Friday, June 14, 2024

امریکہ کی مدد سے چار قیدیوں کی بازیابی آتھ ماہ کے دوران غزہ پرسو فضائی حملے یومیہ سفید فاسفورس کا استعمال

 

امریکہ کی مدد سے چار قیدیوں کی بازیابی ۔۔ آتھ ماہ کے دوران غزہ پرسو فضائی حملے یومیہ ۔۔ سفید فاسفورس کا استعمال

اس ہفتے کی سب سے اہم خبر ، وسطِ غزہ کے علاقے  نصیرات سے ایک خاتون سمیت چار اسرائیلی قیدیوں کی بازیابی ہے۔ ہفتہ 8 جون کو امدادی سامان سے لدے  ٹرکوں میں بھیس بدل کر اسرائیلی چھاپہ مار وہاں آئے۔ بھوکے پیاسے لوگ امداد کیلئے دوڑے اور وہ گھر جہاں قیدی رکھے گئے تھے اسکی حفاظت پر تعینات کچھ مزاحمت کار بھی امدادی سامان لینے والوں کی قطار میں لگ گئے۔ اسرائیلیوں کو اسی موقع کا انتظار تھا۔ 'امداادی کارکنوں' نے مشین گنوں سے مجمع کو بھون دیا۔نصرت کیلئے آنے والے ڈرونوں نے تاک تاک کر نہتے لوگوں کو نشانہ بنایا۔ اس دوران چاروں قیدی گھر سے باہر آگئے جنھیں اسرائیلی فوج کے خصوصی دستے نے اپنی حفاظت میں لے لیا۔جسکے بعد فضا میں بمبارگرجے اور پورے علاقے کو ملبے کا ڈھیر بنادیا گیا۔ اس کاروائی میں 249 شہری مارے گئے۔ ایسوسی ایٹیڈ(AP)کے مطابق 23بچوں اور 11خواتین سمیت 200لاشیں اسپتال لائی گئی جبکہ درجنوں افراد ملبے  تلے دبے ہوئے ہیں۔

مستضعفین اور عرب حلقے الزام لگارہے ہیں کہ قیدیوں کو چھڑانے کیلئے اسرائیلی فوج کے ہیلی کاپٹر نے غزہ کے ساحل پر امریکہ کی تعمیر کردہ عارضی بندرگاہ (Piers)سے اڑان بھری تھی۔ یہ بندرگاہ امدادی سامان کیلئے تعمیر کی گئی ہے۔ عرب میڈیا کے جاریکردہ ایک بصری تراشے میں ہیلی کاپٹر کواامریکی ساخٹہ بندرگاہ سے اڑتا دکھایا گیاہے۔ فلسطینی ذرایع کے مطابق یہ بندرگاہ  غزہ کے شہریوں پر گولہ باری کیلئے بھی استعمال ہورہی ہے۔امریکہ کی مرکزی کمان نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بندرگاہ کا امدادی سامان کی ترسیل و تقسیم کے سوا اور کوئی مصرف نہیں۔

اس عظیم کامیابی پر اسرائیل اور امریکہ میں جشن بپا پے۔ اسرائیلی محکمہ سرغرانی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مکان کی نشاندہی امریکہ نے کی اور اسی اطلاع کو بنیاد بناکر آپریشن کیا گیا، جو اسرائیلی نقطہ نظر سے بہت کامیاب رہا۔ یہ اور بات کہ چار افراد کو چھڑانے میں ڈھائی سو  فلسطینی مارے گئے لیکن خونِ خاک نشیناں کس شمارو قطار میں؟۔ کاروائی میں اسرائیلی فوج کا ایک افسر بھی مارا گیا۔

اس کامیابی سے اسرائیل کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں اور وزیراعظم نیتھن یاہو نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے قیدی معاہدہ امن سے  نہیں دشمن کی بربادی سے ہی رہا ہونگے۔ مزاحمت کاروں نے اس آپریشن پر رد عمل میں کہا کہ فرار ہوتے قیدیوں کو ہلاک کردنیا کچھ مشکل نہ تھا لیکن ہمارا عقییدہ زیرحراست افراد کو قتل کرنے کیا اجازت  نہیں دیتا۔ قطر سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے ہمارے تحمل کو کمزوری نہ سجھا جائے اور مستضعفین کسی ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کرینگے جس میں اسرائیلی فوج کی پسپائی، فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور مستقل جنگ بندی کی  بین الاقوامی ضمانت شامل نہ ہو۔

سات جون کو غزہ پر جاری بموں کی موسلادھار بارش کے آٹھ ماہ  مکمل ہوگئے۔ سات کلومیٹر چوڑی اور 21 کلومیٹر لمبی اس پٹی پر 244دن سے آگ برس رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم HRWنے اپنے اس الزام کو دہرایا کہ اسرائیل لبنان اور غزہ پر بمباری میں سفید فاسفورس استعمال کررہا ہے۔ اس سریع الاشتعال مادے سے بھڑکنے والی آگ کی 800 ڈگری سینٹی گریڈ حرارت، فولاد پگھلانے کیلئے کافی ہے۔ جنیوا کنونشن کے تحت شہری آبادیوں پر سفید فاسفورس کا استعمال ممنوع ہے۔ ایح آر ڈبلیو کا کہنا ہے کہ تحقیقات کےدوران انھیں کم از کم 19 مقامات پر سفید فاسفورس کے شواہد ملے ہیں۔ یعنی جس حرارت پر فولاد پانی ہوجائے اسکا سامنا پھول سے بچے کررہے ہیں۔

سب بلاوں کا ہے جہاں سے نزول ۔۔ یہ بلا بھی وہیں سی آئی ہے

دوسرے مہلک ہتھیاروں کی طرح اسرائیل کو 'انسانیت سوز' سفید فاسفورس بھی چچا سام فراہم کرتے ہیں

بچے کھچے شفاخانے اور تعلیمی ادارے اسرائیلی بمباروں کا خاص نشانہ ہیں۔ پانچ جون کو وسطی غزہ کے علاقے نصیرات میں اقوام متحدہ کے زیرنگرانی چلنے والے اسکول کو نشانہ بنایا گیا جس میں بچوں سمیت 27 افراد جاں بحق ہوگئے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ اسکول کے کمپاونڈ میں رکھا ایک کنٹینر دہشت گردوں کا اڈا تھا جسے نشانہ بنایا گیا اور شہری ہلاکتیں بالواسطہ و غیرارادی نقصان ہے۔ افغانستان میں معصوم جانوں کے زیاں کو امریکہ بہادر بہت معصومیت سے Collateral Damageکہا کرتے تھے۔

غزہ میں وحشیانہ کاروائیاں اب عالمی سطح پر مذمت کا نشانہ بن رہی ہیں۔اقوام متحدہ نے بچوں کے قتل عام پر اسرائیل  کو List of Shame کی زینت بنادیا۔اسکا اعلان کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے معتمد عام انتونیو گچیرس نے کہا کہ غزہ میں بچوں کا قتل عام ناقابل برداشت اور متحارب فریقوں کیلئے شرم کا باعث ہے۔ غیرجانبداری کابھرم رکھنے اور موذیوں کو منہہ بند کرنے کیلئے  شرمناک فہرست میں مزاحمت کاروں کا نام بھی ٹانک دیا گیا۔ ماضی میں روس، افغانستان، عراق، شام، صومالیہ اور یمن کا نام شرمناک فہرست پر ڈالا جاچکاہے۔

