Tuesday, October 15, 2024

ایران کا اسرائیل پر میزائیل حملہ، بھاری نقصان کے انکشافات بائیڈن انتظامیہ اسرائیل کے سامنے لاچارو بے بس لبنان میں اسرائیلی فوج کو شدید مزاحمت کا سامنا، ایک ڈویژن مزید فوج طلب

 

ایران کا اسرائیل پر میزائیل حملہ، بھاری نقصان کے انکشافات

بائیڈن انتظامیہ اسرائیل کے سامنے لاچارو بے بس

لبنان میں اسرائیلی فوج کو شدید مزاحمت کا سامنا، ایک ڈویژن مزید فوج طلب

بیروت پر وحشیانہ حملے کے جواب میں یکم اکتوبر کو ایرانی میزائیلوں کی یلغار سے تل ابیب کے ساتھ واشنگٹن بھی پریشان ہے۔صدر باییڈن اور نیتھن یاہو دونوں نے ایرانی حملےکو ناکام و غیر موثر قراردیا لیکن اب جو تفصیلات سامنے آرہی ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ضرب بڑی کاری تھی۔ آپریشن وعدہ صادق دوم کے نام سے ہونے والی اس کاروائی میں 181 فتاح اور خیبر شکن منجنیقی (Ballistic) میزائیل داغے گئے۔جدید میزائل شکن نظام سے لیس اردن، برطانیہ اور امریکی ٖفضائیہ نے بہت سے میزائیلوں کو اسرائیلی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کردیا اوراردن سے بچ نکلنے والے میزائیلوں کا راستہ روکنے کیلئے اسرائیلی حدود میں تعینات امریکی ساختہ آئرن ڈوم اور ایرو (Arrow)دفاعی نظام بھی مستعد تھے۔

لیکن امریکہ، برطانیہ، اردن اور اسرائیل کے فضائی دفاع کو روندتے ہوئے چند ایرانی میزائیل صحرائے النقب (Negev Desert) میں واقع انتہائی حساس اڈے نیوااتم (Nevatim) تک پہنچ گئے۔ امریکی ساختہF-35بمبار اسی اڈے سے اڑان بھرتے ہیں۔ اسرائیلیوں نے پہلے کہا کہ ایرانی میزائیل اڈے کے باہر گرے جس سے بیرونی دیوار کو نقصان پہنچا لیکن دو دن بعد جو تفصیلات سامنے آئیں  اس سے انکشاف ہوا کہ حملہ آور میزائیلوں نے   F35کے ہینگر اور رن وے کو نشانہ بنایا۔اسرائیلی اب بھی مُصر ہیں کہ حملے کے وقت ہینگر میں کوئی طیارہ موجود نہ تھا لیکن سیٹیلائٹ تصاویر پر اٹھنے والا دھواں بتارہا ہے کہ کچھ تو ہے جسکی پردہ داری ہے۔ نویتم کے علاوہ سیٹیلائٹ تصویروں پر دارالحکومت تل ابیب سے بارہ میل جنوب رہووتے (Rehovot)ضلع میں تل نوف (Tal Nof) کے فوجی ہوائی اڈے سے بھی دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔

تل نوف پر F-15 طیاروں کی مرمت و دیکھ بھال (Repair and Maintenance) کا کام ہوتا ہے۔ رہووتے ہی کے قریب ہدہشیران (Hod Hasharon)اڈے اور گدیرا (Gedera)عسکری ہائی اسکول پر بھی میزائیل گرنے کی اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے۔ یروشلم پوسٹ کے مطابق ہد ہشران میں ایک سو گھر متاثر ہوئے۔ اسی کیساتھ ایرانی میزائیلوں نے تل ابیب کے مضافات میں واقع خفیہ ایجنسی موساد کے مرکز اور فوج کے جاسوس ڈویژن المعروف Unit 8200کے ہیڈکوارٹر کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔موساد ہیڈکوارٹر کی دیوار کیساتھ زمین پر 50 فٹ چوڑے گڑھے سے اندازہ ہوتا ہے کہ عمارت کو خاصہ نقصان پہنچا ہے۔ دفاعی نظام سے گرائے جانیوالے میزائیل کے ملبے کی زد میں آکرغرب اردن کے شہر اریحا (Jericho)کا ایک 38 سالہ فلسطینی اسکول ٹیچر اپنی جان سے گیا۔

اسرائیل نے ایرانی حملے کا عبرتناک انتقام لینے کا اعلان کیا ہے۔قوم سے اپنے جذباتی خطاب میں وزیراعظم نیتھن یاہو نے کہا کہ ایران نے بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے جسکی اسے بھاری قیمت ادا کرنی ہوگی۔ غربِ اردن ، غزہ، لبنان، یمن، شام اور ایران "برائی کا محور" ہیں۔ نیکی کی عالمی قوتوں کو برائی کے محور کیخلاف اسرائیل کی پشت پناہی کرنی چاہئے۔

 آجکل وہاں عبرانی  سالِ نو روش ہشنا (Rosh Hashanah)  کی تعطیات ہیں اسلئے جوابی کاروائی یوم کپر کے بعد متوقع ہے۔ استغفار  و احتساب کا یہ  دوروزہ تہوار 11 اکتوبر کو منایا جائیگا۔ اسرائیلی جنگجو زور دے رہے ہیں کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرکے اس خطرے کو ہمیشہ کیلئے ختم کردینے کا وقت آچکاہے۔ سابق صدر ٹرمپ کی بھی خواہش ہے کہ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کے جوہری اثاثے پھونک دئے جائیں لیکن امریکی قیادت کو یہ خوف بھی ہے کہیں اس سے میدانِ جنگ مزید وسیع نہ ہوجائے؟۔ ایران کے روحانی پیشوا آئت اللہ خامنہ ای واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ 'یکطرفہ ضبط' کا وقت گزرگیا، اب اینٹ کا جواب پتھر سے دیاجائیگا۔ چار اکتوبر کو خطبہ جمعہ دیتے ہویے انھوں نے اسرائیل کے 'پشت پناہوں" کو متنبہ کیا کہ ایران کے خلاف کاروائی میں اگر کسی ملک گروہ یا قوت نے اسرائیل کا ساتھ دیا تو جوابی قدم میں اسرائیل کے سہولت کار بھی تہران کا ہدف ہونگے ۔

صدر بائیڈن نے اسرائیل کو شروع میں مشورہ دیا تھا کہ جوہری تنصیبات کے بجائے ایرانی تیل اور گیس کے میدانوں اور ٹینکرز کو نشانہ بنایا جائے۔ ریپبلکن پارٹی کے سینیر رہنما سینٹر لنڈسے گراہم کا بھی یہی خیال ہے کہ تیل صاف کرنے کے کارخانوں اور برآمدی بندرگاہوں کو تباہ کرکے تہران پر کاری ضرب لگائی جاسکتی ہے ۔ برا ہو حرص و ہوس کا کہ بڑی تیل کمپنیوں کیساتھ خلیجی ممالک بھی یہی خواہش کررہے ہیں تاکہ ایرانی تیل کے غائب ہونے سے پیدا ہونے والے خلا کو منہہ مانگے دام پورا کیا جائے۔ ایرانی پیداوار کا تخمینہ 40 لاکھ بیرل یومیہ ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب کیلئے اپنی پیداوار میں پندرہ لاکھ بیرل یومیہ اضافہ کچھ مشکل نہیں۔ایرانی مال  کے بازار سے غائب ہونے پر تیل کی قیمت میں کم از کم 20 ڈالر فی بیرل کا اضافہ ہوسکتا ہے۔

چار اکتوبر کو قصر مرمریں میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ تیل کی تنصیبات پر حملہ مناسب نہیں ہوگااور اسرائیل کو اسکے متبادل ہدف کا انتخاب کرنا چاہئے۔ایران پر حملے کی منصوبہ بندی کیلئے مرکزی امریکی کمان (CENTCOM)کے سربراہ جنرل مائیکل کوریلا تل ابیب پہنچ چکے ہیں۔

صدر بائیڈن امن کے بارے میں کتنے سنجیدہ اور مخلص ہیں اس سے قطع نظر اب ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اسرائیل نے امریکی صدر کو کسی بڑے قدم سے پہلے اعتماد میں لینا تو دور کی بات انھیں مطلع کرنا بھی ترک کردیا ہے۔ دودن پہلے وال اسٹریٹ جنرل میں سینیر صحافی محترمہ لارا سلائگمین (Lara Seligman)اور ہفت روزہ ٹائم کی نمائندہ محترمہ ویرا برگنگرن (Vera Bergengren)کے شایع ہونے والے مضمون کے مطابق یروشلم پر واشنگٹن کے اثرورسوخ کااب خاتمہ ہوچکا ہے اور اسرائیل اپنے دشمنوں کے خلاف امریکی رائے اور موقف کو نظرانداز کرکے اپنی مرضی سے کاروائی کررہا ہے۔ فاضل کالم نگاروں کا خیال ہے کہ اسرائیلی اقدامات کے خلاف جارحانہ موقف اختیار کرنے سے ڈیموکریٹک پارٹی کو سیاسی نقصان پہنچ سکتا ہے۔یا یوں کہئے کہ سیاست کے جبر نے صدر بائیڈن کو مدد لینے  والے اتحادی کے سامنے کاٹھ کا اُلو بنادیا ہے۔

