Thursday, July 4, 2024

غزہ نسل کشی کے کیساتھ غرب اردن میں حیات و اسباب حیات کی پامالی فلسطینی اراضی پر پانچ نئی اسرائیلی بستیوں کا قیام عالمی عدالت میں اسرائیلی قیادت کے پروانہ گرفتاری کے خلاف برطانیہ کی درخواست

 

غزہ نسل کشی کے کیساتھ غرب اردن میں  حیات و اسباب حیات کی پامالی

فلسطینی اراضی پر پانچ نئی اسرائیلی بستیوں کا قیام

عالمی عدالت میں اسرائیلی قیادت کے پروانہ گرفتاری کے خلاف برطانیہ کی درخواست

جیسا کہ اس سے پہلے کئی نشستوں میں ہم عرض  کر چکے ہیں، اسرائیل غزہ نسل کشی جاری رکھتے ہوئے غربِ اردن کے سیاسی جغرفیہ اور معاشرتی و تمدنی ھئیت کو تبدیل کرنے میں مصروف ہے۔ سارے کا سارا غرب اردن محاصرے میں ہے اور فوجی کاروائیوں میں یہاں 600 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ گرفتار شدگان کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ ہے۔ دوکانیں، کارخانے  اورتجارتی مراکز مسمار کردئے گئے جسکی وجہ سے علاقے میں معاشی سرگرمیاں غارت ہوچکیں۔زرعی زمینوں پر بلڈوزر پھیر دئے گئے۔اسرائیلی فوج اور قابضین مویشی ہنکا لے گئے۔ بے گھر ہونے والے ہزاروں فلسطینیوں کو بھیڑ بکریوں کی طرج اردنی سرحد کی طرف دھکیل دیا گیا، جہان تپتی دھوپ میں یہ لوگ کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔بعض مقامات پر اقوام متحدہ نے انکے لئے خیموں کا انتظام کیا ہے۔

حکومت کے انہتاپسند وزیرخزانہ بیزلیل اسموترچ نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نئی بستیوں کی تعمیر شروع کردی۔ گزشتہ سال امریکی صدر نے کہا تھا کہ اسرائیلی حکومت نے مزید بستیاں قائم نہ کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔اسکی تصدیق کرتے ہوئے جناب نیتھن یاہو نے مبہم انداز میں کہا تھا کہ اسرائیلی حکومت 'فی الحال' مزید بستیوں کی منظوری  نہیں دیگی۔ لفظِ 'فی الحال' میں حیلہ سازی کی اسرائیلی روایت پوری مکارانہ شان کیساتھ موجود تھی۔

طریقہ وارادت کچھ اسطرح ہے کہ فلسطینی آبادیوں کے کنارے انسداد دہشت گردی کے نام پر فوج حفاطتی چوکیاں قائم کرتی ہے۔ یہ چوکیاں محض چند مربع گز علاقہ نہیں بلکہ ہر چوکی کیلئے فلسطینیوں کی سینکڑوں ایکڑ زمینیں 'کرائے' پر لی گئیں۔ کرائے سے چھٹکارے کیلئے زیادہ تر مالکان کو دہشت گردی کے الزام میں گولی ماردی گئی۔چوکیوں پر تعینات فوجیوں اور انتظامی اہلکاروں کیلئے قبضہ کی ہوئی اراضی پر رہائشی کوارٹر تعمیر کرلئے گئے۔ ضروری اشیا کیلئے وہاں دوکان بلکہ بازار بھی قائم ہوگئے۔ کچھ عرصے بعد وہاں معبد (Synagogue) بھی تعمیر کرلیاگیا جسکے گرد مزید لوگ آکر آباد ہوگئے۔ 'محلہ'بن جانے والی چوکیوں کو 'پوسٹ'  کا نام دیدیا جاتا ہے۔ پوسٹ دراصل ایسی اسرائیلی بستی ہے جسے قانونی تحفظ حاصل نہیں، بلدیاتی اصطلاح میں یہ کچی بستیاں ہیں۔

اس ہفتےاسرائیلی حکومت نے غر بِ اردن کی چار اور اثقلان میں ایک پوسٹ کو 'قانونی' حیثیت دینے کا اعلان کیا ہے۔یعنی اب یہاں پہلے سے قابض لوگوں کو مالکانہ حقوق دے دئے جائینگے اور بلدیہ سے نقشہ منظور کراکر یہاں پارک، تجارتی مراکز، سڑکوں اور اسکولوں کیلئے مزید اراضی عدالتی حکم کے ذریعے ہتھیائی جائیگی۔ ان بستیوں کو دہشت گرد حملوں سے محفوظ رکھنے کیلئے چوکیاں بناکر قبضےکا نیا سلسلہ شروع ہوگا۔

گزشتہ ہفتے نیویارک ٹائمز نے وزیرخزانہ اسموترچ کے ایک نجی سمعی تراشے (Audio Clip)کا متن شایع کیا تھا جس کے مطابق وزیرموصوف اپنے ساتھیوں کو مبارکباد دے رہے تھےکہ وزیراعظم نے ان پانچ بستیوں کے قیام کی منظوری دیدی ہے۔ وزیراعظم کے دفتر سے اس خبر کی تردید یا تصدیق نہیں ہوئی لیکن 28 جون کو کابینہ کے سکریٹری یوسی فُکس (Yosi Fuchs)نے اعلان کیا کہ ہنگامی کابینہ نےپانچ چوکیوں کو بستی بنانے کی منظوری دیدی ہے۔ فاضل سکریٹری نے وضاحت کی کہ یہ نئی بستیاں نہیں اور اسرائیلی حکومت صرف فوجی چوکیوں پر اپنی ملکیت قائم کررہی ہے۔ کابینہ کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ ان پانچ بستیوں میں کئی ہزار نئے مکانات تعمیر کرنے کی بھی اجازت دیدی گئی ہے۔

اسرائیل اور امریکہ میں برپا پونے والے سیاسی بحران نے فلسطینیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔اسرائیلی بحران کا آغاز  24 جون کو اسوقت ہوا جب اسرائیلی ہائیکورٹ نے لازمی فوجی تربیت سے مدارس کے طلبہ کا استثنٰی غیر آئینی قرار دیدیا۔ لازمی فوجی بھرتی کا اطلاق اب قدامت پسند حریدی فرقے پر بھی ہوگا جنکے ہاں ہر لڑکے کیلئے توریت کی تعلیم لازمی ہے ۔ حفظ توریت کے مدارس یا Yeshivaکے طلبہ کو لازمی فوجی تربیت سے استثنی حاصل ہے تاکہ دوسال کی لازمی فوجی تربیت کی وجہ سے حفظ متاثر نہ ہو۔ حکمران اتحاد کی توریت پارٹی (UTJ)اور پاسبان توریت یا Shasپارٹی کی طرف سے فیصلے کے خلاف شدید رد عمل سامنے آیا۔ شاس کے سربراہ اریہ مخلوف درعی نے ایک بیان میں کہا کہ توریت یہودی قوم کا اصل ہتھیار ہے اور دنیا کی کوئی قوت ہمیں اسکی تعلیم سے باز نہیں رکھ سکتی۔ حریدی فرقے کے روحانی پیشوا موسٰی مایا نے مدارس کے طلبہ کیلئےفوجی تربیت کی مخالفت کرتے ہوئے،  مدرسے نہ جانے والے نوجوانوں کو بھی اسرائیلی فوج میں بھرتی سے منع کردیا۔ ایک ریڈیو انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ توریت کی تعلیم میں خلل ڈالنا “سبت” کا قانون توڑنے سے کم سنگین نہیں۔ مایا صاحب کا کہنا تھا کہ توریت کی برکت سے ہی فوج محفوظ ہے ورنہ بڑی آفت آئیگی۔ربائیوں (یہودی ائمہ) کی ہدایت پر 29 جون (یوم سبت) کو دیوار گریہ کے سامنے اسرائیلی عدلیہ کے خلاف اجتماعی  بددعا کی  گئی۔ اس موقع پر خطبہ سبت دیتے ہوئے صفاردی (Sephardic) یہودیوں کے ربائی اعظم اسحق یوسف نے کہا کہ جاہل جج جو تلمود (یہودی فقہ) کی چند سطر نہیں پڑھ سکتے، مدارس کے بارے میں حکم جاری کررہے ہیں۔ ان جہلا کو توریت اور اسکے علم کی اہمیت کا کیا پتہ ؟