اقوام عالم کے ردعمل کا گلا گھونٹنے  کیلئے امریکہ مزید مستعد ہوگیا ہے۔جنوبی افریقہ کی درخواست پر عالمی فوجداری عدالت (ICC)کی جانب سے غزہ نسل کشی کی تحقیقات واشنگٹن کو پسند نہیں اور عدالت کے مستغٰیث (Prosecutor)نے تفتیش کیلئے اسرائیلی وزیراعظم، وزیر دفاع اور عسکری سربراہ کے پروانہ گرفتاری جاری کرنے کی جو استدعا کی ہے اس نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ منگل 4 جون کو امریکی ایوانِ نمائندگان (قومی اسمبلی) نے ایک مسودہ قانون (بل) منظور کرلیا جسکے تحت عدالتی اہلکاروں پر پابندی لگانے کا عزم ظاہر کیا گیاہے۔ اسکے علاوہ امریکہ میں عدالت کے اثاثوں، مفادات کے لین دین اور نقل و حمل کیلئے بھی خصوصی اجازت درکار ہوگی۔ یہ بل 155 کے مقابلے میں 247 ووٹوں سے منظور ہوا اور 205 قدامت پسند ریپبلکن ارکان کے ساتھ ڈیموکریٹک ہارٹی کے 42 روشن خیالوں نے بھی اس کی حمائت میں ہاتھ بلند کئے۔

دوسری طرف چلی اور میکسیکو کے بعد اسپین نے  عالمی عدالت کے مقدمے میں فریق بننے کا اعلان کیا ہے۔ اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے ہسپانوی وزیر خارجہ ہوزے مینوئل الباریس نے کہا  کہ انکا ملک نسل کشی کے اس مقدمے میں فریق بننا چاہتا ہے۔اسپین اس کیس میں شامل ہونے والا پہلا یورپی ملک ہے۔

کولمبیا  نے اسرائیل کو کوئلے کی فراہمی بند کردی ہے۔اسرائیل کو کولمبین کوئلے کی برآمد کا حجم  32 کروڑڈالر سالانہ ہے جو اس چھوٹے سے ملک کیلئے معمولی  رقم نہیں۔ملک کے صدر گستاوو پیدرو نے کہا کہ اہلِ کولمبیا غزہ نسل کشی پر دلگرفتہ ہیں اور ہم نہتے بچوں اور عورتوں کو قتل کرنے والوں سے معمول کے تجارتی تعلقات نہیں رکھ سکتے۔

جہاں تک بائیڈن امن معاہدے کا تعلق ہے تودس بارہ دن گزرجانے کے باوجود کوئی عملی پیشرفت نظر نہیں آئی اور چار قیدیوں کی بازیابی کے بعد یہ معاملہ خاصہ پیچھے چلاگیا ہے۔ فتح کے نشے میں چور اسرائیل نے غزہ کے طول و عرض میں بمباری کی نئی مہم شروع کردی ہے۔ فضا سے آتش و آہن کی بارش کیساتھ ٹینکوں اور بحیرہِ احمر سے بھی میزائیل برس رہے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہر طرف شعلہ و دھواں اور سڑکوں پر لاشیں بکھری ہیں۔ زخمیوں کی چیخوں سے آسمان پھٹتا محسوس ہورہا ہے۔

امن کے بارے میں اسرائیلی حکومت کے اتحادی بھی یکسو نہیں۔ وزیراعظم نیتھن یاہو کے اتحادی حریدی قدامت پسندوں کی جماعت توریت (UTJ)پارٹی نے بائیڈن امن فارمولے کی حمائت کا اعلان کیا ہے۔پارٹی قیادت نے ایک بیان میں کہا کہ قیدیوں کی رہائی ہماری  سب سے پہلی ترجیح اور انکی محفوظ واپسی کی ضمانت دینے والا ہر معاہدہ UTJ کیلئے قابل قبول ہے۔ تاہم عظمت یہود اور دینِ صیہون (RZP-Otzma) جماعتیں مُصر ہیں کہ مستضعفین کی مکمل بربادی سے پہلے جنگ بندی نہیں ہوگی۔ اس گروہ کے پاس کنیسہ کی 14 نشستتیں ہیں یعنی ترپ کا پتہ انکے پاس ہے۔اس معاملے میں انتہا پسند کسی رعائت و درگزر یا رواداری کے قائل نہیں۔ بیک وقت  عبرانی، انگریزی اور عربی میں شایع ہونے والےاخبار  روزنامہ الارض (Haaretz)نے امن معاہدے کے حق میں اداریہ لکھا تو تل ابیب میں اسکے دفتر کے شیشے توڑ دئے گئے۔

قوم پرستی کے نعروں اور حب الوطنی کی ہاہاکار کے علی الرغم حکومتی حلقوں میں بیچینی رنگ دکھانا شروع ہوگئی ہے۔اسرائیلی حزب اختلاف کی ماہانِ مملکت (ریاستی مورچہ) المعروف نیشنل یونٹی پارٹی، ہنگامی کابینہ سے الگ ہوگئی۔ غزہ پر حملے کے بعد قومی یکجہتی کے اظہار کیلیے پارٹی کے قائد اور فوج کے سابق سربراہ بینی گینٹز نے وزیراعظم اور وزیردفاع پر مشتمل عبوری ہنگامی کابینہ میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ ایک اور سابق جرنیل غادی الائزنکوٹ، وزیر تزویراتی امور ران ڈرمر اور پاسبانِ توریت یا Shasپارٹی کے سربراہ آریا دری کو اس تین رکنی ہنگامی کابینہ میں مبصر کا درجہ حاصل ہے۔ نو جون کی صبح صحافیوں سے باتیں کرتے ہوے جناب گینٹز نے کہا کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے اسرائیل کو "حقیقی فتح" تک پہنچنے سے روک دیا ہے اور وہ اپنے ذاتی سیاسی مفادات کیلئے عسکری کوششوں کو نقصان پہنچارہے۔ موصوف گلوگیر لہجے میں بولے کہ ہمارے بچے گرم خون بہارہے ہیں اور بی بی کو اپنی کرسی بچانے کی پڑی ہے۔ اس تناظر میں میرے لئے ساتھ چلنا ممکن نہیں۔

نیتن یاہو نے جناب گینٹز کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹر پر لکھا، "بینی، یہ پسپائی کا نہیں بلکہ محاذ پر عزم کیساتھ کھڑے رہنےکاوقت ہے۔

