگ لڑ چکے ہیں۔قازقستان کیلئے آرمینیائی فوج کی روانگی پر ترکی کو بھی تحفظات ہیں۔ دوسری طرف صدر پوٹن کی جانب  سے عدم مداخلت کی یقین دہانی کے باوجود روسی فوج کے چھاتہ بردار دستے قازق دارالحکومت کے تحفظ کیلیے بھیج دئے گئے ہیں ۔اب تک روس یا CSTOنے قازقستان بھیجے جانے والے سپاہیوں کی کل تعداد نہیں بتائی لیکن مغربی نامہ نگاروں کاکہنا ہے کہ 2500 کے قریب سپاہی قازقستان آئے ہیں۔

روسی فوج کے آتے ہی قازق فوج نے زبردست کاروائی کا آغاز کیا اور اب عوامی مزاحمت پسپا ہوتی نظر آرہی ہے۔الماتی، آستانہ اور توانائی کے مرکز ژاناوژن میں روسی ٹینک گشت کررہے ہیں۔قوم سے اپنے خطاب میں صدر قاسم نے انتہائی متکبرانہ لہجے میں کہا کہ غیر ملکی دہشت گردوں کا تعاقب کیا جائیگا اور جن لوگوں نے قومی املاک کو نقصان پہنچایا ہے انھیں نشان عبرت بنتے ساری دنیا دیکھے گی۔ قازق صدر نے ایک بار پھر کہا کہ مہنگائی ساری دنیا میں ہے اور اسےمظاہرے کا جواز قرار نہیں دیا جاسکتا چنانچہ مظاہرین کو بلاانتباہ گولی ماردینے کا حکم دیدیا گیا ہے۔قازق ابلاغ عامہ کے ذرایع نے جو اعدادوشمار جاری کئے ہیں، اسکے مطابق ان ہنگاموں میں 164 افراد ہلاک ہوئے اورمالی نقصان کا تخمینہ 20 کروڑ ڈالر ہے۔وزارت داخلہ نے ہنگاموں میں ملوث پانچ ہزار افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

قازقستان میں مہنگائی کے خلاف حالیہ تحریک اس ملک کا اندرونی معاملہ ہے لیکن جس تیزی سے روس نے وہاں اپنی فوج بھیجی ہے اس سے قازقستان کی سلامتی و خودمختاری کے بارے میں سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔پہلے کہا گیاتھا کہ CSTOکے جوان صرف سرکاری عمارتوں اور قومی تنصیبات کی حفاظت کرینگے لیکن اب روسی ٹینک، تیل اور گیس کے مرکز ژاناوژن کے گرد گھیرا ڈال چکے ہیں۔ الماتی اور دارالحکومت میں بھی روسی ٹینک گشت کرتے نظر آرہے ہیں۔

اس حوالے سے قازقستان کا محل وقوع بھی اہمیت کا حامل ہے کہ اسکے ایک طرف روس اور دوسری جانب چین ہے۔ قازق عوام ان دونوں کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے۔ بظاہرروس، قازقستان کا قریبی اتحادی ہے، لیکن اپنے پڑوسیوں کیخلاف روس کے توسیع پسندانہ عزائم پر قازق     قوم کو سخت تشویش ہے۔قازقستان کی 20 فیصد آبادی روسیوں پر مشتمل ہے جنکی غالب اکثریت روس کی سرحد پر رہتی ہے۔کریمیا پر حملے کیلئے روس نے وہاں آباد روسی اقلیت کے تحفظ کو جواز بنایا تھا۔

 روس کیساتھ چین کے بارے میں بھی قازق قوم کو شدید تحفظات ہیں۔ یہ خیال عام ہے کہ بیجنگ، قازقستان کے قدرتی ذخائر پر قابض ہونا چاہتا ہے۔ قازقستان کی سرحد چین کے مسلم اکثریتی صوبت سنکیانگ سے ملتی ہے اور وہاں ویغوروں  کیساتھ قازق اور تاتار بھی نسل کشی کا شکار ہیں۔ اسی معاملے پر قازقستان میں کئی بار پرتشدد مظاہرے ہوچکے ہیں۔

روس اور چین دونوں کے ذرایع ابلاغ پر وقتاً فوقتاً اس قسم کے مضامین شایع ہوتے رہے ہیں جن میں  قازقستان کو  تاریخی اعتبار سے ان ملکوں کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔بعض چینی دانشوروں کا دعویٰ ہے کہ ماضی میں قازقستان سنکیانگ کا حصہ تھا اور اسے دوبارہ چین میں ضم ہونے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہئے۔