فیصلے کے خلاف Yeshiva کے طلبہ نے فوجی بھرتی مراکز پر مظاہرے کئے۔ اس دوران طالب علموں نے وہیں سڑک پر اساتذہ سے توریت کا سبق لیا ور تلاوت کی۔ مظاہرین نے جو کتبے  اٹھائے ہوئے تھے ان پر لکھا تھا کہ 'اسرائیل اب یہود دشمن (Antisemitic)ملک بن گیا ہے'۔زیراعظم نیتھن یاہو کی حکومت شاس اور UTJکی بیساکھیوں پر کھڑی ہے اگر  یہ جماعتیں UTJحکمراں اتحاد سے الگ ہو گئیں توحکومت تحلیل ہوجائیگی۔وزیراعظم اس فیصلے پر عملدرآمد میں تاخیر کے خواہشمند ہیں لیکن فوجی بھرتی سے Yeshiva کا استثنیٰ ختم ہونے ہی انکی اٹارنی جنرل نے وزارت دفاع کو ہدائت کی کہ فوری طور پر مدارس کے 3000 ہزار طلبہ کو فوج میں بھرتی کیا جائے، ساتھ ہی محترمہ نے دھمکی بھی دی کہ جو مدارس بھرتی میں تعاون نہیں کرینگے انکی سرکاری امداد معطل کردی جائیگی۔حکومتی مدد سے بے نیاز ہونے کیلئے مدارس نے چندہ جمع کرنا شروع کردیا، چند ہی گھنٹوں میں امریکی حریدیوں نے 10 کروڑ ڈالر جمع کرلئے۔عدالتی فیصلے نے وزیراعظم کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔

امریکہ کا سیاسی بحران صدر بائیڈن کی بڑھتی ہوئی غیر مقبولیت ہے۔ جمعرات 27 جون کو ہونے والے صدارتی مباحثے میں امریکی صدر کی آواز لرز رہی تھی، لہجے میں لکنت کے ساتھ انھیں سوالوں کا جواب دینے میں سخت مشکل پیش آئی۔ ایک تجزیہ نگار نے کہا کہ یہ ایک انوکھا مباحثہ تھا، جناب ٹرمپ دھڑلے سے جھوٹ بولتے رہے اور صدر بائیڈن سے بولا ہی نہ گیا۔امریکی صدر بائیڈن کی انتہائی خراب کارکردگی پر ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت پریشان ہے۔ کانگریس کیلئے قسمت آزمائی کرنے والے ڈیموکرٹک امیدوار بھی خوفزدہ ہیں کہ کہیں صدر کیساتھ انکی بھی چھٹی نہ ہوجائے جسے یہاں Down the ballot effect. کہا جاتا ہے یعنی ووٹر صدر کے ساتھ اسی جماعت کی پوری ٹکٹ پر ٹھپہ لگادیتے ہیں۔ انکی جماعت میں یہ بحث شروع ہوچکی ہے کہ نومبر کیلئے پارٹی کا ٹکٹ جناب بائیڈن کے بجائے کسی اور فرد کو عطاکردیا جائے۔ قانونی اعتبار سے ڈیموکریٹک پارٹی جناب بائیڈن کو دستبرداری پر مجبور نہیں کرسکتی لیکن انھوں نے مباحثے میں اپنی خراب کارکردگی کا خود ہی اعتراف کرلیا ہے۔

مباحثے میں دونوں امیدواروں نے  خودکو اسرائیل کا سب سے بڑا دوست و پشتیان ظاہر کیا۔ صدر بائیڈن پرجوش انداز میں بولے'ہم نے اسرائیل کا تحفظ کیا، ہر قسم کی مدد فراہم کی۔فلسطینی مزاحمت کاروں کی کمر توڑدی۔ انکے قائدین کا وہی حشر کیا جو اسامہ بن لادن کا ہوا' ۔جواب دیتے ہوئے سابق امریکی صدر نے کہا  'صدر باائیڈن اسرائیل کے حامی نہیں یہ عملاً فلسطینی ہیں لیکن ایک بیکار فلسطینی، اسی لئے فلسطینی بھی انکو پسند نہیں کرتے ' ڈانلڈ ٹرمپ  نے مزید کہا اگر میں حکومت میں ہوتا تو فلسطینی مزاحمت کار 7 اکتوبر کو حملہ نہ کرپاتے۔ اسلئے کہ غزہ مزاحمت کاروں کو ایران سے مدد ملتی ہے اور ہم ایران کو دیوالیہ کرچکے تھے۔

عدم مقبولیٹ سے گھبرائے ہوئے صدر بائیڈن نے اسرائیل کیلئے 2000 پونڈ کے بموں کی ترسیل دوبارہ شروع کردی۔ر فح پر حملے کے بعد اپریل میں ان ہلاکت خیز بموں کی فراہمی معطل کردی گئی تھی۔ امریکہ کی آن لائن خبر رساں ایجنسی AXIOSکے مطابق روزانہ تین دیوقامت امریکی طیارے ہلاکت خیزی کا سامان صحرائے نقب میں بئیر سبع (Beersheba)کے نواتم فوجی اڈے پر لارہے ہیں۔

امریکہ اور یورپ کی جانب سے اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی نئی بات نہیں لیکن گزشتہ ہفتے انکشاف ہوا کہ ہندوستان بھی غزہ نسل کشی کیلئے اسرائیل کو اسلحہ فراہم کررہا ہے۔ اسرائیلی خبر رساں ادارے Ynetnewsکو ایک انٹرویو دیتے ہوئے  دہلی میں اسرائیل کے سابق سفیر دانیال کارمن Daniel Carmon نے بتایا کہ غزہ جنگ کیلئے ہندوستان، اسرائیل کو ڈرون اور توپ کے گولے فراہم کررہا ہے۔جناب کارمن نے کہا کہ بقول ہندوساتی مشیر سلامتی اجیت دوال، 'یہ 1999 کے  پاک ہندکارگل تصادم میں اسرائیلی مدد پر ہندوستان کا اظہار تشکر ہے'

غزہ نسل کشی کیلئے اسرائیل کو مہلک اسلحے کی بلاروٹوک فراہمی کیساتھ انصاف کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا کام بھی جاری ہے۔برطانیہ نے  2جون کو عالمی فوجداری عدالت (ICC)کے نام ایک  درخواست میں فاضل عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ اسرائیل ICCکو تسلیم نہیں کرتا، لہٰذا اسکے شہری عدالت کے دائرہ اختیار (Jurisdiction)سے باہر ہیں۔اسے بنیاد بناکر اسرائیلی وزیراعظم،وزیردفاع اور فوج کے مجوزہ پروانہِ گرفتاری منسوخ کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔اب وارنٹ کے اجرا سے پہلے عدالت کو برطانوی درخواست نبٹانا ہوگی، جس میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

دنیا بھر کی حمائت و فوجی مدد اور 270 دن کی بلا تعطل بمباری کے بعد بھی اسرائیل، فوجی اہداف کے حصول سے کافی دور ہے۔گزشتہ نشست میں ہم نے اسرائیلی فوج کے ترجمان کی مایوسی کاذکر کیا تھا جنکے خیال میں غزہ مزاحمت عسکری سے زیادہ نظریاتی ہے جسے ختم کردینا ممکن نہیں۔ اب 28 جون کو شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اسرائیلی بریگیڈیر جنرل نے عبرانی روزنامے ایدیت خرنوت Yedioth Ahronothسے باتیں کرتے ہوے کہا کہ غزہ کے مزاحمت کاروں کی قوتِ حکمرانی کمزورکرنے میں وقت لگے گا، یہ طاقت ختم ہوجانےکے بعد بھی تحریک ختم ہونے والی نہیں۔ غزہ کی سرنگوں کو تباہ کرنا ایک پیچیدہ کام ہے جس میں چھ ماہ سے زیادہ لگ سکتے ہیں۔ کچھ ایساہی تجزیہ بلوم برگ کی سینئر دفاعی تجزیہ نگار محترمہ جمانا برساچی (Joumanna Bercetce کا ہھی ہے۔ ایک انتر ویومیں انھوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ میں مژاحمت کے خاتمے کے ہدف سے پیچھے ہٹتی دکھائی دے رہی ہے۔

فوج کے اندر پھیلی اسی مایوسی کا نتیجہ ہے کہ لبنان پر حملے کے بارے میں اسرائیلی قیادت یکسو نہیں۔ وزیراعظم، لبنان اور ایران کومزہ چکھانے کی دھمکی دے رہے ہیں لیکن واشنگٹن میں انکے وزیردفاع یوف گیلینٹ نے کہا کہ معاملے کا سیاسی و سفارتی تصفیہ اسرائیل کی ترجیح ہے۔ اخباری کانفرنس میں روائتی تکبر کا اظہار کرتے ہوئے وزیرباتدبیر بولے ہمارے بمباروں کے لئے لبنان کو پتھر کے دور میں پہنچا دینا کچھ مشکل نہیں اور پرامن تصفیے کی خواہش کوہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔

ایک طرف اسرائیلی وزیردفاع کی امریکہ میں شیخی تو دوسری جانب توانائی کے اسرائیلی ماپر اور بجلی تقسیم کرنے والے ادارے National Electrical System Management Company کے سی ای او، .شال گولڈاسٹائین فکر مند ہیں کہ لبنان سے میزائیلوں کی بارش بجلی کے نظام کو مفلوج کرسکتی ہے۔اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جناب گولڈ اسٹائن نے کہا کہ لبنانی مزاحمت کاروں کے پاس ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ تباہ کن میزائیل ہیں اور وہ بیک وقت 4000 میزائیل داغ سکتے ہیں۔امریکی ساختہ آئرن ڈوم دفاعی نظام ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ 150فضائی اجسام کو روک سکتا ہے۔ بچ نکلنے والے میزائیل power grids اور high-tension towersکو نشانہ بنائنگے۔ گولڈ اسٹائن کے خیال میں ایسا کرنا لبنانیوں کیلئے مشکل نہیں کہ آئرن ڈوم نچلی سطح پر پرواز کرنے والے میزائیلوں کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ برقی ماہر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی میں پینے کیلئے سمندر کے پانی کو میٹھا بنایا جاتا ہے اور بجلی معطل ہونے سے آبنوشی کا سارا نظام درہم برہم ہوجائیگا۔ صحت کے ماپرین کا کہنا ہے کہ اگر بجلی 72 گھنٹے سے زیادہ منقطع رہی تو گرمی کے اس موسم میں بچوں کی زندگیوں کو خطرہ ہوسکتا ہے۔لبنانی میزائیل،  بحیرہ روم میں گیس کی تنصیبات کو بھی نشانہ بناسکتے ہیں۔ وزیر توانائی ایلی کوہن نے مسٹر گولڈاسٹائین کے تجزئے کو غیر ذمہ دارانہ قراردیا ہے

اسرائیلی انتہاپسندوں کے ساتھ اسرائیلی وزیراعظم کو ملک کے دانشوروں کی جانب سے بھی گہری تنقید کا سامناہے۔سابق وزیراعظم یہودابراک سمیت درجنوں اسرائیلی سیاستدانوں، سابق حکومتی اہلکاروں، پروفیسروں اور سائنسدانوں نے ایک خط میں امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے وزیراعظم بن یامین نیتھن یاہو کا خطاب منسوخ کرنے کی درخواست کی ہے۔اسپیکر کانگریس کی دعوت پر نیتھن یاہو 24 جولائی کو مشترکہ اجلاس سے خطاب کرینگے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ نیتھن یاہو علاقے میں کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں اور انھوں نے طول اقتدار کیلئے اسرائیلی قیدیوں کی جان خطرے میں ڈل دی ہے۔ ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انتہا پسند اور غیر ذمہ دار سربراہ حکومت کو امریکی کانگریس میں خوش آمدید کہنا نیتھین یاہو کی جارحانہ پالیسی کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔دستخط کرنے والوں میں اسرائیل اکیڈمی برائے سائنس اور فنون کے صدر ڈاکٹر ڈیوڈ ہیرل، موساد کے سابق سربراہ تامر پاردو، موساد کے سابق سربراہ طالع سیسن اور نوبل انعام یافتہ ہارون شیشانور شامل ہیں۔

اہل غزہ کی پشت میں خنجر زنی کی ایک واردات پر گفتگو کااختتام:

غزہ حارحیت کے آغاز سے امریکہ اور یورپ نے اسرائیل میں اسلحے کا انبار لگادیا ہے، اس 'کارِ خیر' میں ہندوستان بھی پیچھے نہیں۔ معاملہ صرف توپ و تفنگ کا نہیں بلکہ F35بمباروں کیساتھ تباہ کن بحری جہازوں کی فراہمی کا کام بھی جاری ہے۔ بحری راستے سے غزہ اترنے کیلئے امریکہ نے دو نئےLanding Craft اسرائیل کیلئے تعمیر کئے ہیں. گزشتہ ہفتے اس کھیپ کا دوسرا جہاز کوممیوت INS Komemiyutامریکہ سے اسرائیل روانہ ہوا،جسےایندھن اور عملے کی خوراک و آرام کیلئے کسی بندرگاہ پر ٹہرنا تھا۔ ہسپانیہ (اسپین) نے اس جہاز کو اپنی بندرگاہ پر رکنے کی اجازت دینے سے یہ کہہ کر انکار کردیاکہ انکا ملک غزہ کی خلاف جارحیت میں تعاون نہیں کرسکتا۔ برطانوی کالونی جبرالٹر نے بھی معذرت کرلی، لیکن مراکش نے نہ صرف اجازت دیدی بلکہ طنجہ کی بندرگاہ پر جہاز میں ایندھن بھرنے کے ساتھ عملے کی “عرب روایات” کے مطابق بھرپور تواضع بھی کی گئی

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل 5 جولائی 2024

ہفت روزہ دعوت دہلی 5 جولائی 2024

روزنامہ امت کراچی 5 جولائی 2024

ہفت روزہ رہبر سرینگر 7 جولائی 2024


ایران کے صدارتی انتخابات، غیر فیصلہ کن اب ماہر امراض قلب اور سفارتکار کے درمیان براہ راست مقابلہ ہوگا

 

ایران کے صدارتی انتخابات، غیر فیصلہ کن

 اب ماہر امراض قلب اور سفارتکار کے درمیان براہ راست مقابلہ ہوگا

ایران  میں نئے صدر کیلئے 28 جون کو ووٹ ڈالے گئے۔ صدارتی انتخابات اگلے برس ہونے تھے لیکن 19 مئی کو صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں المناک وفات کی وجہ  سے  چناو ایک برس پہلے منعقد ہوا۔

انتخابات کیلئے نامزدگی کا مرحلہ 30 مئی سے شروع ہوکر چار جون کو مکمل ہوگیا۔جسکے بعد کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال ہوئی۔ایرانی دستور کے تحت   امیدواروں کی جانچ پڑتال 12 رکنی شوری نگہبان کرتی ہے۔ شوریٰ نگہبان کیلئے چھ فقہا کا انتخاب رہبر ِمععظم فرماتے ہیں جو آجکل حضرت علی خامنہ ای ہیں۔ باقی چھ ارکان   کا  انتخاب، قاضی القضاۃ، کی فراہم کردہ  ججوں کی فہرست   سے ایرانی مجلس (پارلیمان ) کرتی ہے۔

شوریٰ نگہبان نے   چار خواتین اور سابق صدر محموداحمدی نژادسمیت 74 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کرکے 6 افرادکو انتخاب لڑنے کی اجازت دی ۔ امیدواروں کی حتمی فہرست کچھ اسطرح تھی

·         تہران کے  رئیس شہر  علی رضا زاکانی: اٹھاون برس کے زاکانی فقہ کے عالم اور پارلیمانی تحقیقی کمیٹی کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ زاکانی صاحب ہفت روزہ پنجرہ کے مدیر اور آن لائن جہاں خبر رساں ایجنسی کے مالک ہیں۔

·         ڈاکٹر امیر حسین قاضی زادہ ہاشمی: 53 سالہ ڈاکٹر ہاشمی، ایران کے مایہ ناز ماہر امراض ناک کان و گلا (ENT) ،ایرانی پارلیمان کے رکن اور شہدا کے اہل و عیال کی دیکھ بھال کرنے والے ادارے شہدا فاونڈیشن کے سربراہ ہیں

·         پارلیمان کے  اسپیکر  محمد باقر قالیباف: ڈاکٹر قالیباف سیاسی جغرافیہ میں پی ایچ ڈی ہیں۔ انھیں ہوابازی سے گہرا شغف ہے ۔باسٹھ سالہ قالیباف صاحب پاسدارن انقلاب اسلامی کی فضائیہ کے کمانڈر، تہران کے رئیسِ شہر، اور پولیس کے سربراہ رہ چکے ہیں۔