بدترین سینسر کے باجود غزہ مظالم کی خبریں کسی نہ کسی شکل میں دنیا ے سامنے آرہی ہیں لیکن اسی نوعیت کی قیامت غرب اردن پر  بھی برپا ہے۔ گزشتہ ہفتے  نابلوس پر اسرائیلی فوج کے دھاوے میں بہت سے فلسطینی جاں بحق ہوئے اور درجنوں نوجوان گرفتار کرلئے گئے۔ اسرائیلی فوج مظاہرین کے تعقب میں جوتوں سمیت حضرتِ یوسف ؑ کے مزار میں گھس گئی۔ اس مزار کے بارے میں مورخٰین کو تحفظات ہیں، اسلئے کہ حضرت یوسفؑ کا انتقال اور تدفین مصر میں ہوئی تھی۔ یہودی روایات کے مطابق مصر سے ہجرت کرتے ہوئے حضرت موسیؑ نے جناب یوسف ؑ کی باقیات کا کچھ حصہ بطور تبرک اپنے ساتھ رکھ لیا تھا جسے نابلوس کے قریب بلاطۃ البلد میں دفن کیا گیا جو قبرِ یوسفؑ کے نام سے مشہور ہے۔ غرب اردن کے شہر اریحا(Jericho)کی خیمہ بستی عقبة جبر بھی جبر کا نشانہ بنی۔ گھر گھر تلاشی کے دوران خواتین سے بدتمیزی پر نوجوان مشتعل ہوگئے اور دست بدست لڑائی میں دواسرائیلی فوجی مارے گئے۔انتقام میں ٹینکوں سے گولہ باری کی گئی جس سے کئی رہائشی عمارتیں تباہ اور متعدد نوجوان جاں سے گئے

ادھر امریکی جامعات فلسطین کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں خلاف بھرپور انتقامی کاروائیاں کررہی ہیں۔ ملک کی انتہائی موقر جامعہ اسٹینفرڈ (Stanford)نے 12 طلبہ اور مظاہرہ کی فلمبندی کرنے والے ایک صحافی کے خلاف مجرمانہ (felony)سرگرمی کا پرچہ کٹوادیا۔عدالت سے ضمانت منظور ہوجانے پر بھی یہ طلبہ جامعہ نہیں آسکیں گے اور نہ کامیاب طلبہ کو سند جاری ہوگی۔

آٹھ ماہ سے جاری بمباری و گولہ باری کے باوجود اہل غزہ کی مزاحمت جاری ہے۔ پٹی پر اسرائیلی کنٹرول کے دعووں کی قلعی اسوقت کھل گئی جب 5 جون کو چار پیادہ  مزاحمت کار رفح سے غزہ کے گرد بنی ٹینکوں اور بکتر بند کاڑوں کی آہنی دیوار عبور کرکے اسرائیلی فوج کی پشت پر پہنچ گئے۔ اسرائیل نے حملے میں اپنے ایک سپاہی کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے۔ حملے میں کئی فوجی زخمی ہوئے۔ ان چار لڑکوں سے لڑنے کی اسرائیلی فوجیوں میں ہمت نہ تھی چنانچہ ابھیں ڈرونوں سے نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی فوج کے اعلامئے میں کہا گیا ہے کہ تین 'دہشت گرد' جاں بحق ہوگئے جبکہ چوتھے کی تلاش جاری ہے۔ انھیں کاروائیوں کی بنا پر قومی سلامتی کیلئے اسرائیلی وزیراعظم کے مشیر ذکی حینیبی( Tzachi Hanegbi) نے گزشتہ ہفتے کہا کہ مستضعفین کا مکمل خاتمہ دسمبر سے پہلے ممکن نہیں۔

آخر میں ایک مظاہرے پر گفتگو کا اختتام۔

تین جون کو تل ابیب میں انسداد بیرحمی حیوانات” کیلئے مظاہرہ کیا گیا۔ ان روش خیالوں کو کوشر (حلال) ذبیحہ، جانوروں پر ظلم محسوس ہوتا ہے۔ مظاہرین نے جانوررں کا قتل عام بند کرواور کوشر ذبیحہ پر پابندی لگاو کے فلک شگاف نعرے لگائے۔یہ مظاہرہ اس ملک کے باشندوں نے کیا جو آٹھ ماہ سے شہری علاقوں پر یومیہ سو سے زیادہ فضائی حملے  کررہا ہے۔کاش یہ لوگ غزہ کے Gentilesکو حیوان ہی تسلیم کرلیں

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 14 جون 2024

ہفت روزہ دعوت دہلی 14 جون 2024

روزنامہ امت کراچی 14 جون 2024

ہفت روزہ رہبر سرنگر 16 جون 2024


Thursday, June 13, 2024

بھارتی انتخابات ۔۔ چارسو پار کرنے کا دعویٰ لیکن 272 بھی پار نہ ہوسکا

 

 بھارتی انتخابات ۔۔ چارسو پار کرنے کا دعویٰ  لیکن 272 بھی پار نہ ہوسکا

تہتر سالہ نریندرا مودی نے 9 جون کو جے شری رام کی گونج میں تیسری مدت کیلئے وزیراعظم کا حلف اٹھالیا۔ جواہر لال نہرو کے بعد تیسری مدت کیلئے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے والے یہ دوسرے فرد ہیں۔ تقریب میں  سری لنکا اور مالدیپ کے صدور، ماریشس، نیپال، بھوٹان اور بنگلہ دیش کے وزرائے اعظم سمیت 9000 مہمانوں نے شرکت کی۔اسی کیساتھ انکی 72 رکنی کابینہ بھی تشکیل پاگئی جس میں 30 وفاقی وزرا، 5 خصوصی اختیارات کے حامل وزرائے مملکت اور 36 وزرائے مملکت شامل ہیں۔کابینہ کے 11 ارکان کا تعلق اتحادی جماعتوں سے ہے۔

بھارتی لوک سبھا (قومی اسمبلی) کے انتخابات میں جناب مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی 240 کیساتھ پہلے نمبر پر ہے، کانگریس کے حصے میں 99 نشستیں آئیں۔گزشتہ انتخابات میں BJPکو 303 اور2014 میں جب مودی صاحب پہلی باروزیراعظم بنے اسوقت ایوان میں بی جے پی کےارکان کی تعداد282 تھی۔ گزشتہ انتخابات میں کانگریس کو 52 نشستیں ملی تھی۔انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا تناسب 65.79فیصد رہا جو گزشتہ انتخابات سے 1.61 فیصد کم ہے۔ مجوعی طور پر 31 کروڑ خواتین سمیت 64 کروڑ 20 لاکھ ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ااور س اعتبار سے یہ دنیا کی سب سے بڑی انتخابی مشق تھی۔ساات مراحل میں ہونے والے یہ چناو 19 اپریل کو شروع ہوکر یکم جون کو ختم ہوئے۔

 ہریانہ، راجھستان ، یوپی اور مغربی بنگال میں حکمراں جماعت کی کارکردگی اچھی نہیں رہی۔ ہندوستانی ایوان 453 ارکان پر مشتمل ہے اور 'ابکی بار چار سو کے پار' کا نعرہ لگانے والے نریندرا مودی،  حکومت سازی کیلئے  272 کے مطلوبہ نشان تک بھی نہ پہنچ سکے۔تاہم انکے قومی جمہوری اتحاد(NDA)نے 293نشستیں جیت کر مودی جی کیلئے تیسری بار وزیراعظم بننے کی راہ ہموار کردی۔ کانگریس کی قیادت میں بننے والے اتحاد INDIAکے حصے میں 234 نشستیں آئیں جبکہ 17 نشستوں پر دیگر جماعتیں اور آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔

سات جون کو NDA کے قائدین نے وزرات عظمیٰ کے لئے نریندرا مودی کے نام پر رضامندی ظاہر کردی تھی جسکے بعد ہندوستان کی صٖدر شریمتی دروپڑی مرمو نے مودی صاحب کا  منہہ میٹھا کرکے انھیں حکومت سازی کی دعوت دیدی۔

بی جے پی کی خراب کارکردگی نے  بھارتی سرمایہ کاروں کو بے حد مایوس کیا اور بازار حصص میں شدید مندی کی بنا پر NIFTY-50اشاریہ 20 ہزار پواننٹ گرگیا۔ امبانی اور دوسرے روسا کے لاڈلے ، نریندرا مودی نے بھاری اکثریت سے کامیابی کی توقع پر 5جون کو بازار حصص میں 'تاریخی اچھال' کی پیشن گوئی کی تھی۔

جناب مودی کو حکومت سازی میں تو کوئی مشکل پیش نہیں آئی لیکن  وہ کرسی برقرار رکھنے کیلئے اپنے بڑے اتحادیوں تیلگو دیشم پارٹی، بہار کی جنتا دل اور مہاراشٹر کی شیوسینا کے ساتھ اپنی جماعت کے انتہا پسندوں کے رحم وکرم پر رہینگے۔ جسکے آثار ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

نریندرا مودی اور انکے معتمد امیت شاہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ وقت پڑنے پر پیر اور وقت گزرجانے پر گلا پکڑ لیتے ہیں۔ نتائج کے اعلان کے بعد شیو سینا کے سینئر رہنما اروند سوانت نے تلگو دیشم پارٹی کے سربراہ  چندرابابو نائیڈو اور جنتا دل کے سربرہ نتیش کمار کو متنبہ کیا کہ 'آمر' کیلے سیج اقتدار سجاتے وقت چندرابابو اور کمار جی وہ وقت نہ بھولیں جب نریندرا انکی مدد کے بغیر وزیر اعظم بنے تھے۔ اروند سوانت نے کہا کہ اب جب 400 کے پار کا نشہ اتر گیا ہے، مودی جی تلخ و ترش کے بجائے کانوں میں شیرینی انڈیل رہے ہیں۔سیوا کے قائد ٹھاکرے نے این ڈی اے اور انڈیا دونوں اتحادوں کے پارلیمانی اجلاسوں میں شرکت کی  لیکن خود جانے کے بجائے انھوں نے اپنے نمائندے  بھیجے۔

شیو سینا کے رہنما سنجے راوت نے انڈیااتحاد اجلاس سے پہلے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ نریندرا مودی کو یہ اخلاقی شکست تسلیم کرلینی چاہئے، عوام نے انھیں حقِ حکمرانی (مینڈیٹ)  نہیں دیا اور مودی برانڈ اب پِٹ چکا۔ انھوں نے کہا کہ وہ آٹوکریٹ (آمر) مودی کے بجائے ڈیموکریٹ راہول گاندھی کو وزیراعظم دیکھنا زیادہ پسند کرینگے۔ پارلیمانی حجم کےاعتبار سے شیو سینا، NDAکی چوتھی بڑی جماعت ہے۔

چائے کی ییالی میں طوفان اٹھانے کے بعد شیو سینا نے نریندرا مودی کو اعتماد کا ووٹ دینے کا اعلان کردیا جسکی وجہ سے حکومت سازی کیلئے  وزیراعظم مودی کو چھوٹی جماعتوں کے مزید ناز اٹھانے کی ضرورت پیش نہ آئی۔ حمائت کے تحریری وعدے کے ساتھ ہی تیلگو دیشم اور بہار کی جنتا دل نے  'فرمائشوں' کی فہرست ترتیب دینی شروع کردی ہے۔ چندرابابو نائیڈو،  آندھرا پردیش ریاست کیلئے خصوصی حیثیت (Special Status)کا مطالبہ رہے ہیں اور جنتا دل کے قائد نتیش کمار کچھ ایسی ہی سہولت بہار کیلئے چاہتے ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق چندرا بابو نے آندھرا پردیش میں نظامِ آبپاشی و آبنوشی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے اربوں روپئے کی وفاقی گرانٹ کیلئے درخواست تیار کرلی ہے۔کابینہ میں بھی ان جماعتوں کو حصہ بقدر جثہ کی توقع ہے۔ تیلگو دیشم اسپیکر کی مسند کی خواہشنمند ہے جبکہ نتیش کمار کی نظر اہم وزارتوں پر۔دوسری جانب بی جے پی کے پارلیمانی اجلاس میں یہ بات کہدی گئی ہے کہ وزارت دفاع، وزارت خرانہ، وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کسی دوسری جماعت کو نہیں دی جائیگی۔

کانگریس کو بی جے پی کی پریشانیوں کا احساس ہے اور راہول گاندھی NDAکی جماعتوں سے رابطے میں ہیں۔ کسی بھی جگہ حکومت کیلئے انتخاب میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہے کہ پیچیدہ اور گنجلک عالمی تناطر میں عوام کی توقعات پر پورا اترنا آسان نہیں۔ تبدیلی کی فطری خواہش حزب اختلاف کیلئے نرم ہوا کے ہلکے تھپیڑے ثابت ہوتے ہیں لیکن ہندوستان کے انتخابی نتائج نریندرا مودی کی آمرانہ طرزِ حکمرانی پر عوامی ردعمل کا اظہار ہے۔ نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا 'ہمارا مقابلہ صرف بی جے پی سے نہیں تھا بلکہ الیکشن کمیشن، سراغرساں ادارے، پولیس اور بازار حصص پر قابض مافیا بھی ہندوستانیوں کے سامنے صف آرا تھا۔ کانگریس کی جوانسال رہنما ل شریمتی کماری شیلجا نے پر امید لہجے میں کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو ’ٹریلر‘ دکھانے والے عوام ریاستی انتخابات میں پوری پکچر دکھائیں گے

وزیراعظم نریدرا مودی کی نئی مدت اس طنطنے سے محروم ہوگی جسکا مشاہدہ دنیا2014 سے کررہی ہے کہ اقتدار کی  لگام پر اس بار انکے اتحادیوں کا بھی ہاتھ ہوکا۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 14 جون 2024


 

Friday, June 7, 2024

غزہ امن کیلئے صدر بائیڈن کی امن تجاویز اعتراف شکست اور تکبر کی گھونگھٹ، امدادی سرگرمیوں میں دو نمبری جھوٹ کا بھانڈا چوراہے پر پھوٹ گیا

 

غزہ امن کیلئے صدر بائیڈن کی امن تجاویز

اعتراف شکست اور تکبر کی گھونگھٹ، امدادی سرگرمیوں میں دو نمبری

 جھوٹ کا بھانڈا چوراہے پر پھوٹ گیا

دو سو اڑتیس دن کی مسلسل بمباری اور غزہ کو کھنڈر بنا دینے کے بعد مستکبرین اس نتیجے پر پہنچے  ہیں کہ قتلِ عام جیسے 'نیک کام' کے اختتام کا وقت آچکا ہے۔ جی ہاں 31 مئی کو امریکی صدر بائیڈن نے  قصرِ مرمریں میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا غزہ جنگ کا righteous مقصد مزاحمت کاروں کی قوت کو اس حد تک کمزور کرنا تھا کہ وہ دوبارہ 7 اکتوبر جیسا حملہ نہ کرسکیں۔ اب چونکہ یہ مقصد حاصل ہوچکا ہے اسلئے جنگ بند ہوجانی چاہئے'