اس تناظر میں قازقستان کی سڑکوں پر روسی ٹینکوں کی موجودگی قازق خودمختاری کیلئے اچھا شگون نہیں۔ وہاں غیر ملکی فوج کتنا عرصہ قیام کریگی یہ بات بھی واضح نہیں۔ روسی خبر رساں ایجنسی RIA Novostiکے مطابق ان دستوں کے قیام کا دورانیہ  کئی ہفتے ہوسکتا ہے۔دوسری طرف روس کی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ قازق دھڑے باہم مذاکرات کے ذریعے تنازعے کا حل تلاش کر لینگے جسکے بعد وہاں غیر ملکی فوج کی ضرورت نہیں رہے گی۔بیان میں مظاہروں کو قازقستان کا اندرونی معاملہ قراردیا گیا لیکن سرکاری اخبارات کا کہنا ہے کہ  'ہنگامے' مغرب کی شہہ پر ہورہے ہیں۔

کسی بھی ملک میں غیر ملکی فوج آتی تو میزبان کی مرضی سے ہے لیکن اسے واپس بھیجنا اتنا آسان نہیں۔ افغانستان سے واپس جانے میں امریکی فوج کو 20 سال لگے اورجاتے جاتے امریکہ بہادر افغان اسٹیٹ بینک کی تجوری اپنے ساتھ لے گئے۔ عراق  میں امریکی فوج 2003میں آئی تھی اور اب تک وہاں موجود ہے۔ایسٹ انڈیا کمپنی تجارت کیلئے ہندوستان آئی اور ایک سو سال تک ملک پر قابض رہی۔ پتہ نہیں روسی فوج کتنا عرصہ قازقستان میں موجود رہیگی۔

عوام کی بدنصیبی کہ سونا اگلتی قازق سرزمین کے مالی وسائل حکمراں چٹ کرگئے، قومی و ملی اداروں کو دیمک بن کر کھوکھلا کیا اور ا ب دوامِ قتدار کیلئے ملک کے دروازے دشمنوں کیلیئے کھول دئے گئے۔ روسی فوج کیساتھ آرمینیا کے سپاہی بھی قازقستان  کی سڑکو ں پر گشت کررہے ہیں۔اٹھارہ ماہ پہلے نگورنوکارباخ میں تاتاروں اور آذربائیجان نے ترکوں کی مدد سے آرمینیائی فوج کو خاک چٹائی ہے اور آتشِ انتقام میں سلگتے یہ سپاہی اب قازق عوام سے اپنی ذلت آمیز شکست کا بدلہ لے رہے ہیں۔روسی فوج کی آمد کے بعد جمعہ کو  'شہریانِ ژان وژن' نے عوام سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ حکومت مخالفین کو ڈر ہے کہ مظاہرے جاری رہنے کی صورت میں CSTOافواج کو یہاں غیر معینہ مدت تک قیام کا بہانہ مل سکتا ہے۔ چین اور روس دونوں کی نظر قازقستان کے تیل اور معدنیات پر ہے۔

قازق فوج کے بعض سابق جرنیلوں نے خدشہ ظاہرکیا ہے کہ روسی کے جی بی اور چینی خفیہ ایجنسی قازق افواج پر جعلی دہشت گرد حملوں کا منصوبہ بنارہی ہیں۔ ان حملوں کا الزام افغان طالبان، چیچن مجاہدین، اراکان گوریلوں اور یغور چھاپہ ماروں پر ڈال کر چین اور روس کیلئے فوجی مداخلت کا جواز پیدا کیا جائیگا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 14 جنوری 2022

ہفت روزہ دعوت دہلی 14 جنوری 2022

روزنامہ  امت کراچی 14 جنوری 2022

ہفت روزہ رہبر سرینگر 16 جنوری 2022

رونامہ قومی صحافت لکھنو


 