·         سابق نائب وزیرخارجہ اور  مشہور سفارتکار سعید جلیلی: اٹھاون سالہ جلیلی صاحب سیاسیات میں پی ایچ ڈی ہیں۔ انکا مقالہ 'نبی مہربان(ص) کی خارجہ پالیسی' کے نام سے کتابی شکل میں شایع ہوا جسے بہت پزیرائی نصیب ہوئی۔ سعید جلیلی ایک  منجھے ہوئے سفارتکار ہیں۔موصوف  2015میں  سلامتی  کونسل کے مستقل ارکان اور جرمنی،  المعروف   P5+1سے جوہری مذاکرات کرنے والے وفد کے  رکن اور وزیرخارجہ جاوید ظریف صاحب  کےمعاون خصوصی تھے۔ ڈاکٹر جلیلی تہران کی دانشگاہ امام صادق (امام صادق یونیورسٹی) میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں اور 'محمدی(ص) سفارتکاری' انکا خاص مضمون ہے۔ جلیلی صاحب صاحبِ قرطاس و قلم کیساتھ صاحب سیف بھی ہیں۔ عراقی جارحیت کا مقابلہ کرتے ہوئے 1986 میں وہ شدید زخمی ہوئے۔ جلیلی صاحب کی اہلیہ فاطمہ سجادی ایک معروف معالج ہیں۔

·         رکن پارلیمان مسعود پرشکیان: سابق رکن پارلیمان و سابق وزیرصحت، مسعود پرشکیان جراحِ قلب (Heart Surgeon)کے ساتھ قرآن کے استاد ہیں اور انھیں نہج البلاغۃ   کا بڑا  حصہ  زبانی یاد ہے۔ڈاکٹر صاحب فوج میں بھی طبی خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ اپنا مطلب چلانے کیساتھ جناب مسعود، دانشگاہ علومِ پزشکی (University of Medical Science)تبریز میں پوفیسر بھی ہیں۔ آدربائیجان سے تعلق رکھنے والے 69 سالہ ڈاکٹر مسعود، نسلاً کرد ہیں۔

·         وزیرانصاف مصطفےٰ  پورمحمدی خانقاہ حقانیہ، قم سے فقہ اور شریعت میں 'درجہ چار' کی سند لے چکے ہیں ۔ یہ سند ایچ ڈی کے مساوی سمجھی جاتی ہے ۔ محمدی صاحب وزیرسراغرسانی بھئ رہ چکے ہیں

ایرانی سیاست کا کمال یہ ہے کہ وہاں انتہائی لائق و فائق اور تجربہ کارامیدوار سامنے آتے ہیں۔ جیسا کہ تعارف سے ظاہر ہے کہ اس بار بھی تمام کے تمام امیدوار اعلیٰ تعلیمیافتہ اور میدان سیاست کے شہسوار تھے۔ایرانی صدارت کا خواہشمند ہرشخص اس سے پہلے کسی نہ کسی عوامی منصب پرفائز اور قائدانہ و تنظیمی صلاحیتوں سے مال مال ہے۔نوشتہ دیوارپڑھ کر انتخابات سے ایک دن پہلے ڈاکٹر امیر حسین قاضی زادہ ہاشمی اور علی رضا زاکانی دستبردار ہوگئے۔  

ایران میں ووٹروں کی کم سے کم عمر 18 سال ہے اور دوسرے  ممالک میں رہنے والے ایرانیوں کیلئے دنیا بھر میں 250 انتخابی مراکز قائم کئے گئے تھے، ایران میں رجسٹرڈ ووٹروں کی کل تعداد 6 کروڑ 10 لاکھ ہے۔

انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا تناسب 39.93فیصد رہا۔ مسعود پرشکیان 44.36فیصد ووٹ لیکر پہلے نمبر پر آئے اور 40.35فیصد رائے دہندگان نے سعید جلیلی کے حق میں رائے دی۔ باقر قالیباف 14.41فیصد لیکر تیسرے نمبر پر رہے جبکہ مصطفےٰ پورمحمدی کے حاصل کردہ ووٹ ایک فیصد سے کم تھے۔  ضابطے کے تحت کامیاب امیدوار کیلئے کم ازکم پچاس فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔ چونکہ کوئی بھی امیدوار اس نشان تک نہ پہنچ سکا اسلئے پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والے مسعود پرشکیان اور سعید جلیلی کے درمیان 5 جولائی کو براہ راست مقابلہ ہوگا جسے Run-offمرحلہ کہا جاتا ہے۔

ہفت وزہ فرائیڈے اسپیشل 5 جولائی 2024

ہفت روزہ دعوت دہلی 5 جولائی 2024

ہفت روزہ رہبر 7 جولائی 2024


 

Friday, June 28, 2024

سرائیلی وزیرعظم کی جھنجھلاہٹ غزہ مزاحمت ایک نظریہ ہے،جسے فنا کرنا ممکن نہیں۔ فوجی ترجمان کا اعتراف لبنان اسرائیل جنگ کا خطرہ؟؟؟

 

 اسرائیلی وزیرعظم کی جھنجھلاہٹ

غزہ مزاحمت ایک نظریہ ہے،جسے فنا کرنا ممکن نہیں۔ فوجی ترجمان کا اعتراف

لبنان اسرائیل جنگ کا خطرہ؟؟؟

غزہ میں عسکری ہدف کے حصول میں ناکامی پر اسرائیلی وزیراعظم اضطراب کا شکار ہیں۔ گزشتہ ہفتے ایک نشری تقریر میں جناب نیتن یاہو نے شکوہ کیا کہ امریکہ نے اسلحے کی فراہمی روکدی ہے جسکی وجہ سے اسرائیلی فوج دہشت گردوں کے خلاف موثر کاروائی نہیں کرپارہی۔ اسلحہ ملے تو ہم اپنا ہنر دکھائیں۔ Give us the tools and we'll finish the job۔ تل ابیب میں انکی تقریر جاری ہی تھی کہ واشنگٹن میں صحافیوں کو طلب کرکے امریکی حکومت کی ترجمان محترمہ کرین جین پئیر(Karine Jean-Pierre) بولیں 'بی بی کی بات درست نہیں۔ اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی جاری ہے، بس 2000 پونڈ کے بموں کی فراہمی معطل کی گئی ہے اور وہ بھی ر فح پر حملے کے بعد'۔ امریکی ترجمان کے مدافعانہ لہجے اور انداز سے صاف لگ رہاتھا کہ صدر بائیڈن خوف میں مبتلا ہیں اور انھیں ڈر ہے کہ کہیں اسرائیلی ترغیب کار (Lobbyists) انکے خلاف مہم نہ شروع کردیں اسی لئے صفائیاں پیش کی جارہی ہیں۔

پئے درپئے ناکامیوں نے وزیراعظم کے ساتھ اسرائیل کے خاندانِ اول میں جھنجھلاہٹ پیدا کردی ہے۔ فرزندِ اول یار نیتن یاہو نے انسٹا گرام پر ایک پوسٹ میں اب تک کی ناکامی کا الزام ہنگامی کابینہ سے علیحدہ ہونے والے نیشنل یونٹی پارٹی کے سربراہ بینی گینٹز، فوج، خفیہ ایجنسی اور عسکری محکمہ سراغرسانی کے سربراہ پر دھر دیا۔ صاحبزادے کے خیال میں بینی گینٹز 'خیالی و تصوراتی بادشاہ' ہیں۔ پوسٹ میں فوج کے سربراہ جنرل حلوی، خفیہ ایجنسی Shin Betالمعروف شاباک کے ڈائریکٹر جنرل رونن بار اور عسکری محکمہ سراغرسانی کے قائد ہارون خلیفہ کو 'مہلک ناکامیوں' کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے پوچھا گیا ہے کہ ان مسخروں کا تقرر کس نے کیا؟؟ ان تینوں کی تعیناتی سابق وزرائے اعظم نیفتالی بینیٹاور یار لیپیڈ کے دور میں ہوئی تھی جب بینی گینٹز وزیردفاع تھے۔

فراہمیِ اسلحے پر پابندی کے رونے دھونے کیساتھ اسرائیلی حکومت اپنی جارحیت کادائرہ لبنان تک بڑھا کر اسے ایک علاقائی جنگ میں تبدیل کردینے کی خواہشمند یے۔منگل 18 جون کو شمالی کمان کے سربراہ میجر جنرل اوری گورڈِن (Ori Gordin)کی زیرصدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں دوسرے جرنیلوں کے علاوہ آپریشنل ڈائریکٹوریٹ کے قائد عدد بسیوک (Oded Basiuk)نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد جو فوجی اعلامیہ جاری ہوا اسکے مطابق 'اجلاس میں لبنان پر حملے کے لئے آپریشنل منصوبوں کی منظوری دی گئی اور چوٹی کے کمانڈروں نے زمین پر فورسز کی تیاری کو تیز کرنے کے بارے میں بھی فیصلے کیے'۔ حوالہ: ٹائمز آف اسرائیل۔