انھوں نے تین مرحلوں پر محیبط قیامِ امن کی جو تجویز پیش کی وہ کچھ اسطرح ہے:

  • پہلامرحلہ: چھ ہفتے کے دوران اسرائیلی فوج کی واپسی، غزہ میں قید بیمار، ضعیف و خواتین اوراسرائیلی عقوبت کدوں سے فلسطینیوں کی رہائی
  • دوسرا مرحلہ: تمام زندہ قیدیوں کی رہائی
  • تیسرا مرحلہ: غزہ کی تعمیر نو کا آغاز اور مرجانے والے قیدیوں کی باقیات کی اسرائیل حوالگی

اپنے امن فارمولے کے متوقع دوررس نتائج کا تجزیہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'معاہدے سے تمام قیدیوں کی بحفاطت واپسی اور اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنایا جاسکے گا۔ مزاحمت کاروں سے نجات کے بعد نہ صرف غزہ خوش و خوشحال ہوگا بلکہ پائیدار امن اور سب کیلئے قابل قبول تصفیے کے نتیجے میں اسرائیل و فلسطین کے بہتر مستقبل کی راہ ہموار ہوجائیگی'

بچوں اور خواتین کے قتل عام کو 'نیک مقصد' ایک انتہائی سنگدل شخص ہی قرار دے سکتا ہے۔ تاہم یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ جنگ عراق کے دوران امریکہ کے وزیردفاع ڈِک چینی خلیج میں ایک امریکی اڈے پر پہنچے جہاں عراق کو نشانہ بنانے کیلئے طیاروں پر بم لادے جارہے تھے۔ چینی صاحب نے ایک بم پر سیاہ مارکر سے With Loveلکھدیا اور اپنی تحریر پر انگلی رکھ کر فاتحانہ قہقپہ لگایا۔ چنگیز و ہلاکو سپاہِ دشمن کی کھوپڑیوں سے مینار تعمیر کرتے تھے۔ان وحشیوں نے بھی شہری ہلاکتوں کو کبھی 'نیک' نہ جانا۔

شیخی و لن ترانی سے قطع نظر صدر بائیڈن کی تقریر شکست کا اعتراف اور امن فارمولا لاڈلے کو واپسی کیلئے 'باعزت راستہ' دینے کے کوشش سے زیادہ کچھ نہیں کہ خواتین و بچوں کے قتل عام اور غزہ کو ناقابل رہائش بنادینے کے باوجود اسرائیل 34 ہفتوں کے دوران اپنا ایک بھی عسکری ہدف حاصل نہ کرسکا۔وزیراعظم نیتھن یاہو بار بار کہہ رہے تھے کہ ر فح مزاحمت کاروں کا آخری ٹھکانہ ہے، انکی عسکری قیادت وہیں چھپی ہوئی ہے اور اسرائیلی قیدی بھی ر فح کی سرنگوں میں بند ہیں۔ جرنیلوں نے یقین دلایا تھا کہ اگر اسرائیلی فوج ر فح داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی تو قیدیوں کو ہم بزورِ طاقت چھڑالیں گے۔ حملے کے آغاز پر اسرائیل نے ر فح کو مصر سے ملانے والی راہداری Philadelphi Corridorروٹ پر مکمل قبضے کا دعوی کیا تھا۔جرنیلوں کے خیال میں یہ پٹی اہل غزہ کیلئے آکسجن کی نالی ہے۔ ر فح آپریشن میں سینکڑوں شہریوں کو زندہ جلادیا گیا اور یہ وحشت بلا وقفہ جاری ہے لیکن اب تک کوئی قیدی بازیاب ہوا، نہ کوئی مطلوب رہنما قتل ہوسکا۔ بچوں کے جنازے کندھوں پر اٹھائے، بھوکے پیاسے، خاک برسر و خوں بدامان 25 لاکھ اہل غزہ کے ہونٹ آج بھی الحمد الله على كل حال (ہر حال میں اللہ کا شکر) کے ذکر سے تر ہیں۔

دوسری طرف اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے ر فح گیٹ کے بہت قریب سے داغے گئے راکٹوں نے قلبِ اسرائیل کو نشانہ بنایا اور تل ابیب کا بن گوریان ائرپورٹ گھنٹوں مفلوج رہا۔امریکہ کے میزائیل شکن نظام آئرن ڈوم نے اکٹر راکٹ ناکارہ کردئے لیکن چند راکٹ اس نظام کو غچہ دیکر 80 کلومیٹر کے فاصلے پر ساحلی شہر ہر تسلیا تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے جہاں عسکری کالونی میں ایک گھر سے شعلے بھڑکتے نظر آئے

مستضعفین نے امریکی صدر کی تقریر کو انکا احساس شکست سمجھ کر اس متکبرانہ پیشکش کا مدبرانہ جواب دے دیا۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق جواب میں کہا گیا ہے کہ 'اہل غزہ جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے انخلا کو یقینی بنانے کے لیے نیک نیتی سے بات چیت کرنے کو تیار ہیں'

اسرائیل کے انسانیت سوز مظالم کو چھپانے کیلئے بائیڈن انتظامیہ جس بے شرمی سے جھوٹ بول رہی ہے وہ خود امریکی حکام کیلئے ناقابل برداشت ہوتا جارہا ہے۔ گزشتہ ہفتے وزارت خارجہ کی ایک سینئر اہلکار نے استعفی دیدیا۔محترمہ اسٹیسی گلبرٹ (Stacy Gilbert)نے اپنے خط میں لکھا 'اسرائیل، شہریانِ غزہ کیلئے امریکی امداد کی تقسیم میں رکاوٹ ڈال رہا ہے جسکے شواہد موجود ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے لیکن صدر بائیڈن نے کانگریس کے نام رپورٹ میں لکھوایا کہ امداد کی تقسیم میں مشکل تو ہورہی ہے لیکن اسکا ذمہ دار اسرائیل نہیں'۔ گلبرٹ صاحبہ کا کہنا ہے کہ انکا ضمیر قوم سے جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں دیتا۔ موصوفہ کی وزارت خارجہ سے وابستگی کو  20 سال ہو چکے ہیں۔