Thursday, January 6, 2022

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات

نئے سال کے آغاز کیساتھ ہی امریکہ میں  وسط مدتی انتخابات کی مہم شروع ہوگئی جو8 نومبر کو ہونگے۔گنجلک طریقہ کار کی بناپر امریکہ میں انتخابی عمل کا دورانیہ ایک سال سے زیادہ ہے۔ یہاں پارٹی ٹکٹوں کا اجرا جماعتوں کے پارلیمانی بورڈ یا قیادت کی جانب سے نہیں ہوتا بلکہ جماعتی نامزدگی عام انتخابات کے ذریعے ہوتی ہے۔ دلچسپ بات کہ ٹکٹ کے حصول کیلئے جماعت کی رکنیت بھی ضروری نہیں۔ گزشتہ صدارتی انتخابات میں سینیٹر برنی سینڈرز ڈیموکریٹک پارٹی کی ٹکٹ کے خواہشمند تھے جبکہ موصوف نے ووٹر رجسٹریشن دستاویزات میں خود کو 'آزاد' درج کرایا ہوا ہے اور سینیٹ کا انتخاب بھی انھوں نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے جیتا تھا۔

پرائمری انتخابات میں ووٹ ڈالنے کیلئے بھی جماعتی رکنیت کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ ووٹر رجسٹریشن کے وقت پسندیدہ پارٹی کا نام لکھدینا کافی ہے۔ بہت سی ریاستوں میں تو یہ تکلف بھی نہیں، بلکہ پولنگ اسٹیشن پر آپ کسی بھی پارٹی کا بیلٹ پیپر لے سکتے ہیں۔پارٹی ٹکٹ کیلے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا مرحلہ کئی ریاستوں میں دسمبر کے دوران مکمل ہوچکا، باقی جگہ اس ماہ کی پندرہ تاریخ تک یہ کاروائی تکمیل کو پہنچے گی۔

 پرائمری انتخابات کا سلسلہ مارچ سے شروع ہوگا جب ٹکٹ کیلئے ووٹ ڈالے جائینگے۔ ہر ریاست اپنی سہولت کے مطابق پولنگ کادن طئے کرتی ہے اور یہ مرحلہ اگست کے آخرتک مکمل ہوگا۔ان انتخابات میں ٹکٹ کیلئے کم ازکم کم50 فیصد ووٹ لینا ضروری ہے اور اگر کوئی بھی امیدار مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے تو دوسرے مرحلے میں پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والے امیدواروں کے درمیان برہ راست مقابلہ ہوتا ہے۔ اس فیصلہ کن انتخاب کو runoff الیکشن کہا جاتا ہے

امریکہ پچاس ریاستوں پر مشتمل ایک وفاق ہے جہاں کرنسی، بین الاقوامی تعلقات اور دفاع کے علاوہ تمام اختیارات ریاستوں (صوبوں) کے پاس ہیں۔امریکہ کی تمام ریاستوں میں مقننہ کے انتخابات جُفت (even)سال کے پہلے پیر کے بعد آنے والے منگل کو ہوتے ہیں لیکن لوزیانہ(Louisiana) ، مسسی سپی (Mississippi)، نیوجرسی اور ورجنیا میں پارلیمانی انتخابات طاق (odd)سال میں کرائے جاتے ہیں ۔چنانچہ 8 نومبر کو 46 ریاستوں میں  پارلیمانی انتخابات  ہونگے۔اسی دن 36 ریاستوں اور  امریکہ کی تین کالونیوں گوام، شمالی جزائرِ ماریانہ اور ورجن آئی لینڈ میں گورنروں کا چناو بھی ہوگا۔

اسکے ساتھ ہی بہت سی ریاستوں میں مختلف اہم امور پر عوام کی رائےمعلوم کی جائیگی۔ اس مقصد کیلئے پرچہ انتخاب پر سوالات تحریر کئے جاتے ہیں جنکے  جوابات صرف ہاں یا نہ میں دئے جاسکتے ہیں۔ ان سوالات کو امریکہ کی پارلیمانی اصطلاح میں PROPOSITIONSکہا جاتا ہے۔

آنے والے انتخابات کی اہمیت اس اعتبار سے بہت بڑھ گئی ہے کہ 2020 کی مردم شماری کے بعد مختلف ریاستوں کیلئےمختص نشستوں کی تعداد میں کچھ فرق آیا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق اب امریکہ کی آبادی 33 کروڑ پندرہ لاکھ کے قریب ہے جو 2010 کی مردم شماری کے مقابلے میں 2 کروڑ 27 لاکھ زیادہ ہے یعنی گزشتہ دس سالوں میں امریکہ کی  آبادی 7.4فیصد بڑھ گئی۔ آبادی میں اضافے کیساتھ اس عرصے میں امریکی شہریوں نے ایک ریاست سے دوسری ریاستوں کی طرف نقل مکانی بھی کی جس سے ریاستی آبادی میں فرق آیا۔