جب واشنگٹن میں صحافیوں نے اس خبر پر تبصرہ کرنے کیلئے امریکی فوج کے ترجمان جنرل پیٹرک رائیڈر سےرابطہ کہ کیا تو جنرل صاحب نے فرمایا 'مشرق وسطیٰ میں علاقائی جنگ کسی کے مفاد میں نہیں اور اسی کیساتھ صدر بائیڈن نے اپنے معتمد خاص  ایمس ہکسٹین (Amos Hochstein) کو علاقے کے دورے پر بھیج دیا۔ اکیاون سالہ ایمس، توانائی کی دنیا میں ترغیب کاری سے وابستہ رہے ہیں جسکی وجہ سے خلیجی ممالک میں بہت اوپر کی سطح تک انکی رسائی ہے۔راسخ العقیدہ یہودی، ایمس کے  اسرائیلی قیادت سے بھی گہرے  مراسم ہیں۔ اجکل جناب ہکسٹین توانائی اور سرمایہ کاری کیلئے صدر بائیڈن کے مشیر ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے دھمکی کا لبنان کے مزاحمت کاروں نےاسی انداز میں جواب دیا۔ بیروت سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ لبنانی جنگ کو طول نہیں دیا چاہتے لیکن ہم نے چوڑیاں بھی نہیں پہن رکھیں۔ حملے کی صورت میں زمین، فضا اور سمندر ہرجانب سے اسرائیل کو نشانہ بنایا جائیگا اور تل ابیب کی طرح ہم بھی کسی قانون و ضابطے کی پابندی نہیں کرینگے۔ مزاحمت کاروں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ حملے کی دھمکی دیکر اسرائیل ہمیں ڈرا رہا ہے حالانکہ ڈرنا انھیں چاہئے کہ ہماری جوابی کاروائی انھیں ریزہ ریزہ کرسکتی پے۔ اس خبر پر کہ اسرائیلی فضائیہ حملے کیلئے یونانی قبرض کے ہوائی اڈے پر جنگی طیارے تعینات کررہی ہے، مزاحمت کاروں نے متنبہ کیا کہ قبرص زیادہ شوخیاں نہ دکھلائے، کوئلے کی دلالی میں ہاتھ کالے ہوسکتے ہیں، اسرائیل سے گٹھ جوڑ انھیں بہت مہنگا پڑیگا۔

لبنانی مزاحمت کاروں کی دھمکی پر یونانی قبرص کے صدر Nikos Christodoulides نے فوراً ایک بیان جاری کیا کہ (یونانی) قبرص کسی علاقائی تنازعے میں فریق نہیں۔ کشیدگی کے پرامن حل کا حصہ بننا ہماری ترجیح ہے لیکن جھگڑے میں فریق بننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

امریکی نمائندے اموس ہکسٹین سے تفصیلی ملاقات کے بعد بھی تل ابیب سے جواشارے مل رہے ہیں اسکی مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے لبنان پر حملے کی منظوری دیدی ہے۔اسے ستم ظریفی کہئے یا بے شرم سفارتکاری کہ میڈیا پر اسرائیل کو لبنان سے جنگ نہ کرنے کا مشورہ دیا جارہا ہے  اور دوسری طرف  واشنگٹن میں ملاقات کے دوران امریکی وزیرخارجہ انتھونی بلینکن اور قومی سلامتی کے مشیر جیک سولیون نے اسرائیل کے وزیرتزویراتی امور ران ڈڑمر اور مشیر سلامتی زکی حنیگبی کو جنگ کی صورت امریکہ کی جانب سے مکمل حمائت کا یقین دلایا۔حوالہ CNN

اسرائیلی فوج کا بڑا حصہ گزشتہ آٹھ ماہ سے غزہ میں برسرِ پیکار ہے جہاں فوج کا جانی و مالی نقصان بڑھتا جارہا ہے۔ پرکشش تنخواہوں اور مراعات کے باوجود نوجوان بھرتی سے ہچکچا رہے ہیں۔ اسی بنا پر کنیسہ میں ایک مسودہ قانون (بل) پیش کیا گیا ہے جسکے تحت ریزرو(reserve)دستوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر ایک سال بڑھادی جائیگی۔اس تناظر میں ایک نیا محاذ کھول دینا تھکن کا شکار اسرائیلی فوج کیلئے اتنا آسان نہیں۔ 

امریکی وزارت دفاع نے بھی اسرائیل کو لبنان کے خلاف کھلی جنگ شروع نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ واشنگٹن کے عسکری ماپرین کا خیال ہے کہ لبنانی مزاحمت کاروں کے پاس ہزاروں راکٹ، میزائیل اور ڈرون ہیں۔ اگر بیک وقت سینکڑوں راکٹ داغ دئے گئے تو سب کو فضا میں ناکارہ بنادینا آئرن ڈوم دفاعی نظام کیلئے ممکن نہ ہوگا اور غچہ دے جانیوالے راکٹ و ڈرون بڑی تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے لبنان کے جاسوسی ڈرون نے  حیفہ میں اسرائیل کے حساس ترین فوجی اڈے کی کامیابی سے فلمبندی کی۔ جاری ہونے والے نو منٹ کے اس بصری تراشے میں اڈے کے اہم مقامات کی نشاندپی کی گئی ہے۔اسرائیلی فوج نے اس ویڈیو کو خودساختہ یا جعلی نہیں کہا لیکن وضاحت کی کہ ہمارے ترکش میں اور بھی بہت سارے تیر ہیں جو ویڈیو میں نظر نہیں آئے۔اگراسرائیل کے دعوے کو درست مان لیا جائے تب بھی اتنا تو ثابت ہوگیا کہ لبنانی مزاحمت کاروں کے ہوپو (Hoopoe)ڈرون امریکہ کے مشہور زمانہ آئرن ڈوم دفاعی نظام سے مخفی رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

غزہ کی حمائت میں لبنان کیساتھ یمن کے ایران نواز حوثی بھی سرگرمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایک ہفتہ پہلے لائیبیریا کے پرچم بردار یونانی جہاز Tutorکو حوثیوں نے بحیرہ احمر میں غرق کردیا۔ جہازوں کی آمدورفت پر نظر رکھنے والے برطانوی ادارےUKMTOنے  اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایامیزائیل اور ڈرون کا نشانہ بننے والا جہاز اٹھارہ جون کو ڈوب گیا۔اس حملے میں عملے کا ایک فلپائنی کارکن بھی ہلاک ہوا۔ مال بردار جہاز پر مبینہ طور پر اسرائیل کا سامان تجارت لدا تھا۔مارچ میں اسرائیل کیلئے کھاد سے لدا Belizeکا پرچم بردار برطانوی جہاز Rubynarبھی اسی مقام پر غرق ہوچکا ہے۔

اسلحہ برآمدات کے باب میں اسرائیلی میڈیا نے گزشتہ ہفتے ایک سنسنی خیز انکشاف کیا جسکے مطابق متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش نے 2022 میں اسرائیل سے مجموعی طور پر تین ارب ڈالر کا اسلحہ خریدا جو تل ابیب سے اسلحے کی کُل برآمد کا 24 فیصد تھا۔ خریدے جانیوالے سامان میں ڈرون، ٹینک شکن میزائیل اور جاسوسی کے آلات شامل ہیں۔ گزشتہ سال کے اختتام پر غزہ خونریزی کی وجہ سے  2023 میں ان ملکوں کی خریداری کم ہوکر 3کروڑ نوے لاکھ ڈالر رہ گئی۔

غزہ کے زمینی حقائق پر فوج اور حکومت کا تجزیہ بالکل مختلف ہے۔ وزیراعظم نیتن یاہو بار بار اپنے اس عزم کا اظہار کررہے ہیں کہ پٹی سے مستضعفین کے مکمل خاتمے کے بعد ہی جنگ بند ہوگی اور انکا خیال ہے کہ اس سال کے آخر تک یہ ہدف حاصل ہوجائیگا۔ گزشتہ ہفتے وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ ر فح سے مزاحمت کاروں کی نصف تعداد موت کے گھاٹ اترچکی اور سرنگوں میں قائم اسلحہ سازی کے کارخانے اور گودام تباہ کردئے گئے۔ لیکن یوم عرفہ کو تابڑ تؤر حملوں میں مزاحمت کاروں نے 11 فوجیوں کو ہلاک اور درجنوں کو شدید زخمی کرکے اس دعوے کی قلعی کھولدی۔