اہلکاروں کی طرح میڈیا پر بھی امریکی انتظامیہ بے نقاب ہورہی ہے۔ سی این این (CNN) نے انکشاف کیا کہ ر فح خیمہ بستی کو خاکستر کرنے کیلئے بوئنگ کا تیار کردہ GBU-39 بم استعمال ہوا۔ ہلاکت خیزی کے اعتبار سے سترہ کلو گرام بارود بھرے اس بم کا شمار Focused Lethally Munition (FLM)میں ہوتا ہے۔ یہ رپورٹ نشر ہوتے ہی امریکی وزارت دفاع(پینٹاگون) کی ترجمان محترمہ سبرینا سنگھ نے کہا 'ہم معاملے کی تحقیق کررہے ہیں'۔ تقریباً اسی وقت امریکی قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل سے شہریوں کے بہتر تحفظ کے مطالبے کا اعادہ کیا۔ جب کسی صحافی نے فاضل ترجمان کو صدر بائیڈن کا وہ بیان یاد دلایا جس میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ اگر امریکی اسلحہ شہری آبادی کے خلاف استعمال ہوا تو اسکی اسرائیل فراہمی پر پابندی لگادی جائیگی تو موصوٖف بولے 'امریکی حکومت اور عوام بے گناہوں کی ہلاکت پر سوگوار ہیں، لیکن ہمارے خیال میں اسرائیل نے سرخ لکیر عبور نہیں کی'

اسی سی این این نے انسانی امداد کا بھانڈا بھی پھوڑدیا۔ بہت شور تھا کہ امداد کی تقسیم کیلئے امریکی بحریہ نے غزہ کے ساحل پر 32کروڑ ڈالر کے خرچ سے عارضی گودی(Pier)تعمیر کی ہے۔اس ماہ کی 17 تاریخ کو یہاں اٹلی سے آنے والا پہلا جہاز لنگر انداز ہوا اور26 مئی کو تندو تیز لہریں اسکا بڑا حصہ بڑا حصہ بہا لے گئیں۔ یعنی جدید ترین امریکی ٹیکنالوجی 9 دن میں چیں بول گئی۔ابتدائی تحقیقات پر پتہ چلا کہ گودی صرف تین فٹ اونچی لہروں اور 15 میل فی گھنٹہ ہوا برداشت کرنے کیلئے بنائی گئی تھی۔

غزہ قتل عام پر جہاں دنیا کا دہرا معیار بے نقاب ہوا وہیں اہلِ ضمیر بھی استقامت کا اظہار کررہے ہیں۔ اٹھائیس (28) مئی کو  فرانس کی ثابت قدم پارٹی (La France Insoumise (LFI کے رکن قومی اسمبلی Sébastien Delogu نے اظہار یکجہتی کیلئے اجلاس کے دوران ایوانِ اسمبلی میں فلسطین کا پرچم لہرادیا۔بات بہت معمولی سی تھی لیکن اسپیکر صاحبہ نے غصےکے عالم میں چیخ کر کہا 'یہ ناقابل قبول ہے' اور 36 سالہ سباسشین کو اجلاس سے نکال دیا۔فاضل رکن کو پندرہ دن کیلئے معطل کردیا گیا، اس دوران انھیں تنخواہ بھی نہیں ملے گی۔لیکن سباشین کو اس پر کوئی پریشانی نہیں۔ دوسرے دن ایک مظاہرے میں جوش و خروش سے فلسطین کا پرچم لہراتے ہوئے انھوں نے کہا 'میں قومی اسمبلی کے قواعد پر قائم رہنے کے بجائے تاریخِ انسانیت کے درست جانب کھڑے رہنے کو ترجیح دونگا'

جیسا کہ ہم اس سے پہلے ایک نشست میں عرض کرچکے ہیں، غزہ کیساتھ غرب اردن میں آباد فلسطینی پناہ گزین اسرائیلی فوج کے نشانے پر ہیں۔ جنین کا ہنستا بستا علاقہ تقریباً کھنڈڑ بن چکا ہے۔ اسکا صنعتی علاقہ مسمار کردیاگیا۔ اس ہفتے نابلوس، اریحا اور مقتدرہ فلسطین کے دارالحکومت رام اللہ نے بدترین جارحیت کا مشاہدہ کیا۔رام اللہ کی جلزون خیمہ بستی پر اسرائیلی فوج کے حملے میں متعدد نوجوان جاں بحق ہوئے۔پناہ گزینوں کا یہ کیمپ 1949میں قائم ہوا تھا۔ڈھائی سو مربع میٹر رقبے پر یہاں ساڑھے آتھ ہزار نفوس ٹھنسے ہوئے ہیں۔ نابلوس میں گھر گھر تلاشی کے دورن خواتین سے بدتمیزی پر نوجوان مشتعل ہوگئے اور دست بدست لڑائی میں دو اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کردیا گیا۔

ر فح ہر قبضے کے بعد فلسطینیوں کیساتھ اسرائیلی فوج سرحد کی دوسری جانب،  مصر کو بھی للکار رہی ہے، 27 مئی کو جھڑپ میں دو مصری فوجی مارے گئے۔ یہ خبر اسرائیلی حکومت نے جاری کی جبکہ مصر نے اس واقعے کا ذکر تک نہیں کیا۔ صحافتی ذرایع کا کہنا ہے کہ ایک سرنگ کے تعقب میں جب اسرائیلی مصر کی جانب آئے تو وہاں موجود محافظین نے انکا راستہ روکا جس پر اسرائیلیوں نے گولی چلادی۔ اسرائیلیوں کا دعویٰ ہے کہ فلسطینیوں نے رفح سے مصری سرحد تک سرنگیں کھود رکھی ہیں جس سے انھیں مدد پہنچتی ہے۔ 

اسرائیل کیلئے مغرب اور مغرب نواز حکومتوں کی مکمل و غیر مشروط حمائت میں اب تک کوئی فرق نہیں آیا۔ امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے لبرل و آزاد خیال عناصردبے الفاظ میں اسرائیلی حکومت پر تنقید کررہے ہیں لیکن بحیثیت جماعت دائیں بازو کے قدامت پسندوں کی طرح ڈیموکریٹک پارٹی بھی اسرائیل کی حمائت کیلئے پرجوش ہے۔ یکم جون کو امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیلئے اسرائیلی وزیراعظم کو جو دعوت نامہ جاری ہوا اس پر کانگریس کے قدامت پسند اسپیکر مائک جانسن، ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے قائد بزعم خود سیاہ فام لبرل، حکیم جیفری، سینیٹ کے قائد ایوان چک شومر اور قائد حزب اختلاف سینیٹر مچ مک کونل نے دستخظ کئے ہیں۔ خط میں بن یامین نیتھن یاہو سے 'استدعا' کی گئی ہے کہ وہ امریکی عوام کو  جمہوریت کے دفاع، دہشت کردی کے استیصال اور علاقے میں منصفانہ اور پائیدار امن کیلئے اپنے خیالات زریں سے مستفید فرمائیں۔

چند ہی دن پہلے سینیٹر چک شومر نے اسرائیلی فوجی کاروائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیتھن یاہو سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا۔ مشترکہ دعوت نامے  سے یہ بات پھر واضح  ہوگئی کہ دائیں بازو کے امریکی قدامت پسند ہوں یا بائیں بازو کے لبرل و سیکیولر عناصر، اسرائیل کے عشق میں سب ایک ہیں۔