رہی بات زمینی صورتحال کی تو وحشیانہ بمباری کے باوجود اسرائیلی افواج کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ کاروائی کا آغاز گزشتہ ہفتے  جنوبی لبنان کے شہر العدیسۃ پر چڑھائی سے ہوا جسے مزاحمت کاروں نے  پسپا کردیا۔ لبنانیوں نے ایک درجن اسرائیلی سپاہیوں کی ہلاکت اور کئی ٹینک تباہ کرنے کا دعویٰ، جبکہ اسرائیل نے اپنے  دوافسران سمیت 8 فوجیوں کی کی موت کا اعتراف کیا ہے۔

شدید بمباری کے بعد اسرائیلیوں نے دوسرے دن جنوبی لبنان کے کوہ عامل کے دامن میں مارون الراس کی جانب پیشقدمی کی کوشش کی لیکن شدید لڑائی کے بعد انھیں وہاں سے بھی پسپا ہونا پڑا۔ عسکری نامہ نگاروں نے علاقے سے ٹینک اور بکتر گاڑیاں اسرائیل کی طرف واپس آتی دیکھیں۔ مزاحمت کاروں کا کہنا ہے کہ دشمن کے 17 سپاہی مارے گئے۔اسرائیل نے اس جھڑپ میں اپنے ایک فوجی کے مارے جانے کا اعتراف کیا ہے۔اسی کے ساتھ مقامی کمانڈر نے کمک طلب کرلی اور ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق  98th بکتر بند ڈویژن کو میدان جنگ کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیاگیاہے۔ آپریش کے آغاز پر اسرائیلی فوج کے سربراہ نے کہا تھا کہ اس محدود و مختصر آپریشن کیلئے چند سو فوجی کافی ہونگے لیکن اب لبنان کے محاذ پر دوڈویژن یا  20 ہزار فوجی جھونک دئے گئے ہیں۔ زمین  پر ناکامی سے تلملا کر اسرائیلی فوج نے بیروت کے رہائشی علاقوں پر شدید بمباری کرکے دل کا بوجھ کم کیا۔موسلادھار بارش کی طرح برستے بموں سے اب تک 1400 لبنانی شہری جاں بحق، 30ہزار زخمی اور دس لاکھ بے گھر ہوچکے ہیں۔

لبنان سے راکٹ حملے بھی جاری ہیں۔ دواکتوبر کوتل ابیب کا ساحلی علاقہ بت یام ڈرون حملے کا نشانہ بنا اور نئے عبرانی سال پر غسلِ آفتابی سے لطف اندوز ہونے والوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ اسی دن صحت افزا پہاڑی مقام صفد پر چالیس راکٹ داغے گئے۔ چار اکتوبر کو عراق سے مقبوضہ گولان پر ڈرون حملہ ہوا جس میں دو اسرائیلی سپاہی ہلاک اور 24 شدید زخمی ہوگئے۔ گزشتہ اتوار، ساحلی شہر حیفہ پر حملے کے دوران فضائی دفاعی نظام پراسرار طور پر مفلوج ہوگیا اور لبنانی راکٹوں نے اسرائیل کے اس تیسرے بڑے شہر میں تباہی مچادی۔ اسی دوران سرحدی شہر کریات شمعونہ بھی نشانہ بنا

ایران کے میزائیل حملے اور لبنان و غزہ میں مزاحمت سے جھنجھلاکر اسرائیل  سفارتی جارحیت پر اترآیا ہے۔ وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کے معتمد عام انتونیو گچیرس کو “ناپسندیدہ شخص” قراردے دیا یعنی وہ تاحکم ثانی اسرائیل نہیں آسکتے۔ اس بات کا اعلان کرنے ہوئے  وزیرخارجہ اسرائیل کاٹز نے کہاکہ میزائیل حملے کے بعد مسٹر کچیرس نے ایران کا بطور جارح نام نہیں لیا جو صریح ناانصافی ہے۔ جناب کچیرس پرتگال کے شہری ہیں

لبنان کیساتھ غزہ اور غربِ  اردن پر بمباری بھی جاری ہے۔جامعات، مساجد اور مدارس کے بعد اب خیمے اور چادریں گھیر کر بنائےگے اسکول اسرائیلیوں کا ہدف ہیں جسکا مقصد بچے کچھے اساتذہ کو ٹھکانے لگانا ہے۔ تین اکتوبر کو شمالی غربِ اردن میں طولکرم پر شدید بمباری کی گئئ جس سے معصوم بچوں سمیت اٹھارہ فلسطینی جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ چھ اکتوبر کو غزہ کی جبالیہ خیمہ بستی پر بمباری میں الجزیرہ کا19 سالہ صحافی حسن حماد جاں بحق ہوگیا۔حماد کو اسرائیلی فوج ایک عرصے سے متنبہ کررہی تھی کہ وہ واقعات کی فلمبندی سے اجتناب کرے۔ غزہ میں اب تک قلم کے 175مزدور دنیا کو سچ بتانے کا مقدس فریضہ سرانجام دیتے ہوئے مارے جاچکے ہیں۔

ہم نے گزشتہ نشست میں عرض کیا تھا کہ پیجر ٹائم بم پر گفتگو اب بھی جاری ہے۔ اس ہفتے  امریکہ کے سابق وزیر دفاع اور سی آئی اے کے سابق سربراہ لیون پانیٹا (Leon Panetta) نے لبنان میں پیجر ٹائم بم واردات کو دہشت گردی قراردیا۔ امریکی CBS ٹیلی ویژن پر ایک انٹرویو میں انھوں میں کہا ' اس بات میں ذرہ برابر شک نہیں کہ یہ دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔دوسری طرف برطانیہ کے بعد فرانس نے بھی اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی بند کردی ہے۔ پانچ اکتوبر کو قومی ریڈیو France Interپرباتیں کرتے ہوئے  صدر ایمیونل میکراں نے کہاکہ غزہ اور لبنان میں خونریزی فوری طور پر بند ہونی چاہئے۔ اس تنازعے کا سفارتی و سیاسی حل وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے چنانچہ فرانس غزہ میں استعمال ہونے والے اسلحے کی فراہمی تاحکم ثانی معطل کررہا ہے۔

اور اب آخر میں یہودیوں کی مردم شماری کا ذکر۔دواکتوبر کو نئے عبرانی سال پر جو اعدادشمار شایع ہوئے ہیں انکے مطابق دنیا میں یہودیوں کی کل تعداد ایک کروڑ 58 لاکھ ہے۔ایک سال کے دوران آبادی میں ایک لاکھ نفوس کا اضافہ ہوا۔ اسرائیلی یہودیوں کی تعداد 73لاکھ ہے جبکہ 63لاکھ امریکہ میں آباد ہیں۔ چارلاکھ اڑتیس ہزار 500فرانس اور چارلاکھ یہودی کینیڈا میں رہتے ہیں۔ویسے تو ہندوستان، پاکستان اور ایران سمیت ساری دنیا میں یہودی آباد ہیں لیکن اسرائیل، امریکہ، فرانس اور کینیڈا کے بعد انکی بڑی تعداد برطانیہ، ارجنٹینا، جرمنی، روس، آسٹریلیا، برازیل، جنوبی افریقہ ہنگری، میکسیکو اور ہالینڈ میں رہائش پزیر ہے۔ ہندوستانی ریاست منی پور میں یہودی کئی صدیوں سے آباد ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے انتہا پسندوں نے وہاں انکی عبادت گاہ کو آگ لگادی تھی جو دنیا کے قدیم ترین معبدوں (Synagogue) میں سے ایک ہے۔

حملے کے خوف ، ہیجان، غیر متوقع صورتحال کے پیش نظر ایک چوتھائی اسرائیلی ملک چھوڑنے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کررہے ہیں۔ ایک جائزے کے مطابق 24 فیصد افراد نے بیرون ملک رہائش کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔اکیس فیصد شہری اسرائیل کے باہر ملازمت ڈھونڈ رہے ہیں جبکہ دہری شہریت والے اپنے غیر ملکی پاسپورٹ کی تجدید کرارہے ہیں۔ دلچسپ بات کی اسرائیل چھوڑنے کے خواہشمندوں میں 36 فیصد سیاسی اعتبار سے حزب اختلاف کے حامی ہیں۔ حوالہ: Ken Broadcasting Israel

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی،11 اکتوبر 2024

ہفت روزہ دعوت دہلی، 11 اکتوبر 2024

ہفت روزہ رہبر سرینگر 13 اکتوبر 2024


Sunday, October 13, 2024

امریکہ کے صدارتی انتخابات ۔۔۔ انتخابی یا Electoral ووٹ کیا ہیں؟؟؟؟؟

 