امریکی پارلیمان دو ایوانوں پر مشتمل ہے۔ ایوان بالا یا سینیٹ میں تمام کی تمام پچاس ریاستوں کی نمائندگی مساوی ہے اور ہر ریاست کی نمائندگی دو سینیٹر کرتے ہیں۔ایوان نمائندگان (قومی اسمبلی) کی 534 نشستیں آبادی کے اعتبار سے تمام ریاستوں پر تقسیم کی گئی ہیں۔ ریاستوں کے مابین نقل مکانی اور آبادی میں اضافے سے  جو فرق آیا ہے اسکے مطابق

  • سات ریاستوں میں ایوان نمائندگان کی نشستیں ایک ایک کم ہوگئی ہیں۔ اس سات میں سے تین  ریاستیں ڈیموکریٹک پارٹی اور دو رپبلکن کا گڑھ ہیں۔ دو ریاستوں میں مقابلہ برابر کا ہے
  • پانچ ریاستوں میں ایک ایک نشست کا اضافہ ہوا ہے، جن میں سے تین ریپبلکن کی گرفت میں ہیں اور ایک ڈیموکریٹس کا قلعہ ہے۔
  • ٹیکسس (Texas)کو دو اضافی نشستیں ملیں ہیں۔یہاں ریپبلکن پارٹی کازور ہے لیکن اس ریاست میں ہسپانویوں، ایشیائیوں اور افریقی نژاد امریکیوں کے تناسب میں مسلسل اضافے سے ریپبلکن پارٹی کی گرفت کمزور ہورہی ہے۔

امریکہ میں انتخابات کا انتظام چونکہ ریاستوں کی ذمہ داری ہے اور وفاق کو مداخلت کا کوئی حق نہیں اسلئے مختلف ریاستوں میں حلقہ بندی، ووٹر رجسٹریشن اور ووٹ ڈالنے کے طریقہ کار بھی ایک جیسے نہیں اور اس ضمن میں کئی جگہ مطلوبہ نتائج کیلئے جماعتی مداخلت بہت واضح ہے۔صرف چھ ریاستوں میں ایوان نمائندگان کی حلقہ بندی کیلئے آزادوخودمختار کمیشن قائم کئے گئے ہیں جبکہ اکثر ریاستوں میں حلقہ بندی کا کام ریاستی مقننہ (صوبائی اسمبلی) کی ذمہ داری ہے۔اس وقت 19 ریاستوں کی مقننہ میں ریپبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے اور 8 میں ڈیموکریٹس غالب ہیں۔ حلقہ بندی کرتے وقت اپنی اکثریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس انداز میں حلقے تراشے جاتے  ہیں کہ مخالفین کے ووٹ بینک کو غیر موثر کیا جاسکے۔ اس حکمت عملی کو پارلیمانی اصطلاح میں Gerrymandering  کہتے ہیں۔

'مطلوبہ' نتایج کیلئے  ووٹنگ کے ضابطے بھی  کچھ اس طرح ترتیب دئے جاتے ہیں جس سے مخالف ووٹرپریشان ہوں۔اُن علاقوں میں پولنگ اسٹیشن کی تعداد کم اور فاصلے زیادہ رکھے جاتے ہیں۔ پولنگ کے اوقات کم کرکے ووٹ ڈالنے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ شناخت کیلئے دستاویز کی شرط بھی ایک حربے کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ سیاہ فام علاقوں کے رہائشیوں کیلئے پولنگ اسٹیشن ان مضافاتی علاقوں میں بنانا بہت عام  ہے جہاں بسیں (پبلک ٹرانسپورٹ) نہیں جاتیں۔ مضافات میں عام طور سے سفید فاموں کی اکثریت ہے جہاں جاتے ہوئے افریقی نژادامریکی اور اقلیتی ووٹر خوف محسوس کرتے ہیں۔گزشتہ صدارتی انتخابات کے  قبل از وقت ووٹنگ (early voting) مرحلے میں بہت سے پولنگ اسٹیشن چوبیس گھنٹہ کھلے تھے۔ بعض جگہ گاڑی میں بیٹھ کر ووٹ ڈالنے کی سہولت موجود تھی۔ اسی طرح ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کیلئے کوئی معقول وجہ بتانے کی ضرورت نہ تھی بلکہ ایک سادہ سی درخواست لکھ کر پرچہ انتخاب گھر پر منگایا جاسکتا تھا۔ نئی قانون سازی کے تحت کئی ریاستوں میں اب 24 گھنٹہ ووٹنگ کا انتظام ختم کردیا گیا ہے۔ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی سہولت معمر شہریوں تک محدود کردی گئی ہے۔ عام ووٹر کو پوسٹل بیلٹ منگانے کیلئے یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ روزِ انتخاب کسی 'ضروری' کام پر شہر سے باہر ہوگا۔