لامقطوعہ ولا ممنوعہ، فوجی امداد کیساتھ اب اقتصادی مدد کیلئے فرمائش کا آغاز ہوگیا ہے۔ ایک جامعہ میں ' اقتصادی صؤرتحال' پرسیمنار سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی مرکزی بینک (اسٹیٹ بینک) کے گورنر عامر جارن (Amir Yaron) نے دہائی دی کہ جنگ کا خرچ ناقابل برداشت حدوں کو چھو رہاہے۔ گورنر صاحب کا کہنا تھا کہ جنگ کے اخراجات کا تخمینہ 67 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے اور جنگ کی وجہ سے اسرائیلی معیشت میں مندی کے اثرات نمایاں ہیں۔ قومی معیشت کی شرح، نمو جو 2022 میں 6.5 فیصد تھی، موجودہ مالی سال 1.6فیصد رہ جائیگی۔علمی مجلس میں جذبات کا تڑکہ لگاتے ہوئے گورنر صاحب نے کہا کہ جنگ محض جذبات سے نہیں لڑی جاسکتی بلکہ آزادی کی قیمت نقدی کی شکل میں ادا کی جاتی ہے۔

وزیرعظم یتھن یاہو نے صدر بائیڈن کے تجویز کردہ امن منصوبے کو مسترد کردیا۔ یکم جون کو ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ اسرائیل مکمل فتح تک جنگ رکھنے کیلئے پرعزم ہے اور مزاحمت کاروں کو صفحہ ہستی سے مٹائے بغیر ہماری تلواریں نیاموں میں نہیں جائینگی۔اسرائیلی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ مستضعفین کو فنا کرنے پر اصرار تل ابیب کی سیاسی مجبوری ہے۔ قدامت پسندوں نے  اپنی قوم کو ایسے بھیانک جنگی جنون میں مبتلا کردیا ہے کہ جنگ بندی پر آمادگی انکی شکست تصور کی جائیگ۔ عظمتِ یہود جماعت (Otzma)کے سربراہ، وزیراندرونی سلامتی بن کوئر اور دینِ صیہون جماعت (RZP)کے قائد، وزیر خزانہ اسموترچ  نے دھمکی دی ہے کہ اگر بائیڈن کا تجویز کردہ امن معاہدہ منظور ہواتو وہ حکومتی اتحاد سے الگ ہوجائینگے۔ ایک سو بیس رکنی پارلیمان میں حکمراں اتحاد کو 64ارکان کی حمائت حاصل ہے جن میں سے 14 نشستیں ان دونوں کے پاس ہیں۔

 دوسری طرف  مزاحمت کار،  اسرائیلی فوج کی پسپائی اور جنگ کے خاتمے سے پہلے قیدی رہا کرنے کو تیار نہیں۔ دیکھنا ہے کہ امریکی اپنے لاڈلے کو معقولیت اختیار کرنے پر کیسے راضی کرتے ہیں؟؟

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 7 جون 2024

ہفت روزہ دعوت دہلی 7 جون 2024

روزنامہ امت کراچی 7 جون 2024

ہفت روزہ رہبر 7 جون 2024


میکسیکو کے انتخابات، 87 فیصد ووٹ خواتین کے نام پہلی بار ایک خاتون صدر منتخب

 

میکسیکو کے انتخابات، 87 فیصد ووٹ خواتین کے نام

پہلی بار ایک  خاتون صدر منتخب

یونائیٹیڈ میکسیکن اسٹیٹس المعروف میکسیکو کے انتخابات میں بائیں بازو کے اتحاد نے میدان مار لیا اور 61 سالہ ڈاکٹر کلاڈیا شینبام (Caludia Sheinbaum)ملک کی 66ویں صدر منتخب ہوگئیں۔ انکے اتحاد نے 500 رکنی ایوان نائبین (قومی اسمبلی) میں 276 اور 128 ارکان پر مشتمل سینیٹ میں 70 نشستیں جیت کر پارلیمان میں بھی برتری حاصل کرلی۔ حالیہ انتخابات اس لحاظ سے بے حد اہم ہیں نہ صرف یہاں پہلی بار ایک خاتون صدر منتخب ہوئیں بلکہ وہ 71 فیصد کیتھولک آبادی والے ملک کی پہلی  یہودی صدر ہونگی۔دلچسپ بات کہ انکی قریب ترین حریف سوچیل گالویز (Xóchitl Gálvez)بھی ایک خاتون ہیں۔ کلاڈیا نے 58.56 اور سوچیل نے  28.45 فیصد ووٹ لئے گویا میکسیکو کے 87 فیصد ووٹروں نے اس بار اپنے ملک کی قیادت و سیادت کیلئے خواتین کے حق میں رائے دی۔

تیرہ کروڑ نفوس پر مشتمل میکسیکو براعظم شمالی امریکہ کے جنوب میں واقع ہے۔ انیس لاکھ بہتر ہزار 500 مربع کلومیٹر رقبے کے حامل اس ملک کی آبی سرحدیں مغرب میں بحرالکاہل اور مشرق میں خلیج میکسیکو کے راستے بحراوقیانوس سے ملتی ہیں۔ میکسیکو اور امریکہ کی سرحد 3155 کلومیٹر طویل ہے۔

میکسیکو کا سب سے بڑا مسئلہ انتہائی پرتشدد جرائم ہیں جسکی سرپرستی منظم مافیا کرتے ہیں۔ہر سال 40 ہزار سے زیادہ افراد ان خونیوں کے ہاتھوں  قتل ہورہے ہیں۔ خواتین پر مجرمانہ حملے، اغوا برائے تاوان اور مغوی بچیوں سے باالجبر جسم فروشی کی واردات عام ہیں۔ جرائم پیشہ گروہوں کی رسائی اور پزیرائی اعلیٰ سطح تک ہے اسلئے مجرم خوف سے عاری بلکہ کاروائیوں میں دیدہ دلیری کا رجحان نظر آتا ہے۔ اسی بنا پر ہزاروں لوگ بہتر زندگی کی تلاش میں شمالی سرحد عبور کرکے امریکہ جانے کے لئے ہر خطرہ انگیز کرنے کو تیار ہیں۔ بری راستے کے علاوہ سرحد پر بہنے والے دریائے ریوگرانڈ کو تیر کر پار کرنے کی کوشش میں ہر ماہ متعدد لوگ ڈوب کر ہلاک ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر شینبام پرعزم ہیں کہ وہ جرائم پیشہ عناصر کو لگام دیکر میکسیکو کو خوش و خوشحال معاشرہ بنادینگی۔ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ نومنتخب صدر اس کارِ خیر میں کس حد تک  کامیاب رہتی ہیں، لیکن ایوانِ صدارت کیساتھ پارلیمان میں بھی واضح اکثریت کی بناپر توقع ہے کہ انھیں قانون سازی اور انتظامی امور میں کسی بڑی مشکل کا سامنا نہیں ہوگا

کلاڈیا شینبام کا ننھیال لتھوانیہ سے  1920 میں میکسیکو آکر آباد ہوا جبک انکے دادا جان کے خاندان نے 1940 میں بلغاریہ سے یہاں ہجرت کی۔ کہا جاتا ہے کہ انکا ننھیال و ددھیال یہودی عقیدے کا حامل تو ہے لیکن طبیعت کے اعتبار دونوں خاندان آزاد خیال اور سیکیولر ہیں، تاہم انکے یہاں یہودی تہوار اہتمام سے منائے جاتے ہیں۔