امریکہ کے صدارتی انتخابات  ۔۔۔   انتخابی یا Electoral ووٹ کیا ہیں؟؟؟؟؟

 اب جبکہ امریکی انتخابات آخری مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں، چند سطور امریکہ کے کلیہ انتخاب یا Electoral Collegeپر جسکا ذکر اب آپ بار بار سنیں گے۔ یہ گفتگو ہم چار ماہ پہلے بھی کرچکے ہیں لیکن ممکنہ نتائج کی تفہیم کیلئے یہ سطور دوبارہ پیش کی جارہی ہیں۔ ہم نے گزشتہ نشست میں عرض کیا تھا کہ آبادی کا ایک فیصد ہونے کے باوجودامریکی مسلمانوں کے ووٹ کلیدی اہمیت اختیار کرچکے۔ اسکی وجہ یہی انتخابی کالج ہے۔

آپ کی دلچسپی کیلئے عرض ہے کہ 5 نومبر کو ہونے والی ووٹنگ کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں بلکہ صدر اور نائب صدر کے انتخاب کیلئے 17 دسمبر کو تمام ریاستی دارالحکومتوں میں پولنگ ہوگی جس میں الیکٹرل کالج کے ارکان خفیہ بیلٹ کے ذریعے صدر اور نائب صدر کیلئے ووٹ ڈالینگے۔ ووٹنگ مکمل ہونے پر نتائج مرتب کئے جائینگے اور اسے ایک ڈبے میں بند کرکے وفاقی دارالحکومت بھیج دیا جائیگا۔چھ جنوری 2025 کو سربراہ سینیٹ (امریکی نائب صدر) کی نگرانی میں تمام ریاستوں سے آنے والے بکسوں کو کھول کر سرکاری نتیجے کا اعلان ہوگا۔

اب آتے ہیں انتخابی کالج کی طرف۔

امریکہ 50 آزاد و خود مختار ریاستوں پر مشتمل ایک وفاق کا نام ہے۔ وفاق کی  ہر ریاست کا اپنا دستور، پرچم اورمسلح فوج ہے۔ کرنسی اور خارجہ امور کے سوا بین الاقوامی تجارت سمیت تمام معاملات میں ریاستیں پوری طرح بااختیار ہیں۔امریکی صدر وفاق کی علامت اور اسکی مسلح افواج کا سپریم کمانڈر ہے۔ صدر کے انتخاب میں ہر ریاست انفرادی اکائی کی حیثیت سے ووٹ ڈالتی ہے اور اس مقصد کیلئے ایک کلیہ انتخاب یا Electoral Collegeتشکیل دیا گیا ہے۔ امریکہ میں مرکزی الیکشن کمیشن یا مقتدرہ نہیں اور انتخاب کا انتظام اور نگرانی ریاستیں کرتی ہیں۔ کاغذات نامزدگی بھی ہر ریاست میں الگ الگ جمع کرائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستوں کے بیلٹ پیپر پر امیدواروں کی فہرست مختلف ہوتی ہے۔

کلیہ انتخاب میں ہر ریاست کو اسکی آبادی کے مطابق نمائندگی دی گئی ہے اور یہ اس ریاست کیلئے ایوان نمائندگان (قومی اسمبلی) اور سینیٹ کیلئےمختص نشتوں کے برابر ہے۔ امریکہ میں ایوان نمائندگان کی نشتیں آبادی کے مطابق ہیں جبکہ سینیٹ میں تمام ریاستوں کی نمائندگی یکساں ہے اور ہر ریاست سے دو دو سینیٹرمنتخب کئے جاتے ہیں۔ امریکہ کے ایوان نمائندگان کی نشستوں کی مجموعی تعداد 435 ہے جبکہ 50 ریاستوں سے 100 سینیٹرز منتخب ہوتے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت یعنی ڈسٹرکٹ آف کولمبیا المعروف واشنگٹن ڈی سی کیلئے انتخابی کالج میں تین ووٹ ہیں۔یعنی کلیہ انتخاب 538 ارکان پر مشتمل ہے اور 270 یا اس سے زیادہ انتخابی ووٹ لینے والے کے سرپر امریکی صدارت کا تاج رکھاجائیگا۔

الیکٹرل کالج کی ہیت کو اسطرح سمجھئے کہ  نیویارک سے ایوان نمائیندگان کے 26 ارکان منتخب ہوتے  چنانچہ 2 سینیٹروں کو ملاکر انتخابی کالج میں نیویارک کے 28 ووٹ ہیں۔انتخابی کالج میں سب زیادہ ووٹ کیلی فورنیا کے ہیں یعنی 54 جبکہ جنوبی ڈکوٹا، شمالی ڈکوٹا، مونٹانا، وایومنگ، الاسکا، ڈلوئر، ورمونٹ اس اعتبار سے بہت چھوٹی ہیں جنکے صرف تین تین ووٹ ہیں۔ الیکٹرل کالج میں 'سارے ووٹ جینتے والے کیلئے' کا اصول اختیار کیا جاتا ہے اور عام انتخابات میں ریاست میں جس امیدوار کو بھی برتری حاصل ہوئی وہاں سے انتخابی کالج کیلئے مختص سارے کے سارے ووٹ جیتنے والے امیدوار کے کھاتے میں لکھ دئے جاتے ہیں۔ یعنی اگر کیلی فورنیا سے کسی امیدوار نے ایک ووٹ کی برتری بھی حاصل کرلی تو تمام کے تمام 54 الیکٹرل ووٹ اسے مل جائینگے۔ صرف ریاست مین Maine اور نیبراسکا میں ایک تہائی الیکٹرل ووٹ ایوان نمائندگان کی حلقہ بندیوں کے مطابق الاٹ کئے جاتے ہیں ورنہ باقی سارے امریکہ میں ریاست کے مجموعی ووٹوں کی بنیاد پر فیصلہ ہوتا ہے۔

 

یہاں یہ ذکر بہت ضروری ہے کہ قانونی طور سے الیکٹرل کالج کے ارکان کسی مخصوص امیدوار کو ووٹ دینے کے پابند نہیں اور انتخاب بھی خفیہ بیلٹ پیپر کے ذریعے ہوتا ہے لیکن اسکے باوجود گزشتہ ڈھائی سو سال کے دوران ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا کہ جب الیکٹرل کالج میں عوامی امنگوں کے برخلاف کوئی ووٹ ڈالا گیا ہو۔

آٹھ برس پہلے 2016آ کے انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہلیری کلنٹن کو ڈانلڈ ٹرمپ پر 28 لاکھ ووٹوں سے زیادہ کی برتری حاصل تھی لیکن جب تمام ریاستوں کے انتخابی ووٹ جمع کئے گئے تو صدر ٹرمپ کے الیکٹرل ووٹوں کی تعداد کلنٹن سے 77 زیادہ تھی۔اس سلسلے چند دلچسپ مثالیں پیش خدمت ہیں جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ امریکہ میں صدارتی انتخاب کہ مہم سیاست سے زیادہ ریاضی کی مشق ہے

گزشتہ انتخابات میں امریکی دارالحکومت میں صدر بائیڈن نے اپنے حریف ڈانلڈ ٹرمپ سے 2لاکھ اٹھانوے ہزار ووٹ زیادہ لے کر یہاں مختص 3 الیکٹرل ووٹ اپنے نام کرلئے، جبکہ ایریزونا میں کانٹے دار مقابلہ ہوا جہاں جناب بائیڈن  کو  جناب ٹرمپ پر صرف  دس ہزار ووٹوں کی برتری کے عوض 11 انتخابی ووٹ ملے۔کچھ ایسا معاملہ جارجیا میں ہوا جہاں 12 ہزار کی معمولی برتری حاصل کرکے بائیڈن صاحب نے 16الیکٹرل ووٹ اپنے نام کرلئے۔

جن 6 ریاستوں میں سخت مقابلہ ہے وہاں انتخابی کالج کے ووٹوں کی مجموعی تعداد 79 ہے۔ گزشتہ انتخابات میں یہ تمام ووٹ صدر بائیڈن کو ملے تھے اور اس بار بھی کملا ہیرس کو کامیابی کیلئے ان یاستوں سے جیتنا ضروری ہے۔ رائے عامہ کے تازہ ترین جائزوں کے مطابق ان کلیدی ریاستوں میں ٹرمپ اور کملا کے حامیوں کے درمیان فرق ایک فیصد سے بھی کم ہے چنانچہ مسلمانوں کے ووٹ پلٖڑے کو ادھر سے ادھر کردینے کیلئے کافی ہیں۔

آج کی گفتگو ہم الیکٹرل کالج اور امریکی انتخابی نظام پر ختم کرتے ہیں۔ اس منفرد انتخابی نطام کی روشنی میں متوقع نتائج کا تجزیہ انشااللہ اگلی نشست میں 

سنڈے میگزین روزنامہ جسارت کراچی 13 اکتوبر 2024


 

 

Sunday, October 6, 2024

امریکی انتخابات مسلمانوں کے فیصلہ کن ووٹ؟؟؟؟؟؟ کملا ہیرس اسرائیل کی حمائت میں بے حسی کی حد تک پرعزم

 