اس حوالے سے  اسرائیلی فوج کے ترجمان رئر ایڈمرل ڈینیل ہیگاری (Daniel Hagari) کے انٹرویو نے اسرائیل میں سنسنی پیدا کردی ہے ۔ عبرانی ٹی وی چینل 13 پر 20 جون کو گفتگو کرتے ہوئے  شریک امیرالبحر نے کہا کہ 'غزہ مزاحمت ایک نظریہ ہے جسے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ جو سمجھتے ہیں کہ مزاحمت جلد ختم کر دی جائیگی وہ قوم کو گمراہ کررہے ہیں۔ (نظرئے کی بیخ کنی کیلئے) اگر حکومت نے متبادل حکمت عملی وضع نہ کی تو (مزاحمت) باقی رہیگی'۔ اسکی وضاحت کرتے ہوئے فوجی قیادت نے کہا کہ میڈیا پر جناب ہیگاری کے انٹرویو کا تجزیہ  سیاق و سباق سے ہٹ کر کیا جارہا ہے۔ انکے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ عسکری کاروائی کے ساتھ مقامی لوگوں کے تعاون سے ذہنی تطہیر کی مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی تجزیہ نگار نے اس وضاحت کو سنجیدہ نہیں لیا۔ یہ بات امریکہ کے عسکری ماہرین بھی کہہ رہے ہیں کہ مستضفعفین روائتی پیشہ ور فوج نہیں بلکہ نظریاتی جماعت ہے۔ اسرائیلی جارحیت سے مزاحمت کی عوام میں پزیرائی اور افرادی قوت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

دوسری طرف اسرائیل میں نیتن یاہو کے استعفے اور نئے انتخابات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ نیتھن یاہو کے استعفے کیلئے 16 سے 22 جون تک ہفتہ تعطل (Disturbance Week)منایا گیا۔ درجنوں انعام پانے والے 70 سالہ دانشور اور عبرانی زبان کے محقق و مصنف ڈیوڈ گراسمین نے تل ابیب کے مضافاتی علاقے میں اسحاق رابن المعروف کریا (Kirya) فوجی اڈے کے باہر امن ریلی سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ  ہمیں ایک بڑی لڑائی کا سامنا ہے اور یہ جنگ اسرائیل کے گلی کوچوں میں ہوگی۔ ایک شخص ہمارے جگر گوشوں کی لاشوں پر اپنے اقتدار کا محل تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ ہم ایسا نہیں ہونے دینگے۔ ہمارے بچے فوجی وردی پہن کر اور اسلحہ سجا کر سرحد پر نہیں جائینگے ہم انھیں قرطاس و قلم دیکر اسکول اور مدارس بھیجیں گے تاکہ یہ انسانیت کو قتل کرنے کے بجائے انکی راحت کا سامان بنیں۔

گھیراو کے دوران مشتعل مظاہرین نے وزیراعظم کی رہائش گاہ کے سامنے گملوں کو آگ لگادی۔ بجلی کے پول گرادئے اور گیٹ پر لگے بلب آور ارائیشی قمقمے تؤر دئے گیے۔مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے Water Cannonسے چھوڑی جانیوالی پانی کی دھار سے متعدد افراد کی آنکھوں میں شدید زخم آئے اور ایسے بہت سے مریض اب تک ہسپتال میں ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کے آتھ ہزار ڈاکٹروں نے اسرائیلی پولیس کمشنر کو خط لکھا کہ پانی کی دھار مجمع متشر کرنے کا صحت مندانہ طریقہ نہیں، اس سے آنکھیں ضایع ہوسکتی ہیں۔ پولیس گردی کا دفاع کرتے ہوئے برسراقتدار لیکڈ پارٹی کے رہنما نسیم وٹوری (Nessim Vaturi)نے  حکومت کی مخالفت اور امن معاہدے کے حق میں مظاہرے کرنے والوں کو دہشت گردوں کی بی ٹیم قراردیا۔

صدر بائیڈن کی جانب سے  اسرائیل کی غیر مشروط حمائت سے انکی انتظامیہ میں بیچینی بھی بڑھتی جارہی ہے اور وزارت خارجہ کے ڈپٹی اسسٹنٹ سکریٹری(نائب وزیرخارجہ) برائے اسرائیل و فلسطینی امور اینڈریو ملر نے استعفیٰ دیدیا۔ ملز صاحب نے استعفیٰ تو بظاہر خانگی مصروفیتوں کی بنا پر دیا ہے لیکن انکے قریبی حلقوں کا کہنا کہ وہ اسرائیل کی غیر مشروط پشت پناہی اور غزہ نسل کشی پر بائیڈن انتطامیہ کی بے حسی سے بہت پریشان تھے۔ واشنگٹن پوسٹ نے وزارت خارجہ کے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ جناب ملز اسرائیل کے پرجوش حامی ہیں لیکن غزہ میں نیتن یاہو حکومت کے اقدامات کو وہ بنیادی انسانی اقدار اور اخلاقیات سے متصادم سمجھتے ہیں۔

عالمی سطح پر فلسطینی ریاست کی حمائت بڑھتی جارہی ہے۔ چار جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کیلئے برطانیہ کی لیبر پارٹی نے اپنے منشور میں ایک آزاد و خودمختار ریاست کے قیام کو فلسطینیوں کا ناقابل تنسیخ حق تسلیم کیا ہے۔ منشور میں فلسطینی ریاست کو اسرائیل کی طویل مدتی سلامتی کے لیے 'ضروری' قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہم ایک فلسطینی ریاست کو علاقے میں منصفانہ اور پائیدار امن کیلئے ضروری سمجھتے یعنی محفوظ اسرائیل کے ساتھ ایک آزاد و خودمختار فلسطین۔ جمعہ 21 جون کو مغربی ایشیا کے ملک آرمینیا نے فلسطین کو آزاد و خودمختار ریاست تسلیم کرلیا۔ وزارت خارجہ کے اعلامئے میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا پائیدارامن دوریاستی حل سے وابستہ ہے۔

ذکر جب چھڑگیا قیامت کا ۔۔ بات پہنچی تری جوانی تک کہ امریکی طلبہ تحریک کا ذکر کئے بغیر اہل غزہ کا تذکرہ مکمل نہیں ہوسکتا۔ بیس جون کو نیویارک کی جامعہ کولمبیا سے گرفتار ہونے والے 46 طلبہ، اساتدہ اور غیر تدریسی عملے کے ارکان کو عدالت نے پیش کیاگیا۔ یہ افراد 30 اپریل سے زیرِ حراست تھے۔ جج Kevin McGrathنے 30 افراد کے خلاف مقدمات کو ابتدائی سماعت کے بعد فوری طور پر خارج کردیا۔ایک لڑکے کے خلاف مقدمہ سرکاری وکیل نے واپس لے لیا۔جن باقی 15 لوگوں پر تشدد اور توڑ پھڑ کے الزامات تھے انھیں پیشکش کی گئی کہ اگر وہ مستقنل میں نیک چال چلن کا وعدہ کریں یعنی مزید مظاہرہ نہ کرنے کی تحریری ضمانت دیدیں تو ان کے خلاف مقدمات واپس لے لئے جائینگے.

طلبہ نے جج کے سامنے باآواز بلند معافی مانگنے سے انکار کردیا۔ اپنے مشترکہ تحریری بیان میں ان نوجوانوں نے کہا کہ ہم فلسطین کی آزادی اور اہل غزہ کے حقوق کی حمائت سے کسی قیمت دست بردار نہیں ہونگے اور اپنے اس عزم و عہد کی بھاری سے بھاری قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 28 جون 2024

ہفت روزہ دعوت دہلی 28 جون 2024

روزنامہ امت 28 جون 2024

ہفت روزہ رہبر سرینگر 30 جون 2024


Thursday, June 20, 2024

اسرائیل، امریکہ اور خلیجی جرنیلوں کے 'مشاورت' دوتہائی فلسطینی فتح کیلئے پرامید اسرائیلیوں کو نقل مکانی کے بحران کا سامنا

 

اسرائیل، امریکہ اور خلیجی جرنیلوں کے 'مشاورت'

دوتہائی فلسطینی فتح کیلئے پرامید

اسرائیلیوں کو نقل مکانی کے بحران کا سامنا

اہلِ غزہ نے رمضان اور عیدالفطر کے بعد عیدِ قرباں بھی آتش و اہن کی موسلا دھار بارش میں منائی۔ اب سے ایک ماہ بعد سانحہ کربلا کی یاد منائی جائیگی جب محبوبِ خدا (ص) کے محبوب نظر نے خلیل اللہ ؑ کے لختِ جگر ؑکاعزمِ پورا کردکھایا۔ نہائت اسکی حسین (ر) ابتدا ہے اسماعیل ؑ۔ غزہ اور غرب اردن میں جہاں ذبیح اللہ ؑ کی سپردگی اور امامِ عالی مقام (ر) کے پرعزم صبرکے اتباع کا شاندار مظاہرہ نظر آرہا ہے وہیں قید وبند کی صعبوبتوں کاخندہ پیشانی سے سامنا کرکے بچیوں، باعفت خواتین اور کم سن نوجوانوں سمیت ہزاروں فلسطینی فرزندِ اسرائیل ؑ کی سنت بھی تازہ کررپے ہں۔کیا عجب کہ جیسے جرم پاکدامنی میں بند یوسف ؑ کو ان  کے رب نے زنداں سے نکال کر تختِ شاہاں عطا کردیا، ایسی ہی مہربانی ان نہتوں پر بھی ہوجائے کہ ہمارارب ہر چیز پر قادر ہے۔