کلاڈیا کی ولادت میکسیکو میں ہوئی۔ انھوں نے جامعہ میکسیکو (UNAM)سے طبیعیات (فزکس) میں ماسٹر اور پھر اسی درسگاہ سے انرجی انجنیرنگ میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ کلاڈیا نے امریکہ کی موقر جامعہ کیلی فورنیا برکلے  کی تحقیقی سرگرمیوں میں حصہ لیااور کئی مقالے تحریر کئے۔انھوں نے اپنی مادرعلمی میں درس و تدریس کے فرائض بھئ انجام دئے۔ماحولیاتی تبدیلی پر نومنتخب میکسیکن صدر نے امریکی سائنسدانوں کیساتھ مل کر اقوام متحدہ میں ایک مقالہ پیش کیا۔ انکے گروپ کو 2007 میں نوبل انعام سے نوازا گیا۔

کلاڈیا دورِ طالب علمی ہی سے سیاست میں سرگرم ہیں۔وہ جامعہ میکسیکو میں پارٹی برائے جمہوری انقلاب (PRD)کے طلب ونگ کی صدر تھیں۔انھوں نے 2015 کے انتخابات میں حصہ لیکر عملی سیاست کا آغاز کیا اور  میکسیکو سٹی کے مضافاتی قصبے Tialpanکی رئیس شہر منتخب ہوگئیں۔ تین سال بعد وہ میکسیکو سٹی کی رئیس شہر چُن لی گئیں۔ سیاسی و نظریاتی اعتبار سے کلاڈیا سیکیولر و آزاد خیال ہیں۔ وہ خود کو بہت فخر سے feministکہتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ اسقاط کو خواتین کا حق سمجھتئ ہیں اور ہم جنسوں (LGBT)کیلئے ہم جنس شادی سمیت تمام حقوق کی حامی ہیں۔

ڈاکٹر صاحبہ عقیدتاً یہودی تو ہیں لیکن وہ کسی یہودی عبادتگاہ (Synagogue) سے وابستہ نہیں۔حالیہ دنوں میں انکی مادر علمی UNAMمیں غزہ خوریزی کے خلاف بڑے مظاہرے ہوئے اور اسرائیلی سفارتخانے کو مشتعل ہجوم نے آگ لگائی۔ ان واقعات پر انکا کوئی منفی بیان سامنے نہیں آیا۔

اسرائیل کے علاوہ جن ملکوں کی قیادت یہودی سیاستدان کرچکے ہیں ان میں جینیٹ جگن صاحبہ 1997 سے 1999 تک گایانہ (Guyana)کی صدر رہیں، رکاردو مدورو 2002 سے 2006 تک ہنڈوراس کی صدارت پر فائز رہے اور پیدرو پیبلو کوچنسکی نے 1016 سے 2018تک پیرو کی قیادت کی۔ اسوقت ولادیمر زیلینسکی یوکرین کے صدر ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 7 جون 2024

ہفت روزہ دعوت دہلی 7 جون 2024

روزنامہ امت کراچی7 جون 2024

ہفت روزہ رہبر 9 جون 2024






 

Wednesday, June 5, 2024

تیل کے میدان سے پیدوار کا آغاز

 

تیل کے میدان سے پیدوار کا آغاز

تیل اور گیس کی ترقیاتی کارپوریشن (OGDCL)نے کوہاٹ میں کھودےجانیوالے ترقیاتی کنویں چندا 7 سے پیداوار شروع کردی۔ جیسا کہ ہم نے پہلے کسی نشست میں عرض کیا تھا تیل اور گیس کی صنعت ، گہری جیب، باوقار و پر عزم صبر اور آہنی اعصاب کا تقاضہ کرتی ہے۔

ایک طویل عرضہ مساحت ارضی میں صرف ہوتا ہے، برسوں کے تحقیق و مطالعے اور علاقے میں پہلے کی جانیوالی کوششوں کے تنقیدی جائزے کے بعد کھدائی کی جگہ کا تعین ہوتا ہے۔ کھدائی سےپہلے زیرزمین چٹانوں کی ساخت اور متوقع خطرات سے نبٹنے کی پیش بندی ضروری ہے جس پر خاصہ وقت لگتاہے۔ کھدائی کے اکثر مقامات نجی ملکیت ہیں لہٰذامالکان سے مول تول بھی ایک اعصاب شکن مشق ہے۔

اسکے بعد کہیں جاکر کھدائی کا مرحلہ آتا ہے جس پر پانی کی طرح سرمایہ خرچ ہوتا ہے۔ شمالی علاقوں میں ایک کنویں کی کھدائی پر چھ سے نو مہینے لگتے ہیں اور ایک سے ڈیڑھ کروڑ ڈالر صرف ہوتے ہیں۔پوٹھوار میں بعض کنووں پر کھدائی کا خرچ چار کروڑ ڈالر تک رہا ہے۔

اتنے پاپڑ بیلنے کے بعد اللہ کی مہربانی سے اگر پیمائش و آزمائش (WL&T)کے نتائج اچھے آجائیں تو پھر پیداوا ر کی تیاری شروع ہوتی ہے۔ دریافت سے پیداوار کا وقفہ کم ازکم ایک سال اور بعض اوقات دس سال تک بھی ہوسکتاہے

او جی ڈی کے اعلامئے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ چندا 7 کی کھدائی کب مکمل ہوئی، لیکن میرا خیال ہے کہ گزشتہ برس مارچ میں دریافت کی تصدیق ہوئی تھی۔سوئی ناردرن گیس (SNGPL) کی پائپ لائن کنویں سے 1.3 کلومیٹر دور ہے لہذا گیس کی ترسیل کیلئے کنویں سے SNGPL کے نیٹ ورک تک اضافی پائپ لائن بھی بچھانی گئی۔

اعلان کے مطابق جون کے آغاز سے پیداوار شروع ہوچکی ہے اور 5492 میٹر گہرائی پر ملنے والی دتہ اور کنگریالی پرتوں سے 305 بیرل تیل اور 25 لاکھ مربع فٹ (2.5mmscfd)گیس یومیہ حاصل کی جارہی ہے۔ دونوں پیداواری پرتیں ریت کی چٹانوں پر مشتمل ہیں۔

اس مشارکے میں او جی ڈی سی کا حصہ 72 فیصد ہے، صدرالدین ہاشوانی کی OPIساڑھے دس اور سرکار کی گورنمنٹ ہولڈنگز(GHPL) ساڑھے سترہ فیصد کی حصہ دار ہیں

اسی کیساتھ او جی ڈی سی نے حیدرآباد کے کنر 8 کنویں سے پیداوار کی بحالی کی نوید بھی سنائی ہے۔پیداواری پرت کا دباو کم ہوجانے کی وجہ سے یہ کنواں عملاً خشک ہوچکا تھا۔ اوجی ڈی سی کے ماہرین نے تکمیل مکرر (re-completion)کے دوران مصنوعی اچھال (Artificial Lift) کی جدید ترین ٹیکنالوجی کا شاندار استعمال کرکے 540 بیرل یومیہ پیداوار بحال کرلی

کنر کی سو فیصد ملکیت او جی ڈی سی کی ہے

اس شاندار کامیابی پر اوجی ڈی اور OPIکے ماہرین اور کارکنوں کو دلی مبارکباد

آپ ہماری   پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.comاور ٹویٹر Masood@MasoodAbdaliپربھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