امریکی انتخابات

 مسلمانوں کے فیصلہ کن ووٹ؟؟؟؟؟؟

کملا ہیرس اسرائیل کی حمائت میں بے حسی کی حد تک پرعزم

امریکی انتخابات میں اب ایک مہینہ باقی ہے بلکہ بہت سی ریاستوں میں قبل از وقت یا earlyووٹنگ کا آغاز ہوچکا ہے اور ڈاک سے ووٹ ڈالنے کے خواہشنمندوں کو بھی پرچہ انتخاب جاری ہورہے ہیں۔یکم اکتوبر کو نائب صدارت کے امیدواروں کے درمیان مباحثہ ہوا۔اسی دن ایران نے اسرائیل پر میزائیل حملہ کیا جبکہ تین دن پہلے آنے والے سمندری طوفان Heleneسے جنوبی ریاستوں میں جو تباہی آئی ہے اس پر دونوں جماعتیں باہمی الزام تراشی میں مصروف ہیں۔اتفاق سے یکم اکتوبر ہی کو امریکہ کے مشرقی ساحلوں (بحراوقیانوس) اور خلیج میکسیکو کی بندرگاہوں پر مزدروں نے ہڑتال شروع کردی ۔ملک کی 60 فیصد بحری تجارت انھیں بندرگاہوں سے ہوتی اور اس تاریخی ہڑتال سےیومیہ نقصان کا تخمینہ ساڑھے سات ارب ڈالر لگایا جارہا ہے۔

بحث کے آغاز پر ہی میزبان نے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوارگورنر ٹم والز سے پوچھا کہ کیا وہ ایران پر اسرائیل کے جوابئ حملے کی حمائت کرینگے؟ تو گوونر صاحب نے حسب توقع سات اکتوبر کے قتل عام کا نوحہ اور حماس پر تبرےسے گفتگو کا آغاز کیا لیکن جلد ہی انکا رخِ سخن ڈانلڈ ٹرمپ کی طرف ہوگیا ور انھوں نے ٹرمپ صاحب کے غیر ذمہ دارانہ روئے پر تنقید کرتے ہوئے سابق صدر کو قائدانہ صلاحیت سے محروم فرد قراردیا۔جواب میں انکے حریف سینیٹر جے ڈی وانس نے بس یہی کہنے ہو اکتفا کیا کہ حکمت عملی ترتیب دینا اسرائیل کا کام ہے اور  انھوں نے باقی وقت ڈانلڈ ٹرمپ کے دفاع پر صرف کیا۔

ایران کے حملے پر کملا ہیرس اور صدر بائیڈں اسرائیل کی غیرمشروط حمائت کا اظہار کرچکے ہیں۔حملے کی اطلاع ملتے ہی امریکی صدر نے تمام مصروفیات معطل کرکے اپنی مشیروں کے ہمراہ حکمت عملی مرکز یا Situation Roomسے پوری کاروائی کا بنفسِ نفیس جائزہ لیا۔ بعد میں انھوں نے کہا کہ ایران کو  اسرائیل پر حملے کے سنگین نتائج بھگتنے پڑینگے۔جناب بائیڈن کا کہنا تھاکہ حملہ ناکام و غیر موثر رہا۔ایران کو دھمکی دیتے ہوئے امریکی صدر بولے 'ایران کو جواب کے بارے میں وہ اسرائیلی قیادات سے رابطے میں ہیں'

کملا ہیرس نے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ایران مشرق وسطیٰ کی ایک خطرناک اور عدم استحکام پیدا کرنے والی قوت اور واشنگٹن کا اسرائیل کی سلامتی کے لئےعزم لازوال ہے۔ انکے حریف ڈانلڈ ٹرمپ کا ردعمل بڑا دلچسپ تھا۔ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر اپنے مخصوص لہجے میں بولے 'دنیا کو آگ لگی ہوئی ہے اور امریکی قیادت MIA'۔ فوجی اصطلاح میں جنگ کے دوران لاپتہ ہوجانے والے فوجیوں کو missing in action یا MIAکہتے ہیں جنکے بارے میں غالب امکان یہی ہوتا ہے کہ یہ جوان مارے گئے لیکن لاش نہ مل سکی

جہاں تک متوقع نتائج کا تعلق ہے تو ہرگزرتے دن کیساتھ مقابلہ سخت ہوتا جارہا ہے اور جن  ریاستوں میں کانٹے کا مقابلہ ہے وہاں مسلمانوں کے ووٹ فیصلہ کن شکل اختیار کرگئے ہیں۔امریکہ میں آباد مسلمانوں کی تعداد ساڑھے تین کروڑ یا کل آبادی کا 1.1 فیصد ہے لیکن مقابلے والی ریاستوں یعنی ایریزونا (Arizona)جارجیا (Georgia)، مشیگن (Michigan)، نواڈا (Nevada)، پنسلوانیہ (Pennsylvania)  اور وسکونسن (Wisconsin) میں مسلمان بادشاہ گر 'ہوسکتے' ہیں ۔ہم نے سکتے اسلئے قوسین میں درج کیا ہے کہ اپنے ابراہیمی کزن کی طرح مسلمان اس محاذ پر اتنے منظم نہیں۔ مسلمان ووٹروں کی خاصی تعداد پاکستانیوں پر مشتمل ہے جنکی فکروتوجہ کا محور امریکہ سے زیادہ پاکستانی سیاست ہے۔ جسکی وجہ سے ووٹ بینک کا موثر استعمال ذرا مشکل لگ رہا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں ایریزونا، جارجیااور وسکونسن  سے صدر بائیڈن کی ڈانلڈٹرمپ پر برتری ایک فیصد سے کم تھی  جبکہ اس بار مقابلہ مزید سخت ہوگیا ہے۔ پسلوانیہ میں  فرق 1.16، مشیگن میں 2.78اور نواڈا میں 2.39فیصد تھا۔

یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے امریکہ میں فیصلہ انتخابی کالج کے ووٹوں سے ہوتا ہے اور ضابطے کے تحت ایک ووٹ کی برتری پر بھی اس ریاست کیلئے مختص تمام ووٹ فاتح کے کھاتے میں درج کردئے جاتے ہیں۔ جن ریاستوں کا ہم نے اوپر ذکر کیا انکے مجموعی انتخابی ووٹ 79 ہیں۔

امریکی انتخابی نظام کی قباحت یہ ہے کہ جیت ڈانلڈٹرمپ یا کملا ہیرس کی ہی ہونی ہے۔کسی تیسرے امیدوار کی کامیابی کاکوئی امکان نہیں۔ مسلمانوں کے بارے میں تلخ بلکہ توہین آمیز روئے کی بنا پر ریپبلکن پارٹی مسلمانوں میں مقبول نہیں اور 9/11کے بعدسے مسلمانوں کی غالب اکثریت ڈیموکریٹک پارٹی کا ساتھ دیتی ہے۔ لیکن غزہ نسل کشی کے معاملے میں کملا ہیرس کی بے حسی بلکہ سفاکیت کی بناپر اس بار انکے نام  پر ٹھپہ لگانا بھی آسان نہیں۔ چنانچہ مسلم ووٹروں میں third partyکا رجحان بڑھ رہا ہے اور حالیہ جائزوں کے مطابق گرین پارٹی کی امیدوار ڈاکٹر جل اسٹائن تیزی سے مقبول ہورہی ہیں۔ ٖڈاکٹر صاحبہ ہیں تو یہودی لیکن فلسطینیوں کےحقوق،غزہ نسل کشی کی مذمت اور اسرائیل پر پابندیوں کی پرجوش حامی ہیں۔موصوفہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف مظاہروں کے دوران جیل کی ہوا بھی کھاچکی ہیں۔آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست اور اسرائیل کیلئے امریکی امداد پر پابندی گرین پارٹی کے منشور کا کلیدی نکتہ ہے۔ ڈاکٹر جل اسٹائن نے نائب صدر کیلئے ایک سیاہ فام مسلم دانشور ڈاکٹر بچ وئر (Butch Ware)کا انتخاب کیا ہے۔

تاہم مسلمان جل اسٹائن کے حق میں یکسو نہیں لگ رہے۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد ریپبلکن پارٹی سے خوفزہ ہے جنکے لئے ڈانلڈ ٹرمپ قابل قبول نہیں۔ان لوگوں کا کہنا ہے کہ کملا کو نہ پڑنے والا ہر ووٹ ڈانلڈ ٹرمپ کی کامیابی کی راہ ہموار کریگا، اسلئے کہ ڈاکٹر جل اسٹائن کے جیتنے کاکوئی امکان ہیں۔ پاکستانیوں میں عمران خان بہت مقبول ہیں اور کپتان کے حامیوں کا خیال ہے کہ اگر ڈانلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر منتخب ہوگئے تو وہ خانصاحب کو رہا کرانے کیلئے اسلام آباد پر دباو ڈلینگے۔یہ فکری تنوع مسلم ووٹ بینک کو منتشر کررہا ہےاور جب ووٹ کا مجموعی حجم صرف ایک فیصد ہو تو انتخابی عمل میں وزن محسوس کرانے کیلئے متحدہ لائحہِ  ضروری ہے جسکا فی الحال فقدان نظر آرہا ہے۔  