نوٹ: حضرت یوسف ؑ کے والد، حضرت یعقوبؑ کی کنیت اسرائیل تھی اسی لئے انکی قوم بنی اسرائیل کہلائی

ڈھائی سو دن سے  جاری بربریت کی اس مشق نے ہزاروں معصوم شہریوں کیساتھ 15694بچوں کو پیوند خاک کردیا اور 17 ہزار بچے یتیم و بے سہارا ہوگئے۔ زخموں  سے کراہتے اور چیختے نونہالوں کی تعداد کا تخمینہ بھی مشکل ہے کہ اسپتال ریت کا ڈھیر ہیں اور  سڑکوں کے کنارے یہ پھول تڑپ رہے ہیں۔ غزہ کیساتھ غرب اردن میں بھی وحشیانہ کارواائیاں جاری ہیں۔جنین، نابلوس ، اریحا، تلکرم، رام اللہ اور مشرقی یروشلم پر اسرائیلی فوج کے دھاووں میں 7 اکتوبر سے مئی کے اختتام تک 26 کم سن بچوں سمیت 504 افراد جاں بحق اور 5400 سے زیادہ زخمی ہیں۔ گرفتار ہونیوالوں کی تعداد  9170 ہے۔ حملوں کے دوران ڈرون کے ذریعے میزائیل داغنے کے علاوہ کئی بار بمبار طیارے بھی استعمال ہوئے۔انسانی جانوں کیساتھ معاشی قتل عام اسرائیلی فوج کا ہدف نظر آرہا ہے۔ جنینن اور تلکرم میں کارخانوں کو چن چن کر تباہ کردیا گیا۔ غرب اردن ایک زرخیز علاقہ ہے کہ خود اللہ نے اسے برکت والی سرزمین کہا ہے۔ اسرائیلی فوج نے یہاں زینون، سنگترے، سیب اور انگوروں کےباغات کو پامال کردیا۔عیدالاضحیٰ پر قربانی کیلئے بھیڑ اور دنبے بھی سارے اسرائیل اور اردن کے کچھ علاقوں کو یہیں سے فراہم کئے جاتے ہیں لیکن حملوں کے بعد واپس ہوتی اسرائیلی سپاہ  دنبوں کے گلے ہنکا کر اپنے ساتھ لے گئی۔ زراعت اجڑ جانے کی وجہ سے مویشیوں کیلئے چارہ بھی میسر نہیں یعنی ٖحیات کیساتھ اسباب حیات بھی ختم کئے جارہے ہیں۔

بائیڈن امن معاہدے کیلئے امریکی وزیرخارجہ انتھونی بلینلن کی پھرتیاں دیکھنے کے قابل ہیں۔ موصوف ناشتہ قاہرہ میں کرتے ہیں تو چائے کیلئے عمان تشریف لے آتے ہں۔ تل ابیب میں کوشر ظہرانہ تناول فرماے کے بعد قیلولہ ریاض میں ہوتا ہے۔ایک ہفتہ پہلے انھیں نے خوشخبری سنائی کہ اسرائیل نے بائیڈن کا تین مرحلوں پر مشتمل امن منصوبہ منظور کرلیا ہے۔امن معاہدے پر اسرائیلی آمادگی کی تصدیق کرتے ہوئے اسرائیل کے عبرانی چینل 12 نے بتایا کہ نیتھن یاہو حکومت نے بائیڈن امن منصوبے پر جو چار صفحاتی جواب بھیجا ہے اس میں قیدیوں کی رہائی سے پہلے ہی مستقل جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔ اسرائیل کے جواب میں غزہ سے مزاحمت کاروں کے اقتدار کے خاتمے پر بھی اصرار نہیں کیا گیا۔ موقف سے باعزت پسپائی کیلئے Permanent Cease Fire کےبجائے عسکری کشیدگی کا مستقل خاتمہ یا cessation of military hostilities permanentlyکے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔

اسی دوران  قاہرہ اور قطر سے اعلان ہوا کہ مجوزہ معاہدہ مستضعفین کو بھی  قبول ے لیکن اہل غزہ جنگ کے خاتمے اور اسرائیلی فوج کی واپسی کیلئے امریکہ اور اقوام متحدہ کی ضمانت چاہتے ہیں۔جناب بلینکن نے وضاحت کی اس درخواست کو ترمیم قراردیتے ہوئے اسے ناقابل عمل قراردیدیا۔اس پر تبصرے کرتے ہوئے مزاحمت کاروں کے ترجمان نے کہا کہ امریکی وزیرخارجہ غیرجانبدار ہیں اور نہ قابل اعتماد، انکا دوغلا رویہ قیام امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

امن کی بات چیت کیساتھ کچھ پراسرار بلکہ مشکوک سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔امریکہ کی آن لائن خبر رساں ایجنسی AXIOSنے انکشاف کیا کہ 10 جون کو اسرائیلی فوج کے سربرہ جنرل ہرزی حلوی (Herzi Halevi)نے بحرین، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، اردن اور مصر کے فوجی سربراہان سے ملاقات کی۔یہ اجلاس مناما، بحرین میں ہوا اور امریکی مرکزی کمان (Central Command)کے سربراہ جنرل مائیکل کوریلا (Michael Kurilla) اس نشست کے میزبان تھے۔ صحافتی و عسکری ذرایع کا کہنا ہے کہ  گفتگو کے دوران لبنان سےاسرائیل پر حملوں کے تناظر میں ایران کی گوشمالی اور علاقے میں تہران کے سفارتی و عسکری اثرات کو لگام دینے کی مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ اسی کیساتھ اسرائیل کے فوجی انخلا  کے بعد مستقبل میں غزہ کی صورت گری پر بھی بحث کی گئی۔امریکی مرکزی کمان اور اسرائیلی فوج کے ترجمانوں نے اس خبر پر تبصرے سے انکار کردیا لیکن تردید بھی نہیں کی۔

جنگ بندی پر نیتھن یاہو کی آمادگی زمینی حقائق کے ادراک و اعتراف کا مظہر ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق اسرائیلی فوج کے محکمہ سراغرسانی نے اپنی حکومت کو قیدیوں کی بازیابی کیلئے طاقت کے استعمال کی مزید کوئی کوشش نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ فوجی ذرایع کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی نگرانی پر مامور مزاحمت کاروں کو مبینہ طور پر ہدائت جاری کردی گئی ہے کہ آئندہ وہ 'قیدخانوں' کی طرف اسرائیلی چھاپہ ماروں کی حرکت کا مشاہدہ کرتے ہی قیدیوں کو ہلاک کردیں۔ اسرائیلی خفیہ ذرایع کے مطابق یہ 120 قیدی تین سے پانچ کی ٹولیوں میں پٹی کے مختلف  گھروں  پر رکھے گئے ہیں لہٰذا ان سب کو بیک وقت بازیاب کرانا ممکن نہیں۔ اس خبر نے اسرائیلی میں سنسنی پھیلادی۔

قیدیوں کے لواحقین، بازیابی کی کوششوں سے مستضعفین کو مشتعل کرنے کے بجائے امن معاہدے  پر زور دے رہے ہں۔اسی بناپر غزہ سے اسرائیلی فوج کی واپسی کا مطالبہ خود اسرائیل میں زور پکڑ گیا ہے۔ لوگوں کو ڈرہے کہ کہیں غلط اطلاع اور افواہ پر ہی انکے پیارے مارنہ دئےجائیں۔ قیدیوں کے رہائی اور امن معاہدے کیلئے جارحیت کے 250 دن مکمل ہونے پر اسرائیلی طلبہ،  اپنی قومی انجمن کی اپیل پر 250 منٹ کلاسوں سے باہر رہے۔امریکہ کے NBCٹیلی ویژن نے انکشاف کیا ہے کہ اسی خدشے کے پیش نظر امریکہ بہادر نے اسرائیل سے بالا بالا ان پانچ امریکی شہریوں کی رہائی کیلئے مستضعفین سے براہ راست مذاکرات شروع کردئے ہیں جنھیں سات اکتوبر کو پکڑا گیا تھا۔