اس بار ایوان نمائندگان کیساتھ سینیٹ کی 34 نشتوں پر انتخابات ہونگے۔ ان میں سے 14 نشستیں ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کی مدت مکمل ہونے پر خالی ہورہی ہیں تو دوسری  طرف 20 ریپبلکن سینیٹروں کی مدت پوری ہورہی ہے۔ کچھ ایسا ہی حال گورنر کے انتخابات کا ہے۔ بیس ریاستوں میں ریپبلکن اور 16میں ڈیموکریٹک گورنر اپنی مدت پوری کررہے ہیں۔

اسوقت سینیٹ میں دونوں جماعتوں کی پارلیمانی قوت برابر ہے یعنی ہر ایک پارٹی کے 50 سینیٹر ایوان میں  براجمان ہیں۔ امریکی قانون کے تحت نائب صدر بر بنائے عہدہ سینیٹ کی سربراہ ہیں اور ووٹ برابر ہوجانے کی صورت میں فیصلہ کن یا tie-breakerووٹ ڈال کر اپنی پارٹی کی نیّاپار لگاسکتی ہیں۔ لیکن بائیڈن صاحب کے ساتھ ایک بڑی مصیبت یہ ہے کہ انکی پارٹی کے سینیٹر جو مینچن اور محترمہ کرسٹن سنیما نظریاتی اعتبار سے قدامت پسندوں کے ہمنوا ہیں اور  ہر کلیدی معاملے پر رائے شماری کے دوران یہ دونوں غیر جانبدار رہتے  ہیں۔ اسی بنا پر بائیڈن انتظامیہ کو قانون سازی میں سخت مشکل پیش آرہی ہے۔ ان دوسینیٹروں کے عدم تعاون کی وجہ سے بائیڈن انتظامیہ کیلئے منشور پر عملدرآمد ناممکن ہوگیا ہے اور اس تعطل سے عوام بددل ہورہے ہیں۔

واضح اکثریت کیلئے ایوانِ نمائندگان کی 221 نشستیں درکار ہیں اوراسوقت ایوان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کی تعداد 218 ہے۔ صدر بائیڈن چاہتے ہیں کہ آنے والے انتخابات میں اپنی تما م کی تمام 14 نشستوں کے تحفظ کیساتھ وہ سینیٹ کی کم ازکم دو نشستیں ریپبلکن پارٹی سے چھین لیں تاکہ قانون سازی کا عمل تیز ہو سکے۔ ساتھ ہی ڈیموکریٹک پارٹی ایوان نمائندگان پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ریپبلکن بھی غافل نہیں، انکا پورا زور جارجیا پر ہے جہاں 2019 کے ضمنی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے  سینیٹ کی دونوں نشستوں سے انھیں بے دخل کردیاتھا۔ اس بار اُن میں ایک پر انتخاب ہورہا ہے اور ہاتھیوں والے جارجیا کی نشست واپس لینے کیلئے پرعزم ہیں۔ اسی کیساتھ وہ ایوان نمائندگان گدھوں سے چھیننے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔ احباب کو یقیناً علم ہوگا کہ ہاتھی رییپبلکن پارٹی کا علامتی نشان ہے اور ڈیموکریٹس گدھے کے نشان سے پہچانے جاتے ہیں۔

رائے عامہ کے حالیہ جائزے صدربائیڈن کیلئے سخت مایوس کن ہیں۔کرونا سے بچاو کیلئے تن دوری (social distancing)سمیت جو احتیاطی تدابیر اختیار کی جارہی ہیں اسکی وجہ سے بندرگاہوں پر جہازوں سے سامان اتارنے اور لادنے کا کام چیونٹی کی رفتار سےہورہا ہے۔ امریکہ، چین اور یورپی یونین کی سب سے بڑی بندرگاہ روٹرڈیم (نیدرلیند) کی بندگاہوں پر جہازوں کی قطاریں لگی ہیں۔ اس غیر معمول بحری ٹریفک جام سے زنجیرِ فراہمی (supply chain) ٹوٹ گئی ہے اورتعطل کے نتیجے میں تیل اور اشیائے خوردنی سمیت تمام ضروری اشیا کی نقل و حمل متاثر ہورہی ہے۔کاروباری لاگت بڑھ جانےکی بنا پر کھلونے سے لیکر کار تک ہر چیزکی قیمت کو پر لگ گئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق یہاں افرطِ زر میں اضافے کی شرح گزشتہ تیس سال کا ریکارڈ توڑ چکی ہے۔