حال ہی میں نیوزویک سے باتیں کرتے ہوئے  ڈاکٹر جل اسٹائن نے کہا 'ڈیموکریٹس امریکی مسلمانوں کی حمایت کے بغیر نہیں جیت سکتے۔ مسلم کمیونٹی ڈیموکریٹک پارٹی کا ساتھ چھوڑ چکی ہے اوروہ اس وقت تک واپس نہیں آئے گی جب تک ڈیموکریٹس یہ فیصلہ نہیں کرتے کہ ان کے لیے نسل کشی کی حمائت یا الیکشن جیتنے میں  کونسی چیز زیادہ اہم ہے؟۔ ڈاکٹر صاحبہ کی بات اس حد تک تو درست ہے کہ مسلمان ڈیموکریٹک پارٹی سے مایوس ہیں لیکن کیا مسلم برادری ا'بکی بار ٹرمپ سرکار' کا خطرہ مول لے کر کملا جی کو سبق سکھانے کی ہمت کریگی اسکے بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہے۔

سنڈے میگزین، روزنامہ جسارت کراچی 6 اکتوبر 2024


Thursday, October 3, 2024

جنوبی لبنان دوسرا غزہ حزب اللہ کی عسکری قیادت کے ساتھ معتمدِ عام حسن نصراللہ بھی جاں بحق سعودی عرب سے سفارتی تعلقات برکت، جبکہ ایران، شام، عراق اور یمن لعنت کا استعارہ

 

جنوبی لبنان دوسرا غزہ

حزب اللہ کی عسکری قیادت کے ساتھ معتمدِ عام حسن نصراللہ بھی جاں بحق

سعودی عرب سے سفارتی تعلقات برکت، جبکہ ایران، شام، عراق اور یمن لعنت کا استعارہ

اسرائیل بھر میں جنگی جنون، حسن نصر اللہ کے قتل پر مٹھائی کی تقسیم

نیتھن یاہو! فائرنگ روکو، خونریزی بندکرو ۔ اقوام متحدہ میں  سیلوانیہ کے وزیراعظم چیخ پڑے ناروے کی پولیس نے پیجر لبنان بھیجنے والوں کے پروانہ گرفتاری جاری کردئے

نسل کشی کے خلاف مظاہرہ کرنے والے طالب علم کو امریکی جامعہ سے نکال دیا گیا

سترہ اور اٹھارہ ستمبر کوجنوبی لبنان میں پیجر قتل عام عام سے شروع ہونے والے خون کی ہولی عروج پر ہے۔ تادم تحریر معصوم بچوں سمیت ایک ہزار افراد جاں بحق اور تیس ہزار سے زیادہ زخمی ہیں۔ پانچ لاکھ افراد بے گھر ہوکر سڑکوں کے کنارے پناہ لئے ہوئے ہیں۔ جنوبی لبنان کے خلاف بمباری مہم انسانی تاریخ کا ایک ریکارڈ بلکہ سیاہ ترین سنگ میل ہے کہ صرف 12 گھنٹے کے دوران وہاں 1800 یا ہر دومنٹ پر پانچ حملے کئے گئے۔ اگر ہر حملے میں 1000 پاونڈ کا صرف ایک بم بھی استعمال ہوا ہو تو صرف آدھے دن میں کھجور و زیتون سے مزین سرسبز وشاداب جنوبی لبنان پر 18 لاکھ پاونڈ بارود برسادیا گیا

بمباری کا ہدف بیروت کا فلک بوس عمارتوں پر مشتمل رہائشی علاقہ ہے۔ اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لبنانی وزیرخارجہ عبداللہ ابو حبیب نے گلوگیر لہجے میں کہا'میرا خوبصورت ملک شعلوں کی لپیٹ میں ہے۔ وحشیانہ بمباری سے ہمارے بچے یتیم اور عورتیں بیوہ ہورہی ہیں۔ خدا کیلئے جنگ بندکردو'

صرف لبنانی وزیرہی نہیں بلکہ 27 ستمبر کو جب اقوام متحدہ میں تقاریر کا آغاز ہوا تو سب سے پہلے سلوانیہ Sloveniaکے وزیراعظم Robert Golobخطاب کیلئے آئے۔ انکی تقریر کے دوران اسرائیلی وزیراعظم ہال میں داخل ہوئے تو وزیراعظم رابرٹ نے اپنے اسرائیلی ہم منصب کو دیکھ کر تقریر کا مسودہ اک طرف کیا اور بلند آواز میں بولے 'خونریزی بند کرو، غزہ کے بچوں کو زندہ رہنے دو، جوش جذبات میں روسٹرم پر مکہ مارکر سلوانیہ کے وزیراعظم نے چیختے ہوئے کہا 'مسٹر نتھن یاہو!! جنگ فوراً بندکرو'

انکے بعد پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف تقریر کیلئے کھڑے ہوئے اور کہا اسرائیل کی غزہ میں نسل پرست خونریزی نیوورلڈ آرڈر کی بری شکل ہے۔ غزہ کے بچوں کا لہو صرف اسرائیل کے ہاتھ ہر نہیں، بلکہ ہر خاموش طاقت اس ظلمِ عظیم میں برابر کی شریک ہے۔ پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ جرائم پر دنیا کی خاموشی سے حوصلہ پاکر اسرائیل نے لبنان میں بھی خونریزی شروع کردی ہے۔شہباز شریف کے بعد جب اسرائیل کے وزیراعظم کو تقریر کیلئے دعوت دی گئی تو سلوانیہ اور پاکستای وزیرعظم کی  تقریروں پر تالیاں بجانے والے مندوبین کی اکثریت Ceasefire Now کے نعرے لگاتی باہر چلی گئی۔ تاہم ہندوستان مندوبین نہ صرف بیٹھے ریے بلکہ نیتھن یاہو کے ہر جارحانہ جملے پر سب سے زوردار تالی ہندوستانی بینچوں سے سنائی دی۔

اسرائیلی وزیراعظم نے مذہبی حکائت سناتے ہوئے کہا حضرت موسیٰ ؑ نے مبارک سرزمین میں داخل ہوتے ہوئے کہا تھا 'تمہں برکت کے ساتھ لعنت کا سامنا بھی کرنا پڑیگا'۔ آجکل ایسا ہی اسرائیل کے ساتھ ہورہا ہے کہ گزشتہ برس 10 ستمبر کو گروپ 20 کی نئی دہلی سربراہی کانفرنس میں ہندوستان مشرق وسطٰی یورپ اقتصادی راہداری (IMEC) کیلئے مفاہمت کی یاداداشت پر دستخط ہوئے جسکے تحت بھارت سے متحدہ عرب امارات سعودی عرب، اسرائیل اور یونان کےراستے یورپ تک ایک تجارتی راہداری تعمیر ہونی ہے۔اس منصوبے سے پہلے ہی اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دوستانہ تعلقات استوار ہوچکے تھے ، جبکہ سعودی عرب  اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کیلئے بات چیت آخری مرحلے میں تھی۔یہ ایک با برکت قدم تھا کہ ایران کی مدد سے حماس نے سات اکتوبر کو لعنتی حملہ کردیا۔ ایران، عراق، شام اور یمن مشرق وسطیٰ میں لعنت کا استعارہ ہیں۔  ہماری عسکری مہم اِسی عنت کے سدباب کیلئے ہے تاکہ بابرکت سفر کا راستہ ہموارہوسکے۔

جمعہ 27 ستمبر کو بیروت کے نواحی علاقے الضاحية الجنوبية پر خوفناک فضائی حملہ ہوا جس میں امریکہ کے فراہم کردہ مورچہ شکن یا بنکر بسٹر بم استعمال ہوئے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ یہ بم  کنکریٹ سے بنے مورچوں کو تباہ کرنے کیلئے بنائے گئے ہیں جنکا شہری علاقوں میں استعمال غیر قانونی ہے لیکن طاقت کے اس جنگل میں وحشی کب کسی ضابطے کومناتے ہیں۔ امریکہ نے افغانستان اور عراق میں بنکر بسٹر بم کا بے دریغ استعمال کیا تھا۔ چار ہزار پاونڈ وزنی یہ بم فولاد کی 20 فٹ موٹی چادر کو چیر کربنیاد میں پھٹتے ہیں جسکی وجہ سے بلندوبالا عمارات کے چیتھڑے اڑجاتے ہیں۔ الضاحیہ حملے میں حزب کے ہیڈکوارٹر پر 85 مورچہ شکن بم پھینکے گئے جس سے یہ 14 منزلہ عمارت ریزہ ریزہ ہوگئی اور حزب اللہ کے معتعمد عام حسن نصراللہ اپنے ساتھیوں سمیت جاں بحق ہوگئے۔

اس حوالے سے حماس اور حزب اللہ کی تاریخ کچھ ایک طرح کی ہے کہ دونوں کے قائدین کو اسرائیل نے براہ راست نشانہ بنایا۔عباس الموسوی نے صبحی الطفیلی کیساتھ حزب اللہ کی بنیاد رکھی اور صبحی صاحب کی حزب سے علیحدگی کے بعد جناب موسوی مئی 1991 میں تنظیم کے معتمد عام بنائے گئے اور صرف نو ماہ بعد فروری 1992 میں انھیں اسرائیلی اپاچی ہیلی کاپٹر نے میزائیل پھینک کر قتل کردیا۔ جسکے بعد سے حزب کی قیادت جناب  نصر اللہ کے ہاتھ میں تھی جو 64 برس کی عمر میں بنکر بسٹر بم سے قتل کئے گئے۔ اب قیادت کی شمع 71 سالہ نعیم قاسم کے سامنے رکھ دی گئی ہیں جو تعلیم کے اعتبار سے ایک کیمیادان ہیں۔قاسم صاحب عبوری معتمد عام ہیں جو نئے معتمد کے انتخاب تک ذمہ داری سنھالیں گے۔ حماس کے سربراہ 31 جولائی کو راستے سے ہٹائے گئے اور اب حزب کے رہنما بھی قتل کردئے گئے۔