گزشتہ ہفتے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی AFPپر جاری ہونے والے ضعیف خاتوں تامی میٹسگر (Tami Metsger)کے انٹرویو نے اسرائیلیوں کو رلادیا۔اس خاتون کے 79 سالہ شوہر جورام میٹسگر (Yoram Metsger)کا غزہ میں دوران حراست انتقال ہوگیا۔ تامی نے اپنے شوہر کی تصوہر گود میں رکھ کر زاروقطار روتے ہوئے کہا کہ کہ ا'گر بی بی ٰ(وزیراعظم نیتھن یاہو) کی سنگدل حکومت جنگ بند کردیتی تو میرا شوہر آج زندہ ہوتا۔ بی بی کے سینے میں دل ہے نہ اسکو انسانی جانوں کی پرواہ ۔اس بے حس حکومت نے میرا سہاگ لوٹ لیا'

اسی ہفتے عرب دنیا کے موقر مرکزدانش Palestinian Center for Policy and Survey Research(PSR) نے فلسطینی رائے عامہ کا ایک جائزہ شایع کیا ہے۔ یہ سروے، غربِ اردن، مشرقی بیت المقدس اور بے گھر اہل غزہ کی آرا پر مشتمل ہے، یعنی اس میں شمالی غزہ کے وہ علاقے شامل نہیں جو نسبتاً کم متاثر ہیں۔ جائزے کے مطابق،

غزہ کے 60 فیصد خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد اسرائیلی وحشت کی نذر ہوگیا  لیکن دوتہائی اہل غزہ کے خیال میں 7 اکتوبر کی کاروائی درست تھی اور 80 فیصٖد سمجھتے ہیں کہ اسکی وجہ سے مسئلہ فلسطین عالمی سطح پر اجاگر ہوا۔ دوتہائی فلسطینی مستضعفین کی فتح کے بارے میں اب بھی پرامید ہیں، تاہم غزہ کے رہائشیوں میں یہ تناسب 50 فیصد ہے جبکہ 25 فیصد لوکوں کا خیال ہے کہ اسرائیل جنگ جیت رہا ہے۔ فلسطینیوں کی اکثریت محمود عباس پر اعتماد نہیں کرتی اور 60 فیصد لوگ مقتدرہ فلسطین (PA)کی تحلیل چاہتے ہیں۔ اہل غزہ کی اکثریت دوریاستی حل کی حامی نہیں۔

ایک طرف بدترین مشکلات، جان و مال کے زیاں اور مکانات و زرعی زمینوں کی بربادی کے باوجود فلسطینی اپنی فتح  کے بارے میں پرامید ہیں تو دوسری جانب  اسرائیلیوں میں مایوسی پیدا ہورہی ہے۔ جنگی کابینہ سے حزب اختلاف کی علیحدگی کے بعد امن کے خواہشمند اسرائیلی خود کو انتہا پسند حکومت کے رحم و کرم پر محسوس کر رہے ہیں۔

غزہ سے ملحق علاقوں میں رہنے والوں کو گھر چھوڑے  اٹھ ماہ سے زیادہ ہوچکے  ہیں۔ سات اکتوبر کے بعد غزہ کے شمال میں اشدود اور اثقلان سےہزاروں لوگ وسط اسرائیل منتقل ہوئے۔ کچھ عرصہ حکومت نے ان لوگوں کو ہوٹلوں میں رکھا لیکن سرکاری میزبانی ختم ہونے کے بعد بہت سے خاندانوں نے اب میدانوں اور پارکوں میں خیمے گاڑ دئے ہیں۔ لبنان سے میزائیل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں الجلیل اور الناصرہ کا علاقہ بھی مخدوش ہوگیا ہے۔ گزشتہ ہفتے وزارت تعلیم کے ترجمان نے بتایا کہ اگر غزہ جنگ اور لبنان سے حملے ختم نہ ہوئے تو الخلیل، الناصرہ، اثقلان اور اشدود کے اسکول،  اگست میں نئے تعلیمی سال کے آغاز پر نہیں کھلیں گے۔اس اعلان کے بعد ان علاقوں سے نقل مکانی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ یعنی بہت سے اسرائیلی بے گھر ہوکر اقوام متحدہ کی اصطلاح میں Internally Displaced People (IDPs) کی حیثیت اختیار کرچکے ہے۔

ادھر امریکی جامعات اور شہروں میں غزہ کیلئے مظاہرہ کرنےوالوں کیخلاف انتقامی کاروائیاں عروج پر پیں۔ شکاگو کی نجی جامعہ ڈی پال (DePaul University)میں حیاتیات (Biology)کی ایک پروفیسر کو برطرف کردیا گیا۔ پروفیسر این  ڈی اکینو (Ann d' Aquino)نے اپنی کلاس کے طلبہ کو مضامین لکھنے کیلئے جو موضوعات دئے ان میں Gaza Genocide بھی شامل تھا۔یہ جامعہ 1898میں قائم ہوئی اور حیاتیاتی علوم میں جستجو و تحقیق کا ایک موقر ادارہ سمجھی جاتی ہے۔ اپنی مقبول پروفیسر کی برطرفی پر طلبہ نےزبردست احتجاج کیا۔ پروفیسر صاحبہ نے اپنے شاگردوں کو پرامن رہنے کی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی کےساتھ اب جامعات میں علمی مباحثوں کی روائت بھی ختم کی جاری ہے۔ ڈاکٹر اکینونے خدشہ ظاہر کیا کہ اس قسم کے اقدامات سے اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں تحقیقی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

گرمی کی تعطیلات کی وجہ سے صرف summer semesterکے طلبہ کلاسوں میں آرہے ہیں چنانچہ جامعات میں سرگرمیاں ماند پڑ گئی ہیں لیکن رہائشی علاقوں میں مظاہرے جاری ہیں۔ گزشتہ ہفتے نیویارک کے جرمن قونصل خانے کے  باہر مظاہرہ کیا گیا اور غزہ میں بہنے والے  سرخ لہو اور اس خونریزی میں جرمنی کی سہولت کاری کے خلاف بطور احتجاج قونصل خانے کے مرکزی دروازے پر سرخ رنگ پھینک دیا گی۔ اسی روز نیویارک کے ریلوے اسٹیشن پر زبردست مظاہرہ ہوا جس میں اسرائیل کے خلاف نعروں پر رئیسِ شہر سخت برہم ہیں اور انھوں نے آئندہ اس قسم کے مظاہرے روکنے کیلئے پولیس کا احکامات جاری کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ریل اڈے کے نعروں پر امریکی سینیٹ نے بھی 'تشویش' کا اظہار کیا اور قائد ایوان سینیٹر چک شومر نے کہا اسرائیل مردہ باد کا نعرہ ناقابل قبول ہےاور آزادی اظہار رائے کے نام پر اس قسم کے اشتعال انگیز نعرے لگانے کی اجازت نہیں۔

اور آخر میں گروپ 7کے سربراہی اجلاس کا ذکر۔ اٹلی میں ہونے والی اس بیٹھک کے افتتاحی اجلاس میں جنگی اخراجات کیلئے یوکرین کو 50 ارب ڈالر قرض دینے کا اعلان کیا گیابھی ہے۔اب یہ بھی سن لیجئے کہ رقم کہاں سے آئیگی؟؟؟

یوکرین پر حملے کے بعد امریکہ اور اسکے یورپی اتحادیوں نے اپنے ملکوں میں روسی ہوٹلوں، تیل کمپنیوں، بینکوں اور دوسرے تجارتی اداروں کی شاخوں اور اثاثہ جات کو منجمد کردیا تھا جن سے حاصل ہونے والی آمدی (سود) سے یوکرین کو قرض دیا جائیگا۔یعنی قزاقی کے مال سے 'دوست' کی مدد ہوگی۔ یہاں سگےاور سوتیلے کا فرق ایک بار پھر ظاہر ہوگیا۔ اسرائیل کو غزہ قتل عام کیلئے کئی سو ارب ڈالر بطور تحفہ پیش کئے گئے جبکہ یوکرین کو قرض دیا جارہا ہے۔ قرض کی شکل میں ملنے والی رقم کا 90 فیصد حصہ امریکی اور یورپی اسلحہ ساز کمپنیوں کے پاس چلا جائیگا اور یوکرینی اپنا پیٹ کاٹ کر سود کیساتھ قرض واپس کرینگے۔

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 21 جون 2024

ہفت روزہ دعوت دہلی 21 جون 2024

روزنامہ امت کراچی 21 جون 2024

ہفت روزہ رہبر سرینگر 23 جون 2024