دوسری طرف قانون سازی میں رکاوٹ کی وجہ سے بائیڈن انتطامیہ، مہنگائی کی ماری عوام کو کوئی راحت بھی فراہم نہیں کرسکتی۔ حکومت نے معیشت کے پہیے کو حرکت دینے کیلئے سڑکوں ، پلوں ، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کی تعمیر اور دیہاتوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ کیلئے build back betterکے عنوان سے کئی کھرب ڈالر کا ایک منصوبہ پارلیمان کو بھیجا ہے لیکن ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر جو مینچن کی مخالفت کی وجہ سےیہ بل اب تک رائے شماری کیلئے پیش ہی نہیں ہوا۔ وجہ کچھ بھی ، عام لوگ مہنگائی اور اشیا کی عدم دستیابی کا ذمہ دار صدر بائیڈن کو قرار دے رہے ہیں۔

آنے والے وسط مدتی انتخابات سابق صدر ٹرمپ کیلئے بہت اہم ہیں۔ سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ وہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں ایک بار پھر قسمت آزمائی کی خواہش رکھتے ہیں اورقدامت پسند امیدواروں کے حق میں تحریک چلاکر  اپنی مقبولیت کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔گزشتہ انتخابات میں شکست کے باوجود ڈانلڈ ٹرمپ ریپبلکن پارٹی میں خاصے مقبول ہیں۔ دلچسپ بات کہ نصف کے قریب ریپبلکن کواب بھی یقین ہے کہ 2020 کے انتخابات میں صدر ٹرمپ کو جھرلو پھیر کر ہرایا گیا ہے۔دوسری طرف 6 جنوری کے ہنگامے کی تحقیقات کرنے والے پارلیمانی کمیشن کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ اس 'بغاوت' کے سرغنہ تھے۔ اگر یہ الزامات ثابت ہوگئے تو سابق صدر پر مقدمہ چل سکتا ہے۔

بظاہر ایس لگ رہا ہے کہ معاشی پریشانی،  مہنگائی اور  قانون سازی میں تعطل کی بنا پر وسط مدتی انتخابات کے نتائج صدر بائیڈن کیلئے ناخوشگوار ہونگے۔عددی اکثریت کے باوجود نظریاتی کشکمش کی بنا پر ڈیموکریٹک پارٹی سینیٹ  میں عملاً ایک اقلیتی جماعت ہے۔اس تناظر میں اگر ریپبلکن پارٹی ایوان نمائندگان سے حکمراں جماعت کی بالادستی ختم کرنے میں کامیاب ہوگئی تو اپنے اقتدار کے آخری دوسالوں میں بائیڈن انتطامیہ مفلوج ہوکر رہ جائیگی اور یہی 2024 کی صدارتی انتخابی مہم کیلئےریپبلکن پارٹی کی حکمتِ عملی معلوم ہوتی ہے۔

تاہم ابھی ان اتتخابات میں دس مہنیے باقی ہیں یعنی انتخابات کے پلِ صراط کے نیچے سے ابھی بہت سا پانی بہنا ہے۔ موسم اور مزاجِ یار کی طرح نیرنگی سیاست کے اپنے ہی رنگ ڈھنگ  ہیں اور اس باب میں تیقن سے کچھ کہنا ممکن و مناسب نہیں۔ ابھی تو دونوں جانب کے جغادری ٹکٹ کے حصول کیلئے ایک دوسرے کے سر بلکہ گردنوں پر سوار ہیں۔ ' سیاسی خانہ جنگی'کی گرد بیٹھنے  کے بعد ہی حقیقی صورتحال سامنے آئیگی۔     

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 7 جنوری 2022

ہفت روزہ دعوت دہلی، 7 جنوری 2022

روزنامہ امت کرچی، 7 جنوری 2022

ہفت روزہ رہبر سرینگر 9 جنوری 2022

روزنامہ قومی صحافت لکھنو