اس معاملے میں صدر بائیڈن کا رویہ بے حسی اور سفاکیت کا شاہکار نظر آرہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس  میں انھوں نے اسرائیل کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہم 7 اکتوبر کو نہیں بھول سکتے جب بے گناہ قتل اور معصوم لوگ یرغمال بنائے گئے، لیکن اہل غزہ بھی پریشان ہیں۔ ہم نے جنگ ختم کرنے کی سرتوڑ کوشش کی۔ یرغمالی آزاد، غزہ خوشحال اور حماس کے پنجے سے آزاد ہونا چاہئے۔غرب اردن کے لوگوں کی پریشانیاں قابل تشویش ہیں۔ دوریاستی حل پر کام آگے بڑھانے کی ضرورت ہے

لبنان پر حملے کے آغاز میں امریکی صدر نے کہا کہ  بھرپور جنگ یقینی نظر آرہی ہے لیکن ہم اب بھی پر امید ہیں کہ اس مسئلے کا سیاسی حل نکل سکتا ہے (حوالہ: (ABC۔ اسی روز اسی ABCسے گفتگو کرتے ہوئے انکے وزیرخارجہ نے کہا جنگ مسئلے کا حل نہیں لیکن اسرائیل کے مسائل کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سات اکتوبر کو ان پر خوفناک حملہ کیا گیا۔ اسکے بعد سے انھیں لبنان کی طرف سے میزائیلوں کا سامنا ہے

حزب اللہ کے ہیڈکوارٹر پر حملے کی خبر آتے ہیں صدر بائیڈں نے وضاحت کی کہ مزاحمت کاروں کے ہیڈکوارٹر پر حملے میں نہ امریکہ کا ہاتھ ہے اور نہ واشنگٹن کو اس سے پہلے مطلع کیا گیا۔ جب کسی صحافی نے امریکہ کے فراہم کردہ بنکر بسٹر بم استعمال کرنے کی بات کی وہ امریکی صدر شانےاچکاتے وہاں سے چلے گئے۔اسی دن اسرائیلی حکومت نے  بتایا کہ امریکہ نے حالیہ عسکری مہم کیلئے آٹھ ارب 70 کروڑ ڈالر کی منظوری دی ہے (حوالہ: ٹائمز آف اسرائیل)

حسن نصراللہ پر اسرائیلی حملے کی حمائت کرتے ہوئے قصرِ مرمریں  نے ایک بیان میں کہا 'حسن نصراللہ اور ان کی زیر قیادت حزب اللہ کی دہشت گردی چار دہائیوں پر محیط تھی۔ وہ سینکڑوں امریکیوں کو ہلاک کرنے کے ذمہ دار تھے۔ اسرائیلی فضائی حملے میں ان کی ہلاکت ان کے بہت سے متاثرین کے لیے انصاف کا ایک پیمانہ ہے، جن میں ہزاروں امریکی، اسرائیلی اور لبنانی شہری شامل ہیں۔ نصراللہ پر حملے کو 7 اکتوبر 2023 کے قتل عام سے شروع ہونے والے تنازع کے  تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ نصراللہ نے حماس کی نصرت کیلئے حملے کے دوسرے ہی دن اسرائیل کے خلاف "شمالی محاذ" کھولنے کا فیصلہ کیا'۔

اسماعیل ہانیہ کے قتل اور اب حسن نصراللہ کے راستے سے ہٹ جانے کے بعد اسرائیل میں جنگی جنون عروج پر ہے۔ گلی گلی مٹھائی تقسیم ہورہی ہے اور جنگ بندی کیلئے ہونے مظاہروں میں وہ شدت اب نہیں رہی۔اسرائیلی اپنے قیدیوں کو بزور طاقت چھڑانے کیلئے ایک بار پھر پُر اعتماد لگ رہے ہیں۔ جب ایک خاتون قیدی لیری الباگ کا باپ ایلی الباگ حکمراں لیکڈ پارٹی کی ایک تقریب کے دوران اپنی بیٹی کی تصویر والی ٹی شرٹ پہن کر احتجاج کرنے آیا تو اس پر حکومت کے حامیوں نے گندے انڈے پھینکے۔ لوگوں نے نعرے لگائے کہ  یہ بزدل، معاشرے کا سرطان ہیں۔ کچھ لوگوں نے الزام لگایا کہ مظاہرین، 'دہشت گردوں' کے زرخرید غلام ہیں۔

اسرائیلی فضائیہ نے بمباری کا دائرہ جنوبی لبنان اور وادی بقاع سے بڑھاکر بیروت کے مرکزِ شہر (Downtown)کو بھی نشانے پر رکھ لیا ہے۔ مشرقی شام میں دیرالزور پر کئی حملے ہوئے۔ ہفتہ 28 ستمبر کو یمن کی بندرگاہ الحدیدہ اور بجلی مرکز پر خوفناک حملہ کیا گیا جس میں بندرگاہ کی اکثر گودیاں تباہ ہوگئیں۔

جنگی جنون سے نیتھن یاہو کا حکمراں اتحاد بھی مزید مضبوط ہورہا ہے۔الگ ہونے والی امیدِ نو پارٹی کے قائد گدین سعر( (Gideon Sa'arاتحاد میں واپس آگئے ہیں۔امیدِ نو جماعت، قیدیوں کو واپس لانے میں بی بی کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے الگ ہو گئی تھی۔اس پارٹی کی کنیسہ (اسرئیلی پارلیمان) میں چار نشستیں ہیں جسکی بنا پر 120 رکنی کنیسہ  میں اب حکمراں اتحاد کا پارلیمانی حجم  68 ہوگیا ہے۔

غزہ میں جنگ بندی ے امکانات بھی معدوم ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے یورپی یونین کے سربراہ برائے خارجہ امور جوزف بورل نے مایوس کن لہجے میں کہا 'ہم جنگ بندی کے لیے بھرپور سفارتی دباؤ ڈال رہے ہیں ، لیکن نیتن یاہو کو کوئی روکنے والا نہیں، غزہ میں اور نہ مغربی کنارےپر''۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اسماعیل ہانیہ اور حسن نصراللہ کے قتل کے بعدنیتھن یاہو قابوسے باہر ہوچکے ہیں۔ اتوار (29 ستمبر) کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے ایران کو دھکی دی کہ 'حسن نصراللہ کے قتل سے مشرق وسطیٰ کے طاقت کے ڈھانچے کو نئی شکل مل گئی ہے اوراسرائیلی فوج خطے میں جہاں بھی چاہے حملہ کر سکتی ہے'

وزیراعظم نیتھن یاہو کے شوقِ کشور کشائی سے جہاں لاکھوں فلسطینی اور لبنانی عذاب میں مبتلا ہیں وہیں انکی معیشت بھی دباو کا شکار ہے۔ گزشتہ ہفتے کاروباری ساکھ متعین کرنے والے ادارے Moody’s نے اسرائیل کا درجہ A2سے کم کرکے Baa1کردیا۔ ایک ماہ پہلے ایک اور موقر ادارے Fitch نے اسرائیل کی ساکھ  A plusسے گھٹاکر Aکردی تھی۔جنگی اخراجات کی بنا پر اسرائیلی وزیرخزانہ اسموترچ نے 8 ارب ڈالر کے نئے ٹیکس لگانے کی تجویز پیش کی ہے۔ غیر عسکری اخراجات کو حد میں رکھنے کی غرض سے پینشن اور اعلیٰ تعلیم کے لئے مختص رقم گزشتہ سال کی سطح پر منجمد کردینے کیساتھ سیاحت پر VATمیں چھوٹ ختم کرنے کی سفارش کی جاری ہے۔

دوسری طرف عالمی سطح پر آتشیں پیجر کی تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے ناروے کی پولیس نے مشکوک پیجر (pager)لبنان بھیجنے والے شخص کی گرفتاری کیلئے عالمی وارنٹ جاری کردئے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ پیجر بلغاروی ادارے Norta Globalنے بناکر بھجوائے ہیں۔ نورٹا کا 39 سالہ ہند نژاد نارویجین مالک رنسن ہوزے Rinson Jose، اس واقعہ کے بعد سے مفرور ہے۔

اسرائیل کی بھرپور مدد کیساتھ امریکی تعلیمی اداروں میں 'فکری تطہیر' کا عمل تیز کردیاگیا ہے۔کئی جامعات اور مراکزِ دانش میں سات اکتور کو غزہ حملے کی پہلی برسی پر انتظامیہ کی جانب سے اسرائیلی نقطہ نظر کی تفہیم کیلئے مذاکروں کے اہتمام کیا جارہا ہے تو دوسری جانب 'باغیوں' کو نشانِ عبرت بنادینے کی کاروائی بھی عروج پر ہے۔ نیویارک کی جامعہ کورنیل (Cornell)میں پی ایچ ڈی کے طالب علم ممدوح طال کو غزہ نسل کشی کے خلاف مظاہرہ کرنے پر جامعہ سے نکال کر اسکا F1ویزہ معطل کردیا گیا۔اس افریقی نوجوان کوجلد ہی امریکہ بدر کردیا جائیگا۔

فلسطینیوں کی نسل کشی کے ساتھ نیتھن یاہو کے تجویز کردہ 'برکت و لعنت' فلسفے پر کام جاری ہے ۔ گزشتہ ہفتے  متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان نے واشنگٹن میں امریکی نائب صدر سے تفصیلی ملاقات کی۔ جسکے بعد صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے اماراتی صدر نے کہا کہ 'میرا ملک امریکہ کے ساتھ کام کرنے اور اتحادیوں کے درمیان تزویراتی (اسٹریٹجک) شراکت داری کو مزید مربوط و مستحکم کرنے کا "غیر متزلزل عزم" رکھتا ہے۔ امارات کی اسرائیل سے تزویراتی شراکت داری کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

تاہم غزہ کے مزاحمت کار اب بھی پرعزم ہیں اور اسرائیلی فوج پر حملوں کے ساتھ راکٹ باری بھی جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے ایک بیان میں مزاحمت کاروں نے کہا کہ ہمیں اس جنگ کو ختم کردیتے کی کوئی جلدی نہیں کہ اہل غزہ  جان و مال القدس پرقربان کرچکے  اور اس مقدس جدوجہد سے پیچھے ہٹ کر ہم اپنے معصوم شہدا کو شرمندہ نہیں کرینگے

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 4 اکتوبر 2024

ہفت روزہ دعوت دہلی، 4 اکتور 2024

ہفت روزہ رہبر سرینگر 6 اکتوبر 2024


Monday, September 30, 2024

روش ہشنا (نیا عبرانی سال)

 

روش ہشنا (نیا عبرانی سال)

آج    منگل یکم اکتوبر  سے  عبرانی نئے سال کا آغاز ہورہا ہے۔ اگر لفظ روش ہشنا کا تجزیہ کیا جائے تو یہ عربی لفظ راس اورسنہ سےماخوذ ہے۔ راس کا مطلب ہے سر جسکا عبرانی تلفظ راش ہے اور  سنہ یعنی سال عبرانی میں ہشنا بن گیا۔ گویا راش ہشنا کے لغوی معنی ہوئے سال کا سر یا نیا سال۔  سالِ نو عبرانی کلینڈر کے ساتویں مہینے سے شروع ہوتا ہے جسے تشری کہتے ہیں۔ جیسے مسلمان رجب سے رمضان المبارک کا انتظار شروع کردیتے ہیں ایسے ہی استقبال روش ہشنا ایک ماہ پہلے ایل Elul کے مہینے سے شروع کردیا جاتا ہے

یہودی  روایات کے مطابق   یکم تشری  کواللہ نےحضرت آدم علیہ السلام اور انکی اہلیہ حضرت حواکو تخلیق فرمایا تھا۔ مورث اعلیٰ کے جشن ولادت پر تمام معبدوں میں  بکرے کے سینگوں کا بنا نرسنگا( بگل) پھونکا جاتاتا ہے۔ عبرانی میں نرسنگے کو  Shofarکہتے ہیں۔ ایل کے مہینے کے آغاز پر بھی شوفر بجایا جاتا ہے لیکن صرف ایک یا دوبار دیوار گریہ پر عبادت کے آغاز سے پہلے جبکہ روش ہشنا پر ساری رات  نرسنگا پھونکنے   اور شور کرنے کا روج ہے۔عہد نامہِ عتیق    (Old Testament)یا عبرانی انجیل میں روش ہشنا کو یوم ترووا Yom Teruahکا نام دیا گیا ہے یعنی شورشرابے کا دن

یہودیوں کے یہاں دیوار گریہ  قبولیت دعا کی جگہ سمجھی  جاتی ہے جسے یورپ کے یہودی Kotel، عبرانی میں  ہکوتل ہمعرروی، عربی میں المبکیٰ  اور فارسی میں کوچہِ آہ و زاری کہتے ہیں۔مسلمان اسے حائط البراق بھی کہتے ہیں کہ روائت کے مطابق نبی مہربان  صل اللہ علیہ وسلم نے معراج کی شب براق پر سوار ہوکر اسی مقام سے آسمانوں کی جانب پرواز کی تھی ۔

 دیوار گریہ پر صرف مردشوفر بجاتے ہیں اور خواتین  کو بگل بجانے کی اجازت نہیں ،  البتہ  چھوٹی بچیاں بگل بجاسکتی ہیں۔ اسی طرح عام لوگوں کو دیوار گریہ کے پاس توریت پڑھنے کی اجازت نہیں۔  ربائیوں کا کہنا ہے کہ توریت سمجھنے کیلئے علم کی ضرورت ہے اور کلام اللہ کو سمجھنا ہر کس و ناکس  کے بس کی بات نہیں۔ یہ بیان تو قرآن میں بھی موجود ہے کہ اللہ نے حضرت موسیؑ کو 40 دن کیلئے کوہ طور پر طلب کیا تھا اور اسوقت حضرتؑ کچھ قبائلی سرداروں کو بھی اپنے ساتھ لے  کرگئے تھے۔ اس موقع پر اللہ نے احکامات کی لوح یاتختیاں حضرت موسیٰ کو عطا کی تھی۔اس واقعہ سے ربائی یہ ثابت کرتے ہیں کہ توریت کا سمجھنا ہر ایک کیلئے ممکن نہیں اور اللہ نے بھی اسے عوام پر نازل کرنے کے بجائے مخصوص لوگوں کو بلا کر سمجھایا تھا۔

لبرل خواتین یہ ماننے کو تیار نہیں انکا خیال ہے کہ توریت ہر شخص سمجھ سکتا ہے۔ خواتین کو  بگل بجانے پر بھی اصرار ہے۔ یہاں ایک اور بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ توریت قرآن کی طرح مصحف کی طرح شایع  نہیں کیا جاتا بلکہ یہ  طومار یا Scrollکی شکل میں ہے۔

دیوار گریہ پر خواتین اور سیکیورٹی حکام کے درمیان   بحث و مباحثہ اور ہاتھا پائی عام ہے۔ پولیس والے خواتین سے  شوفر اور توریت کے نسخےچھین  لیتے ہیں لیکن  کچھ تیز طرار لڑکیاں  وہاں تعینات محافظین کو غچہ دیکر توریت و بگل اندر لے جانے میں کامیاب ہوجاتی ہیں۔ چنانچہ دیوارکے اس حصے سے جو خواتین کیلئے مختص ہے،  تلاوتِ توریت کے  ساتھ  نرسنگھے  کی آواز آتی رہتی ہے۔ اس جسارت پر ربائی حضرات کو غصہ تو آتا ہے لیکن بیچارے کچھ کرنہیں سکتے کہ خواتین کے حصے میں مردوں کا جانا منع ہے،  چانچہ وہ لاوڈاسپیکر پر خواتین  سے  شوفر  نہ بجانے اور بلند آواز میں تلاوت سے پرہیز کی درخواست کرتے  رہتے ہیں تاکہ مرد  توریت سن سکیں۔  بگل کا احسن طریقہ یہ ہے دعا کے آغاز سے پہلے دو ایک بار بجایا جاتا ہے پھر خاموشی اختیار کرلی جاتی ہے تاکہ لوگ سکون سے آہ و زاری کریں یا ربائیوں سے توریت کی تلاوت سن سکیں۔لیکن شوخ و شنگ بچیاں ربائیوں کو ستانے کیلئے مسلسل بگل بجاتی رہتی  ہیں۔

اگر شوفر میسر نہ ہو تو  تو کسی بھی قسم کا بھو نپو استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہودی عقائد کے مطابق اپنے مورث اعلیٰ (آدم و حوا) کے جشن ولادت کے موقع پر بگل بجانا اور شور کرنے کا حکم توریت سے ثابت ہے۔شور مچانے کے علاوہ روش ہشنا کے موقع پر مٹھائی کھانا اور تقسیم کرنا انکے یہاں مستحب ہے۔نئے سال کے دسویں دن یعنی 10 تشری کو یہودی ملت یوم کپر منائیگی جو دراصل یوم استغفار ہے۔ اس سال یہ تہوار  11 اکتوبر کوغروب آفتاب سے اگلے روز رات تک جاری رہیگا۔یہودی یوم کپر کے موقع پر 25 گھنٹے کا روزہ رکھتے ہیں۔ روزے کے دوران اکل و شرب سے پر ہیز کے ساتھ چمڑے کے جوتے پہننے کی ممانعت ہے۔ منہہ ہاتھ دھونا، غسل کرنا اور خوشبو لگانے کی بھی اجازت نہیں۔کپر کی پہلی رات یہودی مسلک کے اعتبار سے شب جائزہ ہے کہ اس روز اللہ تعالیٰ آنے والے یوم کپر تک اپنے بندوں کی قسمت تحریر فرماتے ہیں۔ چنانچہ اس   رات عبادت و گریہ زاری  کرتے ہوئے اللہ سے نصیب اچھا لکھنے کی درخواست کی جاتی ہے۔ یوم استغفار کے موقع پرانفرادی توبہ کے ساتھ ملی کوتاہیوں اور قومی گناہوں سے اجتماعی توبہ کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ یوم کپر یہودیوں کا مقدس ترین دن ہے۔

 کاش شب جائزہ   میں دوسری باتوں کے ساتھ اہل غزہ    سے روا رویئے کا بھی جائزہ لیا جائے جسے   اسرائیلی حکومت کے شوق کشور کشائی نے جہنم بنادیا  ہے۔

ہجری کیلینڈر کے اعتبار سے یہ 1446 عیسوی کیلینڈر 2024 اور عبرانی سال 5785ہے


Saturday, September 28, 2024

امریکہ کے پارلیمانی انتخابات سینیٹ پر ڈیموکریٹک پارٹی کی بالادستی خطرے میں

 

امریکہ کے پارلیمانی انتخابات

سینیٹ پر ڈیموکریٹک پارٹی کی بالادستی خطرے میں

اس سال 5 نومبر کو جہاں امریکہ کے 47 ویں صدر کا انتخاب ہوگا وہیں کانگریس (پارلیمان) کے ایوان زیریں (قومی اسمبلی یا لوک سبھا) کی جملہ 435 اورایوان بالا (سینیٹ یا راجیہ سبھا) کی 34 نشستوں کیلئے ووٹ ڈالے جائینگے۔اسی دن امریکہ کی 11 ریاستوں میں گورنر کیلئے بھی میدان سجے گا۔

کانگریس یا مقننہ امریکی نظم حکومت کی مثلث کا ایک اہم ستون ہے جسکو قانون سازی اور انتظامیہ و عدلیہ کے احتساب کیساتھ قومی خزانے پر مکمل دسترس حاصل ہے، بلکہ یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ قومی بٹوے کی زپ کانگریس کے ہاتھ میں ہے۔ صدر کے صوابدیدی فنڈ پر بھی کانگریس کی نظر رہتی ہے۔ کابینہ کے وزرا، اٹارنی جنرل، سی آئی اے، ایف بی ائی سمیت ایجنسیوں کی قیادت، عدالت عظمٰی و وفاقی عدالت کے قاضی، فوجی سربراہان، سفیروں اور دوسری اہم تقرریاں سنیٹ کی توثیق سے مشروط ہیں۔

سیینیٹ کے اختیار کی ایک مثال پیش خدمت ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کے جج انٹون اسکالیہ 13 فروری 2016 کو انتقال کرگئے۔ ضابطےکے تحت سابق صدر بارک حسین اوباما نے اپیلیٹ کورٹ کے سربراہ میرک گارلینڈ (حالیہ اٹارنی جنرل)کو جسٹس اسکالیہ کا جانشیں نامزد کردیا۔ اسوقت سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کو برتری حاصل تھی۔ سینیٹ کے اکثریتی رہنما سینیٹر مچ مکانل نے اعتراض اٹھادیا کہ کہ گیارہ ماہ بعد صدر اوباما کی مدت صدارت ختم ہورہی ہے جبکہ سپریم کورٹ کے جج کا تقرر تاعمر ہوتا ہے لہذا چند ماہ بعد سبکدوش ہونے والے صدر کو اتنی اہم تقرری کا اختیار نہیں دیا جاسکتا۔ ریپبلکن کا یہ موقف اس اعتبار سے غیر منطقی تھا کہ ایک منتخب صدر کو اپنی مدت صدارت مکمل ہونے تک آئین کے اندر رہتے ہوئے تمام فیصلوں کاحق حاصل ہے۔ لیکن مچ مکانل اپنی بات پر اڑے رہے اور انھوں نے رائے شماری تو دورکی بات ابتدائی سماعت کیلئے سینیٹ کی مجلس قائمہ براے انصاف کا اجلاس ہی طلب نہیں کیا۔ حتیٰ کہ صدر اوباما کی مدت صدارت ختم ہوگئی اور صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے حلف اٹھاتے ہی قدامت پسند جج نیل گورسچ کو اس منصب کیلئے نامزد کیا اور سینیٹ نے توثیق کردی۔

اِسوقت 435 رکنی ایوان نمائندگان میں 220 ریپبلکن نمائندوں کے مقابلے میں ڈیموکریٹ ارکان کی تعداد 212 ہے جبکہ 3 نشستیں خالی ہیں۔ گویا ٹرمپ صاحب کی ریپبلکن پارٹی کو برسراقتدار ڈیموکریٹک پارٹی پر معمولی برتری حاصل ہے۔امریکہ میں ایوان نمائندگان کی مدت دوسال ہے۔ رائے عامہ ے جائزوں کے مطابق ایوان نمائندگان پر بالادستی کیلئے مقابلہ بہت سخت ہے اور کسی بھی جماعت کو پانچ نشستوں سے زیادہ کی برتری حاصل نہیں ہوگی۔ ایک دلچپ بات کہ حالیہ ایوان کو عوام نے کاکردگی کے اعتبار سے بدترین قرار دیا ہے اور رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق صرف 13 فیصد امریکی اپنے نمائندوں کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔

امریکی سینیٹ 100 ارکان پر مشتمل ہے اور ہر ریاست کیلئے سینیٹ کی دونشستیں مختص ہیں یعنی یہاں تمام کی تمام پچاس ریاستوں کو یکساں نمائندگی حاصل ہے۔براہ راست انتخاب کے ذریعے سینیٹر چھ سال کیلئے منتخب ہوتے ہیں۔ پالیسی  کا تسلسل برقرار رکھنے کی غرض سے انتخاب کا نظام اسطرح ترتیب دیا گیا ہے کہ ہر دوسال بعد سینیٹ کی ایک تہائی نشستیں خالی ہوجاتی ہیں۔ چنانچہ پانچ نومبر کو سینیٹ کی 34 نشستوں پر انتخابات ہونگے۔ نومبر میں جن نشستوں پر  چناو  ہوگا، ان میں سے 20 ڈیموکریٹک   اور  10 نشستیں ریپبلکن ارکان کی مدت مکمل ہونے پر خالی ہورہی   ہیں ، جبکہ چار آزاد ارکان کی مدت بھی پوری ہورہی ہے۔ ان چار آزاد ارکان میں سے سینیٹر برنی سینڈرز اور سینیٹر انگس کنگ نے خود کو ڈیموکریٹک کاکس (گروپ) سے وابستہ کررکھا ہے۔

سینیٹ کیلئے جن ریاستوں میں سخت مقابلے کی توقع ہے وہ کچھ اسطرح ہیں

  • ایریزونا: اس نشست پر چھ برس پہلے ریپبلکن پارٹی کی ٹکٹ پر محترمہ کرسٹینا سنیما کامیاب ہوئی تھیں۔ گزشتہ برس پارٹی سے اختلاف کی بنیاد پر انھوں نے آزاد بنچوں پر بیٹھنا شروع کردیا اور اس سال انھوں نے انتخاب نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق یہاں ڈیموکریٹک پارٹی کا پلہ بھاری ہے
  • مشیگن میں بھی مقابلہ سخت ہے۔ یہاں سے 2000 میں ڈیموکریٹک پارٹی کی محترمہ ڈیبی اسٹبینو منتخب ہوئی تھیں جو اب ریٹائر ہورہی ہیں۔ ٰیہاں عرب و مسلم ووٹ فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں
  • مونٹانا: یہ نشست 2006 سے ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس ہے لیکن اس بار سینیٹر ٹیسٹر کے ستارے گردش میں لگ رہے ہیں
  • اوہایو سے ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر شیر براون ک نشست خطرے میں ہے
  • پینسلوانیہ میں بھی ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹرباب کیسی جونیر کو سخت مقابلہ درپیش ہے
  • ٹیکسس میں تیسری مدت کا انتخاب لڑنے والے ریپبلکن سییٹر ٹیڈ کروز سخت دباو میں ہیں، اگر ڈیموکریٹک سینیٹ کی اس نشست  پر کامیاب  ہو  گئی تو یہ 1994 کے بعد ٹیکسس سے انکی پہلی کامیابی ہوگئی۔
  • مغربی ورجنیا سے ڈیموکریٹک پارٹی کے جو مینشن سینیٹر منتخب ہوئے تھے جو اس سال پارٹی کے الگ ہوگئے، یہ نشست ریپبلکن کے پاس جاتی نظر آرہی ہے

جائزوں کے مطابق مستقبل کی  سینیٹ میں 47 ڈیموکریٹ کے مقابلے میں ریپبلکن کی تعداد 50 یقینی ہے جبکہ 3 پر سخت مقابلہ ہے۔گویا اگر کملا ہیرس صدر منتخب ہوگئیں تو انھیں قانون سازی اور تقرریوں میں شدید مشلات کا سامنا ہوگا جبکہ ڈانلڈ ٹرمپ کو اپنی کامیابی کی صورت میں مقننہ اور عدلیہ کی مکمل حمائت حاصل ہوگی

ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی 29 ستمبر


2024